آوارہ لڑکی

Sublimegate Urdu Stories

اچانک ہمیں خبر ملی کہ مومنہ کی منگنی قاسم سے ہو رہی ہے۔ پہلے تو بھائی کو یقین نہ آیا، مگر جب ان کے گھر جا کر تصدیق کی تو مومنہ نے ڈھٹائی سے کہا کہ ہاں، ہو رہی ہے منگنی قاسم سے، اور میری مرضی سے ہو رہی ہے۔ تم کون ہوتے ہو اعتراض کرنے والے۔ یہ سن کر ابصار بھائی کو غصہ آ گیا۔ وہ خود پر قابو نہ رکھ سکا۔
👇sublimegate👇
ہم بہنوں سے پہلے تھے، لیکن منجھلے بھائی ابصار کی وجہ سے گھر والے پریشان رہتے تھے۔ وہ تیز مزاج تھا اور پڑھائی میں دل نہیں لگاتا تھا، جس پر امی اور ابو اُسے مسلسل ٹوکتے رہتے۔ اس وجہ سے وہ چڑچڑا رہنے لگا اور آہستہ آہستہ گھر کے ماحول سے باغی ہوتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ محلے کے آوارہ لڑکوں میں اُٹھنے بیٹھنے لگا اور ایک دن مکمل طور پر بدماش بن گیا۔ ابصار کے کرتوتوں سے والد کا سر شرم سے جھک گیا۔ آئے دن محلے داروں کی شکایتیں سن سن کر وہ ہلکان ہو گئے۔ ابصار سے چھوٹا اکمل البتہ سمجھدار تھا۔ وہ ابھی نویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ باجی نے میٹرک پاس کیا تو ابو نے اُن کی شادی کر دی۔ دوسری بہن شبانہ صرف ساتویں جماعت تک پڑھ سکی، جبکہ دونوں چھوٹی بہنیں اسکول جاتی تھیں۔ان دنوں گھر جنت کا نمونہ ہوا کرتا تھا، مگر نہ جانے کس کی نظر لگ گئی کہ بات بے بات جھگڑے ہونے لگے۔اکثر جھگڑے کی وجہ ابصار ہی ہوتا تھا۔ امی جان زبان کی تیز تھیں، جبکہ والد جو پہلے بالکل ٹھیک تھے، اب اونچا سننے لگے تھے۔ پہلے دونوں کے مزاج خوب ملتے تھے، مگر جب پھوٹ پڑی تو ایسی کہ کسی بات پر اتفاق نہ ہوتا اور ذرا ذرا سی بات پر تکرار شروع ہو جاتی۔

مجھے یاد ہے، ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو جب ہر گھر میں تنخواہ آنے کی خوشی کی لہر دوڑتی، ہمارے گھر جھگڑا ہوتا۔ اور وہ بھی خرچ کی وجہ سے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ تھا جس کا کوئی حل سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ میں سمجھدار تھی، ان جھگڑوں کی تلخی کو چپ چاپ پی جاتی تھی، مگر مجھ سے بڑی اور چھوٹی بہنیں رو دیا کرتی تھیں۔ ابصار بھی اس ماحول سے تنگ آ چکا تھا۔ جب وہ گھر میں ہوتا اور امی ابو کی چیخ پکار سنتا، فوراً گھر سے نکل جاتا۔ گویا یہ فرار کا ایک آسان راستہ تھا۔ وہ خالہ کے گھر جا بیٹھتا، جہاں امن و سکون کا ماحول ہوتا۔ خالہ کے ہاں اُس کی خوب آؤ بھگت ہوتی۔ ان کی بیٹی مومنہ خوبصورت، ہنس مکھ اور نہایت چست و چالاک تھی۔ جیسے ہی ابصار آتا، وہ فوراً کچھ نہ کچھ بنانے لگتی۔ کبھی پکوڑے، کبھی دہی بڑے اور اس کے سامنے رکھتی۔ اُس کے انداز سے ابصار یہ سمجھنے لگا کہ وہ اُس سے محبت کرتی ہے۔خدا جانے وہ واقعی بھائی سے محبت کرتی تھی یا یہ سب صرف خاطر مدارات کا حصہ تھا۔ کیونکہ اُس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ ایک پر قناعت کرنے والی نہیں۔ سہیلیاں بدلنا بھی اُس کے مشاغل میں شامل تھا۔

پھر وہ ایک غریب رشتہ دار لڑکے کی محبت میں کیسے گرفتار ہو سکتی تھی، جب کہ ہمارے مالی اور گھریلو حالات دونوں ہی دگرگوں تھے؟خاندان والے مومنہ کو “چلتی پرزہ” کہتے تھے۔ امی کے خاندان میں اُسے اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔ جو بھی ہو، وہ میری خالہ زاد تھی۔ جب لوگ اُس کے بارے میں غلط باتیں کرتے تو میرا دل دُکھتا، مگر سچ یہ ہے کہ اُس کی طبیعت میں لالچ بہت تھا۔ اُس کی ایک کمزوری یہ بھی تھی کہ ہر کوئی اُسے چاہے اور اہمیت دے، خواہ اُس کا نتیجہ کچھ بھی نکلے۔ سب کزن لڑکے اُس کی تعریفیں کرتے۔ وہ اُنہیں بیوقوف بناتی اور اُن سے فائدہ اٹھاتی۔ خاندان کا کوئی لڑکا ایسا نہ تھا جس سے اُس کی “ہیلو ہائے” نہ ہو۔
یہی بے تکلفی ہر کسی کو کھٹکتی بھی تھی۔ ایک بار وہ دور کے رشتہ داروں کی شادی کی ایک تقریب میں گئی، تو وہاں دو تین لڑکوں سے دوستی کر لی اور پھر ان سے خط و کتابت ہونے لگی۔ امی کو جب پتا چلا، تو اُنہوں نے خالہ سے کہا: بیٹی کو سنبھالو، یہ ہم سب کی ناک کٹوا دے گی۔ تمہاری لڑکی کے طور طریقے ٹھیک نہیں ہیں۔ خالہ نے امی کی باتوں کا وقتی اثر لیا ہوگا اور بیٹی کو سمجھایا بھی ہوگا، مگر وہ کہاں سمجھنے والی تھی۔الٹا سمجھانے والوں کے ہی گلے پڑ جاتی تھی۔

جن دنوں ابصار خالہ کے ہاں بہت زیادہ جانے لگا، کسی نے امی کو خبر دی۔ امی کو فکر ہوئی اور بیٹے کو سمجھایا کہ مومنہ کو لوگ اچھی لڑکی نہیں سمجھتے، تم وہاں زیادہ مت جایا کرو۔اس پر ابصار نے ماں کو جواب دیا کہ کم از کم ان کے گھر کا ماحول تو سکون بخش ہے۔ ہمارے گھر کی طرح نہیں کہ ہر وقت تو تو میں میں، ہر وقت لڑائی جھگڑا، جیسے کوئی دنگل ہو۔ یہاں رہ کر اچھا بھلا انسان پاگل ہو جائے۔ پہلے اپنے جھگڑے بند کرو، پھر مجھے سمجھانا۔ بیٹے کے جواب پر ماں خاموش رہ گئیں۔ انہی دنوں خالہ بیمار ہو کر اسپتال داخل ہوئیں۔ مومنہ بھی چند دن ان کے ساتھ وہاں رہی۔ اسی دوران قاسم سے کچھ چیزیں منگوانے کے بہانے اس کی دوستی ہو گئی۔ قاسم کا گھر خالہ کے گھر کے قریب تھا۔ رفتہ رفتہ ان میں میل جول بڑھا اور وہ قاسم کے ساتھ باہر ملنے لگی۔ دونوں سیر و تفریح کے لیے جاتے رہے، جس کا علم گھر والوں کو نہ تھا۔ اتفاق سے ایک رشتہ دار لڑکے نے انہیں ساتھ گھومتے دیکھا اور آ کر میرے بھائی کو بتایا۔ پہلے تو ابصار کو یقین نہ آیا، لیکن جب کئی بار مومنہ گھر پر نہ ملی تو اس نے خود پوچھ لیا کہ تم کہاں جاتی ہو۔

مومنہ بہانے بنانے لگی تو ابصار بولا کہ میں جانتا ہوں تم قاسم سے ملتی ہو۔ یہ سن کر مومنہ پریشان ہو گئی اور کہنے لگی کہ اصل میں ایک سہیلی کا معاملہ ہے۔ کسی نے اس پر تعویذ کروائے ہیں۔ میں نیکی کے طور پر قاسم کے ساتھ جا کر اس کے لیے تعویذ کا توڑ کرانے ایک دو بار گئی تھی، اور کوئی بات نہیں۔ وہ میری سہیلی کا بھائی ہے۔ اب نہیں جاؤں گی۔ میں تم سے محبت کرتی ہوں اور تم سے ہی شادی کروں گی بھائی نے اس کی قسموں پر یقین کر لیا اور پوری طرح اس پر اعتبار کر لیا۔ پھر وہی تحائف اور خاطر تواضع کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ بھائی نے اس کی سالگرہ پر دعوت کا اہتمام کیا اور اس کے گھر کو قمقموں سے سجا دیا۔امی جان کو مومنہ کی عادتیں پسند نہ تھیں۔ اسی وجہ سے وہ اسے منہ نہیں لگاتی تھیں اور اس کا رشتہ لینے پر آمادہ نہ تھیں۔

 اسی باعث ابصار بھائی ماں سے بات نہیں کرتے تھے۔ وہ امی کو اپنا مخالف سمجھنے لگے۔ پھر اچانک ہمیں خبر ملی کہ مومنہ کی منگنی قاسم سے ہو رہی ہے۔ پہلے تو بھائی کو یقین نہ آیا، مگر جب ان کے گھر جا کر تصدیق کی تو مومنہ نے ڈھٹائی سے کہا کہ ہاں، ہو رہی ہے منگنی قاسم سے، اور میری مرضی سے ہو رہی ہے۔ تم کون ہوتے ہو اعتراض کرنے والے۔ یہ سن کر ابصار بھائی کو غصہ آ گیا۔ وہ کہنے لگا کہ پہلے مجھ سے محبت کا دم بھرتی رہی اور اب قاسم سے منگنی کر رہی ہے۔ وہ خود پر قابو نہ رکھ سکا اور مومنہ کے منہ پر تھپڑ مار دیا۔ تب خالہ نے بھائی کو خوب سنائیں، کہنے لگیں کہ تمہیں کیا حق پہنچتا ہے میری بیٹی کو مارنے کا۔ ہمارے گھر میں آ کر ہم پر شیر ہو رہے ہو۔ نکلو میرے مکان سے، اور آئندہ یہاں مت آنا۔ گھر آ کر ابصار نے ہمیں کچھ نہ بتایا۔ خالہ ہمارے گھر آئیں اور کہرام مچا دیا۔ امی نے بھی انہیں خوب سنائیں۔ دونوں بہنوں میں جھگڑا ہو گیا۔ ماموں اسی دن ہمارے ہاں آ گئے۔ انہوں نے بیچ بچاؤ کر کے دونوں بہنوں کو ٹھنڈا کیا اور کہا کہ آپ دونوں ابھی رنجش ختم کریں۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ مومنہ کا رشتہ قاسم سے تڑوا کر ابصار کے ساتھ کروا دوں گا۔
ماموں کی بات پر وقتی طور پر دونوں بہنوں میں صلح ہو گئی۔ دراصل خالہ بھی نہیں چاہتی تھیں کہ مومنہ کی شادی غیروں میں ہو۔ وہ تو مومنہ کی ضد کی وجہ سے مجبور تھیں، ورنہ قاسم کو پسند نہیں کرتی تھیں۔ پندرہ دن بعد پتا چلا کہ مومنہ نے قاسم کے ساتھ کورٹ میں نکاح کر لیا ہے۔ ابصار بھائی کو اس بات کا علم نہ تھا۔ ہم بھی ڈر کے مارے نہیں بتا رہے تھے کہ نہ جانے وہ کیا کر گزریں، مگر بات چھپنے والی کب تھی۔ پتا چل گیا اور پھر ابصار خالہ کے گھر جا کر ہنگامہ کر بیٹھے۔انہوں نے خالہ سے کہا کہ آپ نے اتنی غفلت کر کے بیٹی کو خراب کیا۔ کیا مائیں ایسی غافل ہوتی ہیں۔ خالہ کیا کرتیں۔ مومنہ تھی کہاں، وہ تو گھر چھوڑ کر جا چکی تھی۔ جب بیٹی بھاگ چکی ہو تو کیا عزت رہ جاتی ہے۔ وہ روتی رہیں، اور ابصار بھی اپنا سر پٹکتا رہ گیا۔

خالو جان باہر گئے ہوئے تھے۔ انہیں اطلاع دی گئی کہ جلد آئیں۔ وہ آئے، پھر کچھ رشتہ داروں کی منت سماجت کر کے بیٹی کو گھر واپس لائے۔ برادری کے چار لوگ اکٹھے کر کے دوبارہ نکاح پڑھوایا اور پچاس ہزار حق مہر لکھوا کر لوگوں میں کچھ عزت بنانے کی کوشش کی۔ان کی عزت بنی کہ نہیں، مگر میرے بھائی پر جو گزری، وہی جانتا ہے۔ کچھ دن تک اپنے کمرے سے نہ نکلا۔ نہ کھاتا تھا، نہ پیتا تھا، نہ کسی سے بات کرتا تھا۔ گھر والوں نے سمجھایا، امی ابو نے منایا۔ میں زبردستی کھانا کھلاتی تو بمشکل دو لقمے حلق سے اتارتا۔ ہم سب اس کی حالت سے پریشان تھے۔مجھے اندازہ نہ تھا کہ وہ مومنہ سے اتنی محبت کرتا ہے۔ اس کی شادی کے بعد ابصار کو بس چپ لگ گئی، جو اچھی علامت نہ تھی۔ بالآخر ایک دن صبح جب وہ دیر تک نہ اُٹھا تو میں نے دروازہ بجایا۔ کوئی جواب نہ ملا۔ تبھی ابو آگئے۔ وہ بھی دہل گئے۔ روشن دان توڑ کر کمرے میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ وہ بے ہوش پڑا ہے۔ اس نے نیند کی گولیاں کھا لی تھیں۔اسی حالت میں جلدی سے اسپتال لے گئے۔

 بروقت طبی امداد ملنے سے وہ موت کے منہ سے واپس آیا۔ وہ بچ تو گیا مگر اپنے ہوش میں نہ تھا۔ رات کو اُٹھ کر رونے لگتا۔ ماں باپ اولاد کا یہ حال دیکھ کر سہم جاتے اور ان کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگتے۔ ابصار التجا کرتا کہ میں سو نہیں سکتا، مجھے نیند کی گولیاں دو تاکہ میں سو جاؤں۔ میرے والدین اب سب جھگڑے بھول کر ابصار میں لگ گئے۔ کاش وہ پہلے ہی عقل سے کام لیتے اور چھوٹی موٹی باتوں پر لڑائی جھگڑا کر کے گھر اور بچوں کا سکون برباد نہ کرتے، تو وہ گھر سے فرار اختیار نہ کرتا، نہ خالہ کے ہاں جا کر سکون ڈھونڈتا اور نہ مومنہ کی جھوٹی محبت کے چنگل میں آ کر اس حال تک پہنچتا۔بھائی کی دیوانگی نے ہم سب کا باقی ماندہ سکون بھی چھین لیا۔ چھوٹے بھائی نے اسے سنبھالا، اور جب چھٹیاں کیں تو اس کی نوکری بھی چلی گئی۔ ابو بھائی کی پریشانی میں ایسے گھرے کہ بیمار پڑ گئے، اور انہیں بھی اپنے کام کاج کا ہوش نہ رہا۔
 دفتر سے آئے دن شو کاز نوٹس ملنے لگے۔ جو تھوڑی بہت جمع پونجی تھی، وہ سب علاج پر خرچ ہو گئی۔ میاں بیوی کے جھگڑوں کا انجام یہ ہوا کہ اولاد کی محبت بھی چھن گئی اور گھر میں معاشی بدحالی بھی آ گئی۔ ایک وقت تھا جب ہمارا گھر خوشحال تھا، مگر اب مفلسی نے پنجے گاڑ لیے۔سچ کہتے ہیں، جس گھر میں میاں بیوی میں نااتفاقی ہو، اس گھر کا شیرازہ ایسے بکھر جاتا ہے جیسے ہمارا بکھر گیا۔ بچیاں بمشکل میٹرک پاس کر سکیں، لڑکے بیکار ہو کر رہ گئے۔آخرکار ہم لڑکیوں نے ہمت کی۔ کسی نے ٹیوشن پڑھانی شروع کی، کوئی پرائیویٹ اسکول میں چھوٹی موٹی تنخواہ پر ٹیچر بن گئی۔ ہم نے گھر کو سنبھالا اور اپنے کنبے کو فاقوں سے بچایا۔ یوں بیٹیاں زحمت بننے کے بجائے رحمت ثابت ہوئیں۔

 (ختم شد)

اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے