رابعہ صحیح معنوں میں پریشان ہو گئی تھی۔ ساجد حسین نے صرف کہا نہیں تھا شام کو ہی اس کے والد اور چچا فیاض احمد کے گھر پر موجود تھے۔ رابعہ کمرے میں بیٹھی انگلیاں چٹخا رہی تھی۔ وہ بے حد پریشان تھی اور صبا اسی کو دیکھ رہی تھی۔ کچھ دیر بعد ہی اس کے والد اور والدہ کمرے میں آئے اور کہنے لگے جاگیردار اپنے بیٹے کا رشتہ تمہارے لیے مانگ رہے ہیں۔ رابعہ سن کر کھڑی ہو گئی اور کہنے لگی۔ ابا آپ جانتے ہیں نا کہ میرا رشتہ طے ہے اور میں جمال کے علاوہ کسی اور سے شادی نہیں کروں گی۔ یہ سن کر فیاض احمد نے کہا میں انکار کر چکا تھا لیکن وہ لوگ دھمکیاں دے رہے ہیں کہ زمین واپس لے لیں گے یہ گھر واپس لے لیں گے ہمارا جینا دو بھر کر دیں گے۔ میں نے تو کبھی تم لوگوں کو بنا پردے باہر نہیں نکالا تو کیسے جاگیردار کے بیٹے کی تم پر نظر پڑ گئی۔
یہ بات سن کر رابعہ کی نظریں جھکی تھیں۔ بہرحال غلطی تجھ سے ہوئی تھی ۔گھر سے وہ نقاب والی چادر پہن کر جاتی تھی۔ لیکن باغ میں جا کر اتار کر ایک طرف رکھ دیتی تھی اور اج اس کی بے پردگی نے اسے یہ وقت دکھایا تھا اس نے ہاتھ جوڑ کر اپنے باپ کے سامنے کہا ابا مجھے یہ شادی نہیں کرنی۔ لیکن فیاض احمد مجبور تھا وہ کہنے لگا۔ میں بے گھر ہو جاؤں گا اس لیے تمہیں شادی یہیں کرنی پڑے گی۔ دونوں میاں بیوی آنسو ہی صاف کر رہے تھے۔ رابعہ بھی رونے لگی۔ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ لیکن فائدہ نہیں تھا کیونکہ جاگیدار حسین شاہ اپنے بیٹے سے اس کا رشتہ طے کر کے ہی گیا تھا۔ لیکن جیسے یہ خبر جمال اور اس کے گھر والوں تک پہنچی وہ فیاض احمد کے گھر آگئے۔ کہنے لگے بھائی صاحب بچپن سے ہی اپ نے بچوں کا رشتہ طے کیا ہوا تھا اور ایک دم سے انکار کر دیا۔ جمال اپنے والدین کے ساتھ آیا تھا۔ بات جمال کے والد نے شروع کی تھی کہ فیاض احمد کہنے لگے۔ میں بے حد مجبور ہوں تم تو جانتے ہو نا ان جاگیرداروں کو ان کے سامنے ہم جیسوں کی نہیں چلتی اور میں یہ نہیں چاہتا کہ میری بچی کی بدنامی ہو جائے کیونکہ یہ لوگ اسے برباد کر دیں گے۔
میرا انکار میری زندگی جہنم بنا کے رکھ دے گا۔ میں بہت پریشان ہوں۔ جمال کے ماں باپ تو یہ بات سمجھ گئی لیکن جمال اپنی محبت سے دستبردار ہونا ہی نہیں چاہتا تھا۔ اسی لیے کب ان دونوں نے بھاگ جانے کا پلان بنایا کسی کو خبر تک نہیں ہونے دی۔ شادی والے دن کی دوپہر کو اس نے اپنا کمرہ بند کر لیا کہنے لگی میں خود تیار ہو جاؤں گی لیکن اس کمرے کی کھڑکی پچھلی جانب کھلتی تھی۔ جہاں سے جمال اسے لینے کے لیے پہنچ گیا دونوں ہی بھاگ چکے تھے۔ جب تک بارات آئی تب تک وہ لوگ شہر جانے والی بس میں بیٹھ چکے تھے لیکن جب رات کو بارات کے آنے کے بعد رابعہ کے کمرے کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی تو دروازہ اندر سے لاک تھا دروازے پر بہت دستک دی تھی لیکن کسی نے نہیں کھولا مجبورا دروازے کو دھکا مار کر کھولا گیا۔ تب وہ کمرے میں نہیں تھی بس ایک خط لکھا تھا۔ مجھے ڈھونڈنے کی کوشش مت کیجئے گا اور میں جمال کے ساتھ بہت دور جا رہی ہوں کیونکہ میرا رشتہ میرے باپ نے اسی سے طے کیا تھا ۔ میں جاگیر کے عتاب کا نشاندہ نہیں بن سکتی اور یہ میرا جائز حق ہے۔
یہ خط پڑھ کر دونوں میاں بیوی سر پکڑ کر بیٹھ گئے اور رونے لگے۔ بات باہر تک جا پہنچی تھی۔ یہ خبر جب حسین شاہ اور ساجد حسین تک پہنچی تو قیامت برپا ہو گئی تھی کیونکہ وہ برادری کے بڑے بڑے بزرگ کے ساتھ آئے تھے۔ دوسرے گاؤں سے بھی کافی زمیندار آئے تھے اور ان سب کے سامنے ساجد حسین کو اپنی سب سے بڑی تذلیل لگی تھی۔ وہ کمرے میں آیا۔ رابعہ کا خط پڑھ کے پھاڑ کر پھینک دیا۔ پھر کہنے لگا زندہ نہیں چھوڑوں گا اسے یہ پاتال میں بھی ہوگی تو بھی میں اسے ڈھونڈ نکالوں گا اور جس دن یہ مجھے مل گئی اس دن اس کا وہ حشر کروں گا کہ گاؤں کی ہر لڑکی کانپے گی۔ لیکن میں خالی ہاتھ بھی نہیں جاؤں گا۔ وہ یہ تو نہیں جانتا تھا کہ صبا کون ہے؟ کیسی ہے کیونکہ وہ ہمیشہ پردے میں رہتی تھی۔ بس اسے یہ پتہ تھا کہ فیاض احمد کی دو بیٹیاں ہیں اسی لیے اس نے پنچایت بٹھائی اور فیصلہ بھی اپنی مرضی سے کروایا کہ وہ یہاں سے خالی ہاتھ نہیں جائے گا اور اب وہ اپنی دلہن کو رخصت کروا کے لے کر ہی جانا چاہتا تھا ب
رابعہ بھاگ گئی ہے تو پھر فیاض احمد اپنی دوسری بیٹی کا نکاح اسے کرے گا۔ ان کا یہ ظالمانہ فیصلہ سنتے ہی صبا پر جیسے آسمان ٹوٹا تھا۔ وہ تو ویسے ہی بہت گھبراتی تھی۔ وہ بہت کم عمر تھی۔ ابھی تو اس نے دسویں کے پیپرز دیے تھے اور بالکل بے قصورتھی لیکن بہن نے جو کچھ کیا تھا اسے بدلے میں جانا پڑاتھا۔
٭٭٭
اب کمرے میں بیٹھی بری طرح سے خوفزدہ تھی کہ پتہ نہیں ساجد حسین اس کے ساتھ کیا سلوک کرے گا۔ ساجد بھی بڑے جارحانہ انداز میں کمرے میں داخل ہوا تھا۔ کمرے کا دروازہ بھی بڑے زور سے بند کیا تھا۔ جیسے جیسے وہ قدم بڑھا رہا تھا اس کے قدموں کی اہٹ سے صبا کا دل کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا تھا۔ وہ جیس ہی بیڈ پر اس کے سامنے بیٹھا۔ صبا سمٹ سی گئی تھی۔ ساجد بڑے غضناک لہجے سے بولا تھا۔ آج کی رات تمہارے ساتھ گزارنے کے بعد میں تمہیں کل صبح طلاق دے دوں گا۔ تاکہ تمہارے گھر والوں کو معلوم ہو کہ بدنامی کسے کہتے ہیں۔ یہ کہہ کر ساجد نے بڑی بے دردی سے صبا کی چادر پیچھے ہٹائی تھی۔ بہن کی شادی تھی۔ اسی لیے صبا نے پنک رنگ کا خوبصورت لباس پہنا تھا۔ بڑے غصے سے ساجد نے پہلی نظر اس پر ڈالی لیکن پھر نظریں ہٹانا بھول گیا۔ وہ بہت کم عمر سی لڑکی تھی جو اس وقت ڈری سہمی اس کے سامنے بیٹھی تھی۔ خوف کے مارے صبا نے اپنی دونوں آنکھیں بند کر لیں۔ خوف کے مارے اس کے ہونٹ بھی کپکپا رہے تھے۔ بڑی محویت سے ساجد حسین صباح کو دیکھ رہا تھا۔
صبا خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ معصوم بھی تھی اور کم عمر بھی اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ساجد نے جب اس لڑکی کو کپکپاتے اور زرد ہوتی رنگت کے ساتھ دیکھا تو اپنے غصے پر کنٹرول کر کے وہ پیچھے ہٹ کر کہنے لگا۔ جاؤ جا کر اپنے کپڑے تبدیل کرو اور صوفے پر جا کر سوجانا۔ یہ سن کر صبا کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا۔ اسے تو لگا تھا کہ آج پتہ نہیں اس کیساتھ کیا کیا ہونے والا تھا۔ لیکن اس ظلم نے اسے کچھ نہیں کہا تھا۔ شاید اس کی کم عمری پر رحم آگیا یا اس کی معصوم شکل دیکھ کر اس پر ترس آ گیا تھا۔ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ ایک دم سے اسے ہوا کیا۔ صبا جلدی سے بیڈ سے اٹھی اور الماری میں رکھی ہوئے لباس جا کر پہن لیا۔ تب تک ساجد بیڈ پر لیٹ چکا تھا۔ آنکھیں بھی بند کر چکا تھا۔ صبا نے آہستگی سے تکیہ اٹھایا صوفے پر جا کر لیٹ گئی لیکن دسمبر کا مہینہ تھا سردی بہت زیادہ تھی اور کمبل ایک ہی تھا جسے ساجد لے کر سویا ہوا تھا۔ اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ اپنے لیے اس سے کمبل مانگ لیتی۔ اسی لیے خاموشی سے صوفے پر لیٹ گئی لیکن رات کو سردی کے خوف سے نیند نہیں آرہی تھی۔
کافی دیر جاگتی رہی جب کچھ نہ بن پڑی تو اپنی میکسی الماری سے نکال کر وہی اپنے اوپراوڑھ کر سونے کی کوشش کرنے لگی۔ کچھ ہی دیر میں وہ سو چکی تھی۔ رات کا نہ جانے کون سا پہر تھا۔ جب ساجد کی آنکھ کھلی اس نے کروٹ بدلی تو آنکھیں کھول کر دیکھا۔ صبا صوفے پر سو رہی تھی اور اپنی اوپر وہی میکسی لی ہوئی تھی شاید سردی کی وجہ سے یہ دیکھ کر وہ اٹھ کر بیٹھ گیا پہلے تو دل میں خیال آیا کہ الماری کے تیسرے خانے میں رکھا ہوا کمبل اس پر ڈال دے لیکن پھر رابعہ کا خیال آیا تو غصہ آنے لگا۔ یہ بھی اسی کی بہن ہے پھر وہ اس پر کیوں رحم کھائے۔ جس کی بہن نے ساری برادری میں اس کی ناک کٹوا دی۔ اچھا ہے سردی سے کانپتی رہے دوبارہ سے کمبل اوڑھ کر سو گیا۔ دوسری بار اس کی آنکھ کلام پاک کی تلاوت پر کھلی۔ اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو صبا جائے نماز بچھائے آنکھیں بند کیے کلام پاک کی تلاوت کر رہی تھی۔ یہ سن کر اٹھ کر بیٹھ گیا۔ صبا کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور وہ سورۃ رحمان پڑھ رہی تھی۔ وہ کافی خوش الحانی سے پڑھ رہی تھی اس کی آواز بہت پیاری تھی۔ پہلی بار ایسا ہوا کہ ساجد جو بڑی توجہ اور بڑی دلچسپی سے وہ سن رہا تھا جیسے ہی صبا نے سورۃ رحمن کی تلاوت ختم کی۔ دعا مانگی تو جائے نماز سمیٹ کر کھڑی ہو گئی۔ لیکن سامنے بیڈ پر ٹیک لگائے اس نے جب ساجد کو دیکھا توصبا کی نظر جھک گئی۔
ساجد کہنے لگا تمہاری دعائیں تمہیں ذلت سے نہیں بچا سکتی۔ جو میں تمہیں دوں گا۔ رات کو تو میں نے تمہیں بخش دیا تھا ۔لیکن ضروری نہیں میں تمہیں روزانہ بخشتا رہوں۔ مجھے ایک بار رابعہ کے ملنے کا انتظار ہے اس نے اس کی سزا دینے کے بعد تمہیں بھی میں طلاق دے دوں گا۔ یہ مت سمجھنا کہ تمہیں بخش دوں گا اور میں تمہیں اپنی بیوی بنا کے رکھوں گا۔ عزت دوں گا میں ایسا کچھ نہیں کروں گا۔ اسی لیے یہ وظیفے تمہارے کام نہیں آئیں گے۔ تمہارے گھر والے نہیں بچائیں گے۔ تم پر طلاق کا دھبہ نہیں مٹائیں گے۔ وہ کہنے لگی اگر میرے اللہ نے میری قسمت میں یہ سب لکھا ہے تو میں نہیں روک سکتی۔ کیونکہ اللہ نےآپ کو میرے نصیب میں لکھ دیا تھا میں جا کر بھی انکار نہیں کر سکتی تھی اور نہ ہی آپ کر پائے۔ جو ہونا تھا ہو گیا کیونکہ میری قسمت میں آپ کو لکھا گیا تھا۔ اگر میرے اللہ کی مرضی ہوئی تو یہ رشتہ بھی میں اپنی آخری سانس تک نبھاؤں گی اور اگر بدنامی ہی میرے نصیب میں لکھی ہے تو میں اسے روک نہیں سکتی یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر جا چکی تھی۔
ساجد کو حیران کر چکی تھی وہ اس کم عمر لڑکی سے اتنی بڑی بات کی امید نہیں رکھتا تھا۔ حویلی میں سب خواتین فجر کے بعد ہی اٹھ جاتی تھیں اور ملازمین بھی لیکن مرد حضرات اپنی مرضی سےاٹھنے کے مالک تھے جب بی جان نے صبا کو صبح سویرے کمرے سے باہر دیکھا تو اپنے پاس بلا لیا اس وقت وہ صرف وہی اٹھی ہوئی تھی۔ نماز پڑھ کے کمرے سے باہر آئی تھی۔ صبا کو صوفے پہ بیٹھے دیکھا تب اپنے پاس بلا لیا وہ خاموشی سے بی جان کے پاس آئی اور انہیں سلام کیا۔ اس معصوم کا عمر لڑکی پر انہیں بہت پیارا رہا تھا۔ بی جان نے کہا میں جانتی ہوں ساجد حسین کا غصہ بہت تیز ہے لیکن وہ بھی برا نہیں ہے۔ اس نے بے شک غصے اور تیش میں تم سے نکاح کیا لیکن میں جانتی ہوں آہستہ اہستہ وہ ٹھیک ہو جائے گا۔
صبا نے بی جان سے کوئی بات نہیں کی کہ ساجد کا ارادہ کیا ہے وہ تو اسے رکھنا ہی نہیں چاہتا کچھ ہی دیر میں بڑی بیگم اور چھوٹی بیگم بھی جاگ گئی تھی۔ جب صبا کو بی جان کے کمرے میں دیکھا تو اسے کہنے لگی تم باہر آ جاؤ کیونکہ بی جان ناشتے کے بعد آرام کریں گی۔ بی جان کا ناشتہ بڑی بیگم نے ہی بنایا تھا۔ بی جان کو ناشتہ کروا کر اس نے دوا دی اور بی جان سو گئی۔ صبا کمرے سے باہر آ چکی تھی۔ بڑی بیگم نے بڑے ناگوار لہجے سے بات کی اور کہنے لگی تم جیسے لوگوں کو میرے بیٹے نے عزت دینا چاہی تھی تم کیا سمجھتی ہو کہ میرے بیٹے کے لیے رشتوں کی کمی تھی۔ وہ جس لڑکی پر ہاتھ رکھتا اس گھر میں ہم رشتہ لے کر جاتے وہیں سے ہمیں بڑی عزت سے رشتہ مل جاتا۔ میرے بیٹے نے تو محبت میں ذات برادری اور ہم لوگوں کو بھی نہیں دیکھا اور تمہاری کم ظرف بہن کو پسند کر لیا اور بڑی عزت سے اسے شادی کرنا چاہی لیکن وہ اس قابل ہی نہیں تھی کہ جاگیر گھرانے کی بہو بنتی۔
صبا نے کہا کہ رشتے زبردستی سے نہیں کیے جاتے آپ کے شوہر اور آپ کے دیور نے زبردستی میری بہن کا رشتہ میرے والد سے طے کروا کر گئے تھے میری بہن کی بچپن سے ہی میری خالہ ذات کے ساتھ بات طے تھی اور میری بہن اسی سے شادی کے لیے رضامند تھی۔ وہ بار بار کہتی رہی کہ مجھے شادی نہیں کرنی پر آپ کے شوہر اور دیور نے میرے باپ کو دھمکیاں دے دی۔ یہ سننا تھا کہ ایک زوردار تھپڑ بڑی بیگم نے صبا کے منہ پر دے مارا وہ کہنے لگی کم ظرف ہمارے آگے زبان چلاتی ہے۔ تیز زبان کھینچ کر منہ سے نکال کر باہر پھینک دوں گی۔ تمہیں میں اس گھر میں کبھی بھی بہو کی حیثیت سے قبول نہیں کروں گی۔ تم ایک زرخرید غلام کی طرح یہاں پر زندگی گزارو گی اور میں اپنی بیٹے کی شادی اپنے بھائی کی بیٹی سے کروں گی اور تمہارے سامنے کروں گی۔ صبا کہنے لگی مجھے کوئی اعتراض نہیں آپ جہاں چاہیں اپنی بیٹے کی شادی کر سکتی ہیں۔ بڑی بیگم کہنے لگی جاؤ کچن میں آج کے بعد سارے ملازمین کا کھانا اور گھر کے افراد کا کھانا تو اکیلے پکاؤں گی اور کوئی بھی تمہاری مدد نہیں کرے گا۔
صبا خاموشی سے باورچی خانے میں چلی گئی اور سب کے لیے کھانا بنانے لگی۔ اس کا پورا دن باورچی خانے میں گزر جاتا تھا، کیونکہ گھر کے سارے کام اسی کے ذمے تھے۔ بڑی بیگم ساجد سے کہہ چکی تھیں، "یہ لڑکی تمہاری پسند کی نہیں ہے، نہ ہی تم اس سے محبت کرتے ہو۔ ہم اس کے ساتھ جیسا چاہیں سلوک کریں گے، اور تم دوسری شادی ضرور کرو گے، وہ بھی میری بھتیجی کے ساتھ۔" ساجد نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کا دھیان تو صرف رابعہ کی تلاش میں تھا۔ اس نے اپنے کئی ملازمین کو یہ کام سونپ رکھا تھا کہ جہاں رابعہ اور اس کا شوہر نظر آئیں، انہیں فوراً حویلی میں لے آئیں۔
صبا خاموشی سے سارے کام کرتی رہتی، لیکن جیسے ہی اذان کی آواز آتی، وہ نماز پڑھنے چلی جاتی۔ بڑی بیگم کو اس بات پر بھی اعتراض تھا۔ وہ کہتیں، "پہلے کام کرو، نماز بعد میں پڑھنا۔" صبا نے جواب دیا، "میرا رب پہلے ہے، دنیا بعد میں۔ میں نہ تو نماز چھوڑوں گی اور نہ ہی دنیا کے کاموں کے لیے اپنی نماز قضا کروں گی۔" اس بات پر بڑی بیگم نے صبا کو بہت مارا اور کہا، "تمہاری زبان بہت چلتی ہے۔" ایک بار ساجد نے یہ منظر دیکھ لیا کہ اس کی ماں صبا کو اس لیے مار رہی تھی کہ وہ پہلے نماز پڑھنا چاہتی تھی۔ ساجد کو اس پر کوئی افسوس نہیں ہوا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ صبا نماز کی پابند ہے۔ اس کی صبح قرآت پاک کی تلاوت سے شروع ہوتی تھی۔
اس نے آگے بڑھ کر اپنی ماں کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا، "آپ اسے کیوں مار رہی ہیں؟ اس نے کیا کیا؟" صبا کے چہرے پر پانچ انگلیوں کے نشان پڑ چکے تھے اور وہ رو رہی تھی۔ بڑی بیگم نے کہا، "تم کون ہوتے ہو میرا ہاتھ پکڑنے والے؟ یہ لڑکی بہت زبان دراز ہے۔" ساجد نے کہا، "مجھے پتہ ہے اس نے کیا کہا۔ کیا اس نے گالی دی؟ بدتمیزی کی؟ اس کا قصور بتائیں۔" بڑی بیگم نے جواب دیا، "یہ کہتی ہے کہ پہلے نماز پڑھوں گی، پھر کام کروں گی۔ یہ ہوتی کون ہے میرا کام بعد میں کرنے والی؟" ساجد نے کہا، "یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ اگر وہ پہلے نماز پڑھنا چاہتی ہے تو پڑھ سکتی ہے۔ ہم بھی مسلمان ہیں، اسے وقت پر نماز پڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ آپ کل اللہ کے سامنے کیا جواب دیں گی؟" یہ سن کر بڑی بیگم لاجواب ہو گئیں۔ انہوں نے صبا سے کہا، "جا کر نماز پڑھو، باقی کام بعد میں کر لینا۔" صبا فوراً اٹھ کر لنگڑاتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی، کیونکہ بڑی بیگم نے اس کے پاؤں کو جوتی سے زور سے دبا دیا تھا، جس سے وہ کراہ رہی تھی۔
ساجد نے اپنی والدہ سے کہا، "آج کے بعد اسے نماز کے لیے نہ روکیں۔" اس لمحے ساجد کو پہلی بار لگا کہ اس کے دل میں صبا کے لیے ہمدردی جاگی ہے۔ رات کو جب صبا صوفے پر سونے کے لیے بیٹھی تو ساجد اس کا چہرہ دیکھتا رہا۔ اس کی رنگت پہلے سے زیادہ زرد ہو چکی تھی، لیکن اس نے کبھی شکایت نہیں کی۔ وہ ساجد کا ہر خیال رکھتی تھی۔ اس کے کپڑے پریس کر کے دیتی، جوتوں کو صاف کر کے خود پہناتی، اور اس کے سر پر جاگیرداروں کی عزت کی پگڑی رکھتی۔
صبح جب صبا کی تلاوت کی آواز سنی تو ساجد وضو کر کے آیا۔ جب صبا نماز پڑھنے اٹھی تو اس نے کہا، "بیک گراؤنڈ چھوڑ دو، مجھے بھی نماز پڑھنی ہے۔" ساجد کو خود پتہ نہ چلا کہ وہ کب بدلنے لگا۔ وہ بھی اب باقاعدگی سے نماز پڑھنے لگا۔ اس تبدیلی سے بڑی بیگم کو بھی خوشی ہوئی، اور وہ صبا کی تعریف کرنے لگیں۔ دو ماہ گزر چکے تھے، اور اب ساجد کا دل مکمل طور پر صبا کی طرف مائل ہو چکا تھا۔ ایک رات اس نے صبا سے بڑی عزت اور محبت سے نکاح کے پاکیزہ رشتے کو نبھایا۔
اگلی صبح ساجد کو پتہ چلا کہ رابعہ اور جمال شہر میں رہ رہے ہیں۔ ان کا پتہ مل چکا تھا، اور وہ دونوں حویلی میں لائے جا رہے تھے۔ صبا نے ہاتھ جوڑ کر منت کی کہ اس کی بہن کو کچھ نہ کہا جائے، لیکن ساجد خاموش رہا۔ جب رابعہ اور جمال کو ساجد کے سامنے لایا گیا، جمال نے ہاتھ جوڑ کر کہا، "خدا کی قسم، ہمارا کوئی قصور نہیں، سوائے اس کے کہ ہم نے اپنا جائز حق استعمال کیا۔" رابعہ کو لگا کہ ساجد جمال کو مار ڈالے گا، لیکن ساجد نے کہا، "میں نے تم دونوں کو معاف کر دیا۔ تم اسی گاؤں میں رہ سکتے ہو، منہ چھپانے کی ضرورت نہیں۔"
سب ساجد کے فیصلے پر حیران تھے۔ شاہ حسین نے پوچھا، "تم نے معافی کیوں دی؟" ساجد نے جواب دیا، "میری قسمت میں صبا تھی، بابا جان۔ پتہ نہیں میری کون سی نیکی کا صلہ مجھے صبا کی صورت میں ملا۔ اس کی خدمت، محبت، اور دینداری نے مجھے بدل دیا۔ میرے دل میں اب کسی کے لیے نفرت نہیں۔ میں سمجھ گیا ہوں کہ رشتے زبردستی مسلط نہیں کیے جاتے۔ جو قسمت میں ہوتا ہے، وہی بہتر ہوتا ہے، اور صبا میرے لیے ہر لحاظ سے بہترین ہے۔"
(ختم شد)
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ
0 تبصرے