غیرت مند لڑکی - آخری حصہ

Sublimegate Urdu Stories

میری غیرت بیدار ہو گئی۔ میرا جسم اتنی زور سے کانپا جیسے کسی غیبی قوت نے مجھے ہلا کر کہا ہو۔ آبرو کی خاطر مسلمان بیٹیاں جان پر کھیل جاتی ہیں۔

تم اتنی جلدی ہار گئیں خدا کی ذات سے مایوس نہ ہو لڑکی۔ ہوش میں آیا وہ دروازہ بند کرکے میری طرف آیا اور میں اُٹھ کھڑی ہوئی۔ میں نے اسے کہا۔ مجھے معاف کر دینا اور میں اس سے اپنے گھر کی چابی لیے بغیر باہر آگئی۔ میں نے گناہ نہیں کیا تھا لیکن گناہ کا ارادہ ضرور کر لیا تھا۔ یہی ارادہ مجھے ساپنوں کی طرح ڈنک مارنے لگا۔ گلی میں آئی تو ایسے گھراہٹ ہونے لگی جیسے دیواریں مجھے پر لعنت بھیج رہی ہوں ۔

جیسے پاس سے گزرتے لوگ مجھے نفرت سے گھور رہے ہوں۔ میں کوئی ایسی پناہ ڈھونڈنے لگی جو مجھے گناہ کے احساس سے نجات دلا دے۔ مجھے اپنی ہمراز سہیلی یاد آگئی تو میں بہت ہی تیز چلتی اُس کے گھر جا پہنچی۔ اس نے مجھے بتایا کہ میرے آنسو بہہ رہے ہیں مجھے تو اتنا بھی ہوش نہ تھا کہ اپنے آنسو محسوس کرسکتی۔ میری سہیلی میرے دکھ سے واقف تھی۔ اس نے جب میری طلاق کے متعلق بات شروع کی تومیں نے اسے کہا کہ آج میرے آنسو اپنے سہاگ کے غم میں نہیں کسی اور وجہ سے بہہ رہے ہیں ۔

اُس نے پوچھا تو میں ذرا بھر نہ جھجکی اور اسے ساری واردات سُنا دی۔ میں اپنے ضمیر سے اس گناہ کا بوجھ اتار پھینکنا چاہتی تھی، جو میں نے کیا نہیں تھا، صرف سوچا تھا۔ میری سہیلی افسردہ ہو گئی۔ میں سمجھی کہ ہ میری ایسی نازیباحرکت پر ناراض ہوگئی ہے۔ میں نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لے کر کہا اللہ کی قسم میں وہاں سے بھاگ آئی ہوں ۔ گناہ کیا نہیں ۔ اس نے کہا ۔ یہی تم نے غلطی کی ہے کہ تم نے گناہ کیا نہیں۔

اب گناہ نہ کرنے کی سزا بھگتو اور طلاق لے کہ ماں باپ کے گھر بیٹھیو۔ کوئی مائی کا لال ایسا نہیں ہوگا جو تمہیں بیاہ لے جائے گا۔ ان کی طرح ہر کوئی تمہیں کہے گا کہ یہ تھوہر کا پودا ہے۔ میں حیرت سے منہ کھولے اُسے دیکھنے لگی۔ اس نے بڑی لمبی آہ لی اور ایک عورت کے متعلق اس نے وثوق سے بتایا کہ وہ بھی اس گناہ سے بہت بھا گی تھی مگر اس کے سامنے طلاق کا بھوت کھڑا تھا ۔

اس کا خاوند بھی تمہارے خاوند کی طرح ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتا تھا۔ تمہیں معلوم ہے کہ اس کا پہلا بچہ شادی کے آٹھویں سال پیدا ہوا تھا او دوسرا گیارہویں سال۔ پہلے بچے نے اسے طلاق سے صاف بچا لیا۔ لیکن یہ بچہ اس کے خاوند کا نہیں اور دوسرا بھی اس کے خاوند کا نہیں۔ پہلا اس پیر کا ہے جس کے پاس اسے ساس لے جایا کرتی تھی لیکن بچہ اس کے تعویذوں کا کرشمہ نہیں اس کے کرتوت کی پیداوار ہے۔

اس نے ایک بچے کی خاطر یا طلاق سے بچنے کی خاطر اپنے آپ کو پیر کے حوالے کر دیا تھا۔ خدا نے اس کے گناہ سے اس کی گود ہری کر دی۔ پھر ایک سال بعد اپنی برادری کے ایک آدمی نے اسے دوسرا بچہ دیا اور سسرال میں اس کا وقار بحال ہو گیا۔ سسرال والے اسے بھاگوان سمجھنے لگے جس نے انہیں دو لڑکے دہیے ہیں ۔ خاوند کا سراونچا ہو گیا تھاکہ وہ لڑکوں کا باپ ہے ۔ میں تسلیم نہیں کرنا چاہتی تھی کہ ایسے ہوا ہے۔

میں نے ہنس کر اسے کہا۔ کیا بکواس کر رہی ہو ۔ میں نہیں مانتی سن میری بہن ؟ اُس نے کہا ۔ ” اولاد کی خاطر پیروں کے پاس جانے والی عورتوں کی گود تعویذ نہیں، پیر خود ہری کیا کرتے ہیں۔ 
٭٭٭
ہمارے گھرانوں میں ایک فریب کی حکمرانی ہے ۔ یہ فریب ہم دوسروں کو بھی دیتے ہیں اور اپنے آپ کو بھی ۔ اگر اپنی آبرو پیاری ہے تو طلاق لو گھر آ بیھٹو اور ساری عمر اسی گھر میں گزار دو۔ میں اپنے آپ کو اس فریب کاری کے لیے تیار نہ کر سکی ۔ اور جب میں نے یہ محسوس کیا کہ میری نجات ایک گناہ میں ہے ورنہ میں ہمیشہ کے لیے دھتکار ہی جاؤں گی تو میرے اندر ایسی بے چینی اور تلخی پیدا ہوگئی کہ بیٹھےچین نہ لیٹے چین۔ پاگل پن ساسوار ہو گیا اور جی میں میں ایک ارادہ آتا کہ خود کشی کر لوں ۔

ریل گاڑی کے نیچے سر رکھ دوں ، ڈوب مروں ، زہر کھالوں ۔ پھر یہ ارادہ پختہ ہو گیا اور جس طرح میں گناہ اور طلاق کی کش مکش میں کیچلی جارہی تھی، اب طلاق اور خود کشی کے دو پتھروں میں پینے لگی۔ دو تین دنوں بعد مجھے خاوند نے صاف کہ دیا کہ وہ دوسری شادی کرے گا۔ میں نے اس کی منت سماجت کی ۔ پہلے سال والی محبت کے واسطے دیئے۔ پھر میں نے اپنے آپ کو یہاں تک گرا دیا کہ اس کے پاؤں میں سر رکھ دیا۔ وہ پتھر بن چکا تھا لیکن میری منت سماجت اور واسطوں نے اسے ذرا سانرم کر دیا۔

میری امی ایک اور پیر کانام لے رہی تھیں۔ اس نے کہا ۔ میں انہیں کہوں گا کہ تمہیں وہاں سے جائیں ۔ اگر وہاں سے بھی مراد پوری نہ ہوئی تو پھر میں طلاق دینے پر مجبور ہو جاؤں گا میں اس پیر کے پاس نہیں جانا چاہتی تھی ۔ میں نے خاوند سے کہا کہ میں اس کے پاس نہیں جاؤں گی ۔ خاوند نے فوراً کہا۔ پھر طلاق لے لو اور یہ بھی کہا۔ یہ تمہارا نہیں تمہاری تعلیم کا تصور ہے۔ تم ایف اےکر کے اپنے آپ کو معلوم نہیں کیا سمجھتی ہو۔

تم پیروں اور بزرگوں کی توہین کی سزا پا رہی ہو۔ اس نے یہ تو ٹھیک کہا تھا کہ میں پیروں اور بزرگوں کی تو ہین کرتی ہوں لیکن یہ صحیح نہیں تھا کہ میں ایف۔ اے کی ڈگری پر فخر کرتی تھی ۔ مجھ پر غموں کے ایسے پہاڑ آن پڑے تھے کہ مجھے یاد ہی نہیں رہ تھا کہ میں نے ایف۔ اے تک تعلیم پائی ہے۔ خاوند نے مجھے یاد دلایا تو اس کے ساتھ مجھے یہ بھی یاد آ گیا کہ میں نے قرآن بھی پڑھا تھا اور اس مقدس کتاب کو ایک خدا کا پیغام مانا کر تی تھی۔

میری آنکھوں کے سامنے ایک روشنی سی چمکی ہو۔ مجھے عقل نے راہ دکھائی اور میں نے خاوند سے کہا کہ میں اس پیر کے پاس جاؤں گی۔ میں اس پیر کا نام نہیں لوں گی۔ وہ خود تو اٹھارہ انیس سال گزر سے ایک حادثے میں مرگیا تھا لیکن اس کی گدی زندہ ہے۔ اگر اس کا نام سے بیٹھی تو شک عزت کا مقدمہ الگ بنے گا اور اس کے مرید آپ کی جان کو آجائیں گے ۔

اتنا بتا دیتی ہوں کہ یہ پوٹھو ہار کے علاقے کا ایک گمنام ساپیر تھا جو دیکھتے ہی دیکھتے ہے اولاد عورتوں کو اولاد دینے والا مرشد” بن گیا اور وہ دور دور تک مشہور ہو گیا۔ اس کی زیادہ شہرت عورتوں کے دل میں تھی۔ میں اس پیر کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو گئی۔ دو تین دنوں بعد میں اپنی ساس کے ساتھ ریل گاڑی سے اس سٹیشن پر اتری۔ سٹیشن سے پیدل پیر کے گھر پہنچے ۔ جناب پیر صاحب مریدوں کی محفل میں بیٹھے تھے۔ مجھے دیکھ کر ان پر وجد طاری ہو گیا ۔

ساس نے آگے ہو کر ان کے پاؤں چھوئے پھر مجھے بھی آگے کر کے ان کے پاؤں چھونے کو کہا۔ ساس اپنی مراد بیان کرنے ہی لگی تھی کہ پیچھے سے ایک آدمی نے جو پیر کے جبرائم میں شریک تھا ، میری ساس کو کان میں کہا۔ یہاں نہیں۔ اس وقت حضور کسی اور حالت میں ہیں۔ لڑکی کو اندر بھیج دو حضور مرادیں وہیں سنتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس آدمی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ایک دروازے کی طرف اشارہ کیا اور کہا کاکی جا ادھر اندر چلی جا۔

حضور کرم کریں گے ۔ اس دربار سے کبھی کوئی خالی ہاتھ نہیں گیا۔ میرا جسم بڑی زور سے کپکپا یا ۔ ساس نے مجھے اُٹھا دیا اور دھیمی آواز میں کہا ۔ جااندر چلی جا۔ حضور اندر آئیں تو پاؤں چھو کر بات کرنا میرا دماغ یکلخت خالی ہو گیا ۔ میں اس دروازے کے اندر چلی گئی۔ اندر پلنگ بچھا تھا اور اس پر قیمتی تکیے اور پلنگ پوش تھا۔ کمرہ بہت سجا ہوا تھا۔ فورا ہی پیر صاحب کمرے میں آگئے اور دروازہ بند کر دیا ۔ اس پیر کی صحت قابل رشک تھی ۔

چہرہ خوبصورت اور لال سرخ جسم توانا ۔ اس شخص کے چہرے اور جسم میں بڑی کشش تھی ۔ اس نے آتے ہی مخمور آواز میں کہا بچہ نہیں ہوتا ہے اور خود ہی جواب دیا۔۔۔ ہو جائے گا اور اس نے مجھے لیٹ جانے کو کہا ۔ میں نے کھڑے کھڑے اسے جواب دیا مجھے تعویذ چاہیے۔ میں یہاں لیٹنے کے لیے نہیں آئی ہوں وہ ہنس پڑا۔ اگر شیطان میرے سامنے ہے تو میں قسم کھا کر کہوں گی کہ شیطان اس پیر کی طرح ہنستا ہے۔ میں سنجیدہ ہو گئی۔

وہ میرے قریب آگیا اور کہنے لگا۔ تعویذ بھی دوں گا اور بچہ بھی دوں گا اور اس نے ایک بازو میری کمر کے گرد لپیٹ کر مجھے پلنگ پر گرا دیا ۔ وہ تو ایک خوبصورت بھینسا تھا۔ اسے دیکھ کر میں سمجھ گئی کہ جاہل عورتیں کیوں اس کی گرویدہ ہیں ۔ وہ مجھے بھی انہی عورتوں میں سے سمجھ رہا تھا۔ اس کے منہ سے سخت متعفن بدبو آ رہی تھی۔ مجھے معلوم نہیں کہ یہ شراب کی بد بو تھی یا چرس کی۔ مجھے پلنگ پر گہرا کر وہ پلنگ پر چڑھ آیا ۔

میں اچھل کر پینگ سے اٹھی اور اس سے تین چار قدیم دور ہٹ گئی۔ اس نے پیار سے مجھے اپنے پاس بلایا لیکن اسے بالکل علم نہیں تھا کہ میں اب عورت نہیں رہی۔ اس نے کہا ایسا تعویز دوں گا جو معلوم نہیں وہ تعویز کی کونسی کرامات بیان کرنے لگا تھا کہ میں نے اس آتشیں قوت کے زور پر جو اچانک میرے اندر جھاگ اٹھی تھی، اسے بولنے نہ دیا، اور اسے کہامیں تھوکتی ہوں تیری صورت پر اور تیرے تعویزوں پر۔ اب میں اپنا تعویذ آزماؤں گی۔

میں گمراہ ہو گئی تھی۔ میں تجھے بتاؤں گی کہ تیرے تعویذ میں اثر ہے یا میرے ایمان میں۔ میراایمان برحق ہوا تو تجھ پر لعنت پڑے گی۔ اس نے قہقہہ لگا کر کہا۔ ایمان …. اور پاگل لڑکی اس نے ایمان کے نام پر طنز یہ قہقہ لگا یا اور پلنگ سے اُٹھنے لگا۔ میں تیزی سے کمرے سے نکلی اور مریدوں کے دربار سے تیز تیز چلتی باہر آگئی۔ میری ساس بھی باہر آگئی اور پوچھنے لگی ۔ حضور نے کیا کہا ہے ہے میں نے اسے کوئی جواب نہ دیا۔

میر ے ہونٹ مل گئے تھے۔ زبان میں بولنے کی طاقت نہیں رہی تھی۔ میں شاید خود بھی وہ نہیں رہی تھی جو اس گناہ خانے میں داخل ہونے سے پہلے تھی۔ میں بیان نہیں کر سکتی کہ میں کیا بن گئی تھی۔ میرے سینے میں کوئی چیز داخل ہوگئی تھی ۔ ساس کچھ نہ کچھ بولتی رہی اور میں بالکل ہی چپ رہی ۔ دو تین بار اسے کوئی جواب دینے کی کوشش کی لیکن نہ دل نے ساتھ دیا نہ زبان نے۔ شام کے وقت ہم اپنے گھر پہنچیں۔

میں نے ساس سے کہا کہ اپنے گھر جارہی ہوں اور میں اپنے گھر آگئی ۔ ماں بے چاری بہت پریشان تھی۔ اسے دیکھ کر میری زبان زرا کھل گئی میں نے اس کو تسلی دی کہ جو بھی ہو گا بہتر ہو گا۔ میں رات اپنے گھر رہی۔ آدھی رات کا وقت تھا۔ میں اس وقت تک سو نہیں سکی تھی۔ دماغ میں عجیب عجیب خیال آتے تھے اور ادھور ے ادھور ے نکل جاتے تھے۔ اپنی بد قسمتی پر رونا بھی آتا تھا اور میں یہ بھی سوچتی تھی کہ چار دیواری کی دنیا میں عورتوں کے ساتھ کیا کیا دھاندھلیاں ہوتی ہیں جن سے مجبور ہو کر عور تیں اپنی نجات کے راستے خود ڈھونڈنے لگتی ہیں ۔ ان کی ایسی زمین دوز حرکتیں چار دیواری کی دنیا کا ایسا بھید ہیں جنہیں خدا کے سوا کوئی بھی نہیں جانتا اور مرد فخر سے گردنیں اکڑائے رکھتے ہیں۔ میں سو نہ سکی۔ گھر کے تمام افراد گہری نیند سوئے ہوئے تھے۔ میں نے غسل خانے میں جا کر ٹھنڈ ے پانی سے وضو کیا ۔ یہ سردیوں کی بات تھی۔

وضو کر کے الماری سے قرآن مجید نکالا اور چھت پر چلی گئی۔ یخ ہوا چل رہی تھی۔ میں نے قرآن فصیل پر رکھا اور ننگی چھت پر دو نفل پڑھے ۔ اس دوران میں اتنی زیادہ روئی کہ میں اچھی طرح پڑھ بھی نہ سکی۔ نقل پڑھ کر میں نے کوئی دعا نہ کی ۔ قرآن ہاتھ میں لے کر کھڑی ہو کہا اللہ مجھے معاف کرے ، میں نے خدا سے مخاطب ہو کر کہا۔ اگر تیری ذات کا وجود ہے اور ا گر تیری یہ کتاب برحق ہے تو مجھے اپنا آپ دکھا ۔

مجھے اپنی کتاب کا کر شمہ دکھا۔ ورنہ اسے میں لفظوں کا پلندہ سمجھوں گی اور ساری عمر تیرا نام نہیں لوں گی اللہ مجھے معاف فرما، پھر میں کھڑے کھڑسے اتنا روئی کہ اپنا آپ سنبھالنا مشکل ہو گیا۔ میں نے قرآن مجید کو سینے سے لگا لیا اور میں روتی ہی رہیں۔ پھر معلوم نہیں میں کتنی دیر روتی رہی اور کب نیچے اتری ۔ جب امی نے جگایا تو سورج نکل آیا تھا۔ سب سے پہلی بات جو میرے ذہن میں آئی وہ رات کا واقعہ تھا۔

مجھے ایسے محسوس ہوا جیسے وہ خواب تھا ۔ ڈر بھی آرہا تھا اور مجھ میں دلیری بھی آگئی تھی۔ اس کیفیت میں ایک ارادہ دل سے اٹھا کہ قرآن پڑھوں۔ میں ناشتے وغیرہ سے فارغ ہو کر قرآن پڑھنے بیٹھی تو تین سیپارے پڑھ ڈالے۔ میں ایسے محسوس کر رہی تھی جیسے میرا دماغ روشن ہو گیا ہو اور مجھے کوئی پناہ ضرور مل جائے گی۔ میں نے اپنے خاوند کے نام ایک خط لکھا ، جس میں پہلی رات سے گزشتہ رات تک کی داستان لکھی اور آخر میں لکھا کہ مجھے فوراََطلاق دے دو۔ پورا حق مہر وصول کروں گی۔ ماہوار خرچ تمہیں معاف کرتی ہوں۔

میں تمہاری محتاج نہیں رہنا چاہتی۔ اب میں تمہارے گھر نہیں آؤں گی۔ میری ہو چیزیں تمہارے گھر میں ہیں بھیج دو تو اچھا ہے، نہیں تو دوسری بیوی کو دے دینا۔ بھائی کالج سے آئے تو میں نے چھوٹے بھائی کو یہ خطہ بند کر کے دیا اور اسے کہا کہ میرے سسرال والوں کے گھر پھینک آئے۔ میں نے جب گھر والوں کو بتایا کہ میں نے کیا لکھا ہے توان پر سکتہ طاری ہو گیا۔ میں نے انہیں تسلی دی کہ جو ہوگا بالکل ٹھیک ہوگا۔

میں نے انہیں یہ بھی کہا اگر میراخدا سچا ہے تو ہماری مدد کرے گا یہ الفاظ کہتے ہوئے میں نے یہ دیکھا کہ جس طرح پہلے طلاق کا نام سن کر میں کانپ جاتی تھی اب مجھ میں دلیری آگئی اور غیبی قوت تھی جو مجھے اندر ہی اندر یقین دلا رہی تھی کہ اللہ سب ٹھیک کرے گا۔ آٹھ دس دن بعد میرا اطلاق نامہ آگیا۔ اس کے ساتھ تین ہزار روپیہ بھی آگیا اور میرے کپڑوں کا ٹرنک بھی آگیا۔ البتہ زیورکی دو تین چیزیں وہ لوگ ہضم کر گئے ۔

میں نے امی اور ابا جان سے کہا کہ رہنے دو۔ ان بے چاروں کو زیور کا نہیں میرا غم کھائے جا رہا تھا۔ انہیں یہی خطرہ تھا کہ میری دوسری شادی نہیں ہو سکے گی کیونکہ میں تقوی ہرا پودا ہوں ۔ لیکن مجھے اب کوئی خطرہ محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ ہمارا وہی پڑوسی جو اپنی بیوی سے نالاں رہتا تھا اور جس کے ساتھ میں بھٹک، چلی تھی ، میری نجات کا سبب بن گیا۔ میر ے طلاق نامے کے تھوڑے ہی دن بعد اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔

پتہ چلا تھا کہ اس کی بیوی میں کوئی دماغی نقص تھا۔ اس کے علاوہ اس کی ماں بد طینت عورت تھی۔ وہ اپنی بیٹی کو ہی ایک سبق دیتی تھی کہ خاوند سے پیسے بٹور کر لے آیا کرو ۔ اور وہ ایسے ہی کرتی تھی ۔ یہ بھی سنا تھا کہ اس میں شرم اور عزت کا بھی پاس نہیں تھا۔ میکے میں وہ بد نام بھی تھی۔ ایک روز میں اپنی چھت پر کھڑی تھی ۔ میرا پڑوسی اپنی چھت پر چڑھا۔ ہم نے ایک دوسرے کو دیکھا تو دونوں مسکرا دیے ۔

وہ ذرا قریب آگیا اور تفصیل سے ذرا پر سے رک کر بولا ” میری بھی چھٹی ہو گئی ہے۔ میں نے جواب دیا۔ موج کرو اس نے کہا۔ اکیلے اکیلے خاک موج ہوتی ہے۔ اور میں نے اس کی آنکھوں کی زبان سمجھ لی۔ اسی روز امی سے کہا کہ اس آدمی سے رشتے کی بات کر دو۔ امی نے ابا کو کہا اور دو چار پھیروں میں بات طے ہو گئی۔ طلاق کے چوتھے مہینے نہایت خاموشی سے ہماری شادی ہو گئی۔ مجھے اور میرے ماں باپ کو اب یہی ڈر تھا کہ اب کیا ہو گا ہے لیکن خدا نے اپنے نام کی اور اپنے پاک کلام کی لاج رکھ لی۔

تیسرے مہینے میں نے امی کی پریشانی دھو ڈالی اور شادی کے دوسرے سال کے آغا ز میں ہی خدا نے مجھے یہ بچہ عطا کیا جس کی اٹھار ہویں سالگرہ ابھی ابھی سنا کہ دل کا غبار کا منہ پر گھنے بیٹھ گئی ہوں۔ پھر خدا نے مجھے دور اور بیٹے دیئے۔ اب اس پیر کا انجام کیسے جو بے اولاد عورتوں کو اولاد عطا کیا کرتا تھا۔ اس نے میرے منہ سے ایمان کا نام سن کرقہقہ لگا یا تھا۔

میرے پہلے بچے کی پیدائش سے پانچ مہینے پہلے یہ پیر ایک بس میں کہیں جا رہا تھا کہ میں گوجر خان اور جہلم کے درمیان بے قابو ہو کر سڑک سے ہٹ گئی اور اسی رفتار سے ایک مضبوط درخت سے ٹکرا گئی۔ اس میں چھتیس سواریاں مرگئیں جن میں یہ پیر اور اس کے منتقد بھی تھے۔ لوگ بتاتے تھے کہ ٹکر اتنی شدید تھی کہ بس کا انجن بس کے دور اندر تک چلا گیا تھلہ آپ تصور کر سکتے ہیں کہ مسافروں کی لاشوں کا کیا حشر ہوا ہوگا۔ میرے پہلے خاوند نے دوسری شادی کر لی تھی اور وہ آج تک بے اولاد ہے
(ختم شد)

اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے