دیوتا - 6

devta urdu novel urdu font

وہ شربت کی ٹرے اٹھائے اندر آئی۔ قریب آ کر اس نے مجھے سلام کیا اور شربت کو میز پر رکھ کر اپنے حنائی ہاتھ سے گلاس میں شربت انڈیلنے لگی۔ میں سمجھ گیا کہ پٹواری کی چال کیا ہے۔

میں نے پوچھا: "شربت زیادہ میٹھا تو نہیں؟"
"نہیں، میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے۔"
"پھر تو اس شربت میں مہندی کی خوشبو بھی رچی ہوگی۔"
وہ شرما کر بل کھاتی رہ گئی، جیسے پھولوں بھری ڈالی لچک جائے۔
"کون ہو تم؟"
"شادو۔ میں دینا پٹواری کی… بیٹی ہوں۔"

میں اس کے جھجھکنے پر غور نہ کر سکا۔ یہ دیکھ کر میرے ذہن کو جھٹکا لگا کہ یہ کمینہ بوڑھا اپنا مطلب نکالنے کے لیے اپنی بیٹی کو پیش کر رہا ہے۔

"پہلے تم یہ شربت پی کر دکھاؤ۔ کہیں میرے دشمن نے اس میں کچھ ملایا ہوا نہ ہو۔"
"میرے ابا کبھی آپ کے دشمن تھے، اب نہیں ہیں۔ میں قسم کھاتی ہوں، اس شربت میں کچھ نہیں ہے۔ آپ اتنے اچھے ہیں، اتنے اچھے کہ میں کتنی دیر سے آپ کو چھپ چھپ کر دیکھ رہی ہوں۔"
شادو نے ایک ادا سے اپنے حسن کا تیر پھینکا۔
"یہ گلاس پی کر ثبوت دو۔ میں تمہاری باتوں میں نہیں آنے والا۔"
اس نے مسکرا کر مجھے دیکھا، پھر شربت کا گلاس بھرا اور غٹا غٹ پی گئی۔ پھر ایک گلاس بھر کر میری طرف بڑھایا۔

میں نے اس کے ہاتھ سے شربت کا گلاس لے کر اس کی سوچ کو ٹٹولنا شروع کیا۔ وہ اندر سے کہہ رہی تھی: "ایسے باپ پر ہزار لعنت، جو اپنے فائدے کے لیے اپنی بیٹی کو کسی مرد کی تنہائی میں بھیجے۔"

وہ سوچنا چھوڑ کر بولی: "آپ ابا کو معاف کر دیں۔ وہ بہت پریشان ہیں۔ آج اگر ان کی شادی جمیلہ سے نہ ہوئی تو ساری برادری میں ان کی ذلت ہوگی۔"

شادو مجھے الجھا رہی تھی۔ اپنے حسن کو پلیٹ میں رکھ کر دعوت دے رہی تھی، اکسا رہی تھی۔ میں اس دعوت نامے کی خاموش تحریر کو سمجھ رہا تھا، جیسے وہ کہہ رہی ہو:
گر قبول افتد زہے عز و شرف
(میرا ابا انتظار کر رہا ہے۔)

ایسی حسین دعوت کون سا مرد ٹھکراتا ہے؟ لیکن اگر میں اسے قبول کر لیتا تو جمیلہ کی زندگی ہمیشہ کے لیے دینا پٹواری کے جہنم میں جھونک دی جاتی۔

"اب تم جاؤ اور اپنے باپ کو یہاں بھیجو،" میں نے اس بار سختی سے کہا۔
"آپ میرے ابا کی مجبوریوں کو سمجھ گئے ہیں ناں؟"

اس نے دونوں ہاتھوں سے میرا ہاتھ تھام لیا۔ اس کے نرم ملائم ہاتھوں کی گرمی میرے ہاتھ کے راستے آہستہ آہستہ میرے خون میں گردش کرنے لگی۔ عورت کو مرد کو معمول بنانے کے لیے کسی لفظ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ میں نے اس کی آنکھوں کو اپنی گرفت میں لے کر حکم دیا:

"میرا ہاتھ چھوڑو اور اپنے باپ کو میرے پاس بھیجو۔"
اس کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔
"اپنے باپ کو کہاں سے بھیجوں؟"
"کیا مطلب؟"

"مطلب یہ کہ میرا باپ بہت سال پہلے مر چکا ہے۔ دینا پٹواری میرا باپ نہیں، میرا سرپرست ہے۔ وہ مجھے بیٹی کہتا ہے، سمجھتا نہیں۔ اپنے فائدوں کے لیے مجھے دوسروں کے آگے پیش کرتا ہے۔ بدلے میں بڑے بڑے افسروں اور زمینداروں سے اپنے کام نکلواتا ہے۔"

دینا پٹواری کا یہ کریہہ چہرہ دیکھ کر مجھے اس سے ذرا سی ہمدردی بھی نہ رہی۔ میں افسوس سے اس معصوم لڑکی کو دیکھتا رہا، جسے ابھی کسی جوان سے محبت کرنی تھی، ایک گھر کے خواب دیکھنے تھے، اور وہ پٹواری جیسے گھٹیا درندے کے ہتھے چڑھ گئی تھی۔

"تم کسی کو پسند کرتی ہو؟ میرا مطلب، اگر تمہاری زندگی میں کوئی ہے تو میں تمہاری اس سے شادی کروا دیتا ہوں۔"

وہ سر جھکائے بولی: "میں تمہیں چھپ کر دیکھ رہی تھی۔ تم مجھے بہت اچھے لگے ہو۔ کیا تم مجھ سے شادی کرو گے؟"

میں گڑبڑا گیا۔ "مجھے اپنی زندگی میں بہت سے کام دیکھنے ہیں۔ تم مجھے بھول جاؤ۔ میں فی الحال شادی نہیں کرنا چاہتا۔" میں نے اس کی امید بھری نظروں سے اپنی آنکھیں ہٹا لیں۔ "تم اب جاؤ اور پٹواری کو بھیجو۔" میں نے اس کی سوچ میں حکم دیا۔

وہ مایوسی سے اٹھی اور دروازہ کھول کر چلی گئی۔
کچھ دیر بعد پٹواری اندر داخل ہوا۔ اس کے چہرے سے بے چینی عیاں تھی۔ میں اٹھ کر اس کے مقابل کھڑا ہوا۔
"بتاؤ، تمہارا کیا فیصلہ ہے؟ میرے پاس اتنا وقت نہیں۔"
"کون ہو تم؟ میں تمہیں نہیں پہچانتا۔"

میں نے دل میں حیران ہوتے ہوئے اس کی سوچ پڑھی۔ وہ پاگل ہونے کی اداکاری کر رہا تھا۔ مجھے اس وقت پٹواری سے نمٹنے کا راستہ مل گیا۔ میں نے اس کے ذہن میں جا کر اسے مزید پاگل بننے پر مجبور کر دیا۔ وہ قہقہے لگانے لگا، کبھی اپنے بال نوچنے لگتا، کبھی مرغا بن کر اذان دینے لگتا۔ سب لوگ اس کے گرد جمع ہو گئے۔ اس کے گھر والوں نے اسے پکڑ کر ایک درخت سے باندھ دیا۔

میں نے سب سے کہا:
"آپ سب گواہ ہیں۔ جب میں نے اس پٹواری کو اپنی حویلی کے کاغذات دکھائے تو وہ ذہنی توازن کھو بیٹھا۔ اپنے بال نوچنے لگا۔ میری آپ سے درخواست ہے کہ عدالت جانے کی بجائے ہم آپس میں معاملات طے کر لیں۔ آپ سب مل کر میرا حق مجھے واپس دلوانے میں مدد کریں اور اس پٹواری کو میری حویلی سے نکال باہر کریں۔ اس کے ساتھ ہی میرا حکم ہے کہ جمیلہ کی شادی پٹواری سے نہیں ہوگی۔"

وہ سب میری ہاں میں ہاں ملانے لگے۔ وہاں موجود گاؤں کے سرپنچ نے حویلی خالی کرنے کا حکم دیا۔ میں اس معاملے سے فارغ ہونے کے بعد حویلی آ گیا۔

میں نے اپنے کمرے کا دروازہ بند کر کے بیڈ پر لیٹ گیا۔ رات گہری ہو چکی تھی۔ گھر میں خاموشی چھائی ہوئی تھی کہ اچانک شور سے میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے کھڑکی کھول کر دیکھا تو سامنے پٹواری کا بیٹا درخت سے بندھے ہوئے باپ کے سامنے جھکا ہوا تھا۔

میں نے فوراً اس کی سوچ میں جا کر دیکھا۔ وہ اپنے باپ کو مار کر اسے ایک پاگل کی خودکشی ثابت کر کے ساری دولت ہتھیا لینا چاہتا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھری تھی، جو دینا پٹواری کے دل میں پیوست تھی۔ اس نے چھری کے دستے پر اپنے باپ کے دونوں ہاتھ رکھے اور وہاں سے بھاگ گیا۔

میں نے تاسف سے کھڑکی بند کر دی۔ بڑی عجیب بات تھی۔ میں نے اپنی زندگی میں ہمیشہ اپنے لالچی دشمنوں کو ان کے سگے رشتوں کے ہاتھوں مرتے دیکھا۔

میں بیڈ پر بیٹھا آنے والے واقعات کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ ہلکی سی دستک سے چونک گیا۔ دروازہ کھولا تو سامنے شادو ہاتھ ملتی ہوئی کھڑی تھی۔ میں نے حیران ہوتے ہوئے اسے اندر آنے کا اشارہ کیا۔ وہ چوڑیوں کا جلترنگ بجاتی ہوئی کمرے میں آ گئی۔ اس کی نظریں جھکی ہوئی تھیں۔

میں نے سخت لہجے میں حکم دیا: "دروازہ کھول دو اور میرے کمرے سے چلی جاؤ۔"

وہ کچھ سہم کر پیچھے ہٹ گئی۔ دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپا کر بولی:
"میں آپ کی طرف نہیں دیکھ سکتی۔ پتا نہیں آپ کی آنکھوں میں کیا ہے۔ جب پہلی بار آپ کی آنکھوں میں دیکھا تو میں سحر زدہ ہو گئی۔ میرا دل آپ کی طرف کھنچا چلا جاتا ہے۔ دل کرتا ہے آپ کی آغوش میں آ کر مر جاؤں۔"

اس کی باتوں اور لہجے میں خود کو میرے سپرد کر دینے کی محبت اور دیوانگی نے میرا دل نرم کر دیا۔ میں نے آہستگی سے کہا:
"تم ایک مظلوم لڑکی ہو۔ میں تمہیں کھلونا سمجھ کر نہیں کھیل سکتا، نہ تمہیں اپنا سکتا ہوں۔ تم یہاں سے چلی جاؤ۔ یہ میرا حکم ہے۔"

"نہیں، میں یہ نہیں کر سکتی،" وہ نفی میں سر ہلاتی ہوئی بولی۔ "آپ کی آنکھوں میں جادو ہے۔ آپ کوئی پراسرار علم جانتے ہیں۔ ایک کمزور عورت پر اپنا علم کا زور چلانا مردانگی نہیں ہے۔"

مجھے جھٹکا لگا۔ واقعی وہ ٹھیک کہہ رہی تھی۔ میں مرد تھا، مضبوط قوت ارادی کا مالک۔ ایک کمزور عورت کو کنٹرول کرنے کے لیے ہپناٹزم کی ضرورت نہیں تھی۔

"ٹھیک ہے، میں تمہاری آنکھوں میں نہیں دیکھوں گا۔ تم اپنے چہرے سے ہاتھ ہٹاؤ اور میری بات غور سے سنو۔"

اس نے آہستہ سے اپنے ہاتھ ہٹائے۔ لیکن ہم بھول جاتے ہیں کہ ہمیں ہپناٹزم سیکھنا پڑتا ہے، جبکہ یہ غزالی آنکھوں والی سیکھی سکھائی ہوتی ہیں۔ واقعی مجھے اس بات کا خدشہ تھا کہ وہ اپنی ہرنی جیسی آنکھوں سے مجھے معمول بنا لے گی۔ میں نے اس کی آنکھوں سے نظر چُرائی تو اس کے پنکھڑیوں جیسے کھلتے لبوں پر ٹھہر گئیں۔

آدم کی جنت سے لے کر اولاد آدم کی زمین تک، اسی طرح عورت مرد کے ارادے کو کاٹتی آئی ہے۔ اس میدان میں وہ حسن و شباب، رنگ و بو، نگاہوں اور اداؤں کے کتنے ہی دل لیوا اور جان لیوا ہتھیاروں سے لیس ہوتی ہے، اور مرد بالکل نہتا ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں باپ دادا کی نصیحتیں ہوا ہو جاتی ہیں۔ شر سے بچنے کی جتنی دعائیں ہوتی ہیں، وہ اٹک اٹک کر دماغ میں آنا بھول جاتی ہیں۔

اب میں نے سوچا کہ یہ تو کفرانِ نعمت ہے۔ بے چاری خود چل کر میرے قریب آئی ہے۔ اس کے دل میں سینکڑوں ارمان ہیں۔ کسی کا دل توڑنا ویسے بھی بہت بڑا گناہ ہے۔ یہ بداخلاقی ہے۔ ہماری تہذیب میں اس بات کی خاصی گنجائش ہے۔ وقت اور ماحول کے مطابق حرام کو حلال اور ناجائز کو جائز قرار دینے کی بہت سی تاویلیں ہمیں مل جاتی ہیں۔

وہ میرے بالکل قریب آ گئی، اتنی قریب کہ اب کائنات میں صرف وہی رہ گئی تھی، اس کے علاوہ کوئی نہیں۔ میں اور وہ سندر نگری کے سحر میں کھو گئے۔ حسن نے سب پردے اٹھا دیے۔ رات بھیگتی رہی، اور میں اس پری وش کی چاندنی سے سیراب ہوتا رہا۔ اگلی صبح مجھے جانا تھا، لیکن شادو کے طلسم ہوش ربا نے دو دن مجھے جکڑے رکھا۔

تیسرے دن میں بمشکل اس کے آنسوؤں اور اس کے لبوں کے طلسم سے آزاد ہو کر واپس پلٹ آیا۔

وہاں چچی کے مرنے کی خبر میری منتظر تھی۔ میں افسوس کے لیے چچا کے گھر آیا تو غزالہ سے سامنا ہو گیا۔ وہ اپنے دوست قاسم کے ساتھ پنڈی سے واپس آ چکی تھی اور مجھ میں خاصی دلچسپی لے رہی تھی۔ میں چچا کے کمرے میں گیا تو وہ اداس اور تھکے ہوئے ایک کونے میں کرسی پر بیٹھے تھے۔ مجھے دیکھ کر بولے:

"یہ نہ کہنا کہ تمہیں اس عورت کے مرنے پر خوشی ہوئی ہے، جس نے تمام عمر تمہیں اذیت دی۔"

"دکھ تو ہوتا ہے۔ موت چیز ہی ایسی ہے، چاہے وہ ہمارا دشمن ہی کیوں نہ ہو۔ وہ تو پھر آپ کی بیوی تھیں۔" میں نے افسوس سے سر ہلاتی ہوئے کہا۔

"نام نہ لو میرے سامنے اس منحوس عورت کا۔ پورے خاندان میں مجھے بدنام کر کے رکھ دیا۔ سب پوچھ رہے ہیں کہ تمہاری بیوی نے خودکشی کیوں کی؟ میرے سارے پیسے، زیورات، اور جائیداد پتا نہیں کن عاشقوں پر لٹا گئی۔ میں نے اس عورت کی خاطر تمہارا دل دکھایا، تمہارا حق مارا۔ میرے پاس پچھتاوے کے علاوہ کچھ نہیں۔"

وہ بولتے بولتے رونے لگے۔ "فرہاد، مجھے معاف کر دو۔ میں نے تمہارے ساتھ بہت برا کیا۔ پتا نہیں میں تمہارا قرض کیسے اتاروں گا۔"

مجھے پتا چل رہا تھا کہ چچا حقیقتاً شرمندہ ہیں۔ میں نے ان کو تھپکتے ہوئے کہا:
"چچی بہت نیک عورت تھیں۔ ان کے لیے ایسے الفاظ نہ کہیں۔ مرنے سے چند دن پہلے انہوں نے مجھے اپنی ساری جائیداد اور پیسے لوٹا دیے تھے۔ زمینوں کے کاغذات بھی میرے حوالے کر دیے۔ آپ ان کے لیے برے الفاظ استعمال نہ کریں۔"

وہ حیران اور پریشان مجھے دیکھتے رہے۔ پھر دھیمے لہجے میں بولے: "فرہاد، تم اپنی ساری دکانیں وغیرہ بھی واپس لے لو۔ میں تمہارا شکر گزار ہوں گا اگر تم مجھے معاف کر دو۔"

میں نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا: "چچا، یہ دکانیں آپ رکھیں اور ان کی آمدنی بھی۔ مجھے یہ سب نہیں چاہیے۔ میں نے آپ کو معاف کیا، آپ غم نہ کریں۔"

یہ کہہ کر میں ان کے کمرے سے نکل کر ڈرائنگ روم میں آ گیا، جہاں غزالہ اپنے دوست قاسم کے ساتھ ہنسی مزاق میں مصروف تھی۔ درحقیقت قاسم ہی وہ شخص تھا جس نے غزالہ کے ساتھ مل کر چچی کے ایک لاکھ روپے چرائے تھے۔ یہ سب مجھے غزالہ کی سوچ سے معلوم ہوا۔

غزالہ مجھے دیکھ کر کھل اٹھی، جبکہ قاسم یہ سب دیکھ کر اندر ہی اندر پیچ و تاب کھا رہا تھا۔ میں نے غزالہ کی سوچ میں جھانکا۔ وہ سوچ رہی تھی: "یہ فرہاد کتنا ڈیشنگ ہو گیا ہے، اور دولت بھی خوب ہے۔ کیوں نہ اسے اپنے جال میں پھنسایا جائے۔" اس کی سوچ سے مجھے پتا چلا کہ قاسم اور وہ دونوں جوا کھیلنے کے عادی ہیں۔ میں اس کی مکاری پر حیران تھا۔ وہ بالکل اپنی ماں پر گئی تھی۔

قاسم اور غزالہ نے مجھے سینما جا کر فلم دیکھنے کی دعوت دی تو میں سوچ میں پڑ گیا۔ مجھے سمجھ آ گئی کہ ان کی نظر میری جیب پر ہے۔ غزالہ اپنی ماں کی موت کو قطعی فراموش کر کے مکمل تفریح کے موڈ میں تھی۔

میں نے اس کے ساتھ پرانا حساب چکانے کا فیصلہ کر لیا۔ ہم تینوں فلم دیکھنے چلے گئے، پھر وہاں سے شبانہ کلب چلے گئے۔ کسی نائٹ کلب میں فلیش کھیلنے کا یہ میرا پہلا تجربہ تھا، جو بہت کامیاب رہا۔ قاسم اور غزالہ بری طرح ہار گئے۔ میں نے ان سے تقریباً اسی ہزار روپے جیت لیے۔

غزالہ نے قاسم کو حقارت سے دیکھا، جو مجھ سے ہار کر تقریباً رونے والا ہو چکا تھا۔ وہ سوچ رہی تھی: "یہ روپے اب میں فرہاد سے وصول کروں گی۔"

"فرہاد، مجھے گھر تک چھوڑ دو۔ بہت تھک گئی ہوں،" اس نے ایک ادا سے ہاتھ اوپر اٹھا کر کہا۔

میں اسی انتظار میں تھا۔ فوراً اس کا ہاتھ تھام کر گاڑی تک لے آیا۔ اس کے جسم سے شہنیل کی دھیمی مسحور کن مہک اٹھ رہی تھی۔ اس نے میرے ہاتھ کو تھپکتے اور سہلاتے ہوئے چھوڑ دیا۔ جب میں نے اسے گیٹ پر اتارا تو وہ اپنی طرف سے مجھے اپنے جال میں پھنسا چکی تھی۔

میری فتح کو منانے کے لیے غزالہ مجھے اپنے بیڈروم میں لے آئی۔ دراصل وہ مجھ سے ہارے ہوئے پیسے واپس نکلوانا چاہتی تھی۔ کمرے میں لا کر اس نے مجھے وہی پرانی آفر کی تو مجھے اپنی برسوں پرانی ذلت یاد آ گئی۔ ورنہ غزالہ کا حسن بلا خیز کسی مرد کے ٹھکرانے کی چیز نہیں تھا۔

"آؤ، فرہاد! دوستی کر لو۔ پرانی باتیں بھول جاؤ۔ آج سے ہم ایک خوبصورت شروعات کرتے ہیں۔"

اس نے اپنا مرمریں ہاتھ میرے کاندھے پر رکھ کر میری آنکھوں میں دیکھا۔ اس وقت وہ سراپا قیامت تھی اور مجھ پر نثار ہونے کے لیے تڑپ رہی تھی۔

"چلو، ٹھیک ہے۔ پھر سے وہیں شروع کریں، اسی دن سے۔ تم بیڈ پر لیٹ جاؤ، میں کمرے میں آتا ہوں۔"

میں نے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔ وہ فوراً بیڈ پر لیٹ گئی اور اپنی آنکھوں پر اپنا بازو رکھ لیا۔ میں دروازے سے باہر جا کر دستک دے کر دوبارہ اندر آیا۔ اس نے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھا کر کہا:

"آؤ، فرہاد! ہم دوست بن جائیں۔"
اس لمحے مجھے اس سے اس قدر نفرت ہوئی کہ میں نے اس کے اوپر تھوک دیا۔
"منحوس عورت! مجھے دس ہزار بار بھی موقع ملے تو میں تمہارے ساتھ یہی کروں گا۔"

میں نے پلٹ کر دروازہ کھولا اور تیز قدموں سے چلتا ہوا کوٹھی سے نکل آیا۔ اس دوران میں اس کے دماغ میں موجود تھا۔ وہ ہذیانی انداز میں چیخ رہی تھی، تلملا رہی تھی، اور انتقام کی آگ میں جل رہی تھی۔ زخم کھائی ہوئی ناگن کی طرح بل کھاتی ہوئی کمرے میں چکر کاٹ رہی تھی۔

میں نے لعنت بھیج کر اس کے دماغ سے نکل آیا۔ اس وقت مجھے پر سکون دماغی مشقوں کی اشد ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔ اس کے لیے میں راوی کے کنارے درختوں کے جھنڈ میں اپنی پرانی جگہ چلا آیا۔ میں وہاں بیٹھ کر دنیا سے دور اپنے دماغ کی بھول بھلیوں میں کھو جاتا۔ شاہینہ اور اس کے پسندیدہ شخص کی خیر خبر لینا بھی ضروری تھا۔ اب میں شاہینہ کی جلد از جلد شادی کر دینا چاہتا تھا۔

ایک شام میں معمول کی مشقوں میں مصروف تھا کہ میری آنکھوں میں روشنی کے جھماکے ہونے لگے۔ اس کا مطلب تھا کہ کوئی میری تنہائی میں مخل ہو رہا ہے۔ میں نے یک دم آنکھیں کھول کر دیکھا۔ دور سے کچھ لوگ میری طرف آتے دکھائی دیے۔ وہ تعداد میں تین تھے۔ ان میں سے جو آگے آگے چل رہا تھا، وہ غزالہ کا پرانا بوائے فرینڈ قیصر تھا۔ اس کے ساتھ دو ہٹے کٹے بدمعاش ٹائپ آدمی ہاتھوں میں ہاکیوں کے ساتھ میری طرف بڑھ رہے تھے۔

"اچھا، تو غزالہ بیگم نے انہیں انتقام لینے کے لیے بھیجا ہے،" میرے دماغ میں فوراً جھماکہ ہوا۔

مجھے غزالہ سے اس طرح کی امید تو تھی، لیکن اتنی جلدی نہیں۔ میں سوچ رہا تھا کہ اتنے میں تینوں قریب آ گئے۔ اس طرح کی لڑائی میں تنویمی عمل یا خیال خوانی کام نہیں آتی تھی۔ مجھے ان سے جسمانی طور پر مقابلہ کرنا تھا۔ قیصر میری طرف دیکھ کر قہقہہ لگا کر بولا:

"ذرا اپنے پیچھے بھی دیکھ لو، پھر آگے بڑھنا۔"
میں نے مڑ کر دیکھا تو میرے پیچھے چار بدمعاش کھڑے تھے۔ ان میں سے ایک اچھرے کا مشہور غنڈہ اور کرائے کا قاتل رامے شاہ تھا، جس کے ہاتھ میں تیز دھار چاقو تھا۔

پہلی بار میں نے اپنے دل میں بے بسی کو اترتے ہوئے محسوس کیا۔ پھر دوسرے پل اسے جھٹک کر مقابلے کے لیے تیار ہو گیا۔ میں نے اپنے ذہن میں لڑائی کی منصوبہ سازی کرنے کے بعد پیچھے ہٹنا شروع کر دیا۔ وہ آگے آنے لگے۔ پھر میں پیچھے ہٹتے ہوئے ان پر پل پڑا۔ کچھ دیر بعد پھر یہی طریقہ اختیار کیا۔ میں نے تین لوگوں کو بری طرح زخمی کر دیا اور رامے شاہ کے سر پر ہاکی دے ماری۔ لیکن اس لڑائی میں میں بری طرح زخمی ہو چکا تھا۔ رامے شاہ کو گرتے دیکھ کر باقی لوگ ڈر گئے۔ وہ بزدل تھے، ورنہ میں اس وقت لڑنے کی پوزیشن میں نہیں رہا تھا۔ مجھے لگ رہا تھا جیسے میری ہڈیاں کئی جگہ سے ٹوٹ گئی ہوں۔ جونہی میں نے رامے شاہ کا چاقو چھینا، وہ اپنی ہاکیوں کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔

میں زمین پر گر پڑا۔ میرے سر سے خون بہہ رہا تھا، اور آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا تھا۔ میں نے موت کے انتظار میں آنکھیں بند کر لیں۔ اب کوئی آئے اور مجھے ذبح کر ڈالے، تب بھی نہیں اٹھوں گا۔ زندگی کے لیے جتنا لڑنا تھا، لڑ چکا۔ اب تو مرتے وقت آرام آ رہا تھا۔ میرا جسم ڈھیلا پڑ چکا تھا، آنکھیں یوں پھیل گئیں جیسے پتھر ہو گئی ہوں۔

پھر میری آنکھیں بند ہوتے ہوتے رہ گئیں۔ میرے کان کھڑے ہو گئے۔ کسی کے بھاری بھرکم قدموں کی آہٹ سنائی دے رہی تھی۔

آہ، شاید دشمن آ گئے۔
نہیں، شاید کوئی ہمدرد آ رہا ہے۔
قدموں کی آواز قریب آ کر رک گئی۔
"کون ہے بے، تو؟"

میں نے بمشکل آنکھیں کھول کر دیکھا۔ مجھ سے کچھ فاصلے پر کوئی کھڑا تھا۔ رات کی تاریکی میں صرف اس کا سفید لباس نظر آ رہا تھا۔ کوئی لمبا سا جبہ پہنے ہوئے تھا۔ اس کی کرخت آواز سے لگ رہا تھا کہ وہ کوئی اچھا آدمی نہیں تھا۔

پھر وہ قریب آ گیا۔ ہمارے درمیان ایک شعلہ لپکا۔ لائیٹر کے ننھے سے شعلے میں اس کا سیاہ چہرہ اور بڑی بڑی سرخ آنکھیں نہایت خوفناک لگ رہی تھیں۔ اس کی مونچھیں منگولین ٹائپ تھیں۔ وہ مجھے یوں ٹٹول رہا تھا جیسے قربانی کے جانور کو دیکھتے ہیں۔ پھر خوشی سے دانت نکال کر کہنے لگا:

"تگڑا ہے، بھئی، تگڑا ہے۔ کافی خون بہہ چکا ہے، لیکن ایک بالٹی اور نکل آئے گا۔ ابے، کون تجھے یہاں مرنے کے لیے چھوڑ گیا ہے؟"

میں نے بولنے کی کوشش کی، لیکن لب ہل کر رہ گئے۔ اس نے حقارت سے کہا: "سالا، بول بھی نہیں سکتا۔ کوئی بات نہیں، میں لے جاؤں گا، آرام سے لے جاؤں گا۔"

اس نے لائیٹر بجھایا اور میرے بال مٹھی میں لے کر گھسیٹنے لگا۔ مجھے شدید درد کا احساس ہوا۔ پہلے ہی تکلیف سے سانس لینا دشوار تھا۔ میں بے ہوش ہو گیا۔

میں وقتی طور پر مر چکا تھا۔ نہ جانے کتنا وقت گزر چکا تھا۔ پھر رفتہ رفتہ مجھے ہوش آنے لگا۔ پہلے قوتِ سماعت جاگی۔ کانوں میں دھیمی دھیمی آوازیں آنے لگیں۔ میں صاف طور پر کچھ سن نہیں پا رہا تھا۔ شاید کوئی زیر لب بڑبڑا رہا تھا۔ دماغ پر دھند چھائی ہوئی تھی۔ میں آنکھیں بند کیے سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ میں کون ہوں، کہاں ہوں۔

پھر یاد آیا کہ غزالہ کے انتقام نے مجھے موت کے منہ میں دھکیل دیا تھا۔ میں زخموں سے چور ہو کر گرا تھا، پھر ایک بے رحم قصائی آیا تھا، اور مجھے کوئی ہوش نہ رہا۔

میں نے کروٹ بدلنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ میں رسیوں سے اس طرح بندھا ہوا ہوں جیسے سانپ کے انداز میں بازوؤں سے لے کر ٹانگوں تک لپیٹ دیا گیا ہو۔ میں حرکت نہیں کر سکتا تھا، صرف رول ہو سکتا تھا۔ میں نے ٹھنڈی سانس بھر کر ادھر اُدھر دیکھا۔ میں سوکھی اور زرد گھاس پر الٹا پڑا ہوا تھا۔

یہ ایک کچا مکان تھا۔ چھت سے لٹکے ہوئے چھینکے میں تین چھوٹی بڑی ہانڈیاں لٹکتی ہوئی نظر آئیں تو مجھے بھوک لگنے لگی۔

میں نے رسیوں کو توڑنے کے لیے زور آزمائی کی، لیکن ہانپنے لگا۔ رسیوں کو کوئی فرق نہ پڑا۔ میں نے بے بسی سے دروازے کی طرف دیکھا تو دوسری طرف ایک اور کمرہ نظر آ رہا تھا۔ وہ بڑبڑانے کی آواز وہیں سے آ رہی تھی۔

اس دروازے تک پہنچنے کے لیے میں لڑھکتا ہوا آگے آیا۔ میں دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ کون ہے اور کیا کر رہا ہے۔ میں آہستہ آہستہ فرش پر لڑھکتا ہوا دروازے تک پہنچ گیا۔

دوسرے کمرے کے عین وسط میں وہی رات والا درندہ نما شخص آلتی پالتی مارے بیٹھا تھا۔ اس کے ہاتھ قینچی کی شکل میں گردن کے ساتھ لگے ہوئے تھے۔ وہ سرخ آنکھیں سامنے مرکوز کیے کوئی منتر پڑھ رہا تھا۔ اس کے سامنے ایک آلہ رکھا ہوا تھا، جس سے مجرموں کے سر قلم کیے جاتے ہیں۔

میں نے سوچا کہ گھبرانے اور پریشان ہونے سے بہتر ہے کہ سکون سے کوئی تدبیر کی جائے، کیونکہ اس شخص کو ہپناٹزم سے زیر نہیں کیا جا سکتا تھا۔ کالے علم اور جادو کے ماہر لوگوں کی سوچ تک رسائی آسان نہیں ہوتی۔ میں سکون سے لیٹ گیا۔

میں نے فیصلہ کیا کہ خیال خوانی کے ذریعے اس کی سوچ کو پڑھ کر ہی کوئی مدد مل سکتی ہے۔ میں وہیں لیٹے لیٹے مراقبے میں چلا گیا۔

وہ کسی اجنبی زبان میں کچھ بڑبڑا رہا تھا۔ میں نے اس کی سوچ میں حکم دیا: "بند کرو یہ منتر، رک جاؤ، یہ جاپ بند کرو۔"

میری سوچ کی لہریں جیسے کسی پتھر سے ٹکرا کر واپس آ گئیں۔ وہ بدستور منتر پڑھتا رہا۔ اس وقت مجھے اپنی کم علمی کا احساس ہوا۔ اب تک میں نے کسی علم والے پر اپنی صلاحیتوں کو نہیں آزمایا تھا۔

عجیب بے بسی کا عالم تھا۔ میں نے زور زور سے چیخنا شروع کر دیا کہ شاید کسی تک میری آواز پہنچ جائے۔ اس شخص کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ میں شور مچائے چلے جا رہا تھا کہ اچانک باہر سے آواز سنائی دی۔ پائل بج رہی تھی۔

میں چونک کر آواز کو سننے لگا۔ چھم… چھم… چھم… پائل دوڑتی ہوئی ادھر اُدھر بھاگ رہی تھی۔ پھر دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ اس کمرے کے پیچھے بھی کوئی کمرہ تھا، جہاں سے وہ داخل ہوئی اور اجنبی کے عین سامنے والے دروازے کو کھول کر اندر آ گئی۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے