میں نے چاروں طرف دیکھا۔ سامی یہیں کہیں موجود تھی۔ دوسرے ہی لمحے بلی نے انگڑائی لی اور کرسی پر بیٹھ گئی۔ پوری کہانی میری سمجھ میں آ چکی تھی، لیکن میں بھوانی کو یہ نہیں بتا سکتی تھی۔ پہلی بار میں نے تحسین آمیز نظروں سے سامی کو دیکھا۔ وہ لڑکی مجھے پل پل حیران کر رہی تھی۔
اگلے دن ہم بھوانی شنکر اور اس کے دو آدمیوں کے ساتھ مشن پر روانہ ہو گئے۔
٭٭٭
ہم ٹرین سے کاٹھیاواڑ پہنچے۔ ہمارا لیڈر بھوانی شنکر تھا۔ میں اور کیدار، یعنی قادر بخش اور سلمیٰ قادر، میاں بیوی کے طور پر تھے۔ کاٹھیاواڑ سے غیر قانونی طور پر سرحد پار کر کے ہم مشرقی پاکستان کے شہر دیناج پور پہنچ گئے۔ وہاں ہمارے ڈومیسائل سرٹفکیٹ تیار تھے، جن کے مطابق ہم مشرقی پاکستان کے شہری تھے اور قیام پاکستان سے ڈھاکہ میں رہ رہے تھے۔ اگلے دن ہم ڈھاکہ کے لیے روانہ ہو گئے۔
سامی ہمارے ساتھ تھی۔ بھوانی شنکر اس کی خدمت میں کوئی کسر نہ چھوڑتا تھا۔ وہاں بجلی کا نظام درہم برہم تھا، اور ہمارے کمرے میں لالٹین جل رہی تھی۔
رات کے دس بجے ایک شخص بھوانی سے ملنے آیا۔ اس نے بتایا کہ وہ سیکریٹ سروس کا ایجینٹ ہے اور کئی سالوں سے ہمارے دیش کی تخریبی کارروائیوں میں مصروف ہے۔ وہ اہم معلومات پر بات کرنے آیا تھا۔ اس کا نام سبھاش مکرجی تھا۔
چونکہ سامی مجھے ایک لمحے کے لیے بھی تنہا نہ چھوڑتی تھی، اس لیے جو بھی بات ہوتی، وہ اس کے سامنے ہوتی تھی۔ اس وجہ سے میں ان کے خاص معاملات میں شامل تھی۔ سبھاش مکرجی نے میری موجودگی پر اعتراض کیا تو بھوانی نے کہا: "یہ بلی کی سہولت کار ہے اور اسے چھوڑ کر نہیں جاتی۔"
بھوانی نے مسکرا کر سامی کی پشت پر ہاتھ پھیرا۔ "میں کچھ نہیں کروں گا۔ کل صبح یہ بلی گورنر ہاؤس جائے گی۔ وہاں سخت سکیورٹی ہے، لیکن ایک بلی کو کون پوچھے گا؟ یہ مجھے وہاں کی ساری کارروائی نوٹ کر کے بتائے گی۔"
مکرجی کا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا۔ "یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ کیا ایک بلی یہ سب کر سکتی ہے؟"
بھوانی نے فخر سے سامی کو دیکھا۔ "یہ سب کچھ کر سکتی ہے! آپ یوں کریں، اس کے ساتھ دوسرے کمرے میں جائیں اور کوئی بات کریں۔"
بھوانی بولا: "کیا یہ سب باتیں آپ نے سامی کو نہیں بتائی تھیں؟"
"ہاں!" مکرجی نے اعتراف کیا۔ "یہ وہی باتیں ہیں جو میں نے اسے بتائی تھیں، لیکن ایک بلی کیسے یہ سب سمجھ سکتی ہے؟ مجھے تو یہ کالا جادو لگتا ہے!"
"مکرجی، اگر یہ کالا جادو بھی ہے تو ہمیں کیا فرق پڑتا ہے؟ ہمیں تو اس سے اپنا کام لینا ہے، اور یہ ہمارے کام آتی رہے گی۔"
"لیکن اگر جادو کا اثر ختم ہو گیا تو یہ ہمیں گرفتار بھی کرا سکتی ہے!"
بھوانی نے پریشانی سے کہا: "یہ بات تو ٹھیک ہے، لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ کالا جادو ہو ہی نہ۔"
مکرجی سامی کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے بولا: "ہم چیک کر لیتے ہیں۔ کوئی مسئلہ نہیں۔ اس کونے میں جو مندر ہے، اس کے پجاری کو کالا جادو کا علم ہے۔ ہم بلی کو اس کے پاس لے جاتے ہیں۔"
مکرجی کی بات سن کر میں گھبرا گئی۔ یہ بڑی پریشانی کی بات تھی۔ اگر پجاری کو واقعی علم تھا تو وہ ہمیں پہچان لے گا۔ سامی خاموش بیٹھی تھی، شاید وہ سوچ رہی تھی کہ ساری حقیقت کھل جانے سے اسے کیا فائدہ یا نقصان ہو سکتا ہے۔
جونہی مکرجی اسے لے جانے کے لیے آگے بڑھا، سامی نے چھلانگ لگا کر کمرے سے باہر بھاگ گئی۔ سب اسے پکڑنے کے لیے بھاگے، لیکن وہ اتنی تیز تھی کہ قابو نہ آئی۔ بھوانی کے آدمی اسے پکڑنے کے لیے آگے بڑھے تو وہ دیوار پر چڑھ کر ساتھ والے مکان میں کود گئی۔ وہ مکان غیر آباد اور اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ سامی اس کے اندر جا کر غائب ہو گئی۔ بھوانی نے چلا کر اپنے آدمیوں سے کہا: "پکڑو اسے! بھاگو، دوسری طرف جانے نہ پائے!"
ایک آدمی نیچے اتر کر تیرتے ہوئے دوسرے مکان میں گیا، لیکن سامی وہاں سے پچھلے مکان کی چھت پر چلی گئی تھی۔ یوں رات کے گیارہ بج گئے۔ سامی ایک مکان سے دوسرے مکان میں بھاگتی رہی، پھر کچھ دیر بعد غائب ہو گئی۔
بھوانی نے سمجھا کہ وہ اب نہیں آئے گی، لیکن مجھے پتا تھا کہ وہ مجھے چھوڑ کر کہیں نہیں جائے گی۔ بارہ بجے منتر کا اثر ختم ہونا تھا، اور سامی کی روح بلی کے جسم سے آزاد ہو جاتی۔ میں نے جان بوجھ کر سامی کو ڈھیل دی اور منتر نہیں پڑھا۔ میں چاہتی تھی کہ سامی ضرورت پڑنے پر کسی اور کے جسم میں سما جائے، لیکن ہمیں یہاں سے نکال کر لے جائے۔
ساڑھے گیارہ بجے وہ کھڑکی پر آ کر بیٹھ گئی۔ بھوانی اسے پچکارنے لگا۔ وہ بھاگ کر اس کے پاؤں میں لوٹنے لگی۔ اس نے سامی کو گود میں اٹھا کر پیار کرنا شروع کیا۔ "دیکھو، مکرجی، یہ مجھ سے پیار کرتی ہے۔ اس لیے مجھے چھوڑ کر کہیں نہیں جائے گی۔ جانور ہے، شرارت سے ادھر اُدھر بھاگے گی تو سہی!" پھر پوچھا کہ وہ کہاں گئی تھی۔ سامی نے کچھ اشارے کیے تو وہ ہنستے ہوئے بولا: "خودا پہاڑ، نکلا چوہا! ساتھ والے گھر میں اسے ایک چوہا نظر آ گیا تھا!"
مکرجی ہنسنے لگا۔ "دیکھا، میں نہ کہتا تھا، جانور جانور ہی ہوتا ہے۔ یہ کسی بھی وقت کچھ بھی کر سکتا ہے۔ کیوں نہ ابھی پجاری کے پاس چل کر دیکھا جائے؟ صبح مندر میں بہت لوگ ہوتے ہیں، کوئی ہمارے بارے میں شک کر سکتا ہے۔"
بھوانی نے سر ہلایا، پھر اپنے آدمیوں سے کشتی گھر کے اندر لانے کو کہا۔ میں نے سوچا کہ مندر میں جا کر دیکھنا چاہیے۔ پجاری کا منتر بھی دیکھتی ہوں کہ وہ کیا کرتا ہے، اور وہیں اس کا نمٹاؤ کرتی ہوں۔ سامی نے بھی اشارے سے جانے کی حامی بھر لی۔
ہم سب نیچے اترے۔ چاروں طرف اندھیرا تھا۔ مانجھی لالٹین پکڑے کشتی میں ہمارا انتظار کر رہا تھا۔ ہم سب بیٹھ گئے۔ سامی بھوانی کے کندھوں پر سوار تھی۔ مانجھی نے چپو سیدھے کیے، اور ہم دو منٹ میں مندر کی سیڑھیوں پر پہنچ گئے۔ مانجھی نے کشتی کو ایک طرف درخت سے باندھ کر لالٹین اونچی کی اور ہمیں راستہ دکھایا۔
ہم سیڑھیاں چڑھ کر اوپر پہنچے تو کچھ لوگ پجاری کو کھاٹ پر اٹھائے کھڑے تھے۔ ہمارے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ پجاری جی کی طبیعت بہت خراب ہے۔ وہ بھلے چنگے بھوجن کر رہے تھے کہ اچانک انہیں کھانسی کا دورہ پڑا۔ ہم نے پانی پلایا، ہلایا، لیکن وہ بول نہیں پا رہے ہیں۔ پجاری نقاہت سے ہماری طرف دیکھ رہا تھا۔
میرے چہرے پر بے اختیار مسکراہٹ آ گئی۔ سامی میری توقعات پر پورا اتر رہی تھی۔
چھمیا نے میری طرف دیکھا۔ "کیا سوچ رہے ہو؟ تمہارے مرنے میں ابھی وقت ہے۔ تمہاری سامی آدھی رات کے بعد آئے گی، تب ہی میں تمہارے خون سے اسے نہلاؤں گی۔ وہ منتر کی قید سے نہیں نکل سکتی!"
چھمیا غصے کی بجائے قہقہہ لگا کر ہنسنے لگی، پھر یک دم چپ ہو کر بولی: "سچ پوچھو تو ایک بار میرا بھی دل کیا کہ لعنت بھیج دوں۔ اس چکر میں بڑے پھیر ہیں۔ گرو مہاراج نے ٹھیک کہا تھا کہ جسم بدلنے سے ہم فطرت کے خلاف چلے جاتے ہیں، جس سے ہم سے بھی زیادہ طاقتور قوتیں ہمارا پیچھا کرتی ہیں، جیسا کہ سامی میرا پیچھا کر رہی ہے۔ لیکن سامی کی ضدی فطرت نے مجھے بھی ضدی بنا دیا ہے۔ میں اسے زیر کر کے ہی چھوڑوں گی!"
میں سامی کی آنکھوں میں چھمیا کی نفرت کا زہر دیکھ رہا تھا۔
"پھر؟ وہاں سے فرار کیسے ہوئی تم؟"
"وہاں سے فرار تب ممکن ہوا جب اگلے دن سامی نے گورنر ہاؤس سے ساری معلومات لا کر بھوانی کو نوٹ کروائیں۔ ہم سب اگلی صبح سامی کو گورنر ہاؤس کی سائیڈ پر اتار کر دوبارہ مکان میں واپس نہیں گئے، بلکہ ایک ہوٹل چلے گئے، تاکہ اگر سامی کوئی گڑبڑ کرے تو اسے بھوانی کا پتا نہ چلے۔ اس کے آدمی ہوٹل کے آس پاس موجود تھے۔ جونہی سامی دیوار پھلانگ کر باہر آئی، وہ اسے لے کر ہوٹل آ گئے۔ سامی نے مطلوبہ معلومات مکرجی کے سامنے بھوانی کو سگنلنگ کے ذریعے نوٹ کروائیں۔
ڈھاکہ میں ہمارا مشن مکمل ہو گیا تھا۔ ہمارے دیش کے اعلیٰ افسر ہماری کارکردگی سے بہت خوش تھے۔ درحقیقت، یہ سارا کارنامہ سامی کا تھا۔ بھوانی نے فخر سے ہمیں بتایا کہ ہمارا اگلا مشن پنڈی میں ہے۔ وہ ہمیں وہاں احمد شیخ نامی ایک شخص کے گھر لے گیا۔ اس نے بتایا کہ احمد شیخ اے گریڈ کا افسر ہے اور کئی سالوں سے ہمارے لیے کام کر رہا ہے۔ ہم اسے چوبیس ہزار ماہانہ دیتے ہیں۔ تمہاری سرکار صرف نو سو روپے دیتی ہے، اور اس کے پاس کئی گھر، گاڑیاں، اور جائیدادیں ہیں۔ کیا تمہاری سرکار ایسے لوگوں سے نہیں پوچھتی کہ یہ سب کہاں سے آ رہا ہے؟"
چھمیا کیدار کے پاس جا کر کچھ دیر اس کا منتر سننے لگی، پھر میرے پاس آ کر بیٹھ گئی۔ میں اپنی سوچ میں گم تھا کہ اس نے کہا: "اگلے دن سامی ایک خفیہ فائل لے آئی۔"
میں نے پوچھا: "کون سی فائل؟"
وہ بولی: "احمد شیخ کے اوپر ایک افسر تھا، مکرم علی۔ وہ ہمارے دیش کا بہت ایماندار افسر تھا۔ بھوانی نے بتایا کہ اسے خریدنا تقریباً ناممکن ہے۔ اس کے پاس ایک خفیہ فائل تھی، جس کی وہ سخت حفاظت کرتا تھا۔ صدر مملکت ملک سے باہر تھے، اور واپسی تک وہ فائل مکرم علی کے پاس رہنی تھی۔ بھوانی نے سامی کو دفتر کا نقشہ اور فائل کا نمبر سمجھایا۔ اگلے دن سامی وہاں جا کر فائل کی ساری معلومات لے آئی۔"
ہم احمد شیخ کے گھر میں تھے۔ بھوانی صبح سے کہیں گیا ہوا تھا۔ یہ ہمارے لیے وہاں سے نکل جانے کا بہترین موقع تھا۔ ہم چپ چاپ، کسی سے ٹکرائے بغیر، احمد شیخ کے گھر سے نکل کر تمہارے شہر کے اس جنگل میں آ گئے۔ یہاں ہم نے رکشا کنڈل بنایا اور اس میں بیٹھ گئے۔ اس کنڈل میں کوئی عام آدمی تو کیا، تمہاری پولیس بھی ہمیں نہیں دیکھ سکتی۔
چھمیا قہقہہ لگا کر ہنسنے لگی۔ ہنستے ہوئے اس کی بوٹیاں تھرک رہی تھیں۔ وہ اٹھی اور ایک انگیٹھی میں آگ جلانے لگی۔ آگ دہکا کر وہ میرے قریب لے آئی۔ رات کے بارہ بج چکے تھے۔ اتنے میں کیدار ایک کتے کو رسی سے باندھے گھسیٹتا ہوا میرے قریب آیا۔ اس کے سیاہ، کسرتی جسم پر صرف ایک لنگوٹ تھا۔ اس نے اپنے جسم پر تیل ملا رکھا تھا، جس سے اس کا بدن چاندنی میں چمک رہا تھا۔
چھمیا نے الماری سے دو کوزوں نکالے اور میرے قریب آ گئی۔ ایک کوزے میں ماش کے دانے تھے، اور دوسرے میں لوبان۔ میں دل ہی دل میں منصوبہ ترتیب دینے لگا۔ میرا سارا انحصار سامی پر تھا۔ چھمیا کے مطابق، اگر وہ سندور سے بنے اس دائرے میں نہ آئی، جس میں میرا سر قلم ہونا تھا، تو جاپ مکمل نہیں ہو سکتا تھا۔ اگر میں کسی طرح سامی کو اس دائرے سے باہر روک لوں تو ہم دونوں بچ سکتے تھے۔
یہ عمل کچھ دیر جاری رہا۔ اچانک مجھے اپنے جسم میں نئی توانائی محسوس ہوئی۔ میرے جسم کے زخم غائب ہو گئے تھے۔ میں نے حیرانی سے کتے کو دیکھا، جس کے جسم پر جا بجا زخم نظر آ رہے تھے۔ مجھے چھمیا کی بات یاد آئی: "زخمی انسان کی بلی چڑھانا ممکن نہیں ہوتا۔ منتر سے پہلے میں تمہارے زخم اس کتے میں منتقل کر دوں گی۔"
اس نے وہی کر دکھایا۔ میں رسیوں سے بندھا تھا، لیکن محسوس کر سکتا تھا کہ میرے جسم پر ایک بھی زخم باقی نہ رہا تھا۔
چھمیا نے کیدار سے کہا: "میں اس کتے کو باہر ہانک کر آتی ہوں۔ تم اس لڑکے کو لے کر چلو۔"
وہ کتا تو تھا، جسے وہ دم سے پکڑ کر باہر لے گئی، لیکن میں انسان تھا۔ کیدار نے مجھے بالوں سے گھسیٹ کر کمرے کے وسط میں بنے سندوری دائرے کے اندر لایا، جیسے قصائی جانور کو قربان کرنے کے لیے بے رحمی سے کھینچتا ہے۔ تکلیف سے میری آنکھوں میں پانی آ گیا۔
سندوری کنڈل کے اندر لکڑی کا ایک کندہ پڑا تھا اور پاس ہی وہ داؤ تھا، جس سے میری گردن کاٹی جانی تھی۔ دو انگیٹھیاں دہکتے انگاروں سے بھری تھیں، جن سے دھواں اٹھ رہا تھا۔ کمرہ دھوئیں سے بھر گیا تھا۔
کیدار نے زور لگا کر مجھے الٹا کیا۔ میں تڑپ رہا تھا، لیکن رسیاں اتنی مضبوط تھیں کہ ہلنا ممکن نہ تھا۔ وہ مجھے گھسیٹ کر کندے کے پاس لایا اور میری گردن کندے پر رکھ دی۔ لکڑی کے کنارے پر میری ٹھوڑی لگی تو میرا سر ذرا اوپر اٹھ گیا۔
چھمیا ذرا دور بیٹھ کر اپنا جاپ شروع کر چکی تھی۔ وہ جوش سے بلند آواز میں منتر پڑھ رہی تھی۔ سامی کا دور دور تک پتا نہ تھا۔ میں نے دل میں دعا کی: "سامی، ادھر نہ آنا، کبھی نہ آنا!"
میں نے کن اکھیوں سے کیدار کو دیکھا۔ وہ داؤ ہاتھ میں اٹھائے تیار بیٹھا تھا۔ میرے دماغ میں سنسناہٹ ہو رہی تھی۔ مجھے موت کا خوف نہ تھا، لیکن زندگی کی تمنا تھی۔ میری نگاہیں دروازے پر جمی تھیں۔ میں آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑنے کو تیار تھا۔
اتنے میں کہیں سے سامی کی آواز آئی: "میاؤں…"
کیدار نے داؤ بلند کیا۔ میرے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ "میاؤں، میاؤں…" وہ آ گئی تھی۔ دروازے میں دو پنجے آگے، دو پیچھے، وہ کشمکش میں تھی کہ آگے جائے یا نہ جائے۔
اسے دیکھتے ہی چھمیا جوشیلے انداز میں چیخ چیخ کر منتر پڑھنے لگی۔ میں نیم وا آنکھوں سے برآمدے میں دیکھ رہا تھا، جہاں سامی بلی کے روپ میں فرش پر لوٹ رہی تھی۔ وہ منتر کے اثرات سے بچنے کی کوشش کر رہی تھی، تڑپ رہی تھی۔ اس کی کوشش ناکام ہو رہی تھی، لیکن اس کی جدوجہد سے اس کی ضد ظاہر ہو رہی تھی۔ شکست کے باوجود اس نے ہمت نہ ہاری تھی۔
اب لڑنے کی باری میری تھی۔ میری صلاحیتوں کو آزمانے کا وقت آ گیا تھا۔ منتر کے زیر اثر سامی فرش پر اٹھ کر کمرے کی طرف کھچی چلی آ رہی تھی۔ دروازے پر پہنچ کر جونہی اس نے کنڈل کی طرف دیکھا، اس کی نگاہیں میری نگاہوں سے ٹکرائیں۔ میری آنکھوں سے شعلہ لپکا، ایک بجلی سی لہر سامی کی آنکھوں سے ٹکرائی۔ وہ میری نگاہوں کی گرفت میں آ گئی۔ اس کے اگلے پاؤں دہلیز کے اندر تھے، اور وہ مجھے ایک ٹک دیکھتی سوچ رہی تھی: "یہ کون ہے؟ اس کی آنکھیں کیسی غضب ناک ہیں؟ کاش یہ مجھے ایسے ہی دیکھتا رہے۔ مجھے کتنا سکون مل رہا ہے!"
میں نے اس کی سوچ میں کہا: "تم میری نگاہوں کی گرفت میں ہو۔ بس یوں ہی دیکھتی رہو۔ اپنے خیالات ان سلگتی آنکھوں تک محدود کر لو۔ ان کے زیر اثر آ جاؤ۔ باقی کوئی آواز نہ سنو۔"
اس کی سوچ نے کہا: "ہاں، میں تمہارے زیر اثر آ گئی ہوں۔ باقی سب آوازیں مدھم ہو رہی ہیں، لیکن چھمیا کی ہلکی آواز مجھ تک آ رہی ہے۔"
وہ ٹھیک کہہ رہی تھی۔ چھمیا کے منتر کمزور نہ تھے۔ سامی بے اختیار کھچتی ہوئی کمرے میں آ گئی تھی۔ چھمیا دونوں ہاتھ اٹھا کر فاتحانہ انداز میں منتر پڑھ رہی تھی۔ اس کی جیت ہونے والی تھی۔ اس کے منتر نے سامی کو ذرا اور اپنی طرف کھینچ لیا تھا۔ سندوری ریکھا سے صرف دو انچ کا فاصلہ بچا تھا۔
میں نے بیک وقت تنویمی کیفیت اور خیال خوانی سے کام لیا۔ سامی کو آگے نہ بڑھنے دینے کے علاوہ، میں چھمیا کی سوچ میں بار بار کہہ رہا تھا: "یہ میں کیا پڑھ رہی ہوں؟ میں منتر بھول گئی ہوں! میں کیا کروں؟"
چھمیا پڑھتے پڑھتے اچانک رک گئی۔ اس کی سوچ بن کر میں نے کہا: "یہ میں کیا کر رہی ہوں؟ میرا آخری موقع ضائع ہو گیا تو میں کہاں جاؤں گی؟"
وہ سوچنے پر مجبور ہو گئی، اور اس پل منتر کا تسلسل ٹوٹ گیا۔ یہ پل ہم نے ضائع نہ کیا۔ میں نے سامی کے دماغ میں کہا: "بھاگو! یہاں سے جتنی دور بھاگ سکتی ہو، بھاگ جاؤ!"
چشم زدن میں سامی پلٹی اور بجلی کی تیزی سے چھلانگ مار کر باہر کا دروازہ کراس کر گئی۔ چھمیا اور کیدار کو پتا بھی نہ چلا کہ میں ٹیلی پیتھی سے ان کی بازی پلٹ رہا ہوں۔ چھمیا چیختی ہوئی کیدار سے بولی: "بھاگو، پکڑو اسے! اگر وہ یہاں سے چلی گئی تو منتر ضائع ہو جائے گا!"
کیدار داؤ وہیں میرے پاس رکھ کر اسی حلیے میں بلی کے پیچھے بھاگا۔ چھمیا مجھ سے بے خبر دروازے کی طرف منہ کر کے دوبارہ منتر پڑھنے لگی۔ وہ سامی کو واپس لانے کی پوری کوشش میں تھی۔
میں نے احتیاط سے اپنی رسیوں کو داؤ پر رگڑنا شروع کیا۔ چند لمحوں میں میرے ہاتھ آزاد ہو گئے۔ میں نے آہستہ سے رسیوں کو پیچھے دھکیلا۔ میں آزاد ہو چکا تھا۔ دل چاہ رہا تھا کہ قہقہے لگاؤں، لیکن وقت نہ تھا۔ میں نے پیچھے سے چھمیا کی گردن دبوچ لی۔ اس کی منتر والی آواز گھٹ کر رہ گئی۔ وہ پیچھے مڑ کر اپنے دشمن کو دیکھنا چاہتی تھی۔ میں نے اس کے کان میں کہا: "تمہارے دن ختم ہو گئے، چھمیا! اب میرا کھیل دیکھو!"
میں نے جھپٹ کر اس کا دوپٹہ اس کے منہ میں ٹھونس دیا تاکہ اس کا منتر بند ہو جائے۔ وہ ساکت بیٹھ گئی۔ شاید اس نے اپنی شکست دیکھ لی تھی۔ میں نے رسی سے اسے اچھی طرح باندھا اور کندھے پر لاد لیا۔ میں اسے پیچھے نہیں چھوڑ سکتا تھا، کیونکہ رکشا کنڈل سے نکل کر اسے ڈھونڈنا ناممکن تھا۔
چھمیا کو لے کر میں باہر نکلا اور سامی کے دماغ سے رابطہ کیا۔ وہ قریب ہی ایک آم کے درخت پر چڑھی ہوئی تھی، اور کیدار نیچے کھڑا تھا۔ میں چھمیا کو اٹھائے اس طرف بڑھنے لگا۔ میرے ہاتھ میں وہی داؤ تھا، جس سے کیدار میری گردن کاٹنا چاہتا تھا۔
میں سامی سے مسلسل دماغی رابطے میں تھا۔ وہ اپنی سوچ کو جھٹک رہی تھی اور اپنی فطرت کے مطابق مجھ پر اعتماد نہ کر رہی تھی۔ میں نے اس کی سوچ میں کہا: "وہ سلگتی آنکھیں یاد کرو جنہوں نے تمہیں جکڑ لیا تھا!"
وہ میری آنکھوں کو یاد کرنے لگی۔ اس کے دماغ میں میری سوچ کی لہریں سکون پہنچانے لگیں۔ اس دوران میں نے وہ درخت ڈھونڈ لیا جہاں سامی چھپی تھی۔ میں نے چھمیا کو قریب ایک درخت سے باندھ دیا اور دبے پاؤں اس طرف چلا جہاں سامی تھی۔
میں نے اس کی سوچ میں کہا: "میں فرہاد علی تیمور ہوں۔ میں تمہاری مدد کرنا چاہتا ہوں۔ جتنی دیر میں وہاں نہ پہنچ جاؤں، تم کیدار کو اپنی اچھل کود سے مصروف رکھو۔"
اس کی سوچ نے کہا: "مجھے وہ سلگتی آنکھیں اور ساحرانہ نظر یاد آ رہی ہے۔" وہ بے چینی سے سوچنے لگی۔ میں سمجھ گیا کہ کیدار اسے پکڑنے کے لیے حربے استعمال کر رہا ہے۔
تھوڑی دور جا کر مجھے کیدار نظر آ گیا۔ اس کا تیل چپڑا بدن چاندنی میں چمک رہا تھا۔ وہ اچھل اچھل کر سامی کو پتھر مار رہا تھا۔ سامی اس سے بچنے کے لیے چھلانگیں لگا رہی تھی۔ میں نے فیصلہ کیا کہ پہلا حملہ اتنا شدید ہو کہ اسے مزاحمت کا موقع نہ ملے۔
میں اس کے قریب پہنچا تو شاید اس کی چھٹی حس نے خبردار کر دیا۔ وہ یک دم پلٹا۔ میں نے داؤ گھما کر اس کی بائیں ٹانگ پر وار کیا۔ وہ چیختا ہوا گر گیا۔ اس کا پاؤں کٹ کر ایک طرف جا گرا۔ میں نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اس کی دوسری ٹانگ بھی کاٹ دی۔ وہ چیخ چیخ کر چھمیا کو بلا رہا تھا، کیونکہ وہی اسے ہر مشکل سے بچاتی تھی۔
میں نے اسے وہیں چھوڑ کر سامی کی طرف دیکھا۔ وہ پھٹی آنکھوں سے میری فنکاری دیکھ رہی تھی۔ کیدار کو گرا دیکھ کر وہ درخت سے اتر آئی۔ نیچے آتے ہی وہ بھاگ کر میرے پاؤں میں لوٹنے لگی۔ میں نے اس کی سوچ میں جھانکا۔ وہ کہہ رہی تھی: "میرے محسن، میرے دیوتا، میں آپ کا یہ احسان کبھی نہ بھولوں گی۔ آپ نے میری جان بچائی!"
میں نے اسے گود میں اٹھا کر سینے سے لگا لیا۔ مجھے لگا جیسے برسوں کا بچھڑا محبوب مل گیا ہو۔ وہ آنکھیں بند کیے میرے ساتھ لگی پیار مانگ رہی تھی۔ میں نے کہا: "اب میں تمہیں چھمیا سے تمہارا جسم واپس دلواؤں گا۔"
وہ میری سوچ میں بتانے لگی: "ایک تدبیر ہے۔ اگر ہم دونوں روحوں کی منتقلی کا منتر پڑھیں تو جو جیتے گا، اسے وہ جسم مل جائے گا۔"
میں نے حیرت سے پوچھا: "یہ تمہیں کیسے پتا؟"
وہ میرے گلے میں بانہیں ڈالے جھول رہی تھی۔ "چھمیا کے گرو مہاراج نے اسے بتایا تھا۔ میں نے یاد کر لیا۔"
"چلو، ٹھیک ہے۔ اب تم دونوں میرے ساتھ چلو۔ کل صبح تم دونوں کا مقابلہ ہوگا۔ مجھے پکی امید ہے کہ تم جیت جاؤ گی۔"
میں نے چھمیا کی رسیاں کھولیں اور اسے آگے چلنے کو کہا۔ رات کے اس پہر مجھے دیکھ لیے جانے کا ڈر نہ تھا۔ ہم تینوں دس منٹ میں سڑک تک آ گئے۔ میں نے چھمیا کا منہ کھول دیا۔ سامی نے پریشانی سے مجھے دیکھا۔ وہ میری گود میں تھی۔ ایک پل کے لیے بھی اسے الگ کرنے کا دل نہ کر رہا تھا۔ میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا: "فکر نہ کرو، میں چھمیا کو منتر نہیں پڑھنے دوں گا۔"
چلتے چلتے ہم نے ایک ٹیکسی روکی اور اس میں سوار ہو کر کوٹھی کے گیٹ پر اتر گئے۔ اس دوران چھمیا نے ایک بار بھی منتر پڑھنے کی کوشش نہ کی۔
پھوپھو نے دروازہ کھولا تو مجھے ایک خوبصورت لڑکی کے ساتھ دیکھ کر ٹھٹھک گئیں۔ میں چھمیا اور سامی کو لے کر اپنے کمرے میں آ گیا۔ چھمیا چپ چاپ بیڈ پر بیٹھ گئی۔ مجھے اس کی شرافت پر بھروسہ نہ تھا۔ میں نے دوبارہ اس کا منہ باندھ دیا۔ سامی نے اشاروں سے بتایا کہ اس کی روح اب بلی کے جسم میں قید نہیں رہی۔ "میں بہت ہلکا پھلکا محسوس کر رہی ہوں۔"
میں نے حیرت سے چھمیا کی طرف دیکھ کر پوچھا: "کیوں، چھمیا، کیا تمہیں سامی کی ضرورت نہیں رہی؟"
اتنے میں پھوپھو نے دروازے پر دستک دی۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ اور زرینہ تفصیل جاننے کے لیے بے چین ہیں۔ میں نے سامی کو پیار کیا اور دروازہ کھول کر باہر نکل آیا۔ پھوپھو پریشانی سے کھڑی تھیں۔ مجھے دیکھتے ہی میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے کمرے میں لے آئیں۔
"فرہاد، یہ کیا ہے؟ یہ گھاگھرے والی جوان لڑکی کون ہے؟ ہمیں بھی تو پتا چلے تم کیا کرتے پھرتے ہو؟ تم کہاں غائب تھے؟"
میں نے ایک ایک بات تفصیل سے بتائی اور کہا کہ وہ زرینہ کو لے کر ایک دن کے لیے شاہ پور چلی جائیں۔ وہ میری بات سے فوراً متفق ہو گئیں۔ شاید جادو منتر نے انہیں ڈرا دیا تھا۔
اگلی صبح جب میں ناشتہ لے کر کمرے میں گیا تو چھمیا بستر پر سو رہی تھی، اور سامی کسی پہرے دار کی طرح اس کے پاس بیٹھی تھی۔ یہ دیکھ کر میری ہنسی چھوٹ گئی۔ سامی منہ پھیر کر بیڈ کے نیچے چھپ گئی۔ میں نے پیار سے پچکارتے ہوئے کہا: "میرا وہ مطلب نہیں، تم باہر آؤ، شاباش، ناشتہ کرو!"
میری آواز سن کر چھمیا اٹھ کر بیٹھ گئی۔ میں نے اس کا منہ کھولا اور اس کے منہ میں نوالے ڈالنے لگا۔ وہ آہستہ آہستہ کھانے لگی۔ میں نے اس کی سوچ پڑھی۔ وہ دل ہی دل میں کہہ رہی تھی کہ اسے سامی پوکر کا جسم چھوڑ کر کسی اور خوبصورت لڑکی کے جسم میں منتقل ہو جانا چاہیے۔ "اس لڑکی نے مجھے برباد کر دیا۔ مجھے بہت پہلے گرو کی بات مان لینی چاہیے تھی۔ میری ضد نے مجھے کہیں کا نہ چھوڑا۔ میرا دلبر، میرا کیدار بھی مجھ سے بچھڑ گیا۔ بس، مجھے اس لڑکی کے جسم میں نہیں رہنا!"
میں نے خیال خوانی سے محسوس کیا کہ وہ باہر گیٹ پر ہے۔ یک دم مجھے کسی گڑبڑ کا احساس ہوا۔ یہ سامی کا جسم نہیں تھا، کوئی اور تھی! میں نے آنکھیں کھول کر کمرے میں دیکھا۔ سامی اپنے جسم میں بیٹھی مسکرا رہی تھی!

0 تبصرے