"بچوں کی آنکھیں اور گاؤں کے راستے شام ہوتے ہی بند ہو جاتے ہیں" — زریاب کو اس کہاوت پر کبھی یقین نہیں آیا تھا۔ وہ شہر میں پلی بڑ...
آگے پڑھیںوہ خوفناک انسان کاشف کے قریب پہنچا اور اس نےکاشف کی گردن پر ہاتھ ڈال دیا۔ اسی پل کاشف کی حاضر دماغی کام آئی اور کاشف جھکائی دے کر بچ گیا اور...
آگے پڑھیںعارف گیسٹ ہاؤس کے باورچی خانے میں کھڑا تھا، کملا کا نوٹ اس کے ہاتھ میں دبا ہوا۔ “تم نے انتخاب کیا۔ اب اس کے ساتھ جیو۔” الفاظ اس کے ذہن میں گ...
آگے پڑھیںعارف اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس بیٹھا تھا، اس کی نوٹ بک اس کے سامنے کھلی ہوئی، وہ عجیب نقوش اس کے ذہن میں گھوم رہے تھے جو اس نے جنگل کے کھنڈر...
آگے پڑھیں