دیوتا - 7

devta urdu novel urdu font

سرخ ریشم کا گھاگھرہ، سرخ ریشم کی چولی۔ گھاگھرے کی لہر لہر پر روپہلی گوٹ لہرا رہی تھی۔ چولی پر رنگ برنگی موتیاں چمک رہی تھیں۔ چاندی کی پائل، سونے کے کنگن، کانوں میں جھمکے، اور گلے میں سنہری مالائیں۔ اس کا بدن چاندی کی طرح اجلا تھا، اور اس پر سنہرے زیور چمک رہے تھے۔ اس کی رنگت بیک وقت سفید، سنہری، اور سرخ تھی۔ اس کے بدن کے تمام نشیب و فراز انگڑائی کی اٹھان پر تھے۔ اس عمر میں عورت کا جسم ایک بھرپور انگڑائی کی طرح ہی ہوتا ہے۔

میں ایک لمحے کے لیے بھول گیا کہ میں کہاں ہوں، اور کس طرح موت کی کھائی میں گرنے کے بعد یہاں پہنچا ہوں۔ مصائب کے اندھیروں میں بھی اگر روشنی نظر آئے تو انسان ایک لمحے کو اندھیرا بھول جاتا ہے۔ میری کیفیت بھی کچھ ایسی ہی تھی۔ وہ دور سے مجھے دیکھ کر بڑی نخوت سے مسکرائی اور شانِ بے نیازی سے چلتی ہوئی میری طرف آنے لگی۔ وہ جتنی نزاکت سے چلتی ہوئی میرے پاس آئی، اتنی ہی ادا سے میرے سینے پر پاؤں رکھ کر کھڑی ہو گئی۔

"کیوں رے، ہوش آتے ہی یہاں کیوں چلا آیا؟ چل، واپس جا!" یہ کہہ کر اس نے مجھے ٹھوکر ماری۔
میں اور عورت سے ٹھوکر کھاؤں؟ یہ ممکن نہ تھا۔ میں غرایا۔ میری آنکھوں سے شعلے نکلنے لگے، یا شاید بجلیاں کوند رہی تھیں۔ وہ ایک جھٹکا کھا کر پیچھے ہٹی۔ پھر دوسرے لمحے اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ میں اس کی سوچ پڑھنے لگا۔ وہ سوچ رہی تھی: یہ تو گیانی ہے۔ کچھ خاص بات ہے۔
یہ سوچ کر اس نے کہا: "کون ہے تو؟ کیا کالا علم جانتا ہے؟"
میں نے اپنی آنکھوں کی آنچ دھیمی کر لی۔ "کالا علم کیا ہوتا ہے؟"
"ہاہاہا!" وہ ہنستے ہوئے بولی۔ "مجھ سے جھوٹ بولتا ہے؟ تیری آنکھوں میں وہی چمک ہے جو کسی علم والے کی آنکھوں میں ہوتی ہے۔"
"ٹھہر، میں ابھی تجھے بتاتی ہوں!" یہ کہہ کر اس نے دونوں پاؤں ذرا سا پھیلائے، دونوں ہاتھ اٹھا کر مٹکنے لگی، اور کسی اجنبی زبان میں گانے لگی۔ اگر یہ کسی عیش کدے کی محفل ہوتی تو لوگ سانس روکے اسے دیکھتے چلے جاتے، لیکن مجھے وہ زہر لگ رہی تھی۔ تھوڑی دیر ناچتے گاتے رہنے کے بعد وہ سامنے گول دائرے کے اندر بیٹھے شخص کے پاس گئی اور اپنا ہاتھ دائرے کے اندر لے گئی۔ اس کے ہاتھ میں ایک شعلہ لپکا۔ اس نے ہاتھ میرے پاس لا کر میرے منہ کے قریب پھونک ماری۔

پھونک! اور وہ ننھا سا شعلہ میرے اوپر گرا۔ میں اچانک بھڑکتے شعلوں میں گھر گیا، جیسے جہنم کی آگ میں جل رہا ہوں۔ ایسی جلن اور ایسی اذیت تھی کہ میں چیختا ہوا ادھر اُدھر لڑھکنے لگا۔ وہ قہقہے لگا رہی تھی۔
"بچنے کی کوشش کر! اگر علم جانتا ہے تو ان شعلوں کو بجھا کر دکھا۔ یہ تو معمولی شعبدہ بازی ہے، اسے تو کوئی دو ٹکے کا جادوگر بھی بجھا دے!"

"میں کوئی علم نہیں جانتا، سؤر کی بچی! ان کو بجھا!" میری قوتِ برداشت جواب دے گئی۔ میرا دل ڈوبنے لگا۔ اسی وقت اس نے جانے کیا منتر پڑھا کہ وہ شعلے یک دم بجھ گئے۔ حیرت کی بات تھی کہ اتنا جلنے سے میری جلد پر کوئی اثر نہیں پڑا تھا۔
میری حیرانی دیکھ کر وہ مسکراتے ہوئے بولی: "میں تجھے جلانا نہیں چاہتی۔ تو تو قربانی کا بکرا ہے۔ آج ایک کالی بلی تیرے لہو سے اشنان کرے گی۔"
اب مجھے اس منتر کی سمجھ آ گئی جو وہ خونخوار آدمی کمرے کے بیچوں بیچ دائرہ بنائے پڑھ رہا تھا۔ اس کے سامنے جو آلہ رکھا تھا، اس کی دھار میرے ہی لہو کی پیاسی تھی۔

وہ اب مجھے غور سے دیکھ رہی تھی۔ اس کے انداز میں نزاکت تھی، حسن تھا، اور ادا تھی۔ میرے ذہن میں ایک خیال پیدا ہوا کہ وہ لاکھ جادو ٹونا جانتی ہو، اس کے باوجود ایک الہڑ دوشیزہ ہی ہے۔ اس پر عشق و محبت کا داؤ آزما کر دیکھنا چاہیے۔ اگر وہ جذبات میں بہہ گئی تو میں آسانی سے رسیاں کھلوا لوں گا۔
وہ چھینکے سے ہانڈیوں کو اتار کر میرے پاس لے آئی۔ "مرنے سے پہلے پیٹ بھر کر کھا لو۔ میں تمہیں بھوکا نہیں ماروں گی۔"

میں نے سوچا کہ کھانا ضروری ہے تاکہ صحت مندی سے حالات کا مقابلہ کیا جا سکے۔ وہ کھانا لے کر میرے پاس بیٹھ گئی۔ اس کا گھاگھرہ، جو پنڈلیوں تک تھا، اب گھٹنوں سے اوپر اٹھا ہوا تھا۔ میں سمجھ گیا کہ وہ بڑی حرافہ ہے، جان بوجھ کر مجھے بہکا رہی ہے۔ میں نے بھی ایک تھڑدلے عاشق کی طرح جذباتی لہجے میں کہا:
"تم بہت حسین ہو۔ تم مجھے ایک بار مارنا چاہتی ہو، میں بار بار مرنا چاہتا ہوں۔ ایسا دو آتشہ حسن میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔"

وہ ایک برتن میں آلو بینگن کی بھاجی اور پوری نکالتے ہوئے بولی: "ہاں، یہ جسم لاجواب ہے۔ ایک برس پہلے جب میں نے اس جسم کو دیکھا تو دیکھتے ہی ہزار جان سے اس پر عاشق ہو گئی تھی۔"
اس کی بکواس میری سمجھ میں نہ آئی۔ "کیا؟ تم نے اپنے جسم کو ایک برس پہلے دیکھا؟ اس سے پہلے تم اندھی تھیں؟"

وہ ہنستے ہوئے بولی: "میں اندھی نہیں تھی، بوڑھی تھی۔ ستر برس کی بوڑھی۔ یہ جسم، جسے تو دیکھ رہا ہے، یہ میرا نہیں۔ صرف روح میری ہے۔ یہ جسم تو میں نے اپنے علم سے حاصل کیا ہے۔"
میں حیرت زدہ رہ گیا۔ روح ستر برس پرانی اور جسم اتنا جوان؟ کیا جادو ٹونے سے یہ ممکن ہے؟ جادو کے متعلق میں نے بہت کچھ سنا تھا، لیکن آج اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔
"تم یہ کہنا چاہتی ہو کہ تم بوڑھی ہو اور جادو کے ذریعے ایک جوان لڑکی کے جسم میں داخل ہو گئی؟"
"میں اب بوڑھی نہیں۔ میں بوڑھی تھی۔ مگر میری روح ایک جوان جسم میں آ چکی ہے، تو اسے سو برس پرانی کہہ لے، مگر بوڑھی نہیں۔" اس نے نوالہ بنا کر میرے منہ میں ڈالا۔
میں نے رسیوں میں جکڑے بازوؤں کو ہلاتے ہوئے کہا: "مجھے کچھ دیر کے لیے کھول دو۔ میں اپنے ہاتھوں سے آخری بار کھانا چاہتا ہوں۔"
"نہیں!" وہ میرے منہ میں نوالہ ٹھونستے ہوئے بولی۔ "مجھے نادان نہ سمجھ۔ کیدار نے مجھے بتایا ہے کہ تو بہت خطرناک ہے۔"
"کیدار کون؟"
"وہی جو اُدھر جاپ کر رہا ہے۔ یہ میرا چیلا ہے۔"
"وہ مجھے بالوں سے پکڑ کر لایا ہے۔"
"ہاں، اس نے بتایا تو نے چار آدمیوں کو مار بھگایا۔ ایک تو جان سے گیا، دوسرا ادھ موا ہو کر وہیں پڑا تھا۔"
"چار نہیں، آٹھ۔ وہ آٹھ تھے۔"
اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ وہ سوچ رہی تھی: کتنا طاقتور آدمی ہے۔ ساتھ ہی وہ میرے سینے پر ہاتھ پھیر رہی تھی۔
میں نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور اس کی سوچ میں کہا: مرد اگر طاقتور ہے تو اس کے آگے یہ معمولی بات ہے، لیکن ایک خوبصورت عورت پر وہ مر مٹتا ہے۔
وہ مجھ پر جھکتے ہوئے بولی: "مرد کی طاقت عورت کا دل موہ لیتی ہے۔"

میں اس کے حسن کے شعلوں میں جھلس رہا تھا۔ مگر مجھ سے ایک غلطی ہو گئی۔ میں اس کے دماغ تک اپنی سوچ کی لہریں پہنچانے لگا۔ میں نے اس کے دماغ میں کہا: اس قیدی کے اندر کتنے طوفان چھپے ہیں۔ اگر میں اس کی رسیاں کھول دوں تو یہ مجھے خوابوں کی وادی میں لے جائے، جہاں کوئی مجھے آج تک نہ لے جا سکا۔
وہ میرے سینے سے لگی اپنی سوچوں سے لڑ رہی تھی: نہیں، میں اس کی رسیاں نہیں کھولوں گی۔ یہ بہت خطرناک ہے۔
تھوڑی دیر کھول دینے میں کیا حرج ہے؟ یہ دشمنوں کے لیے خطرناک ہے، لیکن میرے حسن کے چنگل میں پھنس چکا ہے۔
"نہیں، نہیں!" وہ تڑپ کر مجھ سے الگ ہو گئی اور وحشت سے مجھے دیکھنے لگی۔
میں نے فوراً آنکھیں بند کر لیں۔ اس وقت اس کے دماغ میں رہنا ٹھیک نہیں تھا۔ وہ ٹھوس ارادوں کی مالک تھی، اتنی آسانی سے میری معمولہ نہیں بن سکتی تھی۔
میں نے ٹھنڈی سانس لے کر آہ بھری: "میں تمہیں کبھی نہیں بھول سکتا، خوبصورت جادوگرنی۔"
اس نے مجھے جھڑک کر نوالہ میرے منہ میں ڈالا۔
میں نے نوالہ چباتے ہوئے کہا: "تمہیں اچھا نہیں لگتا تو میں کچھ نہیں بولوں گا، لیکن ایک بات بتا دو۔ یہ حسین بدن کہاں سے چُرا کر لائی ہو؟"
"کہیں سے بھی لائی ہوں، تمہیں اس سے کیا؟ تم چپ چاپ کھانا کھاؤ اور مرنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔"
"ہاں، اس جسم سے اب مجھے کچھ نہیں ملے گا۔ یہ میری قسمت میں نہیں ہے۔ لیکن تاج محل دیکھ کر ہر کوئی اس کے بنانے والے کے بارے میں پوچھتا ہے۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ اس گلبدن کی مالک کون بدنصیب ہے؟ تم نے اسے کیسے حاصل کیا؟ تم جانتی ہو مجھے مر جانا ہے۔ مرنے سے پہلے کا وقت آسانی سے کٹ جانے دو۔"
"ہاں، وقت تو میں بھی گزارنا چاہتی ہوں، کیونکہ آدھی رات سے پہلے وہ نہیں آئے گی۔"
"کون؟"
"سامی۔"
"کون سامی؟"
"وہی لڑکی، جس کا جسم تمہارے سامنے ہے۔"
میں اس پھولوں کی طرح مہکتے جسم کو ایک نئی دلچسپی سے دیکھنے لگا۔ "اور تمہارا نام کیا ہے؟"
"میرا نام چھمیا ہے۔"
"کمال ہے! جسم ہیرا، نام کنکر۔"

"ہیرا جس کے پاس ہو، اسی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ جسم اب میرا ہے۔ میں اس کی مالک ہوں۔ دولت مند، امیر، نوجوان مجھے دیکھ کر میرے قدموں میں نثار ہوتے ہیں۔ مجھ پر دولت کی بارش کر دیتے ہیں۔ لیکن وہ سامی کی روح مجھے کسی کے قریب نہیں جانے دیتی۔ وہ مجھے پریشان کرنے کے لیے آ جاتی ہے۔ وہ نہیں چاہتی کہ اس کا جسم کسی کے سامنے سستا ہو۔"
"تم سامی کی روح قابو نہیں کر سکتی؟ تمہیں تو بہت منتر جنتر آتے ہیں۔" میں نے طنزیہ اس کی طرف دیکھا۔
"ہاں، میں تمہیں بھینٹ چڑھا کر آج ہمیشہ کے لیے اسے اس بلی میں قید کر دوں گی۔ پھر یہ جسم ہمیشہ کے لیے میرا ہو جائے گا۔"
میں نے اپنا غصہ دبا کر کہا: "مجھے سامی سے ہمدردی ہو رہی ہے۔ نہ جانے کون تھی؟ کیا تم اس کے بارے میں بتا سکتی ہو؟"
اس نے ہانڈیوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے کہا: "اس کا نام سامی پوکر ہے۔ وہ ایک انگریز کمشنر جان پوکر کی بیٹی ہے۔ باپ انگریزی اور ماں انڈین۔ یورپ اور ایشیا کے ملاپ سے جو حسن وجود میں آتا ہے، وہ تمہارے سامنے ہے۔ اس کی مکمل تعریف نہیں ہو سکتی۔ یہ بے اختیار کر دینے والا حسن ہے۔ جب میں نے اسے پہلی بار دیکھا تو اسے حاصل کر لینے کی خواہش پیدا ہو گئی۔
ان دنوں میں کیدار کو ایک جسم سے روح نکال کر دوسرے جسم میں منتقل کرنے کے منتر سکھا رہی تھی۔ ہم نے شہر سے دور ایک جنگل میں درختوں کے جھنڈ میں کٹیا بنا رکھی تھی۔ اس پر رکشا کنڈل رکھ دیا تھا۔"
"یہ رکشا کنڈل کیا ہے؟" میں نے سامی کی آنکھوں اور چھمیا کی روح کو مخاطب کیا۔
"رکشا کنڈل ایک منتر ہے، جس سے کوئی چیز دوسروں کے لیے غائب ہو جاتی ہے۔ خیر، ہم دونوں منتر پڑھتے۔ کیدار بہت کند ذہن ہے۔ میں اسے سکھاتی اور وہ بھول جاتا۔ الٹ پلٹ کر کے پڑھنے سے وہ سارا منتر بھول جاتا۔ پھر بھی میں اسے صبر سے سکھاتی رہی۔ انہی دنوں ہم نے سامی کو دیکھا۔ اس کے حسن و شباب پر ہم دونوں کی نظر للچا گئی۔ کیدار نے کہا: ‘چھمیا، اگر تو اس لڑکی کے جسم میں چلی جائے تو میں ساری حیاتی تیرا غلام رہوں گا۔’

وہ اپنے گھر کے لان میں اپنے دوستوں کے ساتھ بیڈمنٹن کھیل رہی تھی۔ وہ اچھل رہی تھی، تھرک رہی تھی، پارے کی طرح مچل رہی تھی۔ میرا دل اس کے جسم پر فریفتہ ہو گیا۔ میں نے اسی وقت فیصلہ کر لیا کہ میں یہ جسم حاصل کر کے رہوں گی۔

رات کو جب سب سو گئے تو ہم دونوں پچھلی دیوار پھلانگ کر گھر کے اندر داخل ہو گئے۔ ہمارا منصوبہ یہ تھا کہ کیدار اگلی سائیڈ پر جائے گا اور چوکیدار کو قابو کرے گا، اور میں اندر جا کر سامی کو جادو کے زور پر اپنے ساتھ لے کر باہر آ جاؤں گی۔ چوکیدار کو ابدی نیند سلا کر ہمارا منصوبہ آرام سے مکمل ہو گیا۔ ہم دونوں سامی کو لے کر اپنی کٹیا میں آ گئے۔ اس دوران میں مسلسل منتر پڑھتی رہی، اور وہ میرے ساتھ ایسی چلتی رہی جیسے نیند میں چل رہی ہو۔ کٹیا میں آ کر میں نے منتر ختم کر دیا۔ کیدار اس پر دیوانہ وار نثار ہو رہا تھا۔
سامی نے یہ سب دیکھتے ہوئے خوب شور مچایا، اچھل کود کی، لیکن ہم دونوں نے اسے رسیوں سے باندھ دیا۔ میں نے اسے سمجھایا کہ ہم نے کٹیا کے چاروں طرف نظر بندی اور سماعت بندی کی ریکھائیں کھینچ دی ہیں، اس لیے شور مچانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ سن کر اس پر سکتہ طاری ہو گیا۔

مجھے پتا چل گیا تھا کہ کیدار یہ منتر نہیں سیکھ پائے گا۔ اس کا توڑ کرنے کے لیے میں نے دو تختیوں پر منتر لکھ کر اسے دیے۔ ایک پر میرے جسم سے روح نکالنے کا منتر، اور دوسری پر اسے سامی کے جسم میں داخل کرنے کا منتر۔

ہم نے ایک انگیٹھی میں آگ روشن کر لی۔ طریقہ کچھ یوں تھا کہ کیدار جسم سے روح نکالنے کا منتر چالیس بار پڑھتا اور ماش کے چالیس دانے آگ میں ڈالتا۔ اس دوران میں منتر کو اپنی روح میں جذب کرتی جاتی۔ اس کے بعد روح کو داخل کرنے کا منتر اسی طرح چالیس بار پڑھا جاتا۔ اس عمل میں بڑی ہیرا پھیری تھی۔ میں تمہیں ساری باتیں تو نہیں بتا سکتی۔ اتنا سمجھ لو کہ یہ عمل بھی کیدار کے پلے نہیں پڑا۔ کبھی منتر بھول جاتا، کبھی گنتی بھول جاتا، اور کبھی ماش کے دانے آگ میں پھینکنا بھول جاتا۔

کئی دنوں تک یہ ہوتا رہا۔ سامی چپ چاپ ہمیں دیکھتی رہتی۔ آخر ایک رات وہ روح نکالنے والا منتر بالکل ٹھیک پڑھ گیا۔ اب میں اپنے جسم سے روح نکال سکتی تھی۔ میں نے سامی کو دیکھا، وہ بالکل میری طرح دم سادھے بیٹھی تھی۔ میں نے کیدار سے کہا: ‘اس کی رسیاں کھول دو، اب میں اس کے جسم میں داخل ہو جاؤں گی۔’ جونہی اس کی رسیاں کھلیں، وہ ایک طرف کو لڑھک گئی۔ ارے، یہ تو مر گئی! میں نے فوراً اپنی روح کو اپنے جسم سے آزاد کیا تاکہ سامی کے مردہ جسم میں داخل ہو جاؤں۔

تمہیں کیا بتاؤں کہ روح کی بصارت سے دنیا دیکھنا کتنا خوبصورت اور رنگین ہے؟ ایک نور تھا جو چاروں طرف پھیلا ہوا تھا۔ اسی وقت میں نے سامی کے جسم کے پاس ایک سراپا دیکھا، جس کی کوئی شکل نہیں تھی، لیکن سامی کے قد کے برابر جھلمل کرتا ہوا تھا۔

میں سامی کی طرف بڑھی تو وہ مجھ سے ٹکرا گیا۔ میں نے اسے دھکیلنے کی کوشش کی، مگر وہ اتنا زور آور تھا کہ اس نے مجھے سامی کے جسم تک پہنچنے نہ دیا۔ میں جلدی سے اپنے جسم میں واپس آ گئی تو سامی اٹھ کر بیٹھ گئی اور قہقہے لگانے لگی۔

میں نے وحشت زدہ نظروں سے دیکھا۔ سامی زندہ ہو گئی تھی۔
"حرافہ! تو کیا سمجھتی ہے؟ جتنے دن سے تو اس کوڑھ مغز چیلے کو جادو سکھا رہی تھی، اسے میں یاد نہیں کر سکتی تھی؟ تیرا یہ آدمی جتنے دنوں سے منتر یاد کر رہا تھا، اتنے دنوں میں تو طوطا بھی سیکھ لے! تو وہاں سمادھ لگایا کرتی تھی تو میں یہاں سمادھ لگاتی۔ میں نے تیرے ساتھ کئی دن یہ مشق کی ہے۔ اب میں بھی روح کو جسم سے نکال سکتی ہوں اور ایک جھٹکے میں دوبارہ داخل کر سکتی ہوں۔"
میں اور کیدار آنکھیں پھاڑے اس لڑکی کو دیکھ رہے تھے۔ کیدار بولا: "کیا اس کی روح مجھے نقصان پہنچا سکتی ہے؟"

"نہیں، یہ صرف جسم سے نکل سکتی ہے اور دوبارہ داخل ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ کچھ نہیں کر سکتی۔"
کیدار کی آنکھیں چمکنے لگیں۔ "تو پھر ٹھیک ہے۔ میں اس کے جسم سے اپنی پیاس بجھاؤں گا اور اسے اس قابل نہیں چھوڑوں گا کہ یہ اس جسم کے ساتھ کسی کو منہ دکھا سکے۔"
میں نے چٹکی بجاتے ہوئے سامی سے کہا: "تیرا یہی علاج ہے۔ ٹھیک ہے، تو مجھے اپنا جسم نہیں دے گی، تو تیری مرضی۔"

میں نے کیدار کو اشارہ کیا۔ سامی کا رنگ اڑ گیا۔ "میرے قریب مت آنا، ورنہ میں اپنے جسم سے نکل جاؤں گی۔ کیا تم ایک لاش کے ساتھ عیاشی کرو گے؟"

"ہاں، تو چاہے لاش بن جا، ہم اب تجھے نہیں چھوڑیں گے۔ تیرے اس خوبصورت جسم کو عبرت بنا دیں گے۔"
وہ بے بسی سے اپنے رسیلے ہونٹ چبانے لگی۔ پھر ہارے ہوئے لہجے میں بولی: "ٹھیک ہے، میں اپنا جسم چھوڑ رہی ہوں، مگر یاد رکھنا، میں تمہیں یہ موقع کبھی نہیں دوں گی کہ تم اسے اپنی عیاشیوں اور حرام کاریوں کے لیے استعمال کرو۔ میں تمہیں اسے کسی مرد کے حوالے نہیں کرنے دوں گی۔"
یہ کہتے ہوئے وہ اپنے جسم کو مردہ چھوڑ کر نکل گئی۔ میں اسے نہیں دیکھ پا رہی تھی، اس لیے میں نے بھی اپنا جسم چھوڑ دیا۔ وہ نورانی سراپا جھلملا رہا تھا، لیکن اس نے مجھے روکا نہیں۔ میں جھٹ سے اس کے حسین جسم میں گھس گئی۔
چھمیا یہ کہہ کر چپ ہو گئی۔

میں اسے دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ میں کسے دیکھ رہا ہوں، سامی کو یا چھمیا کو؟
وہ اٹھ کر جانے لگی تو میں نے پوچھا: "پھر سامی کی روح کہاں گئی؟"
وہ کیدار کو دیکھتے ہوئے بولی: "اس وقت مجھے کسی چیز کا ہوش نہ رہا۔ میرے پاس جوان پر شباب جسم تھا۔ میں اسے چھو چھو کر آئینے میں دیکھنے لگی۔ کیدار بھی ایک لمحے کو مجھے دیکھ کر ٹھٹھک گیا۔ میں ایک ناز سے چلتی ہوئی اس کے قریب آنے لگی کہ مجھے لگا میرا سانس رک رہا ہے۔ میرا دم گھٹنے لگا۔ میں ایک جھٹکے سے پیچھے ہٹی۔
کیدار حیران ہو کر پوچھنے لگا: ‘کیا ہوا؟ تم ایسے کیوں کر رہی ہو؟’
‘مجھے سامی کی روح تنگ کر رہی تھی۔ وہ میرے سانس کے ذریعے مجھ میں گھسنے کی کوشش کر رہی تھی۔’
کیدار نے میرا ہاتھ پکڑ کر کھینچا: ‘چھوڑو یہ ساری باتیں، چھمیا۔ اب تم اپنا وعدہ پورا کرو۔ تم نے کہا تھا کہ تم سامی کے جسم کو حاصل کرتے ہی میری ہو جاؤ گی۔’
میں نے اپنا ہاتھ چھڑا کر پیچھے ہٹی: ‘نہیں، نہیں! ابھی سامی کی روح کبھی ہمیں ایک نہیں ہونے دے گی۔ ہمیں یہ جگہ، یہ شہر چھوڑ دینا چاہیے۔’
‘مگر وہ گئی کہاں؟ کیا وہ یہاں موجود ہے؟’

میں اسے نہیں دیکھ سکتی تھی۔ اس کے لیے مجھے اپنا جسم چھوڑنا پڑتا، جو کہ میں اب کبھی نہیں کر سکتی تھی۔ ہم دونوں نے کلکتہ جانے کا پروگرام بنایا۔ اپنا ضروری سامان لے کر ہم اسی وقت کلکتہ سٹیشن کے لیے نکل پڑے۔

اس وقت چاند نکل آیا تھا۔ جنگل میں ہر طرف ہریالی پھیلی تھی۔ ہم تیزی سے بھاگتے ہوئے سٹیشن کی طرف جا رہے تھے۔ راستے میں کہیں کہیں جانوروں کی آوازیں آتیں، ورنہ پورا جنگل خاموش تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ ہم ریلوے سٹیشن پہنچے تو میں نے محسوس کیا کہ تمام لوگ مجھے دیکھ رہے ہیں۔ میں سامی کے قیامت خیز جسم میں گردن اکڑا کر چل رہی تھی کہ اچانک ایک کالی بلی ہمارا راستہ کاٹ کر دائیں طرف بھاگ گئی۔ میرے دل میں برے خیالات آنے لگے، لیکن میں نے کیدار کو نہیں بتایا۔

ٹرین آنے میں کچھ وقت باقی تھا۔ ہم دونوں ایک بینچ پر بیٹھ گئے۔ کچھ دیر بعد میں نے محسوس کیا کہ ایک پولیس والا بہانے بہانے سے اردگرد چکر کاٹ رہا ہے۔ میں نے مسکرا کر دیکھا، وہ مجھ پر لٹو ہو چکا تھا۔
کیدار ٹکٹ لینے کے لیے گیا تو میں نے کن اکھیوں سے دیکھا۔ وہ ایک کڑیل جوان تھا۔ لیکن مجھ پر پہلا حق کیدار کا تھا۔ میں نے اس سے وعدہ کر رکھا تھا۔
کیدار ٹکٹ لے کر واپس آیا تو اس کے بازوؤں میں وہی کالی بلی تھی۔ "یہ ٹکٹ گھر کے پاس بیٹھی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی میرے پاؤں میں لوٹنے لگی۔"
میں نے ناگواری سے کہا: "اسے چھوڑو۔ ٹرین آ چکی ہے۔ ہم اسے ساتھ نہیں لے جا سکتے۔"
لیکن وہ اسے چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوا۔ کہنے لگا: "جانور روحوں کو پہچان لیتے ہیں۔ اس کی وجہ سے ہم سامی کو دیکھ لیں گے۔"

ہم ٹرین میں آ بیٹھے۔ کیدار نے بلی کو اوپر والی برتھ پر بٹھا دیا۔ میں نچلی برتھ پر لیٹ گئی۔ کیدار نے مجھے ایسی نظروں سے دیکھا جیسے کچا چبا جائے گا۔

وہ دروازہ بند کرنے کے لیے بڑھا کہ اچانک دروازہ ایک جھٹکے سے کھل گیا۔ سامنے وہی انسپکٹر کھڑا تھا۔ اس کے ساتھ دو سپاہی بھی تھے۔ کیدار رنگ میں بھنگ پڑنے سے سخت تلملایا ہوا تھا، لیکن پولیس والے کے آگے اس کی ایک نہ چلی۔ اسے دروازے کے پائیدان پر کھڑا کر کے انسپکٹر نے سپاہیوں کو چلتا کیا اور دروازہ بند کر لیا۔

میں چاہتی تو جادو کے زور سے اسے بھسم کر سکتی تھی، لیکن اس موقع پر میں کوئی ہلا گلا نہیں چاہتی تھی۔ اگر کسی کو کانوں کان خبر ہو جاتی کہ میں سامی پوکر ہوں تو کہانی بگڑ جاتی۔

وہ میرے قریب آ گیا۔ میں نے سہم جانے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا، جبکہ میرا دل ایک گھبرو جوان کے لیے بری طرح مچل رہا تھا۔ اس نے میری طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ بلی کی غراہٹ سنائی دی۔ پلک جھپکتے ہی بلی اس پر پل پڑی۔ اس کی گردن پر پنجے مارتے ہوئے دوسری طرف کود گئی۔ وہ بری طرح لڑکھڑا گیا۔ بلی نے بھاگتے ہوئے پھر اس کے چہرے پر حملہ کیا۔

وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایک بلی بھی ایسی حملہ کر سکتی ہے۔ غصے سے پاگل ہوتے ہوئے وہ بلی کے پیچھے بھاگا۔ بلی چھلانگ لگا کر برتھ کے اوپر چڑھ گئی۔ اس نے سیٹ پر چڑھ کر بلی کو پکڑنا چاہا تو بلی نے اپنے دونوں پنجے اٹھا کر ایک بار پھر اس پر حملہ کیا۔ لیکن اس نے اسے دبوچ لیا اور مکوں اور تھپڑوں سے اسے مارنے لگا۔ بلی یک دم بے جان ہو گئی۔ اس نے قہقہہ لگاتے ہوئے بلی کے مردہ جسم کو گھما کر دروازے سے باہر پھینکنا چاہا تو بلی پھر سے زندہ ہو گئی۔ وہ ایک دم جھٹکا کھا کر ٹرین سے باہر جا گرا۔ کالی بلی اچھلتے ہوئے اوپر والی برتھ پر جا بیٹھی۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے