دیوتا - 9

devta urdu novel urdu font


میں سوچ رہا تھا کہ یا تو میں سامی کا سہارا لے کر خود کو بچاؤں گا، یا عادت کے مطابق سامی میرا سہارا لے گی۔ ایسے وقت ہم ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم بن جائیں گے۔ میں آنکھیں بند کیے سوچ رہا تھا کہ ہم کس طرح ایک دوسرے کے کام آ سکتے ہیں۔ اسی وقت چھمیا نے میرے بازو کو جھنجھوڑ کر پوچھا: "کیا سو گئے ہو؟"

میں نے آنکھیں کھول کر مسکرایا۔ "نہیں، میں سامی کے متعلق سوچ رہا ہوں۔ وہ جس طرح اب تک تمہیں چکما دیتی آئی ہے، آج بھی وہ ضرور گڑبڑ کرے گی۔ میں رسیوں سے بندھا ہوا ہوں۔ کیدار میری بے بسی کا فائدہ اٹھا کر مجھے رکشا کنڈل میں گھسیٹ لے جائے گا، لیکن سامی وہاں نہیں آئے گی۔"

وہ قہقہہ لگانے لگی۔ میرے سامنے سامی کا خوبصورت بدن چھمیا کی زہریلی ہنسی کی تال پر تھرک رہا تھا۔ "میرے منتر اسے رکشا کنڈل میں کھینچ لائیں گے! جب وہ رکشا کنڈل کے قریب آئے گی تو میں منتر پڑھنے میں غلطی نہیں کروں گی۔ میں کیدار نہیں ہوں کہ منتروں کا الٹ پھیر بھول جاؤں۔ آج اس کا آخری دن ہے!"

"تو کیا تمہارے چلیتر کے چالیس دن پورے ہو گئے ہیں؟"
"ہاں، چالیس دن تو دلی میں ہی پورے ہو گئے تھے، اور سامی کی روح بلی کے جسم میں قید ہو گئی تھی۔ لیکن ایک روز سامی نے عجیب گڑبڑ کر دی۔" چھمیا نے میرے پاس سے اٹھ کر دیوار سے ٹیک لگا لی۔

"ہوا یوں کہ جاپ پورا کرنے کے لیے ہم دلی کے محلہ گھنسی رام میں ایک مکان کرائے پر لے کر رہنے لگے۔ سامی اپنی عادت کے مطابق ہر وقت ہمارے ساتھ سائے کی طرح لگی رہتی۔ شاید وہ یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ ہم یہاں کیوں رہ رہے ہیں۔

ایک بار میں اسے گود میں اٹھا کر پرچون کی دکان پر کچھ لینے گئی۔ وہاں اور بھی گاہک کھڑے تھے۔ ایک گاہک نے دوکاندار کو اٹھنی دی۔ دوکاندار نے اسے لے کر کاؤنٹر پر رکھ دی۔ سامی نے اچانک چھلانگ لگائی، دوکاندار کی گدی پر چڑھ گئی، اور اٹھنی پر پنجہ مارنے لگی۔ دوکاندار نے اٹھنی کو غور سے دیکھا تو وہ کھوٹا سکہ تھا۔

سارے گاہک حیران رہ گئے۔ ایک گاہک نے کہا: ‘کیسی بلی ہے! کھرے اور کھوٹے کی پہچان رکھتی ہے۔’
باقی کہنے لگے: ‘ہو سکتا ہے یہ اتفاق ہو۔ اس اٹھنی کو سارے سکوں میں ملا دو۔’
دوکاندار نے اٹھنی اٹھا کر باقی سکوں میں مکس کر دی۔ سامی نے سارے سکوں کو الٹ پلٹ کیا، پھر کھوٹے سکے کو منہ میں دبا کر سامنے رکھ دیا۔ سب تالیاں بجانے لگے۔

وہاں ایک پنڈت جی موجود تھے۔ وہ بولے: ‘یہ کسی ناری کا دوسرا جنم ہے۔ ہو سکتا ہے یہ پچھلے جنم میں ناری ہو اور اس جنم میں اپنے پاپوں کی سزا کے طور پر بلی بن گئی ہو۔’

سامی یہ سن کر غرانے لگی۔ پنڈت جی ڈر کر پیچھے ہٹ گئے اور وہاں سے رفوچکر ہو گئے۔
میں اس بات کو کھیل تماشا سمجھ کر خاموش رہی، مگر مجھے وہ تماشا بہت مہنگا پڑا۔ ذرا سی دیر میں سامی کی شہرت ہو گئی کہ مرد، عورتیں، اور بچے اسے دیکھنے کے لیے میرے مکان پر آنے لگے۔ وہ سب یہی سمجھتے تھے کہ سامی پچھلے جنم میں ناری تھی اور اب اپنے پاپوں کی سزا کے طور پر بلی بن چکی ہے۔ میں عجیب مصیبت میں پھنس گئی تھی۔ میں انہیں اپنے مکان میں آنے سے روک بھی نہیں سکتی تھی کیونکہ یہ مذہبی معاملہ بن گیا تھا۔ لوگوں کی بھیڑ رہنے لگی۔ میرے مکان کے سامنے ایک چھوٹا سا ہوٹل تھا، جو خوب چلنے لگا۔

اگرچہ میرے منتر سے سامی بلی کے جسم میں قید ہو گئی تھی، لیکن وہ عجیب و غریب تماشے کرتی رہتی۔ ایک دن وہ ہوٹل کی میز پر رکھے اخبار پر جا کر بیٹھ گئی اور ایسے دیکھنے لگی جیسے پڑھ رہی ہو۔ وہ تماشا اتنا دلچسپ تھا کہ لوگوں کا ہجوم دیکھنے کھڑا ہو گیا۔ کچھ لوگ کہتے تھے کہ یہ بلی بس تماشے کرتی ہے، اور کچھ کا خیال تھا کہ یہ پچھلے جنم کی پڑھی لکھی ناری تھی۔ ہجوم دو گروہوں میں بٹ گیا۔

ہوٹل کے مالک نے کہا: ‘ٹھہرو، ایک طریقہ ہے۔ اس میز پر دس دن کے پرانے اخبار رکھے ہیں۔’ اس نے ایک پرچی بلی کے سامنے رکھی، جس پر لکھا تھا: ‘سترہ تاریخ کا اخبار نکالو۔’

میں اور کیدار بے بسی سے دیکھ رہے تھے۔ مجھے منتر پڑھتے ہوئے اڑتیس دن ہو گئے تھے۔ صرف دو دن باقی تھے، اور یہ تماشا شروع ہو گیا تھا۔ میں اس وقت اسے وہاں سے اٹھا کر نہیں لے جا سکتی تھی، ورنہ سب لوگ ہمارے پیچھے لگ جاتے اور میرے کئی راز کھل جاتے۔ سوائے خاموشی کے میرے پاس کوئی راستہ نہ تھا۔

سامی نے پرچی کو غور سے دیکھا، پھر اخبار الٹ پلٹ کرنے لگی۔ چار پانچ منٹ کے بعد اس نے سترہ تاریخ کا اخبار منہ میں دبا کر ہوٹل کے مالک کے سامنے رکھ دیا۔ سارا مجمع سکتہ طاری رہ گیا؟ ایک بلی نے ایسا حیران کن کام کیا تھا۔ وہاں موجود ایک فوٹوگرافر سامی کی تصویریں بنانے لگا۔

یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ میں نے اور کیدار نے فیصلہ کیا کہ آج رات اسے کہیں دور جنگل میں لے جائیں گے اور رکشا کنڈل بنا کر جااپ پورا کریں گے۔ رات کو جب ہوٹل بند ہوا اور سناٹا چھا گیا، ہم اپنا سامان باندھنے لگے۔ اتنے میں باہر دستک کی آواز آئی۔ ساتھ ہی فوجی بوٹوں کی دھمک سنائی دی۔ میں نے دروازہ کھولا تو وہاں فوجی نظر آئے۔ ایک آفیسر اور تین مسلح جوان گھر میں گھس آئے۔ اندر آتے ہی پوچھا: "بلی کہاں ہے؟"

میرا کلیجہ دھک سے رہ گیا۔ میں کوئی بہانہ بنانا چاہتی تھی کہ سامی نے چارپائی کے نیچے سے میاؤں کی آوازیں نکالنا شروع کر دیں۔ میں نے ہونٹ بھینچ کر دیکھا۔ وہ چارپائی کے نیچے بیٹھی تھی۔ ایک فوجی نے اسے نکال لیا۔

"سب دروازے اور کھڑکیاں بند کر دو!" آفیسر نے حکم دیا۔
فوجیوں نے آگے بڑھ کر سب دروازے اور کھڑکیاں بند کر دیں۔
"اب وہ فائلیں لاؤ!"

تھوڑی دیر بعد ایک جوان ڈھیر ساری فائلیں لے کر آ گیا۔ آفیسر نے ایک پرچی پر لکھا: ‘سیکریٹ سروس کی کانفیڈینشل فائل نکال کر دو۔’ اور اسے آہستگی سے سامی کے سامنے رکھا۔

اس کے لیے یہ کون سا مشکل کام تھا؟ تھوڑی دیر بعد اس نے فائلوں کے ڈھیر سے وہ فائل، جس پر انگریزی میں ‘ایس-ایس-سی’ لکھا تھا، منہ سے پکڑ کر کھینچ لی۔ آفیسر کی آنکھیں کسی خیال سے چمکنے لگیں۔ اس نے سامی کو گود میں اٹھا کر کہا: یہ ہمارے ساتھ جائے گی۔ ان دونوں کو حراست میں لے لو!"

یہ کہہ کر وہ سامی کو لے کر چلا گیا۔ ہمیں ماننا پڑا۔ جادو، ٹونا، منتر عقل کے آگے بے بس ہیں۔ سامی ہمیں ذہانت سے شکست دے رہی تھی۔ میرا جاپ ادھورا رہ گیا۔ وہ ہمیں ایک ایسی عمارت میں لے گئے جہاں فوجیوں کا پہرا تھا۔

کچھ دیر بعد ہمیں ایک سجے سجائے کمرے میں ایک بڑے افسر کے سامنے پیش کیا گیا۔ وہ شراب پی رہا تھا۔ سامی سامنے ایک کرسی پر بیٹھی تھی۔ وہ مجھ سے سامی کے متعلق طرح طرح کے سوال کرنے لگا۔

میں نے ہاتھ باندھ کر کہا: "سرکار، ہم سیدھے سادے دیہاتی گنوار لوگ ہیں۔ اس بلی کی شعبدہ بازی سے کچھ پیسے کما لیتے ہیں۔"

"یہ بلی تمہیں کہاں سے ملی؟"
"سرکار، یہ ہم نے محبت سے نہیں رکھی۔ یہ ہماری جان نہیں چھوڑتی! ہم تو اسے چھوڑنا چاہتے ہیں۔ یہ بلی ہر وقت کوئی نہ کوئی مصیبت کھڑی کیے رکھتی ہے۔"
"کیسی مصیبت?"
"سرکار، یہ کسی مرد کو میرے پاس نہیں آنے دیتی، حتیٰ کہ میرے شوہر کو بھی نہیں!"
افسر میری بات پر حیران رہ گیا۔۔ کیدار سے کہا: "ابھی دیکھتے ہیں۔ چلو، اپنی بیوی کو پیار کرو!"
کہ وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگا۔ اسے معلوم تھا کہ اگر وہ میرے قریب آیا تو سامی حملہ کر دے گی۔ افسر نے ناگواری سے اسے دیکھا: "بھوانی شنکر، چلو، تم یہ کام کرو اگر اس کا شوہر راضی نہیں!"

بھوانی شنکر وہی افسر تھا جو ہمیں یہاں لایا تھا۔ جونہی اس نے میرے پاس آ کر بازو پکڑے، سامی نے اچھل کر اس کی گردن پر پنجہ دے مارا۔! بھوانی شنکر حیرت اور غصے سے لڑکھڑا کر پیچھے ہٹ گیا۔۔ پھر بلی کو نظر انداز کر کے میری کمر میں ہاتھ ڈال کر مجھے اپنی طرف گھسیٹا۔ یہ دیکھ کر سامی نے اس کے کندھوں پر چڑھ کر پاگلوں کی طرح نوچنا شروع کر دیا! بھوانی شنکر نے ایک جھٹکے سے اسے دور پھینکا۔

اس دوران بڑا افسر، جو دلچسپی سے دیکھ رہا تھا، بولا: "بس، بس، بھوانی! اتنا کافی ہے۔ اس بلی کو لے جاؤ!"
میں نے سوچا کہ اگر بلی ہم سے جدا ہو گئی تو ہم ہمیشہ کے لیے اس قید خانہ میں بند ہو جائیں گے۔ میں نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا: "سرکار، بلی کو ہم سے دور نہ کریں! یہ میرے بغیر نہ رہ سکے گی۔ کسی نہ کسی طرح مجھے ڈھونڈ نکالے گی!"

افسر نے غصے سے کہا: "تم دونوں کی پوری تفتیش ہوگی۔ ہمارا خیال ہے کہ تم جاسوس ہو!"
کیدار کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ وہ روتے ہوئے گڑگڑانے لگا: "مائی باپ، ہم وطن کے خلاف کوئی کام سوچ بھی نہیں سکتے۔ گنوار اور جاہل ہیں، لیکن غدار نہیں، سرکار!"
"تم دونوں کی تفتیش جاری ہے۔ ابھی جاؤ!" کرنل نے ایک فوجی کو اشارہ کیا۔

ہمیں ایک خواب گاہ میں لے جایا گیا، جہاں بھوانی شنکر سامی کو گود میں اٹھائے کھڑا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی سامی اچھل کر میرے پاؤں میں آ کر بیٹھ گئی۔ مجھے دل ہی دل میں سامی کے ناٹک پر سخت تاؤ آیا۔ بھوانی شنکر جانے لگا تو کہا کہ کیدار کو کسی دوسرے کمرے میں لے جاؤ کیونکہ یہ بلی ہمیں ساتھ نہیں رہنے دیتی۔ کیدار بادل نخواستہ بھوانی شنکر کے ساتھ دوسرے کمرے میں چلا گیا۔ میں بیڈ پر لیٹ گئی۔ سامی میری طرف نظریں جمائے کرسی پر بیٹھی تھی۔

اتنا تو مجھے پتا چل گیا تھا کہ یہ فوجی سامی سے کوئی کام لینا چاہتے ہیں، اور جب تک سامی زندہ ہے، میں اس کے ساتھ ہوں۔ وہ اپنے جسم کو کچھ نہیں ہونے دے گی۔ میں اپنی زندگی کے لیے اس لڑکی پر امید باندھ رہی تھی، جس کا جسم میں نے چھینا تھا اور اسے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا تھا۔ ہے نہ حیران کن بات؟

چھمیا نے قہقہہ لگاتے ہوئے میری طرف دیکھا۔
اگلے دن صبح ناشتے پر ہمیں لذیذ کھانے پیش کیے گئے، اور مجھے حکم ملا کہ سامی کی پسندیدہ چیزیں اسے کھلاؤں۔ میں نوکرانی بن کر اس کی خدمت کر رہی تھی اور اندر ہی اندر جل بھن کر کباب ہو رہی تھی۔ دوپہر کے قریب ہمیں اسی افسر کے کمرے میں دوبارہ بلایا گیا۔ وہاں بھوانی بھی موجود تھا۔

بھوانی نے ہمیں دیکھتے ہی مکارانہ انداز میں کہا: "میں تمہاری اصلیت جان گیا ہوں۔ تم دونوں پتی پتنی نہیں ہو! تم نے ٹرین میں ایک انسپکٹر کو قتل کیا، راجا راجپت کے محل میں گھس کر راجا کو خنجر سے ہلاک کیا، اور پھر رانی کو جنگل میں لے جا کر مار ڈا! ہم نے تمہارے خلاف سب ثبوت حاصل کر لیے ہیں!"

یہ سن کر میرا اور کیدار کا رنگ فق ہو گیا۔ ہم بری طرح پھنس گئے تھے۔ ہمارے چہروں سے وہ سمجھ گئے کہ ہم جرائم پیشہ ہیں اور ان سب کے قاتل۔ ہم نے ان کے پاؤں پکڑ کر معافیاں مانگیں، منتیں کیں۔ وہ خاموشی سے ہماری آہ و بکاء سنتے رہے۔

بھوانی سامی کو لے کر کمرے سے چلا گیا تو وہ بوڑھا افسر ہمارے پاس آیا۔ "ایک شرط پر تم دونوں کو معافی مل سکتی ہے،" اس نے میرے گرد چکر کاٹ کر ڈرامائی انداز میں کہا۔

"سرکار، آپ جو کہیں گے، ہم ماننے کو تی ہیں!" کیدار نے اس کے آگے جھک کر کہا۔
"اگر تم دونوں ہمارے لیے دشمن ملک میں جاسوسی کرو گے تو ہم تم پھانسی کے پھندے سے بچا لیں گے۔"
میں نے نا سمجھی سے سر ہلایا: "صاحب، جو مرضی کروائیں! آپ ہی ہمارے ہیں۔ ہماری جان بخشی کر دیں، صاحب!"

"ٹھیک ہے۔ ابھی تم دونوں کی ٹریننگ ہوگی۔ پھر ہم آزما کر دیکھیں گے کہ تم کتنے وفادار ہو۔ اگر امتحان میں پورے اترے تو ہم تم ایک کام کے لیے دشمن ملک بھیجیں گے۔"

اس نے فوجیوں کو اشارہ کیا کہ ہمیں لے جاؤ۔ اگلے کئی دن وہ سامی کو کچھ سکھاتے۔ وہ پرچی پر کچھ لکھ کر اس کے آگے رکھتے، وہ کچھ اشارے کرتی، جیسے دائیں پنجے کو اوپر، گردن کو آسمان کی طرف، اور اسی طرح کی چیزیں۔ بھوانی شنکر اس کا انچارج تھا۔ میں ہمیشہ ساتھ ہوتی کیونکہ سامی مجھے ایک لمحے کے لیے بھی چھوڑنے کو تی نہیں تھی۔

چھ ماہ میں سامی اور بھوانی بہت کچھ سیکھ چکے تھے۔ ایک دن مجھے اور سامی کو کرنل کے کمرے میں طلب کیا گیا۔ وہاں ایک ادھیڑھ عمر کا انگریز بیٹھا تھا۔ اسے دیکھتے ہی سامی اچھل کر اس کی گود میں چلی گئی، لیکن وہ اسے نظر انداز کرتا ہوا دونوں بازو پھیلا کر میری طرف بڑھا۔ میں فوراً پیچھے ہٹ گئی۔ وہ انگریزی میں کچھ کہہ رہا تھا، جو مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا۔

کرنل نے کہا: "مسٹر جان پوکر، میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ یہ انگریزی نہیں جانتی۔ پھر آپ کی بیٹی کیسے ہو سکتی ہے؟"
میں سمجھ گئی کہ وہ سامی کا باپ ہے اور سامی کے جسم سے دھوکہ کھا رہا ہے۔ وہ کرنل کی بات پر یقین نہیں کر رہا تھا۔ اس نے ہندی میں کہا: "بیٹی، مجھے پہچان! میں تمہارا ہوں۔ یہ کیسے مان لوں کہ تم صرف اپنی ماں کی زبان جانتی ہو اور اپنے باپ کی نہیں؟"
"میں آپ کو نہیں جانتی۔ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں؟ میری ماں ہندوستانی عورت تھی۔ اس نے کسی انگریز سے شادی نہیں کی!"
"بیٹی، تم اپنی ماں کو کیسے بھول سکتی ہو؟ وہ تمہارے غم میں رو مر گئی ہے!"
سامی اس کے پاؤں لوٹ رہی تھی، اس کی ٹانگاہں چھو رہی تھی، لیکن اس کا باپ اس کی طرف نہیں دیکھ رہا تھا۔ وہ سامی کے جسم کو دیکھ رہا تھا، جو میرے قبضے میں تھا۔ وہ بلی کو نہیں دیکھ رہا تھا، جس کے اندر اس کی بیٹی چھپی ہوئی تھی۔ وہ اپنی ماں کے لیے رو رہی تھی، اس کے جوتوں پر سر رکھ رہی تھی۔

اس دنیا کی ہر محبت جسم کے شو کیس میں سجی ہے، اور جان پوکر بھی دھوکہ کھا رہا تھا۔ وہ بلی کو ٹھوکروں سے ہٹا رہا تھا اور مجھے اپنی بیٹی کہہ رہا تھا۔ میں انکار کر رہی تھی کیونکہ جن لوگوں نے مجھے رکھا تھا، وہی تین قتل کے الزام سے بچا سکتے تھے۔

جان پوکر بہت دیر اصرار کرتا رہا۔ سامی بے بسی سے دیکھ رہی تھی۔ وہ بار بار میری ساڑی کھینچ کر اپنے باپ کی طرف جاتی کہ میں اس کے سینے سے لگ جاؤں۔ وہ باپ، جو اسے پہچان نہیں پا رہا تھا، اسے نظر انداز کر رہا تھا، اسے گود میں نہیں اٹھا رہا تھا۔ پھر بھی وہ اپنی آرزو پوری کرنا چاہتی تھی کہ وہ اس کے جسم کو سنیے سے لگا لے۔ جب ایک رشتہ دوسرے رشتے کو گلے لگاتا ہے، اسے وہ خوشی ملتی ہے جو روح کی گہرائیوں میں اترتی ہے۔ سامی کا مقصد تھا کہ جان پوکر اس کے جسم کو گلے لگائے اور اس کی مسرتوں کو سامی اپنی روح میں محسوس کر سکے۔

میں اتنی نادان نہیں تھی کہ اس کے سینے سے لگ جاتی۔ میں مسلسل انکار کرتی رہی۔ کرنل نے بے زاری سے کہا: "مسٹر جان پوکر، آپ ہمارا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ یہ ایک خانہ بدوش لڑکی ہے۔ یہ اور اس کا ساتھ تین قتل کر چکے ہیں۔ کیا آپ کی بیٹی یہ جرم کر سکتی ہے؟"

کرنل نے کہا: "نہیں، میری بیٹی تو کسی جانور کو ذرا سی تکلیف بھی نہیں دے سکتی۔ وہ کسی انسان کو کیسے مار سکتی ہے؟"
میں دل ہی دل میں مسکرائی۔ جس لڑکی نے میرے سامنے تین قتل کیے، وہ سامی ہی تھی، تمہاری بیٹی!
کرنل اپنی جگہ سے اٹھ کر بولا: "تو پھر آپ ہماری بات مان لیجیے کہ یہ آپ کی بیٹی نہیں، صرف اس کی ہمشکل ہے۔"

جان بڑی مشکل سے جانے پر آمادہ ہوا۔ سامی نڈھال ہو کر ایک طرف بیٹھ گئی۔ اس کے جاتے ہی کرنل نے مسکرا کر مجھے دیکھا اور اپنی ماتحت عورت سے کہا: "ہم جانتے ہیں کہ یہ عورت جھوٹ بول رہی ہے، لیکن پھر بھی ہم نے اس کا ساتھ دیا کیونکہ ہم نے اس سے اس ملک کا ایک نہایت اہم کام لینا ہے۔‘"

یہ سب سن کر سامی نے دونوں کو غراتے رہ دیکھا۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ دونوں کو کچا چبا جائے۔ کرنل نے بھوانی شنکر کو آواز دی تو وہ دائیں طرف بنے کمرے سے نکل کر سامنے کرسی پر بیٹھ گیا۔

"گڈ، تو ہمارا منصوبہ تمہ سمجھ گئی ہوگی!" کرنل نے چٹکی بجا کر میری طرف دیکھا۔
سامی نے گرا کر کرنل پر چھلانگ لگائی، جسے بھوانی نے بروقت مداخلت سے بچا لیا۔ وہ بلی کو پکڑ کر کہا: "ایزی، ایزی، بیبی!"
سامی کی گرراحت دھیمی پڑ گئی۔ سب نے یہی سمجھا کہ اس کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا، لیکن میں جانتی تھی کہ وہ کتنی ضدی ہے۔ ایک بار اگر کسی کو دشمن سمجھ لے تو آخری وقت تک اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ میں سمجھ گئی کہ کرنل کا برا وقت آ چکا ہے۔

یہ کہہ کر چھمیا سانس لینے رکی۔ میں پیال پر بندھا پڑا تھا، جیسے میرے ہاتھ پاؤں ہی نہ ہوں۔ مجھے لگا کہ میں اپاہج ہو گیا ہوں۔ مجھے بڑی ندامت ہوئی۔ سامی ایک لڑکی ہو کر ہزاروں ہنگاموں کو جنم دے رہی تھی، قدم قدم پر دشمن کے دانت کھٹے کر رہی تھی، اور میں مرد ہو کر یوں پڑا تھا۔ کیا میں مردانگی کی توہین برداشت کر سکتا تھا؟ یہ سوال میرے دماغ میں ہتھوڑوں کی طرح بج رہے تھے۔ میں نے خود کو سمجھایا کہ اس وقت جسمانی طاقت کی نہیں، دماغی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ مجھے صبر سے کام لینا ہوگا۔

میں نے چھمیا سے کہا: "وہ اپنے باپ سے دوسری بار بچھڑ گئی۔ وہ ان لوگوں کو معاف نہیں کر سکتی تھی۔"
چھمیا دانت پیس کر بیٹھی تھی، جیسے سامی کو دندناتے ہوئے: "وہ دشمنوں کو معاف کرنا نہیں جانتی۔ اس رات اس نے لیڈی ایکس اور کرنل سے انتقام لے لیا!"
"کیسے؟" میں نے حیرت سے پوچھا۔

وہ گہری سانس لے کر بولی: "شروع میں پتا نہیں چلتا کہ وہ کیا سوچ رہی ہے۔ بھوانی سامی کو گود میں لے کر جا رہا تھا کہ اس نے اسے سگنل دیا۔ بھوانی نے کہا کہ یہ مجھ سے کچھ کہنا چاہتی ہے۔ اگر آپ اجازت دیں تو اسے دوسرے کمرے میں لے جاؤں؟ کرنل نے اجازت دے دی۔

چونکہ وہ مجھے تنہا نہیں چھوڑتی تھی، ہم تینوں دوسرے کمرے میں آ گئے۔ سامی نے دونوں پنجے اٹھا کر بھوانی کو سگنلنگ کے ذریعے کچھ کہا۔ وہ تمام باتیں نوٹ کر کے مجھے اور سامی کو چھوڑ کر باہر نکل گیا۔

میں حیرت سے سوچنے لگی کہ اب کون سا طریقہ ڈھونڈے گی؟ کیونکہ میں ہر شام پچاس بار منتر پڑھتی تھی تاکہ سامی کی روح بلی میں قید رہے۔ مجھے اطمینان تھا کہ جب تک وہ اس جسم میں قید ہے، وہ مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔

کچھ دیر بعد بھوانی دو فوجیوں کو لے کر کمرے میں آیا اور بولا: ‘اس بلی نے ہمیں کہا ہے کہ وہ ایک شرط پر ہماری بات مانے گی کہ تمہارے منہ پر ٹیپ لگا کر تمہیں ایک دن کے لیے قید کر دیا جائے۔ اتنی سی بات کے لیے ہم اسے ناراض نہیں کرنا چاہتے۔’

اس نے سپاہیوں کو اشارہ کیا۔ وہ میرے منہ پر ٹیپ لگانے لگے اور ہاتھ پیچھے باندھ دیے۔ میں ہکا بکا سامی کی چالاکی پر پیچ و تاب کھانے لگی۔ میرا منہ بند کرنے کا مطلب تھا کہ آج شام میں پچاس بار منتر نہ پڑھ سکوں گی۔ اگر منتر نہ پڑھا تو پچھلے منتر کا اثر ختم ہو جائے گا، اور سامی کی روح بڑی آسانی سے بلی کے جسم سے آزاد ہو جائے گی۔

سپاہی مجھے کمرے میں چھوڑ کر چلے گئے۔ سامی بھی پیچھے پیچھے کمرے میں داخل ہوئی۔ فوجی چلے گئے۔ میں نے کھا جانے والی نظروں سے سامی کو دیکھا۔ وہ فی الحال مجھے شکست دینے میں کامیاب ہو گئی تھی، لیکن اس کی ضد نے مجھے اور ضدی بنا دیا تھا۔

میں نے دروازے کے باہر جھانک کر دیکھا تو لیڈی ایکس کھڑی تھی۔ میں سمجھ گئی کہ وہ میرے پہرے پر ہے۔ میں آہستہ آہستہ بیڈ پر آ گئی۔ مجھے قطعی علم نہیں تھا کہ سامی کی اگلی چال کیا ہے۔ میں بالکل اندھیرے میں تھی۔ رات آہستہ آہستہ گزر رہی تھی۔ پتا نہیں کب میری آنکھ لگ گئی۔

اچانک گولی چلنے کی آواز سے میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے بھاگ کر لائٹ جلائی تو میرا دل دھک سے رہ گیا۔ میرا شک ٹھیک نکلا تھا۔ کرسی پر بلی کا بے جان جسم پڑا تھا۔ سامی کی روح آزاد ہو چکی تھی۔ میرے منتر کا اثر ختم ہو گیا تھا۔ میرا منہ بند تھا، اور ہاتھ پیچھے بندھے تھے۔ باہر فوجیوں کے بھاری بوٹوں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ میں نے چپ چاپ بیٹھنے کا فیصلہ کیا، کہیں سامی مجھ پر ایک اور قتل کا الزام نہ تھوپ دے۔

کچھ دیر ہڑبونگ جاری رہی، پھر خاموشی چھا گئی۔ بلی کا بے جان جسم کرسی پر پڑا تھا۔ اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی۔ بھوانی شنکر اور اس کے سپاہی اندر آ گئے۔ مجھے دیکھ کر وہ سیدھا میرے پاس آیا۔ اس نے بلی کو دیکھا تک نہیں، شاید سوچا کہ وہ سو رہی ہے۔

"کیا ہوا ہے؟" میں نے سرسامگی سے پوچھا۔
"لیڈی ایکس نے کرنل پر گولیاں چلا کر خودکشی کر لی۔ اس کی ٹانگیں بری طرح زخمی ہیں۔"

میں نے چاروں طرف دیکھا۔ سامی یہیں کہیں موجود تھی۔ دوسرے ہی لمحے بلی نے انگڑائی لی اور کرسی پر بیٹھ گئی۔ پوری کہانی میری سمجھ میں آ چکی تھی، لیکن میں بھوانی کو یہ نہیں بتا سکتی تھی۔ پہلی بار میں نے تحسین آمیز نظروں سے سامی کو دیکھا۔ وہ لڑکی مجھے پل پل حیران کر رہی تھی۔
اگلے دن ہم بھوانی شنکر اور اس کے دو آدمیوں کے ساتھ مشن پر روانہ ہو گئے۔

٭٭٭

ہم ٹرین سے کاٹھیاواڑ پہنچے۔ ہمارا لیڈر بھوانی شنکر تھا۔ میں اور کیدار، یعنی قادر بخش اور سلمیٰ قادر، میاں بیوی کے طور پر تھے۔ کاٹھیاواڑ سے غیر قانونی طور پر سرحد پار کر کے ہم مشرقی پاکستان کے شہر دیناج پور پہنچ گئے۔ وہاں ہمارے ڈومیسائل سرٹفکیٹ تیار تھے، جن کے مطابق ہم مشرقی پاکستان کے شہری تھے اور قیام پاکستان سے ڈھاکہ میں رہ رہے تھے۔ اگلے دن ہم ڈھاکہ کے لیے روانہ ہو گئے۔

جیسا کہ تم نے اخبارات میں پڑھا ہوگا، ان دنوں ڈھاکہ میں شدید سیلاب آیا تھا۔ جب ہم وہاں پہنچے تو ہر طرف پانی ہی پانی تھا۔ بھوانی شنکر نے بتایا کہ ہمارے کئی جاسوس ہمارے دیش کی خدمت کے لیے یہاں موجود ہیں۔ ہماری رہائش کا انتظام سکھائی بازار کے علاقے میں کیا گیا، جو بوڑھی گنگا کے قریب تھا اور اس لیے پانی میں ڈوبا ہوا تھا۔ گھروں کے اندر گھٹنوں تک پانی بھرا تھا۔ بھوانی نے بتایا کہ اس علاقے میں زیادہ تر ہندو رہتے ہیں۔ ہم ایک مکان کی دوسری منزل پر ٹھہرے۔ اسی گلی کے آخری سرے پر کالی ماتا کا مندر تھا۔ مجھے اور کیدار کو یہ جگہ پسند آئی۔ ہم مندر میں کہیں بھی رکشا کنڈل بنا کر اپنا منتر پڑھ سکتے تھے اور وہاں سے کوئی نوجوان بلی چڑھانے کے لیے مل جاتا۔
سامی ہمارے ساتھ تھی۔ بھوانی شنکر اس کی خدمت میں کوئی کسر نہ چھوڑتا تھا۔ وہاں بجلی کا نظام درہم برہم تھا، اور ہمارے کمرے میں لالٹین جل رہی تھی۔
رات کے دس بجے ایک شخص بھوانی سے ملنے آیا۔ اس نے بتایا کہ وہ سیکریٹ سروس کا ایجینٹ ہے اور کئی سالوں سے ہمارے دیش کی تخریبی کارروائیوں میں مصروف ہے۔ وہ اہم معلومات پر بات کرنے آیا تھا۔ اس کا نام سبھاش مکرجی تھا۔

چونکہ سامی مجھے ایک لمحے کے لیے بھی تنہا نہ چھوڑتی تھی، اس لیے جو بھی بات ہوتی، وہ اس کے سامنے ہوتی تھی۔ اس وجہ سے میں ان کے خاص معاملات میں شامل تھی۔ سبھاش مکرجی نے میری موجودگی پر اعتراض کیا تو بھوانی نے کہا: "یہ بلی کی سہولت کار ہے اور اسے چھوڑ کر نہیں جاتی۔"

مکرجی حیرت سے سامی کو دیکھنے لگا۔ اسے یقین نہ تھا کہ ایک بلی اتنے اہم معاملے میں سہولت کار بن سکتی ہے۔ اس نے بھوانی سے کہا: "مسٹر شنکر، یہ درست ہے کہ جانور کرتب دکھاتے ہیں، لیکن اس کیس میں آپ کسی جانور کی مدد نہیں لے سکتے۔ کل صبح دس بجے ایک ملک کا وزیر خارجہ گورنر ہاؤس آئے گا۔ وہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے معاہدہ کرے گا، اور وہ فائل سیکریٹری کے حوالے کر دی جائے گی۔ آپ بتائیں کہ آپ اس فائل کی مائیکرو فلم کیسے تیار کریں گے؟"
بھوانی نے مسکرا کر سامی کی پشت پر ہاتھ پھیرا۔ "میں کچھ نہیں کروں گا۔ کل صبح یہ بلی گورنر ہاؤس جائے گی۔ وہاں سخت سکیورٹی ہے، لیکن ایک بلی کو کون پوچھے گا؟ یہ مجھے وہاں کی ساری کارروائی نوٹ کر کے بتائے گی۔"
مکرجی کا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا۔ "یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ کیا ایک بلی یہ سب کر سکتی ہے؟"
بھوانی نے فخر سے سامی کو دیکھا۔ "یہ سب کچھ کر سکتی ہے! آپ یوں کریں، اس کے ساتھ دوسرے کمرے میں جائیں اور کوئی بات کریں۔"
سامی بھوانی کے پاس سے اٹھ کر میرے پاس آ گئی، کیونکہ وہ مجھے تنہا نہ چھوڑتی تھی۔ میں اسے گود میں لے کر مکرجی کے ساتھ دوسرے کمرے میں چلی گئی۔ مکرجی انگریزی میں آہستہ آہستہ سامی کو کچھ بتانے لگا۔ پھر ہم تینوں واپس بھوانی کے پاس آ گئے۔ سامی نے سگنلنگ کے ذریعے بھوانی کو کچھ سمجھانا شروع کیا۔ بھوانی ایک کاغذ پر نوٹ کرتا گیا، پھر مکرجی کو نوٹ کی ہوئی باتیں سنائیں۔ مکرجی حیرت سے آنکھیں پھاڑے سن رہا تھا۔
بھوانی بولا: "کیا یہ سب باتیں آپ نے سامی کو نہیں بتائی تھیں؟"
"ہاں!" مکرجی نے اعتراف کیا۔ "یہ وہی باتیں ہیں جو میں نے اسے بتائی تھیں، لیکن ایک بلی کیسے یہ سب سمجھ سکتی ہے؟ مجھے تو یہ کالا جادو لگتا ہے!"
"مکرجی، اگر یہ کالا جادو بھی ہے تو ہمیں کیا فرق پڑتا ہے؟ ہمیں تو اس سے اپنا کام لینا ہے، اور یہ ہمارے کام آتی رہے گی۔"
"لیکن اگر جادو کا اثر ختم ہو گیا تو یہ ہمیں گرفتار بھی کرا سکتی ہے!"
بھوانی نے پریشانی سے کہا: "یہ بات تو ٹھیک ہے، لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ کالا جادو ہو ہی نہ۔"
مکرجی سامی کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے بولا: "ہم چیک کر لیتے ہیں۔ کوئی مسئلہ نہیں۔ اس کونے میں جو مندر ہے، اس کے پجاری کو کالا جادو کا علم ہے۔ ہم بلی کو اس کے پاس لے جاتے ہیں۔"

مکرجی کی بات سن کر میں گھبرا گئی۔ یہ بڑی پریشانی کی بات تھی۔ اگر پجاری کو واقعی علم تھا تو وہ ہمیں پہچان لے گا۔ سامی خاموش بیٹھی تھی، شاید وہ سوچ رہی تھی کہ ساری حقیقت کھل جانے سے اسے کیا فائدہ یا نقصان ہو سکتا ہے۔

جونہی مکرجی اسے لے جانے کے لیے آگے بڑھا، سامی نے چھلانگ لگا کر کمرے سے باہر بھاگ گئی۔ سب اسے پکڑنے کے لیے بھاگے، لیکن وہ اتنی تیز تھی کہ قابو نہ آئی۔ بھوانی کے آدمی اسے پکڑنے کے لیے آگے بڑھے تو وہ دیوار پر چڑھ کر ساتھ والے مکان میں کود گئی۔ وہ مکان غیر آباد اور اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ سامی اس کے اندر جا کر غائب ہو گئی۔ بھوانی نے چلا کر اپنے آدمیوں سے کہا: "پکڑو اسے! بھاگو، دوسری طرف جانے نہ پائے!"

ایک آدمی نیچے اتر کر تیرتے ہوئے دوسرے مکان میں گیا، لیکن سامی وہاں سے پچھلے مکان کی چھت پر چلی گئی تھی۔ یوں رات کے گیارہ بج گئے۔ سامی ایک مکان سے دوسرے مکان میں بھاگتی رہی، پھر کچھ دیر بعد غائب ہو گئی۔

بھوانی نے سمجھا کہ وہ اب نہیں آئے گی، لیکن مجھے پتا تھا کہ وہ مجھے چھوڑ کر کہیں نہیں جائے گی۔ بارہ بجے منتر کا اثر ختم ہونا تھا، اور سامی کی روح بلی کے جسم سے آزاد ہو جاتی۔ میں نے جان بوجھ کر سامی کو ڈھیل دی اور منتر نہیں پڑھا۔ میں چاہتی تھی کہ سامی ضرورت پڑنے پر کسی اور کے جسم میں سما جائے، لیکن ہمیں یہاں سے نکال کر لے جائے۔

ساڑھے گیارہ بجے وہ کھڑکی پر آ کر بیٹھ گئی۔ بھوانی اسے پچکارنے لگا۔ وہ بھاگ کر اس کے پاؤں میں لوٹنے لگی۔ اس نے سامی کو گود میں اٹھا کر پیار کرنا شروع کیا۔ "دیکھو، مکرجی، یہ مجھ سے پیار کرتی ہے۔ اس لیے مجھے چھوڑ کر کہیں نہیں جائے گی۔ جانور ہے، شرارت سے ادھر اُدھر بھاگے گی تو سہی!" پھر پوچھا کہ وہ کہاں گئی تھی۔ سامی نے کچھ اشارے کیے تو وہ ہنستے ہوئے بولا: "خودا پہاڑ، نکلا چوہا! ساتھ والے گھر میں اسے ایک چوہا نظر آ گیا تھا!"

مکرجی ہنسنے لگا۔ "دیکھا، میں نہ کہتا تھا، جانور جانور ہی ہوتا ہے۔ یہ کسی بھی وقت کچھ بھی کر سکتا ہے۔ کیوں نہ ابھی پجاری کے پاس چل کر دیکھا جائے؟ صبح مندر میں بہت لوگ ہوتے ہیں، کوئی ہمارے بارے میں شک کر سکتا ہے۔"

بھوانی نے سر ہلایا، پھر اپنے آدمیوں سے کشتی گھر کے اندر لانے کو کہا۔ میں نے سوچا کہ مندر میں جا کر دیکھنا چاہیے۔ پجاری کا منتر بھی دیکھتی ہوں کہ وہ کیا کرتا ہے، اور وہیں اس کا نمٹاؤ کرتی ہوں۔ سامی نے بھی اشارے سے جانے کی حامی بھر لی۔

ہم سب نیچے اترے۔ چاروں طرف اندھیرا تھا۔ مانجھی لالٹین پکڑے کشتی میں ہمارا انتظار کر رہا تھا۔ ہم سب بیٹھ گئے۔ سامی بھوانی کے کندھوں پر سوار تھی۔ مانجھی نے چپو سیدھے کیے، اور ہم دو منٹ میں مندر کی سیڑھیوں پر پہنچ گئے۔ مانجھی نے کشتی کو ایک طرف درخت سے باندھ کر لالٹین اونچی کی اور ہمیں راستہ دکھایا۔

ہم سیڑھیاں چڑھ کر اوپر پہنچے تو کچھ لوگ پجاری کو کھاٹ پر اٹھائے کھڑے تھے۔ ہمارے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ پجاری جی کی طبیعت بہت خراب ہے۔ وہ بھلے چنگے بھوجن کر رہے تھے کہ اچانک انہیں کھانسی کا دورہ پڑا۔ ہم نے پانی پلایا، ہلایا، لیکن وہ بول نہیں پا رہے ہیں۔ پجاری نقاہت سے ہماری طرف دیکھ رہا تھا۔

میں نے سامی کی طرف دیکھا۔ وہ بھوانی کے کندھے سے لگی بیٹھی تھی۔ میں نے اشارے سے پوچھا: "تم نے اسے سندور کھلایا ہے؟" اس نے سر ہلا کر آنکھیں موند لیں۔ میں دل ہی دل میں اس کی چالاکی پر مسکرا اٹھی۔ وہ مکان سے غائب ہو کر پجاری کا قصہ پاک کرنے گئی تھی۔
میرے چہرے پر بے اختیار مسکراہٹ آ گئی۔ سامی میری توقعات پر پورا اتر رہی تھی۔
چھمیا نے میری طرف دیکھا۔ "کیا سوچ رہے ہو؟ تمہارے مرنے میں ابھی وقت ہے۔ تمہاری سامی آدھی رات کے بعد آئے گی، تب ہی میں تمہارے خون سے اسے نہلاؤں گی۔ وہ منتر کی قید سے نہیں نکل سکتی!"
میں نے چھمیا سے کہا: "میں سوچ رہا ہوں کہ سامی کی روح اس جسم میں آ کر کیسی لگے گی۔ ذہین اور خوبصورت لڑکی کی بات ہی الگ ہے۔ تم پر یہ جسم بالکل نہیں جچتا۔ میری مانو تو یہ جادو کا چکر چھوڑ دو اور اس کا جسم اسے واپس کر دو۔ جہاں تک میرا خیال ہے، وہ تمہارا پیچھا ہرگز نہیں چھوڑے گی!"
چھمیا غصے کی بجائے قہقہہ لگا کر ہنسنے لگی، پھر یک دم چپ ہو کر بولی: "سچ پوچھو تو ایک بار میرا بھی دل کیا کہ لعنت بھیج دوں۔ اس چکر میں بڑے پھیر ہیں۔ گرو مہاراج نے ٹھیک کہا تھا کہ جسم بدلنے سے ہم فطرت کے خلاف چلے جاتے ہیں، جس سے ہم سے بھی زیادہ طاقتور قوتیں ہمارا پیچھا کرتی ہیں، جیسا کہ سامی میرا پیچھا کر رہی ہے۔ لیکن سامی کی ضدی فطرت نے مجھے بھی ضدی بنا دیا ہے۔ میں اسے زیر کر کے ہی چھوڑوں گی!"
میں سامی کی آنکھوں میں چھمیا کی نفرت کا زہر دیکھ رہا تھا۔
"پھر؟ وہاں سے فرار کیسے ہوئی تم؟"

"وہاں سے فرار تب ممکن ہوا جب اگلے دن سامی نے گورنر ہاؤس سے ساری معلومات لا کر بھوانی کو نوٹ کروائیں۔ ہم سب اگلی صبح سامی کو گورنر ہاؤس کی سائیڈ پر اتار کر دوبارہ مکان میں واپس نہیں گئے، بلکہ ایک ہوٹل چلے گئے، تاکہ اگر سامی کوئی گڑبڑ کرے تو اسے بھوانی کا پتا نہ چلے۔ اس کے آدمی ہوٹل کے آس پاس موجود تھے۔ جونہی سامی دیوار پھلانگ کر باہر آئی، وہ اسے لے کر ہوٹل آ گئے۔ سامی نے مطلوبہ معلومات مکرجی کے سامنے بھوانی کو سگنلنگ کے ذریعے نوٹ کروائیں۔

ڈھاکہ میں ہمارا مشن مکمل ہو گیا تھا۔ ہمارے دیش کے اعلیٰ افسر ہماری کارکردگی سے بہت خوش تھے۔ درحقیقت، یہ سارا کارنامہ سامی کا تھا۔ بھوانی نے فخر سے ہمیں بتایا کہ ہمارا اگلا مشن پنڈی میں ہے۔ وہ ہمیں وہاں احمد شیخ نامی ایک شخص کے گھر لے گیا۔ اس نے بتایا کہ احمد شیخ اے گریڈ کا افسر ہے اور کئی سالوں سے ہمارے لیے کام کر رہا ہے۔ ہم اسے چوبیس ہزار ماہانہ دیتے ہیں۔ تمہاری سرکار صرف نو سو روپے دیتی ہے، اور اس کے پاس کئی گھر، گاڑیاں، اور جائیدادیں ہیں۔ کیا تمہاری سرکار ایسے لوگوں سے نہیں پوچھتی کہ یہ سب کہاں سے آ رہا ہے؟"

چھمیا نے مجھ پر اور میرے ملک پر طنز کیا تو میں شرمندگی سے دیکھنے لگا۔ میں اندر ہی اندر دانت پیس رہا تھا کہ اگر ایک بار مجھے یہاں سے نکلنے کا موقع مل جائے تو میں احمد شیخ کو نہیں چھوڑوں گا۔ ایک بار نکل جاؤں تو ملک دشمنوں کا قبر تک پیچھا کروں گا! لیکن کیسے نکلوں؟ یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ وقت دھیرے دھیرے گزر رہا تھا، اور موت قریب آتی جا رہی تھی۔
چھمیا کیدار کے پاس جا کر کچھ دیر اس کا منتر سننے لگی، پھر میرے پاس آ کر بیٹھ گئی۔ میں اپنی سوچ میں گم تھا کہ اس نے کہا: "اگلے دن سامی ایک خفیہ فائل لے آئی۔"
میں نے پوچھا: "کون سی فائل؟"
وہ بولی: "احمد شیخ کے اوپر ایک افسر تھا، مکرم علی۔ وہ ہمارے دیش کا بہت ایماندار افسر تھا۔ بھوانی نے بتایا کہ اسے خریدنا تقریباً ناممکن ہے۔ اس کے پاس ایک خفیہ فائل تھی، جس کی وہ سخت حفاظت کرتا تھا۔ صدر مملکت ملک سے باہر تھے، اور واپسی تک وہ فائل مکرم علی کے پاس رہنی تھی۔ بھوانی نے سامی کو دفتر کا نقشہ اور فائل کا نمبر سمجھایا۔ اگلے دن سامی وہاں جا کر فائل کی ساری معلومات لے آئی۔"

ہم احمد شیخ کے گھر میں تھے۔ بھوانی صبح سے کہیں گیا ہوا تھا۔ یہ ہمارے لیے وہاں سے نکل جانے کا بہترین موقع تھا۔ ہم چپ چاپ، کسی سے ٹکرائے بغیر، احمد شیخ کے گھر سے نکل کر تمہارے شہر کے اس جنگل میں آ گئے۔ یہاں ہم نے رکشا کنڈل بنایا اور اس میں بیٹھ گئے۔ اس کنڈل میں کوئی عام آدمی تو کیا، تمہاری پولیس بھی ہمیں نہیں دیکھ سکتی۔

چھمیا قہقہہ لگا کر ہنسنے لگی۔ ہنستے ہوئے اس کی بوٹیاں تھرک رہی تھیں۔ وہ اٹھی اور ایک انگیٹھی میں آگ جلانے لگی۔ آگ دہکا کر وہ میرے قریب لے آئی۔ رات کے بارہ بج چکے تھے۔ اتنے میں کیدار ایک کتے کو رسی سے باندھے گھسیٹتا ہوا میرے قریب آیا۔ اس کے سیاہ، کسرتی جسم پر صرف ایک لنگوٹ تھا۔ اس نے اپنے جسم پر تیل ملا رکھا تھا، جس سے اس کا بدن چاندنی میں چمک رہا تھا۔

چھمیا نے الماری سے دو کوزوں نکالے اور میرے قریب آ گئی۔ ایک کوزے میں ماش کے دانے تھے، اور دوسرے میں لوبان۔ میں دل ہی دل میں منصوبہ ترتیب دینے لگا۔ میرا سارا انحصار سامی پر تھا۔ چھمیا کے مطابق، اگر وہ سندور سے بنے اس دائرے میں نہ آئی، جس میں میرا سر قلم ہونا تھا، تو جاپ مکمل نہیں ہو سکتا تھا۔ اگر میں کسی طرح سامی کو اس دائرے سے باہر روک لوں تو ہم دونوں بچ سکتے تھے۔

چھمیا نے کتے کی رسی پکڑ لی۔ کیدار نے ایک ماش کا دانہ اٹھایا اور اسے میرے پاؤں کی ایڑی سے چوٹی تک پھیرتے ہوئے منتر پڑھنے لگا۔ پھیرے کے بعد اس نے دانہ انگیٹھی میں ڈال دیا۔ چھمیا نے لوبان انگاروں پر ڈالا۔ یک دم انگاروں سے دھواں اٹھا۔ چھمیا نے کتے کا سر دھوئیں میں ڈال دیا۔ وہ کتا دھوئیں میں سانس لینے پر مجبور تھا۔
یہ عمل کچھ دیر جاری رہا۔ اچانک مجھے اپنے جسم میں نئی توانائی محسوس ہوئی۔ میرے جسم کے زخم غائب ہو گئے تھے۔ میں نے حیرانی سے کتے کو دیکھا، جس کے جسم پر جا بجا زخم نظر آ رہے تھے۔ مجھے چھمیا کی بات یاد آئی: "زخمی انسان کی بلی چڑھانا ممکن نہیں ہوتا۔ منتر سے پہلے میں تمہارے زخم اس کتے میں منتقل کر دوں گی۔"
اس نے وہی کر دکھایا۔ میں رسیوں سے بندھا تھا، لیکن محسوس کر سکتا تھا کہ میرے جسم پر ایک بھی زخم باقی نہ رہا تھا۔
چھمیا نے کیدار سے کہا: "میں اس کتے کو باہر ہانک کر آتی ہوں۔ تم اس لڑکے کو لے کر چلو۔"
وہ کتا تو تھا، جسے وہ دم سے پکڑ کر باہر لے گئی، لیکن میں انسان تھا۔ کیدار نے مجھے بالوں سے گھسیٹ کر کمرے کے وسط میں بنے سندوری دائرے کے اندر لایا، جیسے قصائی جانور کو قربان کرنے کے لیے بے رحمی سے کھینچتا ہے۔ تکلیف سے میری آنکھوں میں پانی آ گیا۔

سندوری کنڈل کے اندر لکڑی کا ایک کندہ پڑا تھا اور پاس ہی وہ داؤ تھا، جس سے میری گردن کاٹی جانی تھی۔ دو انگیٹھیاں دہکتے انگاروں سے بھری تھیں، جن سے دھواں اٹھ رہا تھا۔ کمرہ دھوئیں سے بھر گیا تھا۔

کیدار نے زور لگا کر مجھے الٹا کیا۔ میں تڑپ رہا تھا، لیکن رسیاں اتنی مضبوط تھیں کہ ہلنا ممکن نہ تھا۔ وہ مجھے گھسیٹ کر کندے کے پاس لایا اور میری گردن کندے پر رکھ دی۔ لکڑی کے کنارے پر میری ٹھوڑی لگی تو میرا سر ذرا اوپر اٹھ گیا۔

میری نگاہوں کے سامنے وہ دروازہ تھا، جہاں سے سامی نے آنا تھا۔ کمرے میں موم بتی کی روشنی باہر کچے برآمدے تک پہنچ رہی تھی، اور اس کے آگے گہری تاریکی تھی۔ اس تاریکی کو دیکھ کر مجھے اپنے اندر روشنی کا احساس ہوا۔ میرے دماغ نے کہا کہ اگر سامی اس دروازے سے آئی تو میں اسے کنڈل میں آنے سے روک سکتا ہوں۔ اسے اور خود کو منتر سے بچا سکتا ہوں۔
چھمیا ذرا دور بیٹھ کر اپنا جاپ شروع کر چکی تھی۔ وہ جوش سے بلند آواز میں منتر پڑھ رہی تھی۔ سامی کا دور دور تک پتا نہ تھا۔ میں نے دل میں دعا کی: "سامی، ادھر نہ آنا، کبھی نہ آنا!"
میں نے کن اکھیوں سے کیدار کو دیکھا۔ وہ داؤ ہاتھ میں اٹھائے تیار بیٹھا تھا۔ میرے دماغ میں سنسناہٹ ہو رہی تھی۔ مجھے موت کا خوف نہ تھا، لیکن زندگی کی تمنا تھی۔ میری نگاہیں دروازے پر جمی تھیں۔ میں آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑنے کو تیار تھا۔
اتنے میں کہیں سے سامی کی آواز آئی: "میاؤں…"
کیدار نے داؤ بلند کیا۔ میرے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ "میاؤں، میاؤں…" وہ آ گئی تھی۔ دروازے میں دو پنجے آگے، دو پیچھے، وہ کشمکش میں تھی کہ آگے جائے یا نہ جائے۔

اسے دیکھتے ہی چھمیا جوشیلے انداز میں چیخ چیخ کر منتر پڑھنے لگی۔ میں نیم وا آنکھوں سے برآمدے میں دیکھ رہا تھا، جہاں سامی بلی کے روپ میں فرش پر لوٹ رہی تھی۔ وہ منتر کے اثرات سے بچنے کی کوشش کر رہی تھی، تڑپ رہی تھی۔ اس کی کوشش ناکام ہو رہی تھی، لیکن اس کی جدوجہد سے اس کی ضد ظاہر ہو رہی تھی۔ شکست کے باوجود اس نے ہمت نہ ہاری تھی۔

اب لڑنے کی باری میری تھی۔ میری صلاحیتوں کو آزمانے کا وقت آ گیا تھا۔ منتر کے زیر اثر سامی فرش پر اٹھ کر کمرے کی طرف کھچی چلی آ رہی تھی۔ دروازے پر پہنچ کر جونہی اس نے کنڈل کی طرف دیکھا، اس کی نگاہیں میری نگاہوں سے ٹکرائیں۔ میری آنکھوں سے شعلہ لپکا، ایک بجلی سی لہر سامی کی آنکھوں سے ٹکرائی۔ وہ میری نگاہوں کی گرفت میں آ گئی۔ اس کے اگلے پاؤں دہلیز کے اندر تھے، اور وہ مجھے ایک ٹک دیکھتی سوچ رہی تھی: "یہ کون ہے؟ اس کی آنکھیں کیسی غضب ناک ہیں؟ کاش یہ مجھے ایسے ہی دیکھتا رہے۔ مجھے کتنا سکون مل رہا ہے!"

میں نے اس کی سوچ میں کہا: "تم میری نگاہوں کی گرفت میں ہو۔ بس یوں ہی دیکھتی رہو۔ اپنے خیالات ان سلگتی آنکھوں تک محدود کر لو۔ ان کے زیر اثر آ جاؤ۔ باقی کوئی آواز نہ سنو۔"

اس کی سوچ نے کہا: "ہاں، میں تمہارے زیر اثر آ گئی ہوں۔ باقی سب آوازیں مدھم ہو رہی ہیں، لیکن چھمیا کی ہلکی آواز مجھ تک آ رہی ہے۔"

وہ ٹھیک کہہ رہی تھی۔ چھمیا کے منتر کمزور نہ تھے۔ سامی بے اختیار کھچتی ہوئی کمرے میں آ گئی تھی۔ چھمیا دونوں ہاتھ اٹھا کر فاتحانہ انداز میں منتر پڑھ رہی تھی۔ اس کی جیت ہونے والی تھی۔ اس کے منتر نے سامی کو ذرا اور اپنی طرف کھینچ لیا تھا۔ سندوری ریکھا سے صرف دو انچ کا فاصلہ بچا تھا۔

میں نے بیک وقت تنویمی کیفیت اور خیال خوانی سے کام لیا۔ سامی کو آگے نہ بڑھنے دینے کے علاوہ، میں چھمیا کی سوچ میں بار بار کہہ رہا تھا: "یہ میں کیا پڑھ رہی ہوں؟ میں منتر بھول گئی ہوں! میں کیا کروں؟"

چھمیا پڑھتے پڑھتے اچانک رک گئی۔ اس کی سوچ بن کر میں نے کہا: "یہ میں کیا کر رہی ہوں؟ میرا آخری موقع ضائع ہو گیا تو میں کہاں جاؤں گی؟"

وہ سوچنے پر مجبور ہو گئی، اور اس پل منتر کا تسلسل ٹوٹ گیا۔ یہ پل ہم نے ضائع نہ کیا۔ میں نے سامی کے دماغ میں کہا: "بھاگو! یہاں سے جتنی دور بھاگ سکتی ہو، بھاگ جاؤ!"

چشم زدن میں سامی پلٹی اور بجلی کی تیزی سے چھلانگ مار کر باہر کا دروازہ کراس کر گئی۔ چھمیا اور کیدار کو پتا بھی نہ چلا کہ میں ٹیلی پیتھی سے ان کی بازی پلٹ رہا ہوں۔ چھمیا چیختی ہوئی کیدار سے بولی: "بھاگو، پکڑو اسے! اگر وہ یہاں سے چلی گئی تو منتر ضائع ہو جائے گا!"

کیدار داؤ وہیں میرے پاس رکھ کر اسی حلیے میں بلی کے پیچھے بھاگا۔ چھمیا مجھ سے بے خبر دروازے کی طرف منہ کر کے دوبارہ منتر پڑھنے لگی۔ وہ سامی کو واپس لانے کی پوری کوشش میں تھی۔

میں نے احتیاط سے اپنی رسیوں کو داؤ پر رگڑنا شروع کیا۔ چند لمحوں میں میرے ہاتھ آزاد ہو گئے۔ میں نے آہستہ سے رسیوں کو پیچھے دھکیلا۔ میں آزاد ہو چکا تھا۔ دل چاہ رہا تھا کہ قہقہے لگاؤں، لیکن وقت نہ تھا۔ میں نے پیچھے سے چھمیا کی گردن دبوچ لی۔ اس کی منتر والی آواز گھٹ کر رہ گئی۔ وہ پیچھے مڑ کر اپنے دشمن کو دیکھنا چاہتی تھی۔ میں نے اس کے کان میں کہا: "تمہارے دن ختم ہو گئے، چھمیا! اب میرا کھیل دیکھو!"

میں نے جھپٹ کر اس کا دوپٹہ اس کے منہ میں ٹھونس دیا تاکہ اس کا منتر بند ہو جائے۔ وہ ساکت بیٹھ گئی۔ شاید اس نے اپنی شکست دیکھ لی تھی۔ میں نے رسی سے اسے اچھی طرح باندھا اور کندھے پر لاد لیا۔ میں اسے پیچھے نہیں چھوڑ سکتا تھا، کیونکہ رکشا کنڈل سے نکل کر اسے ڈھونڈنا ناممکن تھا۔

چھمیا کو لے کر میں باہر نکلا اور سامی کے دماغ سے رابطہ کیا۔ وہ قریب ہی ایک آم کے درخت پر چڑھی ہوئی تھی، اور کیدار نیچے کھڑا تھا۔ میں چھمیا کو اٹھائے اس طرف بڑھنے لگا۔ میرے ہاتھ میں وہی داؤ تھا، جس سے کیدار میری گردن کاٹنا چاہتا تھا۔

میں سامی سے مسلسل دماغی رابطے میں تھا۔ وہ اپنی سوچ کو جھٹک رہی تھی اور اپنی فطرت کے مطابق مجھ پر اعتماد نہ کر رہی تھی۔ میں نے اس کی سوچ میں کہا: "وہ سلگتی آنکھیں یاد کرو جنہوں نے تمہیں جکڑ لیا تھا!"

وہ میری آنکھوں کو یاد کرنے لگی۔ اس کے دماغ میں میری سوچ کی لہریں سکون پہنچانے لگیں۔ اس دوران میں نے وہ درخت ڈھونڈ لیا جہاں سامی چھپی تھی۔ میں نے چھمیا کو قریب ایک درخت سے باندھ دیا اور دبے پاؤں اس طرف چلا جہاں سامی تھی۔

میں نے اس کی سوچ میں کہا: "میں فرہاد علی تیمور ہوں۔ میں تمہاری مدد کرنا چاہتا ہوں۔ جتنی دیر میں وہاں نہ پہنچ جاؤں، تم کیدار کو اپنی اچھل کود سے مصروف رکھو۔"

اس کی سوچ نے کہا: "مجھے وہ سلگتی آنکھیں اور ساحرانہ نظر یاد آ رہی ہے۔" وہ بے چینی سے سوچنے لگی۔ میں سمجھ گیا کہ کیدار اسے پکڑنے کے لیے حربے استعمال کر رہا ہے۔

تھوڑی دور جا کر مجھے کیدار نظر آ گیا۔ اس کا تیل چپڑا بدن چاندنی میں چمک رہا تھا۔ وہ اچھل اچھل کر سامی کو پتھر مار رہا تھا۔ سامی اس سے بچنے کے لیے چھلانگیں لگا رہی تھی۔ میں نے فیصلہ کیا کہ پہلا حملہ اتنا شدید ہو کہ اسے مزاحمت کا موقع نہ ملے۔

میں اس کے قریب پہنچا تو شاید اس کی چھٹی حس نے خبردار کر دیا۔ وہ یک دم پلٹا۔ میں نے داؤ گھما کر اس کی بائیں ٹانگ پر وار کیا۔ وہ چیختا ہوا گر گیا۔ اس کا پاؤں کٹ کر ایک طرف جا گرا۔ میں نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اس کی دوسری ٹانگ بھی کاٹ دی۔ وہ چیخ چیخ کر چھمیا کو بلا رہا تھا، کیونکہ وہی اسے ہر مشکل سے بچاتی تھی۔

میں نے اسے وہیں چھوڑ کر سامی کی طرف دیکھا۔ وہ پھٹی آنکھوں سے میری فنکاری دیکھ رہی تھی۔ کیدار کو گرا دیکھ کر وہ درخت سے اتر آئی۔ نیچے آتے ہی وہ بھاگ کر میرے پاؤں میں لوٹنے لگی۔ میں نے اس کی سوچ میں جھانکا۔ وہ کہہ رہی تھی: "میرے محسن، میرے دیوتا، میں آپ کا یہ احسان کبھی نہ بھولوں گی۔ آپ نے میری جان بچائی!"

میں نے اسے گود میں اٹھا کر سینے سے لگا لیا۔ مجھے لگا جیسے برسوں کا بچھڑا محبوب مل گیا ہو۔ وہ آنکھیں بند کیے میرے ساتھ لگی پیار مانگ رہی تھی۔ میں نے کہا: "اب میں تمہیں چھمیا سے تمہارا جسم واپس دلواؤں گا۔"

وہ سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھنے لگی۔ میں نے اس کی نظروں کا مفہوم سمجھا۔ وہ چھمیا کے بارے میں پوچھ رہی تھی۔ میں نے اشارے سے بتایا کہ وہ وہاں بندھی ہے۔ "اب میں تم دونوں کو اپنے گھر لے جاؤں گا۔ پھر تمہارا جسم واپس لینے کی تدبیر کریں گے۔"
وہ میری سوچ میں بتانے لگی: "ایک تدبیر ہے۔ اگر ہم دونوں روحوں کی منتقلی کا منتر پڑھیں تو جو جیتے گا، اسے وہ جسم مل جائے گا۔"
میں نے حیرت سے پوچھا: "یہ تمہیں کیسے پتا؟"
وہ میرے گلے میں بانہیں ڈالے جھول رہی تھی۔ "چھمیا کے گرو مہاراج نے اسے بتایا تھا۔ میں نے یاد کر لیا۔"
"چلو، ٹھیک ہے۔ اب تم دونوں میرے ساتھ چلو۔ کل صبح تم دونوں کا مقابلہ ہوگا۔ مجھے پکی امید ہے کہ تم جیت جاؤ گی۔"

میں نے چھمیا کی رسیاں کھولیں اور اسے آگے چلنے کو کہا۔ رات کے اس پہر مجھے دیکھ لیے جانے کا ڈر نہ تھا۔ ہم تینوں دس منٹ میں سڑک تک آ گئے۔ میں نے چھمیا کا منہ کھول دیا۔ سامی نے پریشانی سے مجھے دیکھا۔ وہ میری گود میں تھی۔ ایک پل کے لیے بھی اسے الگ کرنے کا دل نہ کر رہا تھا۔ میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا: "فکر نہ کرو، میں چھمیا کو منتر نہیں پڑھنے دوں گا۔"

چلتے چلتے ہم نے ایک ٹیکسی روکی اور اس میں سوار ہو کر کوٹھی کے گیٹ پر اتر گئے۔ اس دوران چھمیا نے ایک بار بھی منتر پڑھنے کی کوشش نہ کی۔

پھوپھو نے دروازہ کھولا تو مجھے ایک خوبصورت لڑکی کے ساتھ دیکھ کر ٹھٹھک گئیں۔ میں چھمیا اور سامی کو لے کر اپنے کمرے میں آ گیا۔ چھمیا چپ چاپ بیڈ پر بیٹھ گئی۔ مجھے اس کی شرافت پر بھروسہ نہ تھا۔ میں نے دوبارہ اس کا منہ باندھ دیا۔ سامی نے اشاروں سے بتایا کہ اس کی روح اب بلی کے جسم میں قید نہیں رہی۔ "میں بہت ہلکا پھلکا محسوس کر رہی ہوں۔"

میں نے حیرت سے چھمیا کی طرف دیکھ کر پوچھا: "کیوں، چھمیا، کیا تمہیں سامی کی ضرورت نہیں رہی؟"

اتنے میں پھوپھو نے دروازے پر دستک دی۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ اور زرینہ تفصیل جاننے کے لیے بے چین ہیں۔ میں نے سامی کو پیار کیا اور دروازہ کھول کر باہر نکل آیا۔ پھوپھو پریشانی سے کھڑی تھیں۔ مجھے دیکھتے ہی میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے کمرے میں لے آئیں۔

"فرہاد، یہ کیا ہے؟ یہ گھاگھرے والی جوان لڑکی کون ہے؟ ہمیں بھی تو پتا چلے تم کیا کرتے پھرتے ہو؟ تم کہاں غائب تھے؟"

میں نے ایک ایک بات تفصیل سے بتائی اور کہا کہ وہ زرینہ کو لے کر ایک دن کے لیے شاہ پور چلی جائیں۔ وہ میری بات سے فوراً متفق ہو گئیں۔ شاید جادو منتر نے انہیں ڈرا دیا تھا۔

اگلی صبح جب میں ناشتہ لے کر کمرے میں گیا تو چھمیا بستر پر سو رہی تھی، اور سامی کسی پہرے دار کی طرح اس کے پاس بیٹھی تھی۔ یہ دیکھ کر میری ہنسی چھوٹ گئی۔ سامی منہ پھیر کر بیڈ کے نیچے چھپ گئی۔ میں نے پیار سے پچکارتے ہوئے کہا: "میرا وہ مطلب نہیں، تم باہر آؤ، شاباش، ناشتہ کرو!"

میری آواز سن کر چھمیا اٹھ کر بیٹھ گئی۔ میں نے اس کا منہ کھولا اور اس کے منہ میں نوالے ڈالنے لگا۔ وہ آہستہ آہستہ کھانے لگی۔ میں نے اس کی سوچ پڑھی۔ وہ دل ہی دل میں کہہ رہی تھی کہ اسے سامی پوکر کا جسم چھوڑ کر کسی اور خوبصورت لڑکی کے جسم میں منتقل ہو جانا چاہیے۔ "اس لڑکی نے مجھے برباد کر دیا۔ مجھے بہت پہلے گرو کی بات مان لینی چاہیے تھی۔ میری ضد نے مجھے کہیں کا نہ چھوڑا۔ میرا دلبر، میرا کیدار بھی مجھ سے بچھڑ گیا۔ بس، مجھے اس لڑکی کے جسم میں نہیں رہنا!"

میں نے خیال خوانی سے محسوس کیا کہ وہ باہر گیٹ پر ہے۔ یک دم مجھے کسی گڑبڑ کا احساس ہوا۔ یہ سامی کا جسم نہیں تھا، کوئی اور تھی! میں نے آنکھیں کھول کر کمرے میں دیکھا۔ سامی اپنے جسم میں بیٹھی مسکرا رہی تھی!

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے