گجرات کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں، جہاں رات کا سناٹا ہر آواز کو نگل لیتا ہے، چوہدری فیاض کی حویلی ایک عظیم الشان قلعے کی طرح کھڑی ہے۔ رات کے اندھیرے میں حویلی روشنیوں سے جگمگا رہی ہے۔ سرخ، زرد اور سفید بلبوں کی مالائیں دالان کو سجائے ہوئے ہیں۔ ڈھول کی تھاپ پر گاؤں کے نوجوان جھوم رہے ہیں، جبکہ خواتین رنگ برنگے جوڑوں میں سرگوشیوں میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ یہ چوہدری فیاض کے اکلوتے بیٹے قمر کی شادی کی تقریب ہے۔ نئی دلہن زرتاشا، سفید دوپٹے میں ملبوس، قمر کے ساتھ بیٹھی ہے۔ اس کا چہرہ چاندنی کی طرح دمک رہا ہے، مگر اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی بے چینی جھلکتی ہے، جیسے وہ کوئی بھاری راز سینے میں دبائے ہوئے ہو۔ اس کا سفید دوپٹہ ہلکے سے لہراتا ہے، گویا کوئی سایہ اس کے پیچھے چھپا ہو۔
👇sublimegate👇
قمر، خوبصورت مگر مغرور، اپنی نئی دلہن کی طرف ہلکی سی مسکراہٹ پھینکتا ہے۔ اس کی مسکراہٹ میں ایک عجیب سی سردمہری ہے، جیسے وہ زرتاشا کو نہیں، بلکہ کسی اور چیز کو دیکھ رہا ہو۔ چوہدری فیاض، گاؤں کا سب سے طاقتور آدمی، اپنی بڑی سی کرسی پر بیٹھا مہمانوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس کی داڑھی میں سفید بال چمکتے ہیں، اور اس کی آنکھوں میں ایک ایسی چمک ہے جو گاؤں والوں کو خوفزدہ کرتی ہے۔ اس کی بیوی، بیگم ثریا، ایک کونے میں کھڑی اپنی نئی بہو کو گھور رہی ہے۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ تو ہے، مگر وہ مسکراہٹ دل سے نہیں، صرف ہونٹوں تک محدود ہے۔ اس کی نظریں زرتاشا کے سفید دوپٹے پر ٹھہری ہیں، جیسے وہ اسے دیکھ کر کوئی پرانا زخم یاد کر رہی ہو۔
رات گہری ہوتی جاتی ہے۔ مہمان ایک ایک کر کے رخصت ہوتے ہیں۔ حویلی کی روشنیاں مدھم پڑتی ہیں۔ زرتاشا اور قمر اپنے کمرے کی طرف بڑھتے ہیں۔ زرتاشا کا سفید دوپٹہ اس کے پیچھے لہراتا ہے، اور حویلی کے طویل راہداریوں میں اس کی بازگشت کچھ ایسی بنتی ہے جیسے کوئی اور اس کے ساتھ چل رہا ہو۔ حویلی میں سناٹا چھا جاتا ہے۔ صرف رات کے کیڑوں کی آوازیں اور دور کہیں کتے کے بھونکنے کی آواز سنائی دیتی ہے۔ مگر حویلی کے ایک کونے میں، بیگم ثریا اپنے کمرے میں اکیلی بیٹھی ہے، ہاتھ میں ایک پرانا لاکٹ پکڑے، جس پر ایک عجیب سا نشان کندہ ہے۔ اس کی آنکھوں میں ایک گہرا خوف جھلکتا ہے، جیسے وہ کسی آنے والے طوفان سے ڈر رہی ہو۔
صبح سویرے، سورج کی پہلی کرن حویلی کے صحن میں پڑتی ہے کہ اچانک ایک چیخ فضا کو چیرتی ہے۔ یہ چیخ حویلی کی ایک ملازمہ، مائرہ، کی ہے، جو زرتاشا کے کمرے سے نکلتی ہے۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے ہیں، چہرہ زرد پڑ چکا ہے۔ حویلی والے دوڑتے ہوئے کمرے کی طرف بھاگتے ہیں۔ وہاں زرتاشا کی لاش پلنگ پر پڑی ہے۔ اس کا سفید دوپٹہ اس کے گلے کے گرد مضبوطی سے لپیٹا ہوا ہے، جیسے کسی نے اسے گھونٹ کر مار ڈالا ہو۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سی سکون کی کیفیت ہے، مگر اس کی آنکھیں کھلی ہیں، جیسے وہ مرنے سے پہلے کچھ دیکھ رہی تھی۔ اس کی انگلیوں میں ایک چھوٹا سا کاغذ کا ٹکڑا دبا ہوا ہے، جو کسی نے نوٹس نہیں کیا۔
قمر کمرے کے ایک کونے میں بیٹھا ہے، سر جھکائے، خاموش۔ اس کے ہاتھوں پر ہلکی سی کانپش ہے، جیسے وہ کوئی بھاری بوجھ اٹھائے ہوئے ہو۔ اس کی آنکھیں زرتاشا کی لاش سے ہٹتی ہیں اور کمرے کی کھڑکی کی طرف جاتی ہیں، جہاں سے صبح کی ہلکی روشنی اندر آ رہی ہے۔ چوہدری فیاض کمرے میں داخل ہوتا ہے اور لاش دیکھ کر ایک لمحے کے لیے سکتے میں آ جاتا ہے۔ "یہ… یہ کیا ہو گیا؟" اس کی آواز میں غصہ اور خوف دونوں جھلکتے ہیں۔ اس کی نظریں قمر پر پڑتی ہیں، اور ایک لمحے کے لیے باپ اور بیٹے کی نگاہوں میں ایک خاموش جنگ چھڑ جاتی ہے۔
بیگم ثریا، جو پیچھے سے آتی ہے، زرتاشا کی لاش کو دیکھ کر رکت جاتی ہے۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہے، جیسے وہ حیران نہیں، بلکہ اسے اس کا اندازہ تھا۔ پھر وہ اچانک آنسوؤں کا ڈرامہ شروع کر دیتی ہے۔ "ہائے میری بہو! یہ کیا ہو گیا! ہائے میری زرتاشا!" اس کی چیخیں حویلی کے کونے کونے تک گونجتی ہیں، مگر مائرہ، جو ابھی تک کمرے کے ایک کونے میں کھڑی ہے، اسے گھور رہی ہے۔ اسے یقین ہے کہ بیگم ثریا کا یہ غم جھوٹا ہے۔ مائرہ کی نظریں زرتاشا کے سفید دوپٹے پر پڑتی ہیں، جہاں ہلکے سے خون کے دھبے نظر آتے ہیں، جو کسی نے صاف کرنے کی کوشش کی تھی۔
گاؤں کے ڈاکٹر کو فوراً بلایا جاتا ہے۔ بوڑھا ڈاکٹر، جس کے ہاتھ کانپتے ہیں، زرتاشا کی لاش کا معائنہ کرتا ہے۔ "دل کا دورہ لگتا ہے۔ اچانک موت ہوئی۔" وہ کہتا ہے، مگر اس کی آواز میں ایک ہلکی سی جھجھک ہے۔ زرتاشا کے گلے پر ہلکے نیلے نشانات ہیں، جو کسی نے دبانے سے بنے لگتے ہیں۔ ڈاکٹر کی نظریں چوہدری فیاض سے ملتی ہیں، اور وہ فوراً نظریں جھکا لیتا ہے۔ مائرہ، جو ڈاکٹر کے پیچھے کھڑی ہے، اس کی جھجھک کو نوٹس کرتی ہے۔ اس کا دل زور زور سے دھڑکتا ہے۔ وہ سوچتی ہے کہ یہ کوئی سادہ موت نہیں۔
چوہدری فیاض گرجتا ہے، "یہ بات حویلی سے باہر نہیں جانی چاہیے۔ ہماری عزت کا سوال ہے۔ کوئی پولیس، کوئی تفتیش نہیں!" اس کی آواز میں ایک ایسی دھمکی ہے جو سب کو خاموش کر دیتی ہے۔ مگر مائرہ کے دل میں ایک آگ سلگ رہی ہے۔ وہ زرتاشا کے کمرے کی طرف دوبارہ دیکھتی ہے، جہاں سفید دوپٹہ اب بھی پلنگ پر پڑا ہے، جیسے کوئی خاموش گواہ۔
زرتاشا کے والدین، غلام رسول اور اس کی بیوی، خبر سن کر دوسرے گاؤں سے دوڑے چلے آتے ہیں۔ غلام رسول، ایک غریب کسان، چوہدری فیاض کے سامنے کھڑا ہو کر غصے سے چیختا ہے، "میری بیٹی کو کیا ہوا؟ وہ بالکل ٹھیک تھی! تم لوگوں نے اس کے ساتھ کیا کیا؟" اس کی آواز میں درد اور شک دونوں ہیں۔ اس کی بیوی روتی ہوئی زرتاشا کی لاش سے لپٹ جاتی ہے، جیسے اسے یقین ہی نہ آ رہا ہو۔
چوہدری فیاض اسے ایک سرد نگاہ سے دیکھتا ہے۔ "غلام رسول، ہم سب غم میں ہیں۔ یہ ایک حادثہ تھا۔ تمہیں جو معاوضہ چاہیے، مانگ لو، مگر اس بات کو دباؤ۔" اس کی آواز میں ایک ایسی دھمکی ہے جو غلام رسول کو خاموش کر دیتی ہے۔ مگر اس کی آنکھوں میں شک کا سایہ اور گہرا ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی بیوی کو لے کر واپس چلا جاتا ہے، مگر اس کے دل میں ایک عزم جاگ اٹھتا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کے قاتل کو ڈھونڈ کر رہے گا۔
حویلی میں ایک عجیب سی خاموشی چھا جاتی ہے۔ قمر اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلتا۔ وہ رات بھر جاگتا ہے، کبھی اپنے ہاتھوں کو دیکھتا ہے، کبھی زرتاشا کے پلنگ کی طرف، جہاں اب کوئی نہیں ہے۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سا خوف ہے، جیسے وہ کوئی راز چھپا رہا ہو۔ بیگم ثریا ملازمین کو سختی سے ہدایت دیتی ہے کہ زرتاشا کے کمرے کے قریب کوئی نہ جائے۔ مگر مائرہ، رات کے اندھیرے میں چپکے سے اس کمرے میں داخل ہوتی ہے۔ وہ سفید دوپٹہ اٹھاتی ہے اور اسے دیکھ کر سکتے میں آ جاتی ہے۔ دوپٹے پر خون کے ہلکے دھبے ہیں، جو کسی نے صاف کرنے کی کوشش کی تھی۔ مائرہ کا دل زور زور سے دھڑکتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔ وہ پیچھے مڑتی ہے، مگر وہاں کوئی نہیں، صرف ایک سرد ہوا کا جھونکا جو حویلی کی دیواروں سے ٹکرا کر عجیب سی آواز پیدا کرتا ہے۔
مائرہ دوپٹہ واپس رکھتی ہے اور زرتاشا کی الماری کی طرف بڑھتی ہے۔ الماری کے ایک کونے میں ایک چھوٹی سی صندوقچی پڑی ہے، جس پر پرانا تالا لگا ہے۔ مائرہ اسے ہاتھ لگاتی ہے، مگر تالا نہیں کھلتا۔ اسے لگتا ہے کہ اس صندوقچی میں کوئی راز چھپا ہے۔ وہ اسے واپس رکھتی ہے اور تیزی سے کمرے سے نکل جاتی ہے۔ اس کے دل میں خوف اور شک کی لہریں اٹھ رہی ہیں۔ وہ سوچتی ہے کہ یہ بات کسے بتائے؟ چوہدری خاندان کے خلاف جانا اس کے لیے موت کو دعوت دینے کے برابر ہے۔
گاؤں میں زرتاشا کی موت کی افواہیں پھیلنا شروع ہو جاتی ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ زرتاشا پر جن چڑھا تھا، کوئی کہتا ہے کہ چوہدری خاندان نے اسے مار ڈالا کیونکہ وہ کوئی راز جان گئی تھی۔ گاؤں کا ایک نوجوان، عارف، جو زرتاشا کا دور کا رشتہ دار ہے، اس موت پر شک کرتا ہے۔ وہ گاؤں کے چھوٹے سے تھانے میں جاتا ہے اور انسپکٹر آفتاب سے ملتا ہے۔
"آفتاب صاحب، یہ کوئی سادہ موت نہیں۔ زرتاشا کے گلے پر نشانات تھے۔ آپ کو تفتیش کرنی چاہیے!" عارف کی آواز میں غصہ اور بے چینی ہے۔
انسپکٹر آفتاب، ایک درمیانی عمر کا افسر، جو چوہدری فیاض کے اثر و رسوخ سے اچھی طرح واقف ہے، ہچکچاتا ہے۔ "عارف، تم جانتے ہو کہ چوہدری صاحب کے خلاف جانا آسان نہیں۔ ثبوت کے بغیر ہم کچھ نہیں کر سکتے۔" اس کی آواز میں ایک عجیب سی بے بسی ہے۔ مگر عارف کے چہرے پر پختہ عزم ہے۔ وہ کہتا ہے، "اگر آپ نہیں کریں گے، تو میں خود اس راز سے پردہ اٹھاؤں گا۔"
رات کو حویلی میں ایک عجیب واقعہ ہوتا ہے۔ مائرہ، جو زرتاشا کے کمرے کے بارے میں سوچ رہی تھی، رات کو کچن میں پانی لینے جاتی ہے۔ وہاں وہ بیگم ثریا کو دیکھتی ہے، جو ایک چھوٹی سی شیشی ہاتھ میں لیے کچھ جلاتی ہوئی نظر آتی ہے۔ روشنی کی ہلکی سی کرن میں، مائرہ دیکھتی ہے کہ شیشی میں کوئی سیاہ مائع ہے، جو جلتے ہی عجیب سی بدبو پیدا کرتا ہے۔ مائرہ چھپ جاتی ہے اور دیکھتی ہے کہ بیگم ثریا شیشی کو ایک الماری کے پیچھے چھپاتی ہے۔ مائرہ کا دل زور زور سے دھڑکتا ہے۔ کیا اس شیشی میں زہر تھا؟ کیا بیگم ثریا نے زرتاشا کو مارا؟
مائرہ واپس اپنے کمرے کی طرف بھاگتی ہے، مگر راستے میں اسے لگتا ہے کہ کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہے۔ وہ مڑ کر دیکھتی ہے، مگر اندھیرے میں کچھ نظر نہیں آتا۔ صرف ہوا کی سرسراہٹ ہے، جو اس کے کانوں میں خوفناک آواز بن کر گونجتی ہے۔ وہ اپنے کمرے میں داخل ہوتی ہے اور دروازہ بند کر لیتی ہے، مگر اس کا دل ابھی تک دھڑک رہا ہے۔
دوسری طرف، قمر اپنے کمرے میں بیٹھا ایک پرانا خط پڑھتا ہے۔ خط پر کوئی دستخط نہیں، مگر اس میں لکھا ہے: "تمہاری شادی ایک دھوکہ ہے۔ وہ تمہیں تباہ کر دیں گے۔" قمر کا چہرہ زرد پڑ جاتا ہے۔ اس کے ہاتھ کانپتے ہیں۔ وہ خط کو موم بتی کی لو پر جلاتا ہے اور راہ کو ہاتھوں سے مسل کر بکھیر دیتا ہے۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سا خوف ہے، جیسے وہ جانتا ہو کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔۔
اگلی صبح، مائرہ عارف سے ملتی ہے اور اسے شیشی کے بارے میں بتاتی ہے۔ "عارف، مجھے لگتا ہے کہ زرتاشا کی موت کوئی حادثہ نہیں تھا۔ بیگم ثریا کچھ عجیب سی چیز جلا رہی تھی۔ شاید وہ زہر تھا…!"
عارف کی آنکھیں چمک اٹھتی ہیں۔ "ہمیں ثبوت جمع کرنے ہوں گے۔ اگر ہم چوہدری خاندان کے خلاف بغیر ثبوت کے گئے، تو وہ ہمیں ختم کر دیں گے۔" وہ مائرہ سے کہتا ہے کہ وہ حویلی پر نظر رکھے، مگر احتیاط سے۔
اسی دوران، چوہدری فیاض کو پتہ چلتا ہے کہ مائرہ زرتاشا کے کمرے میں گئی تھی۔ وہ اسے اپنے کمرے میں بلاتا ہے۔ کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے، صرف ایک موم بتی کی روشنی چوہدری فیاض کے چہرے کو روشن کر رہی ہے۔ "مائرہ، تم نے کیا دیکھا؟" اس کی آواز میں ایک ایسی سردی ہے جو مائرہ کے دل کو چھید دیتی ہے۔
مائرہ گھبرا جاتی ہے۔ "ک… کچھ نہیں، چوہدری صاحب۔ میں بس… پانی لینے گئی تھی۔"
چوہدری فیاض اسے گھورتا ہے۔ اس کی آنکھوں میں ایک خطرناک چمک ہے۔ "اچھا، پھر ٹھیک ہے۔ مگر یاد رکھو، زیادہ زبان چلانے والوں کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔"
مائرہ سر جھکا کر کمرے سے نکل جاتی ہے، مگر اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا ہے۔ رات کو، جب وہ اپنے کمرے میں سونے جاتی ہے، اسے دروازے کے نیچے سے ایک چٹ پھسلتی ہوئی نظر آتی ہے۔ وہ اسے اٹھاتی ہے اور اس پر لکھے الفاظ پڑھتی ہے: "چپ رہو، ورنہ زرتاشا کی طرح تم بھی ہمیشہ کے لیے سو جاؤ گی۔"
مائرہ کے ہاتھ سے چٹ گر جاتی ہے۔ وہ دروازے کی طرف دیکھتی ہے، جہاں سے ایک سایہ تیزی سے گزرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ وہ چیخنا چاہتی ہے، مگر اس کا گلا خشک ہو چکا ہے۔ حویلی کے اندھیرے اسے نگلنے لگتے ہیں۔۔
زرتاشا کی موت ایک راز بن کر رہ جاتی ہے۔ کیا یہ واقعی دل کا دورہ تھا، یا کوئی اسے مارنا چاہتا تھا؟ چوہدری خاندان کے راز کیا ہیں؟ بیگم ثریا کی شیشی میں کیا تھا؟ قمر وہ خط کیوں جلا رہا تھا؟ مائرہ اور عارف کیا اس راز سے پردہ اٹھا پائیں گے، یا وہ بھی اسی حویلی کے رازوں میں دفن ہو جائیں گے؟
زرتاشا کی موت کے بعد چوہدری ہاؤس پر ایک عجیب سی خاموشی چھائی ہوئی ہے، جیسے حویلی کی دیواریں خود کوئی راز چھپائے ہوئے ہوں۔ گاؤں میں افواہوں کا طوفان اٹھ رہا ہے، لیکن چوہدری فیاض کی دھمکی نے ہر زبان پر تالا لگا دیا ہے۔ مائرہ، حویلی کی ملازمہ، رات کی تاریکی میں اپنے کمرے میں بیٹھی ہے، اس کے ہاتھ میں وہ چٹ جس پر لکھا ہے: "چپ رہو، ورنہ زرتاشا کی طرح تم بھی ہمیشہ کے لیے سو جاؤ گی۔" اس کے دل میں خوف کی لہریں اٹھ رہی ہیں، مگر اس کے ساتھ ایک عجیب سا عزم بھی جاگ رہا ہے۔ وہ سوچتی ہے کہ زرتاشا کی موت کوئی حادثہ نہیں تھا، اور اس راز سے پردہ اٹھانا اس کی ذمہ داری ہے۔
دوسری طرف، عارف، زرتاشا کا دور کا رشتہ دار، گاؤں کے چھوٹے سے تھانے کے باہر کھڑا ہے۔ انسپکٹر آفتاب کی بے بسی اس کے غصے کو اور بھڑکا رہی ہے۔ وہ اپنے دل میں فیصلہ کر چکا ہے کہ چوہدری خاندان کے اثر و رسوخ کے باوجود وہ زرتاشا کے قاتل کو ڈھونڈ کر رہے گا۔ اس کی نظریں حویلی کی طرف اٹھتی ہیں، جو رات کے اندھیرے میں ایک خاموش عفریت کی طرح کھڑی ہے۔ اسے لگتا ہے کہ حویلی کی ہر کھڑکی اسے گھور رہی ہے، جیسے اسے خبردار کر رہی ہو کہ وہ اپنی حد سے آگے نہ بڑھے۔
حویلی کے اندر، قمر اپنے کمرے میں اکیلا بیٹھا ہے۔ اس کے ہاتھ ابھی تک اس خط کی راکھ سے سیاہ ہیں جو اس نے جلا دیا تھا۔ "تمہاری شادی ایک دھوکہ ہے۔ وہ تمہیں تباہ کر دیں گے۔" یہ الفاظ اس کے ذہن میں بار بار گونج رہے ہیں۔ وہ اپنے والد، چوہدری فیاض، کی طرف دیکھتا ہے، جو صحن میں کھڑا ملازمین کو ہدایات دے رہا ہے۔ قمر کے دل میں ایک عجیب سا شک جاگتا ہے۔ کیا اس کے والد اس راز سے واقف ہیں؟ یا وہ خود اس راز کا حصہ ہیں؟ قمر اپنی نظریں جھکاتا ہے اور اپنے ہاتھوں کو گھورتا ہے، جیسے ان سے کوئی جواب مانگ رہا ہو۔
بیگم ثریا، جو رات کے وقت کچن میں وہ پراسرار شیشی جلا رہی تھی، اب اپنے کمرے میں ہے۔ وہ ایک پرانا لاکٹ ہاتھ میں پکڑے بیٹھی ہے، جس پر کندہ نشان اب روشنی میں اور زیادہ خوفناک لگ رہا ہے۔ وہ بڑبڑاتی ہے، "یہ سب ختم ہونا چاہیے… اسے کوئی نہیں جان سکتا۔" اس کی آواز میں ایک عجیب سی بے چینی ہے۔ وہ اچانک اٹھتی ہے اور ایک پرانے صندوق کی طرف بڑھتی ہے، جو کمرے کے ایک کونے میں دھول سے اٹا پڑا ہے۔ وہ صندوق کھولتی ہے اور اس میں سے ایک پیلا پڑا کاغذ نکالتی ہے۔ کاغذ پر لکھی تحریر دھندلی ہو چکی ہے، مگر اس کے چند الفاظ اب بھی پڑھے جا سکتے ہیں: "…خون… راز… حویلی…" بیگم ثریا کا چہرہ زرد پڑ جاتا ہے۔ وہ کاغذ واپس صندوق میں رکھتی ہے اور تالا لگا دیتی ہے، مگر اس کے ہاتھ کانپ رہے ہیں۔
دوسری صبح، مائرہ اپنی روزمرہ کی ڈیوٹی پر واپس آتی ہے، مگر اس کی نظریں ہر وقت حویلی کے تاریک کونوں پر ٹھہری رہتی ہیں۔ وہ زرتاشا کے کمرے کے قریب سے گزرتی ہے اور دیکھتی ہے کہ دروازہ ہلکا سا کھلا ہے۔ اس کا دل زور سے دھڑکتا ہے۔ وہ جانتی ہے کہ بیگم ثریا نے سب کو اس کمرے کے قریب جانے سے منع کیا ہے، مگر اس کے پاؤں خود بخود دروازے کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔ وہ اندر جھانکتی ہے۔ کمرہ ویسا ہی ہے جیسا زرتاشا کی موت والی صبح تھا۔ سفید دوپٹہ اب بھی پلنگ پر پڑا ہے، اور اس پر خون کے دھبے اب زیادہ واضح دکھائی دے رہے ہیں۔ مائرہ کے دل میں ایک عجیب سی سنسنی دوڑ جاتی ہے۔ وہ کمرے میں داخل ہوتی ہے اور دوپٹے کو ہاتھ لگاتی ہے۔ اسے اچانک ایک عجیب سی سردی کا احساس ہوتا ہے، جیسے کوئی اس کے پیچھے کھڑا ہو۔ وہ تیزی سے مڑتی ہے، مگر وہاں کوئی نہیں۔ صرف ایک ہلکی سی سرسراہٹ ہے، جیسے کوئی دیوار کے پیچھے سے اسے دیکھ رہا ہو۔
مائرہ زرتاشا کی الماری کی طرف بڑھتی ہے، جہاں اس نے کل رات وہ چھوٹی سی صندوقچی دیکھی تھی۔ وہ صندوقچی کو دوبارہ ہاتھ لگاتی ہے، مگر تالا اب بھی نہیں کھلتا۔ اسے اچانک ایک عجیب سی آواز سنائی دیتی ہے، جیسے کوئی دھاتی چیز زمین سے رگڑ کھا رہی ہو۔ وہ چونک کر پیچھے ہٹتی ہے اور دیکھتی ہے کہ الماری کے پیچھے دیوار پر ایک چھوٹا سا شگاف ہے، جیسے کوئی خفیہ دروازہ ہو۔ مائرہ کا دل زور زور سے دھڑکتا ہے۔ وہ شگاف کو چھوتی ہے، اور اچانک دیوار ہلکی سی ہلتی ہے۔ وہ خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹ جاتی ہے
اسی رات، عارف حویلی کے باہر چھپ کر اس پر نظر رکھتا ہے۔ اسے رات کے اندھیرے میں ایک سایہ حویلی کے پچھلے دروازے سے نکلتا دکھائی دیتا ہے۔ وہ خاموشی سے اس کا پیچھا کرتا ہے۔ سایہ حویلی کے پرانے تہہ خانے کی طرف جاتا ہے، جو برسوں سے بند ہے۔ عارف چھپ کر دیکھتا ہے کہ سایہ تہہ خانے کے دروازے پر ایک عجیب سا نشان بناتا ہے، وہی نشان جو بیگم ثریا کے لاکٹ پر کندہ تھا۔ دروازہ کھلتا ہے، اور سایہ اندر غائب ہو جاتا ہے۔ عارف کا دل زور سے دھڑکتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ تہہ خانے میں جانا خطرناک ہے، مگر اس کے پاؤں خود بخود دروازے کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔


0 تبصرے