پری زاد


ایک خاموش دل کی کہانی
 
راولپنڈی کی ایک عام سی بستی میں پری زاد اپنے بھائیوں کے ساتھ رہتا تھا۔ بظاہر وہ ایک عام سا نوجوان تھا، لیکن اس کے دل کے اندر ایک ایسی دنیا آباد تھی جس سے بہت کم لوگ واقف تھے۔ وہ خاموش طبیعت، نرم مزاج اور بے حد حساس انسان تھا۔ اسے شاعری سے عشق تھا۔ وہ اپنے دل کی وہ تمام باتیں جو زبان سے کہنے میں جھجک محسوس کرتا، اپنے اشعار میں بیان کر دیتا تھا۔ اس کے لیے شاعری محض چند خوبصورت الفاظ نہیں تھی بلکہ اس کی زندگی، اس کے احساسات اور اس کے اندر چھپی ہوئی تنہائی کا اظہار تھی۔

لیکن پری زاد کی سب سے بڑی مشکل اس کی شاعری نہیں بلکہ اس کی شکل و صورت تھی۔ اس کی رنگت گہری تھی اور معاشرہ اسے بار بار اس بات کا احساس دلاتا تھا کہ وہ دوسروں جیسا خوبصورت نہیں۔ لوگ اس کا مذاق اڑاتے، اس کی شکل پر تبصرے کرتے اور اسے کمتر سمجھتے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ باتیں اس کے دل میں گھر کرتی چلی گئیں۔ باہر سے وہ خاموش رہتا، مسکرا دیتا اور کسی کو جواب نہ دیتا، لیکن اندر ہی اندر اس کی خود اعتمادی ٹوٹتی جا رہی تھی۔

اس کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ اجنبیوں کے ساتھ ساتھ اپنے گھر میں بھی اسے وہ محبت اور عزت نہیں ملتی تھی جس کا وہ مستحق تھا۔ اس کے بھائی اور بھابیاں اسے ایک بوجھ سمجھتے تھے۔ انہیں لگتا تھا کہ پری زاد گھر کے لیے کچھ خاص نہیں کر رہا اور اس کی موجودگی صرف ایک اضافی ذمہ داری ہے۔ وہ اس کے جذبات کو سمجھنے کے بجائے اسے ایک ایسے شخص کے طور پر دیکھتے تھے جسے جلد از جلد اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جانا چاہیے۔

لیکن اس گھر میں ایک شخص ایسا بھی تھا جو پری زاد کی اصل قدر جانتا تھا۔ وہ اس کی بہن سعیدہ تھی۔ سعیدہ اپنے بھائی کو دل سے چاہتی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ پری زاد ظاہری شکل سے کہیں زیادہ خوبصورت دل رکھنے والا انسان ہے۔ وہ اس کی خاموشی کو سمجھتی تھی اور جانتی تھی کہ بھائی کے دل میں کتنی محبت اور کتنے خواب چھپے ہوئے ہیں۔

پری زاد کی زندگی میں سب سے خوبصورت خواب محبت کا تھا۔ اسے ناہید نامی ایک لڑکی پسند تھی۔ پری زاد نے ناہید کو کبھی کسی لالچ یا خواہش کی نظر سے نہیں دیکھا تھا۔ وہ اسے سچے دل سے چاہتا تھا۔ اس کے لیے ناہید صرف ایک خوبصورت لڑکی نہیں بلکہ وہ شخص تھی جس کے سامنے شاید وہ اپنی تنہائی اور اپنے دل کی باتیں بیان کر سکتا تھا۔

لیکن محبت ہمیشہ انسان کی خواہش کے مطابق نہیں ملتی۔

ناہید کے دل میں پہلے ہی کسی اور کے لیے محبت موجود تھی۔ وہ ماجد سے محبت کرتی تھی اور ماجد بھی ناہید کو چاہتا تھا۔ پری زاد اس حقیقت سے بے خبر تھا۔ وہ خاموشی سے ناہید کو چاہتا رہا اور اپنے دل میں یہ امید رکھتا رہا کہ شاید کبھی اس کی محبت بھی قبول کر لی جائے گی۔

اسی دوران پری زاد کی بہن سعیدہ کی زندگی بھی ایک مشکل موڑ پر پہنچ جاتی ہے۔ سعیدہ ماجد کو پسند کرتی تھی، لیکن ماجد کا دل ناہید کے لیے دھڑکتا تھا۔ گھر والوں نے سعیدہ کی شادی ایک عمر رسیدہ شخص سے طے کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ سعیدہ اپنی مرضی کی زندگی گزارنا چاہتی تھی، مگر خاندان کے دباؤ اور حالات نے اسے خاموش رہنے پر مجبور کر دیا۔ یوں پری زاد اور سعیدہ دونوں اپنے اپنے دل میں ایک ایسی محبت لیے زندگی گزار رہے تھے جسے وہ حاصل نہیں کر سکتے تھے۔

ایک دن اچانک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے پری زاد کی زندگی کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس پر الزام لگا دیا گیا کہ اس نے ناہید کے گھر جا کر اسے محبت کا خط دیا ہے۔ بات بڑھتے بڑھتے ناہید کے گھر والوں تک پہنچ گئی اور ناہید کے والد نے بغیر حقیقت جانے پری زاد کو سب کے سامنے تھپڑ مار دیا۔ وہ تھپڑ صرف پری زاد کے چہرے پر نہیں لگا تھا، بلکہ اس کی عزت، اس کے جذبات اور اس کے پہلے سے زخمی دل پر لگا تھا۔

وہ لوگوں کے سامنے خاموش کھڑا رہا۔ ہمیشہ کی طرح اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ لیکن اس کے اندر ایک طوفان برپا ہو چکا تھا۔ جس لڑکی کو وہ دل سے چاہتا تھا، اسی کے گھر میں اسے سب کے سامنے ذلیل ہونا پڑا تھا۔ اسے محسوس ہوا کہ شاید وہ واقعی اس دنیا میں کسی عزت اور محبت کے قابل نہیں۔ کچھ عرصے بعد اسے حقیقت کا علم ہوا۔ ناہید دراصل ماجد سے محبت کرتی تھی، اور جس واقعے کا الزام پری زاد پر لگایا گیا تھا، اس کے پیچھے حقیقت کچھ اور تھی۔ جس رات ناہید کے گھر کی چھت پر کسی کے موجود ہونے کی بات ہوئی تھی، وہاں پری زاد نہیں بلکہ ماجد موجود تھا۔ یہ حقیقت جان کر پری زاد کا دل مکمل طور پر ٹوٹ گیا۔

اسے اپنی محبت کے ختم ہونے سے زیادہ اس بات کا دکھ تھا کہ وہ جس لڑکی کو اپنی زندگی کا سہارا سمجھ بیٹھا تھا، وہ کبھی اس کی تھی ہی نہیں۔ وہ خود کو بے حد تنہا محسوس کرنے لگا۔ اسے اپنی رنگت، اپنی غربت، اپنی قسمت اور اپنی پوری زندگی سے شکایت ہونے لگی۔ مایوسی اس حد تک بڑھ گئی کہ پری زاد نے اپنی زندگی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ لیکن قسمت نے ابھی اس کے لیے بہت کچھ محفوظ کر رکھا تھا۔

اسی نازک وقت میں احمد نامی ایک شخص اس کی زندگی میں آیا اور اسے بچا لیا۔ احمد نے پری زاد کو سمجھایا کہ ایک ناکام محبت انسان کی پوری زندگی کا اختتام نہیں ہوتی۔ پری زاد شاید اس وقت یہ بات سمجھنے کے قابل نہیں تھا، لیکن احمد کی وجہ سے اس کی زندگی بچ گئی۔ ادھر ناہید اور ماجد اپنی محبت کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے اور ان کی شادی ہو گئی۔

پری زاد کے لیے یہ خبر ایک اور صدمہ تھی۔ جس محبت کو وہ اپنے دل میں برسوں سے چھپائے بیٹھا تھا، وہ اب کسی اور کی زندگی کا حصہ بن چکی تھی۔ مگر اسے معلوم نہیں تھا کہ زندگی ابھی اس کے لیے مزید امتحانات لے کر آنے والی ہے۔ اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ایک دن وہی دنیا جو آج اس کے رنگ کا مذاق اڑا رہی ہے، اس کی عزت کے لیے کھڑی ہوگی۔ اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ ایک دن بے پناہ دولت کا مالک بنے گا۔ اور سب سے بڑھ کر اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ زندگی اسے ایک ایسی لڑکی سے ملانے والی ہے جو اس کے چہرے کو نہیں بلکہ اس کے الفاظ، اس کے دل اور اس کی روح سے محبت کرے گی۔ لیکن اس منزل تک پہنچنے سے پہلے پری زاد کو ابھی بہت سے راستوں سے گزرنا تھا۔

پہلی محبت کے بعد

ناہید اور ماجد کی شادی کے بعد پری زاد کی زندگی جیسے اچانک بے رنگ ہوگئی تھی۔ جس محبت کو وہ اپنی زندگی کا سب سے خوبصورت خواب سمجھتا تھا، وہ خواب اس کی آنکھوں کے سامنے کسی اور کا مقدر بن چکا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ ناہید نے اسے کبھی محبت کی نظر سے نہیں دیکھا، لیکن دل کہاں کسی منطق کو مانتا ہے۔ انسان بعض اوقات حقیقت کو سمجھ لیتا ہے، مگر اسے قبول کرنے میں برسوں لگا دیتا ہے۔ پری زاد بھی اسی کیفیت سے گزر رہا تھا۔ وہ لوگوں کے درمیان موجود ہوتا، ان سے بات بھی کرتا، مگر اس کا ذہن ہر وقت اپنے اندر کے شور میں الجھا رہتا۔

اس کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ بات صرف یہ نہیں تھی کہ ناہید کسی اور کی ہوگئی تھی، بلکہ یہ احساس بھی تھا کہ شاید وہ خود محبت کے قابل ہی نہیں۔ اپنے رنگ و روپ، خاموش طبیعت اور کم اعتمادی کی وجہ سے وہ پہلے ہی خود کو دوسروں سے کمتر سمجھتا تھا۔ ناہید کے معاملے نے اس احساس کو اور گہرا کردیا تھا۔ اسے لگنے لگا تھا کہ دنیا میں خوبصورت لوگوں کے لیے محبت، عزت اور خوشیاں ہیں، جبکہ اس جیسے شخص کے حصے میں صرف خاموشی، مذاق اور تنہائی آتی ہے۔

پری زاد شاعری کرتا تھا اور الفاظ میں اپنے جذبات چھپا لیتا تھا۔ جو بات وہ کسی انسان سے نہیں کہہ سکتا تھا، وہ کاغذ پر لکھ دیتا۔ اس کی شاعری میں محبت بھی تھی، درد بھی، تنہائی بھی اور معاشرے سے ایک خاموش سا شکوہ بھی۔ مگر عجیب بات یہ تھی کہ لوگ اس کے اندر چھپی اس خوبصورتی کو دیکھنے کے بجائے اس کے ظاہری حلیے کو دیکھتے تھے۔ اسے یہ احساس ہونے لگا کہ شاید انسان کی اصل قدر اس کے کردار اور دل سے نہیں بلکہ اس کے چہرے، دولت اور حیثیت سے کی جاتی ہے۔

اسی دوران پری زاد کی زندگی میں ببلی داخل ہوتی ہے۔ ببلی ایک ایسی لڑکی تھی جس کی زندگی بھی مسائل اور مجبوریوں سے بھری ہوئی تھی۔ اس کی شخصیت میں شوخی ضرور تھی، مگر اس شوخی کے پیچھے ایک ایسی لڑکی چھپی ہوئی تھی جو زندگی کی سختیوں سے لڑتے لڑتے تھک چکی تھی۔ پری زاد اور ببلی کی ملاقات بظاہر ایک معمولی واقعہ تھی، لیکن یہی ملاقات آگے چل کر پری زاد کی زندگی کو ایک بالکل مختلف راستے پر لے جانے والی تھی۔

ببلی نے پری زاد کو دوسروں کی طرح صرف اس کے چہرے سے نہیں پرکھا۔ اس نے اس کے ساتھ بات کی، اس کی باتیں سنیں اور اس کی خاموشی کو محسوس کیا۔ پری زاد کے لیے یہ تجربہ نیا تھا۔ وہ ہمیشہ لوگوں کو اپنے ظاہری حلیے سے متاثر کرنے کی کوشش کرتا رہا تھا، مگر ببلی کے سامنے اسے پہلی مرتبہ یہ احساس ہوا کہ شاید کوئی شخص اس کی باتوں اور دل کو بھی اہمیت دے سکتا ہے۔

لیکن پری زاد ابھی ناہید کی محبت کے صدمے سے پوری طرح باہر نہیں نکلا تھا۔ ببلی اس کی زندگی میں موجود ہونے کے باوجود اس کے دل کے اندر ناہید کی یادیں زندہ تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ وہ ببلی کے قریب آتے ہوئے بھی ایک فاصلے پر کھڑا رہتا۔ وہ جانتا تھا کہ وہ دوبارہ کسی محبت کے رشتے میں الجھنے کی حالت میں نہیں، کیونکہ پہلی محبت نے اس کے اندر اعتماد کا جو تھوڑا سا چراغ جلایا تھا، وہ بھی بجھا دیا تھا۔

ببلی کی زندگی کے حالات بھی ایسے تھے کہ اسے سہارا چاہیے تھا۔ حالات نے اسے ایسے فیصلے کرنے پر مجبور کیا جنہیں شاید وہ عام حالات میں کبھی قبول نہ کرتی۔ پری زاد نے پہلی مرتبہ کسی دوسرے انسان کے دکھ کو اپنے دکھ سے زیادہ اہم سمجھنا شروع کیا۔ اس کے اندر موجود حساس انسان آہستہ آہستہ دوبارہ جاگنے لگا۔ ناہید کے لیے اس کی محبت نے اسے توڑ دیا تھا، لیکن ببلی کے حالات نے اسے یہ سکھانا شروع کیا کہ دنیا میں صرف اپنی تکلیف نہیں ہوتی، دوسرے لوگ بھی اپنے اپنے زخم لیے زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔

پری زاد کی زندگی میں یہ ایک اہم تبدیلی تھی۔ وہ پہلے اپنے غم کے اندر قید تھا، مگر اب اسے محسوس ہونے لگا تھا کہ شاید انسان صرف محبت حاصل کرنے کے لیے نہیں جیتا۔ کبھی کبھی کسی دوسرے کے کام آ جانا، کسی مجبور کا سہارا بن جانا اور کسی کے آنسو پونچھ دینا بھی زندگی کو ایک معنی دے دیتا ہے۔

مگر حالات ابھی پری زاد کو سکون دینے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ببلی کے ساتھ اس کا تعلق ایک ایسے موڑ کی طرف بڑھ رہا تھا جہاں محبت سے زیادہ مجبوری، حالات اور ذمہ داری کا کردار تھا۔ پری زاد کے دل میں ابھی بھی ناہید کی یاد باقی تھی، جبکہ ببلی اپنی زندگی کی مشکلات میں الجھی ہوئی تھی۔ دونوں ایک دوسرے کے قریب تو آ رہے تھے، مگر دونوں کے راستے ابھی صاف نہیں تھے۔

یہ وہ مرحلہ تھا جہاں پری زاد کی زندگی پہلی محبت کے غم سے نکل کر ایک نئے امتحان کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اسے ابھی یہ معلوم نہیں تھا کہ ببلی سے اس کا تعلق اسے ایسے حالات میں لے جائے گا جہاں اسے اپنی خواہشات سے زیادہ دوسرے انسان کی عزت اور ضرورت کو اہمیت دینا ہوگی۔

اور یہی فیصلہ آگے چل کر پری زاد کی شخصیت میں ایک بڑی تبدیلی پیدا کرے گا۔ وہ شخص جو کبھی اپنی شکل و صورت کی وجہ سے خود کو دنیا سے کمتر سمجھتا تھا، آہستہ آہستہ یہ سیکھنے والا تھا کہ انسان کی اصل خوبصورتی اس کے چہرے میں نہیں، اس کے کردار میں ہوتی ہے۔

پری زاد کی زندگی کا یہ سفر ابھی شروع ہوا تھا۔ ناہید اس کی پہلی محبت تھی، مگر قسمت اسے ایسے لوگوں سے ملانے والی تھی جو اسے محبت سے کہیں زیادہ قیمتی سبق دینے والے تھے۔ ببلی کے بعد اس کی زندگی میں ایک ایسا شخص آنے والا تھا جو اس کے مستقبل کو ہمیشہ کے لیے بدل دے گا۔

بلی اور ایک مجبوری کا رشتہ

ناہید کی شادی کے بعد پری زاد کی زندگی پہلے ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی، لیکن ببلی کی آمد نے اس کی زندگی میں ایک نئی ہلچل پیدا کردی۔ ببلی باقی لوگوں سے مختلف تھی۔ وہ پری زاد کے ظاہری حلیے کا مذاق نہیں اڑاتی تھی بلکہ اس کی باتوں، اس کی حساس طبیعت اور اس کے اندر چھپے ہوئے درد کو سمجھنے کی کوشش کرتی تھی۔ پری زاد کے لیے یہ احساس ہی بہت بڑی بات تھی کہ کوئی اسے اس کی شکل و صورت سے ہٹ کر بھی دیکھ رہا ہے۔

ببلی خود بھی ایک مشکل زندگی گزار رہی تھی۔ اس کے حالات ایسے تھے کہ اسے ہر قدم پر کسی نہ کسی سہارے کی ضرورت محسوس ہوتی تھی۔ وہ بظاہر ہنسنے اور مذاق کرنے والی لڑکی تھی، لیکن اس کی زندگی کے پیچھے کئی ایسی مجبوریاں تھیں جنہوں نے اسے وقت سے پہلے سمجھدار بنا دیا تھا۔ پری زاد جب اس کی مشکلات کو قریب سے دیکھتا تو اسے اپنی تکلیف نسبتاً چھوٹی محسوس ہونے لگتی۔

پری زاد نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ کسی ایسے رشتے میں بندھے گا جس میں محبت سے زیادہ حالات کا دخل ہوگا۔ لیکن زندگی ہمیشہ انسان کو وہ راستہ نہیں دیتی جو وہ خود چنتا ہے۔ بعض اوقات حالات انسان کے سامنے ایسے فیصلے رکھ دیتے ہیں جنہیں قبول کرنا آسان نہیں ہوتا، مگر پھر بھی انسان انہیں اپنی ذمہ داری سمجھ کر قبول کرلیتا ہے۔

ببلی کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ اس کے حالات نے پری زاد کو ایک ایسے فیصلے کے قریب پہنچا دیا جہاں اسے اپنی خواہشات، اپنے ماضی اور اپنی تنہائی سے زیادہ ببلی کی ضرورت کو دیکھنا تھا۔ پری زاد کے دل میں ابھی بھی ناہید کی یاد موجود تھی، لیکن اب وہ یہ سمجھنے لگا تھا کہ ہر تعلق کا نام محبت نہیں ہوتا۔ کچھ رشتے انسان کو ذمہ داری، قربانی اور انسانیت کا مطلب سمجھانے کے لیے آتے ہیں۔

پری زاد نے ببلی کے لیے اپنے دل میں ہمدردی محسوس کی۔ وہ جانتا تھا کہ ببلی کی زندگی میں وہ سکون نہیں تھا جس کی وہ مستحق تھی۔ اسی احساس نے اسے اس کے قریب کردیا۔ دونوں کے درمیان ایک ایسا تعلق قائم ہونے لگا جسے سمجھنا خود پری زاد کے لیے بھی آسان نہیں تھا۔ وہ ببلی کو ناہید کی جگہ نہیں دے سکتا تھا، اور شاید ببلی بھی اس سے وہ محبت نہیں مانگ رہی تھی جو ایک عام ازدواجی رشتے میں ہوتی ہے۔

ببلی نے بھی آہستہ آہستہ محسوس کیا کہ پری زاد دوسرے مردوں جیسا نہیں۔ وہ اس سے کوئی مطالبہ نہیں کرتا تھا، اس کی کمزوریوں کا فائدہ نہیں اٹھاتا تھا اور نہ ہی اسے اپنی ملکیت سمجھتا تھا۔ پری زاد کے اندر ایک عجیب سی شرافت تھی۔ وہ خود تکلیف برداشت کر لیتا، مگر دوسروں کو تکلیف دینے سے ڈرتا تھا۔

اسی دوران پری زاد کی ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوتی ہے جو آگے چل کر اس کی زندگی کا رخ بدلنے والا تھا۔ یہ شخص تھا بہروز کریم۔

بہروز کریم دولت، طاقت اور اثر و رسوخ رکھنے والا شخص تھا۔ وہ دنیا کو اس نظر سے دیکھتا تھا جس سے پری زاد ابھی تک ناواقف تھا۔ پری زاد نے زندگی میں غربت، محرومی اور لوگوں کی بے اعتنائی دیکھی تھی، جبکہ بہروز کریم نے دولت کے ذریعے دنیا کے کئی چہرے دیکھے تھے۔ ان دونوں کی ملاقات محض دو انسانوں کی ملاقات نہیں تھی، بلکہ یہ پری زاد کی شخصیت کے ایک نئے دور کا آغاز تھا۔

بہروز کریم نے پری زاد میں وہ صلاحیت محسوس کی جسے خود پری زاد بھی نہیں پہچانتا تھا۔ وہ صرف ایک خاموش اور کم اعتماد نوجوان نہیں تھا؛ اس کے اندر ذہانت، مشاہدے کی طاقت، وفاداری اور سب سے بڑھ کر ایک مضبوط اخلاقی احساس موجود تھا۔ بہروز کو اندازہ ہوگیا کہ اگر اس شخص کو موقع دیا جائے تو یہ بہت آگے جا سکتا ہے۔

پری زاد کے لیے بہروز کریم کی دنیا بالکل نئی تھی۔ یہاں پیسے کی طاقت تھی، بڑے لوگوں کی محفلیں تھیں، کاروبار تھا اور ایسے فیصلے تھے جن کے اثرات عام آدمی کی زندگی سے کہیں زیادہ بڑے ہوتے تھے۔ پری زاد اس دنیا کو حیرت سے دیکھتا تھا، مگر اس کے اندر کا سادہ انسان ابھی بھی زندہ تھا۔

بہروز کریم نے پری زاد کو اپنے قریب رکھا اور اسے کام کے ایسے مواقع دیے جن کا وہ پہلے تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ پہلی مرتبہ پری زاد کو محسوس ہوا کہ شاید اس کی زندگی صرف محرومیوں اور ناکامیوں کے لیے نہیں بنی۔ شاید اس کے اندر واقعی کچھ ایسا ہے جسے دنیا ابھی تک دیکھ نہیں سکی۔

لیکن دولت اور طاقت کی اس دنیا کے ساتھ خطرات بھی جڑے ہوئے تھے۔ بہروز کریم کی زندگی میں ایسے راز موجود تھے جن سے پری زاد ابھی واقف نہیں تھا۔ ان رازوں میں سب سے اہم تعلق لیلیٰ صبا سے تھا۔

لیلیٰ صبا کی موجودگی نے بہروز کریم کی زندگی کو محبت، شک، انتقام اور پیچیدگیوں سے بھر رکھا تھا۔ پری زاد کو آہستہ آہستہ اندازہ ہونے لگا کہ بہروز کریم کی دنیا صرف دولت اور کامیابی کی دنیا نہیں، بلکہ اس کے اندر پرانے زخم اور خطرناک دشمنیاں بھی موجود ہیں۔

پری زاد ایک ایسے راستے پر قدم رکھ چکا تھا جہاں واپس لوٹنا اب آسان نہیں تھا۔ وہ شخص جو کبھی ناہید کی محبت میں ٹوٹ کر اپنی زندگی ختم کرنے کا سوچ چکا تھا، اب ایک طاقتور آدمی کے قریب کھڑا تھا۔ اسے ابھی معلوم نہیں تھا کہ یہ قربت اسے ایسی آزمائشوں میں لے جائے گی جہاں اسے اپنی جان، اپنی وفاداری اور اپنے اصولوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑ سکتا ہے۔

بہروز کریم کا راز

بہروز کریم کی زندگی میں داخل ہونے کے بعد پری زاد کے لیے دنیا پہلے جیسی نہیں رہی تھی۔ جس شخص نے ساری زندگی محدود وسائل میں گزاری ہو، اس کے لیے اچانک دولت، بڑے لوگوں کی محفلیں اور طاقت کے قریب آ جانا ایک عجیب تجربہ تھا۔ پری زاد ان سب چیزوں کو حیرت سے دیکھتا، مگر اس کے اندر ایک سوال ہمیشہ موجود رہتا کہ آخر بہروز کریم نے اس جیسے ایک معمولی انسان کو اپنے اتنے قریب کیوں رکھا ہے؟

بہروز کریم پری زاد کی ذہانت اور وفاداری سے متاثر تھا۔ اسے معلوم تھا کہ پری زاد دوسروں کی طرح صرف پیسے اور طاقت سے متاثر ہونے والا شخص نہیں۔ اس کے اندر اصول تھے اور وہ کسی غلط کام کو صرف اس لیے درست نہیں سمجھتا تھا کہ اس کے پیچھے کوئی طاقتور شخص کھڑا ہے۔ یہی چیز بہروز کو پری زاد میں پسند تھی، لیکن یہی چیز مستقبل میں دونوں کے درمیان ایک مشکل امتحان بھی بننے والی تھی۔

پری زاد نے بہروز کے ساتھ رہتے ہوئے اس کی زندگی کے کئی پہلو دیکھے۔ وہ ایک کامیاب اور بااثر شخص تھا، لیکن اس کی شخصیت کے پیچھے ایک گہری تلخی چھپی ہوئی تھی۔ جب بھی ماضی کی کوئی بات سامنے آتی، بہروز کے لہجے میں غصہ اور آنکھوں میں ایک عجیب سی بے چینی نظر آتی۔ پری زاد سمجھنے لگا تھا کہ اس شخص کی زندگی میں کوئی ایسا واقعہ ضرور ہوا ہے جس نے اسے اندر سے بدل دیا ہے۔

اسی دوران لیلیٰ صبا کا ذکر بار بار سامنے آنے لگا۔

لیلیٰ صبا ایک ایسی عورت تھی جس کا نام سنتے ہی بہروز کریم کے رویے میں نمایاں تبدیلی آجاتی تھی۔ کبھی وہ خاموش ہوجاتا، کبھی غصے میں آجاتا اور کبھی ایسے لگتا جیسے برسوں پرانا کوئی زخم دوبارہ تازہ ہوگیا ہو۔ پری زاد نے ابتدا میں ان معاملات سے دور رہنے کی کوشش کی، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ہر انسان کے ماضی میں کچھ ایسے باب ہوتے ہیں جنہیں چھیڑنا مناسب نہیں ہوتا۔

لیکن حالات نے اسے زیادہ دیر تک خاموش تماشائی نہیں رہنے دیا۔

آہستہ آہستہ پری زاد کو معلوم ہوا کہ بہروز کریم اور لیلیٰ صبا کے درمیان صرف ایک معمولی اختلاف نہیں تھا۔ ان کے درمیان محبت، دھوکے، غلط فہمیوں اور انتقام کی ایک لمبی داستان تھی۔ کبھی دونوں ایک دوسرے کے بہت قریب تھے، مگر وقت کے ساتھ ان کے درمیان ایسے حالات پیدا ہوئے جنہوں نے محبت کو نفرت میں بدل دیا۔

بہروز کے دل میں لیلیٰ کے لیے محبت شاید مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی تھی، لیکن اس محبت کے اوپر انتقام کی تہہ بہت موٹی ہوچکی تھی۔ وہ سمجھتا تھا کہ اس کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے اور وہ اپنے ماضی کا حساب ضرور لے گا۔

پری زاد نے جب یہ سب جانا تو وہ پریشان ہوگیا۔ اسے پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ بہروز کریم کے قریب رہنا صرف دولت اور کامیابی حاصل کرنے کا راستہ نہیں، بلکہ ایک خطرناک کھیل کا حصہ بننا بھی ہے۔

دوسری طرف لیلیٰ صبا بھی خاموش نہیں تھی۔ اس کے اپنے دکھ اور شکایات تھیں۔ وہ بہروز کو اپنی زندگی کی مشکلات کا ذمہ دار سمجھتی تھی۔ دونوں اپنے اپنے ماضی کو سچ سمجھتے تھے اور دونوں کے پاس ایک دوسرے کے خلاف شکایات تھیں۔ مسئلہ یہ تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ان کی دشمنی ذاتی معاملے سے بڑھ کر ایک خطرناک انتقام میں تبدیل ہوچکی تھی۔

پری زاد اس کشمکش کے درمیان پھنسنے لگا۔

وہ بہروز کا وفادار تھا، لیکن اندھی وفاداری اس کی فطرت نہیں تھی۔ وہ ہر معاملے کو اپنے ضمیر کی نظر سے دیکھتا تھا۔ اگر اسے کسی جگہ ناانصافی محسوس ہوتی تو وہ خاموش رہنے کے بجائے سوال ضرور کرتا۔ بہروز کریم کو پری زاد کی یہی عادت کبھی اچھی لگتی اور کبھی پریشان کرتی۔

ایک دن بہروز نے پری زاد کو اپنے ماضی کے ایک اہم واقعے کے بارے میں بتایا۔ اس گفتگو سے پری زاد کو اندازہ ہوا کہ بہروز کے دل میں لیلیٰ کے خلاف جو غصہ ہے، وہ محض انا کا مسئلہ نہیں۔ اس کے پیچھے گہری جذباتی تکلیف موجود ہے۔

پری زاد نے بہروز کو سمجھانے کی کوشش کی کہ بدلہ انسان کو ماضی سے آزاد نہیں کرتا، بلکہ اسے اسی ماضی کا قیدی بنا دیتا ہے۔ لیکن بہروز اس وقت انتقام کے راستے پر بہت آگے جا چکا تھا۔

وہ پری زاد کی بات سنتا ضرور تھا، مگر اس کے دل میں فیصلہ پہلے ہی ہوچکا تھا۔
پری زاد کے لیے یہ ایک مشکل مرحلہ تھا۔ ایک طرف وہ شخص تھا جس نے اسے زندگی میں پہلی مرتبہ عزت اور موقع دیا تھا، اور دوسری طرف اس کا اپنا ضمیر تھا جو اسے کسی انسان کے خلاف اندھے انتقام کا حصہ بننے سے روک رہا تھا۔

یہیں سے پری زاد کی شخصیت میں ایک اور تبدیلی آنا شروع ہوئی۔
وہ اب صرف حالات کا شکار نوجوان نہیں رہا تھا۔ وہ اپنے فیصلوں کے بارے میں سوچنے لگا تھا۔ اسے محسوس ہونے لگا کہ اگر انسان کے پاس طاقت آجائے تو اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ طاقت کا استعمال کرسکتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ طاقت ملنے کے بعد بھی اپنے اصولوں کو زندہ رکھ سکتا ہے یا نہیں۔

بہروز کریم کی زندگی کا راز ابھی پوری طرح کھلا نہیں تھا، لیکن پری زاد اب اس راز کے اندر داخل ہوچکا تھا۔

اور اسے اندازہ نہیں تھا کہ لیلیٰ صبا اور بہروز کریم کی دشمنی آگے چل کر صرف ان دونوں کی زندگی نہیں بدلے گی، بلکہ پری زاد کی قسمت کا رخ بھی ہمیشہ کے لیے تبدیل کرنے والی ہے۔

اسی دوران ایک ایسا واقعہ پیش آنے والا تھا جس کے بعد پری زاد کو پہلی بار محسوس ہوگا کہ جس دنیا کو وہ باہر سے دیکھ رہا تھا، وہ اندر سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔
بہروز کا ماضی اب پری زاد کے حال کا حصہ بن چکا تھا۔

محبت، انتقام اور ایک نیا امتحان

بہروز کریم کے ماضی کا راز جاننے کے بعد پری زاد کے دل میں کئی سوال پیدا ہوگئے تھے۔ وہ یہ سمجھ چکا تھا کہ بہروز کی زندگی میں لیلیٰ صبا محض ایک پرانی محبت نہیں بلکہ ایک ایسا باب ہے جس نے اس کی پوری شخصیت کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ بہروز بظاہر ایک کامیاب اور طاقتور انسان تھا، مگر اندر سے وہ اپنے ماضی کے زخموں کا قیدی بن چکا تھا۔ وہ جتنا آگے بڑھتا، اتنا ہی اپنے ماضی سے بدلہ لینے کی خواہش میں ڈوبتا جاتا۔

لیلیٰ صبا بھی اپنی جگہ خاموش نہیں بیٹھی تھی۔ اس کے دل میں بہروز کے خلاف شدید ناراضی تھی۔ دونوں کے درمیان جو کبھی محبت تھی، وہ اب شک اور نفرت میں تبدیل ہوچکی تھی۔ مسئلہ یہ تھا کہ دونوں میں سے کوئی بھی ماضی کو دفن کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ بہروز سمجھتا تھا کہ لیلیٰ نے اس کے ساتھ دھوکا کیا، جبکہ لیلیٰ کی اپنی کہانی اور اپنے شکوے تھے۔ یوں ایک پرانا رشتہ ایک ایسی دشمنی میں بدل چکا تھا جس میں جذبات بھی تھے اور انتقام بھی۔

پری زاد اس کشمکش کو دیکھ کر پریشان رہتا۔ وہ بہروز کا احسان مند تھا کیونکہ اسی شخص نے اسے وہ عزت اور موقع دیا تھا جس کا وہ برسوں سے منتظر تھا۔ لیکن پری زاد کے لیے کسی انسان کے خلاف انتقام کا حصہ بننا آسان نہیں تھا۔ اس کے اندر کا شاعر اور حساس انسان اسے بار بار یہی سمجھاتا کہ بدلے کی آگ کبھی صرف دشمن کو نہیں جلاتی، بلکہ اسے اپنے اندر رکھنے والا شخص بھی آخرکار اسی آگ میں جلتا ہے۔

مگر بہروز کریم اپنے فیصلے پر قائم تھا۔

اس نے پری زاد کو اپنی زندگی کے ایسے معاملات میں شامل کرنا شروع کردیا جن سے وہ پہلے دور تھا۔ پری زاد نے محسوس کیا کہ بہروز اسے صرف ایک ملازم یا ساتھی نہیں سمجھتا، بلکہ اس پر اعتماد بھی کرتا ہے۔ یہی اعتماد پری زاد کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بن گیا تھا۔ وہ بہروز کو دھوکا نہیں دینا چاہتا تھا، لیکن وہ اپنے ضمیر کو بھی نظرانداز نہیں کرسکتا تھا۔

پری زاد نے کئی مرتبہ بہروز کو سمجھانے کی کوشش کی کہ اگر ماضی میں کسی نے اس کے ساتھ برا کیا بھی ہے تو بدلہ لینے سے وہ وقت واپس نہیں آسکتا۔ لیکن بہروز کے لیے یہ صرف ماضی کی بات نہیں تھی۔ اس کے نزدیک یہ اس کی عزت، اس کی محبت اور اس کی زندگی کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا حساب تھا۔

ایک طرف بہروز اپنی منصوبہ بندی میں آگے بڑھ رہا تھا اور دوسری طرف پری زاد کو احساس ہونے لگا تھا کہ وہ جس دنیا میں داخل ہوچکا ہے، وہاں معمولی غلطی بھی بہت بڑی قیمت وصول کرسکتی ہے۔

اسی دوران پری زاد کی اپنی زندگی بھی مکمل طور پر پرسکون نہیں تھی۔ ببلی کے ساتھ اس کا رشتہ اپنی جگہ موجود تھا، لیکن اس رشتے میں بھی وہ جذباتی الجھنیں تھیں جن سے وہ ابھی پوری طرح باہر نہیں نکل سکا تھا۔ ناہید کی یادیں ماضی کا حصہ بن چکی تھیں، مگر پہلی محبت کا زخم کبھی کبھی اچانک دوبارہ تازہ ہوجاتا تھا۔

اب پری زاد پہلے والا شخص نہیں رہا تھا۔ وہ زندگی کو صرف اپنی محرومیوں کی نظر سے نہیں دیکھتا تھا۔ اس نے لوگوں کے اصل چہرے دیکھنے شروع کردیئے تھے۔ اسے اندازہ ہوچکا تھا کہ بعض لوگ خوبصورت نظر آتے ہیں مگر ان کے اندر نفرت بھری ہوتی ہے، جبکہ کچھ لوگ بظاہر عام ہوتے ہیں مگر ان کے دل میں پوری دنیا سے زیادہ محبت ہوتی ہے۔

بہروز کے ساتھ رہتے ہوئے اس نے دولت اور طاقت کی حقیقت بھی سمجھنا شروع کردی۔ پیسہ انسان کو بہت کچھ خرید کر دے سکتا ہے، مگر ہر چیز نہیں۔ عزت خریدی جاسکتی ہے، مگر دل کی محبت نہیں۔ لوگوں کو اپنے قریب رکھا جاسکتا ہے، مگر ان کے دلوں میں اپنی جگہ بنانا دولت کے اختیار میں نہیں۔

یہی سوچ پری زاد کے اندر آہستہ آہستہ ایک نئی شخصیت پیدا کررہی تھی۔
لیکن بہروز کریم کی کہانی ابھی اپنے سب سے خطرناک موڑ تک نہیں پہنچی تھی۔

لیلیٰ صبا اور بہروز کے درمیان پرانے معاملات دوبارہ سامنے آنے لگے۔ ایسے راز ظاہر ہونے لگے جنہوں نے پری زاد کو بھی حیران کردیا۔ اسے محسوس ہوا کہ شاید وہ جس کہانی کو اب تک صرف بہروز کی نظر سے دیکھ رہا تھا، اس کا دوسرا رخ بھی موجود ہے۔

اب سوال یہ تھا کہ اصل قصوروار کون تھا؟
کیا لیلیٰ نے واقعی بہروز کے ساتھ دھوکا کیا تھا؟
یا بہروز نے اپنے غصے اور غلط فہمیوں کی وجہ سے ایک پرانی محبت کو دشمنی میں تبدیل کردیا تھا؟

پری زاد ان سوالوں کے جواب تلاش کرنا چاہتا تھا، لیکن اس سے پہلے حالات نے اسے ایک اور مشکل میں ڈال دیا۔ بہروز کا انتقام اب صرف اس کی اپنی زندگی تک محدود نہیں رہا تھا۔ اس کے فیصلوں کا اثر ان لوگوں پر بھی پڑنے والا تھا جو اس کے قریب تھے۔

اور ان لوگوں میں سب سے اہم شخص اب پری زاد تھا۔

پری زاد کو پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ کسی طاقتور انسان کا قریب ترین ساتھی بننا جتنا آسان دکھائی دیتا ہے، حقیقت میں اتنا ہی خطرناک ہوسکتا ہے۔ کیونکہ جب طاقتور انسان دشمن بناتا ہے تو اس کے دشمن صرف اسی کے دشمن نہیں رہتے، بلکہ اس کے ساتھ کھڑے ہر شخص کو بھی خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔

اب پری زاد کے سامنے ایک مشکل انتخاب تھا۔
وہ بہروز کے ساتھ اپنی وفاداری نبھائے یا اپنے ضمیر کی آواز سنے؟
وہ اپنے محسن کا ساتھ دے یا اس راستے سے خود کو الگ کرلے جس پر انتقام اور خونریزی کے امکانات بڑھتے جارہے تھے؟

پری زاد ابھی فیصلہ بھی نہیں کرپایا تھا کہ بہروز کی زندگی میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے سب کچھ بدل دیا۔
یہ واقعہ نہ صرف بہروز کے انتقام کو ایک نئی سمت دینے والا تھا بلکہ پری زاد کو بھی ایسی آزمائش میں ڈالنے والا تھا جہاں اسے پہلی مرتبہ یہ فیصلہ کرنا تھا کہ وفاداری بڑی ہے یا انسانیت۔

اور یہی وہ مقام تھا جہاں پری زاد کی زندگی ایک ایسے موڑ پر پہنچنے والی تھی جہاں سے واپسی تقریباً ناممکن تھی۔

لیلیٰ صبا اور بہروز کا انتقام

بہروز کریم کے ساتھ وقت گزرتا گیا تو پری زاد اس کی زندگی کا ایک اہم حصہ بنتا چلا گیا۔ بہروز کو اب اس پر اتنا اعتماد ہوچکا تھا کہ وہ اپنے کئی ذاتی معاملات بھی اس کے سامنے رکھنے لگا تھا۔ پری زاد کے لیے یہ اعتماد ایک اعزاز بھی تھا اور ایک ذمہ داری بھی۔ وہ جانتا تھا کہ جس شخص نے اسے عزت دی ہے، اس کے ساتھ بے وفائی کرنا اس کے اصولوں کے خلاف ہے۔ لیکن دوسری طرف وہ یہ بھی محسوس کررہا تھا کہ بہروز جس راستے پر چل رہا ہے، وہ اسے تباہی کی طرف لے جاسکتا ہے۔

لیلیٰ صبا کا معاملہ مسلسل پیچیدہ ہوتا جارہا تھا۔ بہروز کے دل میں اس کے لیے پرانی محبت کے ساتھ ساتھ شدید غصہ بھی موجود تھا۔ کبھی وہ لیلیٰ کے ساتھ گزارے ہوئے اچھے وقتوں کو یاد کرتا اور خاموش ہوجاتا، اور کبھی ماضی کا کوئی واقعہ اسے اس قدر مشتعل کردیتا کہ وہ صرف بدلہ لینے کے بارے میں سوچنے لگتا۔

پری زاد نے محسوس کیا کہ بہروز دراصل لیلیٰ سے نہیں بلکہ اپنے ماضی سے لڑ رہا ہے۔

وہ بار بار اسے سمجھاتا کہ اگر محبت ختم ہوگئی ہے تو اسے ختم سمجھ کر زندگی میں آگے بڑھ جانا چاہیے۔ لیکن بہروز کے لیے معاملہ اتنا سادہ نہیں تھا۔ اس کے نزدیک لیلیٰ نے صرف اس کا دل نہیں توڑا تھا، بلکہ اس کی زندگی کے ساتھ ایسا کھیل کھیلا تھا جس کا حساب لینا ضروری تھا۔

اسی دوران لیلیٰ صبا بھی بہروز کے قریب آنے والی ہر حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھی۔ اسے معلوم تھا کہ بہروز ابھی تک اپنے ماضی کو بھولا نہیں، اور یہی چیز اسے پریشان کرتی تھی۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ پرانے معاملات دوبارہ زندہ ہوں، مگر بہروز نے ماضی کو دفن کرنے کے بجائے اسے اپنے انتقام کا ذریعہ بنا لیا تھا۔

پری زاد اس سب کے درمیان خاموشی سے حالات کا مشاہدہ کرتا رہا۔
اس کی زندگی میں یہ پہلا موقع تھا جب اسے سمجھ آیا کہ طاقتور لوگوں کے درمیان ہونے والی دشمنی عام لوگوں کی لڑائی سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ یہاں ایک لفظ، ایک راز یا ایک غلط فیصلہ کئی زندگیاں بدل سکتا تھا۔

پری زاد نے بہروز سے ایک مرتبہ پھر بات کی۔ اس نے اسے کہا کہ انسان کو کبھی کبھی اپنے ماضی کو معاف کرنا پڑتا ہے، ورنہ وہ ماضی ہی اس کے مستقبل کا فیصلہ کرتا رہتا ہے۔ بہروز نے اس کی بات سنی، لیکن اس کے چہرے سے صاف ظاہر تھا کہ وہ اپنا فیصلہ تبدیل کرنے والا نہیں۔

بہروز نے لیلیٰ کے خلاف اپنے منصوبے کو آگے بڑھانا شروع کردیا۔

پری زاد کو جب اس منصوبے کی شدت کا اندازہ ہوا تو اس کے اندر خوف پیدا ہوا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر بہروز نے غصے میں کوئی انتہائی قدم اٹھا لیا تو حالات قابو سے باہر ہوسکتے ہیں۔ وہ اپنے محسن کو روکنا چاہتا تھا، مگر ساتھ ہی اسے یہ بھی معلوم تھا کہ بہروز کے سامنے کھڑے ہونے کا مطلب اس کے اعتماد کو کھونا ہوسکتا ہے۔
یہ کشمکش پری زاد کے لیے بہت تکلیف دہ تھی۔

وہ ساری زندگی لوگوں کی بے اعتنائی برداشت کرتا آیا تھا۔ اب جب ایک طاقتور شخص نے اسے عزت دی تو وہ اس رشتے کو کھونا نہیں چاہتا تھا۔ مگر وہ یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ اس عزت کی قیمت اس کا ضمیر بن جائے۔

اسی دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے پری زاد کو مزید پریشان کردیا۔ اسے اندازہ ہوا کہ بہروز کا انتقام اب صرف الفاظ اور منصوبوں تک محدود نہیں رہا۔ حالات واقعی خطرناک ہونے لگے تھے۔

پری زاد نے بہروز کے فیصلے کو روکنے کی آخری کوشش کی، لیکن بہروز نے اسے واضح کردیا کہ اس معاملے میں وہ کسی کی بات نہیں مانے گا۔

پری زاد خاموش ہوگیا۔
وہ جانتا تھا کہ اب اسے بہت احتیاط سے قدم اٹھانا ہوگا۔

دوسری طرف زندگی اسے ایک اور سبق بھی دے رہی تھی۔ وہ سمجھنے لگا تھا کہ انسان کو دولت اور طاقت مل جائے تو اس کے سامنے اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ غریب آدمی صرف یہ سوچتا ہے کہ وہ دولت کیسے حاصل کرے، لیکن دولت مند انسان کو یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ دولت اور طاقت کو کس مقصد کے لیے استعمال کرے گا۔

پری زاد ابھی دولت مند نہیں تھا، مگر وہ طاقت کی دنیا کو قریب سے دیکھ رہا تھا۔ اسے اندازہ ہورہا تھا کہ پیسہ انسان کے اردگرد لوگوں کا ہجوم تو پیدا کرسکتا ہے، لیکن سچے اور مخلص لوگ پھر بھی بہت کم رہتے ہیں۔

بہروز کریم کی دنیا میں بھی یہی مسئلہ تھا۔ اس کے پاس دولت تھی، اختیار تھا، لوگ تھے، مگر سکون نہیں تھا۔
اور پری زاد کو پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ شاید اس کی اپنی سادہ زندگی، جسے وہ کبھی محرومی سمجھتا تھا، دراصل بہت بڑی نعمت تھی۔

لیکن اب وہ اس دنیا میں داخل ہوچکا تھا جہاں ہر فیصلہ مستقبل پر اثر ڈال سکتا تھا۔
بہروز کا انتقام اپنی آخری منزل کی طرف بڑھ رہا تھا، اور پری زاد کو جلد ہی ایسا فیصلہ کرنا تھا جو اس کی پوری زندگی بدلنے والا تھا۔

اسے ابھی معلوم نہیں تھا کہ آنے والے حالات اسے صرف بہروز کے قریب نہیں کریں گے بلکہ اسے جیل، قربانی، دولت اور ایک بالکل نئی زندگی کی طرف بھی لے جائیں گے۔

پری زاد کی قسمت کا پہیہ تیزی سے گھوم رہا تھا۔

اور اس بار جو کچھ ہونے والا تھا، اس کے بعد وہ دوبارہ کبھی وہ سادہ، خاموش اور کم اعتماد پری زاد نہیں رہنے والا تھا۔

قربانی اور قید

بہروز کریم کے دل میں انتقام کی آگ اب پہلے سے کہیں زیادہ بھڑک چکی تھی۔ پری زاد نے اسے بارہا سمجھانے کی کوشش کی، لیکن بہروز اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ ماضی کی تکلیف نے اس کی سوچ پر اس قدر قبضہ کرلیا تھا کہ اسے اپنے مستقبل کی بھی پروا نہیں رہی تھی۔ وہ صرف یہ چاہتا تھا کہ جن لوگوں نے اسے تکلیف دی، انہیں بھی اسی درد کا احساس ہو۔

پری زاد کے لیے یہ سب دیکھنا آسان نہیں تھا۔ وہ بہروز کا وفادار تھا، لیکن اس کے دل میں ایک حد تک ہی وفاداری تھی۔ وہ کسی غلط کام کا حصہ بننا نہیں چاہتا تھا۔ اس نے بہروز کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ انتقام انسان کو وہ سکون نہیں دیتا جس کی وہ تلاش کررہا ہوتا ہے۔ مگر بہروز کے لیے اب واپسی کا راستہ تقریباً بند ہوچکا تھا۔
پھر حالات نے اچانک ایک خطرناک رخ اختیار کیا۔

بہروز کے دشمن اور اس کے ماضی سے جڑے لوگ ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہونے لگے۔ ہر طرف سازشیں اور چالیں چلنے لگیں۔ پری زاد کو محسوس ہونے لگا کہ بہروز جس کھیل میں داخل ہوچکا ہے، اس میں صرف ایک شخص کا نقصان نہیں ہوگا۔ بہت سے بے قصور لوگ بھی اس جنگ کی زد میں آسکتے ہیں۔

اسی دوران پری زاد کو ایک ایسا فیصلہ کرنا پڑا جس کے بارے میں اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔
وہ اپنے محسن کو بچانا چاہتا تھا۔

پری زاد جانتا تھا کہ اگر بہروز کسی قانونی یا خطرناک صورتحال میں پھنس گیا تو اس کی پوری زندگی برباد ہوسکتی ہے۔ بہروز نے اسے عزت دی تھی، اسے ایک نئی دنیا سے متعارف کرایا تھا اور اس پر اعتماد کیا تھا۔ پری زاد کے لیے یہ احسان معمولی نہیں تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے محسن کے لیے قربانی دے گا، چاہے اس کی قیمت اسے خود کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔

یہ فیصلہ پری زاد کی زندگی کا سب سے مشکل فیصلہ ثابت ہوا۔

حالات ایسے بنے کہ جرم اور الزام کا رخ پری زاد کی طرف ہوگیا۔ وہ جانتا تھا کہ حقیقت کیا ہے، مگر اس نے بہروز کو بچانے کے لیے بہت کچھ اپنے سر لے لیا۔ اس کے لیے یہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کا نتیجہ جیل کی صورت میں نکل سکتا ہے، لیکن اس کے باوجود اس نے اپنے اصول کے مطابق وفاداری کو نبھانے کا فیصلہ کیا۔

بالآخر وہ وقت بھی آگیا جب پری زاد کو گرفتار کرلیا گیا۔

جس شخص نے کبھی زندگی میں عزت کی تلاش کی تھی، وہ اب قید کی دیواروں کے پیچھے کھڑا تھا۔ باہر کی دنیا اس کے لیے بند ہوگئی تھی۔ وہ لوگ جو کل تک اس کے آس پاس رہتے تھے، اب دور ہوچکے تھے۔ دولت اور طاقت کی دنیا، جسے وہ کچھ عرصہ پہلے قریب سے دیکھ رہا تھا، اچانک اس سے بہت دور ہوگئی۔

جیل میں گزرتے دنوں نے پری زاد کو اندر سے بدلنا شروع کردیا۔

وہ پہلے بھی تنہائی سے واقف تھا، مگر جیل کی تنہائی مختلف تھی۔ یہاں انسان کے پاس اپنے خیالات کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ پری زاد بھی گھنٹوں خاموش بیٹھ کر اپنی پوری زندگی کے بارے میں سوچتا۔ ناہید یاد آتی، ببلی یاد آتی، اپنے گھر کے حالات یاد آتے اور پھر بہروز کریم کا چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے آجاتا۔

وہ سوچتا کہ آخر اس نے زندگی سے مانگا ہی کیا تھا؟
اسے دولت نہیں چاہیے تھی۔
اسے طاقت نہیں چاہیے تھی۔
وہ تو صرف یہ چاہتا تھا کہ کوئی اسے انسان سمجھ کر قبول کرے۔
لیکن زندگی نے اسے ایک کے بعد ایک ایسے امتحان دیے جنہوں نے اسے اندر سے سخت کردیا۔

جیل میں پری زاد کی ملاقات مختلف لوگوں سے ہوئی۔ ان میں سے کچھ واقعی مجرم تھے، کچھ حالات کے ہاتھوں یہاں پہنچے تھے اور کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنی زندگی کے فیصلوں کی قیمت ادا کی تھی۔ پری زاد نے ان لوگوں کے قصے سنے تو اسے احساس ہوا کہ ہر انسان کی زندگی کے پیچھے ایک کہانی ہوتی ہے۔

وہ اب لوگوں کو صرف ان کے ظاہری حالات سے پرکھنے کے بجائے ان کے پس منظر کو سمجھنے لگا تھا۔
اسی دوران بہروز کریم کی زندگی بھی اپنے انجام کی طرف بڑھ رہی تھی۔

پری زاد کے جیل جانے کے بعد بہروز کو احساس ہوا کہ اس شخص نے اس کے لیے کتنی بڑی قربانی دی ہے۔ پری زاد نے جس وفاداری کا ثبوت دیا تھا، وہ شاید بہروز کی زندگی میں کسی اور نے نہیں دیا تھا۔ مگر اب بہت دیر ہوچکی تھی۔ حالات اس مقام پر پہنچ چکے تھے جہاں ماضی کے فیصلوں سے فرار ممکن نہیں تھا۔

بہروز نے اپنی زندگی میں بہت کچھ حاصل کیا تھا، مگر آخرکار اسے یہ احساس ہونے لگا کہ دولت، طاقت اور انتقام انسان کو حقیقی خوشی نہیں دے سکتے۔

اس نے پری زاد کے بارے میں سوچا۔
وہ شخص جس کے پاس کبھی کچھ نہیں تھا، آج اس کے لیے سب کچھ قربان کرچکا تھا۔
اور یہی احساس بہروز کے دل پر سب سے بھاری تھا۔

اس نے فیصلہ کیا کہ اگر اسے اپنی زندگی میں کسی شخص کے ساتھ انصاف کرنا ہے تو وہ پری زاد کے ساتھ کرے گا۔ وہ چاہتا تھا کہ پری زاد کو اس کی قربانی کا صلہ ملے اور اس کی زندگی دوبارہ سنور سکے۔
لیکن قسمت نے بہروز کو زیادہ وقت نہیں دیا۔
اس کی زندگی کا اختتام قریب آچکا تھا۔

بہروز کریم کے آخری لمحات میں اس کے دل میں دولت اور انتقام کے بجائے پری زاد کا خیال تھا۔ اسے معلوم تھا کہ پری زاد نے اس کے لیے اپنی زندگی کے قیمتی سال قربان کیے ہیں۔ اسی لیے اس نے اپنی دولت اور جائیداد کے حوالے سے ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے آگے چل کر پری زاد کی پوری زندگی بدل دینی تھی۔

جب پری زاد کو اس فیصلے کا علم ہوا تو اس کے لیے یہ یقین کرنا مشکل تھا کہ وہ شخص جس کے لیے اس نے اپنی آزادی قربان کی، وہ جاتے جاتے اس کی قسمت ہی بدل گیا ہے۔
لیکن ابھی پری زاد جیل میں تھا۔
اسے نہیں معلوم تھا کہ باہر کی دنیا میں اس کے نام کے ساتھ اب ایک ایسی دولت جڑ چکی ہے جس کا اس نے کبھی خواب بھی نہیں دیکھا تھا۔

وہ پری زاد جو کبھی لوگوں کی نظروں میں صرف ایک معمولی، کم اعتماد اور بدصورت نوجوان تھا، اب قسمت کے ایسے موڑ پر کھڑا تھا جہاں چند ہی دنوں میں اس کی پوری شناخت بدلنے والی تھی۔

جیل کی دیواروں کے پیچھے پری زاد وہی تھا، مگر باہر اس کے لیے ایک نئی دنیا تیار ہوچکی تھی۔
ایک ایسی دنیا جہاں اس کے پاس دولت ہوگی، اختیار ہوگا اور وہ مقام ہوگا جس کے سامنے وہ لوگ بھی جھکیں گے جنہوں نے کبھی اس کا مذاق اڑایا تھا۔
لیکن پری زاد کو ابھی یہ معلوم نہیں تھا کہ دولت ملنے کے بعد اصل امتحان شروع ہوگا۔

دولت، نئی شناخت اور بدلی ہوئی دنیا

بہروز کریم کی وفات کے بعد پری زاد کی زندگی میں ایک ایسا موڑ آیا جس کا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ جس شخص کے لیے اس نے اپنی آزادی تک قربان کردی تھی، وہ جاتے جاتے اپنی دولت اور جائیداد کا ایک بڑا حصہ پری زاد کے نام کر گیا تھا۔ جب یہ خبر پری زاد تک پہنچی تو وہ دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ قسمت، جس نے ساری زندگی اسے محرومی اور ذلت دی تھی، اچانک اس کے سامنے دولت کے دروازے کھول رہی ہے۔

جیل سے باہر آنے کے بعد پری زاد نے محسوس کیا کہ دنیا واقعی بدل چکی ہے۔ مگر سب سے عجیب بات یہ تھی کہ دنیا صرف اس کے لیے نہیں بدلی تھی، بلکہ لوگوں کا رویہ بھی بدل گیا تھا۔ وہی لوگ جو کبھی اس کے رنگ، چہرے اور لباس کا مذاق اڑاتے تھے، اب اسے عزت اور احترام کی نظر سے دیکھنے لگے تھے۔ پری زاد حیرت سے لوگوں کے بدلے ہوئے رویے کو دیکھتا اور دل ہی دل میں سوچتا کہ آخر وہ تو وہی انسان ہے، پھر لوگوں کی نظریں کیوں بدل گئیں؟

اس سوال کا جواب اسے بہت جلد مل گیا۔
دنیا اکثر انسان کی قدر اس کے کردار سے پہلے اس کی حیثیت دیکھ کر کرتی ہے۔

پری زاد اب ایک دولت مند اور بااثر شخص بن چکا تھا۔ اس کے پاس وہ سب کچھ تھا جس کی کمی نے اسے پوری زندگی احساسِ کمتری میں مبتلا رکھا تھا۔ بڑے گھر، مہنگی گاڑیاں، نوکر، کاروبار اور معاشرے میں ایک نئی حیثیت۔ لیکن ان سب چیزوں کے باوجود جب وہ آئینے کے سامنے کھڑا ہوتا تو اسے وہی پرانا پری زاد نظر آتا تھا۔

وہی چہرہ۔
وہی آنکھیں۔
وہی حساس دل۔

وہی شخص جو کبھی لوگوں کے طنز سے چھپنے کے لیے خاموش ہوجاتا تھا۔

فرق صرف اتنا تھا کہ اب اس کے اردگرد کے لوگ اس کے چہرے کو خوبصورتی کے پیمانے سے نہیں بلکہ اس کی دولت کے پیمانے سے دیکھنے لگے تھے۔

پری زاد نے اپنی نئی زندگی میں سب سے پہلے اپنے آپ کو بدلنے کے بجائے اپنی سوچ کو سمجھنے کی کوشش کی۔ وہ جانتا تھا کہ دولت اسے وہ عزت دے سکتی ہے جو پہلے اسے نہیں ملتی تھی، لیکن وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اگر اس نے اپنے دل کی سادگی کھو دی تو پھر وہ بھی انہی لوگوں جیسا ہوجائے گا جن سے اسے ساری زندگی شکایت رہی تھی۔

اسی دوران اس کی ملاقات دوبارہ لبنیٰ سے ہوئی۔

لبنیٰ بھی اب اپنی زندگی کے ایک مشکل دور سے گزر رہی تھی۔ کبھی وہ اپنی خوبصورتی، شہرت اور اداکاری کی وجہ سے لوگوں کی توجہ کا مرکز رہی تھی، مگر وقت نے اس کے حالات بدل دیے تھے۔ اس کی ازدواجی زندگی ناکام ہوچکی تھی اور شوبز کی دنیا میں بھی اس کا وہ مقام باقی نہیں رہا تھا جو کبھی اسے حاصل تھا۔

پری زاد نے لبنیٰ کو دیکھا تو اسے اپنی پرانی زندگی یاد آگئی۔

اس نے محسوس کیا کہ شہرت اور خوبصورتی بھی مستقل نہیں ہوتیں۔ جس طرح اس کے پاس کبھی کچھ نہیں تھا، اسی طرح لبنیٰ کے پاس کبھی بہت کچھ تھا مگر اب وہ بھی زندگی کے ایک مشکل مرحلے میں کھڑی تھی۔

لبنیٰ نے جب پری زاد کی نئی حیثیت دیکھی تو اسے اندازہ ہوا کہ وہ نوجوان جسے کبھی عام لوگوں کی طرح نظر انداز کیا جاسکتا تھا، اب ایک بہت بڑے مقام پر پہنچ چکا ہے۔ پری زاد کے پاس دولت تھی، اختیار تھا اور اپنی مرضی سے فیصلے کرنے کی طاقت تھی۔

لیکن پری زاد نے لبنیٰ کے ساتھ بدلہ لینے کے بجائے اس کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس نے لبنیٰ کو دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کا موقع دیا۔ اس کے فلمی منصوبوں میں مالی مدد کی اور اسے دوبارہ کام کرنے کے قابل بنایا۔ پری زاد کے لیے یہ صرف کسی پر احسان کرنا نہیں تھا۔ وہ جانتا تھا کہ زندگی کبھی بھی ایک جیسی نہیں رہتی۔ آج کوئی انسان مشکلات میں ہے تو کل وہ دوبارہ کامیاب ہوسکتا ہے۔

لبنیٰ شاید پری زاد کے اس رویے کو پوری طرح سمجھ نہیں سکی، مگر پری زاد نے اس سے کبھی اپنے احسان کا بدلہ نہیں مانگا۔

یہی اس کی شخصیت کا ایک خوبصورت پہلو تھا۔
دولت آنے کے باوجود اس نے اپنے اندر کے انسان کو مرنے نہیں دیا تھا۔
مگر پری زاد کی زندگی میں ماضی کے لوگ ایک ایک کرکے دوبارہ واپس آنے والے تھے۔
وہ لوگ جنہوں نے کبھی اسے کمتر سمجھا تھا، اب اس کے سامنے عزت سے کھڑے ہونے والے تھے۔
وہ رشتے جنہوں نے اسے کبھی دکھ دیا تھا، اب اس کی دولت کی وجہ سے دوبارہ اس کے قریب آنے کی کوشش کرنے والے تھے۔

اور ان سب میں سب سے اہم نام تھا ناہید۔

ناہید اب اپنی زندگی میں خوش نہیں تھی۔ اس کی شادی ماجد سے ہوئی تھی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ اس کی زندگی میں وہ سکون نہیں رہا جس کی اسے امید تھی۔ ماجد بھی اپنی زندگی میں کامیاب نہ ہوسکا اور حالات نے دونوں کو مشکلات میں گھیر لیا۔

جب ناہید کو پری زاد کی نئی حیثیت کا علم ہوا تو اس کے دل میں ماضی کی کئی یادیں دوبارہ زندہ ہوگئیں۔
اسے وہ پری زاد یاد آیا جسے کبھی وہ ایک عام اور بے حیثیت نوجوان سمجھتی تھی۔
مگر اب وہی پری زاد ایک بااثر اور دولت مند شخص بن چکا تھا۔
ناہید کے دل میں یہ احساس پیدا ہونے لگا کہ شاید اس نے کبھی پری زاد کو صحیح طرح سمجھا ہی نہیں تھا۔
پری زاد کے لیے ناہید کا دوبارہ سامنے آنا آسان نہیں تھا۔

یہ وہی لڑکی تھی جس کی محبت نے کبھی اسے توڑ کر رکھ دیا تھا۔ وہی ناہید جس کے لیے پری زاد نے کبھی اپنی زندگی ختم کرنے تک کا سوچ لیا تھا۔ اب حالات نے اسے اس مقام پر لا کھڑا کیا تھا جہاں ناہید خود اس کے سامنے تھی۔

لیکن اب پری زاد بدل چکا تھا۔
اس کے پاس دولت تھی، مگر اس کے دل میں انتقام نہیں تھا۔

ناہید کے والد بھی پری زاد کے سامنے اپنی سابقہ غلطی پر شرمندہ ہوئے۔ انہیں احساس ہوا کہ انہوں نے کبھی پری زاد کو صرف اس کے ظاہری حلیے اور حیثیت کی بنیاد پر پرکھا تھا۔ اب انہیں سمجھ آرہا تھا کہ جس نوجوان کو انہوں نے کبھی عزت کے قابل نہیں سمجھا تھا، وہ کردار کے لحاظ سے ان سب سے بلند نکل چکا ہے۔

پری زاد نے کسی سے بدلہ لینے کے بجائے خاموشی اختیار کی۔

اس نے ناہید کے خاندان کے لیے بھی مدد کا راستہ نکالا۔ ناہید کی بہن کے لیے روزگار کا انتظام کیا اور ماجد کے لیے بھی کام کا بندوبست کردیا۔

یہ وہ لمحہ تھا جب پری زاد نے ثابت کردیا کہ دولت نے اسے مغرور نہیں بنایا۔
وہ چاہتا تو ان لوگوں کو ذلیل کرسکتا تھا جنہوں نے اسے کبھی ذلیل کیا تھا، مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔
کیونکہ وہ جان چکا تھا کہ دوسروں کو نیچا دکھا کر انسان خود بڑا نہیں ہوجاتا۔
اصل بڑائی یہ ہے کہ انسان کے پاس بدلہ لینے کی طاقت ہو، مگر پھر بھی وہ معاف کرنے کا انتخاب کرے۔
ناہید نے پری زاد کے قریب آنے کی کوشش کی۔ شاید اب اسے محسوس ہونے لگا تھا کہ جس انسان کو اس نے کبھی نظر انداز کیا تھا، اس کے اندر وہ تمام خوبیاں موجود تھیں جن کی اسے تلاش تھی۔
لیکن پری زاد کے دل میں اب وہ پرانی محبت باقی نہیں تھی۔
زخم بھر چکا تھا۔

اور جس شخص نے کبھی ناہید کو اپنی پوری دنیا سمجھا تھا، اب وہ اسے اپنی زندگی کا صرف ایک باب سمجھتا تھا۔
پری زاد نے ناہید کو واپس اپنی زندگی میں جگہ دینے سے انکار کردیا۔
یہ انکار بدلے کے جذبے سے نہیں تھا۔
یہ اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ کچھ رشتے وقت گزرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں کیے جاسکتے۔
پری زاد آگے بڑھ چکا تھا۔
لیکن اس کی زندگی میں ابھی ایک ایسی عورت آنے والی تھی جو اس کی دولت، شہرت یا ظاہری شخصیت سے نہیں بلکہ اس کے اندر چھپے ہوئے اصل پری زاد سے محبت کرنے والی تھی۔

اس کا نام تھا اینی۔

اور پری زاد کو ابھی یہ معلوم نہیں تھا کہ اینی کی آمد اس کی زندگی کے آخری اور سب سے خوبصورت باب کا آغاز بننے والی ہے۔

اینی اور پری زاد کی نئی دنیا

پری زاد کی زندگی میں دولت آنے کے بعد بہت کچھ بدل چکا تھا، لیکن اس کے اندر کا انسان اب بھی وہی تھا۔ وہ لوگوں کے بدلتے رویے کو غور سے دیکھتا اور اکثر سوچتا کہ اگر اس کے پاس یہ دولت نہ ہوتی تو کیا یہی لوگ آج بھی اس کے ساتھ اسی طرح پیش آتے؟ یہی سوال اسے اندر سے بے چین رکھتا تھا۔ اس نے اپنی زندگی میں یہ حقیقت بہت قریب سے دیکھی تھی کہ دنیا اکثر انسان کو اس کے کردار سے نہیں بلکہ اس کی حیثیت سے پہچانتی ہے۔

اسی دوران اس کی ملاقات اینی سے ہوئی۔

اینی دوسری لڑکیوں سے مختلف تھی۔ اس نے پری زاد کو پہلی نظر میں ایک دولت مند اور بااثر شخص کی حیثیت سے نہیں دیکھا۔ اس کی توجہ پری زاد کے لباس، گاڑی یا دولت سے زیادہ اس کے اندازِ گفتگو اور اس کی شخصیت پر تھی۔ وہ اس کے ساتھ بات کرتے ہوئے اس طرح پیش آتی جیسے سامنے کوئی بہت عام انسان بیٹھا ہو۔ پری زاد کے لیے یہ تجربہ عجیب بھی تھا اور خوشگوار بھی۔

پری زاد نے ابتدا میں اینی کے رویے کو سمجھنے کی کوشش کی۔ اسے عادت ہوچکی تھی کہ لوگ اس کی دولت دیکھ کر اس کے قریب آتے ہیں۔ کوئی اس سے فائدہ چاہتا، کوئی اس کے ذریعے اپنا کام نکلوانا چاہتا اور کوئی صرف اس کے نئے مقام سے متاثر ہوتا۔ مگر اینی کے رویے میں اسے وہ لالچ نظر نہیں آتا تھا۔

اینی نے پری زاد کے ماضی کے بارے میں جاننا شروع کیا تو اسے اندازہ ہوا کہ اس شخص نے زندگی میں بہت کچھ برداشت کیا ہے۔ وہ سمجھ گئی کہ پری زاد کے اندر موجود خاموشی دراصل کمزوری نہیں بلکہ برسوں کے دکھ کا نتیجہ ہے۔

پری زاد نے بھی پہلی مرتبہ کسی کے سامنے اپنے دل کی باتیں کھولنا شروع کیں۔ اسے محسوس ہوا کہ اینی اس کی بات صرف سن نہیں رہی بلکہ سمجھ بھی رہی ہے۔ اس کے لیے یہ احساس بہت قیمتی تھا، کیونکہ ساری زندگی وہ لوگوں کے درمیان رہ کر بھی تنہا رہا تھا۔

اینی کو پری زاد کی شاعری بھی پسند آنے لگی۔ وہ اس کے الفاظ میں ایک ایسی دنیا محسوس کرتی تھی جو عام لوگوں کو دکھائی نہیں دیتی تھی۔ پری زاد کے لیے شاعری صرف شوق نہیں تھی بلکہ اس کے دل کی زبان تھی۔ وہ جو کچھ دنیا کے سامنے نہیں کہہ سکتا تھا، وہ شعر میں کہہ دیتا تھا۔

وقت کے ساتھ اینی اور پری زاد کے درمیان قربت بڑھنے لگی۔
لیکن پری زاد کے دل میں ایک خوف اب بھی موجود تھا۔

اسے ڈر تھا کہ کہیں اینی بھی باقی لوگوں کی طرح اسے اس کی دولت کی وجہ سے پسند نہ کرتی ہو۔ وہ یہ جاننا چاہتا تھا کہ اگر ایک دن اس کے پاس دولت نہ رہے، اگر اس کے پاس بڑے گھر، گاڑیاں اور طاقت نہ ہو، تو کیا اینی پھر بھی اسے اسی طرح قبول کرے گی؟

یہ سوال اس کے لیے بہت اہم تھا۔

کیونکہ پری زاد نے اپنی زندگی میں محبت کا ایک ایسا تجربہ کیا تھا جس نے اسے اندر سے توڑ دیا تھا۔ ناہید کے معاملے میں اس نے اپنے آپ کو ہمیشہ کمتر سمجھا تھا۔ اسے لگتا تھا کہ وہ محبت کے قابل نہیں۔ اب اینی کے سامنے وہ خود کو دوبارہ اسی خوف میں گھرا ہوا محسوس کررہا تھا۔

لیکن اینی نے اسے آہستہ آہستہ یہ یقین دلانا شروع کیا کہ محبت چہرے، دولت اور شہرت سے بڑی چیز ہے۔

اینی کو پری زاد کا وہ روپ پسند تھا جو دوسروں سے چھپا ہوا تھا۔ اسے اس کی حساسیت پسند تھی، اس کی شاعری پسند تھی، اس کا دوسروں کے لیے نرم دل ہونا پسند تھا اور سب سے بڑھ کر اسے یہ بات پسند تھی کہ اتنی دولت ملنے کے باوجود پری زاد نے اپنے اندر کے انسان کو نہیں مارا۔

پری زاد کے لیے اینی کی محبت ایک مرہم کی طرح تھی۔
اسے پہلی مرتبہ محسوس ہوا کہ شاید وہ بھی کسی کے لیے خاص ہوسکتا ہے۔
لیکن خوشی کے اس نئے احساس کے ساتھ ایک نیا خطرہ بھی پیدا ہونے لگا تھا۔

اینی کی زندگی میں ایک شخص ایسا تھا جو اس تعلق کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اینی کے خاندان اور قریبی لوگوں میں کچھ ایسے لوگ موجود تھے جو پری زاد کو صرف اس کی دولت اور اس کے ماضی کی وجہ سے پرکھتے تھے۔ ان کے نزدیک پری زاد ایک ایسا شخص تھا جو اچانک دولت مند بن گیا تھا، لیکن وہ اسے اس مقام کا حقیقی حقدار نہیں سمجھتے تھے۔

پری زاد نے یہ سب محسوس کیا، مگر اس مرتبہ وہ پہلے والا کم اعتماد نوجوان نہیں تھا۔
اب وہ جانتا تھا کہ لوگوں کی باتوں سے اپنی قدر طے نہیں کرنی چاہیے۔

اس نے اینی کے ساتھ اپنے تعلق کو وقت دیا۔ وہ اسے متاثر کرنے کے لیے دولت کا سہارا نہیں لینا چاہتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ اگر اینی اس کی زندگی کا حصہ بنے تو اس کی وجہ اس کا کردار ہو، نہ کہ اس کی دولت۔

اینی بھی آہستہ آہستہ پری زاد کے ماضی کے بارے میں مزید جانتی گئی۔ اسے معلوم ہوا کہ یہ وہی پری زاد ہے جسے کبھی لوگ اس کے رنگ و روپ کی وجہ سے حقیر سمجھتے تھے، جسے محبت میں ناکامی نے توڑ دیا تھا، جس نے دوسروں کے لیے قربانیاں دیں اور جس نے اپنی زندگی کے مشکل ترین وقت میں بھی انسانیت کا دامن نہیں چھوڑا۔

اینی کے دل میں اس کے لیے محبت مزید گہری ہوگئی۔
مگر پری زاد کے دل میں ایک اور سوال پیدا ہوا۔
کیا وہ واقعی ایک عام زندگی گزار سکتا ہے؟
یا دولت اور ماضی اس کا پیچھا ہمیشہ کرتے رہیں گے؟

وہ جانتا تھا کہ اس کے پاس بہت کچھ ہے، لیکن وہ یہ بھی جانتا تھا کہ دولت کے ساتھ بہت سے ایسے لوگ بھی آتے ہیں جو صرف فائدہ اٹھانے کے لیے قریب ہوتے ہیں۔

اسی دوران پری زاد کے ماضی کا ایک اور باب دوبارہ اس کے سامنے آنے والا تھا۔

اینی کے رشتہ داروں اور اس کی اپنی زندگی سے جڑے لوگوں میں کچھ ایسے کردار سامنے آنے لگے جنہوں نے پری زاد کے سکون کو خطرے میں ڈال دیا۔ خاص طور پر شرجیل کا کردار ایک ایسے مسئلے کے طور پر سامنے آیا جس نے پری زاد کے اندر کے سکون کو دوبارہ چیلنج کردیا۔

پری زاد کے پاس اب طاقت تھی۔
وہ چاہتا تو اپنی دولت اور اثر و رسوخ سے شرجیل کے خلاف انتہائی قدم اٹھا سکتا تھا۔
اور ایک لمحے کے لیے اس کے ذہن میں ایک خطرناک خیال بھی آیا۔
اس نے اپنے باڈی گارڈ اکبر کے ذریعے شرجیل کو راستے سے ہٹانے کا خیال کیا۔
یہ وہ لمحہ تھا جہاں پری زاد کے سامنے اس کی پوری زندگی کا سب سے بڑا سوال کھڑا ہوگیا۔

کیا وہ بھی انہی طاقتور لوگوں جیسا بن جائے گا جنہیں وہ کبھی برا سمجھتا تھا؟

کیا دولت اور طاقت اسے اتنا بدل دیں گی کہ وہ اپنے دشمنوں کو ختم کرنے کے لیے وہی راستے اختیار کرے جو کبھی بہروز کریم اختیار کرنا چاہتا تھا؟

پری زاد دیر تک کشمکش میں مبتلا رہا۔
اس کے اندر غصہ تھا، مگر اس کے اندر وہی حساس اور نرم دل انسان بھی موجود تھا جو کبھی دوسروں کے دکھ پر رو پڑتا تھا۔
آخرکار اس کا ضمیر جیت گیا۔
اس نے اکبر کو روک دیا۔

شرجیل کو نقصان پہنچانے کا فیصلہ ترک کردیا گیا۔
اس لمحے پری زاد نے ثابت کیا کہ دولت نے اسے طاقتور ضرور بنایا ہے، مگر اس کی روح کو ابھی تک دولت خرید نہیں سکی۔
اینی نے جب پری زاد کے اس فیصلے کے بارے میں جانا تو اس کے دل میں اس کی عزت اور بھی بڑھ گئی۔
کیونکہ وہ سمجھ گئی تھی کہ پری زاد کی اصل طاقت اس کے پاس موجود دولت نہیں بلکہ اس کا ضمیر ہے۔
اب پری زاد کے سامنے زندگی کا آخری بڑا سوال تھا۔
اس نے دولت حاصل کرلی تھی۔

اس نے عزت حاصل کرلی تھی۔
اس نے ماضی کے لوگوں کو معاف کرنا سیکھ لیا تھا۔
اور اب اسے ایسی محبت مل رہی تھی جو اس کے ظاہری حلیے کے بجائے اس کی روح کو دیکھتی تھی۔
لیکن کیا پری زاد واقعی اس محبت کو قبول کرنے کے قابل ہوپائے گا؟
یا اس کے اندر برسوں سے بیٹھا ہوا احساسِ کمتری اسے آخری لمحے پر پھر پیچھے کھینچ لے گا؟
یہی فیصلہ اس کی زندگی کے آخری باب کا آغاز بننے والا تھا۔

دولت کے پیچھے چھپی تنہائی

اینی کی محبت نے پری زاد کی زندگی میں ایک ایسی خوشی پیدا کردی تھی جس سے وہ تقریباً ناواقف ہوچکا تھا۔ اسے پہلی مرتبہ محسوس ہوا کہ شاید انسان کو زندگی میں دولت اور شہرت سے زیادہ ایک ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کے دل کو سمجھے۔ اینی اس کے ماضی سے واقف تھی، اس کی خاموشیوں کو سمجھتی تھی اور اس کے اندر چھپے ہوئے حساس انسان کو دیکھتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ پری زاد کو اس کے ساتھ رہ کر ایک عجیب سا سکون محسوس ہوتا تھا۔

لیکن پری زاد کے لیے خوشی کو قبول کرنا بھی آسان نہیں تھا۔ اس نے زندگی میں اتنی محرومیاں دیکھی تھیں کہ اسے ہر خوشی کے ساتھ کسی نئے دکھ کا خوف رہتا تھا۔ اسے ہمیشہ یہ خدشہ رہتا کہ کہیں یہ سب کچھ بھی اس سے چھین نہ لیا جائے۔ دولت ملنے کے بعد بھی اس کی تنہائی ختم نہیں ہوئی تھی۔ بلکہ بعض اوقات اسے محسوس ہوتا کہ جتنے زیادہ لوگ اس کے قریب آتے ہیں، اتنا ہی وہ اپنے اصل وجود سے دور ہوتا جارہا ہے۔

لوگ اب اسے عزت سے ملتے تھے، اس کی تعریف کرتے تھے اور اس کے ساتھ وقت گزارنے کے خواہش مند رہتے تھے۔ مگر پری زاد جانتا تھا کہ ان میں سے بہت سے لوگ اس شخص کے ساتھ نہیں بلکہ اس کی دولت کے ساتھ تعلق رکھنا چاہتے ہیں۔ اسے وہ وقت یاد آتا جب لوگ اس کے قریب بیٹھنا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔ اب وہی لوگ اس کی ایک نظرِ کرم کے منتظر تھے۔

یہ تبدیلی کبھی کبھی اسے اندر سے توڑ دیتی تھی۔

وہ سوچتا کہ اگر دولت ہی انسان کی قدر کا معیار ہے تو پھر اس کی اپنی شخصیت کی قیمت کیا ہے؟ کیا وہ وہی پری زاد نہیں جسے کبھی محفل میں بیٹھنے کے قابل نہیں سمجھا جاتا تھا؟ کیا اس کا دل، اس کی شاعری، اس کی وفاداری اور اس کی انسانیت تب بے قیمت تھیں کیونکہ اس کے پاس پیسہ نہیں تھا؟

ان سوالوں کا کوئی آسان جواب نہیں تھا۔

اینی اس کی یہ کیفیت محسوس کرلیتی تھی۔ وہ پری زاد کو سمجھاتی کہ اسے اپنے ماضی سے شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ ماضی نے اسے کمزور نہیں بلکہ مضبوط بنایا ہے۔ جن تکلیفوں سے وہ گزرا ہے، انہی تکلیفوں نے اسے دوسروں کے درد کو سمجھنے کے قابل بنایا ہے۔

پری زاد اینی کی بات سنتا اور مسکرا دیتا، لیکن اس کے دل کے اندر ایک اور خوف موجود تھا۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں اینی بھی وقت کے ساتھ بدل نہ جائے۔ کیونکہ اس نے لوگوں کو بدلتے ہوئے بہت قریب سے دیکھا تھا۔ ناہید کی یادیں اسے بار بار یہی سبق دیتی تھیں کہ انسان کے جذبات حالات کے ساتھ تبدیل ہوسکتے ہیں۔

مگر اینی نے اسے اپنے عمل سے یقین دلایا کہ وہ باقی لوگوں جیسی نہیں۔

پری زاد کی زندگی میں اب ایک اور مسئلہ پیدا ہونے لگا تھا۔ اس کی دولت اور طاقت نے اس کے لیے بہت سے نئے راستے کھول دیے تھے، مگر ان راستوں کے ساتھ نئے دشمن اور نئی ذمہ داریاں بھی آگئی تھیں۔ وہ چاہتا تھا کہ اپنی دولت کو اچھے کاموں کے لیے استعمال کرے، لیکن ہر فیصلہ آسان نہیں تھا۔

وہ ان لوگوں کی مدد کرنا چاہتا تھا جو واقعی ضرورت مند تھے۔ اسے اپنی پرانی زندگی یاد تھی، اس لیے وہ نہیں چاہتا تھا کہ کوئی دوسرا شخص صرف اس لیے خود کو بے وقعت محسوس کرے کہ اس کے پاس پیسہ نہیں۔

اسی سوچ کے تحت وہ کئی لوگوں کی مدد کرنے لگا۔ کسی کے لیے روزگار کا انتظام کرتا، کسی کے کاروبار میں مدد دیتا اور کسی کی مشکل وقت میں مالی معاونت کرتا۔ لیکن اس کے اردگرد موجود کچھ لوگ اسے سمجھانے لگے کہ ہر شخص کی مدد کرنا ممکن نہیں۔ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جو انسان کی نیکی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

پری زاد جانتا تھا کہ یہ بات درست ہے، مگر اس کا دل پھر بھی سخت ہونے کے لیے تیار نہیں تھا۔

اس نے خود بھوک، محرومی اور بے بسی دیکھی تھی۔ وہ کیسے بھول سکتا تھا کہ ایک وقت میں اسے بھی کسی کے سہارے کی ضرورت تھی؟ اگر اس وقت کسی نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ہوتا تو شاید اس کی زندگی کا راستہ بہت پہلے بدل جاتا۔

اسی دوران ماضی کے کچھ کردار دوبارہ اس کے سامنے آنے لگے۔

ناہید کا باب اگرچہ پری زاد کے دل میں تقریباً ختم ہوچکا تھا، لیکن اس کے ماضی کی یادیں کبھی کبھی اسے پھر اپنی طرف کھینچ لیتی تھیں۔ ناہید اب اپنی زندگی کے حالات سے پریشان تھی۔ ماجد کے ساتھ اس کا رشتہ وہ سکون نہیں دے سکا تھا جس کی اسے امید تھی، اور وقت کے ساتھ اس کی زندگی میں مشکلات بڑھتی چلی گئی تھیں۔

ناہید کو جب پری زاد کی نئی حیثیت کا علم ہوا تو اس کے دل میں ماضی کے کئی سوال دوبارہ جاگ اٹھے۔ اسے یاد آیا کہ کبھی ایک ایسا شخص بھی اس کی زندگی میں تھا جو اسے دل سے چاہتا تھا۔ اس وقت اس نے اس محبت کی قدر نہیں کی تھی، مگر اب حالات نے اسے دکھایا تھا کہ انسان جس چیز کو معمولی سمجھ کر چھوڑ دیتا ہے، کبھی کبھی وہی سب سے قیمتی چیز ثابت ہوتی ہے۔

ناہید کے والد بھی اپنی پرانی غلطی پر شرمندہ تھے۔ انہیں احساس ہوچکا تھا کہ انہوں نے پری زاد کے ساتھ ناانصافی کی تھی۔ انہوں نے اسے صرف اس کے ظاہری حلیے سے پرکھا تھا اور اس کے کردار کو نظرانداز کردیا تھا۔

اب وہی پری زاد ان کے سامنے ایک کامیاب انسان کی حیثیت سے موجود تھا۔
لیکن پری زاد کے دل میں انتقام نہیں تھا۔

وہ چاہتا تو ماضی کے ہر زخم کا حساب لے سکتا تھا، مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ اس نے ناہید کے خاندان کی مدد کی، اس کی بہن کے لیے روزگار کا انتظام کیا اور ماجد کے لیے بھی کام کا راستہ نکالا۔ اس کے لیے یہ سب کسی احسان کا بدلہ لینا نہیں تھا، بلکہ یہ اس کی اپنی شخصیت کا فیصلہ تھا۔

ناہید نے ایک موقع پر پری زاد کے قریب آنے کی کوشش کی۔

وہ شاید یہ سمجھ رہی تھی کہ دولت نے پری زاد کو وہ مقام دے دیا ہے جہاں اب ان دونوں کا رشتہ ممکن ہوسکتا ہے۔ مگر پری زاد نے اس کے رویے کو سمجھ لیا۔ وہ جانتا تھا کہ جو محبت کبھی اس کے لیے بے معنی تھی، اب شاید اس کی دولت کی وجہ سے قیمتی لگ رہی ہے۔

اس نے ناہید کو صاف انکار کردیا۔
لیکن اس انکار میں نفرت نہیں تھی۔

پری زاد نے ماضی کو معاف کردیا تھا، مگر اسے دوبارہ اپنی زندگی میں جگہ دینے کے لیے تیار نہیں تھا۔

ناہید کے لیے یہ لمحہ بہت تکلیف دہ تھا، کیونکہ اب اسے اندازہ ہوا کہ انسان ہمیشہ اس وقت محبت کی قدر نہیں کرتا جب محبت اس کے پاس موجود ہوتی ہے۔ کبھی کبھی احساس بہت دیر سے ہوتا ہے، اور تب تک دوسرا انسان بہت آگے جاچکا ہوتا ہے۔

پری زاد نے اپنی زندگی میں ایک اہم فیصلہ کرلیا تھا۔
وہ ماضی کے لوگوں کو خوش کرنے کے لیے نہیں جیے گا۔
وہ اب اپنی زندگی اس شخص کے ساتھ گزارنا چاہتا تھا جو اس کے اندر کے انسان کو دیکھتا ہے۔
اور وہ شخص اینی تھی۔
لیکن پری زاد کو ابھی ایک آخری امتحان سے گزرنا تھا۔

اینی کی زندگی میں ایک ایسا معاملہ سامنے آیا جس نے پری زاد کے صبر، محبت اور اعتماد کو آزمانا شروع کردیا۔ دوسری طرف شرجیل بھی اس صورتحال سے پوری طرح باہر نہیں ہوا تھا۔ پری زاد جانتا تھا کہ اگر وہ اپنے غصے کو دوبارہ قابو نہ کرسکا تو اس کی پوری زندگی دوبارہ اسی اندھیرے میں جاسکتی ہے جس سے وہ بڑی مشکل سے باہر نکلا تھا۔

ایک طرف محبت تھی۔
دوسری طرف دولت اور طاقت تھی۔
اور تیسری طرف اس کا ضمیر تھا۔

پری زاد کو اب فیصلہ کرنا تھا کہ وہ اپنی زندگی کے آخری مرحلے میں کس راستے کا انتخاب کرے گا۔
وہ طاقت کے بل پر دنیا جیتنا چاہتا تھا، یا محبت اور انسانیت کے ذریعے اپنے دل کو سکون دینا چاہتا تھا؟
اس سوال کا جواب ہی پری زاد کی کہانی کا آخری اور سب سے خوبصورت باب بننے والا تھا۔

اینی کی محبت اور شرجیل کی دشمنی

دولت اور شہرت حاصل کرنے کے بعد پری زاد کی زندگی بظاہر مکمل ہو چکی تھی۔ اب وہ شخص جسے کبھی لوگ اس کے حلیے اور رنگ کی وجہ سے نظر انداز کر دیتے تھے، اسی کے سامنے بڑے بڑے لوگ ادب سے بیٹھتے تھے۔ اس کے ایک اشارے پر کام ہو جاتے، اس کے ساتھ تعلق رکھنے کو لوگ اپنے لیے اعزاز سمجھتے اور جن لوگوں نے کبھی اسے حقیر سمجھا تھا، وہی اب اس کی خوشامد کرنے لگے تھے۔ لیکن پری زاد کے اندر وہی پرانا انسان موجود تھا۔ اسے معلوم تھا کہ لوگوں کی یہ محبت اس کے لیے نہیں بلکہ اس کی دولت کے لیے ہے۔ اسی وجہ سے وہ جتنا زیادہ کامیاب ہوتا گیا، اتنا ہی اندر سے تنہا ہوتا گیا۔

اسی دوران اینی کی موجودگی اس کی زندگی میں ایک مختلف احساس پیدا کرتی ہے۔ اینی نے پری زاد کو اس کی دولت، شہرت یا ظاہری شخصیت کی وجہ سے پسند نہیں کیا تھا۔ اس نے اس انسان کو دیکھا تھا جو دوسروں کے دکھ کو سمجھتا تھا، جو اپنی تکلیف چھپا کر دوسروں کی مدد کرتا تھا اور جس کے اندر دولت سے کہیں زیادہ قیمتی چیز، یعنی احساس موجود تھا۔ اینی کے رویے میں پری زاد کو وہ خلوص محسوس ہوتا تھا جس کی اسے پوری زندگی تلاش رہی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ پری زاد، جو محبت کے نام سے دوبارہ ڈرنے لگا تھا، آہستہ آہستہ اینی کے قریب آنے لگا۔

لیکن پری زاد کے لیے محبت اب صرف ایک خوبصورت احساس نہیں رہی تھی۔ ناہید کے ساتھ ہونے والے ماضی نے اسے سکھا دیا تھا کہ انسان جس شخص کو اپنا سمجھتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ بھی اسے اپنا سمجھے۔ اس لیے وہ اینی کے جذبات کو سمجھنے کے باوجود اپنے دل کو روکنے کی کوشش کرتا تھا۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں ایک بار پھر وہ کسی پر اعتماد کرکے اپنے دل کو زخمی نہ کر بیٹھے۔ اینی مگر پری زاد کی اس خاموشی کو سمجھتی تھی۔ وہ اس پر اپنے جذبات مسلط نہیں کرتی بلکہ اسے وقت دیتی ہے، اور یہی بات پری زاد کے دل میں اس کے لیے احترام مزید بڑھا دیتی ہے۔

دوسری طرف شرجیل پری زاد کی زندگی میں ایک خطرناک مسئلہ بن کر سامنے آتا ہے۔ شرجیل ان لوگوں میں سے تھا جو طاقت اور دولت کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنا جانتے تھے۔ وہ پری زاد کی حیثیت، اس کے تعلقات اور اس کے اثر و رسوخ کو اپنے لیے خطرہ سمجھنے لگتا ہے۔ دونوں کے درمیان اختلافات بڑھتے جاتے ہیں اور ایک وقت ایسا آتا ہے جب معاملہ صرف دشمنی تک محدود نہیں رہتا بلکہ پری زاد کی جان اور عزت بھی خطرے میں پڑنے لگتی ہے۔

پری زاد کے پاس اب اتنی طاقت اور دولت موجود تھی کہ وہ اپنے دشمن کو آسانی سے ختم کروا سکتا تھا۔ اس کے پاس ایسے لوگ بھی تھے جو اس کے ایک حکم پر کوئی بھی خطرناک کام کرنے کے لیے تیار ہو جاتے۔ اسی سوچ کے تحت اس کا وفادار باڈی گارڈ اکبر بھی اس کے سامنے شرجیل کو راستے سے ہٹانے کا راستہ رکھتا ہے۔ پری زاد ایک لمحے کے لیے اس خیال پر غور کرتا ہے۔ اس کے سامنے ماضی کی ساری محرومیاں، لوگوں کی بے وفائیاں اور شرجیل کی دشمنی موجود ہوتی ہے۔ لیکن پھر اس کے اندر کا وہی حساس انسان جاگ اٹھتا ہے جس نے ساری زندگی دوسروں کے دکھ کو محسوس کیا تھا۔

وہ جانتا تھا کہ اگر وہ بھی اپنے دشمنوں کو ختم کرنے کے لیے وہی راستہ اختیار کر لے جس پر طاقتور لوگ چلتے ہیں تو پھر اس میں اور ان لوگوں میں کیا فرق رہ جائے گا جنہوں نے اسے کبھی تکلیف دی تھی؟ دولت نے اسے طاقت ضرور دی تھی، مگر اس کی اصل پہچان اس کا ضمیر تھا۔ آخرکار پری زاد شرجیل کو قتل کروانے کا فیصلہ ترک کر دیتا ہے۔ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ شرجیل مستقبل میں بھی اس کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے، لیکن پری زاد اپنے اصولوں کو اپنی دشمنی سے بڑا سمجھتا ہے۔

یہیں پری زاد کی شخصیت کا ایک اہم پہلو سامنے آتا ہے۔ ماضی میں وہ کمزور تھا کیونکہ اس کے پاس طاقت نہیں تھی، مگر اب طاقت اس کے پاس تھی اور پھر بھی اس نے ظلم کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ یہی اس کے کردار کی اصل کامیابی تھی۔ وہ چاہتا تو اپنے دشمنوں کو ختم کر سکتا تھا، مگر اس نے اپنے اختیار کو انتقام کے بجائے اپنے ضمیر کے تابع رکھا۔

اینی بھی پری زاد کی اسی خوبی کو محسوس کرتی ہے۔ اسے اندازہ ہو جاتا ہے کہ پری زاد کے اندر دولت سے زیادہ قیمتی چیز اس کا کردار ہے۔ وہ جانتی ہے کہ یہ شخص دنیا کے سامنے چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو جائے، اندر سے اب بھی وہی نرم دل انسان ہے جو کسی کا دل دکھانا نہیں چاہتا۔ اینی کے دل میں اس کے لیے محبت مزید گہری ہو جاتی ہے، جبکہ پری زاد پہلی بار محسوس کرتا ہے کہ شاید زندگی اسے دوبارہ ایک ایسا رشتہ دے رہی ہے جس میں اسے اپنی دولت یا حیثیت کے ذریعے نہیں بلکہ اپنی اصل شخصیت کے ساتھ قبول کیا جا رہا ہے۔

مگر زندگی ابھی پری زاد کو مکمل سکون دینے کے لیے تیار نہیں تھی۔ ناہید کا ماضی، لبنیٰ کی واپسی، شرجیل کی دشمنی اور اینی کی محبت—یہ سب ایک دوسرے سے جڑتے جا رہے تھے۔ پری زاد کو اب فیصلہ کرنا تھا کہ وہ اپنی باقی زندگی ماضی کے زخموں کے ساتھ گزارے گا یا ان سب تلخیوں کو پیچھے چھوڑ کر ایک نئی زندگی کا آغاز کرے گا۔ اسے پہلی بار یہ احساس بھی ہونے لگا تھا کہ شاید اصل دولت وہ نہیں جو انسان کے بینک اکاؤنٹ میں موجود ہو، بلکہ وہ سکون ہے جو کسی مخلص انسان کے ساتھ زندگی گزارنے سے ملتا ہے۔

پری زاد نے زندگی میں بہت کچھ حاصل کر لیا تھا، لیکن اب اسے سب سے مشکل چیز حاصل کرنی تھی—اپنے دل کا سکون۔ اور اس سکون کی طرف جانے والے راستے میں اینی اس کے لیے امید کی ایک ایسی روشنی بن چکی تھی جسے وہ کھونا نہیں چاہتا تھا۔

محبت، حسد اور آخری امتحان

پری زاد کی زندگی میں اینی کی محبت ایک ایسے وقت میں داخل ہوئی تھی جب وہ لوگوں کی مصنوعی محبت سے تقریباً مایوس ہو چکا تھا۔ دولت آنے کے بعد اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ انسان کی حیثیت بدلتے ہی لوگوں کے رویے بھی بدل جاتے ہیں۔ جو لوگ کبھی اس کے قریب آنا پسند نہیں کرتے تھے، اب اس کی ایک نظر کے منتظر رہتے تھے۔ لیکن اینی ان سب سے مختلف تھی۔ وہ پری زاد کے پیسے سے متاثر نہیں تھی بلکہ اس انسان سے محبت کرتی تھی جو دولت ملنے کے باوجود اپنے ماضی کو نہیں بھولا تھا۔

پری زاد بھی اب اینی کے جذبات کو نظر انداز نہیں کر پا رہا تھا۔ وہ اس کے ساتھ وقت گزارتا تو اسے ایک عجیب سا سکون محسوس ہوتا۔ اینی کے سامنے اسے کسی چیز کا دکھاوا نہیں کرنا پڑتا تھا۔ وہ اپنے ماضی کی تلخیوں، اپنی ناکامیوں اور اپنی تنہائی کے بارے میں بات کر سکتا تھا۔ اینی اسے تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کرتی تھی بلکہ اسے ویسا ہی قبول کرتی تھی جیسا وہ تھا۔ پری زاد کے لیے یہ احساس بہت قیمتی تھا، کیونکہ پوری زندگی میں پہلی بار اسے محسوس ہو رہا تھا کہ شاید کوئی شخص اس کی دولت کے بغیر بھی اسے اپنا سمجھ سکتا ہے۔

لیکن ہر خوشی کے ساتھ ایک نیا امتحان بھی آتا ہے۔ شرجیل پری زاد اور اینی کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت کو دیکھ کر مزید بے چین ہونے لگتا ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ پری زاد صرف دولت اور طاقت میں ہی اس سے آگے نہیں نکل گیا بلکہ اب اس کی ذاتی زندگی بھی سکون کی طرف بڑھ رہی ہے۔ حسد اور دشمنی کے باعث شرجیل کے دل میں پری زاد کے خلاف نفرت مزید گہری ہو جاتی ہے۔ وہ ایسی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے جس سے پری زاد اور اینی کے درمیان بداعتمادی پیدا ہو جائے۔

پری زاد شروع میں شرجیل کی چالوں کو نظر انداز کرتا ہے۔ وہ جانتا تھا کہ دشمنی کا جواب دشمنی سے دینا آسان ہے، لیکن وہ اپنی پوری زندگی کے تجربے سے یہ بھی سیکھ چکا تھا کہ نفرت انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ اس لیے وہ کوشش کرتا ہے کہ شرجیل کے معاملات کو قانون اور عقل کے دائرے میں رہ کر حل کرے۔ اکبر بار بار اسے خبردار کرتا ہے کہ شرجیل خطرناک آدمی ہے اور اسے معمولی دشمن سمجھنا نقصان دہ ہو سکتا ہے، لیکن پری زاد اسے صاف الفاظ میں سمجھا دیتا ہے کہ وہ کسی انسان کی جان لینے کا فیصلہ نہیں کرے گا۔

اسی دوران ناہید کی زندگی بھی ماضی کی طرف پلٹنے لگتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اسے احساس ہوتا ہے کہ جس شخص کو اس نے کبھی صرف اس کے ظاہری حلیے کی وجہ سے اہمیت نہیں دی تھی، وہی شخص آج کردار، دولت اور مقام کے لحاظ سے اس سے کہیں آگے نکل چکا ہے۔ مگر ناہید کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ اب اسے پری زاد کی قدر سمجھ آ چکی تھی، لیکن وقت واپس نہیں آ سکتا تھا۔ پری زاد اب وہ شخص نہیں رہا تھا جو ماضی میں اس کے ایک اشارے پر اپنی دنیا بھول جانے کو تیار تھا۔

ناہید کی واپسی پری زاد کے لیے بھی آسان نہیں تھی۔ اس کے دل میں ماضی کی محبت کی کچھ پرانی یادیں ضرور موجود تھیں، لیکن ان یادوں کے ساتھ وہ زخم بھی موجود تھے جنہوں نے اسے بدل کر رکھ دیا تھا۔ وہ ناہید کو برا نہیں سمجھتا تھا، نہ ہی اس سے بدلہ لینا چاہتا تھا، لیکن وہ یہ بھی جانتا تھا کہ پرانے رشتے کو دوبارہ زندہ کرنا اس کے لیے درست نہیں ہوگا۔ اس نے ماضی کو معاف تو کر دیا تھا، مگر اسے دوبارہ اپنی زندگی کا حصہ بنانے کے لیے تیار نہیں تھا۔

اینی اس پورے معاملے کو خاموشی سے دیکھتی رہی۔ اسے کبھی کبھی خوف محسوس ہوتا کہ کہیں پری زاد کے دل میں ناہید کے لیے پرانی محبت دوبارہ زندہ نہ ہو جائے۔ مگر پری زاد نے اسے یقین دلایا کہ انسان ماضی کو یاد تو رکھ سکتا ہے، لیکن ہر یاد کے ساتھ واپس نہیں جا سکتا۔ اس کے لیے ناہید اب اس کی زندگی کا ایک ایسا باب تھی جس نے اسے بہت کچھ سکھایا تھا، مگر وہ باب مکمل ہو چکا تھا۔

پری زاد نے اینی کو یہ بھی سمجھایا کہ اس کی زندگی میں آنے والی سب سے بڑی تبدیلی دولت نہیں تھی۔ اصل تبدیلی یہ تھی کہ اب وہ اپنے فیصلے دوسروں کی خواہش کے مطابق نہیں بلکہ اپنے ضمیر کے مطابق کرتا تھا۔ اس نے ناہید کو معاف کیا، شرجیل کے خلاف انتقام سے گریز کیا اور اپنی دولت کو لوگوں کی مدد کے لیے استعمال کیا۔ اب وہ چاہتا تھا کہ اس کی زندگی کا اختتام بھی اسی اصول پر ہو جس پر اس نے دوبارہ زندگی شروع کی تھی—کسی کے لیے نفرت نہیں، کسی سے انتقام نہیں، بلکہ اپنے دل میں سکون۔

مگر شرجیل ابھی خاموش نہیں ہوا تھا۔ وہ پری زاد کی اسی کمزوری کو تلاش کر رہا تھا جسے پری زاد اپنی طاقت سمجھتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ پری زاد لوگوں کے دکھ کو برداشت نہیں کر سکتا اور اگر کسی بے گناہ کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو تو پری زاد خود خطرے میں کود پڑے گا۔ شرجیل اسی انسانی کمزوری کو اس کے خلاف استعمال کرنے کا منصوبہ بناتا ہے۔

پری زاد کو جب اس سازش کی خبر ملتی ہے تو اس کے سامنے ایک بار پھر وہی پرانا سوال آ کھڑا ہوتا ہے: کیا وہ اپنی طاقت استعمال کرکے دشمن کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے یا پھر اپنے اصولوں پر قائم رہے؟ اس بار فیصلہ پہلے سے کہیں زیادہ مشکل تھا، کیونکہ اب معاملہ صرف اس کی ذات کا نہیں بلکہ اینی اور ان لوگوں کا بھی تھا جنہیں وہ اپنی ذمہ داری سمجھتا تھا۔

پری زاد نے رات کے وقت تنہائی میں بہت دیر تک سوچا۔ اس کے سامنے اپنی پوری زندگی ایک فلم کی طرح گزرنے لگی۔ وہی کمزور اور خاموش لڑکا، ناہید کی محبت، اس کا ٹوٹا ہوا دل، خودکشی کی کوشش، احمد کی نصیحت، ببلی کے ساتھ گزرا وقت، بہروز کریم کی دنیا، جیل، دولت، شہرت اور پھر اینی کی محبت۔ اسے احساس ہوا کہ زندگی نے اسے بار بار آزمایا، لیکن ہر امتحان نے اسے پہلے سے زیادہ مضبوط اور سمجھدار بنایا۔

آخرکار اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ شرجیل سے جنگ ضرور کرے گا، مگر اپنی انسانیت کی قیمت پر نہیں۔ وہ اپنی طاقت استعمال کرے گا، مگر کسی بے گناہ کو نقصان نہیں پہنچنے دے گا۔ اس نے اکبر کو بھی یہی ہدایت دی کہ کسی جذباتی فیصلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ پری زاد جانتا تھا کہ اصل فتح اپنے دشمن کو ختم کرنا نہیں بلکہ اس مقام تک پہنچنا ہے جہاں دشمن کی نفرت بھی آپ کے کردار کو تبدیل نہ کر سکے۔

اسی فیصلے کے ساتھ پری زاد نے اپنی زندگی کا ایک نیا باب شروع کیا۔ اب اس کے سامنے دولت حاصل کرنے یا لوگوں کو متاثر کرنے کا مقصد نہیں تھا۔ اب وہ صرف ایک ایسی زندگی چاہتا تھا جس میں اسے کسی کے سامنے خود کو ثابت نہ کرنا پڑے۔ اور اس سفر میں اینی اس کے ساتھ کھڑی تھی۔

پری زاد نے پہلی بار دل سے محسوس کیا کہ شاید اسے آخرکار وہ چیز مل گئی ہے جس کی تلاش میں وہ پوری زندگی بھٹکتا رہا تھا۔ اسے دولت مل گئی تھی، عزت مل گئی تھی، طاقت مل گئی تھی، مگر اب اسے محبت اور سکون بھی ملنے کی امید نظر آ رہی تھی۔ البتہ اس خوشی تک پہنچنے سے پہلے شرجیل کے ساتھ آخری مقابلہ ابھی باقی تھا۔

اور یہی مقابلہ فیصلہ کرنے والا تھا کہ پری زاد اپنی زندگی کا اختتام انتقام لینے والے ایک طاقتور شخص کے طور پر کرے گا یا اپنے اصولوں پر قائم ایک مکمل انسان کے طور پر۔

سب کچھ چھوڑ دینے کا فیصلہ

پری زاد کی زندگی میں بظاہر سب کچھ موجود تھا، لیکن اس کے دل میں ایک عجیب سی بے چینی رہنے لگی تھی۔ اسے محسوس ہونے لگا تھا کہ جس دولت اور شہرت کو حاصل کرنے کے لیے انسان ساری زندگی دوڑتا رہتا ہے، وہ حاصل ہونے کے بعد بھی دل کو مکمل سکون نہیں دیتی۔ وہ بڑے بڑے گھروں، مہنگی گاڑیوں اور طاقتور لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی کبھی کبھی خود کو اسی پرانے پری زاد کی طرح تنہا محسوس کرتا تھا، جو لوگوں کے ہجوم میں بھی اپنے لیے ایک سچا ساتھی تلاش کرتا تھا۔

وہ اپنی زندگی کے ماضی کو بار بار یاد کرتا۔ اسے ناہید کے ساتھ گزرا ہوا وقت بھی یاد تھا اور وہ دن بھی جب ناہید کی محبت حاصل نہ ہونے پر اسے لگتا تھا کہ اس کی زندگی ختم ہو گئی ہے۔ پھر ببلی اس کی زندگی میں آئی، جس نے اسے ذمہ داری اور قربانی کا مطلب سمجھایا۔ بہروز کریم نے اسے دولت اور طاقت کی دنیا دکھائی، لیکن اسی دنیا نے اسے یہ بھی سکھایا کہ طاقت اگر انسان کے ہاتھ میں آ جائے تو اس کا اصل امتحان یہی ہوتا ہے کہ وہ اسے کس مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔

اب پری زاد کے پاس طاقت بھی تھی اور دولت بھی، مگر وہ ماضی کے زخموں کو دوبارہ نہیں دہرانا چاہتا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ اگر وہ اپنے دشمنوں کے خلاف اسی زبان میں جواب دینے لگا جس زبان میں انہوں نے اس سے بات کی تھی تو وہ بھی ان لوگوں جیسا بن جائے گا جن سے وہ ہمیشہ نفرت کرتا رہا تھا۔ اس لیے اس نے فیصلہ کیا کہ شرجیل سے مقابلہ ضرور کرے گا، لیکن اپنے اصولوں کو نہیں چھوڑے گا۔

دوسری طرف اینی پری زاد کی زندگی میں مسلسل موجود تھی۔ اس نے کبھی اس سے دولت کا مطالبہ نہیں کیا اور نہ ہی اس کی شہرت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ وہ پری زاد کے ساتھ اس وقت بھی کھڑی رہی جب اس کے لیے حالات آسان نہیں تھے۔ پری زاد کے لیے اینی کی یہی سادگی سب سے زیادہ اہم تھی۔ اسے محسوس ہونے لگا تھا کہ شاید محبت وہ نہیں جو انسان کو حاصل کرنے کے لیے اپنی شخصیت بدل دے، بلکہ محبت وہ ہے جس میں انسان کو اپنی اصل شخصیت کے ساتھ قبول کیا جائے۔

لیکن پری زاد کے دل میں ایک اور خیال بھی جنم لینے لگا۔ اسے لگتا تھا کہ اس کی دولت اور طاقت نے اس کی زندگی کو ضرورت سے زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔ جہاں وہ جاتا، لوگ اسے ایک حیثیت سے دیکھتے۔ کوئی اس میں طاقتور شخص تلاش کرتا، کوئی دولت مند انسان اور کوئی ایسا شخص جس سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ بہت کم لوگ ایسے تھے جو صرف پری زاد کو دیکھتے تھے۔

اسی سوچ نے اسے ایک انتہائی بڑا فیصلہ کرنے پر مجبور کیا۔ اس نے اپنی زندگی میں پہلی بار سوچا کہ اگر وہ اپنی دولت اور طاقت سے دور ہو جائے تو شاید اسے وہ سکون مل سکے جس کی اسے برسوں سے تلاش ہے۔ وہ دوبارہ سادہ زندگی گزارنا چاہتا تھا، ایسی زندگی جس میں لوگ اس سے اس کے نام یا دولت کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی ذات کی وجہ سے ملیں۔

یہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔ اس نے اپنی دولت محنت، قربانی اور کئی تلخ تجربات کے بعد حاصل کی تھی۔ اس کے لیے دولت صرف پیسہ نہیں تھی بلکہ اس کی زندگی کے ایک پورے دور کی علامت تھی۔ اسے چھوڑنا دراصل اپنے ماضی کے ایک بڑے حصے کو چھوڑنے کے برابر تھا۔ لیکن پری زاد کو اب یہ سمجھ آ چکی تھی کہ ہر وہ چیز جو انسان کو طاقت دیتی ہے ضروری نہیں کہ وہ اسے خوش بھی رکھے۔

جب اینی کو پری زاد کے ارادے کا اندازہ ہوا تو وہ حیران رہ گئی۔ اسے معلوم تھا کہ پری زاد کے لیے یہ فیصلہ کتنا بڑا ہے، مگر اس نے اسے روکنے کے بجائے اس کے فیصلے کو سمجھنے کی کوشش کی۔ اینی جانتی تھی کہ پری زاد ہمیشہ سے ایک ایسی زندگی چاہتا تھا جس میں اسے اپنے ظاہری حلیے، دولت یا مقام کے ذریعے اپنی اہمیت ثابت نہ کرنی پڑے۔

پری زاد نے اپنی زندگی میں پہلی بار محسوس کیا کہ شاید محبت کا اصل مطلب کسی کو حاصل کرنا نہیں بلکہ اسے آزادی دینا ہے۔ اگر اینی واقعی اس سے محبت کرتی ہے تو وہ پری زاد کے ساتھ اس کی دولت کے بغیر بھی رہ سکے گی، اور اگر ایسا نہیں تو پھر یہ جان لینا بھی ضروری تھا کہ اس رشتے کی بنیاد کیا تھی۔

اسی دوران شرجیل کی دشمنی بھی اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو رہی تھی۔ وہ پری زاد کو کمزور کرنے کے لیے مسلسل کوشش کر رہا تھا، لیکن پری زاد اب پہلے والا خاموش اور بے بس انسان نہیں تھا۔ فرق صرف یہ تھا کہ طاقت آنے کے باوجود اس نے اپنے اندر کی انسانیت کو مرنے نہیں دیا تھا۔

پری زاد نے فیصلہ کیا کہ وہ شرجیل سے ذاتی انتقام نہیں لے گا۔ وہ جو کچھ بھی کرے گا، قانون اور اصول کے دائرے میں رہ کر کرے گا۔ اس کے لیے یہ فیصلہ شاید کسی دشمن کو ختم کرنے سے کہیں زیادہ مشکل تھا، لیکن یہی وہ مقام تھا جہاں پری زاد نے خود کو پہچانا۔

اس نے اپنی زندگی کے تمام اہم لوگوں کے بارے میں سوچا۔ ناہید نے اسے محبت میں ناکامی کا درد دیا تھا، ببلی نے اسے ذمہ داری سکھائی تھی، بہروز کریم نے اسے طاقت کی حقیقت دکھائی تھی، اور اینی نے اسے یہ احساس دلایا تھا کہ ایک انسان کو اس کی دولت کے بغیر بھی محبت مل سکتی ہے۔ ان سب تجربات نے مل کر پری زاد کو وہ شخص بنایا تھا جو اب اپنے فیصلے خود کر سکتا تھا۔

آخرکار پری زاد نے ماضی کو دل سے معاف کرنے اور مستقبل کی طرف بڑھنے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ جانتا تھا کہ زندگی میں کچھ لوگ صرف اس لیے آتے ہیں کہ ہمیں کچھ سکھا کر چلے جائیں۔ ناہید اس کے لیے ایک ایسا ہی سبق تھی۔ وہ اسے دوبارہ حاصل نہیں کرنا چاہتا تھا، نہ ہی اس سے بدلہ لینا چاہتا تھا۔ وہ صرف اتنا چاہتا تھا کہ ماضی اب اس کے مستقبل پر حکومت نہ کرے۔

اب اس کے سامنے صرف ایک راستہ تھا: اپنی دولت، طاقت اور ماضی کی تمام تلخیوں سے اوپر اٹھ کر ایک ایسی زندگی کا انتخاب کرنا جس میں سکون ہو، محبت ہو اور سب سے بڑھ کر اس کا ضمیر زندہ رہے۔

اینی کو اپنا پری زاد مل جاتا ہے

پری زاد نے اپنی زندگی کے بارے میں جو فیصلہ کیا تھا، وہ اس کے لیے آسان نہیں تھا۔ دولت اور طاقت کو چھوڑنے کا خیال بظاہر پاگل پن لگتا تھا، کیونکہ اس نے یہ مقام بڑی مشکل سے حاصل کیا تھا۔ لیکن پری زاد اب جان چکا تھا کہ دولت انسان کو بہت کچھ دے سکتی ہے، مگر دل کا سکون نہیں خرید سکتی۔ وہ اپنی زندگی میں پہلی بار کسی ایسی منزل کی تلاش میں تھا جہاں اسے کسی کے سامنے اپنی حیثیت ثابت نہ کرنی پڑے۔

اس نے اپنے اردگرد کے لوگوں کو غور سے دیکھنا شروع کیا تو اسے ایک حقیقت اور بھی واضح نظر آنے لگی۔ بہت سے لوگ اس کے ساتھ صرف اس لیے تھے کیونکہ وہ طاقتور تھا۔ جب وہ دولت مند تھا تو سب اسے اہم سمجھتے تھے، لیکن پری زاد کے دل میں ہمیشہ یہ سوال رہتا تھا کہ اگر یہ دولت اس کے پاس نہ رہے تو ان میں سے کتنے لوگ اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے؟

اسی سوال کا جواب اسے اینی کے رویے سے ملتا رہا۔ اینی نے کبھی پری زاد کو اس کی دولت کی وجہ سے نہیں چاہا تھا۔ اس نے اس شخص کو پسند کیا تھا جو دوسروں کے دکھ کو محسوس کرتا تھا، جو کسی ضرورت مند کو خالی ہاتھ واپس نہیں بھیجتا تھا اور جو اپنے ماضی کی تلخیوں کے باوجود دل میں نفرت نہیں رکھتا تھا۔ اینی کے لیے پری زاد کی اصل خوبصورتی اس کا چہرہ یا لباس نہیں بلکہ اس کا کردار تھا۔

پری زاد نے آخرکار اینی کے سامنے اپنے دل کی وہ بات کہہ دی جسے وہ کافی عرصے سے چھپا رہا تھا۔ اس نے اسے بتایا کہ وہ اپنی زندگی کو دوبارہ سادہ بنانا چاہتا ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ ان کے رشتے کی بنیاد دولت، شہرت یا طاقت ہو۔ وہ چاہتا تھا کہ اگر اینی اس کے ساتھ رہے تو صرف پری زاد کے ساتھ رہے، اس دولت مند شخص کے ساتھ نہیں جسے دنیا جانتی تھی۔

اینی نے پری زاد کی بات خاموشی سے سنی۔ اس کے لیے شاید یہ سب سے بڑا امتحان تھا، لیکن اس کے دل میں پہلے ہی فیصلہ ہو چکا تھا۔ اس نے پری زاد کو یقین دلایا کہ اسے اس کی دولت نہیں چاہیے۔ اسے وہ انسان چاہیے جس کے ساتھ اسے سچائی، عزت اور سکون محسوس ہوتا ہے۔ پری زاد کے لیے یہ الفاظ کسی انعام سے کم نہیں تھے۔

پری زاد کی آنکھوں میں پہلی بار وہ سکون نظر آیا جو اسے برسوں سے نصیب نہیں ہوا تھا۔ اسے محسوس ہوا کہ شاید زندگی نے اسے بہت دیر سے، لیکن آخرکار ایک ایسا شخص دے دیا ہے جو اسے اس کی اصل شخصیت کے ساتھ قبول کرتا ہے۔ ناہید کے ساتھ اس کی محبت میں ظاہری شکل اور معاشرتی حیثیت کا سوال ہمیشہ موجود رہا تھا، مگر اینی کے ساتھ اسے ایسا کوئی خوف نہیں تھا۔

دوسری طرف شرجیل کی دشمنی اپنی آخری حدوں کو پہنچ چکی تھی۔ وہ پری زاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا رہا، مگر پری زاد نے اپنے اصول نہیں چھوڑے۔ اس نے اکبر کو بھی یہی ہدایت دی کہ کسی بھی صورت میں شرجیل کے خلاف ذاتی انتقام نہ لیا جائے۔ اگر شرجیل نے جرم کیا ہے تو اسے قانون کے مطابق جواب دینا ہوگا۔

یہی پری زاد کی سب سے بڑی تبدیلی تھی۔ ماضی کا پری زاد اپنے آپ کو کمزور سمجھتا تھا اور دوسروں کے فیصلوں سے ٹوٹ جاتا تھا، جبکہ اب وہ اتنا طاقتور ہو چکا تھا کہ دوسروں کی زندگیوں کے فیصلے کر سکتا تھا۔ لیکن اس نے اپنی طاقت کو ظلم کے لیے استعمال نہیں کیا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے دشمنوں سے بڑا بنے گا، ان جیسا نہیں۔

وقت کے ساتھ پری زاد نے اپنی زندگی کی ترجیحات بدل دیں۔ اس نے لوگوں کی مدد جاری رکھی، لیکن اب وہ شہرت حاصل کرنے کے لیے ایسا نہیں کرتا تھا۔ وہ خاموشی سے ضرورت مندوں کا سہارا بنتا اور پھر ان کی زندگی سے دور ہو جاتا۔ اسے اب کسی تعریف، کسی اخبار کی خبر یا کسی شخص کے شکریے کی ضرورت نہیں تھی۔

اس دوران ناہید کو بھی اپنی زندگی کے فیصلوں پر غور کرنے کا موقع ملا۔ اسے اب احساس تھا کہ اس نے ماضی میں پری زاد کے ساتھ انصاف نہیں کیا تھا۔ لیکن پری زاد کے دل میں ناہید کے لیے اب نفرت نہیں تھی۔ اس نے اسے معاف کر دیا تھا، کیونکہ وہ سمجھ چکا تھا کہ کسی کو معاف کرنا اس کے کیے ہوئے غلط کام کو درست قرار دینا نہیں، بلکہ اپنے دل کو اس کے بوجھ سے آزاد کرنا ہے۔

پری زاد نے ناہید کے ساتھ اپنے ماضی کو ایک بند کتاب کی طرح اپنے دل میں رکھ دیا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کتاب کے صفحات کبھی کبھی اسے یاد آئیں گے، لیکن اب وہ اپنی زندگی کا اگلا باب لکھنا چاہتا تھا۔ اس باب میں اینی تھی، سکون تھا اور ایک ایسی محبت تھی جس میں کسی شرط کی گنجائش نہیں تھی۔

ایک دن پری زاد نے اپنے ماضی کی طرف آخری بار دیکھا اور محسوس کیا کہ وہ شخص جس نے کبھی اپنی شکل اور قسمت کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی محرومی سمجھا تھا، آج اسی محرومی سے نکل کر ایک مکمل انسان بن چکا ہے۔ اسے اب کسی سے یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں تھی کہ وہ بھی محبت کے قابل ہے۔
اسے اینی کی محبت میں وہ جواب مل چکا تھا جس کی تلاش میں وہ پوری زندگی بھٹکتا رہا تھا۔
اینی کو دولت مند پری زاد نہیں چاہیے تھا؛ اسے صرف اپنا پری زاد چاہیے تھا۔
اور پری زاد کو بھی پہلی بار محسوس ہوا کہ شاید انسان کی زندگی میں سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ دنیا اسے کتنا بڑا سمجھتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ کوئی ایک شخص اسے اس کی اصل حالت میں دیکھے، سمجھے اور پھر بھی اس کا ہاتھ تھامے رکھے۔

پری زاد نے آخرکار فیصلہ کر لیا کہ وہ اپنی زندگی کو ماضی کے زخموں کے بجائے مستقبل کی محبت کے نام کرے گا۔ اس نے دولت اور طاقت کو اپنی شناخت بنانے کے بجائے انہیں ایک ذریعہ سمجھا، اور اپنی اصل شناخت دوبارہ حاصل کر لی۔

اب اس کے پاس دنیا کی نظر میں شاید پہلے سے کم تھا، لیکن اس کے دل میں پہلے سے کہیں زیادہ تھا۔
اس کے پاس اینی تھی، اور اینی کے پاس اس کا پری زاد۔
(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے