راحیلہ میری بھابھی تھی۔ اسے کسی حادثے نے میری بھابھی بنایا تھا۔ مجھے وہ وقت اچھی طرح یاد ہے کہ جب میں کالج میں داخلہ نہ لے سکی، اس لیے پرائیویٹ انٹر کر رہی تھی اور راحیلہ ان دنوں میٹرک میں تھی۔ والد صاحب ریلوے میں ملازم تھے، لہٰذا ہمیں ریلوے کالونی میں گھر ملا ہوا تھا، یہ کالونی ریلوے اسٹیشن کے قریب تھی۔ راحیلہ سے میری ملاقات ایک ٹیچر کے گھر ہوئی، جہاں وہ ٹیوشن پڑھنے آئی تھی۔ اسے پڑھنے کا شوق تھا اور میں بھی ایک مضمون میں کمزور تھی، اس لیے ٹیوشن لے رہی تھی، یوں راحیلہ سے میری دوستی ہو گئی۔ اس کا گھر ہمارے گھر کے قریب تھا۔ اس کے والد بھی ریلوے میں ملازم تھے، لیکن ان کی ملازمت بہت معمولی تھی۔
گھروں میں ہمارا آنا جانا ہوا۔ وہ بڑی اچھی لڑکی تھی، جو میری مخلص دوست ثابت ہوئی۔ دکھ سکھ میں ہم ایک دوسرے کا خیال رکھتے تھے۔ اس کی بوڑھی ماں اور کمزور باپ محنت کر کے اس کی تعلیم کا خرچہ برداشت کر رہے تھے۔ وہ مجھے اپنے گھر کے حالات بتاتی تھی کہ آج ماں نے کھانا نہیں کھایا، آج بھائی آیا تھا۔ راحیلہ کے گھر کا المیہ اس کا بڑا بھائی تھا، جو نشہ کرتا تھا۔ وہ اکثر گھر سے غائب رہتا تھا، برے دوستوں اور بری سوسائٹی نے اسے ڈس لیا تھا اور اس کا زہر ان کے سب گھر والوں کو قسطوں میں مار رہا تھا۔
اس کے بھائی کا نام شہباز تھا، لیکن وہ اپنے نام کی طرح نہیں تھا بلکہ ایک بزدل انسان بن چکا تھا۔ نشے نے اس کی اندر کی خوبیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ وہ زرد اور سیاہ رنگت والا ایک کھوکھلا جوان رہ گیا تھا، جس کو جوان کہنے سے حجاب آتا تھا، کیونکہ نشے نے اس کی ایسی حالت کر دی تھی کہ جوانی اس پر تہمت لگتی تھی۔ شہباز جب بہت دنوں تک غائب رہتا اور نہ آتا تو اس کی ماں پریشان ہو جاتی۔ وہ آتا تو گھر والوں کے لیے اور پریشانی کا باعث بن جاتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ آکر ماں سے زبردستی رقم چھین لیتا تھا۔ ماں کے پاس روپے نہ ہوتے تو مار پیٹ کرتا، خود کو زخمی کر ڈالتا اور گھر کی کوئی نہ کوئی شے اٹھا کر لے جاتا۔ ان حالات میں کون پریشان نہ ہوتا کہ شہباز آتا ہی گھر کا سکون لوٹنے کے لیے تھا۔ اس کی وجہ سے ان لوگوں کے گھر میں غربت جم کر بیٹھ گئی تھی اور نکلنے کا نام نہیں لیتی تھی۔ ان کے مالی حالات اس کے باعث سنبھل نہیں پاتے تھے، یہاں تک کہ کبھی کبھار تو گھر میں کھانے کو بھی کچھ نہیں ہوتا تھا۔
ایسے حالات میں راحیلہ کو ایک غمگسار دوست اور ایسے ہمدرد کی ضرورت تھی، جو نہ صرف اس کی مالی مدد کرتا رہے بلکہ اس کے ذہن کو بھی تروتازہ رکھنے کی کوشش کرے۔ غربت کی وجہ سے اس کے دل پر مایوسی کے بادل چھائے رہتے تھے، گھر میں ہمیشہ اداس رہنے والی راحیلہ میرے پاس آکر خوش و خرم ہو جاتی تھی۔ میری تسلی کے دو بول اس کے ذہن کو تروتازہ کر دیتے تھے۔ اس کے ابو شوگر کے مریض تھے اور ان کا جسم اس قدر پھیل چکا تھا کہ ان کے لیے اب مزدوری کرنا بھی مشکل ہو گیا تھا۔ وہ اب مستقل کام نہیں کر سکتے تھے۔ راحیلہ اکیلی تھی، اس کی کوئی بہن ہوتی، تو اسے اپنے والدین کو سنبھالنے میں مدد ملتی۔ ہر وقت ایک ڈر اسے گھیرے رکھتا تھا کہ اگر والد صاحب کو کچھ ہو گیا، تو ہمارا کون ہو گا؟ انہیں دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں آئے گی، تب کون ہمارا محافظ ہو گا؟ وہ کہتی تھی، ماں کو بھی شہباز کے دکھ نے وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا ہے، اسے ساری رات کھانسی تنگ کرتی تھی۔
یہ اس موسم کا ذکر ہے، جب بارشوں کا پتہ ہی نہیں چلتا کہ کب شروع ہوئیں اور کب رک گئیں۔ وہ اسکول گئی ہوئی تھی، اس کے والد کام پر جانے کے لیے تیار ہوئے، بارش ہونے لگی، لیکن ڈیوٹی تو ڈیوٹی ہوتی ہے، وہ بارش کی پروا کیے بغیر گھر سے نکل گئے۔ جانے کب کیسے وہ ریل کے انجن کی زد میں آگئے، حالانکہ وہ یہاں برسوں سے ملازم تھے۔ شاید ان کو چکر آگیا تھا۔ بہرحال حادثہ ہو گیا اور جب ان کی میت لائی گئی تو ان کی شناخت مشکل تھی، وہ پہچانے نہیں جارہے تھے۔ راحیلہ کی امی تو ان کو دیکھ کر سکتے میں آگئیں، خدا کی کرنی کہ وہ اس صدمے کی تاب نہ لاتے ہوئے اسی وقت جاں بحق ہو گئیں۔ اس بات کا کسی کو یقین نہیں آرہا تھا کہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی کی جدائی میں اس کا پیارا بھی چل بسے، لیکن یہ ہو چکا تھا۔ چاہے کوئی یقین کرے یا نہ کرے، ایک گھر میں چار پائیوں پر میاں بیوی کی میتیں رکھی ہوئی تھیں۔ ایسے میں راحیلہ کی اسکول سے واپسی ہوئی۔ گھر کے باہر سے چار پائیاں دیکھ کر وہ پریشان ہو گئی اور اپنے گھر جانے کی بجائے وہ دوڑتی ہوئی ہمارے گھر آگئی۔ میں اس وقت امی کے ساتھ ان کے گھر گئی تھی۔ میری بہن نے اسے روک لیا کہ جب تک نوشی نہ آجائے، تم یہیں رکو۔ مجھے تو اس کا انتظار تھا، اسکول کی چھٹی کا ٹائم تھا۔
میرے گھر پہنچنے پر اس نے کہا کہ باہر یہ چار پائیاں کیوں رکھی ہیں؟ اتنے لوگ کیوں جمع ہیں؟ امی کہاں ہیں؟ اتنے سوالوں کے جواب میں اسے میں کیا کہتی، صرف اتنا کہہ سکی: “راحیلہ، خالہ اور خالو بہت نیک تھے اور نیک لوگوں کی ضرورت صرف انسانوں کو نہیں بلکہ اللہ پاک کو بھی ہوتی ہے۔ تم بہادر لڑکی ہو۔ تمام لوگ اس دنیا سے رخصت ہونے کے لیے آئے ہیں۔ جن کا کام ختم ہو گیا، وہ چلے گئے اور جس کے ذمے ابھی اور کام ہیں، وہ انہیں ختم کر کے ہی جائے گا۔” وہ حیرت سے میرا منہ تکتی رہی کہ میں کیا کہہ رہی ہوں۔ میری آنکھوں میں جھانکتی رہی، جو پرنم تھیں، پھر بولی: “دیکھو نوشی، سچ کہو، کیونکہ میرا دماغ بند ہو رہا ہے۔ میں مر جاؤں گی۔ میری کچھ سمجھ میں نہیں آرہا، تم کیا کہہ رہی ہو؟ لہٰذا صاف طریقے سے بات بتاؤ۔” وہاں عورتوں نے ہی اسے ماں اور باپ کے مرنے کی خبر دی، وہ بہت حساس لڑکی تھی، اس کی حالت دیکھ کر نہ صرف میں بلکہ محلے کی تمام عورتیں خون کے آنسو رونے لگیں۔ اس کے منہ پر ایک ہی فریاد تھی: “یا اللہ! تو نے میرے ماں اور باپ دونوں ایک ساتھ لے لیے، اے اللہ! پھر یہ لوگ کیا مجھ پر رحم کھائیں گے؟ اب میں کدھر جاؤں گی، کیا کروں گی؟”
میں اس کے پاس بیٹھی اسے دلاسے دے رہی تھی: “رو مت، میں جو ہوں۔ تم میرے ساتھ رہنا، تم میرے پاس رہو گی۔” ایسے ہی چار پانچ دن گزرے، ہم لوگ اس کے گھر رہے، وہ نہ کچھ کھاتی تھی اور نہ پیتی تھی۔ جمعرات کی رات وہ تین بجے شب اٹھی اور بھاگ کر چھت پر پہنچ گئی۔ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر فریاد کرنے لگی: “اے اللہ! تو مجھے بھی اٹھا لے، میں یہاں کیا کروں گی؟” امی اور میں اس کی باتیں سنتے تھے اور روتے تھے۔ جانے کتنے گہرے زخم آئے تھے اس کے دل پر کہ وہ اپنے دکھوں کا ازالہ نہ کر پاتی تھی۔ میں اسے واپس کمرے میں لائی، پانی پلایا، کھانے کے لیے کہا، مگر اس نے نہ کھایا اور نہ پیا، صرف اتنا کہا: “میں قیامت کے دن ضرور اپنے ماں باپ سے ملوں گی اور جنت ان کے ساتھ ہوگی۔ تم مجھے بھول نہ جانا، میں نے بہت اچھے دن تمہارے ساتھ گزارے۔” میں اسے رات بھر سمجھاتی رہی کہ ایسی باتیں نہیں کرو، اللہ جو کرتا ہے بہتر کرتا ہے۔ ہر کام میں اس کی کوئی مصلحت ہوتی ہے۔ اس کی طاقت کے آگے ہم سب مجبور اور بے بس ہیں، کوئی کچھ بول نہیں سکتا۔ چالیسویں کے بعد ہم نے اس کے مکان کو تالا لگا دیا اور اسے اپنے گھر لے آئے۔ یہاں آکر وہ کچھ مطمئن ہو گئی، کہنے لگی: “تم نے میری بہت مدد کی ہے۔ کتنے دن ہو گئے میں سکون کی نیند نہیں سوئی۔ اب مجھے گہری نیند سونا ہے، مجھے سونے دو۔” میں نے اسے سکون آور گولی کھلا دی اور وہ سو گئی، وہ اگلے دن تک سوتی رہی۔ میں نے اسے جگانا مناسب نہیں سمجھا۔
دن کے گیارہ بج گئے، وہ نہ اٹھی، تو میں امی کے ساتھ کچھ سودا سلف لینے بازار چلی گئی۔ جب ہم واپس آئے تو دیکھا کہ اس کے مکان کا تالا ٹوٹا ہوا تھا۔ امی نے بھائی کو دوڑایا۔ بھائی جان محلے کے دو حضرات کو لے کر اندر داخل ہوئے، تو دیکھا کہ شہباز نے گھر کا کچھ سامان گٹھڑی میں باندھا ہوا ہے۔ اس نے گھر کو الٹ پلٹ کر دیا تھا، جیسے کوئی چور چوری کرتے وقت گھر کی تلاشی لیتا ہے۔ یہ دیکھ کر محلے والے بھی سن ہو کر رہ گئے کہ اس نوجوان کو نشے نے اس قدر بے حس کر دیا تھا کہ اس نے نہ تو اپنے والدین کا افسوس کیا اور نہ جوان بہن کا پوچھا کہ وہ کہاں گئی؟ جب پتہ چلا کہ ماں، باپ مر گئے ہیں، تو آکر گھر کا تالا توڑا اور سامان فروخت کرنے کی فکر کرنے لگا۔
بھائی جان دوڑتے ہوئے وکیل صاحب کے پاس گئے، جو ہمارے محلے میں رہتے تھے۔ انہوں نے پولیس کو اطلاع کی، پھر پولیس آئی اور شہباز کو پکڑ کر لے گئی، مکان کو سیل کر دیا گیا کہ جب تک کوئی فیصلہ نہ ہو، یہ ایسے ہی بند رہے۔ راحیلہ کو اپنے بھائی کا بے حد انتظار تھا اور وہ اس صدمے کے وقت اس کے گلے لگ کر رونا چاہتی تھی۔ یہ ایک فطری امر تھا۔ خواہ بھائی کیسا ہی ہو، دکھ کے وقت بہن اور بھائی کو ایک دوسرے کی غمگساری سے دل کو تسکین ملتی ہے۔ جب ہم نے اسے جگا کر بتایا کہ تمہارا بھائی آیا تھا، لیکن اس نے تمہارا نہیں پوچھا، بلکہ مکان کا تالا توڑ کر گھر کا سامان فروخت کرنے کے لیے لے کر جا رہا تھا، تو وہ سن کر پریشان ہو گئی۔ پوچھا: “اب وہ کہاں ہے؟” کسی نے نہ بتایا کہ کہاں ہے، سب نے کہا: “پتہ نہیں، جہاں رہتا ہے وہیں چلا گیا ہوگا۔” اس روز وہ تمام دن پریشان رہی۔ جب رات کو ہم لوگ سو گئے، تو وہ چپکے سے اٹھی اور چھت پر چلی گئی۔ اتفاق سے والد صاحب نے اسے دیکھا۔ وہ روز آدھی رات کو بیدار ہو کر تہجد پڑھتے اور عبادت کرتے تھے، وہ دبے قدموں اس کے پیچھے گئے، راحیلہ روتے ہوئے خود سے کلام کر رہی تھی اور خدا سے فریاد کر رہی تھی کہ اے اللہ! تو نے مجھے بھائی بھی دیا، تو ایسا کہ جو میری حفاظت بھی نہیں کر سکتا۔ ایسا کہتے ہوئے اچانک اس نے چھت سے چھلانگ لگانا چاہی کہ والد صاحب نے اسے پکڑ لیا، ورنہ وہ گلی میں جا گرتی۔ اب ہم سب اس کی ذہنی کیفیت سے پریشان تھے کہ ہمدردی میں کہیں ہم نہ پھنس جائیں۔ اس کے رشتہ دار بھی نہ تھے کہ ان کے حوالے کر آتے۔ وہ ذہنی طور پر اپ سیٹ تھی، وہ کچھ بھی کر سکتی تھی۔ اب ایک ہی صورت تھی کہ اس کی شادی کرا دی جائے، لیکن کس سے؟ جو اس کی حفاظت کا بیڑہ اٹھا لے اور اس کا دکھ بانٹ لے۔ اب ایسا کون تھا؟ محلے والے بھی تھوڑی سی ہمدردی کر کے جا چکے تھے، لے دے کر بھائی جان تھے، مگر وہ راحیلہ سے شادی کرنے پر تیار نہ تھے۔ ان کی منگنی اپنی پھوپھی زاد سے ہو چکی تھی۔
ابو راحیلہ کی فکر میں از حد پریشان رہتے تھے، انہوں نے گاؤں کے کچھ معزز لوگوں سے مشورہ کیا، لیکن رشتے کا مسئلہ حل کرنا کسی کے بس کی بات نہ تھی۔ لے دے کر تان میرے بھائی جان پر ٹوٹی، تو وہ بوکھلا گئے۔ انہوں نے ابو امی سے کہا کہ آپ مجھے قربانی کا بکرا مت بنائیے، میں اس لڑکی سے ہرگز شادی نہیں کرنا چاہتا، میں تو ثمینہ ہی سے شادی کروں گا۔ بات بھی ٹھیک تھی، اگر ابو منگنی توڑ دیتے، تو پھپھو کو کیا جواب دیتے، وہ تو ہمیشہ کو روٹھ جاتیں۔ راحیلہ ایک عام سی لڑکی تھی، اس میں کوئی ایسی بات نہ تھی کہ بھائی جان اسے پسند کرتے۔ وہ کہتے تھے، ابھی مجھے تعلیم مکمل کرنی ہے، پڑھنا ہے، میں کیسے شادی کر سکتا ہوں؟ لیکن میں اور امی مصر تھے کہ تم ایک انسانی زندگی کا سہارا بنو، ایک بے سہارا کو سہارا دو گے، تو خدا تم سے راضی ہوگا۔ ثمینہ کا کیا ہے، وہ خاندان میں کسی اور سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہو جائے گی۔ سردست ہمیں راحیلہ کا مسئلہ حل کرنا ہے اور ہم زیادہ دن تک اسے ایسے حالات میں نہیں رکھ سکتے۔
امی نے ایک دن بھائی عاصم سے کہا: “اس غم زدہ کو ذرا دیر کو سیر کرا لایا کرو، کم از کم اس کا ثواب تو تمہیں ملے گا۔” عاصم مجبوراً اس بات پر رضامند ہوئے۔ اب یہ میرے بھائی کی ڈیوٹی تھی کہ وہ روز شام کو مجھے ساتھ لے کر راحیلہ کو گھمانے لے جاتے۔ ہم کبھی کسی پارک اور کبھی کسی اور پرفضا جگہ تھوڑی دیر بیٹھتے، میں اور بھائی راحیلہ سے اچھی اچھی باتیں کرتے، اس کا اثر خوشگوار ہوا۔ رفتہ رفتہ ماں، باپ کے غم کی شدت کم ہونے لگی اور وہ میرے بھائی کی باتوں میں دلچسپی لینے لگی۔ اب وہ بھائی کا ہر کام کرنے کی کوشش کرتی، گھر کے کاموں میں بھی امی کا ہاتھ بٹاتی، وہ صاف ستھری اور خوش باش رہنے لگی۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ عاصم بھائی بھی اب راحیلہ سے بات کرنے کو بوجھ نہیں سمجھتے تھے بلکہ اس کے ساتھ ہمدردی اور خوش دلی سے باتیں کرتے تھے، یہاں تک کہ وہ اکیلے بیٹھے ہوتے، تب بھی ایک دوسرے سے باتیں کرتے، بھائی عاصم اسے سمجھاتے اور دلجوئی کرتے۔
انسان اگر کسی کا دل جیتنا چاہے، تو اس میں دیر نہیں لگتی، بشرطیکہ نیت میں سچائی اور خلوص ہو۔ ان دنوں جب ہم لوگ سوچتے تھے، کیا کریں، کیا نہ کریں، تو قدرت نے خود مدد کی اور راحیلہ کی قسمت کا فیصلہ کر دیا۔ ثمینہ، جس کو بھائی اپنی امانت سمجھتے تھے، اس کے بارے میں پتہ چلا کہ وہ عاصم کو پسند نہیں کرتی، بلکہ اپنے چچازاد اشرف سے شادی کی خواہاں ہے۔ جب خود ثمینہ نے عاصم سے شادی سے انکار کیا، تو میرے بھائی کو دھچکا لگا اور پھر اس کے دل کی کایا پلٹ گئی، جس لڑکی کا چہرہ تصورات میں اس نے برسوں سے سجا رکھا تھا، وہ آن واحد میں کسی اور کی ہو گئی۔ عاصم کو بے حد صدمہ ہوا، لیکن اس نے خود کو سنبھال لیا۔ راحیلہ جیسی دکھی لڑکی کی مثال اس کے سامنے تھی، جو ناتواں اور بے سہارا تھی، پھر بھی اس نے خود کو سنبھال لیا تھا اور وہ بھی صرف عاصم کی ہمدردی کے چند بول کہنے کی وجہ سے، وہ ایک بار پھر جینے کی آرزو کرنے لگی تھی۔ کچھ دن عاصم کھویا کھویا رہا، پھر اس نے خوب سوچ سمجھ کر ایک اچھا فیصلہ کر لیا اور امی ابو کو اس فیصلے سے آگاہ کر دیا کہ وہ راحیلہ کو اپنی شریک حیات بنانے پر تیار ہے۔ یہ خبر ہمارے لیے خوشی کی نوید تھی اور ہم سب بہت مسرور تھے، کیونکہ راحیلہ ایک بڑی ذمہ داری تھی۔ ایک آزمائش تھی، جس سے میرے والدین خوش اسلوبی سے عہدہ برآں ہونا چاہتے تھے۔ عاصم کے بروقت فیصلے سے اس مسئلے کا حل اچھا نکل آیا تھا۔ پھر جب میں نے اپنی سہیلی کو آگاہ کیا کہ میرا بھائی تم سے شادی کرنا چاہتا ہے، تو وہ خوشی سے کھل اٹھی، جیسے کسی تنِ مردہ میں دوبارہ جان پڑ گئی ہو۔ میں بھی ایسا چاہتی تھی، لیکن زبان سے نہ کہہ پاتی تھی، کیونکہ میں مجبور تھی۔ “تم لوگوں کا یہ احسان کیا کم ہے کہ مجھ اکیلی کو تنہا رہنے سے بچا لیا اور اب تم لوگ مجھے اپنا رہے ہو، میں اس خوشی میں کہیں پاگل نہ ہو جاؤں۔”
راحیلہ کی شادی عاصم سے ہو گئی۔ عاصم کو اس سے محبت نہ تھی، لیکن انہوں نے اس کو سہارا دینے کی خاطر شادی کر لی، والدین کو سکھ دیا اور مجھے بھی سکھ کا سانس نصیب ہوا، لیکن راحیلہ کا معاملہ اور تھا۔ وہ واقعی میرے بھائی سے سچی محبت کرنے لگی تھی۔ اس شادی کو چار سال گزرے، راحیلہ اور عاصم کی زندگی سکون سے گزر رہی تھی اور ہم بھی سکون سے تھے کہ چلو گھر میں ایسی لڑکی بھابھی بن کر آئی ہے، جو سب کی عزت کرتی ہے، امی کو سکھ پہنچانے کی کوشش کرتی ہے اور ہم سب کی شکر گزار رہتی ہے، کیونکہ ہمارے سوا اس کا کوئی نہ تھا اور اسے پیار کی پیاس تھی، جو اپنے والدین کے پیار کی صورت میں میرے امی ابو کی طرف سے اسے مل گیا تھا۔
چار سال بعد اچانک میرے بھائی کی زندگی میں طوفان آگیا۔ ثمینہ کی اپنے شوہر سے نہ بنی اور طلاق ہو گئی اور اس نے پھر سے بھائی سے باہر ہی باہر رابطہ کر لیا۔ پہلے تو بھائی جان اس سے کتراتے رہے، لیکن کب تک، آخر وہ اس سے بچپن سے پیار کرتے تھے اور یہ پیار آج بھی تھا۔ وقت کی گرد نے اگرچہ اس کو ڈھانپ دیا تھا، ہمیں اس معاملے کا پہلے تو قطعی علم نہ ہو سکا، پھر کسی رشتہ دار نے دیکھا، تو اطلاع دی، لیکن ہم کو یقین نہ آیا، کیونکہ ہمارا بھائی ایسا نہ تھا۔ بہرحال انسان خطا کا پتلا ہے، اس کے قدم بہک بھی سکتے ہیں۔ ایک دن میرے چھوٹے بھائی نے خود اپنی آنکھوں سے ان دونوں کو بازار میں ساتھ گھومتے دیکھ لیا۔ اس نے گھر آکر امی جان کو بتایا، لیکن بدقسمتی سے راحیلہ بھابھی نے سن لیا، ہمیں پتہ نہ چلا کہ وہ سن رہی ہیں، بس پھر کیا تھا، یہ بات انہوں نے دل پر لے لی اور وہ پہلے کی طرح پژمردہ اور اداس ہو گئی۔
وہ ان دنوں ایک بیٹے کی ماں تھی۔ راحیلہ نے عاصم سے کچھ نہ کہا، کاش وہ ان سے کچھ کہتی! میں اس کی دوست تھی، وہ مجھ سے ہی شکوہ کرتی۔ اس نے خاموشی سے ایک مہلک دوا پی لی اور ہم سب کو روتا چھوڑ کر چلی گئی، اس نے ایک رقعہ بھائی عاصم کے نام لکھا: “مجھ کو پتہ چل گیا کہ تم کو واقعی ثمینہ سے محبت ہے اور مجھ سے شادی تم نے کسی مجبوری اور ہمدردی میں کی تھی۔ میں اب تمہاری محبت کے درمیان ایک دیوار ہوں۔ عاصم! تمہارے اور تمہارے گھر والوں کے مجھ پر بڑے احسان ہیں۔ تو کیوں نہ میں یہ احسان اسی فراخ دل سے اتار دوں، جس طرح فراخ دل سے تم نے مجھے اس وقت اپنا لیا تھا، جب میں بے سہارا تھی۔”
رات کو راحیلہ نے بیٹے کو دودھ دیا، پھر اسے سلا کر وہ خود بھی سو گئی۔ بھائی گھر میں آئے، آج کل وہ دورے پر جانے کا کہہ کر نہیں آتے تھے۔ صبح آئے تو راحیلہ ابھی تک سو رہی تھی، وہ نہ اٹھی۔ انہوں نے اسے بہت آوازیں دیں، جھنجھوڑا، مگر اس میں روح ہی کب تھی، جو اٹھنے میں اس کی مدد کرتی۔ مجھ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ میں اس کے چہرے پر نظریں جمائے پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی، مگر وہ پرسکون تھی، جیسے وہ آج تمام غموں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے بعد سکون کی نیند سوئی ہے۔ آج میرا اور راحیلہ کی دوستی کا بندھن ٹوٹ چکا تھا، اب نہ تو التجائیں قبول ہوں گی اور نہ ہی دعائیں۔
مجھے بھابھی راحیلہ کی موت ایک ایسا گھاؤ دے گئی ہے جس کی جلن نہیں جاتی۔ اس نے اپنی سانسوں کے ساتھ میری دوستی کا رشتہ بھی ختم کر دیا۔ اس کو اپنے والدین کے پاس جانے کی چاہ تھی، اس نے صبر نہ کیا اور غلط راہ کا انتخاب کر لیا، کیونکہ خودکشی حرام ہے اور خودکشی کرنے والا جنت سے محروم ہو جاتا ہے۔ پھر بھی میری دعا ہے کہ خدا شہرِ خموشاں میں بسنے والوں کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔ وہ لڑکی جس نے اپنے والدین کی جدائی کا دکھ سہ لیا، اپنی محبت کا بٹوارہ اور سوتن کا دکھ نہ سہ سکی اور ہم سے دور، بہت دور چلی گئی۔
گھروں میں ہمارا آنا جانا ہوا۔ وہ بڑی اچھی لڑکی تھی، جو میری مخلص دوست ثابت ہوئی۔ دکھ سکھ میں ہم ایک دوسرے کا خیال رکھتے تھے۔ اس کی بوڑھی ماں اور کمزور باپ محنت کر کے اس کی تعلیم کا خرچہ برداشت کر رہے تھے۔ وہ مجھے اپنے گھر کے حالات بتاتی تھی کہ آج ماں نے کھانا نہیں کھایا، آج بھائی آیا تھا۔ راحیلہ کے گھر کا المیہ اس کا بڑا بھائی تھا، جو نشہ کرتا تھا۔ وہ اکثر گھر سے غائب رہتا تھا، برے دوستوں اور بری سوسائٹی نے اسے ڈس لیا تھا اور اس کا زہر ان کے سب گھر والوں کو قسطوں میں مار رہا تھا۔
اس کے بھائی کا نام شہباز تھا، لیکن وہ اپنے نام کی طرح نہیں تھا بلکہ ایک بزدل انسان بن چکا تھا۔ نشے نے اس کی اندر کی خوبیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ وہ زرد اور سیاہ رنگت والا ایک کھوکھلا جوان رہ گیا تھا، جس کو جوان کہنے سے حجاب آتا تھا، کیونکہ نشے نے اس کی ایسی حالت کر دی تھی کہ جوانی اس پر تہمت لگتی تھی۔ شہباز جب بہت دنوں تک غائب رہتا اور نہ آتا تو اس کی ماں پریشان ہو جاتی۔ وہ آتا تو گھر والوں کے لیے اور پریشانی کا باعث بن جاتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ آکر ماں سے زبردستی رقم چھین لیتا تھا۔ ماں کے پاس روپے نہ ہوتے تو مار پیٹ کرتا، خود کو زخمی کر ڈالتا اور گھر کی کوئی نہ کوئی شے اٹھا کر لے جاتا۔ ان حالات میں کون پریشان نہ ہوتا کہ شہباز آتا ہی گھر کا سکون لوٹنے کے لیے تھا۔ اس کی وجہ سے ان لوگوں کے گھر میں غربت جم کر بیٹھ گئی تھی اور نکلنے کا نام نہیں لیتی تھی۔ ان کے مالی حالات اس کے باعث سنبھل نہیں پاتے تھے، یہاں تک کہ کبھی کبھار تو گھر میں کھانے کو بھی کچھ نہیں ہوتا تھا۔
ایسے حالات میں راحیلہ کو ایک غمگسار دوست اور ایسے ہمدرد کی ضرورت تھی، جو نہ صرف اس کی مالی مدد کرتا رہے بلکہ اس کے ذہن کو بھی تروتازہ رکھنے کی کوشش کرے۔ غربت کی وجہ سے اس کے دل پر مایوسی کے بادل چھائے رہتے تھے، گھر میں ہمیشہ اداس رہنے والی راحیلہ میرے پاس آکر خوش و خرم ہو جاتی تھی۔ میری تسلی کے دو بول اس کے ذہن کو تروتازہ کر دیتے تھے۔ اس کے ابو شوگر کے مریض تھے اور ان کا جسم اس قدر پھیل چکا تھا کہ ان کے لیے اب مزدوری کرنا بھی مشکل ہو گیا تھا۔ وہ اب مستقل کام نہیں کر سکتے تھے۔ راحیلہ اکیلی تھی، اس کی کوئی بہن ہوتی، تو اسے اپنے والدین کو سنبھالنے میں مدد ملتی۔ ہر وقت ایک ڈر اسے گھیرے رکھتا تھا کہ اگر والد صاحب کو کچھ ہو گیا، تو ہمارا کون ہو گا؟ انہیں دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں آئے گی، تب کون ہمارا محافظ ہو گا؟ وہ کہتی تھی، ماں کو بھی شہباز کے دکھ نے وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا ہے، اسے ساری رات کھانسی تنگ کرتی تھی۔
یہ اس موسم کا ذکر ہے، جب بارشوں کا پتہ ہی نہیں چلتا کہ کب شروع ہوئیں اور کب رک گئیں۔ وہ اسکول گئی ہوئی تھی، اس کے والد کام پر جانے کے لیے تیار ہوئے، بارش ہونے لگی، لیکن ڈیوٹی تو ڈیوٹی ہوتی ہے، وہ بارش کی پروا کیے بغیر گھر سے نکل گئے۔ جانے کب کیسے وہ ریل کے انجن کی زد میں آگئے، حالانکہ وہ یہاں برسوں سے ملازم تھے۔ شاید ان کو چکر آگیا تھا۔ بہرحال حادثہ ہو گیا اور جب ان کی میت لائی گئی تو ان کی شناخت مشکل تھی، وہ پہچانے نہیں جارہے تھے۔ راحیلہ کی امی تو ان کو دیکھ کر سکتے میں آگئیں، خدا کی کرنی کہ وہ اس صدمے کی تاب نہ لاتے ہوئے اسی وقت جاں بحق ہو گئیں۔ اس بات کا کسی کو یقین نہیں آرہا تھا کہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی کی جدائی میں اس کا پیارا بھی چل بسے، لیکن یہ ہو چکا تھا۔ چاہے کوئی یقین کرے یا نہ کرے، ایک گھر میں چار پائیوں پر میاں بیوی کی میتیں رکھی ہوئی تھیں۔ ایسے میں راحیلہ کی اسکول سے واپسی ہوئی۔ گھر کے باہر سے چار پائیاں دیکھ کر وہ پریشان ہو گئی اور اپنے گھر جانے کی بجائے وہ دوڑتی ہوئی ہمارے گھر آگئی۔ میں اس وقت امی کے ساتھ ان کے گھر گئی تھی۔ میری بہن نے اسے روک لیا کہ جب تک نوشی نہ آجائے، تم یہیں رکو۔ مجھے تو اس کا انتظار تھا، اسکول کی چھٹی کا ٹائم تھا۔
میرے گھر پہنچنے پر اس نے کہا کہ باہر یہ چار پائیاں کیوں رکھی ہیں؟ اتنے لوگ کیوں جمع ہیں؟ امی کہاں ہیں؟ اتنے سوالوں کے جواب میں اسے میں کیا کہتی، صرف اتنا کہہ سکی: “راحیلہ، خالہ اور خالو بہت نیک تھے اور نیک لوگوں کی ضرورت صرف انسانوں کو نہیں بلکہ اللہ پاک کو بھی ہوتی ہے۔ تم بہادر لڑکی ہو۔ تمام لوگ اس دنیا سے رخصت ہونے کے لیے آئے ہیں۔ جن کا کام ختم ہو گیا، وہ چلے گئے اور جس کے ذمے ابھی اور کام ہیں، وہ انہیں ختم کر کے ہی جائے گا۔” وہ حیرت سے میرا منہ تکتی رہی کہ میں کیا کہہ رہی ہوں۔ میری آنکھوں میں جھانکتی رہی، جو پرنم تھیں، پھر بولی: “دیکھو نوشی، سچ کہو، کیونکہ میرا دماغ بند ہو رہا ہے۔ میں مر جاؤں گی۔ میری کچھ سمجھ میں نہیں آرہا، تم کیا کہہ رہی ہو؟ لہٰذا صاف طریقے سے بات بتاؤ۔” وہاں عورتوں نے ہی اسے ماں اور باپ کے مرنے کی خبر دی، وہ بہت حساس لڑکی تھی، اس کی حالت دیکھ کر نہ صرف میں بلکہ محلے کی تمام عورتیں خون کے آنسو رونے لگیں۔ اس کے منہ پر ایک ہی فریاد تھی: “یا اللہ! تو نے میرے ماں اور باپ دونوں ایک ساتھ لے لیے، اے اللہ! پھر یہ لوگ کیا مجھ پر رحم کھائیں گے؟ اب میں کدھر جاؤں گی، کیا کروں گی؟”
میں اس کے پاس بیٹھی اسے دلاسے دے رہی تھی: “رو مت، میں جو ہوں۔ تم میرے ساتھ رہنا، تم میرے پاس رہو گی۔” ایسے ہی چار پانچ دن گزرے، ہم لوگ اس کے گھر رہے، وہ نہ کچھ کھاتی تھی اور نہ پیتی تھی۔ جمعرات کی رات وہ تین بجے شب اٹھی اور بھاگ کر چھت پر پہنچ گئی۔ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر فریاد کرنے لگی: “اے اللہ! تو مجھے بھی اٹھا لے، میں یہاں کیا کروں گی؟” امی اور میں اس کی باتیں سنتے تھے اور روتے تھے۔ جانے کتنے گہرے زخم آئے تھے اس کے دل پر کہ وہ اپنے دکھوں کا ازالہ نہ کر پاتی تھی۔ میں اسے واپس کمرے میں لائی، پانی پلایا، کھانے کے لیے کہا، مگر اس نے نہ کھایا اور نہ پیا، صرف اتنا کہا: “میں قیامت کے دن ضرور اپنے ماں باپ سے ملوں گی اور جنت ان کے ساتھ ہوگی۔ تم مجھے بھول نہ جانا، میں نے بہت اچھے دن تمہارے ساتھ گزارے۔” میں اسے رات بھر سمجھاتی رہی کہ ایسی باتیں نہیں کرو، اللہ جو کرتا ہے بہتر کرتا ہے۔ ہر کام میں اس کی کوئی مصلحت ہوتی ہے۔ اس کی طاقت کے آگے ہم سب مجبور اور بے بس ہیں، کوئی کچھ بول نہیں سکتا۔ چالیسویں کے بعد ہم نے اس کے مکان کو تالا لگا دیا اور اسے اپنے گھر لے آئے۔ یہاں آکر وہ کچھ مطمئن ہو گئی، کہنے لگی: “تم نے میری بہت مدد کی ہے۔ کتنے دن ہو گئے میں سکون کی نیند نہیں سوئی۔ اب مجھے گہری نیند سونا ہے، مجھے سونے دو۔” میں نے اسے سکون آور گولی کھلا دی اور وہ سو گئی، وہ اگلے دن تک سوتی رہی۔ میں نے اسے جگانا مناسب نہیں سمجھا۔
دن کے گیارہ بج گئے، وہ نہ اٹھی، تو میں امی کے ساتھ کچھ سودا سلف لینے بازار چلی گئی۔ جب ہم واپس آئے تو دیکھا کہ اس کے مکان کا تالا ٹوٹا ہوا تھا۔ امی نے بھائی کو دوڑایا۔ بھائی جان محلے کے دو حضرات کو لے کر اندر داخل ہوئے، تو دیکھا کہ شہباز نے گھر کا کچھ سامان گٹھڑی میں باندھا ہوا ہے۔ اس نے گھر کو الٹ پلٹ کر دیا تھا، جیسے کوئی چور چوری کرتے وقت گھر کی تلاشی لیتا ہے۔ یہ دیکھ کر محلے والے بھی سن ہو کر رہ گئے کہ اس نوجوان کو نشے نے اس قدر بے حس کر دیا تھا کہ اس نے نہ تو اپنے والدین کا افسوس کیا اور نہ جوان بہن کا پوچھا کہ وہ کہاں گئی؟ جب پتہ چلا کہ ماں، باپ مر گئے ہیں، تو آکر گھر کا تالا توڑا اور سامان فروخت کرنے کی فکر کرنے لگا۔
بھائی جان دوڑتے ہوئے وکیل صاحب کے پاس گئے، جو ہمارے محلے میں رہتے تھے۔ انہوں نے پولیس کو اطلاع کی، پھر پولیس آئی اور شہباز کو پکڑ کر لے گئی، مکان کو سیل کر دیا گیا کہ جب تک کوئی فیصلہ نہ ہو، یہ ایسے ہی بند رہے۔ راحیلہ کو اپنے بھائی کا بے حد انتظار تھا اور وہ اس صدمے کے وقت اس کے گلے لگ کر رونا چاہتی تھی۔ یہ ایک فطری امر تھا۔ خواہ بھائی کیسا ہی ہو، دکھ کے وقت بہن اور بھائی کو ایک دوسرے کی غمگساری سے دل کو تسکین ملتی ہے۔ جب ہم نے اسے جگا کر بتایا کہ تمہارا بھائی آیا تھا، لیکن اس نے تمہارا نہیں پوچھا، بلکہ مکان کا تالا توڑ کر گھر کا سامان فروخت کرنے کے لیے لے کر جا رہا تھا، تو وہ سن کر پریشان ہو گئی۔ پوچھا: “اب وہ کہاں ہے؟” کسی نے نہ بتایا کہ کہاں ہے، سب نے کہا: “پتہ نہیں، جہاں رہتا ہے وہیں چلا گیا ہوگا۔” اس روز وہ تمام دن پریشان رہی۔ جب رات کو ہم لوگ سو گئے، تو وہ چپکے سے اٹھی اور چھت پر چلی گئی۔ اتفاق سے والد صاحب نے اسے دیکھا۔ وہ روز آدھی رات کو بیدار ہو کر تہجد پڑھتے اور عبادت کرتے تھے، وہ دبے قدموں اس کے پیچھے گئے، راحیلہ روتے ہوئے خود سے کلام کر رہی تھی اور خدا سے فریاد کر رہی تھی کہ اے اللہ! تو نے مجھے بھائی بھی دیا، تو ایسا کہ جو میری حفاظت بھی نہیں کر سکتا۔ ایسا کہتے ہوئے اچانک اس نے چھت سے چھلانگ لگانا چاہی کہ والد صاحب نے اسے پکڑ لیا، ورنہ وہ گلی میں جا گرتی۔ اب ہم سب اس کی ذہنی کیفیت سے پریشان تھے کہ ہمدردی میں کہیں ہم نہ پھنس جائیں۔ اس کے رشتہ دار بھی نہ تھے کہ ان کے حوالے کر آتے۔ وہ ذہنی طور پر اپ سیٹ تھی، وہ کچھ بھی کر سکتی تھی۔ اب ایک ہی صورت تھی کہ اس کی شادی کرا دی جائے، لیکن کس سے؟ جو اس کی حفاظت کا بیڑہ اٹھا لے اور اس کا دکھ بانٹ لے۔ اب ایسا کون تھا؟ محلے والے بھی تھوڑی سی ہمدردی کر کے جا چکے تھے، لے دے کر بھائی جان تھے، مگر وہ راحیلہ سے شادی کرنے پر تیار نہ تھے۔ ان کی منگنی اپنی پھوپھی زاد سے ہو چکی تھی۔
ابو راحیلہ کی فکر میں از حد پریشان رہتے تھے، انہوں نے گاؤں کے کچھ معزز لوگوں سے مشورہ کیا، لیکن رشتے کا مسئلہ حل کرنا کسی کے بس کی بات نہ تھی۔ لے دے کر تان میرے بھائی جان پر ٹوٹی، تو وہ بوکھلا گئے۔ انہوں نے ابو امی سے کہا کہ آپ مجھے قربانی کا بکرا مت بنائیے، میں اس لڑکی سے ہرگز شادی نہیں کرنا چاہتا، میں تو ثمینہ ہی سے شادی کروں گا۔ بات بھی ٹھیک تھی، اگر ابو منگنی توڑ دیتے، تو پھپھو کو کیا جواب دیتے، وہ تو ہمیشہ کو روٹھ جاتیں۔ راحیلہ ایک عام سی لڑکی تھی، اس میں کوئی ایسی بات نہ تھی کہ بھائی جان اسے پسند کرتے۔ وہ کہتے تھے، ابھی مجھے تعلیم مکمل کرنی ہے، پڑھنا ہے، میں کیسے شادی کر سکتا ہوں؟ لیکن میں اور امی مصر تھے کہ تم ایک انسانی زندگی کا سہارا بنو، ایک بے سہارا کو سہارا دو گے، تو خدا تم سے راضی ہوگا۔ ثمینہ کا کیا ہے، وہ خاندان میں کسی اور سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہو جائے گی۔ سردست ہمیں راحیلہ کا مسئلہ حل کرنا ہے اور ہم زیادہ دن تک اسے ایسے حالات میں نہیں رکھ سکتے۔
امی نے ایک دن بھائی عاصم سے کہا: “اس غم زدہ کو ذرا دیر کو سیر کرا لایا کرو، کم از کم اس کا ثواب تو تمہیں ملے گا۔” عاصم مجبوراً اس بات پر رضامند ہوئے۔ اب یہ میرے بھائی کی ڈیوٹی تھی کہ وہ روز شام کو مجھے ساتھ لے کر راحیلہ کو گھمانے لے جاتے۔ ہم کبھی کسی پارک اور کبھی کسی اور پرفضا جگہ تھوڑی دیر بیٹھتے، میں اور بھائی راحیلہ سے اچھی اچھی باتیں کرتے، اس کا اثر خوشگوار ہوا۔ رفتہ رفتہ ماں، باپ کے غم کی شدت کم ہونے لگی اور وہ میرے بھائی کی باتوں میں دلچسپی لینے لگی۔ اب وہ بھائی کا ہر کام کرنے کی کوشش کرتی، گھر کے کاموں میں بھی امی کا ہاتھ بٹاتی، وہ صاف ستھری اور خوش باش رہنے لگی۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ عاصم بھائی بھی اب راحیلہ سے بات کرنے کو بوجھ نہیں سمجھتے تھے بلکہ اس کے ساتھ ہمدردی اور خوش دلی سے باتیں کرتے تھے، یہاں تک کہ وہ اکیلے بیٹھے ہوتے، تب بھی ایک دوسرے سے باتیں کرتے، بھائی عاصم اسے سمجھاتے اور دلجوئی کرتے۔
انسان اگر کسی کا دل جیتنا چاہے، تو اس میں دیر نہیں لگتی، بشرطیکہ نیت میں سچائی اور خلوص ہو۔ ان دنوں جب ہم لوگ سوچتے تھے، کیا کریں، کیا نہ کریں، تو قدرت نے خود مدد کی اور راحیلہ کی قسمت کا فیصلہ کر دیا۔ ثمینہ، جس کو بھائی اپنی امانت سمجھتے تھے، اس کے بارے میں پتہ چلا کہ وہ عاصم کو پسند نہیں کرتی، بلکہ اپنے چچازاد اشرف سے شادی کی خواہاں ہے۔ جب خود ثمینہ نے عاصم سے شادی سے انکار کیا، تو میرے بھائی کو دھچکا لگا اور پھر اس کے دل کی کایا پلٹ گئی، جس لڑکی کا چہرہ تصورات میں اس نے برسوں سے سجا رکھا تھا، وہ آن واحد میں کسی اور کی ہو گئی۔ عاصم کو بے حد صدمہ ہوا، لیکن اس نے خود کو سنبھال لیا۔ راحیلہ جیسی دکھی لڑکی کی مثال اس کے سامنے تھی، جو ناتواں اور بے سہارا تھی، پھر بھی اس نے خود کو سنبھال لیا تھا اور وہ بھی صرف عاصم کی ہمدردی کے چند بول کہنے کی وجہ سے، وہ ایک بار پھر جینے کی آرزو کرنے لگی تھی۔ کچھ دن عاصم کھویا کھویا رہا، پھر اس نے خوب سوچ سمجھ کر ایک اچھا فیصلہ کر لیا اور امی ابو کو اس فیصلے سے آگاہ کر دیا کہ وہ راحیلہ کو اپنی شریک حیات بنانے پر تیار ہے۔ یہ خبر ہمارے لیے خوشی کی نوید تھی اور ہم سب بہت مسرور تھے، کیونکہ راحیلہ ایک بڑی ذمہ داری تھی۔ ایک آزمائش تھی، جس سے میرے والدین خوش اسلوبی سے عہدہ برآں ہونا چاہتے تھے۔ عاصم کے بروقت فیصلے سے اس مسئلے کا حل اچھا نکل آیا تھا۔ پھر جب میں نے اپنی سہیلی کو آگاہ کیا کہ میرا بھائی تم سے شادی کرنا چاہتا ہے، تو وہ خوشی سے کھل اٹھی، جیسے کسی تنِ مردہ میں دوبارہ جان پڑ گئی ہو۔ میں بھی ایسا چاہتی تھی، لیکن زبان سے نہ کہہ پاتی تھی، کیونکہ میں مجبور تھی۔ “تم لوگوں کا یہ احسان کیا کم ہے کہ مجھ اکیلی کو تنہا رہنے سے بچا لیا اور اب تم لوگ مجھے اپنا رہے ہو، میں اس خوشی میں کہیں پاگل نہ ہو جاؤں۔”
راحیلہ کی شادی عاصم سے ہو گئی۔ عاصم کو اس سے محبت نہ تھی، لیکن انہوں نے اس کو سہارا دینے کی خاطر شادی کر لی، والدین کو سکھ دیا اور مجھے بھی سکھ کا سانس نصیب ہوا، لیکن راحیلہ کا معاملہ اور تھا۔ وہ واقعی میرے بھائی سے سچی محبت کرنے لگی تھی۔ اس شادی کو چار سال گزرے، راحیلہ اور عاصم کی زندگی سکون سے گزر رہی تھی اور ہم بھی سکون سے تھے کہ چلو گھر میں ایسی لڑکی بھابھی بن کر آئی ہے، جو سب کی عزت کرتی ہے، امی کو سکھ پہنچانے کی کوشش کرتی ہے اور ہم سب کی شکر گزار رہتی ہے، کیونکہ ہمارے سوا اس کا کوئی نہ تھا اور اسے پیار کی پیاس تھی، جو اپنے والدین کے پیار کی صورت میں میرے امی ابو کی طرف سے اسے مل گیا تھا۔
چار سال بعد اچانک میرے بھائی کی زندگی میں طوفان آگیا۔ ثمینہ کی اپنے شوہر سے نہ بنی اور طلاق ہو گئی اور اس نے پھر سے بھائی سے باہر ہی باہر رابطہ کر لیا۔ پہلے تو بھائی جان اس سے کتراتے رہے، لیکن کب تک، آخر وہ اس سے بچپن سے پیار کرتے تھے اور یہ پیار آج بھی تھا۔ وقت کی گرد نے اگرچہ اس کو ڈھانپ دیا تھا، ہمیں اس معاملے کا پہلے تو قطعی علم نہ ہو سکا، پھر کسی رشتہ دار نے دیکھا، تو اطلاع دی، لیکن ہم کو یقین نہ آیا، کیونکہ ہمارا بھائی ایسا نہ تھا۔ بہرحال انسان خطا کا پتلا ہے، اس کے قدم بہک بھی سکتے ہیں۔ ایک دن میرے چھوٹے بھائی نے خود اپنی آنکھوں سے ان دونوں کو بازار میں ساتھ گھومتے دیکھ لیا۔ اس نے گھر آکر امی جان کو بتایا، لیکن بدقسمتی سے راحیلہ بھابھی نے سن لیا، ہمیں پتہ نہ چلا کہ وہ سن رہی ہیں، بس پھر کیا تھا، یہ بات انہوں نے دل پر لے لی اور وہ پہلے کی طرح پژمردہ اور اداس ہو گئی۔
وہ ان دنوں ایک بیٹے کی ماں تھی۔ راحیلہ نے عاصم سے کچھ نہ کہا، کاش وہ ان سے کچھ کہتی! میں اس کی دوست تھی، وہ مجھ سے ہی شکوہ کرتی۔ اس نے خاموشی سے ایک مہلک دوا پی لی اور ہم سب کو روتا چھوڑ کر چلی گئی، اس نے ایک رقعہ بھائی عاصم کے نام لکھا: “مجھ کو پتہ چل گیا کہ تم کو واقعی ثمینہ سے محبت ہے اور مجھ سے شادی تم نے کسی مجبوری اور ہمدردی میں کی تھی۔ میں اب تمہاری محبت کے درمیان ایک دیوار ہوں۔ عاصم! تمہارے اور تمہارے گھر والوں کے مجھ پر بڑے احسان ہیں۔ تو کیوں نہ میں یہ احسان اسی فراخ دل سے اتار دوں، جس طرح فراخ دل سے تم نے مجھے اس وقت اپنا لیا تھا، جب میں بے سہارا تھی۔”
رات کو راحیلہ نے بیٹے کو دودھ دیا، پھر اسے سلا کر وہ خود بھی سو گئی۔ بھائی گھر میں آئے، آج کل وہ دورے پر جانے کا کہہ کر نہیں آتے تھے۔ صبح آئے تو راحیلہ ابھی تک سو رہی تھی، وہ نہ اٹھی۔ انہوں نے اسے بہت آوازیں دیں، جھنجھوڑا، مگر اس میں روح ہی کب تھی، جو اٹھنے میں اس کی مدد کرتی۔ مجھ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ میں اس کے چہرے پر نظریں جمائے پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی، مگر وہ پرسکون تھی، جیسے وہ آج تمام غموں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے بعد سکون کی نیند سوئی ہے۔ آج میرا اور راحیلہ کی دوستی کا بندھن ٹوٹ چکا تھا، اب نہ تو التجائیں قبول ہوں گی اور نہ ہی دعائیں۔
مجھے بھابھی راحیلہ کی موت ایک ایسا گھاؤ دے گئی ہے جس کی جلن نہیں جاتی۔ اس نے اپنی سانسوں کے ساتھ میری دوستی کا رشتہ بھی ختم کر دیا۔ اس کو اپنے والدین کے پاس جانے کی چاہ تھی، اس نے صبر نہ کیا اور غلط راہ کا انتخاب کر لیا، کیونکہ خودکشی حرام ہے اور خودکشی کرنے والا جنت سے محروم ہو جاتا ہے۔ پھر بھی میری دعا ہے کہ خدا شہرِ خموشاں میں بسنے والوں کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔ وہ لڑکی جس نے اپنے والدین کی جدائی کا دکھ سہ لیا، اپنی محبت کا بٹوارہ اور سوتن کا دکھ نہ سہ سکی اور ہم سے دور، بہت دور چلی گئی۔


0 تبصرے