آم کے درخت پر جنات کا بسیرا تھا۔ لڑکیوں نے بھی اکسایا تو میں چھت پر اکیلی جانے لگی۔ جب چھت پر پہنچی تو مغرب کا وقت ہو چکا تھا۔ میں جلدی سے درخت کے پاس پہنچی۔ ابھی میں نے دو چار آم ہی توڑے تھے کہ مغرب کی اذان ختم ہو گئی دل پر تھوڑا سا خوف طاری ہوا۔ فعتا یوں محسوس ہوا جیسے تیز ہوا چلنے لگی ہو ، شاخیں زور زور سے ہلنے لگیں۔
👇sublimegate👇
👇sublimegate👇
ہمارا گھر ایک منزلہ تھا اور اس کے چاروں طرف دو منزلہ اونچے اونچے مکانات تھے۔ ان دنوں ہمارے بائیں جانب والے مکان میں ہمارے دور پار کے رشتہ دار، حامد صاحب رہتے تھے جن کی چار بیٹیاں اور دو بیٹے تھے، مگر نہ جانے کیوں ان چاروں بہنوں کو ہم سے خدا واسطے کا بیر تھا۔ وہ ہمیں ستانے اور تنگ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتیں؛ کبھی ہمارے آنگن میں کوڑا پھینکتیں، کبھی مرا ہوا جانور ہماری چھت پر ڈال دیتیں، اور ہم پر طنز و طعن کے تیر بھی چلاتی رہتیں۔ وہ ہر وقت ہماری ٹوہ میں رہتیں کہ کب ہمیں ڈانٹ یا مار پڑی اور پھر کئی دن ہمارا مذاق اڑاتیں۔
یہ لوگ غریب تھے اور ان کے والد 1965ء کی جنگ میں معذور ہو چکے تھے، جن کی مالی مدد ہم کرتے تھے، مگر پھر بھی ان کی لڑکیاں ہمیں ستانے سے باز نہ آتیں۔ ایک دن ہم نے اپنی ایک آنٹی سے ان کی شرارتوں کا ذکر کیا تو انہوں نے ایک “آزمودہ ترکیب” بتائی کہ رات کے اندھیرے میں ان کے دروازے کے آگے انڈا، تیل، ہلدی، دالیں، کالے پتھر رکھ دیے جائیں تاکہ وہ خود ہی پریشان ہو کر باز آ جائیں۔ پہلے تو ہم ڈریں کہ اگر کسی نے دیکھ لیا تو کیا ہو گا، مگر آخرکار مان گئیں۔ کچھ دنوں بعد ان کے دروازے پر عجیب عجیب چیزیں پائی جانے لگیں، حتیٰ کہ ایک دن کلیجی میں سوئیاں چبھی ہوئی پائی گئیں، جس پر ان کے گھر میں چیخ و پکار مچ گئی۔ محلے میں شور اٹھا، ان کے رشتے داروں نے واویلا کیا، ایک ماموں پیالہ دریا میں پھینک آیا، اور ایک پھوپھی کسی مشہور بابا جی کے پاس گئیں جو ہر بات سچ بتاتے تھے۔ ہمیں خوف تھا کہ اگر انہوں نے سچ بتا دیا تو ہماری عزت خاک میں مل جائے گی، مگر وہ کہہ بیٹھے کہ یہ کسی باہر کے دشمن کی حرکت ہے، محلے سے تعلق نہیں۔ یہ سنتے ہی ہم نے خدا کا شکر ادا کیا کہ جان بچ گئی۔
ہمیں خود بھی ہنسی آنے لگی کہ اتنا مشہور بابا بھی یہ نہ جان سکا کہ یہ حرکتیں ہمسائے کی وہی لڑکیاں کر رہی تھیں جنہیں وہ خود تنگ کیا کرتی تھیں۔اب ان کی ہر قسم کی سرگرمیوں پر سکوت طاری ہو گیا اور ہم بھی پُرسکون ہو گئے۔ کچھ عرصے بعد انہوں نے اپنا گھر تبدیل کرنے کی ٹھان لی کیونکہ جادو ٹونے کے ڈر سے وہ دم بخود تھے۔ گھر تبدیل کرنا کوئی ہنسی کھیل نہیں ہوتا، نہ ہی گھر اتنی آسانی سے ملتے ہیں۔ وہ نئے گھر کی تلاش میں سرگرداں تھے اور ہمیں ان پر ترس آنے لگا کہ ایسی غربت میں یہ کتنی بڑی مشکل میں پڑ گئے، مگر قصور ہمارا تھا نہ ان کا۔ اگر وہ ہمیں تنگ نہ کرتے تو ہم بھی یہ شرارت نہ کرتے۔
ایک دن حامد کی بیوی زاہدہ اپنی بیٹی رخسانہ کے ساتھ ہمارے گھر آئیں اور صلح کا ہاتھ بڑھایا۔ کہنے لگیں کہ ہمسائے تو ماں جائے ہوتے ہیں، خواہ مخواہ اتنے دن کشیدگی رہی۔ اب ہم جا رہے ہیں کیونکہ ہمیں کرائے کا مکان مل گیا ہے، جو موجودہ رہائش سے چار گلیاں چھوڑ کر تھا، تاہم وہی محلہ تھا۔ ان کے جانے کا ہمیں بھی افسوس ہوا اور امی آزردہ ہو گئیں۔ جیسے بھی مراسم رہے ہوں، بہرحال وہ پرانے ہمسائے اور دور کے رشتہ دار بھی تھے۔ رخسانہ، جو ان کی منجھلی بیٹی اور میری ہم عمر تھی، نے میری طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا تو میں نے اسے جھٹکنے کے بجائے قبول کر لیا۔ یوں ہم میں دوستی ہو گئی۔ انہوں نے وعدہ لیا کہ جب وہ نئے گھر جائیں گے تو ہم ضرور ان سے ملنے آئیں گے، اور ہم نے وعدہ کر لیا۔
اگلے دن وہ لوگ چلے گئے تو ہمیں اور زیادہ افسوس ہوا کہ ہم نے آنٹی کے غلط مشورے پر عمل کر کے ان کو اتنی تکلیف دی اور وہ بےچارے اپنا جمایا ہوا گھر چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ غلطی ہو چکی تھی، اب پچھتاوے کا فائدہ نہیں تھا۔ ازالہ اسی صورت میں ممکن تھا کہ ہم اب ان سے دوستی نبھائیں، وقتاً فوقتاً ان کی مدد کریں اور رنجشوں کو مٹائیں۔ امی سے اجازت لے کر چند دن بعد ہم بہنیں ان کے یہاں گئیں۔ والدہ نے بریانی بنائی تھی، ساتھ زردہ بھی تھا، جو ایک بڑی رقاب میں ڈال کر لے گئیں۔ وہ لوگ بہت اخلاق سے ملے اور مقدور بھر ہماری خاطرمدارت کی، جس سے ہمیں اور بھی شرمندگی ہوئی کہ ہم نے ان پر جادو ٹونے کے شکوک ڈال کر زیادتی کی تھی۔ حامد چچا کے گھر والے بنیادی طور پر برے لوگ نہ تھے، ہم ہی نے کوشش نہ کی کہ انہیں خود سے قریب کرتے۔ انہوں نے بڑی محبت سے ہمیں اپنا نیا گھر دکھایا۔ یہ گھر پہلے سے کم کشادہ تھا، چھت پر صرف ایک کمرہ تھا، مگر پچھلے حصے میں ایک چھوٹا سا آنگن تھا جس میں آم کا درخت لگا تھا۔
اس درخت کی شاخیں چھت تک پھیل چکی تھیں اور چھت پر کھڑے ہو کر آسانی سے آم توڑے جا سکتے تھے۔ ریحانہ اور سلطانہ نے اصرار کیا کہ ہم جتنے چاہیں آم توڑ لیں کیونکہ آموں کا موسم تھا اور درخت پھلوں سے لدا ہوا تھا۔ تب ہمیں ان کی قسمت پر رشک آیا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں گھر کے اندر ہی یہ عظیم نعمت عطا کی تھی، جبکہ بازار میں آم بہت مہنگے بک رہے تھے۔ اس روز ہم نے ان کے اصرار پر کچھ آم توڑے اور وہ جاتے وقت ایک شاپر میں ڈال کر ہمارے ساتھ کر دیے۔ آم بہت میٹھے اور لذیذ تھے۔ لگتا تھا کہ ان کے مکان مالک نے خاص توجہ سے یہ درخت لگایا ہوگا اور اب کرایہ دار اس کے مزے لے رہے تھے۔ ہمیں شک سا ہونے لگا کہ واقعی ان کے گھر میں اتنا عمدہ قسم کا آم کا درخت ہے، جو کسی نعمت سے کم نہ تھا۔
اس لالچ میں میری بہن زرینہ نے ان سے مزید دوستی بڑھائی۔ جب آم کھانے کا موڈ ہوتا، وہ کہتی کہ چلورخسانہ باجی کے گھر چلتے ہیں۔ یوں ہم جلد جلد ان کے گھر جانے لگے کیونکہ آم کا موسم ختم ہونے سے پہلے اس پھل سے مفت سیر ہونے کا مزہ ہی کچھ اور تھا۔ جب ہم باتیں کرنے کے بہانے چھت پر ضرور جاتے تب ریحانہ ، رخسانہ ، سلطانہ اور حسنہ سب ہی اصرار کرتیں، بھئی جتنے آم مرضی توڑ لو۔ ایک دن عصر کے وقت ہم لوگ ان کے وہاں گئے، باتوں باتوں میں مغرب کا وقت آ گیا۔ ہم نے کہا۔ ہم چلتے ہیں شام ہو رہی ہے۔ رخسانہ بولیں۔ آج تم لوگوں نے ہمارے گھر کے درخت سے آم نہیں توڑے۔ چلو چل کر دو چار آم توڑ لاتے ہیں۔
اتنے میں چچی زاہدہ آگئیں۔ انہوں نے یہ بات سنی تو کہا۔ لڑکیوں شام کے وقت درخت سے آم نہیں توڑتے۔ صبح میں اتروا کر بھجوا دوں گی۔ وہ تو یہ کہہ کر چلی گئیں۔ حسنہ نے کہا۔ امی تو اگلے وقتوں کی ہیں ، ایسے ہی وہم کرتی ہیں۔ چلو ہم اوپر چلتے ہیں۔ آپ آتی ہیں تو آم توڑنے کا مزہ ہی کچھ اور ہوتا ہے ورنہ ہمارا اوپر جانے کو دل نہیں چاہتا۔ جب حسنہ نے اصرار کیا تو زرینہ بولی۔ اچھا چلو چلتے ہیں لیکن چچی جان خفا ہوں گی ؟ ریحانہ نے کہا ہاں بھی بڑوں کا کہنا ماننا چاہیے۔ لیکن مجھے پتا ہے کہ باجی اس لئے چپ ہیں کہ یہ جنوں، بھوتوں سے ڈرتی ہیں اور بہت بزدل ہیں۔ مجھ کو اپنی بہن کی یہ بات بہت کھلی کہ یہ ہمیشہ ہی بے تکا بول جاتی تھی اور وہ بھی میرے بارے میں . مجھ کو غصہ آگیا اور میں نے کہا۔ میں ہر گز ڈرپوک نہیں ہوں اور نہ میں جنوں، بھوتوں سے ڈرتی ہوں، اگر یقین نہیں آتا تو ابھی چھت پر جا کر آم توڑ لاتی ہوں۔تو پھر اکیلی ہی جانا۔ زرینہ نے کہا۔ اس پر ریحانہ کہنے لگی اگر ڈرپوک نہیں ہو تو چپکے سے جانا کہ امی کو پتا نہ چلے ، ورنہ ناراض ہوں گی۔ وہ ہم کو کبھی مغرب کے وقت چھت پر جانے نہیں دیتیں۔
دوسری لڑکیوں نے بھی اکسایا تو میں چھت پر اکیلی جانے لگی۔ ریحانہ باجی البتہ منع کرتی رہیں مگر میں چلی گئی۔ جب چھت پر پہنچی تو مغرب کا وقت ہو چکا تھا۔ آسمان پر تھوڑی سی روشنی باقی تھی اور آہستہ آہستہ اندھیراد بے قدموں آسمان کی طرف بڑھ رہا تھا۔ تبھی میں جلدی سے درخت کے پاس پہنچی۔ سامنے شاخ پر لگے ہوئے تازہ تازہ آم توڑ توڑ کر شاپر میں ڈالنے لگی۔ ابھی میں نے دو چار آم ہی توڑے تھے کہ مغرب کی اذان ختم ہو گئی دل پر تھوڑا سا خوف طاری ہوا مگر سوچا کہ جب آ ہی گئی ہوں تو آموں سے شاپر بھر لوں، پھر روز کب آنا ہو گا۔ آم بھی ختم ہو جائیں گے۔ اس سے بڑی بات یہ شرط لگا کر اوپر آئی تھی کہ میں نہیں ڈرتی ورتی .. وہ سب یہی سوچیں گی کہ اکیلی چھت پر گئی اور ڈر کر لوٹ آئی۔میری بہنوں کے ساتھ رخسانہ باجی اور اس کی بہنیں نیچے ہی تھیں۔ وہ چچی جان کی وجہ سے اوپر نہ آئی تھیں کہ وہ ناراض ہو تیں اور میرا انتظار کر رہی تھیں۔
میں جلدی جلدی پتوں میں ہاتھ مار کر آم توڑنے میں مصروف ہو گئی۔ دفعتا یوں محسوس ہوا جیسے تیز ہوا چلنے لگی ہو ، شاخیں زور زور سے ہلنے لگیں۔ اس کے ساتھ ہی ہوا کی آواز شائیں شائیں میں بدل گئی جیسے طوفان آگیا ہو۔ میں نے ایک شاخ کو تھام لیا مگر وہ شاخ اتنی زور زور سے ہلنے لگی کہ مجھ کو لگا جیسے کوئی دیو اپنی پوری طاقت سے اس کو ہلا رہا ہو اور مجھے گرانے کی کوشش کر رہا ہو۔ وہ شاخ ٹوٹ گئی اور میں گرگئی۔ میرے دوسرے ہاتھ میں وہ شاپر تھا جس میں آم بھرے تھے۔ وہ بھی گر گیا اور آم چھت پر بکھر گئے۔ اس وقت کسی طرف سے دو چار پتھر آکر میرے پاس گرے اور کچھ مجھ کو لگے تو مجھ پر اور زیادہ دہشت طاری ہو گئی۔ اپنی قوت اور حواس مجتمع کر کے آیت الکرسی اور قرآنی آیات پڑھتے ہوئے میں نے بکھرے ہوئے آم جلدی جلدی جمع کئے ، صرف اس لیے کہ نیچے کھڑی رخسانہ ، اس کی اور میری بہنیں یہ نہ کہیں کہ دیکھا ہم نے کہا تھا کہ تم اوپر جا کر اس وقت درخت سے آم نہیں توڑ سکو گی ، تم ڈر جائو گی۔ اور پھر وہ میرا خوب مذاق بنائیں گی۔ جس قدرآم جلدی سے اٹھا پائی، شاپر میں ڈال کر میں دھم دھم کرتی نیچے پہنچی اور شاپر اپنی بہن کو دے کر کہا یہ لو۔
وہاں اندھیرے کی وجہ سے وہ میری اڑی ہوئی رنگت اور چہرے کے تاثرات تو نہ دیکھ سکیں لیکن میری سانس تیز تھی۔ انہوں نے محسوس کر لیا کہ میں نے جلدی جلدی یہ کام کیا ہے۔اتنے سے آم لائی ہو۔ تو کیا سار ا درخت توڑ لاتی۔ میں نے غصے سے جواب دیا مگر میری آواز میں خوف شامل تھا۔ بہرحال رخصت لے کر اس وقت ہم گھر آ گئیں۔ گھر آکر میں نے وہ آم نہیں کھائے لیکن اس کے بعد سے میری طبیعت گری گری رہنے لگی، ہلکا بخار بھی کئی دن رہا۔ سوچا کہ خوف کی وجہ سے ایسا ہوا ہے ۔ خواہ مخواہ ڈر گئی۔ ہو سکتا ہے کہ اس وقت واقعی اندھی چلی ہو۔ یہ تو طفل تسلی تھی۔ بہر حال کافی دن دوالی۔ بخار اتر گیا مگر جس بازو سے شاخ پکڑی تھی ، اس بازو میں اچانک درد اٹھا اور اتنا شدید کہ میں بلبلا کر رہ گئی۔
جب کسی گولی سے آرام نہ آیا تو ڈاکٹر کے پاس لے گئے۔ اس نے جو دوادی، کھالی۔ درد میں کمی تو آجاتی تھی، پر مکمل آرام نہ آتا تھا، درد دوبارہ شروع ہو جاتا تھا۔ کئی ڈاکٹروں کو دکھایا۔ کسی نے مالش بتائی، کسی نے ٹکور اور سکائی کرنے کو کہا لیکن کسی دوا سے آرام نہ آیا۔ بالآ خرامی مجھ کو ایک بزرگ کے پاس لے گئیں۔ انہوں نے دم کیا اور بتایا کہ بچی نے شام کے وقت کسی پھل دار درخت سے پھل توڑے ہیں جبکہ وہاں دوسری مخلوق کا بسیرا ہے اور یہ ان کا آرام کا وقت تھا۔ یہ مخل ہوئی ہے، اب میں اس پر روز چالیس دن دم کروں گا اور بچی کو چاہیے کہ پانچ وقت نماز پڑھے ، قرآن پاک کی تلاوت کرے اور صوم و صلوۃ میں ناغہ نہیں ہونا چاہیے۔میں پانچ وقت کی با قاعدہ نماز پڑھنے لگی اور صبح سویرے بعد نماز فجر تلاوت کلام پاک کو اپنا معمول بنالیا۔ پاک صاف رہتی تھی۔ یوں میری گھبراہٹ اور خوف تو ختم ہو گیا مگر بازو کادرد اب بھی کبھی بھی اچانک اٹھتا ہے تو رو دیتی ہوں۔ بزرگ کے ورد سے درد میں افاقہ ہوا مگر مکمل اس مرض سے آرام نہیں آیا۔
اس واقعے کے بعد میں نے مغرب کے وقت درختوں کے پاس جانے اور پھل توڑنے سے توبہ کر لی ہے۔ بے شک اسے میرا وہم اور شک کہیں مگر مجھ پر ایک گزری ہوئی حقیقت ہے۔ سوچتی ہوں میں نے چونکہ اپنے ہمسایہ لوگوں کو خواہ مخواہ جھوٹے جادو ٹونے سے ڈرایا تھا، ان کا گھر ان سے چھن گیا، خوف کی وجہ سے ٹھکانہ بدل گئے۔ شاید اس کی سزا مجھے ملی کیونکہ اللہ تعالی کو ہمسایوں کو ستانا پسند نہیں آیا۔ کاش ! میں ایسا نہ کرتی تو آج مجھ کو یہ روگ نہ لگتا۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس پر ”سایہ “ ہے، آسیب ہے۔ مگر میں کہتی ہوں کہ یہ میری اپنی غلطی کی سزا ہے اور انسان کو اس کی غلطی کی سزا کبھی نہ کبھی ضرور ملتی ہے۔
کچھ دنوں بعد رخسانہ اور اس کی بہن آئیں۔ انہوں نے ایک عجیب بات بتائی۔ اس واقعہ کے بعد دوسرے دن ان کے گھر آم کے درخت پر نہ جانے کس سمت سے پتھر آئے اور اس کے بعد وقتا فوقتا ان کے گھر کے پچھلی طرف جہاں آم کا درخت ہے ، پتھر آتے ہیں۔ وہ کہہ رہی تھیں کہ اللہ جانے کسی کو ہم سے دشمنی ہو گئی ہے۔ پہلے والے گھر میں انڈے، ہلدی، تیل، کلیجی وغیرہ ہمارے دروازے کے سامنے پڑی ہوئی ملتی تھیں اور اب پچھلے صحن میں یہ پتھر گرتے ہیں۔ وہ بے چاریاں اتنی خوفزدہ تھیں کہ گھر بدلنے کا سوچ رہی تھیں۔ ایک دن پتا چلا بالآخر انہوں نے گھر بدل لیا ہے کیونکہ صحن میں پتھروں کی بارش ہوتی تھی جس سے ان کی زندگی اجیرن ہو گئی تھی۔


0 تبصرے