وہ شاہینہ تھی جو سالوں بعد میرے سامنے کھڑی تھی۔ میں سر جھکائے واپس اپنے کمرے میں چلا گیا اور باہر جانے کا ارادہ ملتوی کر دیا۔ میں چچا اور چچی کی محبت اور خلوص سے متاثر نہ ہو سکا۔ میں نے اسی وقت سوچ لیا کہ دوسرے دن شاہ کوٹ جاؤں گا اور وہاں کے پٹواری سے اصل حقیقت پتا کروں گا ۔ کیوں کہ پٹواریوں کے پاس تمام زمینوں اور زمینداروں کی ملکیت کے ریکارڈز موجود رہتے ہیں وہیں سے جھوٹ سچ کا پتا چل جائے گا ۔
میں اپنے کمرے میں آ کر ٹہلنے لگا تھوڑی دیر بعد ایک ملازم نے آکر کہابی بی جی آپ کو بلا رہی ہیں ۔گھر کے ملازم غزالہ کو بی بی جی کہا کرتے تھے۔ میں سمجھ گیا کہ ان میں نے اس کے بوائے فرینڈ کا حلیہ بگاڑ دیا ہے اس لیے وہ بھی اپنی ماں کی طرح باتیں سنانا چاہتی ہے ۔ پہلے تو میں نے سوچا کہ نہ جاؤں بات خوامخواہ بڑھے گی۔ وہ ایک کہے گی تو میں دس سناؤں گا۔ پھرمیرے سوچنے کا انداز بدل گیا ۔ دل میں نفرت تھی اور یہ نفرت عداوت میں بدلنے والی تھی ۔ میں یہی چاہتا تھا کہ وہاں عزت سے رہوں یا پھر لڑ جھگڑ کر نکل آؤں۔
میں اس کے کمرے کی طرف چل پڑا۔ میرا دل کہہ رہا تھا کہ آج کچھ ہونے والا ہے مگر میں بزدل نہیں تھا کہ ایک لڑکی کا سامنا کرنے سے کترا جاتا۔ میں اس کے کمرے میں پہنچا تو وہ پلنگ پر لیٹی ہوئی تھی میں اسے دیکھتے ہی ٹھٹھک کر رک گیا۔ وہ اپنے چہرے کو ایک بازو میں چھپائے ہوئے لیٹی ہوئی تھی۔ دروازہ کھلنے پر اس نے ذرا سا ہاتھ ہٹا کر مجھے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں بلا کا خمار تھا۔ ان دنوں میں بیس برس کا نوجوان تھا۔ عورت کو اس کی آنکھوں سے پہچاننے کا کوئ تجربہ نہیں تھا۔ میرے کہنے کا یہ مطلب نہیں کہ میں نادان تھا۔ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس دور میں دس برس کے بچے بھی ذہنی عیاشی کا کورس پڑھنا اور سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ میں بھی نادان نہیں تھا مگر شیطان بھی نہیں تھا اس حد تک معصوم تھا کہ غزالہ کی خمار آلود آنکھیں دیکھ کر اسے نیند کا خمار سمجھا۔
وہ بڑی سنجیدگی سے بولی "آؤ دروازہ آہستگی سے بند کرو میرے سر میں درد ہو رہا ہے" میں نے دروازہ بند کیا اور پلنگ کی طرف بڑھتے ہوئے اس کے بوائے فرینڈ کا نام لے کر کہا "میں نے قیصر کو مارا ہے اور درد تمہارے سر میں ہو رہا ہے"
"تم مجھے طعنہ نہ دو ۔ بزدل ہمیشہ مار کھاتے ہیں ۔ مجھے قیصر سے کوئی ہمدردی نہیں ۔ آج تمہاری دلیری دیکھ کر میرا سوچنے کا انداز بدل گیا ہے"۔ میں سمجھنا چاہتا تھا کہ وہ کیا کہنا چاہتی ہے ۔ میں نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا تو میری نظریں بہک گئیں۔ وہ زبان سے کچھ نہیں کہہ رہی تھی اپنے بدن کے نشیب و فراز سے پکار رہی تھی۔
مجھے خاموش دیکھ کر اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا
کیا اس کوٹھی میں تم مالک کی حیثیت سے نہیں رہنا چاہتے؟"
میں نے بڑے اعتماد سے کہا
"میں صرف اس کوٹھی کا ہی نہیں شاہ پور کی زمینوں کا بھی مالک ہوں اس کا فیصلہ جلد ہو جائے گا "
وہ ہسنے لگی اور ہنستے ہنستے کہنے لگی
فیصلہ اتنا ہی آسان ہوتا تو تم محتاجی کی زندگی نہ گزار رہے ہوتے ۔ تم ایک ایک زینہ چڑھنے کی بجائے چھلانگ لگا کر تمام زمینوں اور جائیداد کے مالک بن جانا چاہتے ہو ۔ اس طرح تم میرے ڈیڈی کے دشمن بن سکتے ہو مگر کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔ میں تمہاری دشمن نہیں ہوں فرہاد میں تمہارے کام آنا چاہتی ہوں۔
اگر تم میرا ساتھ دو تو میں تمہیں ڈیڈی سے بہت کچھ حاصل کرنے کے طریقے بتا دوں گی "
"وہ طریقے کیا ہیں ؟" میں نے پوچھا
اس نے لیٹے ہی لیٹے ہاتھ بڑھا کر کہا
"پہلے دوستی کے لیے ہاتھ بڑھاؤ"
ایک مغرور اور بد دماغ لڑکی جو سیدھے منہ بات نہ کرتی تھی وہ دوستی کا ہاتھ بڑھا رہی تھی۔ میں نے سوچا اگر دوستی سے کام بنتا ہے تو ضرور بنانا چاہیے۔
میں نے دوستی کے خیال سے مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ اس نے بڑی گرمجوشی سے میرے ہاتھ کو بھینچ لیا۔ اپنی ملائم ہتھیلی اور انگلیوں کی نزاکت میں جکڑ لیا۔
وہ مصافحہ طویل ہو گیا۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ نہایت آہستگی سے اشارتی انداز میں میرے ہاتھ کو اپنی طرف مائل کر رہی ہے۔ جس طرح ہلکے ٹھمکے سے پتنگ کو ہوا کے دوش پر سنبھالا جاتا ہے اسی طرح وہ مصافحے کے ٹھمکے سے مجھے سنبھال کر اور سنبھل کر بلا رہی تھی۔
میں سمجھتا رہا اور انجان بنا ایک بت کی طرح خاموش کھڑا رہا ۔ آخر اسے زبان سے کہنا پڑا۔ " آؤ یہاں بیٹھو۔ آج ہم بہت سی باتیں کریں گے ۔ ہم ایک دوسرے کے دوست بن کر اپنے مستقبل کا پروگرام بنائیں گے"
وہ مجھے قریب بیٹھنے کی دعوت دے رہی تھی۔ اس کا ہاتھ کانپ رہا تھا شاید وہ اندر سے کانپ رہی تھی۔ میں پلنگ کے سرے پر بیٹھ گیا۔ میرا ہاتھ ابھی تک اس کے ہاتھ میں تھا۔ تم کیسے پہاڑ ہو گئے ہو مجھ سے عمر میں "چھوٹے ہو مگر میں تم سے چھوٹی نظر آ رہی ہوں اور میں کونسی بڑی ہوں تین برس کا فرق تو کوئ فرق نہیں ہوتا۔ مرد اسی کو کہتے ہیں جس کے ڈیل ڈول کے آگے عورت کی عمر چھپ جائے ۔ مجھے چھپا لو ۔۔۔۔"
میں الجھن میں پڑ گیا اگرچہ وہ جوان تھی اور بےحد حسین تھی مگر عمر میں مجھ سے بڑی تھی میں نے کبھی اس انداز سے نہیں سوچا تھا جیسے وہ سوچ رہی تھی ۔
"یہ.... یہ تم کیسی باتیں کر رہی ہو ؟ "
"انجان نہ بنو فرہاد! ہائے تمہارے نام میں کتنی رومانیت ہے۔ کیا مجھے دیکھ کر میرے قریب آ کر تمہارا دل نہیں دھڑک رہا "
"یہ ۔۔۔۔ یہ بری بات ہے "
مجھے بدکتے دیکھ کر وہ اٹھ گئی۔ پھر مجھے سمجھانے لگی۔
"بری بات یہ ہے کہ تم مجھ سے کترا رہے ہو۔ کیا میں جوان نہیں ہوں ، کیا میں حسین نہیں ہوں ؟ مجھ میں کوئی کمی ہے تو بتاؤ ؟"
"مم۔۔۔۔۔ میں کچھ نہیں جانتا۔ مجھے یہ بتاؤ کہ تم کس طریقے سے مجھے میرا حق دلاؤ گی؟"
"تم سے شادی کر کے"
"شادی ؟" میں نے حیرت سے کہا"یہ کیسے ہو سکتا ہے تم مجھ سے بڑی ہو چچا چچی راضی نہیں ہوں گے"
"کیسے راضی نہیں ہوں گے۔ وہ جانتے ہیں کہ پھوپھی تمہیں بہکا رہی ہیں ۔ ایک دن ڈیڈی کہہ رہے تھے کہ شاہینہ سے تمہاری شادی کر کے تمہیں گھر داماد بنا لیں گے ۔مگر میں ڈیڈی کا ارادہ بدل دوں گی۔ میں ان سے کہہ دوں گی کہ ہم دونوں جیون ساتھی بننا چاہتے ہیں۔ ڈیڈی اعتراض نہیں کریں گے وہ تو صرف چاہتے ہیں کہ تمہیں گھر داماد بنا کر رکھیں "۔
وہ باتوں کے دوران میرے دائیں سے بائیں مچل رہی تھی ۔ حد ہوگئ تھی ایسے موقعوں پر تو فرشتے بھی بہک جاتے ہیں۔ میں بھی بہک جاتا مگر گھر داماد والی بات میری خودداری پر ایک ہتھوڑے کی طرح لگی۔
میں ان مکاریوں اور چالبازیوں پر غصے سےکھول گیا۔ میں نے غزالہ کی گداز بانہوں کو تھام کر اپنے سے الگ کیا۔ ایک نظر اس کی سلگتی جوانی کو دیکھا اور فیصلہ کیا۔ اگر آج میں اس بدن کی لذت سے آشنا ہو گیا تو ایک بار پھر یہاں غلام بن جاؤں گا۔ عورت کا نشہ بار بار مجھے پکارے گا اور میں بار بار بہکتا جاؤں گا۔
میں نے اسے پرے دھکیلا اور وہاں سے اٹھ گیا۔
پھر حقارت سے بولا" میں ایسا احمق نہیں ہوں کہ تم سے شادی کر کے یہاں غلام بن کر رہ جاؤں"۔
وہ بستر پر چاروں شانے چت ہو گئی، پہلے چند ساعت کے لیے اس کا چہرہ سرخ ہو گیا ۔ وہ توہین کے احساس سے تلملائی، مجھے غرّا کر دیکھا ۔ مگر دیکھتے ہی جیسے پھر جذبات سے سلگ اٹھی۔ وہ عجیب کیفیات سے دوچار تھی۔ توہین کا احساس بھی تھا، غصہ بھی تھا اور میرے بازوؤں میں مچلنے کی دیوانگی بھی تھی۔ میں آگ لگا رہا تھا اور میں ہی آگ بجھا سکتا تھا۔ وہ تڑپ کر اٹھی دوڑتی ہوئی میرے سامنے آئی اور میرا راستہ روک کر کھڑی ہوگئی۔
" تم نہیں جا سکتے۔ تم کیسے پتھر ہو؟ تم سمجھتے کیوں نہیں؟ تمہیں غلام نہیں بنانا چاہتی تم سے شادی کر کے تمہیں اپنا بنانا چاہتی ہوں۔ میں تمہیں نہیں جانے دوں گی"
"چھوڑو مجھے میں تمہارے فریب میں آ کر اپنا مستقبل برباد نہیں کر سکتا ۔ دور ہٹو ۔۔۔۔۔"
میں نے پھر اسے دھکا دیا۔ وہ لڑکھڑا کر دو قدم پیچھے گئی۔ اس بار توہین کا احساس غالب آ گیا ۔ وہ جھلا کر چیخنے لگی۔ "سور, کمینے ۔ میں تمہارا منہ نوچ لوں گی۔تمہیں جان سے مار ڈالوں گی مگر تمہیں جانے نہیں دوں گی۔"
وہ میرا منہ نوچنے کے لیے اچھل کر میری طرف آئی ۔ میں نے اس کے دونوں ہاتھ پکڑ لیے۔
وہ لانبے اور نوکیلے ناخن نیل پالش کی سرخی میں نہائے ہوئے تھے اور اب میرے خون کی سرخی میں ڈوبنا چاہتے تھے۔ شاید لڑکیاں اسی لیے ناخن بڑھا کر رکھتی ہیں کہ بوقت ضرورت ان سے منہ نوچنے کا کام لیا جا سکے۔
میں اسے روک رہا تھا اور وہ بپھری ہوئی شیرنی کی طرح بار بار مجھ پر جھپٹ رہی تھی اور ساتھ ساتھ چیخ رہی تھی۔
" تم۔۔۔۔۔ تم ذلیل ۔۔۔۔۔۔ کمینے ۔۔۔۔۔۔۔ ہمارا جوٹھا کھانے والے۔۔۔۔۔۔ تم مجھے ٹھکرا ریے ہو ۔ بڑے بڑے رئیس زادے میرے تلوے چاٹتے ہیں۔ تم بھی یہی کرو گے۔ ورنہ میں اپنی جان پر کھیل جاؤں گی لیکن یہ توہین برداشت نہیں کروں گی۔ مجھ سے معافی مانگو ۔ میں سلگ رہی ہوں ، میں جل رہی ہوں ، میری آگ بجھاؤ ورنہ میں تمہیں جلا کر خاک کر دوں گی ۔"
وہ چیخ رہی تھی، چلا رہی تھی۔ رات کے سناٹے میں وہ کمرہ اور وہ کوٹھی گونج رہی تھی۔
پھر چچا ، چچی اور ظہیر کی آوازیں آنے لگیں۔ وہ کمرے کا دروازہ پیٹ رہے تھے ۔
میری گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔ وہ ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑا کر دروازے کی طرف بھاگی۔ پھر دروازہ کھلتے ہی اپنی ماں کی طرف بھاگی اور روتے ہوئے کہنے لگی۔
"ممی مجھے بچائیے یہ بدمعاش میری عزت لوٹنا چاہتا ہے۔ میں اس گھر میں نہیں رہ سکتی جب تک یہ کمینہ یہاں رہے گا۔ میں یہاں سے کہیں دور چلی جاؤں گی مجھے یہاں سے لے چلیے "۔
میں اس کے جھوٹ اور چلتر بازی پر حیران رہ گیا۔ میں کچھ کہنا چاہتا تھا کہ چچا نے آگے بڑھ کر میرا گریبان پکڑ لیا اور مجھے جھنجھوڑتے ہوئے کہا۔
"حرام خور۔ تم اتنی کمینگی پر اتر آئے۔ تم نے یہ بھی نہ سوچا کہ یہ تمہاری بڑی بہن ہے۔ میں تمہاری بوٹی بوٹی کاٹ کر پھینک دوں گا۔"
اگر یہ بڑی بہن ہے تو میں اس پر تھوکتا ہوں۔ میں زندگی کے کسی موڑ پر ایسی لڑکی کو بہن نہیں کہہ سکتا جو مجھے اپنے کمرے میں بلا کر گناہ کی دعوت دیتی ہو"۔
"یہ جھوٹ ہے ڈیڈی! " غزالہ نے چیخ کر کہا
"میں نے اسے بلایا تھا صرف یہ کہنے کے لیے کہ قیصر ایک بڑے آفیسر کا لڑکا ہے تم نے اس پر ہاتھ اٹھا کر اچھا نہیں کیا ہے۔ اس پر یہ کمبخت کہنے لگا میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ قیصر کو اپنا رقیب سمجھتا ہوں۔ پھر یہ کھلی بےشرمی کی باتیں کرنے لگا۔ آج اس بات کا فیصلہ ہو جائے کہ اس گھر میں یہ رہے گا یا میں۔ میں آپ کی بیٹی ہوں کوئی بازاری عورت نہیں کہ اپنی ذلت برداشت کروں گی "
چچا نے میرے منہ پر طمانچہ مارنا چاہا تو میں نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا پھر اس ہاتھ کو جھٹک کر کہا۔
"بس اب مجھ پر ہاتھ نہ اٹھانا۔ آج سے میں تمام رشتے توڑ رہا ہوں۔ تم لوگ بچپن سے مجھے بےوقوف بناتے آ رہے ہو۔ جوانی میں تمہاری بیٹی مجھے بےوقوف بنا کر اپنے اشاروں پر نچانا چاہتی ہے۔ میں تم لوگوں کو اچھی طرح سمجھ گیا ہوں۔ اب یہاں میرا گذارا نہیں ہے ۔ میں جا رہا ہوں مگر یاد رکھنا ایک دن میں اس کوٹھی کا مالک بن کر آؤں گا اور تم سب کو دھکے دے کر یہاں سے نکالوں گا۔"
چچا اور چچی چیخ چیخ کر مجھے چیلنج کر ریے تھے کہ تمہارے دعوے جھوٹے ہیں ۔ میں کمرے سے جانے لگا تو میری بہن شاہینہ ایک کونے میں ظہیر کے پیچھے سہمی کھڑی تھی۔
میں نے شاہینہ کو وہاں سے جانے کے لیے کہا وہ میرا ہاتھ تھام کر مجھے روکنے لگی۔
میں اسے دلاسا دیتا ہوا اپنے کمرے میں آ گیا۔ اپنے کپڑے کتابیں اور دوسرا سامان باندھ کر ہمیشہ کے لیے وہ گھر چھوڑ کر اپنی پھوپھی کے ہاں چلا آیا۔
٭٭٭
پھوپھی شاہدرہ رہتی تھیں۔ پھوپھا کا انتقال ہو چکا تھا ۔ وہ ایک اسکول میں بچوں کو پڑھایا کرتی تھیں۔ ان کی لڑکی زرینہ میری ہم عمر تھی۔ بہت خوبصورت دل موہ لینے والی زرینہ مجھے بہت عزیز تھی۔
اس رات ہم دیر تک باتیں کرتے رہے۔ وہ دو کمروں کے کچے مکان میں رہتی تھیں۔ انہوں نے ایک کمرہ میرے لیے مختص کر دیا۔
میں نے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر کویہ چھوٹی موٹی ملازمت کر کے پھوپھی کے اخراجات اٹھانے کا فیصلہ کیا جسے انہوں نے ناراضگی سے منع کر دیا۔
میں ساری رات چچا سے انتقام کے منصوبے بناتا رہا۔ میں کویہ ایسا پراسرار علم سیکھنا چاہتا تھا جس سے میرے دشمن دہشت زدہ ہو کر میرے قدموں میں جھک جائیں ۔ کوئی راہنما اور استاد تو تھا نہیں میں بازار سے ایسی کتابیں لے آیا اور ان علوم کو پڑھنے اور سمجھنے لگا۔
وہ کتابیں مجھے زندگی کے ایک نئے موڑ پر لے آیئں۔ یہ سچ ہے کہ محض کتابوں سے علم حاصل نہیں ہوتا اس کے لیے بڑے عالم اور عامل کے تجربات اور مشاہدات سے راہنمائی حاصل کرنی پڑتی ہے۔ پھر بھی ان کتابوں سے اتنا فائدہ ضرور ہوا کہ میں ان علوم کو سیکھنے کے ابتدائی مراحل سے گزرتا چلا گیا۔
جو حضرات ہپناٹزم اور ٹیلی پیتھی میں دلچسپی رکھتے ہیں، وہ ارتکاز کی اہمیت کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ ارتکاز اور توجہ کے بغیر اس میدان میں ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔ میں بچپن سے ہی توجہ اور خیال کی قوت کو ایک جگہ مرکوز کرنے کا عادی تھا۔ لہٰذا، شمع بینی کی مشقوں کے دوران مجھے کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔
رات کو جب سناٹا چھا جاتا اور کسی کی مداخلت کا خدشہ نہ ہوتا، میں اپنے کمرے میں مومی شمع روشن کرتا، شمال کی طرف رخ کرکے بیٹھ جاتا اور شمع کی لو کو یکسوئی سے دیکھتا رہتا۔ شمع بینی کے دوران میری توجہ صرف اس خیال پر مرکوز رہتی کہ میری آنکھوں میں مقناطیسی قوت پیدا ہو رہی ہے، اور میں جسے چاہوں، اپنی نگاہوں کے شکنجے میں جکڑ سکتا ہوں۔ اگرچہ ابتدائی مرحلے پر مجھے ایسی جارحانہ باتیں نہیں سوچنی چاہیے تھیں، لیکن میں اپنے حالات سے مجبور تھا۔ اس عمل کے دوران میرے دشمن پیشِ نظر رہتے تھے۔
"اس روشن لو کی چمک میری آنکھوں میں اتر رہی ہے۔ اس کی گرمی اور حرارت میری نگاہوں میں سمایا جا رہی ہے۔" "رہنے دو بیٹا، ٹھنڈی ہوا آ رہی ہے۔" "میں آگ سے بنا ہوا نہیں ہوں، تمہاری طرح خاک کا پتلا ہوں۔" "تمہاری معلومات درست ہیں۔" "جو علم تمہیں ابھی حاصل ہو رہا ہے، تم اسے اپنے استعمال میں لانا نہیں جانتے۔ خیال خوانی تو دور کی چیز ہے۔ دیکھو، تم سردی سے ٹھٹھر رہے ہو اور سردی سے محفوظ رہنے کی کوئی تدبیر نہیں کر سکتے۔" میں سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ "میری ہتھیلیاں گرم ہو رہی ہیں۔ میری نگاہوں کی حرارت سرد لہروں کو پگھلا رہی ہے۔ مجھے ایک راحت بخش اور پرسکون حرارت کی ضرورت ہے اور وہ حرارت ان ہتھیلیوں تک پہنچ رہی ہے۔" "کیا ہوا؟" انہوں نے مسکرا کر پوچھا۔ "بابا جی، آپ نے میرا رخ موڑ دیا ہے۔ میں جس راہ کی تلاش میں تھا، آپ نے وہ راہ دکھا دی۔ مجھے کچھ اور سکھائیے، بابا! میں ہمیشہ آپ کے در کا بھکاری رہوں گا۔" "لوگ یہ علم کیوں سیکھنا چاہتے ہیں؟ تاکہ کسی کو زیرِ اثر لا سکیں، کسی کو اپنا مطیع بنا کر اس سے فائدے اٹھا سکیں۔ اگر تم بھی کسی غلط ارادے سے سیکھنا چاہتے ہو تو اپنے ارادوں سے باز آ جاؤ۔" "آپ ہی بتائیے، مجھے اپنے حقوق حاصل کرنے کا حق ہے کہ نہیں؟" "میں آپ کے قدموں میں رہنا چاہتا ہوں۔ آپ سے خیال خوانی کا علم سیکھنا چاہتا ہوں۔" "ایک وقت میں ایک ہی خیال قائم کرو اور ایک ہی خیال سیکھو۔ ٹیلی پیتھی کی منزل ابھی دور ہے۔ میں تم سے خود رابطہ کروں گا۔ میرے پیچھے نہ آنا۔"
رفتہ رفتہ میں نے اپنے جوش اور جذبات پر قابو پا لیا اور نہایت سکون و سنجیدگی سے شمع کا مشاہدہ کرنے لگا۔ اب میں جلتی ہوئی لو پر نظریں جمائے دل ہی دل میں کہتا:
کئی ماہ تک یہ مشق بلاناغہ جاری رہی۔ ابتدا میں قدرے مایوسی ہوئی کیونکہ چند ماہ کے عرصے میں ہی میں خود کو ہپناٹزم کا ماہر سمجھنے لگا تھا۔ خود کو ماہر عامل سمجھ کر وقتاً فوقتاً دوسروں کو گھور کر دیکھتا اور انہیں اپنے زیرِ اثر لانے کی ناکام کوشش کرتا۔
کئی بار ناکامی کے بعد مجھے عقل آئی کہ "اگر یہ علم سیکھنا اتنا آسان ہوتا تو آج لاکھوں کی تعداد میں ہپناٹزم کے ماہر نظر آتے۔" اس علم کے حصول کے لیے صبر و تحمل، خود اعتمادی اور کڑی مشقوں کی ضرورت ہے۔ لہٰذا، میں ایک بار پھر سنبھل گیا اور دوسروں کے سامنے اپنی مقناطیسی آنکھوں کی نمائش کرنے کی بجائے صرف اپنی ذات میں ڈوب کر شمع بینی کی مشقیں کرنے لگا۔
کچھ عرصے بعد میں نے محسوس کیا کہ شمع کی لو پھیلتی ہوئی میری نگاہوں کا احاطہ کر لیتی ہے اور چاروں طرف مجھے اس گرم لو کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ اس طرح مجھے گرمی کا احساس ہونے لگا۔ پہلے پہل میں اپنے جسم میں رینگنے والی حرارت سے گھبرا گیا تھا۔ پھر رفتہ رفتہ اس کا عادی ہوتا چلا گیا۔ اب شمع کا وہ ننھا سا شعلہ میرے دماغ کو چھوتا، میری آنکھوں میں اترتا اور نگاہوں سے خارج ہوتا ہوا محسوس ہوتا۔
یہ میرے احساسات تھے۔ عملی طور پر میں کہاں تک کامیاب ہو چکا تھا، یہ میں نہیں جانتا تھا۔ ویسے میرے کالج کے ساتھی اکثر کہتے کہ میری آنکھوں میں کچھ عجیب سی کشش پیدا ہو گئی ہے۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے، میں اپنے ماموں سے ملنے گوجرانوالہ گیا۔ ایک رات وہاں گزارنے کے بعد علی الصبح ایک ٹرین سے لاہور کے لیے روانہ ہوا۔ سردی کا موسم تھا۔ میرے جسم پر لنڈے کا ایک بوسیدہ سا سویٹر تھا، لیکن سردی ایسی تھی کہ دانت بج رہے تھے۔ ٹرین میں بھیڑ نہیں تھی۔ میرے سامنے ایک بوڑھا شخص آلتی پالتی مارے بیٹھا تھا۔ اس کے سر کے بال، بھنویں اور داڑھی سب سفید ہو چکے تھے، لیکن چہرے پر تازگی تھی۔ جب میں کھلی ہوئی کھڑکی بند کرنے لگا تو وہ بولے:
میں حیرانی سے انہیں دیکھنے لگا۔ یہاں سردی سے قلفی جم رہی تھی اور بڑے میاں ٹھنڈی ہوا کھا رہے تھے۔ میں نے دل میں کہا کہ یہ مجھ جیسے ہٹے کٹے نوجوان کی توہین ہے۔ میں سردی سے ٹھٹھر رہا ہوں اور یہ بوڑھے بابا سردی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ کیا یہ آگ سے بنے ہیں؟
بڑھے بابا مسکرا کر بولے:
شدید حیرانی سے میری آنکھیں پھیل گئیں۔ بوڑھے بابا نے وہ جواب دیا جو میں سوچ رہا تھا۔ میں ان کی طرف دیکھ رہا تھا، وہ میری طرف دیکھ رہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں گہرائی تھی۔ وہ آنکھیں مجھے اپنی طرف کھینچنا چاہتی تھیں، لیکن یہ ممکن نہ تھا۔ شاید میں شمع بینی میں بہت آگے بڑھ گیا تھا۔
"ہوں!" انہوں نے لمبی ہوں کے ساتھ کہا، "میرا خیال درست نکلا، تو تم شمع بینی کی مشقیں کر چکے ہو۔"
"آپ… آپ کون ہیں؟ جو باتیں میں سوچتا ہوں، وہ آپ سن لیتے ہیں۔ اسے تو ٹیلی پیتھی کہتے ہیں۔ آپ یقیناً دوسروں کے خیال پڑھ لیتے ہیں۔"
انہوں نے میرے ہاتھ کو تھپکتے ہوئے کہا:
"بابا جی!" میں نے گڑگڑاتے ہوئے کہا، "میں اس علم کے لیے بھٹک رہا ہوں۔ خدا کے لیے میری مدد کیجیے۔ مجھے اپنے علم کے خزانے سے ایک چٹکی بھیک دے دیجیے۔ میں آپ کا احسان زندگی بھر نہیں بھولوں گا۔"
انہوں نے مسکرا کر کہا:
"کیا تدبیر کروں؟ کیسے کروں؟" میں نے پوچھا۔
"ذرا سیدھے بیٹھ جاؤ، میں تمہیں بتاتا ہوں۔"
"اپنی ہتھیلیوں کو پھیلاؤ اور انہیں توجہ سے دیکھو۔ اب اپنے علم کو کام میں لاؤ اور یہ خیال قائم کرو کہ تمہاری ہتھیلیوں پر شمع کی لو روشن ہے اور اس نادیدہ حرکت سے تمہاری ہتھیلیاں گرم ہو رہی ہیں۔"
میں نے ان کی ہدایت پر عمل کیا۔ اپنے دماغ سے تمام منتشر خیالات کو جھٹک کر صرف ایک شمع کی لو کو اپنی ہتھیلیوں پر روشن کرنے لگا۔ میں دل ہی دل میں کہہ رہا تھا:
ٹرین تیز رفتاری سے بھاگ رہی تھی۔ سرد ہوا کے جھونکے میری ہتھیلیوں تک آ رہے تھے۔ میں یہ فقرے بار بار دہرا رہا تھا۔ ایک منٹ بعد ہی میری ہتھیلیوں پر دھیمی دھیمی سی حرارت رینگنے لگی۔ میری نگاہیں آنچ دے رہی تھیں، علم کی بند مٹھی کو کھول رہی تھیں، اور زندگی کی بساط پر پہلی مرتبہ عملی تجربے کا پانسہ پھینک رہی تھیں۔
میری ہتھیلیاں گرم ہونے لگیں، پھر حرارت ہولے ہولے رینگتی، سرسراتی ہوئی، خون کی روانی کی طرح رگوں میں دوڑنے لگی اور میرے سارے جسم کو گرمانے لگی۔ یہ ایسی راحت بخش اور پرسکون حرارت تھی جس کی میں تمنا کرتا تھا۔
مارے خوشی کے میں اپنے جسم کو چھو کر دیکھنے لگا۔
میں نے فوراً جھک کر ان کے پاؤں پکڑ لیے۔
"بیٹے، علم سیکھنے سے نہیں ملتا، مانگنے سے ملتا ہے۔ دیکھو، میں نے تمہیں نہیں سکھایا، تم نے خود سیکھا ہے۔ میں نے تو ذرا سی رہنمائی کی ہے۔"
"تو پھر کچھ اور رہنمائی کیجیے ناں۔ مجھے بتائیے، اب مجھے کیا کرنا چاہیے؟"
وہ بولے:
میں نے ان سے اپنے دل کی بات صاف صاف کر دی اور اپنے دشمنوں کے ارادوں کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔
"ہے… حق ہے۔ دنیا کا کوئی بھی علم اس لیے سیکھا جاتا ہے کہ اس کی روشنی میں انسان دیانتداری سے اپنے جینے کا حق حاصل کرے۔ مجھے یقین ہے کہ تم جو بھی سیکھو گے، اس سے کسی شریف یا غیر متعلق شخص کو نقصان نہیں پہنچاؤ گے اور ناجائز فائدے حاصل نہیں کرو گے۔ تمہاری باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ تم اپنے دشمنوں کو تسخیر کرنا چاہتے ہو۔ اس کے لیے تمہیں التسخیر کی مشقوں سے گزرنا ہوگا۔"
وہ مجھے سمجھانے لگے کہ التسخیر کی مشقیں کیا ہوتی ہیں اور ان کی انتہا کیا ہے۔ میں غور سے ان کی باتیں سنتا اور سمجھتا رہا۔ وہ مختصر سا سفر کیسے گزر گیا، پتہ ہی نہ چلا۔ ہم دونوں لاہور کے سٹیشن پر ٹرین سے اتر گئے۔
میں نے عقیدت سے ان کا ہاتھ تھام لیا۔
انہوں نے شفقت سے سمجھایا:
یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گئے۔
👇تحریر: محی الدین نواب👇

0 تبصرے