دیوتا - 5

devta urdu novel urdu font

میں نے مراقبے میں جانے کے بعد چچی کے دماغ سے رابطہ کیا۔ چچی صاحبہ ناشتے میں مصروف تھیں۔ وہ سوچ رہی تھیں کہ چچا کے اٹھنے سے پہلے بینک جا کر پچیس تیس ہزار روپے اور کچھ زیورات نکلوا کر گھر کی سیف میں رکھوں گی تاکہ انہیں گزشتہ چوری کا علم نہ ہو۔

وہ اٹھ کر کمرے میں چلی گئیں اور تیار ہونے لگیں۔ میں نے ان کی سوچ میں کہا:
"بیگم ناصر!"
وہ چونک کر سوچنے لگیں: "یہ کیا؟ پہلے بھی میں نے ایک بار اپنے آپ کو اسی طرح مخاطب کیا تھا۔"
میں نے ان کی سوچ میں کہا:
"ہاں، یاد کرو۔ پرسوں ہی تم نے اپنے آپ کو اسی طرح مخاطب کیا تھا۔ یاد کرو، اس کے ساتھ ہی وہ آنکھیں تمہارے تصور میں آئی تھیں۔ دیکھو، وہ آنکھیں تمہارے تصور میں روشن ہو رہی ہیں۔ انہیں پہچانو، یہ کمبخت فرہاد کی آنکھیں ہیں۔ ایک بار تم نے کہا تھا کہ ان آنکھوں میں بدروح گھسی ہوئی ہے۔ پہچان رہی ہو؟"

"ہاں، میں انہیں پہچان رہی ہوں۔ وہ آنکھیں مجھے گھور رہی ہیں۔ میں انہیں دیکھنا نہیں چاہتی، لیکن دیکھتی جا رہی ہوں۔ یہ مجھے کیا ہو گیا؟ میں کہیں اور کیوں نہیں دیکھ پا رہی؟"

"تم کہیں اور نہیں دیکھ سکتیں۔ اب تم ان آنکھوں کے زیرِ اثر ہو۔ یہ آنکھیں جو تمہیں کہیں گی، تم اس پر عمل کرو گی۔ بولو، عمل کرو گی؟"
"ہاں، میں عمل کروں گی۔"
"پرسوں رات تم ان آنکھوں کے زیرِ اثر رہ چکی ہو۔ کیا تمہیں یاد آیا؟"
"ہاں، مجھے یاد آ رہا ہے۔"
"کیا تمہیں یاد ہے کہ ایک اجنبی تم سے ملنے آیا تھا؟ تم نے وعدہ کیا تھا کہ بینک کے لاکر سے زمینوں کے کاغذات، اصلی اور نقلی دونوں دستاویزات، اس اجنبی کے حوالے کر دو گی۔"

"ہاں، وعدہ کیا تھا۔"
"اب اپنا وعدہ پورا کرو۔ اپنی الماری سے لاکر کی تمام چابیاں اور تمام بینکوں کی چیک بک نکالو۔ اور اپنی ہر حرکت کے مطابق سوچتی رہو۔"

میری ہدایات کے مطابق وہ اپنی ہر حرکت کے بارے میں سوچنے لگیں:
"اب میں الماری کی طرف جا رہی ہوں۔ اب میں الماری کے دراز سے چابیاں نکال کر پرس میں رکھ رہی ہوں۔ میں چار مختلف چیک بک بھی اٹھا کر پرس میں رکھ رہی ہوں۔ اب میں الماری بند کر رہی ہوں۔ اب مجھے کیا کرنا چاہیے؟"

میں نے انہیں ہدایت دی:
"دو آنکھیں تمہارے دماغ میں پیوست رہیں گی، اور تم ظاہری آنکھوں سے اس دنیا کو دیکھتی اور سمجھتی رہو گی۔ ابھی اپنے کمرے سے نکل کر بینک جاؤ۔ جو بھی راستے میں آئے، اس سے مسکرا کر بات کرو، پھر آگے بڑھ جاؤ۔"

ان کی سوچ بتانے لگی کہ وہ کمرے سے نکل کر کوریڈور سے گزر کر ڈرائنگ روم کی طرف جا رہی ہیں۔ اس وقت ان کی سوچ نے کہا: "میرا خاوند مجھے بلا رہا ہے۔ میں کیا کروں؟"

میں نے کہا: "اپنے خاوند سے مسکرا کر بات کرو۔"

وہ باتیں کرنے لگیں۔ چچا نے ان سے کچھ پوچھا تھا۔ وہ جواب دے رہی تھیں: "آپ کیا، میرے ساتھ بینک جائیں گے؟ لیکن میں تو…"
وہ کہتے کہتے رک گئیں۔ میں نے انہیں مشورہ دیا: "اپنے خاوند سے کہو، 'اچھا، ٹھیک ہے۔ آپ نہا دھو کر تیار ہو جائیں۔ اس وقت تک میں پاس والی کوٹھی سے ہو کر آتی ہوں۔'"
انہوں نے میرے حکم کے مطابق اپنے خاوند کو جھانسہ دیا اور سوچنے لگیں: "اب وہ نہانے چلے گئے ہیں، اور میں باہر آ گئی ہوں۔"

میں نے ان کی سوچ میں کہا: "سامنے والی کوٹھی کو ذہن نشین کر لو۔ کاغذات لا کر تم اس کوٹھی کے پچھلے گیٹ سے آؤ گی اور اندر داخل ہو کر کمرے میں وہ سلگتی ہوئی آنکھیں تمہارا انتظار کر رہی ہیں۔ اب جاؤ، گاڑی میں بیٹھ کر بینک روانہ ہو جاؤ۔"

وہ میری ہدایات پر مکمل عمل کر رہی تھیں۔ راستے میں کوئی رکاوٹ نہ آئی۔ انہوں نے میری رہنمائی میں بینک سے کاغذات نکالے اور میری کوٹھی پر واپس پہنچ گئیں۔ پچھلے دروازے سے داخل ہو کر سیدھی میرے کمرے میں آئیں اور کاغذات میرے حوالے کر دیے۔

میں نے جلدی سے کاغذات چیک کیے۔ اصلی کاغذات اپنے پاس رکھ کر نقلیں انہیں واپس کر دیں اور ان کی سوچ میں کہا: "یہ کاغذات لے جاؤ اور بینک سے ایک لاکھ روپے نکال کر کسی دوسری ٹیکسی میں واپس ادھر آ جاؤ۔"

میں اس تفصیل میں نہیں جانا چاہتا کہ وہ کس طرح ہر ہفتے ایک دو لاکھ روپے مجھے دیتی رہیں۔ میں نے آہستہ آہستہ چچی کے تمام اکاؤنٹس خالی کر دیے۔ وہ ہر بار شدید پریشانی اور اختلاجِ قلب میں مبتلا ہو جاتی تھیں۔ ان کی دولت پراسرار طور پر غائب ہو گئی تھی، اور وہ کسی کو بتا نہیں پا رہی تھیں۔

اب ان کی زندگی کا سارا دارومدار ظہیر پر تھا۔ اس کی دکانوں سے آنے والی رقم سے وہ گھر چلاتیں اور دوسرے اخراجات پورے کرتیں۔

اب میں نے ظہیر کو ہدف بنا لیا۔ ظہیر جیسے کمزور ارادے کا مالک انسان بہت آسانی سے میرا معمول بن گیا۔

ایک دن میں لبرٹی مارکیٹ میں تھا کہ اس سے ملاقات ہو گئی۔ وہ مجھے دیکھ کر حیرت زدہ رہ گیا۔ اس کی گرل فرینڈ دوکان سے کچھ خریدنے کے لیے گئی ہوئی تھی۔ وہ کار میں بیٹھا اس کا انتظار کر رہا تھا۔

وہ میری طرف دیکھ رہا تھا۔ ہماری نظریں ملیں، اور وہ میری آنکھوں کی گرفت میں آ گیا۔ میں اس کی سوچ پڑھ رہا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا: "اے میرے خدا! یہ فرہاد علی تیمور ہے؟ یہ تو پہچانا نہیں جا رہا۔"

میں نے اس کی سوچ میں کہا: "ہاں، یہ فرہاد ہے۔ تم اس کی آنکھوں میں دیکھو۔ یہ آنکھیں تمہاری سوچ کا محاصرہ کر رہی ہیں۔ تم ان کا حکم مانو گے۔"

اس کی آواز کسی اندھے کنویں سے آتی محسوس ہوئی: "ہاں، میں ہر حکم مانوں گا۔"
"اچھا، یہ بتاؤ، تمہارا نام کیا ہے؟"
"میرا نام ظہیر ناصر۔"
"میری یہ دو آنکھیں ہمیشہ تمہارے تصور میں رہیں گی۔ تم ان کے تابع رہو گے۔"
"ہاں، میں ان کے تابع رہوں گا۔"
"تم غیر لڑکیوں سے نہیں ملو گے۔"
"ہاں، میں غیر لڑکیوں سے نہیں ملوں گا۔"
"یہ اللہ کو سخت ناپسند ہے۔ تم یہاں کس کا انتظار کر رہے ہو؟"
"میں شکیلہ کا انتظار کر رہا ہوں۔"
"اب تم شکیلہ کو نہیں پہچانو گے۔"
"اب میں شکیلہ کو نہیں پہچانوں گا۔"

"تم گاڑی سے اتر کر کسی کتابوں والی دکان میں جاؤ گے اور نماز، روزے، اور کلمات سیکھنے کے لیے کتابیں خریدو گے۔"

"میں کسی کتابوں والی دکان پر جاؤں گا۔"
اتنے میں شکیلہ دوسری طرف سے آ کر گاڑی کا دروازہ کھولنے لگی۔
میں نے ظہیر کی سوچ میں کہا: "اسے پہچاننے سے انکار کر دو۔"
وہ فوراً بولا: "ٹھہرو، کون ہو تم؟"
"یہ کیسا بھونڈا مذاق ہے؟"
"میں مذاق نہیں کر رہا۔ تم میرے لیے غیر ہو۔ میں غیر عورتوں سے بات نہیں کرتا۔"
"تم کیا کہہ رہے ہو؟ کیا تم واقعی سنجیدہ ہو؟"
"ہاں، میں سنجیدہ ہوں۔ چار دن کی زندگی ہے، میں اسے یادِ الٰہی میں گزارنا چاہتا ہوں۔"

شکیلہ نے طنزیہ کہا:
"اچھا، مولوی صاحب! پھر تم میرے شو روم کی کار میں کیا کر رہے ہو؟ جاؤ، جا کر مسجد میں عبادت کرو۔ ورنہ مجھ سے معافی مانگو اور اپنے الفاظ واپس لو۔"

اوہ، تو یہ گاڑی شکیلہ کی ہے۔ میں نے کار میں جھانکا۔ اسی وقت شکیلہ نے میری طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں دلچسپی اور معصومیت ایک ساتھ رقص کر رہی تھی۔ وہ شکل سے چھوٹی سی بچی لگ رہی تھی۔

میں نے ظہیر کی سوچ میں کہا: "اب تم گاڑی سے اتر کر سیدھا کتابوں کی دکان جاؤ، اور کل شام تک تم میرا معمول رہو گے۔"

وہ فوراً گاڑی سے اترا اور مخالف سمت میں چلا گیا۔ شکیلہ حیرت سے گاڑی سے باہر نکل آئی۔ وہ کبھی مجھے اور کبھی ظہیر کو دیکھنے لگی۔

"کمال ہے! یہ اس سے پہلے تو ایسا نہیں تھا۔"
"اس دنیا میں انسان کو بدلنے میں کچھ دیر نہیں لگتی۔ ہر پل مختلف ہے،" میں نے مسکرا کر شکیلہ کو دیکھا۔
"تم کون ہو؟" اس نے میری طرف اشارہ کر کے کہا۔
"ظہیر میرا مقروض ہے۔ اس سے پہلے میں اس سے اپنے قرض کی واپسی کی بات کر رہا تھا۔"
"مجھے یقین نہیں آ رہا کہ ظہیر جیسا بندہ بھی مقروض ہو سکتا ہے۔"
"میں تمہارے سامنے کسی وقت ظہیر سے قرض کی واپسی کی بات کروں گا۔ ویسے، تم اسے کیسے جانتی ہو؟"
"تم نے مجھے کس خوشی میں 'تم' کہا؟ ہم ایک دوسرے کو نہیں جانتے۔"
"میں بچوں کو 'تم' ہی کہتا ہوں۔"
وہ گھوم کر میرے سامنے آئی اور اکڑ کر اس طرح کھڑی ہو گئی کہ اس کے بھرے بھرے جسم کا ہر زاویہ لباس سے باہر چھلکنے لگا۔

"میں چھوٹی ہوں؟ غور سے دیکھو۔"
میں نے اس کی سوچ پڑھی تو پتہ چلا کہ وہ ظہیر سے غصہ کر کے پچھتا رہی تھی۔ ظہیر اس کی کار خریدنا چاہتا تھا۔ وہ اس کا گاہک بنا، لیکن خریدے بغیر چلا گیا تھا۔ اب وہ مجھے اپنی طرف مائل کر کے دیکھنا چاہتی تھی کہ شاید میں اس کی کار خرید لوں۔ عورت کے ساتھ کاروبار میں یہ غلطی ہوتی ہے کہ وہ سودا کرتے ہوئے اپنا آپ بھی پیش کرنے لگتی ہے۔

میں نے اس کی طرف یوں مسکرا کر دیکھا جیسے میں اس کے حسن و شباب سے مرعوب ہو گیا ہوں۔ "ہاں، میں تمہارا سراپا دیکھ کر بہک گیا ہوں، لیکن افسوس، ہم تو ایک دوسرے کو جانتے تک نہیں۔"

"مگر تم تو بے تکلفی میں بہت کچھ کہہ گئے،" وہ ہنستے ہوئے بولی۔ "مرد بڑے چالاک ہوتے ہیں۔"
"عورتوں سے زیادہ نہیں ہوتے،" میں نے بھی ہنستے ہوئے کہا۔
"یہ کار کس کی ہے؟"
"یہ میرے چچا کے شو روم کی ہے۔ تم کیوں پوچھ رہے ہو؟"
"میں ایک کار خریدنا چاہتا ہوں۔" مجھے واقعی ایک کار کی ضرورت تھی، سوچا چل کر دیکھ لیتا ہوں۔
"تمہارے پاس کون سی کار ہے؟"
وہ یہ بات سن کر ایک دم کھل اٹھی۔
"میرے پاس فی الحال کوئی کار نہیں ہے، جس کی وجہ سے کچھ مشکل پیش آ رہی ہے۔"
میں نے اس کی سوچ پڑھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ مجھے فوراً مطلب کی بات کرنی چاہیے۔ وہ کار کی قیمت گرائے گا۔ مجھے اس کار کی اہمیت جتانا چاہیے۔

"تمہارے چچا کا شو روم کہاں ہے؟"
"پلازہ سینما کے پاس۔"
"اس کار کی کیا قیمت ہے؟"

"پچاس ہزار۔ ظہیر کو دوستی کی وجہ سے پینتالیس دے رہی تھی۔ پانچ ہزار میرا کمیشن ہے۔ ظہیر کو شو روم میں لے کر جاؤں گی تو وہ دس زیادہ دے گا۔"
"ہاں، اتنا زیادہ منافع چھوڑنا نہیں چاہیے۔ لے جاؤ،" میں نے بے نیازی سے کہا۔
وہ کچھ بجھ سی گئی۔ "اچھا، مجھے پلازہ سینما تک تو چھوڑ دو، پلیز،" اس نے بڑی عاجزی سے کہا۔ میں ڈرائیونگ سیٹ پر آ گیا۔ وہ ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گئی۔
"کیسی سپیڈ ہے؟" راستے میں اس نے پوچھا۔
"بہترین، بالکل ایک حسین دوشیزہ کی طرح۔"
"یہ دوشیزہ تمہاری بھی ہو سکتی ہے،" وہ ادا سے بولی۔
"بالکل، اگر قیمت اصلی ہو تو۔"
"میں ٹھیک کہہ رہی ہوں۔ اس کی اصلی قیمت پچپن ہزار ہے۔"
"عورتوں کے ساتھ کاروبار میں ایک خرابی ہے کہ وہ چیز کی قیمت کے ساتھ اپنی قیمت بھی لگا دیتی ہیں۔"

وہ مجھے گھور کر دیکھنے لگی۔ وہ سوچنے لگی: "ملک صاحب چالیس ہزار مانگتے ہیں۔ اگر میں اپنا کمیشن کم کر دوں تو پھر بھی تینتالیس ہزار بنتے ہیں۔ گاہک اس کے ساتھ ساتھ ہلکا رومانس بھی کرنا چاہتے ہیں، اور کچھ تو بیڈ روم تک لے جاتے ہیں۔ اتنے سب کے بعد میرا اتنا کمیشن بھی نہیں بنتا۔ میں کون ہوں، کوئی نہیں جانتا۔ میرے دو بچے ہیں، طلاق یافتہ ہوں۔ اپنا گھر کیسے چلاتی ہوں، کوئی نہیں جانتا۔"

"ٹھیک ہے، میں نے اپنی قیمت دو ہزار لگائی ہے۔ تم مجھے وہ نہ دو، میں…"
میں نے اس کی بات کاٹ دی: "مجھے شو روم لے چلو۔ میں تمہارے انکل سے ڈائریکٹ معاملہ طے کروں گا۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ تمہیں تمہارا کمیشن پورا ملے گا۔ اب یہاں اتر جاؤ اور دکان میں گاڑی لے جاؤ۔ میں وہاں آتا ہوں۔"

"ایک بات سچ سچ بتاؤ، یہ شو روم تمہارے انکل کا نہیں ہے، ناں؟"
"نہیں، میں یہاں ملازم ہوں۔ اپنی ویلیو بڑھانے کے لیے گاہک سے جھوٹ بول دیتی ہوں،" وہ شرمندگی سے بولی۔ دل ہی دل میں بے یقینی سے سوچتی ہوئی وہ مجھے اتار کر آگے چلی گئی۔

میں شو روم گیا، معاملات طے کیے، اور کار خرید لی۔ شکیلہ کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔ میں گاڑی لے کر باہر نکلا تو شکیلہ سامنے فٹ پاتھ پر کھڑی تھی۔ میں نے اس کے سامنے جا کر گاڑی روکی۔

وہ مسکراتی ہوئی بیٹھ گئی۔ میں نے بینک کے سامنے گاڑی روک کر پانچ ہزار روپے کیش کروائے اور شکیلہ کے ہاتھ پر رکھ دیے۔
"یہ لو، تمہارا کمیشن۔"
وہ حیرت اور خوشی سے مجھے دیکھنے لگی۔
"تم اپنی زبان کے پکے ہو۔"
وہ سوچ رہی تھی: "ایسے گاہک کے لیے تو میں ایک ہفتہ اس کے ساتھ رہ لوں۔"
"اب تم جاؤ،" میں نے شو روم کے سامنے گاڑی روکی۔
وہ حیران سی مجھے دیکھتے ہوئے اتر گئی۔ میں آگے بڑھ گیا۔
میرے ذہن میں ظہیر سے متعلق اگلا منصوبہ تشکیل پا رہا تھا۔

میں گاڑی دوڑاتا ہوا گھر لے آیا۔ گیٹ پر زرینہ کار کو دیکھتے ہی سیر کے لیے شور مچانے لگی۔ میں اسے لے کر گھومتا رہا، پھر گھر واپس آ گئے۔ گھر کے سامنے چچا سے ملاقات ہو گئی۔ وہ مجھے اتنی اچھی گاڑی اور بہترین سوٹ میں دیکھ کر کچھ دیر کے لیے حیرت زدہ رہ گئے۔

میں نے گاڑی سے اتر کر ان سے مصافحہ کیا۔ "سلام، چچا جان! کیسے مزاج ہیں؟"
وہ حیرانی اور بے یقینی سے کوٹھی کو دیکھنے لگے۔ میں ان کی سوچ پڑھ سکتا تھا۔ ان کے چہرے سے حیرانی، ندامت، اور پریشانی جھلک رہی تھی۔

"میں فرہاد ہوں۔ کیا آپ نے مجھے پہچانا نہیں؟" میں نے مسکرا کر کہا۔ "معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو میری خوشحالی سے خاصا صدمہ پہنچا ہے۔"

"نن… نہیں، بیٹے!" انہوں نے جلدی سے کہا۔ "اللہ تمہیں اور ترقی دے۔ آج کل تم کیا کر رہے ہو؟"
میں نے جواب دیا: "جب اللہ ترقی دیتا ہے تو پھر ادھر کا مال ادھر آتا رہتا ہے۔ آپ نے میرے باپ کی دولت سے یہ زندگی خریدی ہے، لیکن دنیا نہیں جانتی۔ اسی طرح میری دولت مندی بھی ایک راز ہے۔"
"یہ تمہاری غلط فہمی ہے، بیٹے۔ میں نے کبھی تمہارا حق نہیں چھینا۔"
میں نے ان کی سوچ میں جھانکا۔ ان کے دماغ میں کھلبلی مچی ہوئی تھی۔ وہ جاننا چاہتے تھے کہ میری حیثیت کا راز کیا ہے۔
"چلیں، مان لیتا ہوں،" میں نے خوش دلی سے کہا۔
"ہاں، بیٹے! پرانی رنجشیں بھول جاؤ۔ چلو، تمہیں تمہاری چچی سے ملواتا ہوں۔" انہوں نے دلچسپی سے زرینہ کو دیکھا۔ زرینہ نے گاڑی سے اتر کر فوراً سلام کیا۔ ہم سب چلتے ہوئے ان کے گھر کے اندر داخل ہو گئے۔ چچا ہمیں ڈرائنگ روم میں لے گئے اور چچی کو اونچی اونچی آواز دینے لگے۔

میں غیر ارادی طور پر غزالہ کو تلاش کر رہا تھا۔ شاید میرے ذہن سے اس دن کی رسوائی محو نہیں ہوئی تھی۔

چچی ڈرائنگ روم میں آئیں تو میری آنکھیں دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئیں۔ میں نے ان کی پریشانی بھانپ کر ان کی سوچ میں جھانکا۔ وہ سوچ رہی تھیں کہ ان سلگتی ہوئی آنکھوں کو انہوں نے کہیں دیکھا ہے۔ میں نے ان کی سوچ کو حکم دیا کہ وہ ان آنکھوں کو بھول جائیں اور مسکرا کر باتیں کریں۔

ان کے تاثرات یک دم بدل گئے۔ وہ مسکراتی ہوئی آگے بڑھیں۔ "آہا، یہ تو اپنا فرہاد ہے! بیٹا، کہاں رہے اتنے دن؟" ساتھ ہی وہ میری حیثیت اور مالی حالت کا اندازہ لگا رہی تھیں۔

اتنے میں ظہیر اندر داخل ہوا۔ اس کی داڑھی بڑھی ہوئی تھی، سر پر سفید ٹوپی، شلوار ٹخنوں سے کافی اوپر تھی، اور ہاتھ میں تسبیح تھی۔ وہ منہ ہی منہ میں کچھ پڑھتا ہوا آ رہا تھا۔ اندر داخل ہوتے ہی اس نے اسلامی طریقے سے سلام کیا۔ مجھے اتنی امید نہیں تھی کہ میرا تنویمی عمل اسے اس طرح صراطِ مستقیم پر لے آئے گا۔

چچا اسے غصے سے گھور رہے تھے۔ "یہ کیا حلیہ بنا رکھا ہے؟ دیکھا، فرہاد! یہ اس عمر میں دنیا چھوڑ کر بیٹھ گیا ہے۔ تو دنیا کے کام کون کرے گا؟"

میں نے نرمی سے کہا: "چچا جان، آپ خوامخواہ ناراض ہو رہے ہیں۔ اللہ اور رسول کا نام لینا گناہ تو نہیں۔ دنیا کے کام تو روز ہوتے ہیں، ایک دن عبادت کے لیے بھی ہونا چاہیے۔"

وہ فوراً بات بدل گئے۔
ظہیر اب نیچے قالین پر درویشانہ انداز میں آلتی پالتی مار کر بیٹھا تھا۔ زرینہ اسے دلچسپی سے دیکھ رہی تھی۔ تب ہی میرے ذہن میں زرینہ اور ظہیر کی شادی کا خیال آیا۔ میں نے زرینہ اور ظہیر کی سوچوں میں جا کر انہیں اس بات کے لیے قائل کیا۔ اس دوران چچی بار بار میری طرف تحسین آمیز نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔

میں نے ان کی سوچ میں کہا: "بیگم ناصر، کیا بات ہے؟ کس بات پر خوش ہو؟"
وہ ہڑبڑا کر سیدھی ہو گئیں۔ چور نظروں سے میری طرف دیکھتے ہوئے سوچنے لگیں: "کاش فرہاد مجھے ایک لاکھ روپے قرض دے دے۔ ناصر علی کل سے مجھ سے رقم کا تقاضا کر رہا ہے۔"

میں اور زرینہ کچھ دیر بیٹھ کر باتیں کرتے رہے، پھر گھر جانے لگے تو چچی ہمارے ساتھ ہو لیں۔ میرے گھر پہنچ کر وہ چاروں طرف نظریں گھما کر دیکھنے لگیں اور جھوٹی محبت جتانے لگیں۔

پھوپھی انہیں دیکھتے ہی غصے میں آ گئیں۔ میں نے پھوپھی کو ایک طرف لے جا کر پیار سے سمجھایا کہ جب دشمن خود چل کر گھر آ جائے تو اچھے طریقے سے بات کرنی چاہیے۔ وہ منہ بناتی رہیں۔ چچی جاتے وقت مجھے ایک طرف لے گئیں۔

"فرہاد، مجھے تم سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے۔"
میں اٹھ کر ان کے ساتھ اپنے کمرے میں چلا گیا۔ سامنے صوفے پر بیٹھ کر وہ نہایت لگاؤ اور منت سے بولیں: "فرہاد، مجھے ایک لاکھ روپے ادھار چاہیے۔ تمہارے چچا کو کچھ کام کے لیے فوری درکار ہیں، جبکہ میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں۔ بینک بھی بند ہے۔ میں بینک کھلتے ہی تمہیں لوٹا دوں گی۔"

"کیوں نہیں؟ ایک لاکھ دو لاکھ تو میرے پاس پڑے رہتے ہیں۔" یہ کہتے ہوئے میں نے دیوار میں موجود لوہے کی الماری کھولی۔ ایک لاکھ روپے گن کر چچی کی طرف بڑھائے۔

وہ نیازمندی سے جھکی جا رہی تھیں۔ پیسے پکڑے اور فوراً کمرے سے نکل گئیں۔
اگلی صبح میں نے چچی کے دماغ میں ظہیر اور زرینہ کی شادی کی بات ڈالنے کی کوشش کی۔ ان کی سوچ کو چھوا تو معلوم ہوا کہ وہ سخت پریشان ہیں۔ وہ پیسے جو میں نے انہیں دیے تھے، چوری ہو چکے تھے۔ وہ غصے سے تلملاتی ہوئی کمرے میں ادھر اُدھر چکر کاٹ رہی تھیں۔

"سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اب میں کیا کروں؟ ناصر سارا الزام مجھ پر ڈال دے گا۔ وہ تو پہلے ہی میرے بارے میں شک میں پڑے رہتے ہیں۔ بس، اس کا اب ایک ہی حل ہے۔ آج ذرا سا زہر ناصر کے لیے بنے ہوئے دودھ میں ڈال دوں گی۔ اسے مرنا ہی ہوگا۔"

میں عورت کی مکاری پر حیران رہ گیا۔ جس شوہر نے ساری عمر اپنی کمائی کا ایک ایک پیسہ اس عورت پر خرچ کیا، وہ اس کے ساتھ وفادار نہیں۔ وہ اسے جان سے مار ڈالنا چاہتی ہے۔ اس پل مجھے اس عورت سے شدید نفرت ہوئی۔

وہ چپ چاپ اٹھی، کچن میں جا کر دودھ گرم کیا اور اس میں زہر ملا دیا۔ میں نے اس کی سوچ میں کہا: "اب یہ دودھ لے جا کر اپنے کمرے میں رکھو۔"

وہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی کمرے میں آئی اور دودھ سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔
میں نے اس کی سوچ میں کہا: "اب ایک کاغذ اور قلم لے کر آؤ۔"
اس نے ڈریسنگ ٹیبل کی دراز سے ایک کاغذ اور بال پوائنٹ نکالا۔
"اب اس پر لکھو: 'میں نے اپنی مرضی سے یہ زہر ملا دودھ پیا ہے۔ میں زندگی سے اکتا گئی ہوں۔ یہ دنیا ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر جانا چاہتی ہوں۔'"
انہوں نے میری ہدایت کے مطابق ایک نوٹ تیار کیا۔
"اب یہ دودھ پی لو۔"

وہ دودھ اٹھا کر بیڈ پر بیٹھ گئیں اور غٹا غٹ دودھ پی لیا۔ اس کی سوچ میں آہستہ آہستہ اندھیرا چھانے لگا۔ ایسی عورت کا یہی انجام ہونا چاہیے تھا۔ میں اس کے بے جان دماغ سے نکل آیا۔

میں نے جلدی سے کچھ کپڑے اور زمینوں کے کاغذات سوٹ کیس میں رکھے۔ کچھ پیسے اور ضروری سامان پیک کیا۔ اب میری منزل میرے گاؤں شاہ پور کی حویلی تھی، جو چچا نے جعلی ملکیت کی دستاویزات بنانے پر اس جعلساز پٹواری کو تحفے میں دے دی تھی۔ میرا اگلا منصوبہ اس حویلی کو واپس لینا تھا، اور میں اپنے ارادے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں ذرا دیر نہیں کرنا چاہتا تھا۔

میں نے پھوپھی کو خدا حافظ کہا، سوٹ کیس اٹھا کر گاڑی میں رکھا، اور گاڑی سٹارٹ کی۔ چچا کے گھر پر خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ ابھی کسی کو چچی کے مرنے کی خبر نہیں ہوئی تھی۔

میں تیزی سے ڈرائیو کرتا ہوا شاہ پور کی طرف روانہ ہو گیا۔
شام کے چھ بجے میں اپنی حویلی کے دروازے پر کھڑا تھا۔ وہاں سے شادیانوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔ پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ کمبخت بوڑھا پٹواری دوسری شادی کر رہا ہے۔ کھلے حصے میں دیگیں پک رہی تھیں۔ چونکہ وہ اپنے کالے کرتوتوں سے علاقے کی مشہور شخصیت بن چکا تھا، پورے علاقے کے بڑے بڑے زمیندار بھی شادی میں آئے ہوئے تھے۔

ان سب نے مجھے کار سے اترتے دیکھ لیا تھا، لیکن پہچانا نہیں۔ میں نے پاس جا کر اپنا تعارف کروایا:
"میں فرہاد ہوں، تیمور علی مرحوم کا بیٹا۔ سنا ہے کہ میرے چچا نے یہ حویلی اس پٹواری کو رشوت میں دی تھی اور میری زمینوں کی جعلی دستاویزات بنوائی تھیں۔"

میں پٹواری کی شان میں گستاخی کر رہا تھا۔ کچھ لوگ طیش میں آ گئے۔
"ذرا تمیز سے بات کرو، صاحبزادے! یہ شہر نہیں، پنڈ ہے۔ ذرا اکڑ دکھائی تو تمہاری لاش ہی یہاں سے جائے گی۔"

"پنڈ کے لوگ بڑے دلیر ہوتے ہیں، لیکن ایمان دار بھی ہوتے ہیں۔ کسی کی بے ایمانی برداشت نہیں کرتے۔ اگر میں ثابت کر دوں کہ یہ شخص بے ایمان ہے تو کس کا ساتھ دو گے، میرا یا اس کا؟"

سب سوچ میں پڑ گئے، کیونکہ سب جانتے تھے کہ یہ حویلی میرے والد تیمور علی کی ہے اور پٹواری اس پر ناجائز قبضہ جمائے ہوئے ہے۔ بوڑھا پٹواری غراتے ہوئے میری طرف بڑھا۔

"تم پھر یہاں بک بک کرنے آ گئے ہو؟ پہلے آئے تھے تو بدن پر معمولی لباس تھا۔ اب حلیہ بدل کر آئے ہو۔ کہو تو مزاج بھی بدل دوں؟"

میں نے حویلی کی اصلی دستاویزات نکال کر اس کے سامنے لہرائیں۔ "پہلے حویلی کے کاغذات دیکھ لو، پھر اپنی بربادی پر روؤ گے۔"

وہ سرسری طور پر دیکھتے ہی سمجھ گیا کہ کاغذات اصلی ہیں۔ ایک عمر سے پٹواری تھا، کاغذات سونگھ کر بتا سکتا تھا کہ اصل کیا ہے اور نقل کیا۔ وہ اپنی بدحواسی چھپانے کے لیے کاغذات پر نظریں جمائے سوچ رہا تھا کہ آج ہی میری شادی ہے، اس مصیبت سے اب کیسے چھٹکارا حاصل کروں؟ پھر بناوٹی حقارت سے بولا:
"ان کاغذات کی کوئی حیثیت نہیں۔ اصلی کاغذات وہی ہیں جو ناصر علی کے پاس ہیں۔"

"ٹھیک ہے، نہ مانو۔ میں کل سے قانونی کارروائی شروع کروں گا۔ سوچا تھا کہ تم شرافت سے راہ راست پر آ جاؤ گے، لیکن تم جیسے اس طرح کہاں قابو آتے ہیں؟ اب تو یہ شادی بھی بربادی میں بدل جائے گی۔"

یہ کہہ کر میں جانے لگا تو وہ آگے بڑھ کر چالاکی سے بولا: "ٹھہرو، میری پوری بات سن لو۔ میں تمہارا دشمن نہیں ہوں۔ میرے ساتھ حویلی چلو۔ یہ موقع ایسا نہیں کہ میں تمہیں اس طرح ناراض کروں۔"

وہ مجھے حویلی کی بیٹھک میں لے گیا، پھر دروازہ بند کر کے منتیں کرنے لگا۔ میں نے اس کی باتوں کے دوران اس کی سوچ پڑھی تو معلوم ہوا کہ وہ اپ سے عمر میں بہت چھوٹی نوجوان لڑکی سے زبردستی شادی کرنا چاہتا ہے۔

یہ جان کر مجھے اس پر بہت غصہ آیا۔ اب تو اس کی بات سننا ہی فضول تھا۔
"کون ہے وہ لڑکی جس سے تم شادی کر رہے ہو، بڈھے؟" میں نے سختی سے پوچھا۔
وہ جھینپ گیا اور سوچنے لگا: "یہ تو میں بھول ہی گیا کہ فرہاد جوان لڑکا ہے، حسن پرست ہوگا۔ اسے کسی ایسی ہی رہ سے قابو کرنا چاہیے۔"
"بولو، کیا وہ لڑکی خوبصورت ہے؟"
"آں… ہاں، بیٹا، میں دستاویزات کی بات کر رہا ہوں!"
"حق بحق دار رسید۔ میں اپنا حق لے کر رہوں گا۔ فی الحال تمہارے سامنے دو شرطیں ہیں: پہلی، حویلی فوراً میرے نام کر دو۔ دوسری، یہ شادی منسوخ کر دو۔"

وہ ہکا بکا رہ گیا۔ دل ہی دل میں بل کھانے لگا، گالیاں دینے لگا، اور آخر میں میرے پاؤں پڑ گیا۔
"تمہارے پاس دو گھنٹے کی مہلت ہے۔ جاؤ، جا کر میری دونوں شرائط پر عمل کرو۔"

وہ ہاتھ باندھ کر اپنی ہونے والی بیوی کو میرے سامنے پیش کرنے کی بات کرنے لگا: "مجھے معاف کر دو۔ میری شادی ہو جانے دو۔ میں اسے پہلی رات تمہارے پاس چھوڑ جاؤں گا۔ وہ سولہ سترہ سال کی ہے۔ تمہارا دل خوش ہو جائے گا۔"

میں نے نفرت سے اسے دھکا دیا۔ یہ معزز اور عزت شناس دلال اپنی نو بیاہتا بیوی کی دلالی کر رہا تھا۔ "تم ایک شریف آدمی کی بیٹی کو میرے سامنے رشوت کی طرح پیش کرنا چاہتے ہو؟ لیکن میں اس سے رہنی رہوت لوں گا۔ تم اپنی بیٹی لے آؤ!"

وہ کر کرتھر کانپہ لگے، اپنے بال نوچنے لگے، اور دل ہی دل میں نہایت چالاکی سے پاگل بننے کا منصوبہ بنانے لگا۔
"صرف دو گھنٹے کی مہلت دے دو۔ ابھی تم آرام کرو، میں کچھ کرتا ہوں۔"
وہ مجھے چھوڑ کر کمرے سے باہر چلا گیا۔ کچھے دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی۔ ایک لڑکی اندر چلی آئی۔ چھم سے پازیب بجی۔ گلابی رنگ کے لباس میں کھلتا گلاب، گورے چمکدار بدن سے چاندنی پھوٹ رہی تھی۔ چہرہ شہابی، بڑی بڑی آنکھیں۔

وہ شربت کی ٹرے اٹھائے اندر آئی۔ قریب آ کر اس نے مجھے سلام کیا اور شربت کو میز پر رکھ کر اپنے حنائی ہاتھ سے گلاس میں شربت انڈیلنے لگی۔ میں سمجھ گیا کہ پٹواری کی چال کیا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے