اک عیاش کی محبت - دوسرا حصہ

Sublimegate Urdu Stories

”سیدھا چلو۔“ میاں جی نے پرانے راوی کے پل کی طرف جانے والی سڑک کی طرف اشارہ کیا تھا۔ ضرار پھر سے کار چلانے لگا، اب اُس نے اُس گلی کے سامنے کار روک دی تھی، جس میں عزت داخل ہوئی تھی۔ میاں جی نے اپنی عقل و دانش کے زور پر وہ سارا منظر دیکھ لیا تھا۔ وہ ضرار کی طرف دیکھ کر ہلکا سا مسکرائے پھر کہنے لگے: ” اب جہاں میں کہوں، وہاں کار کھڑی کرنا۔“ مین روڈ پر واقع ایک قبرستان کے بعد والی گلی کے سامنے میاں جی نے اشارہ کیا۔ ضرار نے کار روک دی۔ کار سے اُترتے ہوئے میاں جی بولے: ”مجھے تھوڑی دیر لگ سکتی ہے۔ جانا چاہتے ہو تو چلے جاؤ۔“ ضرار نے گردن کو نفی میں ہلاتے ہوئے دل میں کہا: ” جو کام ماما، پاپا نہیں کر سکے وہ میں کروں گا۔“ میاں جی چلے گئے۔ ہڑتال کے باوجود سڑک پر ذاتی سواریوں کی وجہ سے رونق تھی۔ ضرار نے سڑک کنارے کار لگانے کے بعد اُسے اندر سے لاک کر لیا۔ ” کیا ہے ۲۱ گرام…؟“ اتنا سا وزن کم ہونے سے انسان مر کیوں جاتا ہے …؟“ اُس نے خود کلامی کی، پھر وہ اپنے جواب کی تلاش میں کار کی ایل سی ڈی پر وہی انگلش فلم دیکھنے لگا۔ اُسے وقت کاپتہ ہی نہیں چلا۔

 سوا گھنٹے بعد میاں جی نے کار کے شیشے پر اپنی انگلی سے معزز دستک دی۔ ضرار نے جلدی سے کار کا دروازہ کھول دیا۔ جیسے ہی میاں جی کار میں بیٹھے ضرار نے فٹ سے بتایا: ”یہ ہے وہ فلم جس کا میں نے آپ سے ذکر کیا تھا۔“ میاں جی نے ایل سی ڈی کی طرف دیکھے بغیر اُسے بند کرنے کا اشارہ کیا۔ ضرار نے ریموٹ سے ایل سی ڈی کو بند کر دیا۔ میاں جی نے اپنی جیب سے ایک کاغذ نکالتے ہوئے ضرار سے کہا: ”عزت کا موبائل نمبر ہے۔ مجھے ڈیرے پر چھوڑنے کے بعد گھر جا کر عزت سے موبائل پر بات کر لینا۔“ میاں جی نے کاغذ ضرار کی طرف کیا۔ ضرار نے کاغذ کو پکڑتے ہوئے پوچھا: ” کس سلسلے میں! “ ”شادی کا ارادہ بدل تو نہیں گیا …؟“ میاں جی نے سوالیہ انداز میں پوچھا۔ ”نہیں … وہ … مان گئی کیا …؟“ ضرار نے بوکھلاہٹ میں پوچھا۔ ” اُس کی کچھ شرطیں ہیں۔“ ”کیسی شرطیں…؟“ ضرار نے تھوڑی پریشانی کے ساتھ پوچھا۔ ”فون کرو گے تو شرطیں بتا دے گی۔“ میاں جی نے یہ بولتے ہوئے کار چلانے کا اشارہ بھی کیا۔

جب ضرار کی کار ڈیرے پر پہنچی سامنے لانگری اور ملنگ دونوں کھڑے تھے۔ میاں جی اور ضرار نے ونڈ اسکرین سے ہی اُنھیں دیکھ لیا تھا۔ میاں جی کار کے رُکتے ہی ضرار کو سمجھانے لگے: ” گھر پہنچ کر پہلے مجھے اپنی خیریت کی اطلاع دینا پھر عزت کو فون کرنا۔“ ” ٹھیک ہے میاں جی ! “ ضرار نے تابعداری سے کہا۔ میاں جی کار سے اُتر گئے۔ ضرار نے کار موڑتے ہی اُس کی رفتار تیز کر دی وہ جلد سے جلد گھر پہنچنا چاہتا تھا۔ پورچ میں کار کھڑی کرتے ہی اُس نے ٹریک سوٹ کے اَپر سے اپنا آئی فون نکالا جو آف تھا۔ آئی فون آن کرنے کے بعد اُس نے میاں جی کا نمبر ملایا۔ میاں جی کھاناکھانے کے بعد وضو کر کے اپنے حجرے میں لوٹے تو اُن کے موبائل کی گھنٹی بج رہی تھی۔ میاں جی نے موبائل کا سبز بٹن دبانے کے بعد کہا: ”ہاں جی !“ ” میں گھر پہنچ گیا ہوں میاں جی ! “ ضرار نے اپنے بیڈ روم کی طرف جاتے ہوئے بتایا۔ ” شکر ہے مالک کا“ میاں جی نے یہ بولنے کے بعد موبائل کا سرخ بٹن دبا دیا۔ ضرار نے اپنے بیڈروم کا دروازہ بند کرتے ہوئے جیب سے وہ کاغذ نکال کر وہ نمبر ملا دیا۔ ” السلام علیکم ضرار صاحب ! “ عزت نے کال ریسیو کرنے کے بعد کہا۔

”آپ نے کیسے پہچانا…“ ضرار نے حیرت سے پوچھا۔ ”میں اپنا نمبر دینے سے پہلے، دوسرے کا نمبر لیتی ہوں۔“ ”میاں جی بتا رہے تھے۔ آپ نے میرے ساتھ شادی کے لیے ہاں کر دی۔“ ضرار نے جلدی سے اپنے مطلب کی بات پوچھ لی۔ ”میاں جی اپنی طرف سے کبھی کوئی بات نہیں کرتے۔“ عزت کے جواب پر ضرار سوچنے لگا پھر وہ اصل بات پر آتے ہوئے بولا: ”کیا ہیں آپ کی شرطیں …؟“ ”پہلی شرط : میرا حق مہر، سات کروڑ ہو گا۔ وہ بھی معجل“ ”معجل مطلب … ؟“ ضرار نے بات کاٹتے ہوئے سوال کیا۔ ”نکاح کے وقت ہی سات کروڑ ادا کرنے ہوں گے۔“ عزت نے اپنے الفاظ پر زور دیتے ہوئے بتایا۔ ”دوسری شرط …؟“ ضرار نے فٹ سے پوچھا۔ ”نکاح کے بعد رخصتی نہیں ہو گی … پہلے ہم دونوں عمرہ کرنے جائیں گے اپنے اپنے خرچہ پر۔“ عزت کی بات اس بار بھی ضرار نے کاٹتے ہوئے مچلتے لہجے میں پوچھا: ”آپ میرے ساتھ عمرہ کرنے جائیں گی۔“ ”عمرے پر جا رہے ہیں۔ ہنی مون پر نہیں۔“ جو تم سوچ رہے ہو … رخصتی سے پہلے ویسا کچھ نہیں ہو گا۔“ عزت نے حتمی انداز میں بتایا۔ مچلتے لہجے کو جلتے لہجے میں بدلنے میں چند گھڑیاں ہی لگی تھیں۔ ضرار نے جلے بھنے انداز میں بتایا: ” میں تمھارا باڈی گارڈ بن کر تمھارے ساتھ نہیں جا سکتا۔“ ”آپ سے تم پر آنے میں تمھیں زیادہ وقت نہیں لگا۔ محرم اصل میں باڈی گارڈ ہی ہوتا ہے۔ میں نے میاں جی سے کئی بار پوچھا میں اکیلے کیوں نہیں عمرے پر جا سکتی۔ وہ کہنے لگے : ’شہزادیوں کے ساتھ محافظ ہوتے ہیں میں تمھیں کیوں یہ سب بتا رہی ہوں…؟“ عزت نے بھرائی ہوئی آواز میں کال کاٹ دی۔ ضرار صوفے پر بیٹھ گیا۔ بیڈ روم کے دروازے پر دستک ہوئی۔ ضرار اپنی سوچوں میں ڈوبا ہوا تھا۔ دستک پھر سے ہونے لگی۔ ضرار کو اب بھی پتہ نہیں چلا۔ دستک زور زور سے ہونے لگی: ” ہاں … کون ہے … آ جاؤ۔“ ضرار نے چونک کر کہا۔ ایک پچاس سالہ ملازمہ بیڈ روم میں داخل ہوتے ہوئے بولی: ” صاحب کھانا …؟“ ”کھانا …؟“ ضرار نے سوچتے ہوئے کہا۔ ” آپ نے دوپہر ایک بجے ناشتہ کیا تھا۔“ ملازمہ نے بتایا۔ ضرار نے لمحہ بھر سوچا پھر کہنے لگا: ”تم کھانا لگاؤ میں آتا ہوں۔“ ملازمہ چلی گئی۔ چند منٹ بعد ضرار بھی ڈائننگ ہال میں کھانا کھانے پہنچ گیا۔

 اُس کا ہاتھ نوالے منہ میں ڈال رہا تھا اور دانت چبا رہے تھے۔ اُس کا دماغ عزت کے متعلق سوچ رہا تھا۔ ضرار کی بے شمار دولت کی وجہ سے بہت ساری لڑکیاں اُس سے دوستی کے لیے ہمہ وقت تیار رہتیں۔ عزت نہ تو ضرار سے متاثر ہوئی اور نہ ہی اُس کی دولت سے۔ ضرار کی اَنا کو یہ بات بار بار ڈس رہی تھی۔ اُس نے کھانے سے پیٹ بھر لیا مگر اُس کی بھوک بڑھ گئی۔ ضرار اپنے بیڈ روم میں لوٹا، وہ بے چین تھا۔ اُس نے عزت کا نمبر ملایا: ” السلام علیکم “ عزت نے کہا۔ ” مجھے آپ کی دوسری شرط بھی منظور ہے۔“ ضرار کی بات سننے کے بعد بھی عزت خاموش تھی۔ ضرار نے خاموشی کو توڑا: ”اور بھی کوئی شرط ہے تو بتا دیں۔“ ”شرط تو نہیں ایک بات ہے۔“ عزت نے کہا۔

”جی فرمائیں ! “ ضرار ہلکے سے طنز کے ساتھ بولا تھا۔ ”ابھی تم میری اتنی ہی عزت کرو۔ جتنی ساری زندگی کر سکتے ہو۔“ عزت یہ بول کر خاموش ہوئی تو ضرار نے فٹ سے پوچھ لیا: ” وہ بات کیا تھی … ؟“ ”یہی بات تھی … میں تمھیں تم کہتی ہوں اور تم سے تُو پر کبھی نہیں آؤں گی۔ تم ! آپ اور تم میں سے ابھی کسی کو چُن لو۔“ ”آپ … “ ضرار نے بات کاٹتے ہوئے بتایا، ساتھ ہی اپنے دل کی آرزو بھی بتا دی: ”میں چاہتا ہوں ہم کل نکاح کر لیں۔“ ”اتنی جلدی کیوں نکاح کرنا چاتے ہو…؟“ ”محبت ہو گئی ہے آپ سے۔“ ضرار نے جلدی سے عزت کے سوال کا جواب دیا۔ ”ٹھیک ہے۔ کل دوپہر کو تم میاں جی، لانگری اور علی بخش کو لے کر میرے گھر آ جاؤ۔“ دو گواہ محلے سے ہو جائیں گے۔“ عزت نے کہا۔ ”مطلب میں اپنی طرف سے کسی کو نہیں لا سکتا؟“ ضرار نے شکایتی انداز میں پوچھا۔ ” میں نے کب منع کیا … ؟ حق مہر کی رقم ساتھ لے کر آنا۔ کل ملاقات ہوتی ہے۔“ عزت نے یہ سب کہہ کر، کال کاٹ دی تھی۔ ضرار سوچ میں پڑ گیا۔ وہ اپنے بیڈ پر کمر کے بل لیٹ گیا۔ ” کیا تلاش کر رہا ہوں میں …؟“ کیوں عزت سے شادی کرنے لگا ہوں …؟“ ضرار نے دل ہی دل میں خود سے پوچھا۔ وہ اُٹھ کر بیٹھ گیا، پھر کھڑے ہوتے ہوئے اُس نے خود کلامی کی: ” کوئی لڑکی اتنی حسین بھی ہو سکتی ہے کیا …؟“ 

اگلے دن راوی کلفٹن شاہدرہ کے علاقے میں عزت کے گھر پر رونق تھی۔ عزت کے پاس چھ مرلے کا ایک گھر تھا۔ جس کے گراؤنڈ فلور پر اُس نے اپنی بوتیک بنا رکھی تھی۔ دوسری منزل پر اُس کی رہائش تھی اور تیسری منزل پر سلائی کا یونٹ تھا۔ چوتھی منزل پر ایک کمرہ اُس کے آگے برآمدہ باقی چھت پھول والے پودوں کے گملوں سے بھری تھی۔ دوسری منزل پر محلے کے آٹھ مردوزن کے ساتھ ساتھ ضرار کی ملازمہ اور اُس کا ڈرائیور تھا۔ میاں جی کے ڈیرے کے دو افراد ایک نکاح رجسٹرار، عزت کی ایک عمر رسیدہ خادمہ سب موجود تھے ، جو سب صوفے اور کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ عزت نے نیا مگر سادہ لباس پہناہوا تھا۔ ضرار نے ٹوپیس پہن رکھا تھا۔ وہ دونوں تین سیٹوں والے صوفے پر اپنے درمیان جگہ چھوڑ کر بیٹھے ہوئے تھے۔

میاں جی ڈبل سیٹ والے صوفے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اُن کی بغل میں رجسٹرار تھا۔ انھوں نے نکاح پڑھوانا شروع کیا۔ جب انھوں نے کہا : ” حق مہر سات کروڑ معجل کے عوض“ تو سب افراد کے کان کھڑے ہو گئے۔ سب نے اپنے اپنے تعلق والے کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ نکاح کے بعد مبارک باد کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ نکاح رجسٹرار جب ضرار سے سائن کروانے کے بعد عزت کے پاس آیا تو عزت نے سائن کرتے ہوئے ہولے سے اُسے کہا : ”تایا جی ! کمپیوٹرائزڈ نکاح فارم ایک دو دن میں بجھوا دیجیے گا۔“ ”فکر نہ کرو بیٹی ! میں خود دے کر جاؤں گا۔“ رجسٹرار نے بڑے خلوص سے بتایا۔ ضرار نے اپنے ڈرائیور کو اشارہ کیا۔ اُس نے سب افراد میں مٹھائی اور بِد تقسیم کر دی۔ محلے والوں کے جانے کے بعد عزت نے میاں جی سے تھوڑی جھجھک کے ساتھ ہولے سے پوچھا : ” میاں جی ! میں ضرار صاحب کے ساتھ جا سکتی ہوں۔“ ”محرم کے ساتھ جانے کے لیے کسی میاں جی کی اجازت درکار نہیں ہوتی۔“ میاں جی نے بتایا۔ ” چلیں پھر ہم آپ کو چھوڑ دیتے ہیں۔“ میاں جی صوفے سے اُٹھ گئے۔ اُن کی آنکھوں میں چمک اور لہجے میں مٹھاس تھی۔ میاں جی نے دونوں ہاتھوں سے عترت کے سر پر پیار دیا۔ میاں جی کے ادب میں سب کھڑے ہو گئے۔ ”میاں جی ! ساجد آپ کو چھوڑ کر آئے گا۔“ ضرار نے کہا۔ میاں جی نے ساجد کی طرف دیکھا۔

ساجد ڈرائیور تابعداری کے ساتھ مسکرایا۔ ”چلو پھر ساجد بیٹا ! “ میاں جی یہ بولنے کے بعد اپنے ساتھیوں کے ہمراہ نیچے چلے گئے۔ ساجد نے سوالیہ نظروں سے ضرار کی طرف دیکھا۔ ضرار نے اُسے حکم دیا : ”تم میاں جی کو چھوڑنے کے بعد گھر چلے جانا۔“ یہ سنتے ہی ساجد میاں جی کے پیچھے بھاگا۔ ”اور میں صاحب … ؟“ ملازمہ نے جلدی سے پوچھا۔ ”ظاہر ہے تم بھی گھر ہی جاؤ گی۔

“ ضرار نے روکھے لہجے میں کہا۔ عزت نے ضرار کی طرف حیرت سے دیکھا پھر اپنی خادمہ کی طرف دیکھ کر بڑے مہذب انداز کے ساتھ کہنے لگی : ” بی بی ! میں آپ کے داماد کے ساتھ جا رہی ہوں۔“ بی بی نے اثبات میں گردن ہلا دی۔ ”ضرار صاحب !“ جب ضرار پوری طرح سے عزت کی طرف متوجہ ہو گیا پھر وہ بولی : ”یہ بی بی خانم ہیں۔ میرے گھر کی کرتا دھرتا۔“ بی بی خانم یہ سنتے ہی باغ باغ ہو گئی۔

” بی بی پیار دیں نا ! “ عزت نے کہا۔ بی بی خانم نے بڑی محبت کے ساتھ ضرار کے کندھے پر اپنا دست شفقت رکھا۔ ”بی بی آپ نہیں مجھے پیار دیں گی۔ “ عزت نے ضرار کی ملازمہ سے سوالیہ انداز میں پوچھا۔ ملازمہ نے ضرار کی طرف دیکھا۔ ضرار نے اشارے سے اجازت دے دی۔ ملازمہ نے ڈرتے ڈرتے عزت کے سر پر ہاتھ پھیر دیا۔ ”بی بی خانم ! اپ ضرار صاحب کو نیچے لے جائیں ہم دونوں آتے ہیں۔ “ خانم ضرار کو لے کر نیچے چلی گئی۔ ”کیا نام ہے آپ کا۔“ عزت نے ضرار کی ملازمہ سے پوچھا۔ ” شاکرہ “ ” آپ میرے ساتھ آئیں۔“ عزت نے ایک کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔ اپنے محلے کی گلی میں سے مین سڑک کی طرف جاتے ہوئے عزت اپنے شوہر کے ساتھ قدم سے قدم ملاتے بڑے وقار کے ساتھ چل رہی تھی۔ وہ ہمیشہ کی طرح بڑی سی چادر میں لپٹی ہوئی تھی۔

شاکرہ اُن دونوں کے پیچھے عزت کا بیگ اُٹھائے ہوئے چل رہی تھی۔ محلے کی عورتیں کچھ آدھے کواڑ کھولے ہوئے انھیں دیکھ رہی تھیں۔ کچھ گھر کی چوکھٹوں پر کھڑی تھیں اور بہت ساری گلی میں مردوں کے درمیان کھڑی ہوئیں اس نو بیاہتا جوڑے کو دیکھتے ہوئے سرگوشیوں کے انداز میں تبصرے بھی کر رہی تھیں : ” لڑکا تو اتنا خوبصورت نہیں ہے۔“ ضرار بد صورت نہیں تھا۔

بس عزت کے سامنے اُس کی خوبصورتی دب سی گئی تھی۔ ”عزت نے مال دیکھا ہے لڑکا نہیں۔“ ”بے چاری کب تک درزن بنی رہتی۔“ ”لنگور لے کر جا رہا ہے حور کو…“ ایک دل جلے نے کہا۔ ”میاں جی نے کروایا ہے یہ رشتہ۔“ دوسرے ٹھرکی نے بتایا۔ ”ہائے میں کیوں نہ میاں جی کا مرید بن گیا۔“ لڑکوں کی ٹولی میں سے ایک ساتھ قہقہے گونجے۔ ہجوم میں سے ایک بوڑھی خاتون عزت کی طرف بڑھی عزت کو پیار دیتے ہوئے ہولے سے اُس کے کان میں بولی : ”ماں کی طرح مت کرنا اس بے چارے کے ساتھ۔
“ ضرار نے سوالیہ نظروں سے عزت کی طرف دیکھا۔ عزت کے چہرے پر حجاب تھا مگر اُس کی نظروں میں اعتماد تھا۔ وہ مین سڑک کے پاس پہنچ گئے۔ مین سڑک پر ڈرائیور ضرار کی کار کے پیچھے اوراپنی ڈبل کیبن کے آگے کھڑا ہوا تھا۔ میاں جی اور اُن کے ساتھی ڈبل کیبن کی پچھلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ضرار یہ دیکھ کر بھڑک اُٹھا : ”میاں جی کو پیچھے کیوں بٹھایا ہے…؟“ ”سر انھوں نے کہا تھا اپنی ماں کو اپنے ساتھ بٹھاؤ ! “ ساجد نے بڑی عاجزی سے بتایا۔
عزت نے شاکرہ کو اشارہ کیا کہ وہ آگے بیٹھے۔ شاکرہ اُس بیگ کو گود میں رکھتے ہوئے اگلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ ”ساجد ! آپ جاؤ۔“ عزت نے مہذب انداز میں حکم دیا۔ ”جی بیگم صاحبہ ! “ ساجد نے تابعداری سے کہا اور گاڑی لے کر وہاں سے چلا گیا۔ ”میں تم اور میرا ملازم آپ ؟“ ضرار نے احتجاجی لہجے میں کہا تھا۔ ”اب بھی ہم دونوں کا کچھ نہیں بگڑا… تمھاری رقم محفوظ ہے اور میری عزت ! “ عزت نے بڑی سنجیدگی سے بتایا۔

سڑک سے گزرتے ہوئے لوگ رُک رُک اس جوڑے کو دیکھ رہے تھے۔ ضرار نے دیکھا تو وہ کہنے لگا : ”کار میں بیٹھو۔“ ضرار نے کوٹ کی جیب سے ریموٹ نکال کرگاڑی کو ان لاک کیا۔ عزت اگلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ ضرار نے کار کی ڈگی میں سے ایک کالا لیدر کا بیگ نکالا پھر وہ بھی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔ ”یہ تمھارا حق مہر۔“ ضرار نے وہ بیگ عزت کو دیتے ہوئے بتایا۔

عزت نے بیگ پکڑ کر پچھلی سیٹ پر رکھ دیا۔ ضرار نے ہلکے سے طنز کے ساتھ کہا : ” سات کروڑ کی گنتی نہیں کرو گی۔“ عزت نے اپنے رخسار سے حجاب ہٹایا۔ نظر بھر کے ضرار کو دیکھا پھر میٹھی مسکراہٹ ہونٹوں پر لاتے ہوئے بولی : ” راؤ ضرار اعتماد کیا ہے تم پر !“ ضرار حریص نظروں سے عزت کو دیکھے جا رہا تھا۔ ”یہ غیر مناسب ہے…؟“ عزت نے بتایا۔ ”کیا …؟“ ضرار نے پوچھا۔ ”سڑک کنارے ! “ ”اوہ …“ ضرار نے کار اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا۔ جب کار چل پڑی تو اُس نے پوچھا : ” جانا کہاں ہے …؟“ ”شوکت خانم“ ”شوکت خانم… ؟“ ضرار نے حیرانی سے کہا۔ ” شوکت خانم کینسر ہاسپٹل!“ عزت نے زور دے کر بتایا۔ ”میں تو سمجھا تھا تم میرے لیے آئی ہو۔“ ضرار نے عزت کی طرف دیکھتے ہوئے میٹھی خفگی کے ساتھ کہا تھا۔ ”سامنے دیکھ کر گاڑی چلاؤ!“ عزت نے میٹھی زبان میں کہا۔ اتنے سے ہی، ضرار خوش ہو گیا تھا۔ تقریباً تیس پینتیس منٹ بعد ضرار نے شوکت خانم کے مین گیٹ سے اندر داخل ہو کر کار پارکنگ میں کھڑی کر دی۔ عزت نے پچھلی سیٹ سے وہ بیگ اُٹھاتے ہوئے ضرار سے کہا : ”تم رکو میں تھوڑی دیرمیں آتی ہوں۔“ عزت کار سے اُتر کر فنانس ڈپارٹمنٹ کی طرف چل دی۔ ضرار نے اپنی سیٹ کے نیچے سے ایک شیشے کی بوتل نکالی اور اُسے منہ لگا کر اُس میں سے گھونٹ گھونٹ پینے لگا۔ پندرہ بیس منٹ بعد جب ضرار نے عترت کو اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا تو اُس نے وہ بوتل پھر سے اپنی سیٹ کے نیچے رکھ دی۔ واپسی پر عشت کے ہاتھ میں لیدر کا بیگ نہیں تھا۔ وہ آکر ضرار کے پہلو میں بیٹھ گئی۔ عزت نے لمبی سانس اندر کو لی تو ضرار فٹ سے بول پڑا : ” تم نے تو بتایا تھا کہ شوکت خانم والوں نے کہا ہے کہ تم باہر سے علاج کرواؤ۔“ عزت نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا : ” میں جھوٹ سے بچنے اور وعدہ پورا کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔

“ ضرار کی آنکھیں گول گول گھومنے لگیں، اُس نے پوچھا : ” میں نے کون سا وعدہ توڑا ہے…؟“ ”تم نے ہمیشہ مجھے آپ کہنے کا وعدہ کیا تھا ! “ ضرار نے نظر بھر کے عزت کو دیکھا پھر اُس کے گلے لگ گیا۔ عزت نے کوئی مزاحمت نہیں کی، کافی دیر بعد وہ عزت سے الگ ہوا۔ ” اس طرح تو سات کروڑ پورا نہیں ہوگا۔ تم مجھے ہوٹل بھی لے جا سکتے ہو اور گھر بھی۔ “ عزت نے یہ بولنے کے بعد ارد گرد دیکھا۔ اُن کے آگے پیچھے کاریں ہی کاریں تھیں۔ ضرار کے چہرے کے خدوخال بدل گئے۔ عزت ونڈ اسکرین سے شیشے کے پار دیکھنے کے بعد بولی : ”صرف سامنے والی اسکرین سے اندر نظر پڑتی ہے۔ اپنی بیوی کے پردے کا پورا پورا خیال رکھا ہے تم نے۔ “ ”شٹ اَپ “ ضرار جذباتی ہو گیا۔ ” تم تو انگلش بھی بول لیتے ہو… بولو گے کیوں نہیں میں میٹرک پاس ہوں اور تم انٹر فیل۔ “ عزت نے سرخ آنکھوں کے ساتھ بڑی سنجیدگی سے بتایا۔ ضرار نے اسے جواب دینے کی بجائے کار اسٹارٹ کی اور ہسپتال سے نکل کر کار سڑک پر ڈال دی۔ عزت نے اپنی آنکھیں بند کر کے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا لی۔ سارے رستے ان دونوں میں کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ ڈیفنس گھر کے باہر پہنچ کر ضرار نے کار کا ہارن بجایا فٹ سے گارڈ نے گیٹ کھول دیا۔ ” میرا گھر۔
“ ضرار نے عزت کے کان کے پاس اپنے ہونٹ لے جاتے ہوئے بتایا۔ عزت آنکھیں کھولتے ہوئے بولی : ” ہمارا گھر !“ ضرار نے لمحہ بھر سوچا، پھر وہ کار کا دروازہ زور سے مارتا ہوا باہر نکل گیا۔ عزت آرام سے کار سے اُتری۔ گھر کے مرکزی دروازے سے شاکرہ تیز تیز چلتی ہوئی کار کی طرف آ رہی تھی۔ ضرار اور عزت کار کے ساتھ مخالف سمتوں میں کھڑے تھے۔ شاکرہ یہ دیکھ کر اُن سے دور ہی رک گئی۔
عزرت نے ضرار کی طرف جاتے ہوئے اُس کا ہاتھ تھام کر کہا : ” چلو … مجھے میرا گھر دکھاؤ۔“ ضرار معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ مسکرایا۔ ضرار گھر دکھانے کی بجائے فسٹ فلور پر عزت کو اپنے بیڈ روم میں لے گیا۔ بیڈ روم میں داخل ہوتے ہی ضرار نے لاک لگایا اور عزت کو اپنی بانہوں کے شکنجے میں کس کے چومنے لگا۔ ضرار نے عزت کی چادر اُتار کر فرش پر پھینک دی۔
عزت بت بنی کھڑی رہی، جب ضرار نے عزت کو جذبات سے ماورا پایا تو اُس نے غصے سے عزت کو دھکا دے دیا۔ عزت لیدر کے صوفے پر جا گری۔ اُسے کوئی چوٹ نہیں لگی، تو وہ زور زور سے ہنسنے لگی۔ عزت کے قہقہے سن سن کر ضرار کو غصہ آ رہا تھا۔ اُس نے دانت پیستے ہوئے پوچھا : ” کیوں پاگلوں کی طرح ہنسے جا رہی ہو۔“ عزت نے دو تین لمبی سانسیں لیں پھر ارد گرد دیکھا۔

لیدر کے صوفے کے ساتھ شیشے کی میز پر پانی سے بھرا جگ اور ایک گلاس پڑا تھا۔ عزت نے گلاس میں پانی ڈالا اور تین سانس لے کر سارا پانی پینے کے بعد خالی گلاس میز پر رکھتے ہوئے بتانے لگی : ” میں جتنی دکھی ہوتی ہوں، اُتنے ہی زور سے ہنستی ہوں۔“ ”مجھ سے شادی کر کے تم دکھی ہوئی ہو!“ ضرار نے معنی خیز انداز میں پوچھا۔ ”دُکھ شادی نے نہیں۔ تمھارے رویے نے دیا ہے۔

“ عزت نے گیلی آواز میں بتایا۔ ” بیوی ہو تم میری“ ضرار نے حق جتاتے ہوئے اطلاع دی۔ ”اسی لیے میں نے تمھیں کچھ نہیں کہا۔“ عزت نے سرخ آنکھوں کے ساتھ ضرار کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بتایا تھا۔ ضرار نے نظریں چراتے ہوئے بات بدلی : ” کچھ کھاؤ گی … ؟“ عزت صوفے سے اُٹھتے ہوئے بولی : ” پہلے تم اپنی بھوک تو مٹا لو۔“ عزت اپنے مجازی خدا کے سامنے کھڑی تھی۔
عزت نے سنجیدگی سے پوچھا : ”ابھی ہوس تو پوری نہیں ہوئی ہو گی تمھاری …؟“ ضرار نے عزت سے منہ موڑتے ہوئے کہا : ”کتنی بے شرم ہو تم۔“ عزت نے ضرار کے سامنے آتے ہوئے سوالیہ انداز میں پوچھا : ” میں ہوں بے شرم… ؟“ ”تمھاری ماں بھی گھر سے بھاگ گئی تھی !“ ضرار نے طعنہ دیا۔ ” یہ میرے کہنے پر ہی میاں جی نے تمھیں بتایا تھا۔“ عزت کی یہ بات سن کر ضرار کو حیرت کا شدید دھچکا لگا تھا۔

ضرار نے عزت کو دونوں کندھوں سے تھامتے ہوئے پوچھا : ” تم ثابت کیا کرنا چاہتی ہو … ؟“ ”فی الحال تو اپنے شوہر کے ساتھ جینا چاہتی ہوں۔“ عزت نے پگھلتے ہوئے لہجے میں بتایا۔ ضرار نے غور سے عزت کو دیکھا پھر سوال کیا : ” میرے ساتھ … ؟“ ”ہاں … “ عزت نے بڑی حسرت سے بتایا۔ ضرار نے عزت کو صوفے پر بٹھا دیا اور خود کرسی لے کر اُس کے مدمقابل بیٹھ گیا۔
عزت بڑی شائستگی سے گویا ہوئی : ” ضرار صاحب ! مرد جسم کا پجاری ہے اور عورت اپنی خواہشوں کی“ ضرار نے یہ بات سننے کے بعد لمحہ بھر سوچا پھر کہنے لگا : ” تم بھی پجارن … ہو کیا ؟“ ”ہاں نا… میری خواہش ہے … میں ایک لمبی زندگی جی کر اپنے شوہر کے ساتھ وفا کی ایک مثال قائم کر جاؤں…؟“ عزت نے خاموشی اختیار کی، تو ضرار نے فوراً پوچھ لیا : ” وفا کی مثال … ؟“ ”ضرار صاحب ! بے وفاؤں کی اولاد کو وفا کی مثال قائم کرنی پڑتی ہے۔

“ ” تم نے مجھ سے شادی کیوں کی … ؟“ ضرار نے پوچھا۔ ”میں تمھارے والدین کی پسند ہوں۔“ عزت کے منہ سے یہ سنتے ہی ضرار کے منہ سے تذبذب کے عالم میں نکلا : ”کیا مطلب … ؟“ ”وہ لڑکی میں ہی ہوں حس کے ساتھ شادی کرنے سے تم نے انکار کیا تھا۔“ ضرار کا رنگ فق ہو گیا۔ وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو پکڑتے ہوئے کرسی سے اُٹھ کر کہنے لگا : ” بھولنا چاہتا ہوں میں اُس رات کو … بھولنا چاہتا ہوں۔

“ وقت کا دھارا دوبارہ بہنے لگا۔ ضرار کا دل دہل گیا، وہ اپنے اوسان مجتمع کرنا چاہ رہا تھا۔ مگر اُسے کامیابی نہیں مل رہی تھی۔ وہ ٹیرس کا دروازہ کھول کر اُدھر چلا گیا پھر لوہے کی کرسی پر بیٹھ گیا۔ عزت بیڈ روم کے اندر سے ہی اُسے دیکھ رہی تھی۔ زندگی کی ڈگر ضرار کو چار مہینے پیچھے لے گئی۔

👇👇

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے