میرا نام فرہاد علی تیمور ہے۔ میرے والد، تیمور علی، شاہ کوٹ کے ایک معزز زمیندار تھے۔ ہماری زرعی زمینیں پانچ سو ایکڑ پر پھیلی ہوئی تھیں۔ اناج کی فراوانی، مال و دولت، اور زندگی کے ہر عیش و آرام نے ہمارے گھر کو جنت کا منظر دیا تھا۔ مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ میں ابھی پیدا ہی ہوا تھا کہ میری ماں اس دنیا سے رخصت ہو گئیں، اور مجھے ماں کے دودھ کی نعمت نصیب نہ ہوئی۔ چھ برس کی عمر میں والد بھی اللہ کو پیارے ہو گئے، اور میں اس وسیع دنیا میں اکیلا رہ گیا۔
تنہائی سے مراد یہ نہیں کہ میرے کوئی عزیز و اقارب نہ تھے۔ وہ سب موجود تھے، مگر کم عمری میں میں ان کا محتاج ہو گیا۔ میرے چچا، ناصر علی، شہری زندگی کے عادی تھے۔ زراعت اور زمینداری سے انہیں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ وہ میرے والد کو ایک پسماندہ دیہاتی سمجھتے اور ان سے دور رہتے تھے۔ لیکن والد کے انتقال کے بعد وہ پانچ سو ایکڑ زمین پر قبضہ کرنے شاہ کوٹ آ گئے۔
میں ایک ناسمجھ بچہ تھا، جو اپنے گھر اور گاؤں سے باہر کی دنیا سے ناواقف تھا۔ جب چچا نے مجھے پیار سے گود میں اٹھایا اور "بیٹا" کہہ کر سینے سے لگایا، تو میرے ننھے دل میں والد کی کمی پوری ہو گئی۔ میں نہیں جانتا تھا کہ رشتہ دار محبت کے نام پر کیسے دھوکا دیتے ہیں۔ انہوں نے زمین اور جائیداد کے تمام کاغذات اپنی تحویل میں لے لیے، زمینیں دوسروں کو ٹھیکے پر دے دیں، اور مجھے اپنی انگلی پکڑا کر لاہور لے آئے۔
یہ میری زندگی کا پہلا موقع تھا کہ میں کسی کے سہارے پر تھا۔ میں کبھی محتاج نہ تھا، مگر اب چھوٹی سی عمر میں محتاج بن گیا۔ لاہور میں مال روڈ پر چچا کی ایک چھوٹی سی دکان تھی، جسے وہ والد کی دولت سے بڑھا رہے تھے۔ پہلے جین مندر کے قریب تین کمروں کا ایک چھوٹا سا مکان تھا، لیکن اب وہاں دو منزلہ کوٹھی بن رہی تھی۔ اس گھر کا ماحول میرے مزاج کے بالکل خلاف تھا۔
چچی مجھ سے نفرت کرتی تھیں۔ بات بات پر "گاؤں کا گنوار" کہہ کر ڈانٹتی تھیں۔ ان کے بچے بھی ان کی پیروی کرتے اور کھیل کود کے دوران مجھے دھکے دیتے، جیسے میں کوئی کمتر انسان ہوں۔ چچا کا بیٹا، ظہیر علی، مجھ سے دو سال بڑا تھا، مگر قد و قامت میں میرے سامنے کچھ بھی نہ تھا۔ وہ ہمیشہ شرارت کرتا اور لڑائی جھگڑے پر اتر آتا۔ میں نے کئی بار اس کی پٹائی کی، مگر چچی ہر بار اس کی حمایت میں میری پٹائی کر دیتی تھیں۔
چچا کی بڑی بیٹی، غزالہ، مجھ سے تین سال بڑی تھی۔ وہ اپنی ماں کی طرح مغرور اور بدمزاج تھی۔ خدا نے اسے حسن اور نزاکت عطا کی تھی، لیکن وہ ہر وقت سر یا پاؤں کے درد کا بہانہ بناتی۔ اگر میں اس کی خدمت سے انکار کرتا، تو مجھے سمجھایا جاتا کہ بڑی بہن کی خدمت میرا فرض ہے۔ چھوٹی بہن، شاہینہ، ابھی گود کی بچی تھی۔ وہ اپنی ماں سے زیادہ مجھ پر انحصار کرتی تھی۔ مجھے سمجھایا جاتا کہ چھوٹی بہن کو گود میں اٹھانا بھی میرا فرض ہے۔
اگرچہ چچا میری جائیداد پر قبضہ کر چکے تھے، وہ کبھی کبھار میری حمایت کرتے۔ ایک روز انہوں نے چچی سے کہا، "میں نے تمہیں ہزار بار سمجھایا کہ فرہاد کو ملازم نہ سمجھو۔ اسے بیٹے کی طرح پیار دو۔ اگر وہ ناراض ہو کر اپنی پھوپھی کے پاس چلا گیا، تو زمینوں کی آمدنی بھی اس کے ساتھ چلی جائے گی۔" میں دروازے کے باہر بیٹھا سکول کی کتاب پڑھ رہا تھا اور ان کی باتیں سن رہا تھا۔ چچی نے جواب دیا، "میں کب چاہتی ہوں کہ یہ لڑکا یہاں سے جائے؟ مگر اس کی آنکھوں میں عجیب سی چمک ہے۔ جب وہ میری طرف دیکھتا ہے، تو میں سہم جاتی ہوں۔ سچ کہتی ہوں، اس کے اندر کوئی بدروح گھسی ہوئی ہے۔"
چچی کی یہ باتیں سن کر میں اپنی آنکھوں کو چھو کر دیکھنے لگا۔ کیا واقعی میری آنکھوں میں کوئی بدروح تھی؟ تب مجھے والد کی بات یاد آئی۔ انہوں نے کہا تھا، "میرے بیٹے کی آنکھوں میں فرشتوں کا نور ہے۔ یہ اپنے مخاطب کا دل موہ لے گا۔" والد کی محبت بھری بات اور چچی کی نفرت انگیز بات میرے کچے ذہن میں گڈمڈ ہو گئیں۔ میں اٹھ کر دوسرے کمرے میں گیا اور آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی آنکھوں کو دیکھنے لگا۔ مجھے اپنی آنکھیں بہت خوبصورت اور پرکشش لگیں۔ آئینے کے سامنے کھڑا ہر شخص خود کو خوبصورت ہی سمجھتا ہے۔
میں یہ سمجھ نہ سکا کہ میری آنکھوں میں نیکی کی چمک ہے یا بدی کی چنگاری۔ لیکن یہ سوچ کر خوشی ہوئی کہ چچی میری آنکھوں سے ڈرتی ہیں۔ وہ مجھ سے بڑی تھیں، مجھے گالیاں دیتیں، اور میں جواب نہیں دے سکتا تھا۔ وہ مجھے مارتیں، اور میں ہاتھ نہیں اٹھا سکتا تھا۔ مگر میری آنکھوں میں وہ طاقت تھی جو انہیں ڈرا سکتی تھی۔ بس، پھر کیا تھا! میں نے اس ہتھیار کو استعمال کرنا شروع کر دیا۔ جب بھی چچی سے سامنا ہوتا، میں انہیں تیز نظروں سے گھورنا شروع کر دیتا۔ وہ دہشت زدہ ہو کر گالیاں دیتیں یا میری پٹائی کر دیتیں، مگر میری آنکھوں میں دیکھنے سے کتراتیں۔ کبھی مارنے سے پہلے میرا بازو پکڑ کر جھٹکے سے دوسری طرف گھماتیں تاکہ میرا منہ ان سے دور ہو جائے۔ کئی بار انہوں نے قسمیں کھائیں کہ وہ میری آنکھیں پھوڑ دیں گی۔
یوں ہمارے درمیان نفرت کی دیوار مضبوط ہوتی گئی۔ چچی کی گالیاں، چچا کی دوغلی محبت، ظہیر کی دشمنی، اور غزالہ کا تکبرانہ رویہ—یہ سب میرے اندر نفرت کے بیج بو رہے تھے۔ اس جہنم نما ماحول میں ایک ہی ہستی تھی جو مجھ سے سچی محبت کرتی تھی—ننھی شاہینہ۔ وہ اب سات برس کی تھی، اور میں بارہ برس کا۔ چچی اسے بھی منع کرتی تھیں کہ وہ میرے ساتھ نہ کھیلے، مگر شاہینہ جب بالشت بھر کی تھی، تب سے میری گود میں کھیلتی آئی تھی۔ وہ مجھ سے اتنی مانوس تھی کہ ماں، بہن، اور بھائی کی روک ٹوک کے باوجود میرے پاس چلی آتی۔ جب وہ اپنی ننھی بازوؤں سے میری گردن پکڑ کر "بھائی جان" کہتی، تو اس بے غرض محبت سے میرا دل بھر آتا۔ وہ میری بہن تھی، میری دنیا تھی، اور میری زندگی تھی۔
انہی دنوں کی بات ہے۔ ایک رات چچا جان کاروبار کے سلسلے میں شہر سے باہر گئے ہوئے تھے۔ غزالہ اور ظہیر اپنے ننہال میں تھے۔ شاہینہ میرے بستر پر آ کر لیٹ گئی تھی۔ چچی نے اس رات بڑی فراخ دلی دکھاتے ہوئے اجازت دے دی کہ شاہینہ میرے پاس سو سکتی ہے۔ اجازت دے کر وہ اپنے کمرے میں چلی گئیں۔
میں رات گئے تک شاہینہ کو پریوں اور شہزادوں کی کہانیاں سناتا رہا۔ وہ معصوم بچی کہانیاں سنتے سنتے سو گئی۔ نیند میں وہ اور بھی زیادہ معصوم لگ رہی تھی۔ میں نے اس کی پیشانی پر محبت سے بوسہ دیتے ہوئے سوچا کہ شاہینہ آرام دہ پلنگ پر سونے کی عادی ہے، جبکہ میں فرش پر سوتا ہوں۔ وہ صرف اس لیے آرام سے سوئی تھی کہ یہ اس کے بھائی کا بستر تھا۔ مگر میں چاہتا تھا کہ میری بہن ہمیشہ پھولوں کی سیج پر سائے۔
میں اٹھ کر چچی کے کمرے کی طرف چلا تاکہ ان سے کہوں کہ وہ شاہینہ کو اٹھا کر اس کے بستر پر لے جائیں۔ چچی کی خوابگاہ کا دروازہ اور کھڑکیاں بند تھیں۔ میں نے بے دھڑک دروازے پر دستک دی۔ چند لمحوں کی خاموشی کے بعد چچی کی آواز آئی، "کون ہے؟ فرہاد، کیا تم ہو؟"
"جی ہاں، شاہینہ سو گئی ہے۔ اسے اٹھا کر لے جائیں۔"
"اسے سونے دو۔ میں بعد میں آ کر اسے لے جاؤں گی۔ تم میری نیند خراب نہ کرو۔"
"آپ نیند میں رہیں گی اور وہ بیچاری فرش پر پڑی رہے گی؟"
"گدھے کہیں کے!" چچی کی غصے بھری آواز گونجی۔ "جب دیکھو، بحث کرنے پر تل جاتا ہے۔ جا، بھاگ جا یہاں سے، ورنہ جوتے لگاؤں گی۔"
میں ضدی تھا۔ وہیں کھڑا رہا اور دروازے کو گھورتا رہا۔ اگر دروازہ کھلا ہوتا، تو میں خود شاہینہ کو اٹھا کر چچی کے پاس سلا دیتا۔ مگر چچی اتنی بدمزاج تھیں کہ دروازہ کھولنے کو تیار نہ تھیں۔ نہ جانے میں کتنی دیر تک اس دروازے کو گھورتا رہا۔ پھر مجھے دروازے کے پیچھے سے دھیمی آواز سنائی دی۔ یہ کسی مرد کی آواز تھی، جو کہہ رہا تھا، "ڈارلنگ، تم خواہ مخواہ پریشان ہو رہی ہو۔ وہ لڑکا چلا گیا ہے۔"
"نہیں، تم نہیں جانتے،" چچی کی سہمی ہوئی آواز آئی۔ "مجھے یوں لگتا ہے جیسے اس کی آنکھیں مجھے گھور رہی ہیں۔ کتنی بار میں نے خواب میں اس کی آنکھیں دیکھی ہیں۔ وہ کوئی انسان کا بچہ نہیں، شیطان کا بچہ ہے۔"
میں نے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیے۔ مجھے احساس ہوا کہ میں دیر سے دروازے کو چبھتی نظروں سے دیکھ رہا تھا، گویا اپنی نظروں سے چچی کے بند کمرے کی تاریکی کو چیر رہا تھا۔ دروازہ ذرا سا کھلا۔ کاریڈور کی روشنی میں مجھے صرف چچی کا چہرہ اور کندھا نظر آیا۔ پھر انہوں نے جھٹکے سے دروازہ بند کرتے ہوئے کہا، "تم جاؤ، میں آ رہی ہوں۔"
میں سر جھکائے کاریڈور سے اپنے کمرے کی طرف چلا۔ میرے کچے ذہن میں یہ سوال اٹھ رہا تھا کہ چچی کے کمرے میں کون تھا اور کیوں تھا؟ واقعہ میری سمجھ سے باہر تھا۔ کچھ سمجھنے کی کوشش کی، تو دماغ پر دھند چھا گئی۔ ہاں، اتنا ضرور سمجھا کہ چچی کا گھبرانا، کمرے کی تاریکی، اور ایک اجنبی مرد کی آواز—یہ سب ایک راز کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔
تھوڑی دیر بعد چچی میرے کمرے میں آئیں۔ انہوں نے مجھے غصے سے دیکھا، پھر شاہینہ کو اٹھانے کے لیے جھکیں۔ میں نے پوچھا، "کیا آپ سے کوئی ملنے آیا تھا؟"
وہ چونک کر مجھے دیکھنے لگیں۔ ایک لمحے کے لیے ان پر گھبراہٹ طاری ہوئی، پھر سنبھلتے ہوئے بولیں، "اتنی رات کو کون ملنے آئے گا؟ کیا تیرا دماغ خراب ہو گیا ہے؟"
"میں نے آپ کے کمرے میں کسی کی آواز سنی تھی، اس لیے پوچھا۔"
بات پوری ہونے سے پہلے انہوں نے میرے منہ پر تھپڑ جڑ دیا۔ پھر میرا بازو پکڑ کر اپنے کمرے کی طرف لے جاتی ہوئی بولیں، "تو نے کس کی آواز سنی؟ وہ تیرا کوئی باپ ہو گا! میرے سامنے چھوکرا اور ایسی باتیں کر رہا ہے؟ چل، بتا، کون تھا میرے کمرے میں؟ تیری ماں کا یار، جس کی آواز تو نے سنی؟"
میں نے جھٹکے سے بازو چھڑاتے ہوئے کہا، "خبردار! میری ماں کا نام نہ لیں، ورنہ میں لحاظ نہیں کروں گا۔"
میں ڈٹ کر ان کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ یہ میرا پہلا چیلنج تھا۔ وہ حیرانی سے مجھے سر سے پاؤں تک دیکھنے لگیں۔ شاید پہلی بار انہوں نے میرے قد کو غور سے دیکھا۔ میں بارہ برس کا تھا، مگر قد میں ان کے برابر ہو گیا تھا۔ پھر وہ پیچھے ہٹ کر اپنے کمرے کا دروازہ کھولتے ہوئے بولیں، "لو، دیکھ لو، یہاں کوئی نہیں ہے۔ تمہیں دھوکا ہوا۔"
میں نے کہا، "میں نے آواز سنی تھی!" پاؤں پٹکتا ہوا کمرے میں گھس گیا اور چاروں طرف اس شخص کو تلاش کرنے لگا۔ اتنی دیر میں چچی شاہینہ کو لے آئیں۔ اسے بستر پر سلاتے ہوئے بولیں، "ابھی تک تسلی نہیں ہوئی؟ جا، دفع ہو جا! کمبخت، اونٹ کی طرح لمبا ہو رہا ہے۔ مارتی ہوں تو میرے ہاتھ دکھتے ہیں۔ اچھا، بس، تمہارے چچا کو آنے دو، وہ تیری خبر لیں گے!"
میں لاپرواہی سے "اوہ" کہتا ہوا اپنے کمرے میں جا کر سو گیا۔ مگر نیند فوراً نہ آئی۔ میں دیر تک اس اجنبی کی آواز کے بارے میں سوچتا رہا۔ شاید چچی نے اسے بھگا دیا یا چھپا دیا۔ ان کی مکاری میری سمجھ سے باہر تھی۔ رات دیر سے نیند آئی، اس لیے صبح دیر تک سوتا رہا۔
چچا جان کی گرجدار آواز سے میری آنکھ کھلی۔ وہ غصے سے کہہ رہے تھے، "نمک حرام! جس تھالی میں کھاتا ہے، اسی میں چھید کرتا ہے! کیا اسی دن کے لیے تیری پرورش کر رہا ہوں؟"
میں کچھ نہ سمجھا کر اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور سوالیہ نظروں سے انہیں تکتا رہا۔ چچی نے ہاتھ نچھاتے ہوئے کہا، "دیکھو، کیسی معصوم صورت بنا کر اپنے چچا کو دیکھ رہا ہے، جیسے کچھ جانتا ہی نہیں۔ ذلیل! اسی دن کے لیے شاہینہ کو تیرے پاس جانے سے روکتی تھی!"
"تم چپ رہو، بیگم!" چچا نے کہا۔ پھر مجھ سے مخاطب ہوئے، "کیوں، بے؟ کل رات تو نے شاہینہ کو پیار کیا تھا؟"
میں نے سر ہلا کر کہا، "جی ہاں۔"
یہ سنتے ہی چچا نے زور دار تماچہ میرے منہ پر رسید کیا۔ میں توازن نہ سنبھال سکا اور بستر پر گر پڑا۔ میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ میں نہیں جانتا تھا کہ چھوٹی بہن کو پیار کرنا جرم ہے۔ اس تماچے نے بہن بھائی کے مقدس رشتے میں کھوٹ ڈال دیا۔ انہوں نے میرا گریبان پکڑ کر اٹھاتے ہوئے کہا، "تو اتنا نڈر ہو گیا کہ غلطی کرتا ہے اور بے حیائی سے اعتراف بھی کرتا ہے؟ بول، تو نے کیوں پیار کیا؟" ایک اور تماچہ رسید کیا گیا۔
میں نے روتے ہوئے کہا، "آپ مجھے کیوں مار رہے ہیں؟ میں تو روز شاہینہ کو پیار کرتا ہوں!"
چچی نے فوراً کہا، "اور روز اس معصوم بچی کو گندی حرکتیں سکھاتا ہے! اگر کل رات میں نہ دیکھ لیتی—" وہ گندی حرکتوں کی تفصیلات بیان کرنے لگیں۔ میں حیرانی سے منہ کھولے انہیں تکتا رہا۔ مجھ پر ایسی باتیں منسوب کی جا رہی تھیں جو میں جانتا بھی نہ تھا۔ چچی نے اپنا بچاؤ کرتے ہوئے کہا، "یہ لڑکا وقت سے پہلے سیانا ہو گیا۔ جب میں نے اسے دھمکی دی کہ تیری شکایت چچا سے کروں گی، تو اس نے مجھے دھمکی دی کہ چچا کو بتاؤں گا کہ کل رات تیرے کمرے میں کوئی مرد آیا تھا۔ ہائے، یہ بات سننے سے پہلے میں مر کیوں نہ گئی! آپ نے کبھی میرے متعلق ایسی سوچا؟ مگر اسکے نے کیسی باتیں کیں!"
چچا آگ بگولہ ہو گئے۔ انہوں نے لاتوں، گھونسوں سے مجھے اتنا مارا کہ میری ہڈی ہڈی دکھنے لگی۔ وہ مارتے جاتے اور کہتے، "اپنی چچی کے قدموں پر گر کر معافی مانگ، ورنہ تجھے ننگا کر کے گھر سے نکال دوں گا۔ شاہینہ کو اب کبھی تیرے قریب نہیں آنے دوں گا!"
میں ضدی تھا۔ مار کھاتے کھاتے مر جانا گوارا تھا، مگر چچی کے قدموں میں گرنا نہیں۔ چچا مارتے مارتے تھک گئے۔ مجھے کھینچتے ہوئے ایک سٹور روم میں بند کر دیا۔ انہوں نے دھمکی دی تھی کہ معافی نہ مانگنے پر گھر سے نکال دیں گے، مگر وہ مجھے اپنی نظروں سے دور نہیں کر سکتے تھے۔ انہیں ڈر تھا کہ میں پھوپھو کے پاس جا کر زمین اور جائیداد کے کاغذات مانگ لوں گا۔ اس لیے وہ مار پیٹ سے میرے دل میں دہشت بٹھا کر مجھے زیر اثر رکھنا چاہتے تھے۔
چچا نے مجھے سٹور روم میں بند کر کے صبح سے شام تک بھوکا پیاسا رکھا۔ میں نے کئی بار دروازے پر زور زور سے دستک دی اور فریاد کی، مگر جواب میں صرف ایک بار شاہینہ کی آواز سنائی دی۔ وہ دروازے کے دوسری طرف سے مجھے پکار رہی تھی، مگر اسی لمحے چچی کی جھڑکتی ہوئی آواز گونجی۔ وہ شاہینہ کو گھسیٹتی ہوئی وہاں سے لے گئیں۔
تھوڑی دیر بعد چچا نے دروازہ کھولا۔ صبح سے شام تک بھوک کی وجہ سے میری ضدی طبیعت کچھ نرم پڑ گئی تھی۔ اس کے باوجود، اگر شاہینہ کی محبت نہ ہوتی، تو میں اس گھر سے بھوکا پیاسا ہی چلا جاتا۔ چچا بھی اب نرم پڑ چکے تھے۔ انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر نرمی سے کہا، "میرے ساتھ آؤ۔" وہ مجھے ڈرائنگ روم میں لے گئے۔
وہاں شاہینہ اپنی ماں کے ساتھ بیٹھی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی وہ دوڑ کر آئی اور "بھائی جان" کہتی ہوئی مجھ سے لپٹ گئی۔ میں اسے محبت سے چومنا چاہتا تھا، مگر کل کے طمانچوں کی یاد نے دل میں ایک ٹھیس سی پیدا کر دی۔ شاہینہ کچھ اجنبی سی لگ رہی تھی۔ چچا ہمیں گہری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ اسی وقت چچی نے شاہینہ کا ہاتھ کھینچ کر اسے وہاں سے لے جانے کی کوشش کی۔ شاہینہ چیختی چلاتی نہیں تھی، مگر وہ اسے زبردستی گھسیٹ کر لے گئیں۔
میں بے بسی سے سر جھکائے چچا کے ساتھ کھانے کی میز پر جا بیٹھا۔ ملازم کھانا چن رہا تھا۔ جب وہ چلا گیا، چچا نے نرم لہجے میں کہا، "فرہاد، میں ہمیشہ تجھے بیٹے کی طرح رکھنا چاہتا ہوں۔ کیا شاہینہ تجھے بہت اچھی لگتی ہے؟"
"جی ہاں،" میں نے خلوص سے جواب دیا۔
"اچھا، تو میں شاہینہ سے تیری شادی کر دوں گا۔"
میں نے چونک کر انہیں حیرانی سے دیکھا۔ میں نے کبھی اس بارے میں سوچا بھی نہ تھا۔ اس عمر میں، شاہینہ ہو یا کوئی اور لڑکی، میں بہن کے رشتے کے علاوہ کچھ سوچ بھی نہ سکتا تھا۔ "شاہینہ میری بہن ہے!" میں نے کہا۔ "میں اس سے شادی نہیں کروں گا۔"
چچا نے مجھے غور سے دیکھا، پھر سخت لہجے میں بولے، "اسے بہن کہہ کر اپنی گندی ذہنیت نہ چھپا۔ تمہارے اور شاہینہ کے بارے میں کیا فیصلہ کرنا ہے، یہ میں بہتر سمجھتا ہوں۔ خاندان میں لڑکیاں شادی سے پہلے بہن ہوتی ہیں، اور شادی کے بعد بیوی بن جاتی ہیں۔ مجھ سے بحث نہ کر، چپ چاپ کھانا کھا۔"
میں نے بحث نہ کی اور خاموشی سے کھانا کھانے لگا۔ اگلے دن شاہینہ کو اس کے نانا نانی کے ہاں بھیج دیا گیا۔ وہ ان کے لیے درد سر بن گئی تھی، کیونکہ وہ میرے سوا کسی کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تھی۔ چچی کے مشورے پر اسے طویل عرصے کے لیے مجھ سے دور کر دیا گیا۔ وہ سمجھتی تھیں کہ شاہینہ ابھی بچی ہے۔ وقت کے ساتھ وہ مجھ سے دوری اختیار کر کے مجھے بھول جائے گی۔ پھر وہ اسے بیوی بنانے کی "تربیت" دیں گی تاکہ وہ مجھے اس گھر میں غلام بنائے رکھے۔
میں یقین سے نہ کہہ سکتا تھا کہ شاہینہ مجھے یاد کرتی ہے یا نہیں، مگر میں تنہائی میں اسے بہت یاد کرتا۔ گھنٹوں ایک جگہ بیٹھ کر اس گھر کی نفرتوں کے بارے میں سوچتا رہتا۔ چچا کہتے تھے کہ میں دوسرے بچوں سے مختلف ہوں۔ جہاں بیٹھتا ہوں، وہیں جم جاتا ہوں۔ جس چیز کو دیکھتا ہوں، اسے پوری توجہ سے یوں گھورتا ہوں جیسے اسے اپنی نگاہوں سے جذب کر رہا ہوں۔ وہ مجھے کند ذہن اور گنوار سمجھتے تھے، یہ سوچ کر کہ میں تعلیم حاصل نہ کر پاؤں گا۔ اسی لیے انہوں نے اپنے بچوں کو ہائی سوسائٹی کے انگلش اسکولوں میں داخل کیا اور مجھے ایک معمولی ہائی اسکول میں پڑھنے کے لیے چھوڑ دیا۔
مگر میری یہ عادت علم کے حصول میں کام آ گئی۔ جس سبق کو میں ایک بار توجہ سے پڑھتا، وہ ہمیشہ کے لیے ذہن نشین ہو جاتا۔ امتحانات میں ہر سال اول آنے لگا، جبکہ چچا کی اولاد کند ذہن ثابت ہوئی۔ پانچ سال بعد شاہینہ ایک دن کے لیے لاہور آئی، مگر اس دن میں دوستوں کے ساتھ چھانگا مانگا چلا گیا تھا۔ چچی کو ایک ہفتہ پہلے معلوم تھا کہ میں لاہور سے باہر جا رہا ہوں۔ شاید اسی لیے انہوں نے شاہینہ کو صبح سے شام تک کے لیے بلایا اور شام سے پہلے اسے اس کے ماموں کے ساتھ رخصت کر دیا۔ جب مجھے اس کی آمدورفت کا پتا چلا، دل کو ٹھیس پہنچی۔ مجھے یقین ہو گیا کہ چچی کی سازش کامیاب ہوئی۔ شاہینہ مجھے بھول چکی تھی۔ اگر وہ دوبارہ میری زندگی میں آئی، تو اس کا روپ نیا ہوگا۔ بچپن کی شاہینہ مر چکی تھی۔
تین سال اور گزر گئے۔ میں نے دسویں جماعت کا امتحان دیا اور صوبے بھر میں اول آیا۔ غزالہ اور ظہیر تھرڈ ڈویژن میں رہے۔ انہیں تعلیم سے زیادہ ہائی سوسائٹی کی بدمعاشی میں دلچسپی تھی۔ میرے والد کی زمینوں کی آمدنی سے وہ شاہانہ زندگی گزار رہے تھے۔ ان کے پاس گاڑیاں تھیں، جبکہ میں سائیکل چلاتا تھا۔ ان کا معیار زندگی جتنا بلند تھا، اخراجات بھی اتنے ہی تھے۔ وہ دولت مند گھرانوں کے لڑکوں لڑکیوں کے ساتھ تفریحی پروگرام بناتے اور مجھے ملازم سمجھ کر نظر انداز کرتے۔
مگر میری بڑھتی عمر کے ساتھ میرے چہرے کے نقوش اور قدوقامت سے مردانہ وقار جھلکنے لگا۔ ظہیر کی رئیسانہ شخصیت میرے سامنے پھیکی پڑ گئی۔ کئی بار میں نے محسوس کیا کہ اس کی ہمراہ لڑکیاں مجھے عجیب لگن سے دیکھتیں۔ کوٹھی کے پچھلے باغ میں بیڈمنٹن کورٹ تھا۔ ایک شام وہاں سے گزرتے ہوئے ظہیر کی ایک گرل فرینڈ نے آواز دی، "ہیلو فرہاد، آؤ، میرے ساتھ ایک گیم کھیلو۔"
میں نے مسکرا کر کہا، "لڑکیوں کے ساتھ کھیل کر ہارنا یا جیتنا ایک برابر ہے۔"
"وہ کیسے؟" اس لڑکی نے حیرانی سے پوچھا۔ دوسری لڑکیاں بھی پوچھنے لگیں۔
"مطلب یہ کہ لڑکی کو خوش کرنے کے لیے ہار جاؤ تو مرد کی توہین ہوتی ہے، اور جیت جاؤ تو لڑکی ناراض ہو جاتی ہے۔"
"واہ، یہ تو فضول منطق ہے!" ایک لڑکی نے گردن جھٹک کر کہا۔
"منطق نہیں،" ظہیر نے طنز کیا۔ "یہ پینڈو ہے۔ اسے بیڈمنٹن کھیلنا نہیں آتا۔ یہ صرف بلی ڈنڈا جانتا ہے۔"
اس کی دوست لڑکی اس کے طنز پر قہقہہ لگانے لگی۔ میں نے قریب جا کر غصے سے کہا، "میں تمہارا سر توڑنا بھی جانتا ہوں!"
ظہیر نے اپنی توہین برداشت نہ کی اور ہاتھ میں پکڑا ریکٹ مجھ پر دے مارا۔ میں نے بایاں ہاتھ آگے کیا۔ نہ جانے ریکٹ کمزور تھا یا میری کلائی میں فولاد کی سختی، ریکٹ ٹوٹ گیا۔ لڑکیوں کے منہ سے حیرت بھری چیخیں نکلیں۔ میں نے بائیں ہاتھ سے ڈال دی اور دائیں ہاتھ سے ظہیر کی ناک پر مکا مارا۔ اس کے دو ساتھی مجھ پر جھپٹے۔ ایک کو میں نے بغل میں دبایا اور دوسرے کو گھونسوں سے لپیٹ لیا۔ غزالہ کا بوائے فرینڈ، قیصر، بھی مردانگی دکھانے آیا۔ اگر وہ سب ایک ساتھ پل پڑتے، تو میری حالت خراب ہو جاتی، مگر وہ سوچ سمجھ کر آ رہے تھے۔ ظہیر کی ناک سے خون بہہ رہا تھا۔ اس نے عافیت سمجھی اور چکرا کر بے ہوش ہو گیا۔
کچھ لڑکیاں چیختی ہوئی بھاگ گئیں، کچھ پرے کھڑی تماشا دیکھ رہی تھیں۔ غزالہ خاموشی سے کبھی مجھے اور کبھی قیصر کو دیکھ رہی تھی۔ قیصر اپنی شکست تسلیم نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ جیداری سے لڑ رہا تھا اور بے حیائی سے مار کھا رہا تھا۔ لڑکیوں کی چیخ و پکار سن کر چچی دو ملازموں کے ساتھ کوٹھی سے باہر آئیں۔ ملازموں نے سب سے پہلے ظہیر کو سنبھالا، کیونکہ وہ ان کے مالک کا لاڈلا تھا۔ چچی مجھے گالیاں دینے لگیں، "کمینے، بدذات! میرا کھاتا ہے اور میرے بچے پر ہاتھ اٹھاتا ہے؟ آج تیرے چچا سے کہہ کر تجھے دھکوں سے نکال دوں گی!"
میں اب بچہ نہیں تھا۔ پھوپھی سے معلوم ہو چکا تھا کہ یہ سب میری دولت پر عیش کر رہے ہیں۔ اس روز میں شیر بن گیا۔ "یہ کوٹھی میرے ابا کے پیسوں سے خریدی گئی ہے!" میں نے کہا۔ "آپ کے اچھوں سے بھی مجھے کوئی نہیں نکال سکتا۔ چچا کو آنے دیں، آج میں اپنی زمین اور جائیداد کا فیصلہ کروں گا!"
یہ کہہ کر میں لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔ ملازم ظہیر کو اٹھا کر پچھلے دروازے سے کوٹھی میں لے گئے۔ میں کوٹھی کے اگلے حصے کی طرف بڑھا۔ وہاں پورچ میں ایک ٹیکسی کھڑی تھی۔ چوکیدار ٹیکسی کی ڈگی سے سامان نکال رہا تھا، اور ایک نوجوان لڑکی اپنا پرس کھول کر کرایہ ادا کر رہی تھی۔

0 تبصرے