دیوتا - 8

devta urdu novel urdu font

کیدار، جو دروازے کے باہر پائیدان پر کھڑا تھا، اندر آ گیا۔ "کیدار، اسے پکڑو اور مارو! یہ وہی منحوس چڑیل ہے!"

کیدار نے جھپٹ کر اوپر برتھ پر بیٹھی بلی کو پکڑنا چاہا، مگر وہ چھلانگ لگا کر دوسری برتھ پر جا پہنچی۔ میں نے سوچا کہ پھر وہی جنگ شروع ہو جائے گی۔ ٹرین کا اگلا سٹاپ قریب آ رہا تھا، جہاں ہمارے پکڑے جانے کا خدشہ تھا۔ کچھ دیر بعد انسپکٹر کی تلاش شروع ہو جائے گی۔ ہمیں تب تک یہاں سے نکل جانا چاہیے۔

میں نے فوراً فیصلہ کیا۔ "کیدار، اسے چھوڑو! زنجیر کھینچو! ہم جنگل کے راستے دوسری طرف نکل جاتے ہیں۔ یہ حرام زادی نہ تو تمہارے ہاتھ آئے گی، اور اگر آ بھی گئی تو مردہ بن جائے گی۔ ہم اس سے بعد میں نمٹ لیں گے۔ پہلے پولیس سے بچنے کی کوشش کرو!"

کیدار میرے حکم کا غلام تھا۔ اس نے جلدی سے زنجیر کھینچ دی۔ ٹرین رکتے رکتے آدھا میل تک چلتی رہی۔ میں نے دروازہ کھولا تو سامی مجھ سے پہلے چھلانگ لگا کر باہر نکل گئی۔ یہ تو معلوم ہو رہا تھا کہ وہ ہمارا پیچھا آسانی سے نہیں چھوڑے گی، لیکن ہمیں ابھی پولیس سے بچنا تھا۔ ہم ٹرین سے اتر کر جنگل میں بھاگنے لگے۔

میں چشمِ تصور سے سامی کو دیکھ رہا تھا۔ اس کی دلیری اور بہادری مجھے اپنا گرویدہ بنا رہی تھی۔ چھمیا نے اپنی پائل کو چھوا اور میری طرف نظریں جمائے اپنی کہانی جاری رکھی۔

ہم کہاں جا رہے تھے، کدھر جا رہے تھے، ہمیں اس سے کوئی غرض نہ تھی۔ بس ایک خوف تھا جو ہمیں بھگا رہا تھا۔ ہم جانتے تھے کہ جادو منتر سے پولیس سے نہیں بچا جا سکتا۔ زیادہ سے زیادہ ہم رکشا کنڈل بنا کر بیٹھ جاتے، لیکن پولیس کی نظروں سے بچنے کے لیے اس علاقے سے دور ہو جانا ضروری تھا۔

ہم بھاگتے بھاگتے تھک جاتے تو آہستہ آہستہ چلنے لگتے، پھر دوبارہ بھاگنے لگتے۔ اس دوران جب بھی ہم نے مڑ کر دیکھا، سامی کی چمکتی آنکھیں ہمارے ساتھ ساتھ بھاگ رہی ہوتیں۔ وہ سائے کی طرح ہمارے ساتھ لگی ہوئی تھی۔ ہم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکتے تھے۔ بھاگتے ہوئے نہ جانے ہم کتنی دور نکل آئے تھے کہ آسمان پر صبح کی سپیدی نمودار ہونے لگی۔

چلتے چلتے قریب ہی ایک بستی نظر آئی۔ کیدار نے کہا: "ہمیں بستی میں نہیں جانا چاہیے۔ اگر پولیس ہمیں ڈھونڈتے ہوئے ادھر آ گئی تو بستی والے قانون کا ساتھ دیں گے۔"

ہم نے لمبا چکر کاٹ کر بستی سے دور ہو گئے۔ کیدار بولا: "مجھے بھوک لگ رہی ہے۔ تم بھی تھک گئی ہو۔ ہم کچھ کھا پی کر آرام کریں گے۔"

کیدار نے لنگڑے فقیر کا بھیس بدلا اور بستی سے کھانے کے لیے کچھ لینے نکل گیا۔ میں نے رکشا کنڈل بنا کر بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر بعد نیند سے میری آنکھیں بند ہونے لگیں، اور میں وہیں گھاس پر سو گئی۔ تقریباً دو گھنٹے گزر چکے تھے۔ کیدار آم کا اچار اور سوکھی روٹیاں لے کر آ گیا۔ ہم ابھی کھا ہی رہے تھے کہ دور سے ایک پولیس انسپکٹر اور چار سپاہی کچھ لوگوں کے ساتھ ادھر آتے دکھائی دیے۔ رکشا کنڈل کی وجہ سے وہ ہمیں نہیں دیکھ پا رہے تھے، لیکن ہم انہیں اچھی طرح دیکھ رہے تھے۔ ہمارے قریب سے گزرتے ہوئے انسپکٹر ایک آدمی سے بولا: "تم تو کہتے تھے ادھر ایک لنگڑا فقیر گیا تھا۔ یہاں تو کوئی نہیں!"

آدمی بولا: "حضور، میں نے ادھر ایک لنگڑا فقیر دیکھا تھا۔ ہو سکتا ہے وہ دوسری طرف نکل گیا ہو۔ آئیے، ادھر دیکھتے ہیں۔"

وہ باتیں کرتے ہوئے دور نکل گئے۔ ہم نے کھانا کھایا اور شام ہونے تک وہیں سو گئے۔ شام ہوتے ہی میں نے کیدار کو جگایا۔ ہم رکشا کنڈل سے باہر آ گئے۔ اسی وقت سامی کہیں سے اچھل کر میرے سامنے آ گئی اور غرانے لگی، جیسے کہہ رہی ہو: مجھ سے بچ کر کہاں جاؤ گے؟ میں قبر تک تمہارا پیچھا کروں گی!

میں نے کیدار سے کہا: "اسے پکڑ لو اور اتنا مارو کہ یہ واقعی مر جائے! منحوس سائے کی طرح پیچھے لگی ہے!"

کیدار اسے پکڑنے کے لیے بھاگا تو وہ آگے بھاگنے لگی۔ جنگل میں اچھل کود شروع ہو گئی۔ کیدار پیچھے پیچھے اور وہ آگے آگے بھاگ رہی تھی۔ کبھی درخت پر چڑھ جاتی، کبھی کسی جھاڑی کے پیچھے چھپ جاتی۔ ایک گھنٹے بعد کیدار ہانپتا ہوا بیٹھ گیا۔ "رہنے دو، یہ ویسے بھی مرنے کا ناٹک کر لے گی۔ ہم اسے نہیں پکڑ سکتے۔"

"مر جائے تو زمین میں گاڑ دینا۔ میں بھی دیکھوں وہاں سے کیسے نکلتی ہے!" میں نے سامی کو گالی دی۔

اتنے میں ایک ہرنی کہیں سے بھاگتی ہوئی آئی اور آگے نکل گئی۔ اس کے پیچھے کچھ گھڑسوار گھوڑے دوڑاتے ہوئے ادھر آ نکلے۔ ہمیں درخت کے نیچے بیٹھا دیکھ کر وہ سب رک گئے۔ وہ تعداد میں گیارہ تھے۔ ان میں سے دس نے وردیاں پہن رکھی تھیں، لیکن وہ پولیس کی وردیاں نہیں تھیں۔ وہ کسی اسٹیٹ کے سپاہی تھے۔ ان میں سے ایک ادھیڑ عمر کا آدمی سفید گھوڑے پر سوار، سب سے آگے گردن اکڑائے کھڑا تھا۔ وہ مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے مسلسل میرے جسم کو ٹٹول رہا تھا۔

ایک سپاہی نے ہوائی فائر کرتے ہوئے اونچی آواز میں کہا: "تم دونوں منارا کے مہاراج ادھیراج راجپت رائے کے چرنوں میں ہو۔ اپنے سروں کو جھکا لو!"

ہم نے سر جھکا کر پرنام کے لیے ہاتھ جوڑ دیے۔ راجپت رائے نے اپنی رائفل سپاہی کی طرف پھینکی اور گھوڑے کو ایڑ لگا کر سیدھا کیدار کی طرف آیا، جیسے اسے روند ڈالے گا۔ کیدار لڑکھڑا کر پیچھے ہٹا اور دور ہونے لگا۔ وہ پھر سرپٹ گھوڑا دوڑاتے ہوئے اس کی طرف آیا اور اس کے گرد چکر کاٹنے لگا۔ اس کے سپاہیوں نے کیدار کو گھیرے میں لے لیا۔ ان کا مقصد کیدار کو مجھ سے دور کرنا تھا۔

میں تنہا کھڑی رہ گئی۔ بلی مجھ سے کچھ فاصلے پر پتھر پر بیٹھی خاموشی سے دیکھ رہی تھی۔ میرے پیچھے جا کر راجپت نے میری ساڑی کا آنچل پکڑ لیا اور اسے ہاتھ میں لے کر میرے گرد طواف کرنے لگا۔ پہلے نصف چکر میں میرے سینے سے ساڑی ہٹ گئی۔ میں نے سینے کو چھپانے کے لیے اپنے ہاتھوں کی قینچی بنائی، مگر اس نے غصے سے ہاتھ جھٹک کر مجھے منع کیا۔ میں نے حکم کی تعمیل کی۔ پھر وہ ساڑی کا پلو ہاتھ میں لیے گھوڑے کو میرے گرد گھمانے لگا۔ ہر چکر پر ساڑی کا ایک گھیر کھلتا گیا۔

مہابھارت دہرائی جا رہی تھی۔ کوروؤں کے ہاتھوں دروپدی کی ساڑی کے پیچ کھل رہے تھے۔ اور یہ سب کچھ مجھے اچھا لگ رہا تھا۔ اگر میں اپنے بوڑھے جسم میں ہوتی تو راجپت رائے مجھ پر تھوک کر گزر جاتا، مگر اب وہ پروانے کی طرح میرے جوان جسم کا طواف کر رہا تھا۔ میرے جسم پر ریشم کا لہنگا اور بلاؤز رہ گیا۔

"راجپت رائے شکار گاہ سے کبھی خالی ہاتھ نہیں جاتا۔ اس ہرنی کو ہمارے راج محل پہنچا دو!" یہ کہہ کر اس نے گھوڑے کی باگ موڑ لی۔
میں نے جلدی سے کہا: "مہاراج، میری ایک پرارتھنا ہے۔"
اس نے پلٹ کر میری طرف دیکھا۔
"میرے ساتھی کو میرے ساتھ رہنے کی اجازت دی جائے۔ وہ میرا بھائی ہے۔" میں نے اسے بھائی کہہ دیا تاکہ اس کے دل میں کوئی شک نہ ہو۔

میرا وہ جھوٹ کام آ گیا۔ راجپت رائے نے حکم دیا کہ کیدار بھی میرے ساتھ محل میں جائے گا۔ ہم دونوں سپاہیوں کے درمیان پیدل چلنے لگے۔ سامی بھی پیچھے آ رہی تھی۔

کیدار نے آہستہ سے کہا: "میرا خیال ہے کہ راجا تمہارے جسم سے نہیں کھیل سکے گا۔"

مجھے معلوم تھا کہ وہ سامی کی وجہ سے کہہ رہا تھا۔ میں نے کیدار پر ظاہر نہیں ہونے دیا کہ میرا دل راجا کی سیج کے لیے بے چین ہے۔ میرے لیے چاہے وہ کوئی راجا ہو یا کیدار جیسا فقیر، مجھے اپنے اندر کی آگ بجھانی تھی، جو اس حرام زادی کی موجودگی میں ممکن نہیں ہو پا رہا تھا۔

میں نے کیدار کو غصے سے گھورا: "تم گدھے کے گدھے رہو گے۔ ہمارے پاس صرف ایک ہی راستہ ہے کہ راجا کو خوش کیا جائے، ورنہ انکار کی صورت میں وہ ہماری موت کا حکم بھی دے سکتا ہے۔ میں تو نکل جاؤں گی، تمہارا کیا ہوگا؟"

کیدار نے اپنے سر پر ہاتھ مار کر کہا: "میرا دماغ بھی کیسا پتھر کا ہے! میں اب تک سامی کو ہماری نجات کا ذریعہ سمجھ رہا تھا، لیکن یہ تو مصیبت بن گئی ہے!"

میں سامی کے حسین لبوں سے چھمیا کی کہانی سن رہا تھا۔ چھمیا میرے خیالات سے بے نیاز بولتی جا رہی تھی: "اس دنیا میں ستر برس گزارنے کے بعد میں نے پہلی بار کسی محل کو اندر سے دیکھا۔ یہ سامی کے جسم کا احسان تھا کہ میں اس مقام تک پہنچ گئی تھی اور حیرت سے محل کی شان و شوکت کو دیکھ رہی تھی۔"

اسی خوشی میں، میں نے کالی بلی پر توجہ نہیں دی کہ وہ محل میں آنے کے بعد کہاں چلی گئی۔ کیدار کو بھی مجھ سے الگ رکھا گیا۔ اس وقت میں اپنے آپ میں گم تھی اور خود کو کوئی مہارانی سمجھ رہی تھی۔ چار داسیوں نے مجھے حوض کے صاف و شفاف پانی سے اشنان کرایا اور ایسا باریک ریشمی لباس پہنایا جس میں سے بدن چھپ چھپ کر اشارے کرتا ہے۔ پھر ایک بڑے سے آئینے کے سامنے میرے بال بنائے، خوب سنگھار کیا، میرے حسن و شباب کو شرابِ دو آتشہ بنا دیا۔ پھر مجھے خوشبوؤں میں بسا کر راجا صاحب کی خواب گاہ میں چھوڑ دیا گیا۔

راجا صاحب ابھی نہیں آئے تھے۔ دو داسیاں اسی کمرے میں میرے لیے کھانے کا تھال پَروس رہی تھیں۔ اسی وقت ایک داسی نے خبر دی کہ رانی جی پدھار رہی ہیں۔ میں گھبرا کر دروازے کی طرف دیکھنے لگی۔ رانی جی غصے سے تنتناتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئیں، لیکن مجھ پر نظر پڑتے ہی ٹھٹھک گئیں، جیسے اتنی سوندرتا پر یقین نہ آیا ہو۔

وہ مجھے بے نقط گالیاں دیتے ہوئے سوال کرتی جا رہی تھیں: "تو کون ہے؟ کہاں سے آئی ہے؟"

وہ اتنی غصے میں تھیں کہ راجا کا حکم نہ ہوتا تو وہ مجھے قتل کر دیتیں۔ میں نے عاجزی سے کہا: "میں مجبور اور بے بس ہوں۔ زبردستی لائی گئی ہوں۔ اگر مجھے زندہ سلامت یہاں سے نکلنے کا موقع ملے تو میں ابھی اسی وقت چلی جاؤں۔"

اتنا تو وہ بھی سمجھتی تھیں کہ یہاں کوئی لڑکی اپنی مرضی سے نہیں آتی، بلکہ راجا کی زبردستی سے لائی جاتی ہے۔ وہ کہنے لگیں: "اگر زندہ رہنا چاہتی ہے تو راجا کو خوب پلانا، اتنی کہ وہ بے سدھ ہو جائے۔ میں تمہیں یہاں سے نکال کر لے جاؤں گی۔"

یہ کہہ کر وہ چلی گئیں۔ میں سوچنے لگی کہ مجھے کیا کرنا چاہیے۔ اگر راجا میرا دیوانہ بن جائے تو میں اس مغرور رانی کی جگہ لے سکتی ہوں، پھر میری ساری زندگی عیش میں گزرے گی۔ ورنہ پولیس میرے پیچھے لگی رہے گی۔ میں نے فیصلہ کیا کہ مہارانی کی بات ہرگز نہ مانوں گی۔

میں کھانے سے فارغ ہوئی تو ایک داسی شراب کی بوتلیں اور گلاس لے آئی۔ اسی وقت راجا صاحب اندر آ گئے۔ انہوں نے پلٹ کر دروازہ بند کر دیا۔ وہ مجھے ایسی نظروں سے دیکھ رہے تھے جیسے بن پیے نشے میں آ گئے ہوں۔ میری طرف بڑھتے ہوئے نشیلے لہجے میں بولے: "میری سیج پر کتنی ہی کلیاں کھل چکی ہیں، لیکن ایسی منہ بند کلی پہلی بار دیکھ رہا ہوں جسے دیکھتے ہی شراب کا نشہ بھول گیا۔ جو رس تم میں ہے، وہ اس شراب کی صراحی میں نہیں ہے۔"

وہ میرے ایک دم قریب آ گئے۔ اسی وقت میں نے بلی کی غراہٹ سنی اور گھبرا کر پیچھے ہٹ گئی۔ میں ان سے کہنا چاہتی تھی کہ خطرہ ہے، میرے قریب نہ آئیں۔

چھمیا نے اپنی کہانی سناتے ہوئے میری طرف دیکھا۔ میں سامی کی ذہانت اور جرات کی عجیب محبت میں گرفتار ہو چکا تھا۔ اس کی ذہانت اور جرات مندی کا جادو چھمیا کے منتروں سے کہیں زیادہ طاقتور تھا۔
"پھر آگے بولو!" میں نے چھمیا کو چپ دیکھ کر کہا۔

وہ کہنے لگی: "میں نے راجا کو روکنے کی کوشش کی، مگر انہوں نے اپنے تجربے کے مطابق سوچا کہ لڑکی پہلی بار ایسی ہی پیچھے ہٹتی ہے، شرماتی ہے، اپنا بدن چھپاتی ہے، پھر خود کو ان کے حوالے کر دیتی ہے۔ یہی سوچ کر انہوں نے مجھے پکڑ لیا، لیکن ان کا بھی وہی حشر ہوا۔ بلی روشندان سے چھلانگ لگا کر ان کی طرف آئی اور گردن پر پنجہ مارتی ہوئی پلنگ پر جا کر بیٹھ گئی۔ راجا صاحب غصے سے پاگل ہو گئے۔ ایسی نازک موقعے پر کوئی مکھی بھی پر نہیں مار سکتی تھی، اور وہ بلی انہیں پنجہ مار کر مزے سے ان کے بستر پر بیٹھی تھی۔

انہوں نے چیخ کر کہا: ‘نکالو اسے! کہاں سے آ گئی یہ بلی؟’
ان کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی اس نے دوبارہ حملہ کیا اور ان کے چہرے کو نوچتی ہوئی فرش پر بیٹھ گئی۔ راجا غصے سے پاگل ہو گیا۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایک بلی دشمن کی طرح حملہ کرے گی۔ اس نے گلاس اٹھا کر اسے دے مارا۔ بلی اچھل کر پیچھے ہٹ گئی۔ راجا نے اپنا نشانہ خطا ہوتے دیکھ کر بوتلیں اور گلاس اٹھا اٹھا کر اسے مارنے شروع کر دیے۔ بلی ادھر اُدھر بھاگ رہی تھی اور کمرے کا فرش شیشوں سے بھر گیا۔

سپاہی دروازے پر مسلسل دستک دے رہے تھے۔ راجا نے جھنجھلا کر دروازہ کھولا اور کہا: ‘پکڑو اس کمبخت بلی کو اور مار ڈالو!’
سپاہی اسے چاروں طرف سے گھیرنے لگے۔ میں نے کہا: ‘راجا صاحب، یہ بلی نہیں، چڑیل ہے! یہ ہر وقت میرا پیچھا کرتی ہے۔ اس کے ٹکڑے ٹکڑے کروا دیں اور محل میں کسی جانور کو نہ آنے دیں!’

بلی ان کی گرفت میں آ گئی۔ وہ اسے لے کر باہر چلے گئے۔ داسیاں مزید شراب کی بوتلیں لے کر آ گئیں۔ کچھ داسیاں قالین سے شیشے کے ٹکڑے چن رہی تھیں۔ راجا نے دھاڑ کر کہا: ‘جاؤ، سب یہاں سے نکل جاؤ!’

ساری داسیاں کمرے سے چلی گئیں۔ ‘دروازہ بند کر دو اور آ کر مجھے اپنے ہاتھوں سے شراب پلاؤ۔’

میں نے دروازہ بند کر کے ان کی طرف بڑھتے ہوئے کہا: ‘رانی جی نے کہا ہے کہ میں آپ کو شراب پلا کر مدہوش کر دوں۔ اگر میں نے ایسا نہ کیا تو وہ مجھے مار ڈالیں گی۔’

‘کیا؟ لکشمی یہاں آئی تھی؟’ انہوں نے گلاس پٹخ دیا۔ ‘میں اسے شوٹ کر دوں گا!’ راجا نے شراب کا دوسرا گلاس منہ سے لگاتے ہوئے کہا: ‘اس کی یہ مجال! وہ حد سے بڑھ گئی ہے۔ مجھ سے بھی لڑتی ہے۔ میں راجا ہوں۔ وہ مجھ سے بھی کہہ رہی تھی کہ تجھے یہاں سے نکال دوں، ورنہ مجھے قتل کر دے گی۔ ہاہاہا! بھلا اس کے باپ نے بھی کسی کو قتل کیا ہے؟’ راجا نے شراب کا تیسرا گلاس پیا۔

وہ اب نشے میں جھوم رہا تھا۔ اتنے میں باہر سے رانی کے تیز تیز بولنے کی آوازیں آنے لگیں: ‘ہٹو سامنے سے! میں یہاں کی رانی ہوں، تم مجھے نہیں روک سکتے! تم سب یہاں سے جاؤ، اور جب تک میں نہ کہوں، یہاں مت آنا!’ پھر سپاہیوں کے قدموں کی دور ہوتی ہوئی آواز ختم ہو گئی۔

ساتھ ہی دروازے پیٹنے کی آواز نے راجا کو آپے سے باہر کر دیا۔ وہ غرایا: ‘چلی جاؤ، لکشمی! ورنہ میں تمہیں وہ سبق سکھاؤں گا کہ تم ساری عمر یاد رکھو گی!’

یہ کہتے ہوئے وہ لہرا کر آگے بڑھا اور دروازہ کھول دیا۔ رانی اسے دھکیل کر اندر آ گئی۔ اس کے ہاتھ میں ایک خنجر نما چیز تھی، جسے اس نے راجا کے پیٹ میں بھونپ دیا۔

میں چیختے ہوئے سائیڈ پر ہو گئی۔ رانی نے کھپٹ کر دروازہ بند کر دیا، خنجر سے اپنی انگلیوں کے نشانات مٹائے اور میرے قدموں میں پھینک دیا۔ وہ بولی: ‘نکلو اب یہاں سے! چلو میرے ساتھ!’

میرے پاس رانی کی بات ماننے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا، ورنہ مجھ پر ایک اور قتل کا الزام لگ سکتا تھا۔ ہم باہر نکلے تو رانی نے باہر سے کمرے کا دروازہ بند کر دیا۔ سامنے سے آتے سپاہی جھک کر پرنام کرنے لگے۔ رانی نے تحکمانہ لہجے میں کہا: ‘راجا صاحب سو رہے ہیں۔ انہوں نے بہت زیادہ پی لی تھی۔ میں نے کمرے کا دروازہ باہر سے بند کر دیا ہے۔ تم دونوں کی ڈیوٹی ہے کہ صبح تک کسی کو کمرے کے اندر نہ جانے دینا۔’ وہ سر ہلاتے کمرے کے باہر کھڑے ہو گئے۔

رانی جی مجھے اپنے کمرے میں لے آئیں اور میرے جسم پر باریک ریشم کا لباس دیکھ کر بولیں: ‘اوہ، مردوں کو اپنے حسن و شباب سے دیوانہ کرنے والی حرام زادی! ادھر سے میری ایک ساڑی پہن اور اس لباس کو اتار دے!’

میں چپ چاپ رانی کی گالیاں سنتی ہوئی ایک ساڑی نکال کر پہننے لگی۔ میں چاہتی تو جادو کے زور سے اسے بھسم کر سکتی تھی، لیکن میں صبر سے برداشت کر رہی تھی کیونکہ یہی وہ عورت تھی جو مجھے اس محل سے باہر لے جا سکتی تھی۔ میں نے منت بھرے انداز میں کہا: ‘رانی جی، میرا ایک ساتھی بھی ہے۔ بڑی مہربانی ہو گی اگر اسے میرے ساتھ کر دیں۔’

وہ نخوت سے بولی: ‘پتا ہے مجھے! تیری جیسی چھنال اپنے یار کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ وہ باہر انتظار کر رہا ہے۔ تو میرے ساتھ آ!’

ہم باہر نکلے تو کیدار گاڑی میں بیٹھا انتظار کر رہا تھا۔ میرے بیٹھنے کے بعد رانی جی گھوم کر گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گئیں۔
میں نے پوچھا: ‘رانی جی، آپ ہمارے ساتھ جائیں گی؟’
وہ کہنے لگیں: ‘میں نے راجا کا قتل کیا ہے۔ اب میں بھی تمہارے ساتھ جاؤں گی۔’
میں نے واقعی یہ سوچا ہی نہیں تھا کہ رانی کے لیے محل میں بڑی مصیبت ہو گئی تھی۔ میں کیدار کو بتانے لگی کہ کس طرح رانی جی نے اپنی جان پر کھیل کر ہماری مدد کی ہے۔ وہ عاجزی سے ہاتھ جوڑ کر بولا: ‘رانی جی، ہم آپ کا یہ احسان کبھی نہیں بھولیں گے۔’

کار تیزی سے آگے بڑھتی جا رہی تھی۔ مجھے اچانک سامی کا خیال آیا۔ ‘کیا تم نے کسی کالی بلی کو محل میں دیکھا؟’ میں نے مڑ کر کیدار سے اشاروں میں پوچھا۔

‘نہیں، وہ مجھے نظر نہیں آئی۔ چلو، اچھا ہے، اس سے پیچھا چھوٹا۔’
‘کیا تم لوگ کالی بلی سے ڈرتے ہو؟’ رانی جی نے مسکرا کر پوچھا۔
‘نہیں، رانی جی، وہ بلی نہیں، چڑیل ہے۔ اس نے ہماری زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔’ میں نے ادب سے رانی جی کی طرف دیکھا۔ آخر وہ میری محسن تھی۔
رانی جی تیزی سے کار چلا رہی تھیں۔ کیدار کہنے لگا: ‘اب ہم کہاں جائیں گے؟’
‘ہاں، ہمارا تو کوئی ٹھکانہ نہیں ہے،’ میں نے رانی جی سے کہا۔
رانی قہقہہ لگا کر ہنس پڑیں: ‘ہاں، ہم تینوں کا اب کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔ میں راجا راجپت کی قاتل، اور تم دونوں انسپکٹر کے قاتل۔’
میں نے حیران ہو کر کہا: ‘آپ کیسے جانتی ہیں کہ ہم…’
وہ میری بات کاٹ کر چبھتے ہوئے لہجے میں بولیں: ‘تیرا کچا چٹھا میں نہیں جانوں گی تو اور کون جانے گا؟ اب تو ہمارا جنم جنم کا ساتھ ہے۔ بوڑھی چھمیا، کیا تم نے اپنی پیاری اکلوتی کالی بلی کو نہیں پہچانا؟’
‘ت… تم سامی ہو؟’ میں نے حیران پریشان ہو کر اسے دیکھا۔ میرے سامنے منارا کی رانی لکشمی بائی گاڑی چلا رہی تھی، اور اس کے اندر سامی کی روح بول رہی تھی۔
وہ بولی: ‘مجھے راجا کے سپاہی زندہ دفن کرنے کے لیے باہر لے گئے تھے۔ جب وہ میرے اوپر مٹی ڈالنے لگے تو میں بلی کا جسم چھوڑ کر محل میں چلی آئی۔ رانی کے کمرے کے سامنے سے گزرتے ہوئے میں نے سنا کہ رانی تیزاب کی بوتل ہاتھ میں لیے اپنی داسیوں سے کہہ رہی تھی: میں اس فاحشہ عورت کے چہرے پر تیزاب گرا دوں گی جس نے میری سلطنت میں پاؤں رکھنے کی جرات کی ہے۔

یعنی وہ میرے چہرے پر تیزاب پھینک دیتی۔ یہ میں کیسے برداشت کر سکتی تھی؟ میں اپنے جسم کو دوبارہ حاصل کر ہی لوں گی۔ میں اسے کسی صورت نقصان نہیں پہنچنے دے سکتی۔ میں نے تمہارے سکھائے ہوئے منتر سے رانی کی روح اس کے جسم سے جدا کر دی۔ وہ ایک دم فرش پر ڈھیر ہو گئی تو میں نے جلدی سے اس کے جسم پر قبضہ کر لیا۔ داسیاں گھبرا کر مجھے ہلانے لگیں تو میں اٹھ کھڑی ہوئی اور ان سے کہا کہ ذرا سا چکر آ گیا تھا۔ اس کے بعد میں نے ان سے کہا: مجھے ایک خنجر لے آؤ۔ اب میں اس پر تیزاب نہیں پھینکوں گی۔ میں نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ میری گاڑی گیٹ پر لے آؤ اور اس نوجوان قیدی کو کار میں بٹھا دو۔ یہ میرا حکم ہے۔ پھر جو کچھ ہوا، وہ تمہیں معلوم ہے۔’

میں نے دانت پیستے ہوئے سامی کی طرف دیکھا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ میں اس بدروح سے کیسے پیچھا چھڑاؤں۔ کیدار نے پیچھے سے اس کی گردن دبوچ لی: ‘چھمیا، میں اسے مار ڈالوں گا! اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے چیل کوؤں کو کھلا دوں گا۔ تم دیکھنا، اس کا نام و نشان بھی نہیں ملے گا!’

وہ ہنسنے لگی: ‘بے وقوف! کار کا سٹیرنگ میرے ہاتھ میں ہے۔ کار کہیں ٹکرا گئی تو سب سے پہلے تو مرے گا۔ میں تو نکل جاؤں گی۔’
میں نے کیدار کو گھرکا: ‘چھوڑ دے اسے! یہ ایسی قابو نہیں آئے گی۔ اس کا کوئی اور علاج سوچنا پڑے گا۔’
میں نے بل کھاتے ہوئے کہا: ‘تو ضدی ہے تو میں بھی ضدی ہوں۔ مجھے دلی پہنچنے دے، پھر میں تیرا وہ حشر کروں گی کہ تو پناہ مانگے گی!’
وہ ہنستی ہوئی بولی: ‘دلی دور ہے۔ میں تجھے ناگپور لے جا رہی ہوں۔ میرے ڈیڈی کمشنر ہیں۔ وہاں میں پولیس کے سامنے ثابت کروں گی کہ تو ایک دھوکے باز، مکار جادوگرنی ہے اور تو نے سامی پوکر کے جسم پر جادو کے زور سے قبضہ کر رکھا ہے۔’

میں پریشانی سے اسے دیکھ رہی تھی۔ گاڑی ناگپور کی طرف بھاگ رہی تھی کہ اچانک جھٹکے کھا کر رک گئی۔ کیدار فوراً نیچے اترا اور فیول ٹینک دیکھتے ہی گاڑی کی طرف آیا۔ سامی کو اندازہ ہو گیا تھا کہ فیول ختم ہو چکا ہے۔ وہ اس کے پاس آنے سے پہلے گاڑی سے اتر کر بھاگی۔ میں اور کیدار سرپٹ اس کے پیچھے بھاگے۔

اب صورتحال یہ تھی کہ رانی لکشمی، جو کہ سامی تھی، ہمارے آگے آگے جنگل میں بھاگ رہی تھی۔ اس کے پیچھے کیدار اور پھر میں اسے پکڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے کیدار اور وہ کافی آگے نکل گئے۔ میں ان کے پیچھے ان کے قدموں کی آہٹ پر اندازے سے بھاگی چلی آ رہی تھی کہ کیدار کی چیخ سنائی دی۔ میں نے آواز کی سمت دوڑ لگا دی۔ کچھ دور کیدار سر پکڑ کر زمین پر گرا ہوا تھا۔ اس کے پیچھے سامی درخت کی ایک موٹی سی شاخ پکڑے اسے آدھ موا کر رہی تھی۔ میں نے بھاگ کر سامی کو پیچھے سے پکڑ لیا۔ اب ہم دونوں گتھم گتھا ہو گئے۔ وہ مجھے زیر کرنے کی کوشش کر رہی تھی اور میں اسے ضربیں لگا رہی تھی۔ بڑی عجیب بات تھی کہ وہ میرے چہرے پر وار نہیں کر رہی تھی، جبکہ میں اس کا چہرہ نوچ رہی تھی، اسے رگید رہی تھی۔ اچانک ہم تینوں نے قریب ہی ایک بلی کی آواز سنی۔ شاید کسی بستی سے ادھر آ نکلی تھی۔ میں نے سامی کی آنکھوں میں دیکھا، جو عجیب طرح سے مسکرا رہی تھیں۔

اسی دوران کیدار بھی میدان میں آ گیا۔ ہم دونوں نے پکڑ کر اسے بے بس کر دیا۔ جونہی کیدار نے درخت کی ٹہنی اٹھا کر اسے مارنا چاہا، وہ رانی کے جسم سے نکل گئی۔ رانی لکشمی کا بے جان وجود ہماری گرفت میں ڈھیلا پڑ گیا۔

ہمیں کہیں کوئی بلی نظر نہ آئی۔ رات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی۔ پورے چاند نے ہر چیز کو دودھیا روشنی سے نہلا دیا تھا۔ ہمارے سامنے رانی لکشمی مردہ پڑی تھی۔ کیدار نے پتھر لے کر اس کا چہرہ مسخ کر دیا۔

‘وہ بلی کہاں ہے؟’ میں نے اس کی تلاش میں ادھر اُدھر نگاہیں دوڑائیں۔ دور دور تک پراسرار سناٹا چھایا ہوا تھا۔

ہم دونوں سڑک کی طرف چلنے لگے۔ ہماری منزل دلی میں میرا پرانا گرو مہاراج تھا۔ وہ بہت اعلیٰ پائے کا جادوگر تھا۔ میں نے سارے جنتر منتر اسی سے سیکھے تھے۔ اس نے کئی سال مجھے اپنی رکھیل بنائے رکھا۔ مجھ پر ترس کھا کر کچھ منتر سکھا دیتا تھا۔ یہ جسم سے روح نکال کر دوسرے جسم میں منتقل کرنا بھی میں نے اسی سے سیکھا تھا۔ پھر وہ بوڑھا ہو گیا۔ مجھ میں اس کی دلچسپی ختم ہو گئی تو میں کیدار کے ساتھ وہاں سے نکل آئی۔

میری آخری امید گرو مہاراج تھا۔ وہی مجھے سامی کی روح سے نجات دلا سکتا تھا۔ ہم ریلوے اسٹیشن کی طرف چلنے لگے۔ چلتے چلتے مجھے اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا۔ اچانک میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ دو چمکدار آنکھیں مجھے گھور رہی تھیں۔ سامی بلی کے جسم میں ہمارے پیچھے بھاگی چلی آ رہی تھی۔

اسٹیشن پہنچ کر ہم اگلی آنے والی ریل میں سوار ہو گئے، مگر سامی ہم سے پہلے اچھل کر اسی ڈبے میں چڑھ گئی۔ میں نے اس حقیقت کو تسلیم کر لیا تھا کہ سامی سے پیچھا چھڑانے کے لیے مجھے جادو کی کوئی اور سیڑھی چڑھنی پڑے گی۔

ہم تینوں ساتھ ساتھ دلی میں گرو مہاراج کے ٹھکانے پہنچے۔ میں سامی کے جسم میں گرو مہاراج کے کمرے میں داخل ہوئی۔ کیدار نے سامی کا راستہ روکے رکھا تھا۔ میں نے گرو کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے۔

وہ بوڑھا ہو چکا تھا، لیکن اس کی یادداشت کسی نوجوان کی طرح تر و تازہ تھی۔ مجھے دیکھتے ہی اس کے لبوں پر ایک مضمحل سی مسکراہٹ آ گئی۔ گھاگ جادوگر تھا، وہ سامی کے حسین جسم کے پیچھے چھمیا کو ایک پل میں پہچان گیا۔

‘کہو، چھمیا، کہاں سے پا لیا یہ حسن و جمال کا پیکر؟’
میں نے اس کے پاؤں پکڑ لیے: ‘گرو مہاراج، میں تمہاری داسی ہوں۔ مجھے بچا لو، خدا کے لیے!’
میں نے الف سے لے کر ی تک پوری داستان اسے سنا ڈالی۔ وہ دلچسپی سے سنتا رہا۔ میں خاموش ہوئی تو ہنکارا بھر کر بولا: ‘تیری اس گھنی سمسیا کا ایک ہی توڑ ہے۔ تجھے کسی نوجوان دوشیزہ یا کسی جوان مرد کا خون ہی بچا سکتا ہے۔’

میری آنکھیں چمک اٹھیں: ‘گرو مہاراج، تو جو کہے گا، میں وہ کرنے کو تیار ہوں۔ بس ایک بار اس منحوس بلی سے میری جان چھڑا دے!’
گرو مہاراج کچھ دیر میری طرف دیکھتا رہا، پھر بولا: ‘ہمم… ایک منتر ایسا ہے جس سے تمہیں مکتی مل جائے گی۔’
‘مہاراج، یہ کون سا منتر ہے؟ خدا کے لیے مجھے دان کر دو!’
‘تریا چلیتر۔ تریا چلیتر سے تم ہمیشہ کے لیے سامی کی روح سے مکتی پا لو گی۔’

میں گرو مہاراج کے سامنے ہاتھ جوڑ کر دو زانو بیٹھ گئی، اور وہ مجھے منتر سمجھانے لگا۔ ‘چالیس دن تک رکشا کنڈل میں اس منتر کو پڑھنے کے بعد، اگلے دن آدھی رات کے بعد سامی خود بخود اس رکشا کنڈل میں آ جائے گی۔ اس وقت تمہاری گردن پر چھری رکھ کر تمہارے خون کو اس پر چھڑک دینا ہے۔’

میں اور سامی آج کی محفل کے مہمان تھے۔ میں جان گیا تھا کہ سامی اور میں ایک دوسرے کو بچا سکتے تھے۔ میرے دل میں ہلکی ہلکی امید جگمگانے لگی تھی۔ پتا نہیں کیوں، سامی کی ذہانت اور دلیری پر میرا دل سو جان سے فریفتہ ہو گیا تھا۔
٭٭٭

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے