میں اپنی بڑی بہین سے بہت ڈرتی تھی اور اس کی ہر بات مان لیتی۔ میں شروع سے ہی اپنی بڑی بہن کے دباؤ میں رہی۔ وہ جو کہتیں، مان لیتی۔ میری شادی بھی آپا نے اپنے شوہر سے کہہ کر ان کے ایک دوست سے کروائی۔ میرے شوہر بہت اچھے انسان تھے۔ وہ مجھے بہت چاہتے تھے، مگر میں میکے کی محبت میں کھوئی رہتی تھی۔ چونکہ میں بیاہ کر دوسرے شہر چلی گئی تھی، میکے سے دور ہو گئی تھی، اس لیے گھر والوں کے لیے اداس رہتی۔ جی چاہتا کہ روز وہاں جاؤں اور میکے کا دیدار کروں۔ آپا بھی میری طرح دوسرے شہر بیاہی گئی تھیں، مگر بعد میں وہ والدین کے شہر منتقل ہو گئیں اور میکے کے نزدیک جا بسیں۔
cknwrites
جب وہ ملنے آتیں، میں انہیں کھوئی کھوئی سی ملتی۔ وہ کہتیں کہ تم زبیر سے کیوں نہیں کہتیں کہ لاہور چل کر رہیں، دیکھو میں نے کیسے اپنے شوہر کو ماں باپ کے قریب بسا لیا، تم بھی ایسا ہی کرو۔ میں نے بہت کوشش کی۔ زبیر کو بارہا سمجھایا، مگر وہ نوکری چھوڑ کر لاہور جانے پر آمادہ نہ ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے بڑی محنت سے یہ مکان بنایا ہے۔ سرکاری ملازمت ہے، میں ملتان کو چھوڑ کر لاہور نہیں جا سکتا۔ تمہیں میرے ساتھ یہیں رہنا ہوگا۔ وقت گزرتا رہا، میں کڑھتی رہی۔ چار بچے ہو گئے۔ آپا مجھے برابر اکساتی رہیں، لیکن زبیر نے نہ ماننا تھا اور نہ میری مانی۔ وہ اپنے عزیزوں کے قریب رہنا چاہتے تھے۔ آپا فون کرتیں کہ تمہارا شوہر ضدی ہے، اسے تمہاری خوشی منظور نہیں۔ مجھے دیکھو، میں اپنے ارادے میں کامیاب رہی۔ اب ہم یہاں لاہور میں میکے کے نزدیک رہ رہے ہیں اور بہت خوش ہیں۔
ان کی ایسی باتیں مجھے اور اداس کرتیں اور میں آہیں بھر کر رہ جاتی۔ اسی طرح، میکے کے نزدیک گھر لینے کی آرزو میں روتے، سسکتے وقت بیت گیا۔ بچے بڑے ہو گئے۔ جب کبھی سال میں ایک بار میکے آتی، آپا کو خوش باش دیکھ کر دل حسرت سے بھر جاتا۔ وہ بھی من ہی من میں دبی اس چنگاری کو اور ہوا دیتیں۔ اداس دک کیساتھ واپس ملتان آ جاتی۔ اسی دوران میرے جیٹھ آئے اور کہا کہ ہم تینوں بھائیوں کی اولاد اکٹھی ہو تو بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپس میں رشتے طے کر لیتے ہیں۔ یوں میرے شوہر نے اپنی مرضی سے اپنے چھوٹے بھائی کی بچیوں کو اپنے بیٹوں کے لیے مانگ لیا، اور اپنی اکلوتی بیٹی اپنے بڑے بھائی کے بیٹے کو دینے کا وعدہ کر لیا۔ گھر آ کر میں نے زبیر سے کہا کہ آپ نے اپنے بھائیوں کا خیال کیا اور میرے بھائی کا نہیں، حالانکہ میں سدرہ کا رشتہ اپنے بھائی کے بیٹے سے طے کر آئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ تم نے پہلے یہ بات کیوں نہ کہی؟ جب بات طے کر دی گئی ہے، اب کہہ رہی ہو؟ تم نے پہلے کبھی ایسی بات نہیں کی، اور جب میں نے بچوں کے رشتے طے کرتے وقت تم سے پوچھا، تو تم چپ رہیں۔
اب بات ہو چکی ہے، کچھ نہیں ہو سکتا۔ بے شک، میاں غلطی پر نہ تھے۔ انہوں نے میری مرضی پوچھی تھی اور میں چپ رہی تھی۔ لیکن اب آپا مجھے اکسا رہی تھیں کہ منگنی نکاح تو نہیں ہوا، صرف زبانی وعدہ ہے، انکار کیا جا سکتا ہے۔ مگر زبیر اصول پسند آدمی تھے۔ وہ زبانی وعدے کو بھی بہت اہمیت دیتے تھے۔ اب اپنی زبان سے پھرنا نہیں چاہتے تھے۔ وہ بھی سگے بھائیوں سے ناراض ہو کر تعلقات نہیں توڑ سکتے تھے۔ جب دیکھا کہ میاں نہیں مانتے، تو بچوں کو ان کے خلاف بھڑکانا شروع کر دیا۔ بیٹی کو ہم خیال کر لیا۔ اس نے رفتہ رفتہ دونوں بھائیوں کو ساتھ ملا لیا۔ انہوں نے باپ کو پریشان کرنا شروع کر دیا۔ زبیر بہت پریشان رہنے لگے۔ جب میں دیکھتی کہ زبیر ذہنی اذیت میں ہیں، تو دل میں خوشی محسوس ہوتی، مگر پھر دل دکھ سے بھر جاتا کہ انہوں نے کبھی مجھے تکلیف نہ دی تھی۔ بچوں سے بھی والہانہ محبت کرتے تھے۔ بس میری یہی خواہش پوری نہ کی کہ میکے کے قریب آ کر بسیں۔
یہ ان کی مجبوری تھی۔ وہ اتنی اچھی ملازمت چھوڑ نہیں سکتے تھے، اور اپنے والدین، بہن بھائیوں سے بھی دور نہیں جانا چاہتے تھے۔ بہرحال، ہم سب نے مل کر انہیں بے حد بے سکون کیا۔ ان کی لائی ہوئی چیزیں چھپا دیتے، پھر تقاضا کرتے کہ اور لے کر آئیں۔ جب وہ پریشان ہونے لگے، ان سے غلطیاں سرزد ہونے لگیں۔ دفتری امور میں غفلت ہوئی اور انہیں چارج شیٹ مل گئی۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ انہیں قبل از وقت ریٹائرمنٹ لینا پڑی۔ انہیں مکمل رقم بھی نہ مل سکی اور کچھ مالی نقصان بھی ہوا۔ کچھ دن بعد انہوں نے اپنا کاروبار شروع کیا۔ مجھے یقین تھا کہ وہ ناکام ہوں گے، اور بددل ہو کر کہیں گے، چلو لاہور چل کر ہی رہتے ہیں۔ مگر اللہ نے ان کی مدد کی، اور جلد ہی ان کا کاروبار چل پڑا۔ ادھر آپا کا فون آیا کہ اب زبیر ریٹائر ہو گئے ہیں، اب تو یہاں آ جاؤ۔ میرے میاں نے جنرل اسٹور کھول لیا ہے اور ہم بہت خوشحال ہیں۔ دیکھو تو ہم کتنے خوش ہیں، تم لوگ بھی لاہور آ جاؤ، تمہارے دن بھی سنور جائیں گے۔ لاہور بڑا شہر ہے، ملتان میں کیا رکھا ہے۔
ان کی ایسی باتوں نے میرا سکون ختم کر دیا۔ میں نے نہ شوہر کا خلوص دیکھا، نہ اپنے بچوں کا بھلا۔ بہن کا پڑھایا ہوا سبق میرے ذہن میں اس قدر گھر کر گیا تھا کہ میاں کا کاروبار جمنے نہیں دینا۔ اگر جم گیا تو یاد رکھنا، ہمیشہ کے لیے میکے سے دور ہی رہو گی۔انہی دنوں میرا بڑا بیٹا باپ کے ساتھ کاروبار میں ہاتھ بٹانے جا رہا تھا۔ میں نے اسے روک دیا۔ گھر کا ماحول اتنا خراب کر دیا کہ زبیر سخت دل برداشتہ ہو گئے۔ بچے نافرمانی کرنے لگے اور باپ کی بات نہ مانتے۔ میں نے ان کے دلوں میں لاہور جانے کی آرزو بسا دی تھی۔ زبیر بالکل اکیلے ہو گئے اور دل شکستہ ہو کر بستر پر جا گرے۔ انہوں نے ہم سب سے کلام ترک کر دیا۔ اور ہم نے سامان باندھ لیا کہ اب اپنی آرزو خود پوری کرنی ہے۔
میں بچوں کو لے کر میکے آ گئی، اور وہ اکیلے ہی گھر اور کاروبار سنبھالنے کو رہ گئے۔ جب مرد کو گھر میں ذہنی سکون نہ ملے، تو وہ کاروبار میں یکسوئی کیسے حاصل کرے گا؟ جن کے لیے میاں جی جی جان سے محنت کر رہے تھے، وہی ان کو اکیلا چھوڑ کر چلے گئے۔ وہ اتنی ہمت کہاں سے لاتے کہ تنہائی اور اکیلے پن کا سامنا بھی کرتے اور کام پر بھی توجہ دیتے؟ جبکہ کاروبار کو کامیاب بنانے کے لیے انتھک محنت ضروری ہوتی ہے۔ نیا نیا کام تھا، سب کچھ اجڑ گیا۔ وہ بار بار خط لکھتے، پیغام بھجواتے کہ واپس آ جاؤ، مجھے نہ اجاڑو، گھر اور بچوں کو برباد نہ کرو۔ وہ بیمار پڑ گئے، مگر ہم واپس نہ گئے۔
وہ رو رو کر التجا کرتے، میرے والدین سے فریاد کرتے۔ والدین مجھے سمجھاتے، مگر میں شوہر کی جھوٹی شکایتیں بیان کر دیتی۔ والدین بے بس رہ جاتے۔ میں کہتی: اتنے سال ہم ان کے ساتھ رہے، اب وہ ہمارے پاس آ کر رہیں۔ ایک دن وہ خود آ گئے۔ بچوں سے کہا: میرے لخت جگر، میرے دل کے ٹکڑوں! میرا قصور تو بتاؤ، آخر تم لوگ مجھے کس بات کی سزا دے رہے ہو؟ ہم کیا جواب دیتے؟ ہمارے دل اور دماغ زنگ آلود ہو چکے تھے۔ وہ میری ایک سہیلی رابعہ کے پاس گئے۔ کہا: تم عقیقہ کو سمجھاؤ، میری بیوی نے بچوں کو بھی مجھ سے باغی کر دیا ہے۔ میرا گھر برباد ہو چکا ہے۔ رابعہ نے آ کر مجھے سمجھایا کہ ایسا نہ کرو، شوہر سے بڑھ کر کوئی نہیں ہوتا۔ وہ غمزدہ رہتے ہیں، کہیں بیمار نہ پڑ جائیں۔ واپس گھر جاؤ، عورت کا اصل گھر وہی ہوتا ہے جہاں وہ بیاہ کر جاتی ہے۔ میکہ صرف والدین تک ہے۔ بعد میں نہ بہن سہارا دیتی ہے، نہ بھائی۔
میری جگہ آپا نے رابعہ کو جواب دیا کہ اتنے برس میری بہن نے اپنوں سے دوری کاٹی ہے، اب زبیر بھائی اپنوں سے دوری برداشت کریں۔ ان کو بھی پتا چلے کہ ماں باپ اور بہن بھائیوں سے دوری پر کیا گزرتی ہے۔ رابعہ نے آپا سے کہا: وہاں، ملتان میں، زبیر بھائی کے سب لوگوں سے کاروباری رابطے اور تعلقات ہیں۔ ان کے دوست ہیں، برادری ہے، بھائی ہیں، ماں باپ ہیں۔ جو آڑے وقت میں ان کی مدد کرتے ہیں۔ لاہور میں ان کے لیے نئے سرے سے کام کرنا آسان نہیں ہوگا۔ یہاں ان کی کون مدد کرے گا؟آپا بولیں: تم کیوں فکر کرتی ہو، یہاں ہم جو ہیں، ہم مدد کریں گے۔ نند نے میرے شوہر سے کہا: تمہاری بیوی اور اولاد تمہیں چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ اتنے بڑے گھر میں اکیلے سوتے ہو۔ ایسا نہ ہو کہ رات کو کوئی چوری کی نیت سے آ جائے، اور تمہیں اکیلا پا کر خدا نخواستہ نقصان پہنچا دے۔ زبیر بولے: یہ تو اچھا ہی ہوگا کہ روز روز مرنے سے ایک دن ہی مر جاؤں۔
ایک دن اطلاع ملی کہ چھوٹے دیور کا انتقال ہو گیا ہے۔ ہم ملتان گئے ، وہاں آنے جانے والی عورت نے پوچھا کہ تم میاں کا گھر چھوڑ کر کیوں چلی گئی ہو ؟ تو میں نے سبھی سے میاں کی غلط شکایتیں کیں۔ اس پر عورتوں نے زبیر کو برا سمجھنے کی بجائے مجھ ہی کو سمجھایا کہ تم مان جاؤ اور میاں کو دوش مت دو، کیونکہ تمام عرصہ زبیر نے تمہارا خیال رکھا ہے، اتنا اچھا گھر بنایا ہے ، تمہارے لئے محنت کی ہے ، کمایا ہے۔ اب اس عمر میں ان کو اکیلے کر جانا ٹھیک نہیں ہے۔ میاں اندر آئے ، میں سامنے بیٹھی تھی۔ رورہے تھے، میرا ہاتھ تھام لیا، میں نے اخلا قا تسلی دی۔ بولے۔ دیکھ لو بس یہی زندگی کی حقیقت ہے ، یہ زندگی دو چار دن کی ہے ، ہم آج ہیں کل نہیں ، ہم بڑے بھائی موجود ہیں اور چھوٹا چل دیا۔ کل کا بھروسہ نہیں، بس اب ضد ختم کرو اور گھر کو لوٹ آؤ۔
پانچ سال کی بے رخی اور جدائی ختم کی اور آخر ہم گھر چلے آئے۔ اگلے دن ان کو بخار ہو گیا۔ بھائی کی تدفین میں دوڑ دھوپ کی تھی، سینے میں درد کی شکایت کی اور لیٹ گئے۔ تین روز یونہی بے سدھ پڑے رہے ، بخار بھی ہو گیا تھا۔ بڑا بیٹا جا کر بخار کی دوا لے آیا۔ افاقہ نہ ہوا۔ بچے میرے پاس دوسرے کمرے میں بیٹھے تھے۔ وہ اکیلے کمرے میں پڑے رہے اور ہم کھا پی کر سو گئے ، اچانک جانے کیا ہوا صبح اٹھ گئے اور رات کے پہنے لباس میں گھر سے نکل گئے۔ جیب میں بٹوا بھی نہ رکھا۔ اس دن سخت سردی تھی، بارش بھی شروع ہو گئی۔ ہم نے خیال نہ کیا کہ سردی میں بارش بھی ہو سکتی ہے اور وہ بخار میں تھے۔ کوئی ان کے پیچھے تلاش میں نہ نکلا کہ خود ہی آجائیں گے شاید دوا لینے نکلے ہوں گے۔ رات تک نہ آئے۔ رات گیارہ بجے فون آیا کہ انجانے راستے میں کہیں گر گئے تھے ، اجنبی اسپتال لے گئے ابھی تک بے ہوش تھے۔ وہ تو اچانک ایک واقف کار کی ان پر نظر پڑ گئی، پہچان لیا اور ہمیں فون آ گیا اس نے اسپتال کا نام، پتا بھی بتایا۔
ساری رات میں اور بڑا بیٹا اسپتال میں رہے۔ شرم کے مارے ان کے بڑے بھائی کو اطلاع نہ دے رہے تھے۔ صبح ہم نے ان کو اطلاع دی، وہ دوڑے آئے، گھر لے آئے، نندیں اور بھاوجیں بھی آ گئیں۔ میں شرم سے چپ، کیا کہتی، دعا کرتی رہی کہ سلامت رہیں ورنہ سسرال والوں کو کیا جواب دوں گی۔ خدا کی مرضی ان کی زندگی اتنی ہی تھی۔ ہوش میں آئے تو بہکی بہکی باتیں کرنے لگے۔ ان کے ذہن پر اثر ہو گیا تھا۔ مجھ کو پہچان رہے تھے اور نہ بچوں کو ۔ کہتے تھے کہ تم لوگ کون ہو…؟اب ہم پریشان تھے، کیونکہ ایسی ذہنی حالت میں زبیر کو سنبھالنا مشکل امر تھا۔ ان کے بڑے بھائی نے ہماری پریشانی کو بھانپ لیا اور ان کو اپنے گھر لے گئے کہ اپنے بھائی کا میں خود خیال رکھوں گا۔ آپ لوگ نہیں رکھ سکتے۔ زبیر وہاں چند روز رہ کر اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔
اب ہم کو احساس ہوا کہ ہم سے کتنا بڑا ظلم ہوا ہے۔ وہی گھر جس میں رہنے سے میں بھاگ رہی تھی ، اس نے مجھے اور میرے بچوں کو پناہ دی۔ میکے والوں نے آسرا نہیں دیا، مگر جیٹھ نے سہارا دیا۔ جانے والا تو چلا گیا، تم تو اپنا گھر چھوڑ کر نہ جائو۔ میں نے میکے میں رہ کر بھی دیکھ لیا، وہاں بھی چار دن کی چاندنی تھی۔ اب کوئی اس ڈر سے ساتھ چلنے کونہ کہتا تھا کہ چار افراد کا یہ کنبہ کون رکھے ؟ بچی کی شادی کی ذمہ داری کون اٹھائے گا ؟ بھائی خاموش، تو بھا بھیاں تلقین کر رہی تھیں کہ جو عزت اپنے باپ کے گھر میں رہ کر بچوں کو ملتی ہے، وہ کہیں نہیں ملتی۔ زبیر کچھ سرمایہ چھوڑ گئے تھے وہی کام آیا۔ مگر یہ رقم بھی رفتہ رفتہ ختم ہو گئی۔ آپا کہتی تھیں کہ ہم جو ہیں، ہم مدد کریں گے ، وہ سب زبانی جمع خرچ تھا۔ وہ بھی دم سادھے تھیں۔
چند روز رہ کر چلی گئیں، دوبارہ نہ آئیں ، بس فون پر لفظی تسلیاں دیتیں ، مالی مدد نہ کی۔ اب مجھ کو آٹے دال کا بھاؤ تو معلوم ہو چکا تھا۔ مالی مدد جو کی ، وہ جیٹھ اور نندوں نے کی۔ دکھ سکھ میں ساتھ دیا۔ والدین ضعیف العمر کیا کرتے ، وہ خود اپنے بچوں کے محتاج تھے۔ اب زبیر کی محبت یاد آتی اور ان کی کمی شدت سے محسوس ہوتی۔ بچوں کو بھی عقل آگئی، باپ کو یاد کر کے روتے تھے، جس نے عیش کرائے اور خود محنت کی، ساری عمر ہمارے آرام کا خیال رکھا۔ انہی دنوں جب پریشانی سے سخت جی ماندہ تھا۔ کسی نے بڑے لڑکے کو گلی میں گالی دی، اس نے غصے سے پتھر اٹھا کر دے مارا۔ اس لڑکے کا سر پھٹ گیا، خون بہنے لگا، اس کو لوگ اسپتال لے گئے۔ میرے لخت جگر کو حوالات لے جا کر بند کروا دیا۔ میری جان پر بن آئی۔ بھائیوں کو فون کیا، جواب ملا اتنی دور کام دھند ا چھوڑ کر کیسے آئیں ، وہاں تو کئی دن لگ جائیں گے۔ تم اپنے جیٹھ سے کہو، جو ملتان میں بیٹھے ہیں۔ادھر راشد جیل میں بے یار و مددگار ، بے سہارا ادھر گھر میں ، میں روتی تھی کہ اس وقت اگر زبیر ہوتے تو کیسے برداشت کرتے کہ ان کے بیٹے کو جیل ہو۔ وہ تو دلیر ، دبنگ اور قانون کے ماہر آدمی تھے۔ مگر اب مجبور تھے۔
بیٹے کی مدد نہ کر سکتے تھے کہ اب منوں مٹی تلے جا سوئے تھے۔ آخر جیٹھ کے پاس گئی کہ آپ میرے بیٹے کی رہائی کروائیں، وہ لاوارث جیل میں پڑا ہے۔ وہ حوالات میں بند کرانے والوں کے پاس گئے ، راضی نامہ کرا کر جھگڑا ختم کرایا، معاوضہ بھرا اور راشد کو چھڑا کر لے آئے۔آج شوہر کے نہ ہونے سے میں خود کو کتنا تنہا اور بے بس محسوس کر رہی تھی۔ بہن، بہنوئی کو پیغامات بھیجے ، بھائیوں کو بلوایا، کوئی نہ آیا جس میکے کے پیچھے بھاگتی رہی، کوئی کام نہ آیا۔اب میکے والے نہیں پوچھتے تھے۔ اکیلے ہی دکھ کاٹنے تھے۔
جیٹھ نے پھر بھی ساتھ دیا۔ ساس، سر جو جیٹھ کے گھر رہتے تھے، میرے پاس آگئے کہ میں اکیلی نہ رہوں۔اب سوچتی تھی کہ جس کے لئے گھر بار، شوہر چھوڑ دیا تھا ، برے وقت میں انہوں نے ہی مجھے چھوڑ دیا۔ کیا بتاؤں دل پر کیا گزری۔ مجھ سے بڑی بھول ہوئی، اتنے محبت کرنے والے شوہر کا دل دکھا کر اور بہن کی باتوں میں آکر ۔ میرے بچے ساتھی اور میرے بچوں کے ہمدرد تو صرف زبیر ہی تھے۔ اب ہر ایک سے کہتی ہوں اچھا شوہر ملے تو اس کی قدر کرنا چاہئے ورنہ دکھ ملتے ہیں۔ شوہر کے سوا سارے سہارے جھوٹے ہوتے ہیں، چاہے بھائی ہوں یا بہنوئی، برے وقت میں کوئی کسی کا نہیں۔
.jpg)
0 تبصرے