دیوتا - 11


میں تھکن سے چور تھا۔ میرا خیال تھا کہ میں فوراً سو جاؤں گا لیکن بیڈ پر لیٹتے ہی مجھے سامی یاد آ گئی ۔ یہاں اس کمرے میں ابھی تک اس کی خوشبو باقی تھی ۔ اسی خوابگاہ میں میں نے اس کا نرم و نازک ہاتھ تھام کر بوسہ دیا تھا ۔ اور آج وہ مجھ سے میلوں دور تھی ۔ میں کروٹ لے کر اس کے ذہن میں جھانکنے لگا ۔ رات کا وقت تھا ۔ سامی کے اطراف خاموشی اور تنہائی تھی۔
میری سوچ کی لہروں نے اسے پکارا
" سامی ! میں فرہاد ہوں "
اس کے دماغ نے بتایا کہ وہ یکبارگی اچھل کر بیٹھ گئ ہے ۔ پھر وہ بےاختیار مجھے پکارنے لگی ۔
فرہاد ۔۔۔ فرہاد ۔۔۔۔ تم کتنے کٹھور ہو ۔ کتنے سنگدل ہو ۔ میں اب تک تمہیں ہزاروں بار تمہیں اپنی سوچ میں پکار چکی ہوں مگر تم نے پانچ منٹ کے لیے بھی مجھ سے رابطہ نہیں کیا ۔"
" میں مجبور تھا ۔ مجھے انٹیلیجنس نے اس رات مجھے تمہیں فرار کرانے کے الزام میں حراست میں لے لیا تھا ۔ میں اب تک انہیں الزامات میں الجھا ہوا تھا ۔ اب سے کچھ دیر پہلے ہی سب الزامات سے بری ہوگیا ہوں ۔ تم بتاؤ کس حال میں ہو ؟" میں نے باقی سب تفصیلات مصلحتاً چھپا لی تھیں ۔
 
اس کا جواب سنائ دیا" ابھی تک خیریت ہے ۔ مجھے اسی کمرے میں رکھا گیا ہے جہاں پہلے چھمیا کو قید کیا گیا تھا ۔ یہ لوگ مجھے سلمیٰ قادر عرف چھمیا سمجھ رہے ہیں اور مجھ سے اس بلی کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں ۔ میں اب تک ایک ہی جواب پر قائم ہوں کہ میں بھوانی شنکر کے ساتھ تھی ۔ بلی کے بارے میں کچھ نہیں جانتی ۔ بھوانی شنکر ہی بتا سکتا ہے کہ بلی کہاں ہے ۔ میں نے ان سے کہا کہ ہم انٹیلیجنس کی نظروں میں آ گئے تھے ۔ ایک بار ان سے زبردست ٹکراؤ ہوا تو ہم سب منتشر ہو گئے ۔ جسے بھاگنے کے لیے جو راستہ ملا وہ اسی راستے پر چل نکلا ۔ میں بھی وہاں سے بھاگ کر لاہور چلی گئ ۔ اور وہاں ایک نوجوان سے دوستی کر لی ۔
میری اس داستان پر ابھی تک کسی آفیسر نے تنقید نہیں کی ہے۔ مجھے یہاں تک لانے والا ایک گونگا اور ایک پائلٹ تھا ۔ وہ بھی نہیں جانتے کہ پنڈی میں ہم پر کیا گزری ۔ اس لیے اب یہاں بھوانی شنکر کا انتظار کیا جا رہا ہے ۔ ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ احمد شیخ اور بھوانی شنکر اپنے ساتھیوں سمیت آج رات یہاں پہنچیں گے ۔ تب تک میں یہاں قید ہوں لیکن وہ کرنل مجھے ہر بار للچای ہوئ نظروں سے دیکھتا ہے ۔
تم بے فکر رہو بھوانی شنکر اور شیخ کبھی ادھر نہیں پہنچ سکیں گے ۔ وہ اب ہماری قید میں ہیں ۔ تم کرنل پر نظر رکھو جونہی وہ کوئ گڑ بڑ کرے مجھے بتا دینا ۔ میں تم سے رابطے میں رہوں گا ۔
اچانک وہ بات کرتے ہوئے چپ ہو گئ ۔ کیا ہوا سامی ؟ میں نے محسوس کیا وہ سہم گئ ہے
کیا بات ہے تم خاموش کیوں ہو گئ ہو ؟
ہاں وہ کرنل دروازا کھول کر میرے کمرے میں آ گیا ہے ۔ یہ پہلے بھی مجھے ہوس بھری نظروں سے دیکھتا رہتا ہے ۔ فرہاد اس وقت اس کے تیور اچھے نہیں لگ رہے ۔ یہ جسم تمہاری امانت ہے ۔ مجھے بتاؤ میں اس کی حفاظت کیسے کروں "
میں نے اس کی سوچ میں کہا" تم گھبراؤ نہیں ۔ اس سے بات کرو تا کہ میں اس کے لب و لہجے کو سمجھ لوں "
وہ سہمے ہوئے انداز میں کہنے لگی آپ اتنی رات کو میرے کمرے میں کیوں آئے ہیں۔
کرنل کے ہسنے کی آواز آئ" تم اتنی بھولی نہیں ہو کہ سمجھ نہ سکو "
ہوں میں سمجھ گئی ۔ تمہارے من میں پاپ ہے ۔ تم میری عزت کے دشمن بن کر آئے ہو ۔ تم نے ماتھے پر تلک لگا رکھا ہے ۔ ہاں یاد آیا آج گنیش پوجا ہے ۔ تم پوجا کر کے سیدھے پاپ کرنے آ گئے ہو چھی چھی ۔۔۔۔
" بکواس مت کرو " کرنل نے جھینپ کر کہا ۔ میں اسی وقت اس کے دماغ میں پہنچ گیا ۔ وہ واقعی اس بات پر جھینپ گیا تھا کہ پوجا کر کے پاپ کر رہا تھا ۔
انسان کے دماغ میں پاپ کا پلڑا ہمیشہ بھاری ہوتا ہے خاص طور پر جب سامی جیسی حسین لڑکی سامنے ہو ۔ اس کے دماغ نے کہا یہ پوجا کی جگہ نہیں ہے یہ پاپ کی جگہ ہے۔ پوجا کا وقت ختم ہو چکا ہے ۔
وہ سامی کی طرف بڑھنے لگا ۔
سامی نے چیخ کر کہا " خبردار مجھے ہاتھ مت لگانا ورنہ میں جان دے دوں گی"
میں جانتا تھا سامی کا آخری حربہ یہی ہے اور کرنل اپنی نیچ حرکت سے باز نہیں آئے گا ۔
اس کی سوچ میں شیطان حاوی ہو رہا تھا ۔ اس نے سامی کا بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا ۔ سامی پورا زور لگا کر اپنا بازو چھڑانے لگی ۔
میں نے کرنل کی سوچ میں للکار کر کیا " ہے شیو شنکر ۔۔۔ ہے بھولے ناتھ ۔۔ ہے پاروتی تیرے لاڈلے گنیش کا ایک سپوت پاپ گندگی میں گر رہا ہے اس مورکھ کو بچا لے "
وہ ایکدم سامی کا ہاتھ چھوڑ کر پیچھے ہٹ گیا ۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام لیا اور سوچنے لگا یہ کیسی آواز تھی ۔
میں نے اس کی سوچ میں کہا یہ تیرے اچھے کرم کی آواز تھی اگر تو اب بھی باز نہ آیا تو یہ چھوکری مر جائے گی ۔ تو اس کے شریر کو ہاتھ نہیں لگا سکے گا "
وہ کسی حد تک قائل ہو گیا لیکن اس کے دماغ میں شیطانیت اتنی طاقتور تھی کہ دوسرے پل وہ پھر بہک رہا تھا ۔
میں نے سامی سے کہا جونہی یہ تمہارے پاس آ کر تمہیں چھوئے تم اپنا جسم چھوڑ مردہ بن جانا ۔ تم یہ بتاؤ تم کتنی دیر اپنے جسم سے الگ رہ سکتی ہو ؟
وہ بولی یہ میری قوت برداشت پر ہے میں زیادہ سے زیادہ ایک منٹ تک اپنے جسم سے علیحدہ رہ سکتی ہوں ۔
تمہارے مردہ بن جانے پر جب وہ رام نام جپنے لگے تم اپنے جسم میں واپس آ جانا۔
اس دوران کرنل نے سامی کو پکڑ لیا وہ میرے مشورے کے مطابق فوراً مردہ بن گئ۔
کرنل نے اسے سنبھال کر فرش پر لٹایا" ارے یہ تو سچ مچ مر گئ"
میں نے اس کی سوچ میں کہا " ابھی تمہیں سمجھایا تھا کہ تم اسے چھو نہ سکو گے اس پاپ سے باز آ جاؤ لیکن تم نے پاپ کی ٹھان لی "
وہ سامی کی نبض چیک کرنے لگا ۔ میں نے اپنی رسٹ واچ پر دیکھا تیس سیکنڈ گزر چکے تھے ۔ اب اس کے شیطان کو دھرم کی طرف موڑنا تھا۔ میں نے اس کی سوچ میں کہا
اگر تو ایمان دھرم کی سچائ کو آزمانا چاہتا ہے تو رام نام جپنا شروع کر دے ۔ یہ ابھی زندہ ہو جائے گی ۔ چل دیر نہ کر ۔۔۔
وہ سامی کے مردہ جسم کے سامنے بیٹھ کر بلند آواز میں کہنے لگا ۔۔ ۔۔۔۔ ہرے رام۔۔۔ ہرے کرشنا ۔۔۔۔ ہرے رام۔۔۔۔۔
چند سیکنڈز کے بعد سامی نے آنکھیں کھول دیں ۔ وہ زور زور سے جاپ کرنے لگا ۔
سامی اٹھ کر بیٹھ گئی ۔ کرنل اسے دیکھ رہا تھا اور رام نام جپ رہا تھا ۔ ساتھ ہی سامی کے بھرپور جوان حسین جسم کو دیکھتا جا رہا تھا ۔ ہر دھرم ہر مذہب کے لوگوں کی یہ فطرت ہوتی ہے کہ زبان پر اللّٰہ کا نام یا رام کا نام ہوتا ہے اور ٹھیک اسی وقت دماغ کی سکرین پر بلیو فلم چلتی رہتی ہے ۔ سچائ بہت کڑوی ہوتی ہے مگر میں کیا کروں میں سوچ نگر کا شہزادہ ہوں ۔ ہر انسان کے اندر سے دیکھتا ہوں اور ان کی اچھی اور بری سوچوں کا تماشا دیکھتا ہوں ۔
میں اس کی دوغلی حرکتیں دیکھ رہا تھا ۔ رام نام جپتے وقت اس کے اندر کے شیطان نے کہا اتنی سندر چھوکری جوانی کا بازار سجائے بیٹھی ہے اور تو سادھوبنا جاپ کر رہا ہے۔ مجھے ذرا عقل سے کام لینا چاہیے ۔ یہ مری نہیں ہوگی شاید گھبرا گئ تھی ۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک چھوکری پٹ سے مرے اور پٹ سے زندہ ہو جائے ۔ مجھے ایک بار پھر سے کوشش کرنی چاہیے ۔
میں نے سامی کی سوچ میں کہا اگر یہ پھر تمہیں ہاتھ لگائے تو تم دوبارا مردہ بن جاؤ اس طرح اس کا دھرم مضبوط ہو جائے گا اور پھر یہ کبھی بھی تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا ۔
وہ جونہی سامی کی طرف لپکا سامی پھر سے مردہ بن گئ۔ اس کے دیدے پھیل گئے نبض تھم گئ ۔ اس بار کرنل کو میری نصیحت کی ضرورت نہیں پڑی وہ زور زور سے جاپ کرنے لگا۔
سامی نے ٹھیک چالیس سیکنڈ کے بعد آنکھیں کھول دیں تو وہ اور لہک لہک کر پڑھنے لگا ۔
میں نے اس کی سوچ میں کہا مورکھ تو نے کنواری کنیا کو چھونے کا پاپ کیا ہے ۔ تجھے اس پاپ کاپراشچس کرنا ہوگا اب کی بار تو نے ہاتھ لگایا تو تو مر جائے گا ۔
ذرا دیر کے بعد وہ رام نام جپتا ہوا کمرے سے نکل گیا ۔ میں نے سامی سے کہا تم اب بےفکر ہو جاؤ کرنل اور اس کے حواری تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے ۔
سامی سے بات کرتے ہوئے مجھے کچھ خطرے کا احساس ہوا ۔ میں نے سامی کو بتایا کہ شاید کوئ گڑ بڑ ہےتم اپنا خیال رکھنا ۔ اب میں تم سے رابطہ توڑ رہا ہوں ۔ میں نے آنکھیں کھول کر دروازے کی طرف دیکھا باہر سے کوئ دھکے مار مار کر دروازا توڑ رہا تھا ۔ دروازا بہت مضبوط لکڑی سے بنا تھا اور اندر سے لاکڈ تھا ۔ دروازا توڑنے والا نہایت چالاکی سے دروازے کے قبضوں پر ضربیں لگا رہا تھا ۔
کون ہے ؟
میں نے بلند آواز سے پوچھا
اتنے میں دروازے کے سارے قبضے ایکدم کھل گئے اور ایک دیوہیکل آدمی اچھل کر کمرے میں آ گیا ۔ وہ سر سے پاؤں تک سیاہ لباس میں تھا ۔ اس کے پورے چہرے پر نقاب تھا ۔ حتی کہ اس کی آنکھیں بھی ٹھیک سے دکھائی نہیں دے رہی تھیں۔ میں اس کی سوچ نہیں پڑھ سکتا تھا کیونکہ ابھی تک اس نے ایک لفظ نہیں بولا تھا ۔ اس وقت میری خیال خوانی کی صلاحیتیں بےکار ہوگئ تھیں ۔ وہ کمر پر ہاتھ رکھے میرے سامنے کھڑا مجھے للکار رہا تھا ۔
وہ کتنا طاقتور تھا یہ ٹوٹا ہوا دروازا بتا رہا تھا ۔
میرے ذہن میں ایکدم جھماکہ ہوا
شیتل ۔۔۔۔دا بلیک گائیڈ

اس کا سراپا بلیک گائیڈ کی تفسیر پیش کر رہا تھا ۔ میں نے محض اندازہ کیا کہ وہ شیتل دا بلیک گائیڈ ہو سکتا ہے لیکن میرا اندازہ درست ثابت ہوا ۔ کاش میں اس کے خیالات پڑھ سکتا ۔ آنکھوں کی جگہ نقاب میں دو سوراخ تھے ۔ باقی چہرہ نقاب میں چھپا ہوا تھا اس نے ایک بار بھی میری آنکھوں میں نہیں دیکھا تھا اب صرف ایک ہی صورت تھی کہ میں نے اسے للکار کر کہا
کون ہو تم ؟
جواب میں اس نے کچھ بولنے کی بجائے اچانک میری ٹھوڑی پر ایک گھونسا رسید کیا ۔ میں لڑکھڑا کر پیچھے گر گیا ۔ وہ ایک ذبردست گھونسہ تھا میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا ۔ میں فوراً ہی اٹھ نہ سکا اس کے آہنی ہاتھوں نے مجھے پیچھے سے پکڑ کر اوپر اٹھا لیا ۔ میں کوئ ہلکا پھلکا کھلونہ نہیں تھا میرا وزن دو من پندرہ سیر تھا ۔ اس نے مجھ جیسے وزنی آدمی کو اٹھا کر آہنی الماری پر پھینک دیا الماری پر قد آدم آئینہ لگا ہوا تھا میں اس سے ٹکرایا تو آئینہ چکنا چور ہو گیا ۔ میری کمر اور سر میں شیشے کے کئ ٹکڑے چبھ گئے تھے ۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے ۔ میں زمین پر شیشوں کے اوپر چت پڑا ہوا تھا وہ دوبارا میری طرف بڑھا تو میں نے اسے پوری قوت سے لات ماری۔ مجھے لگا جیسے میں نے لوہے کے بدن کو لات ماری ہے ۔ وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔ اس نے میری بائیں ٹانگ پکڑ کر مجھے ہوا میں اچھال دیا میں بیڈ کے گدے پر آیا پھر لڑھکتا ہوا فرش پر گر گیا ۔ وہ عین میرے سر پر اس طرح کھڑا تھا کہ میری آنکھیں اس کے نقاب میں موجود سوراخوں سے ٹکرائیں ۔ میں نے ساری ہمت جمع کر کے اپنے دماغ کو کلئیر کیا اور اپنی شعلہ بار نگاہیں اس کی آنکھوں میں گاڑ دیں ۔
"کون ہو تم وہیں رک جاؤ"
میں نے للکار کر اس کی سوچ میں کہا
وہ ایک لمحے کے لیے جھٹکا کھا کر پیچھے ہٹا پھر مجھے گریبان سے پکڑ کر سیدھا کر دیا
میری حیرانی کی انتہا نہ رہی جب میں نے دیکھا کہ میری ٹیلی پیتھی کا اس پر کوئی اثر نہ ہوا تھا ۔ مجھے سوچنے کا مزید موقع نہ ملا اس نے مجھ پر چوتھا حملہ کیا ۔ وہ میرے سر پر دونوں ہاتھوں سے ضرب لگانا چاہتا تھا ۔ میں نے اس کے دونوں ہاتھ پکڑ لیے لیکن وہ ہاتھ اتنے وزنی تھے کہ میں زیادہ دیر ان کا بوجھ برداشت نہ کر پایا اور پیچھے کی طرف الٹ گیا ۔ میرا خیال تھا کہ میں پیچھے ہٹ کر اس کے پیٹ میں ٹکر ماروں گا لیکن وہ بجلی کی سی پھرتی سے پیچھے ہٹ گیا میں اپنے ہی زور پر سیدھا جا کر دروازے سے لگا ۔ میرا آدھا جسم دروازے کے باہر اور آدھا اندر تھا اس نے پیچھے سے اپنے ہاتھوں کے شکنجے سے میری گردن دبوچ لی ۔ اس کے سارے جسم کا بوجھ مجھ پر تھا ۔ میں تکلیف سے تڑپنے لگا ۔ وہ پورا زور لگا کر میری گردن دبا رہا تھا ۔ مجھے تسلیم کرنا پڑا کہ وہ جناتی قوت کا مالک تھا ۔میں اندر سے ٹوٹنے لگا ۔ اب بچاؤ کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی تھی ۔ میں نے دھندلائ ہوئ آنکھوں سے سامنے دیکھا وہ ریوالور ہاتھ میں تھامے سامنے سے آ رہی تھی ۔ میں نے آنکھیں میچ کر دوبارا دیکھا وہ زرینہ تھی ۔ اس کے ہاتھ میں ریوالور تھا اور وہ کانپتی ہوئی ڈولتی ہوئ ریوالور تھامے آگے بڑھ رہی تھی ۔
میں نے اسے گولی چلانے سے منع کرنے کے لیے آواز دی لیکن میری آواز گلے میں گھٹ کر رہ گئ ۔ میں دو طرفہ مصیبت میں پھنس گیا تھا ۔ مجھے پتا تھا زرینہ کا نشانہ کیسا ہوگا ۔ وہ کانپتے ہاتھوں سے مجھے ہی مار ڈالے گی ۔
میں نے اس کے دماغ میں کہا چھت پر فائر کرو ۔ میری بات مان کر اس نے اندھا دھند چھت پر فائرنگ شروع کر دی ۔ نقاب پوش نے انًافانًا مجھے زرینہ پر اچھال دیا ۔ میں نے ایک سیکنڈ ضائع کیے بغیر ریولوار زرینہ کے ہاتھ سے لے کر اس کی طرف فائر کھول دیا ۔ لیکن اس سے ایک لمحہ پہلے وہ کسی غوطہ خور کی طرح ہوا میں تیرتے ہوئے کھڑکی سے باہر کود گیا ۔
میں بری طرح زخمی تھا ۔ اس کا پیچھا کرنے کے لیے جتنی جلدی اٹھنا چاہیے تھا اتنی تیزی سے اٹھ نہیں سکا ۔ میرا سر بری طرح چکرا رہا تھا ۔ میں آج سے پہلے کسی دشمن کے سامنے اتنا بےبس نہیں ہوا تھا ۔ زرینہ بھاگتی ہوئی میرے پاس آئ ۔ میں نے اسے شہباز کا نمبر لکھوا کر اسے ساری صورتحال بتانے کا کہا ۔
مجھے ایکدم شدید تھکن نے آ گھیرا ۔ میری آنکھیں بند ہو رہی تھیں ۔ میں نے سوچا شاید مجھے نیند آ رہی ہے لیکن میں بےہوش ہو چکا تھا ۔
جب مجھے ہوش آیا تو میں ہسپتال کے ایک کمرے میں پڑا ہوا تھا ۔ ایک ڈاکٹر میرے پاس کھڑا میرے جسم کے مختلف ایکسرے فوٹو لینے کی بات کر رہا تھا ۔ میرے بستر کے آس پاس ڈائریکٹر جنرل شبیر حسن ، شہباز خان اور دوسرے آفیسرز کھڑے تھے ۔
مجھے آنکھیں کھولتے دیکھ کر ڈائریکٹر جنرل نے شفقت سے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور تسلی دیتے ہوئے کہا " اب گھبرانے کی کوئی بات نہیں تم پولیس ہسپتال میں ہو یہاں چاروں طرف سخت پہرا ہے۔ تمہاری اجازت کے بغیر پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا ہے ۔ تم یہ بتاؤ کہ کیا تم بیان دینے کے قابل ہو ؟
میں نے نقاہت سے کہا جی میں آپ کو ابھی پورا واقعہ سنا سکتا ہوں "
لیکن ڈاکٹر نے فوراً مداخلت کرتے ہوئے کہا" ابھی انہیں آرام کرنے دیجئے ۔ یہ شام تک بہتر ہو
جائیں گے تو پھر آپ ان سے بات کر سکتے ہیں "
اس وقت ان سے بات کرنے سے ان کے سر کی چوٹ بڑھنے کا خدشہ ہے
میں نے ڈاکٹر کی ساری بات سن کر آنکھیں بند کر لیں کیونکہ اتنی سی دیر میں مجھ پر پھر سے تھکن غالب آ رہی تھی ۔
رات آٹھ بجے اچانک میری آنکھ کھل گئی ۔ پتا نہیں یہ حسن تقدیر ہے یا حسن اتفاق کہ
جہاں حسین اور خطرناک عورتیں ہوتی ہیں وہاں میری چھٹی حس مجھے چونکا دیتی ہے ۔ میری کھلی آنکھوں کے سامنے دودھیا لباس میں ایک خوبصورت دودھیا پری مجسم ہو کر نرس کے روپ میں کھڑی تھی ۔ وہ واقعی اپسرا تھی یا بیماری کی حالت میں مجھے ہی اتنی خوبصورت لگی تھی ۔ کیونکہ تپتی دھوپ میں کسی صحرا سے گـزر کر آئیں تو کھجور کا سایہ بھی مل جانے پر وہ خیالی جنت سے زیادہ حسین محسوس ہوتا ہے ۔
مجھے اس کی آنکھوں میں دکھ کی گہری لکیر محسوس ہوئ
مجھے جاگتے دیکھ کر وہ مسکرائ ہم کچھ دیر ایک دوسرے کو دیکھتے رہے پھر وہ جلدی سے میرے قریب آ گئ "آپ جاگ گئے ہیں . ٹھہریۓ میں ڈاکٹر کو انفارم کر کے آتی ہوں ۔ میں نے اسے جانے دیا کیونکہ میں اس کے یہاں سے جانے کے بعد بھی اس کے دماغ میں موجود تھا ۔ کچھ عرصے سے میرا معمول ہو گیا تھا کہ شروع میں اپنے آس پاس لوگوں کی سوچ پڑھتا تھا ۔وہ اپنے آپ سے کہہ رہی تھی پتا نہیں میرا پپو ، میرا بچہ کس حال میں ہوگا ۔ ظالموں نے اسے قید کر رکھا ہے ۔ میں کیسے اسے چھڑا کر لاؤں کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہے ۔
وہ سوچتے سوچتے رک گئ ۔ پھر اپنے ماتھے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی مجھے جانے کیا ہو گیا ہے بیڈ نمبر دس کے مریض کو درد کا انجیکشن دینا تھا ۔ وہ کوریڈور سے مڑ کر واپس میرے کمرے کی طرف آنے لگی تو سامنے آتی ایک نرس نے اس کا راستہ روک لیا ۔ میں نے اس سے رابطہ کاٹ کر کمرے میں دیکھا ۔ میرے دائیں جانب دیوار پر ایک درمیانے سائز کی کھڑکی تھی جس پر نیلے رنگ کے پردے لگے ہوئے تھے ۔ میں نے اٹھنے کی کوشش کی تو بےاختیار کراہ نکل گئ ۔ اسی لمحے وہ نرس دوائیوں کی ٹرے اٹھائے کمرے میں داخل ہوئ ۔ مجھے اٹھتے دیکھ کر بھاگتی ہوئی میرے پاس آئ اور بولی " سر پلیز ۔ اٹھیں نہیں آپ لیٹے رہیں ہلیں بھی مت ابھی آپ کے زخم کچے ہیں کھل جائیں گے ۔ "
میں نے مسکراتے ہوئے کہا " میں اتنا نازک مزاج نہیں ہوں فکر نہ کرو ۔ تم بتاؤ اتنی پریشان کیوں ہو ؟ "
" میں ؟ نہیں تو ایسی کوئی بات نہیں ہے "
تمہارا نام کیا ہے ؟
"سسٹر"سب مجھے سسٹر کہتے ہیں ۔ وہ ذرا سا مسکرائ تو اس کے دودھیا دانت روشنی دینے لگے
" سسٹر تو سب کہتے ہیں لیکن تمہاری طرح خوبصورت سا ایک نام بھی ہوگا "
میرا نام فرزانہ ہے
فرزانہ مجھے لگتا ہے کہ تمہیں گہرا دکھ پہنچا ہے ۔ جیسے کوئ تمہارا گھر اجاڑ گیا ہو ؟ تم مجھ سے کہہ کر دل کا بوجھ ہلکا کر سکتی ہو ۔ میں نے اس کی اداس آنکھوں میں دیکھا
اس نے نظریں جھکا لیں اور سرنج میں دوائ بھرنے لگی ۔
وہ سوچ رہی تھی میری تو کوکھ ہی اجڑ گئ ہے ۔ پتا نہیں کون نامراد ہے جو میرے بچے کو چھین کر لے گیا ہے ۔
اس کی چپ توڑنے کے لیے میں نے کہا "مجھے معلوم ہے کہ تمہارا بچہ چھن گیا ہے "
وہ انجیکشن ہاتھ میں پکڑے حیران سی کھڑی رہ گئ
آ ۔۔۔ آپ کو کیسے معلوم ہوا ؟
کیا آپ نجومی ہیں ؟
میں تھوڑا بہت علم جانتا ہوں ۔ میں تمہارے ہاتھ سے اندازہ لگا سکتا ہوں کہ تمہارا بچہ اس وقت کہاں ہے ؟
وہ سب کچھ چھوڑ کر میرے پاس بستر پر بیٹھ گئ ۔ " سچ کہیے آپ میرے بچے کو ڈھونڈ سکتے ہیں ۔ خدا کے واسطے میری مدد کیجیے " اس نے
اپنی گلابی ہتھیلیاں میرے سامنے پھیلائیں"
وہ گورے گورے گلابی گلابی ہاتھ میری نگاہوں کے سامنے تھے ۔ وہ پوچھ رہی تھی میں کون سا ہاتھ دیکھنا پسند کروں گا ۔ مجھے تو دونوں ہی ہاتھ پسند تھے اور ان ہاتھوں سے دور تک بھی وہ پسند تھی ۔ جی چاہ رہا تھا کہ ایک ہاتھ تھام کر لکیریں دیکھوں اور دوسرا سینے پر رکھ کر دھڑکنوں میں سمو لوں ۔
میں جانتا ہوں مجھے ایک غیر عورت کو اس طرح نہیں دیکھنا چاہیے مگر انسان کی فطرت ہے وہ غیر عورت کے بارے میں زیادہ سوچتا ہے ۔ گھر کی مرغی دال برابر ہی نظر آتی ہے ۔ جس چیز میں ذرا دماغ لڑانا پڑے اور چور دروازوں سے گزرنا پڑے اس میں بےحد کشش ہے ۔
یہ بھی درست ہے کہ ایسی عورت کے بارے میں سوچنا ذلالت ہے جو اپنے بچے کے لیے پریشان ہے۔ مگر سچائ ذرا کڑوی ہے ۔ اول روز سے اس دنیا میں یہی ہوتا آیا ہے کسی کی بہن کی مجبوری سے کسی کی ماں کی ممتا سے لوگ فوری طور پر فائدے حاصل کرتے ہیں ۔ میں نے خیال خوانی سے لوگوں کے دماغ میں بیٹھ کر ایسے ایسے شرمناک خیالات پڑھے ہیں کہ اگر انہیں آشکار کیا جائے تو انسان کا سر شرم سے جھک جائے گا ۔ میں نے ایسے کالے چہرے بھی دیکھے ہیں جو اپنے دوست کی بیٹی کو صدق دل سے بیٹی کہتے ہیں لیکن چور دریچے سے جھانک کر اسی بیٹی کی جوانی کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہیں ۔
میں نے ہر انسان کی سوچ میں جھانک کر دیکھا اور یہی سمجھا کہ ہر انسان اپنے چہرے کے پیچھے ایک اور چہرہ چھپا کر رکھتا ہے ۔ میں نے بھی اس چہرے کے پیچھے ایک دوسرا چہرہ چھپا کر رکھا ہوا ہے جسے میں زیادہ نہیں چھپاتا ۔ کسی جوان اور حسین لڑکی کو دیکھ کر بےنقاب کر دیتا ہوں ۔ اس وقت بھی اس نرس کو دیکھ کر مجھے دو طرح کے خیالات کا سامنا تھا ۔ ایک یہ کہ میرے سامنے ایک مجبور بےبس ماں ہے اور دوسرا یہ کہ سامنے بیٹھی عورت محض حسن کا مجسمہ ہے اسے اسی طرح دیکھنا چاہیے ۔
جلدی سے دیکھ کر بتائیں میرا بچہ کہاں ہے ۔" اس وقت وہ صرف ایک ماں تھی نہ خوبصورت نہ بدصورت اس کے روئیں روئیں میں ممتا بھری ہوئی تھی ۔
میں نے اس کا ہاتھ تھام لیا ۔ اس کا ہاتھ روئ کے گالے کی طرح نرم اور ملائم تھا ۔ میں اس کی ہتھیلی کے درمیان میں انگلیاں پھیرنے لگا جیسے لکیریں پڑھ رہا ہوں لیکن درحقیقت میں اس کی سوچ پڑھ رہا تھا ۔ اس کے ذہن کے مطابق دو دن پہلے آدھی رات کو ایک شخص اس کے کمرے میں داخل ہوا اسے بےبس کر کے اس کا بچہ چھین کر لے گیا ۔ پھر اگلے دن صبح اسے فون پر بتایا گیا کہ اگر اپنے بچے کی خیریت چاہتی ہو تو کمرہ نمبر دو کے مریض تک ہماری پیغام رسانی کرو ۔ کمرہ نمبر دو کا سن کر میں ٹھٹھک گیا ۔ اس کمرے میں بھوانی شنکر کو آپریشن کے بعد رکھا گیا تھا ۔
میں فرزانہ کو اس کی سوچ میں پڑی ساری باتیں بتانے لگا ۔ وہ ششدر بیٹھی سنتی رہی ۔ اس کی آنکھوں میں عقیدت ابھر آئی ۔
میں اس کا ہاتھ تھامے اس کی سوچ پڑھ رہا تھا ساتھ ساتھ اسے بتاتا جا رہا تھا کہ ایکدم کمرہ کھول کر ڈائریکٹر جنرل شبیر حسین اور انسپکٹر شہباز خان اندر آ گئے ۔ فرزانہ گھبرا کر ہاتھ چھڑاتے ہوئے تیزی سے کمرے سے نکل گئ ۔
" کیوں بھئ مجھے تو بتایا گیا تھا کہ تم اٹھ نہیں سکتے یہاں تو عشق کی پینگیں بڑھائ جا رہی ہیں" شبیر حسن نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا ۔
شہباز خان میرے پاس آ کر میرے کندھے پر ہاتھ مار کر بولا " سر میرا یار عشق کے میدان کا ماہر کھلاڑی ہے " شہباز خان سے دوستی اس مقام تک آ چکی تھی کہ ہم دونوں ایک دوسرے کی فطرت کو اچھی طرح جان گئے تھے ۔
میں نے سنجیدگی سے ان کی طرف دیکھتے ہوئے اصل بات بتائ ۔ ڈائریکٹر جنرل تحسین آمیز نظروں سے دیکھتے ہوئے بولے " فرہاد تم اس وطن کا سرمایہ ہو ۔ تمہارے کارناموں نے ہمارے دل جیت لیے ہیں ۔ مجھے حیرت ہے کہ دشمن ہماری ناک کے نیچے کیا کھیل کھیل رہا ہے ۔ ہم ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے ۔ لیکن ایک بات جو میں اس دن سے سوچ رہا ہوں کہ تمہیں فائٹنگ ٹریننگ کی اشد ضرورت ہے ۔ جس طرح کے مہلک دشمنوں سے ہمارا واسطہ ہے تمہیں اس ٹریننگ کی بہت ضرورت ہے "
شہباز خان نے بھی تائید میں سر ہلایا" ہاں کم از کم اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے "
میں نے کہا" آپ دونوں ٹھیک کہہ رہے ہیں مجھے ٹھیک ہو کر ٹریننگ سینٹر جائن کرنا چاہیے فی الحال تو میں اس شخص کے دماغ میں جانا چاہتا ہوں جس نے فرزانہ کے بچے کو اغوا کر رکھا ہے "
میں نے ڈائریکٹر جنرل سے گذارش کی کہ آپ دونوں تھوڑی دیر کے لیے باہر چلے جائیں تاکہ مجھے اور فرزانہ کو کھل کر بات کرنے کا موقع مل سکے ۔
ٹھیک ہے فرہاد تم اپنی طرف سے اچھی طرح تسلی کر لو پھر ہم انہیں گھیرنے کا منصوبہ بناتے ہیں ۔ یہ کہتے ہوئے ڈاریکٹر جنرل کمرے سے نکل گئے ۔ پیچھے پیچھے شہباز بھی نکل گیا ۔
میں کچھ دیر آنکھیں بند کر کے اپنے دماغ کو ایک نقطے پر مرتکز کرنے کی مشق کرتا رہا ۔ تقریباً دس منٹ بعد فرزانہ دوبارا کمرے میں داخل ہوئ ۔ وہ سہمی ہوئی تھی ۔ وہ میرے پاس آ کر رک گئ ۔ میری آنکھیں بند تھیں ۔ وہ تذبذب میں تھی کہ مجھے اٹھائے یا نہیں اتنے میں میں نے آنکھیں کھول دیں ۔ اس کی نظریں میری سلگتی ہوئ آنکھوں سے ٹکرائیں ۔ وہ مجبور لہجے میں بولی " فرہاد مجھے پتا چل چکا ہے کہ آپ کے پاس کوئ خاص علم ہے ۔ آپ میرے بچے کو ڈھونڈ لیں گے ناں "
مجھے اس پر ترس آ گیا ۔ خوبصورتی اور ستائش کہیں بہت پیچھے چلی گئ ۔ وہ اپنے بچے کے لیے مچل رہی تھی اور میں اپنے وطن کے لیے ۔ ہم دونوں کے اندر بےچینی تھی ۔
میں نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور کہا " دیکھو فرزانہ میرے پاس عام سا علم نجوم ہے ۔ میں اس سے مدد لے کر تمہارے بچے کو واپس لانے کی پوری کوشش کروں گا لیکن اگر تم اپنے بیٹے کی سلامتی چاہتی ہو تو مجھے ہر بات سچ سچ بتاؤ ۔ میں پھر ہی اپنے علم سے کوئ مدد کر سکتا ہوں "
اس کی سوچ بتا رہی تھی کہ وہ تعاون پر پوری طرح آمادہ ہے ۔ اتنے دن اپنے بچے کے لیے تڑپنے کے بعد اسے امید کی ایک کرن نظر آئ تھی ۔ وہ آہستہ آہستہ سب بتانے لگی
میں نے پوچھا " کیا تمہیں اس بدمعاش کا حلیہ یاد ہے جو رات کو تمہارے گھر گھس کر تمہارے بچے کو لے گیا تھا"
"ہاں وہ سانولے رنگ کا دبلا پتلا سا آدمی تھا ۔ اس کی ناک لمبی اور چھوٹی چھوٹی آنکھوں میں ذہانت تھی ۔پیشانی آگے کی طرف ابھری ہوئی تھی جیسے چوٹ کھا کر ورم آ گیا ہو ۔ اس نے مجھ سے پوچھا کمرہ نمبر دو کے مریض کے متعلق بتاؤ اسے کیا بیماری ہے ؟
میں جانتا تھا کہ کمرہ نمبر دو میں بھوانی شنکر ہے لیکن نرس کو اس کے بارے میں علم نہیں تھا ۔ وہ اسے محمود حسن کے نام سے جانتی تھی ۔
میں جان گئ تھی کہ وہ کوی خطرناک مجرم ہے ۔ یہاں ہسپتال میں اکثر خطرناک مجرم لائے جاتے ہیں ۔ لیکن اگر میں اسے اس مریض کے بارے میں نہ بتاتی تو وہ میرے بچے کو مار ڈالتا ۔ اس نے کہا جب تک دو نمبر کا مریض صحت یاب نہیں ہوگا وہ میرے بچے کو اپنے پاس رکھے گا اور تب تک میں اس کے لیے پیغام رسانی کا کام کرتی رہوں ۔ مجھے معلوم ہے یہ قانون کے خلاف ہے لیکن دوسری طرف میرا بچہ ہے میں اپنے بچے کو نہیں کھو سکتی تھی فرہاد صاحب اس لیے اس دن سے پیغام رسانی کر رہی ہوں ۔ یہ پیغام کوڈ ورڈز میں ہوتا ہے ۔"
یہ پیغام تم کہاں پہنچاتی ہو ؟
وہ میری ڈیوٹی ختم ہوتے ہی میرے کواٹر میں آ جاتا ہے ۔ میں اسے محمود حسن کا پیغام دے دیتی ہوں ۔ اور اس کا پیغام محمود حسن تک پہنچا دیتی ہوں ۔
میں نے اس سے کہا" اب تم گھر جاؤ گی تو اپنے بچے کی تصویر لے کر آنا " تصویر سے میں معصوم بچے کے دماغ تک پہنچ کر بآسانی پتا لگا سکتا تھا کہ اسے کہاں رکھا گیا ہے ۔
وہ بولی" ابھی میری ڈیوٹی ختم ہونے والی ہے میں کواٹر میں جاؤں گی تو وہ بدمعاش وہاں موجود ہوگا ۔ میں محمود حسن کا پیغام اسے دے دوں گی
میں نے چونک کر پوچھا " تمہارے پاس پیغام ہے ؟
" ہاں میرے پاس پیغام ہے۔ اسنے کچھ جھجھکتے ہوئے رخ موڑ کر اپنے بلاوز کے اندر سے ایک مڑا تڑا چھوٹا سا کاغذ نکال کر میرے سامنے رکھا ۔
میں نے اس کے ظالم لمس سے نظر چراتے ہوئے کاغذ کھولا ۔ یہ عام سا پیپر تھا جس پر آڑی ترچھی لکیریں کھینچی گئ تھیں ۔ میں سمجھ گیا یہ وہی بتا سکتا ہے جس کے لیے یہ پیغام ہے ۔
" تم جاؤ اور اس پیغام کو اس بدمعاش کو دے دو ۔ ایک بات کا دھیان رکھنا ۔ تم اس سے کچھ بات چیت کرنے کی کوشش کرنا ۔"
وہ مجھے احترام اور عقیدت سے دیکھتی ہوئ چلی گئ ۔ میں اس کے دماغ میں موجود تھا ۔ میرے کمرے سے نکل کر وہ ڈیوٹی روم میں گئ ۔ وہاں جا کر کچھ کاغذ دوسری نرس کے حوالے کیے پھر ہسپتال کی پچھلی طرف بنے کواٹرز کی طرف جانے لگی ۔ وہ دل ہی دل میں سخت سہمی ہوئی تھی ۔ جونہی اس نے کوارٹر کا دروازا کھولا اس کی سوچ میں اضطراب بھر گیا ۔ میں سمجھ گیا کہ وہ بدمعاش وہاں موجود ہے ۔ اس کی سوچ نے بتایا کہ وہ بدمعاش پیغام کا مطالبہ کر رہا ہے ۔ اسے یاد آیا کہ میں نے اس سے کہا تھا کہ مجھے کچھ بات چیت کرنی ہے ۔ وہ کہنے لگی" میں تمہارا کام کر رہی ہوں اب تم مجھ پر رحم کرو اور میرے بچے کو میرے پاس لے آؤ میں وعدہ کرتی ہوں کہ میں اسی طرح تمہارے کام آتی رہوں گی "
جواب میں اس نے کہ " تمہارا بچہ ہمارے پاس محفوظ ہے تم ہمارا کام کرتی رہو ۔ ہم آج رات اپنے مریض کو وہاں سے لے جائیں گے "
میرے لیے اتنا لب ولہجہ کافی تھا ۔ میں نے اس شخص کے دماغ میں چھلانگ لگائ ۔ وہ فرزانہ کا لایا ہوا پیغام پڑھ رہا تھا ۔ گو کہ وہ کوڈ ورڈز تھے لیکن اس کی سوچ میں واضح تھا کہ یہ کیا پیغام ہے ۔ بھوانی شنکر نے اسے لکھا تھا کہ "آپریشن کا زخم بھرنے میں کئ دن لگ جائیں گے بلیک گائیڈ تمہیں کم از کم ایک ہفتہ انتظار کرنا پڑے گا"
مجھے حیرت ہوئ۔ تو یہ بلیک گائیڈ تھا لیکن وہ کون تھا جس نے مجھ پر حملہ کیا تھا ۔
میں نے اس کے دماغ میں کہا مجھے بھوانی شنکر تک اپنا پیغام پہنچانا چاہیے۔
اس نے ایک کاغذ پر چند لکیریں گھسیٹیں جن کا مطلب تھا
" تمہاری صحت یابی تک انتظار نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ شیتل تمہیں آرام سے اٹھا کر لے آئے گا تمہیں کسی قسم کی تکلیف نہیں ہوگی ۔میں کل کسی وقت موقع پا کر آؤں گا اور تمہیں لے جاؤں گا "
اس نے پیغام نرس کے حوالے کیا" یہ رکھ لو اور کل صبح اسے دے دینا ۔ تمہارا بچہ کل شام تمہارے پاس واپس آ جائے گا "
اور وہ وہاں سے نکل گیا ۔ مجھے اب نرس کے دماغ کی ضرورت نہیں تھی میں اس بدمعاش کے دماغ میں موجود تھا ۔ وہ ہم سب کے لیے اجنبی تھا ۔ میں معلوم کرنا چاہتا تھا کہ وہ کون ہے ۔ اور مجرموں کے گروہ میں اسے کیا حیثیت حاصل ہے ۔
میں نے اس کے دماغ میں چند سوالات کیے جس سے معلوم ہوا کہ وہ بلیک گائیڈ ہے ۔ بلیک گائیڈ ان تمام جاسوسوں کی پشت پناہی کرتا ہے جو تخریب کاری کے لیے سرحد پار سے آتے ہیں ۔ بلیک گائیڈ بظاہر کمزور جسم کا مالک ہے لیکن ذہانت میں اس کا کوئ ثانی نہیں ہے ۔ دشمنوں کی سیکرٹ سروس کے بہت کم لوگ اس کے بارے میں جانتے تھے ۔ وہ کبھی سامنے نہیں آتا ۔ اس کے ماتحت دو گونگے ہیں جو اس کے منصوبوں پر عمل کرتے ہیں ۔ ان میں سے ایک شیتل تھا جس نے مجھ پر حملہ کیا تھا اور دوسرا چیتل تھا ۔ دونوں ہمشکل جڑواں بھائی تھے لڑنے میں ماہر اور مشینی جسم کے مالک تھے ۔
اس وقت ان کی رہائش برانڈتھ روڈ کے پیچھے ایک پرانے مکان میں تھی جس کا نمبر دو سو تین تھا ۔ یہ ساری معلومات اکٹھی کر کے میں نے آنکھیں کھولیں تو ڈاریکٹر جنرل اور انسپکٹر شہباز میرے کمرے میں بیٹھے بےچینی سے منتظر تھے ۔
مجھے دیکھتے ہی شہباز بولا " فرہاد مجھے امید ہے کہ تمہارے پاس ہمارے لیے مکمل معلومات موجود ہیں"
میں نےجب انہیں بلیک گائیڈ کے بارے میں بتایا کہ وہ کس طرح اسی ہسپتال کی ایک نرس کے ذریعے بھوانی شنکر کے ساتھ رابطے میں ہے تو ۔ ڈائریکٹر جنرل اپنی سیٹ سے اٹھ کھڑے ہوئے انہوں نے جوش مسرت سے میرے ہاتھ تھام لیے اور بولے ہمیں فوراً سے پہلے اسے حراست میں لے لینا چاہیے ۔ چلو شہباز خان اب کی بار تم اس مشن کے انچارج ہوگے ۔ تم فرہاد سے مدد لیتے ہوئے ہوٹل کو گھیرے میں لے لو ۔ میں تمہارے ساتھ تمہاری ٹیم میں موجود رہوں گا ۔ "
فرہاد تمہارا بہت شکریہ تم نے اتنے خطرناک دشمن کی طرف ہماری مکمل راہنمائی کی ہے ۔
وہ تیز تیز بولتے فیصلہ کن انداز میں دروازے کی طرف مڑے ۔
میں نے انہیں آواز دی " جناب آپ بلکل ٹھیک راستے پر ہیں لیکن میرا مشورہ ہے کہ ہمیں اس شخص کو ذرا سی ڈھیل دے کر ان کے اصل ٹھکانوں تک پہنچنا چاہیے ۔ اس مشن میں جلدبازی ٹھیک نہیں ہے "
میں جانتا تھا کہ ان کے عہدے کی وجہ سے انہیں براہ راست منع نہیں کر سکتا تھا ۔
پھر بھی میں نے ڈھکے چھپے انداز میں انہیں سمجھایا کہ ہمیں دشمن کو سمجھ کر اسے مات دینا ہوگی ۔ اندھا دھند حملے میں ہمارے ساتھیوں کی جان بھی جا سکتی ہے ۔ اس کے علاؤہ ہم ایک معصوم بچے کی جان کو بھی خطرے میں ڈال دیں گے ۔
لیکن انہیں میری مداخلت ناگوار گزری وہ دل میں سوچ رہے تھے فرہاد ابھی ناتجربہ کار نوجوان ہے اسے نہیں پتا کہ دشمن کو ذرا سی ڈھیل کتنا بڑا نقصان کر سکتی ہے
میں نے شہباز کو اشارے سے سمجھانے کی کوشش کی مگر بےسود ۔ میں نے ڈائریکٹر جنرل کے دماغ میں ایک بار پھر انہیں پکار کر کہا جناب اگر آپ نے اس طرح جلدی کی تو اس عورت کے بچے کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ وہ جواباً طنزیہ بولے " فرہاد ملک و قوم کے مفاد کی خاطر ہم ایک بچے کو لے کر نہیں بیٹھ سکتے تم سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کر رہے ہو " مجھے اندازہ ہوا کہ وہ میری ایک نہیں سنیں گے ۔
میں نے انہیں قائل کرنے کی کوشش کی کہ یوں جلدبازی میں آپ اپنی فورس کا نقصان کر سکتے ہیں ۔ مگر وہ ٹھان چکے تھے ۔ تو میں نے ان سے دماغی رابطہ منقطع کر دیا ۔
کچھ دیر سوچنے کے بعد میں نے بلیک گائیڈ کے دماغ میں جھانکا ۔ وہ اشاروں میں اپنے ماتحت شیتل کو سمجھا رہا تھا کہ بچے کو لے کر ایکس تھرٹی نمبر والی کوٹھی میں لے جاؤ وہاں ایک ادھیڑ عمر عورت ہے یہ بچہ تم اسے دے دینا ۔ یہ بچہ ادھر مکان میں رکھنا ٹھیک نہیں ۔ یہاں کسی وقت پہرے پر موجود گارڈ نے اس کے رونے کی آواز سن لی تو سب کیے کرائے پر پانی پھر جائے گا ۔
پھر وہ اسے لکھ کر پتا سمجھانے لگا ۔ میں نے پتا ذہن نشین کر لیا ۔ جسے اللّٰہ رکھے اسے کون چکھے ۔ ڈاریکٹر جنرل جسے بچانا نہیں چاہتے تھے اسے اللّٰہ نے بال بال بچا لیا ۔ میں نے انسپکٹر شہباز خان کو ایڈریس سمجھایا ۔ کچھ ہی دیر میں انٹیلیجنس کی ایک ٹیم نے ریڈ کر کے اس کوٹھی سے بچے کو بآسانی بازیاب کرا لیا ۔ وہاں صرف ایک بوڑھی عورت اور ایک مسلح گارڈ موجود تھا ۔ پولیس کی اتنی بھاری نفری دیکھ کر اس نے فوراً ہتھیار ڈال دیے ۔ میں نے فرزانہ کو بلا کر فوراً خوش خبری سنائی ۔ وہ احسان مندی سے جھکی مجھے نظر اٹھا کر دیکھ نہیں پا رہی تھی ۔ جلدی سے کمرے سے نکل گی۔
اس کے جاتے ہی کمرہ ویران ہو گیا ۔ اکثر میرے ساتھ یہی ہوتا ہے میں زندگی کے ہنگاموں سے گزرتے گزرتے ایکدم تنہا رہ جاتا ہوں ۔ ایسے وقت میں سوچتا ہوں اتنی بڑی دنیا میں میرا کوئ اپنا نہیں ۔ نہ ماں نہ باپ نہ بہن بھائی ۔ کوئ ایسا گہرا رشتہ نہیں جسے تنہائی میں یاد کروں ۔ سامی سے دل کا رشتہ ہے لیکن وہ محبت سے زیادہ جسم کی حفاظت کو ترجیح دیتی ہے ۔ اسے اپنا جسم عزیز ہے ۔ میں اب بھی اس سے محبت کرتا ہوں لیکن اس پر فخر نہیں کرتا ۔ اس کا خیال آتے ہی اس کے خوبصورت ذہین دماغ میں جھانکا وہ سو رہی تھی ۔ اور بہت سہانا سپنا دیکھ رہی تھی ۔ میں خاموشی سے اس کے دماغ سے نکل آیا ۔
میں نے بلیک گائیڈ کے دماغ میں اپنی سوچ کی لہریں پہنچائیں ۔ وہ اس وقت اس مکان میں موجود تھا جس کا پتہ میں نے شہباز خان کو بتایا تھا ۔ اس کی سوچ سے معلوم ہو رہا تھا کہ انہیں خبر ہو چکی ہے کہ انٹیلیجنس پولیس نے اس مکان کو گھیرے میں لے رکھا ہے ۔ وہ اپنے دماغ میں ایک شاطر منصوبہ ترتیب دے رہا تھا ۔ اس کے سامنے شیتل ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔
اس کے منصوبے کی تفصیلات جان کر میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئ۔ وہ اس مکان میں ٹائم بم نصب کر چکا تھا ۔
شہباز خان اور اس کے آدمیوں کے اندر داخل ہونے سے پہلے وہ خفیہ راستے سے باہر نکل کر مکان کو ٹائم بم سے اڑا دے گا ۔
میں نے شہباز خان کی سوچ میں کہا میں فرہاد ہوں میری بات غور سے سنو اس مکان میں اب کوئ نہیں ہے ۔ بلیک رائڈر خفیہ راستے سے نکل رہا ہے ۔ تم اپنے آدمیوں کو لے کر اسی وقت اس مکان سے دور ہٹ جاؤ ۔
انسپیکٹر شہباز خان اس وقت اتنے جوش میں تھا کہ وہ مجھے اپنے دماغ میں محسوس ہی نہیں کر پا رہا تھا ۔ وقت تیزی سے گزر رہا تھا ۔ میں اسے بار بار خبردار کر رہا تھا لیکن اس کی سوچ کہہ رہی تھی مکان سے دو آدمیوں کے باتیں کرنے کی آوازیں آ رہی ہیں ۔ میں یہاں سے نہیں جاؤں گا جب تک بلیک رائیڈر کو گولی سے نہ اڑا دوں ۔
میں نے بےبسی سے گھڑی کی طرف دیکھا ۔ میں نے ڈائریکٹر جنرل کی سوچ میں جا کر ساری صورتحال بتائ ۔ جب تک وہ شہباز خان کو ہدایات جاری کرتے ایک دھماکے سے مکان اور اس کے آس پاس ہر چیز ملبے کا ڈھیر بن گئ ۔
میں خاموشی سے کرسی پر ڈھے گیا ۔ شہباز خان میرا بہت قریبی دوست تھا ۔ اسے کچھ ہو گیا تو ۔۔۔۔ ۔۔ یہ سوچ اتنی ہولناک تھی کہ میرا دل بیٹھ گیا ۔ میں نے شہباز خان کے دماغ میں جانے کی کوشش کی لیکن وہاں مکمل اندھیرا تھا ۔ کیا انسپیکٹر شہباز خان مر گیا ؟..... نہیں نہیں شاید بے ہوش ہو گیا ہو ۔۔۔۔ شاید وہ دھماکے سے پہلے ہی دور بھاگ گیا ہو ۔ میرے ذہن میں خدشات کی جنگ ہونے لگی ۔
اب انتظار کرنے کے علاؤہ کوئ راستہ نہیں تھا ۔ کچھ دیر کے بعد ڈائریکٹر جنرل شبیر حسن میرے کمرے میں داخل ہوئے ۔ ان کا چہرا ستا ہوا تھا ۔
میرے پاس آ کر انہوں نے اپنی کیپ اتار کر سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی ۔" فرہاد ہم نے شہباز خان کو کھو دیا "
میرے کانوں میں سائیں سائیں ہونے لگی ۔ دشمن نے میرا بہت بڑا نقصان کر دیا تھا ۔ میں نے آنکھیں بند کر کے تصور میں شہباز خان کے مسکراتے ہوئے چہرے کو دیکھا ۔ اس دن مجھے اندازہ ہوا کہ لڑائ صرف میدان جنگ میں نہیں لڑی جاتی ۔ ہمارے جوان ہر لمحہ ہر آن وطن کی حفاظت کے لیے قربان ہونے کو تیار رہتے ہیں اور ان بےنام شہیدوں کے نام سے کبھی کوئ تمغے جاری نہیں ہوتے ۔ ڈائریکٹر جنرل شبیر حسن نے مجھے دلاسا دیتے ہوئے کہا " فرہاد ہمیں یوں ہار مان کر بیٹھ جانا مہنگا پڑے گا ۔ دشمن کھلا پھر رہا ہے ۔ اس سے پہلے کہ وہ وطن پر کوئ مہلک وار کرے ہمیں اس کا پیچھا کرنا ہے "
میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہی بلیک گائیڈ کی سوچ میں نقب لگائی ۔
"ہوٹل برج فرسٹ فلور کمرہ نمبر دو"
میں نے زیر لب دہرایا
"کیا " ڈائریکٹر جنرل حیرت سے چیخے
"ہاں وہ اس وقت ہسپتال کے سامنے والے ہوٹل برج میں پہلے فلور پر تیسرے کمرے کے اندر چھپے ہوئے ہیں "
میری رائے لیے بغیر اس بار بھی شبیر حسن تقریباً بھاگتے ہوئے ہسپتال کے احاطے سے نکل کر گاڑی میں بیٹھ کر چل پڑے ۔
وہ اب بھی مجھے اپنی فورس کا اہم حصہ نہیں سمجھ رہے تھے ۔ مجھے تھوڑا سا افسوس ہوا لیکن میں ان کے فرائض کو سمجھتا تھا ۔ میں ان کی راہنمائی کے لیے مستقل ان کی سوچ میں موجود رہنا چاہتا تھا لیکن ان کی ناگواری محسوس کر کے رابطہ کاٹ دیا ۔ مجھے ڈر تھا کہ پچھلی بار کی طرح اس بار کی جلدبازی کسی بڑے نقصان کا پیش خیمہ نہ ثابت ہو ۔
ان سے رابطہ ختم کر کے میں نے فرزانہ کی خبر لی ۔ وہ اپنی ساتھی نرس روبی کے ساتھ بیٹھی میرے بارے میں بات کر رہی تھی ۔
مجھے کچھ دلچسپی محسوس ہوئ اس کے ذہن میں ایک خوشگواری اور محبت تھی ۔ بہت مدت کے بعد اپنے بارے میں کسی کے ذہن میں اتنے خالص جذبات محسوس کر کے دل عجیب راحت میں ڈوب گیا تھا ۔ وہ روبی سے کہہ رہی تھی " تم اس شخص کو ایک بار دیکھ لو تو دیوانی ہو جاؤ وہ اتنا دلکش اتنا پیارا ہے میرے لیے وہ اس زمین پر سب سے زیادہ قابلِ احترام انسان ہے جس نے مجھے میرا کھویا ہوا بچہ واپس دلایا ۔
میں انہیں باتیں کرتا ہوا چھوڑ کر ڈائریکٹر جنرل شبیر حسن کے دماغ میں پہنچ گیا ۔ میری حیرانی کی انتہا نہ رہی جب میں نے انہیں ہوٹل برج کے کاؤنٹر کے سامنے کھڑے دیکھا ۔
اس کا مطلب ہے کہ بلیک گائیڈ چاروں طرف سے گھیر لیا گیا ہے میں نے اس کے دماغ میں جھانکا
وہ اور شیتل کمرے کے بیچ و بیچ کھڑے اشاروں میں کوئ منصوبہ ترتیب دے رہے تھے اتنی دیر میں باتھ روم سے سیٹی کی آواز آنے لگی
اوہ یہ تو ٹرانسمیٹر کی آواز ہےوہ بھاگ کر باتھ روم میں گیا ۔ ہوٹل کا منیجر اسے اطلاع دے رہا تھا کہ ہوٹل کو انٹیلیجنس ایجنسی نے گھیر لیا ہے وہ جدید اسلحے سے لیس ہیں اور ڈاریکٹر جنرل ہوٹل کے رجسٹر میں اس کا نام اور پتہ پڑھ کر بہت متاثر ہو رہا ہے کیونکہ وہاں بلیک گائیڈ کا نام معروف ڈاکٹر سعد شیرازی تھا جو حال ہی میں ایران سے آیا ہوا ہے
اتنے میں دروازے پر دستک ہونے لگی
وہ پریشانی سے ادھر ادھر ٹہل کر کچھ سوچنے لگا ۔ پھر جیسے چٹکی بجاتے ہوئے دروازہ کھول دیا
سامنے ڈائریکٹر جنرل شبیر حسن ہوٹل کا منیجر اور دو مسلح افراد کھڑے تھے
انہوں نے ڈاکٹر سعد شیرازی سے پاسپورٹ اور کاغذات طلب کیے ۔ مسلح افراد آگے بڑھ کر کمرے کی تلاشی لینے لگے ۔
اب میری باری تھی ۔ مجھے شبیر حسن کو بتانا تھا کہ یہ کاغذات جعلی ہیں اور آپ بلیک گائیڈ کے سامنے کھڑے ہیں ۔ لیکن اگلے پل بلیک گائیڈ نے ایسی چال چلی کہ کوئ سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔
اس نے شبیر حسن سے پوچھا
جناب آپ نے میرے بارے میں پوری تحقیق کر لی ہے اب مجھے اپنے بارے میں کچھ بتائیے
شبیر حسن نے فخر سے کہا " میں ڈائریکٹر جنرل انٹیلیجنس شبیر حسن"
وہ آگے بڑھا اور گرمجوشی سے مصافحہ کرتے ہوئے شبیر حسن کے انگلی پر اپنی انگوٹھی کو ذرا سا چبھویا ۔ ایک سیکنڈ لگا تھا اور شبیر حسن کا دماغ اپنی حسیات کھو چکا تھا ۔ جیسے انسان گہری نیند میں ہوتا ہے ویسے ہی وہ اپنے دماغ پر اپنا کنٹرول کھو بیٹھے تھے ۔ اب میں ان کے دماغ میں کوئ انفارمیشن نہیں پہنچا پا رہا تھا ۔
میں نے ان کے دماغ کو جگانے کے لیے تحمکانہ لہجے میں کہا
" شبیر حسین میں فرہاد بول رہا ہوں ہوش کی دوا لیں
آں ہاں ۔۔۔۔ یہ میرے دماغ میں کون بول رہا ہے
وہ اپنا سر پکڑ کر بولے
لگتا ہے کوئ فرہاد ہے
وہ مجھے مکمل طور پر بھول چکے تھے
میں نے نے ان کے دماغ میں کہا جناب مجھے پہچانیے میں فرہاد ہوں میں خیال خوانی کے ذریعے آپ سے مخاطب ہوں
وہ اونچی آواز میں بولے فرہاد میرے دماغ میں خیال خوانی کے ذریعے بول رہا ہے
وہ دشمن کے زیر اثر آ کر اس کے سامنے میرا راز فاش کر ریے تھے
میں نے گھبرا کر بلیک گائیڈ کی سوچ پڑھی وہ رائفل بردار سے بات کر رہا تھا جو اس سے پوچھ رہے تھے کہ مصافحہ کرتے ہیں شبیر حسن کی طبیعت کیوں بگڑ گئی ہے ۔
وہ دونوں اپنے دھیان میں پوچھ گچھ کر رہے تھے کہ پیچھے سے شیتل نے آ کر ان پر حملہ کر دیا ۔ شیتل اس قدر وحشت ناک درندہ تھا کہ مجھے اگلے سین کو سوچنے کی ضرورت نہیں تھی
میں اپنے سامنے ڈائریکٹر جنرل کو بلیک گائیڈ کا معمول بنتے دیکھ رہا تھا ۔ وہ تنویمی عمل کے ذریعے انہیں مکمل کنٹرول میں رکھے ہوئے تھا ۔ بازی بری طرح پلٹ گئ تھی ۔ شبیر حسن فر فر میرے بارے میں سب کچھ بتا رہے تھے ۔ میرے ہسپتال کا کمرہ فرزانہ کی موجودگی ہر چیز انہوں نے کھول کر رکھ دی تھی اور اپنے دو وفادار ماتحت بھی گنوا بیٹھے تھے ۔
میرے پاس وقت بہت کم تھا ۔ مجھے مکمل یقین تھا کہ اگلے چند منٹ بعد مجھ پر حملہ ہونے والا ہے

شبیر حسن میرا بھید کھول رہے تھے ۔ بلیک
گائیڈ گہری سنجیدگی سے سوچ رہا تھا ۔ "یہ انٹیلیجنس کا افسر پہلے بھی کسی فرہاد کے بارے میں بتا چکا ہے جو اس کے دماغ میں گفتگو کرتا ہے ۔ اس کا مطلب ہے وہ واقعی ٹیلی پیتھی جانتا ہے ۔ اسی فرہاد نے ہمارے خفیہ ٹھکانے پولیس کو بتائے ہیں ۔ اور اسی نے انٹیلیجنس کو میرا نام بلیک گائیڈ بتایا ہے ورنہ ان کے فرشتوں کو بھی علم نہ ہوتا کہ میں کون ہوں اور کہاں ہوں۔"
بلیک گائیڈ نے شبیر حسن کو تحمکانہ لہجے میں کہا " میری آنکھوں میں دیکھو "
انہوں نے حکم کی تعمیل کی اور اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگے ۔ میں بلیک گائیڈ کے دماغ میں اسے ہپناٹائز کرتے دیکھ رہا تھا ۔ شبیر حسن آہستہ آہستہ ٹرانس میں آ رہے تھے کیونکہ وہ دماغی طور پر کمزور ہو چکے تھے ۔
بلیک گائیڈ نے بھاری بھرکم آواز میں کہا " میں عامل ہوں ۔ تم میری ہر بات کا جواب دو گے "
شبیر حسن نے خوابیدہ آواز میں کہا " ہاں میں ہر بات کا جواب دوں گا"
"فرہاد کون ہے ؟"
وہ بولنے لگے " فرہاد ایک نوجوان ہے اسی ملک کا شہری ہے ۔ وہ ٹیلی پیتھی جانتا ہے ۔ اس کی راہنمائی میں ہم نے احمد شیخ اور ٹونی کو گرفتار کیا ہے ۔ اسی نے ہمیں بتایا کہ ہم نے جس زخمی جاسوس کو احمد شیخ کے گھر سے گرفتار کیا تھا وہ محمود الحسن نہیں بلکہ بھوانی شنکر ہے اور اس کے جبڑے کے نیچے ایک مائیکرو فلم ہے جس میں ہمارے ملک کے خفیہ راز ہیں ۔ ہم نے بھوانی شنکر کے آپریشن سے وہ مائیکرو فلم حاصل کرلی "
بلیک گائیڈ نے سوال کیا " وہ مائیکرو فلم کہاں ہے ؟"
" وہ مائیکرو فلم وزارت خارجہ کے سیکرٹری کو بھجوا دی گئی تھی "
" فرہاد کہاں ہے "
"وہ اس وقت ہسپتال کے کمرہ نمبر دس میں زیر علاج ہے"
کیا وہ بیمار ہے ؟
ہاں۔ ایک فولادی انسان دروازا توڑ کر اس کے بیڈروم میں آیا اور اسے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا"
" اوہ۔۔ تو وہ فرہاد تھا جس پر شیتل نے حملہ کیا ۔ اس کی قسمت اچھی تھی جو وہ بچ گیا ورنہ شیتل کے آہنی شکنجے سے کوئ بچ کر نہیں جا سکتا ہے. چلو ٹھیک ہے کوئ بات نہیں اب وہ مجھ سے بچ کر نہیں جا سکے گا"
پھر اس نے شبیر حسن کو مخاطب کیا " تم میرے معمول ہو ۔ تم میرے ہر حکم پر عمل کرو گے ۔ تم ابھی ہمارے ساتھ ہسپتال جاؤ گے ۔ وہاں تم اپنے جوانوں کو حکم دو گے کہ کمرہ نمبر دو اور کمرہ نمبر دس کے مریضوں کو ایک ایمبولینس میں پہنچایا جائے کیونکہ سیکیورٹی کے پیشِ نظر انہیں کسی اور ہسپتال میں منتقل کیا جا رہا ہے ۔ ایمبولینس تمہارا ایک ماتحت چلائے گا ۔ تمہارا دوسرا ماتحت اور شیتل ایمبولینس کے پچھلے حصے میں ان دونوں کے ساتھ بیٹھیں گے ۔ میں اور تم پیچھے ایک جیپ میں آئیں گے ۔ ہماری منزل کہاں ہے یہ نہیں بتاؤں گا ابھی تم میری باتیں ذہن نشین کر لو۔"
چلو اب اٹھو
میں نے خیال خوانی کا سلسلہ کچھ دیر کے لیے ترک کر دیا ۔ میرے لیے یہ اشد ضروری تھا کہ میں وقت ضائع کیے بغیر یہاں سے نکل جاؤں ۔ لیکن کہاں ۔۔۔ میں اپنے بستر سے اٹھا اور ادھر ادھر پھرنے لگا ۔ میں اپنے دماغ میں ایک پلین تیار کر رہا تھا اس کے ساتھ ساتھ اپنے ہاتھ پاؤں ہلا جلا کر اطمینان کر رہا تھا ۔ دراصل اتنے دن ہسپتال کے بستر پر لیٹے لیٹے میں جامد سا ہو کر رہ گیا تھا ۔ گو کہ دو وقت مالش اور ورزش سے اب چوٹوں کا نام و نشان بھی باقی نہیں تھا ۔ صرف اعصاب میں کھچاؤ سا تھا ۔ ویسے بھی موجودہ صورتحال نے میرے اندر بجلی سی بھر دی تھی ۔ شاید موت سے بچنے کی خواہش ہر جاندار کی طرح انسانی جبلت بھی ہے۔ موت کو اپنے سامنے دیکھ کر کمزور سے کمزور انسان اپنے بچاؤ کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے ۔
میں نے بھی اس حسین نرس کو آزمانے کا فیصلہ کر لیا جو میری خاطر کچھ بھی کرنے کو تیار تھی ۔ رات کے تین بج چکے تھے ۔ میں نے کاریڈور میں جھانک کر دیکھا ۔ میرے کمرے کے باہر دو آفیسر ڈیوٹی پر موجود تھے ۔ ایک تھک کر بنچ پر سو گیا تھا جبکہ دوسرا میرے کمرے کے عین سامنے چوکس کھڑا تھا ۔ میں دروازا کھول کر باہر آ گیا ۔ اس نے بڑے ادب سے پوچھا کیا بات ہے مسٹر فرہاد آپ اپنے بستر سے کیوں اٹھ کر آئے ہیں ؟
میں نے اس کی آنکھوں میں جھانک کر اس کی سوچ میں کہا " ارے باپ رے۔ میری کھوپڑی الٹی گھوم رہی ہے ۔ اس نے بوکھلا کر اپنا سر تھام لیا ۔۔۔اس کے سنبھلنے سے پہلے ہی میں نے کہا ارے میں تو آگے کو جھکا جا رہا ہوں ۔۔۔۔ وہ بےاختیار آگے کی طرف جھکنے لگا ۔ ۔۔۔ میں نے کہا میرے گھٹنے کانپ رہے ہیں مجھے بیٹھ جانا چاہیے ۔۔۔ وہ فوراً بیٹھ گیا ۔
انسان اپنے دماغ کا تابع فرمان ہے ۔ دماغ کی قوتوں سے اپنے پیروں پر کھڑا ہوتا ہے ، دماغ کی کمزوری سے گرتا ہے اور وہی دماغ اسے حوصلہ دے تو گرتے گرتے سنبھل جاتا ہے ۔
انسانی دماغ کی انہی کارفرمائیوں کے پیش نظر اس مسلح نوجوان کی حالت کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا ۔
جب وہ بیٹھنے لگا تو میں نے کہا " نہیں بیٹھنا نہیں ہے مجھے سنبھلنا چاہیے میں اس قابل ہوں کہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو سکتا ہوں ۔
وہ فوراً کھڑا ہو گیا ۔ میں نے اس کے دماغ کو کچھ دیر کے لیے آزاد چھوڑ دیا ۔ وہ سوچنے لگا " یا اللّٰہ میرے دماغ کو کیا ہو گیا ہے ۔ یوں لگتا ہے میرا ذہنی توازن بگڑ گیا ہے ۔ پہلے تو کبھی ایسا نہیں ہوا ۔ یہ مسٹر فرہاد کی آنکھوں میں کچھ ایسی چیز ہے ۔ کس قدر سلگتی ہوئ آنکھیں ہیں ۔
میں نے اس کی منفی سوچ میں کہا نہیں یہ میرا وہم ہے ایسا کچھ نہیں مجھے ان کی آنکھوں میں دیکھنا چاہیے ۔
یہ سوچ کر وہ میری آنکھوں میں دیکھنے لگا ۔ وہ باوجود کوشش کے اپنی نظریں نہیں ہٹا پا رہا تھا ۔ میں نے اس کی سوچ میں کہا افف کتنی پر کشش آنکھیں ہیں ۔ میں ان کے سحر میں گرفتار ہو رہا ہوں ۔
اگلے ہی پل وہ ساکت ہو گیا ۔ وہ میری آنکھوں میں دیکھے جا رہا تھا ۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ مضبوط اور صحت مند دماغ کو ہپناٹائز نہیں کیا جا سکتا ۔ اپنا معمول بنانے کے لیے پہلے سامنے والے کو دماغی طور پر کمزور کرنا پڑتا ہے ۔ جیسے بلیک گائیڈ نے انگوٹھی میں موجود زہریلی چیز کے ذریعے شبیر حسن کے دماغ کو کمزور کر دیا تھا ۔ اس کے بعد انہیں ہپناٹائز کر کے اپنا معمول بنا لیا ۔
اسی طرح میں نے پہلے اس نوجوان افیسر کے دماغ کو کنفیوز کر کے کمزور بنا دیا پھر اسے ہپناٹائز کرنا آسان بن گیا ۔
میں نے اسے حکم دیا " چپ چاپ اس کرسی پر بیٹھ جاؤ ۔
وہ خاموشی سے جا کر کسی پر بیٹھ گیا
" دروازے کی طرف دیکھتے رہو ۔ یہ دروازہ اندر سے بند ہے ۔ تم یہ سوچتے رہو گے کہ مسٹر فرہاد اندر سو رہے ہیں ۔ اگر کوئ پوچھنے آئے تو تم یہی جواب دو گے "
اس نے جیسے نیند کی حالت میں جواب دیا" ہاں میں یہی جواب دوں گا کہ مسٹر فرہاد اندر اپنے بیڈ پر سو رہے ہیں "
وہ میرے حکم کی تعمیل کر رہا تھا ۔ میں کاریڈور سے گزر کر لفٹ کے اندر چلا گیا ۔ میری منزل ہسپتال کی پچھلی طرف بنے کوارٹرز تھے۔
مجھے فرزانہ کے کوارٹر کا نمبر معلوم نہیں تھا ۔ ہسپتال سے نکلتے ہوئے مجھ سے یہ غلطی سرزد ہو گئ تھی کہ میں نے اس کے کوارٹر کا نمبر معلوم نہیں کیا تھا ۔ میں تھک کر سامنے گھاس پر بیٹھ گیا ۔ اتنے دن کے بعد پیدل چلنے سے مجھے تھکاوٹ محسوس ہو رہی تھی ۔ میں نے بلیک گائیڈ کے دماغ میں جھانک کر دیکھا ۔
وہ چٹکی بجاتے ہوئے خوشی سے چہک کر کہہ رہا تھا "یہ ہوئ نہ بات. تم نے پہلے کیوں نہ بتایا کہ فرہاد کی یہ کمزوری ہے .
مجھے بلکل سمجھ نہ آیا کہ وہ کس کمزوری کا ذکر کر رہا ہے ۔ میں نے دماغ پر زور دیا میری کونسی کمزوری ہے ؟
اور مجھے اپنی کمزوری کے بارے میں علم نہیں تھا ۔ کمال ہے ہمارے ارد گرد سب لوگ ہماری کمزوری کے بارے میں جانتے ہیں لیکن ہم خود بھول جاتے ہیں ۔ عجیب گھن چکر ہے ۔ مجھے ذہن پر زور دینے پر بھی اپنی ایسی کوئی کمزوری یاد نہ آئ جسے دشمن اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں ۔ میں نے بلیک گائیڈ کی سوچ میں معلوم کرنے کی کوشش کی لیکن وہ بہت محتاط ہو چکا تھا ۔
وہ کسی قسم کی معلومات کے بارے میں سوچنے سے گریز کر رہا تھا ۔ وہ اور شیتل شبیر حسن کے ساتھ ہسپتال کی طرف تیزی سے بڑھ رہے تھے ۔ میری موت قریب آتی جا رہی تھی ۔
میں نے سوچا اتنی رات گئے یقیناً فرزانہ سو رہی ہوگی ۔ آخری کوشش کے طور پر اس کے دماغ میں جھانک دیکھا تو وہ خلاف معمول جاگ رہی تھی ۔ اس نے اپنے بچے کو سینے سے لگا رکھا تھا اور میرے احساسات کے متعلق ، میری صلاحیتوں کے متعلق سوچ رہی تھی کہ کس طرح میں نے اس کے ہاتھ کی لکیریں دیکھ کر اس کے بچے کو دشمنوں سے حاصل کر لیا تھا۔
کچھ میری صلاحیتیں تھیں اور کچھ میری شخصیت کا اثر تھا میرے بارے میں سوچتے ہوئے اس کا دل پیار سے دھڑک رہا تھا ۔
میں نے اس کی سوچ میں کہا " کتنے افسوس کی بات ہے کہ ڈیوٹی کے اوقات کے بعد میں فرہاد سے نہیں مل سکتی ۔ اگر پہرے دار اجازت دیتے تو میں ابھی ان کے پاس پہنچ جاتی اور تمام رات ان کی خدمت کرتی۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ ابھی میرے کواٹر میں آ جائیں"
اس کی سوچ نے کہا " کیا پاگل پن ہے ۔ وہ بیمار ہیں میرے کواٹر میں کیسے آ سکتے ہیں "
میری سوچ نے جواباً کہا" اگر جذبہ عشق صادق ہو تو کچے دھاگے سے بندھے آئیں گے میرے سرکار ۔ کیا فرہاد کے دل میں میری محبت جوش مارے گی تو وہ یہاں نہیں آ سکے گا "
"نہیں یہ شاعرانہ باتیں ہیں ۔ حقیقت میں یہ ممکن نہیں "
میں نے اس کی سوچ میں کہا" یہ شاعری یو یا حقیقت اسے آزمانے میں کیا حرج ہے ۔ میں دروازا کھول کر دیکھوں گی کہ میرے جذبات میں کتنی سچائی ہے "
اس کا دل مجھ سے ملنے اور مجھے دیکھنے کے لیے مچل رہا تھا اس لیے وہ فوراً بستر سے اٹھ کر دروازے پر آ گئ۔
میں بھی گھاس سے اٹھ کر کواٹر کے سامنے کھڑا ہو گیا ۔
وہ سوچ رہی تھی کہ اگر واقعی فرہاد دروازے پر موجود ہوا تو وہ محبت پر ایمان لے آئے گی ۔
یہ سوچ کر اس نے دروازا کھولا ۔ مجھے سامنے دیکھ کر پہلے حیرانی سے دیکھنے لگی ۔ اگلے ہی لمحے اس کا دل محبت کے جذبے سے بھر گیا ۔ وہ تیزی سے بھاگتی ہوئی مجھ سے لپث گئ۔
" میں مان گئ کہ پیار کرنے والے کیسے ایک دوسرے کی طرف کھچے چلے آتے ہیں ۔ ابھی میرا دل کہہ رہا تھا کہ آپ آئے ہیں۔ اور آپ سچ مچ میرے سامنے ہیں " وہ میرے گلے میں اپنی گداز بانہیں ڈالے جوش محبت میں بولے چلے جا رہی تھی ۔
میں نے اس کے اطراف اپنے بازوؤں کا حلقہ باندھ دیا ۔ اس حلقے کے باہر موت میری تلاش میں بھٹک رہی تھی
وہ میرے بازوؤں میں آنکھیں موندے شانت ہو کر اپنا سر میرے سینے سے لگائے شاید وہیں عمر بتانے کا ارادہ رکھتی تھی ۔ ایک لمحے کو میرا دل کیا کہ کاش زندگی بسر یہی ہوتی ۔

میں نے بمشکل اپنے آپ کو سنبھالا اور کہا " فرزانہ اس وقت ہم خطرے میں ہیں ۔ جو دشمن پپو کو اغوا کر کے لے گیا تھا وہ پوری تیاری سے ادھر آ رہا ہے"
وہ ایک جھٹکے میں مجھ سے علیحدہ ہو گئ ۔ محبت کے جذبات ایکدم ٹھنڈے پڑ گئے ۔ اس نے جھپٹ کر پپو کو گود میں لے لیا ۔
میں نے اسے کہا "ہمیں ٹھنڈے دماغ سے دشمنوں کے خلاف منصوبہ بندی کرنی ہوگی ۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم سب سے پہلے یہاں سے نکل کر کسی محفوظ مقام پر چلے جائیں"
وہ سر اٹھا کر کہنے لگی" آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔ پپو پر کوئ آفت آ نے کے خیال سے میرا دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے ۔ میرے پاس روبی کے کواٹر کی چابی ہے ۔ آئیے ابھی ہم وہاں چلے جاتے ہیں ۔ کل کے لیے چھٹی لے لوں گی تو روبی میری جگہ ہسپتال میں رک جائے گی ۔ اس طرح ہمیں آگے کے لیے سوچنے کا وقت مل جائے گا ۔
روبی کا کواٹر فرزانہ کے گھر سے ذرا ہٹ کر تھا ۔ ہم تینوں دبے پاؤں وہاں آ گئے ۔ فرزانہ نے پپو کو ایک چھوٹے کمرے میں لٹایا اور میرے لیے ساتھ والا کمرہ کھولا ۔
کمرے کے بیچ میں ایک ڈبل بیڈ اور سائیڈ پر دو پلاسٹک کی کرسیاں پڑی تھیں ۔ میں جوتے اتار کر بیڈ پر بیٹھ گیا ۔ فرزانہ آہستگی سے آ کر میرے سینے سے لگ گئ۔ وہ شرمندگی سے بولی " فرہاد میرے بیٹے کی وجہ سے آپ کتنی مشکل میں پھنس گئے ہیں ۔ مجھے بتائیں میں آپ کے لیے کیا کر سکتی ہوں"
اس وقت اس کی دھڑکن سے پیچھا چھڑانا میرے لیے تقریباً ناممکن تھا اگر مجھے اپنے پیچھے موت کی آہٹیں سنائ نہ دیتیں ۔ دانشمندی یہی تھی کہ جوانی کے بہکاوے میں نہ آؤں اور دشمن کا پتہ لوں
میں نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا " وہ صرف پپو کے ہی دشمن نہیں ہمارے وطن کے بھی دشمن ہیں ۔ کبھی نہ کبھی تو ان سے ٹکرانا ہی تھا ۔ میرے لیے مشکل یہ ہے کہ میں ابھی ان سے مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح صحتیاب نہیں ہوں ۔ اگر کچھ دن چھپنے کی جگہ مل جائے تو ہم ان سے اتنی دور چلے جائیں گے کہ وہ ہماری ہوا کو بھی نہ چھو سکیں "
وہ تڑپ کر مجھ سے الگ ہو گئ ۔ میرے ہاتھ چوم کر آنکھوں سے لگاتے ہوئے بولی " فرہاد میں اس زندگی میں کبھی آپ کا ساتھ نہ چھوڑوں گی ۔ آپ کی خدمت کروں گی جب تک آپ مکمل صحت یاب نہیں ہوتے"
میں نے اسے کہا " ہم صبح کوئ مکان کرائے پر لے لیتے ہیں تاکہ کچھ دن دشمنوں سے محفوظ رہیں ابھی تم پپو کے پاس جاؤ وہ رونے لگے گا تو رات کے اس پہر بڑی مشکل ہو جائے گی"
بات اس کی سمجھ میں آ گئ۔
وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے میرے قریب سے اٹھ کر دوسرے کمرے میں چلی گئ۔
میں نے آنکھیں بند کر کے لمبی سانس لی ۔ مجھے بلیک گائیڈ کو ٹریک کرنے کے لیے تنہائ درکار تھی ۔
میں نے بیڈ پر آلتی پالتی مار کر آنکھیں بند کر لیں۔ اس کی سوچ سے معلوم ہوا کہ وہ ہسپتال کے احاطے میں ایک ایمبولینس سے ٹیک لگائے شبیر حسین اور شیتل کا انتظار کر رہا ہے جو اندر مُجھے اور بھوانی شنکر کو دھوکے سے یہاں لانے والے ہیں ۔ وہ بار بار گھڑی دیکھ رہا تھا اس کے مطابق پندرہ منٹ گزر چکے تھے ۔ دو منٹ کے بعد شیتل اور شبیر حسن ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ سے نکلے ان کے پیچھے ایک ڈیوٹی آفیسر ویل چئیر پر بھوانی شنکر کو بٹھائے اس کی طرف آتا دکھائی دیا ۔وہ الجھن سے انہیں دیکھنے لگا کیونکہ ان کے ساتھ اس کا مطلوبہ دشمن فرہاد علی تیمور نہیں تھا
قریب آتے ہی شیتل نے تیزی سے ایمبولینس کا پچھلا دروازا کھول کر بھوانی شنکر کو اس میں ڈالا اور اچھل کر اس کے ساتھ بیٹھ گیا ۔
بلیک گائیڈ نے چیخ کر میرے بارے میں پوچھا " فرہاد کہاں ہے"
شبیر حسن نے مایوسی سے نفی میں سر ہلایا " معلوم نہیں فرہاد اپنے کمرے میں نہیں تھا ۔ میں نے ڈیوٹی آفیسر سے پوچھا تو وہ بھی لاعلم تھا ۔
بلیک گائیڈ کو اچھی طرح پتا تھا کہ میں اس وقت اس کے دماغ میں موجود ہوں ۔ اس نے قہقہہ لگا کر کہا" فرہاد تم بھاگ کر کہاں جاؤ گے میں تمہیں پاتال سے بھی ڈھونڈ نکالوں گا پھر تمہارے دماغ کا آپریشن کر کے ٹیلی پیتھی کا بھوت ہمیشہ کے لیے مار ڈالوں گا "
پھر وہ شیتل کی طرف مڑا اور اشاروں میں کہا" پلین بدل گیا ہے ہم سب جیپ میں جائیں گے تم بھوانی شنکر کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اسے جیپ میں بٹھاؤ
اس کے ساتھ ہی اس نے شبیر حسن کو حکم دیا کہ اپنے جوان کو واپس بھیج دو
شبیر حسن نے فوراً حکم کی تعمیل کی
میں بلیک گائیڈ کے دماغ میں موجود اس کے منصوبے کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔
اور اگلے پانچ منٹ میں اس کی شاطرانہ سوچ پر حیرت زدہ رہ گیا
اس نے جیپ میں بیٹھ کر شیتل کو اپنی آنکھوں پر بھی پٹی باندھنے کا کہا ۔ یعنی بھوانی شنکر اور بلیک ٹائیگر کی آنکھوں پر پٹی بندھی رہے گی تاکہ میں ان کی سوچ کے ذریعے ان کے ٹھکانے تک نہ پہنچ سکوں۔ شبیر حسن اس کے تنویمی عمل کے زیرِ اثر تھے وہ میرے کسی کام کے نہیں تھے اور شیتل کے گونگے ہونے کی وجہ سے میں اس کے دماغ میں نہیں جا سکتا تھا ۔ میں نے شبیر حسن پر دانت پیسے ۔ یہ بھی انہوں نے ہی بتایا ہوگا کہ میں شیتل کے دماغ تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا ہوں ۔
میرے پاس فی الحال ان تک پہنچنے کا کوئ راستہ نہیں تھا ۔ میں اس کے دماغ سے نکل آیا ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے