ساجد ڈرائیور تابعداری کے ساتھ مسکرایا۔ ”چلو پھر ساجد بیٹا ! “ میاں جی یہ بولنے کے بعد اپنے ساتھیوں کے ہمراہ نیچے چلے گئے۔ ساجد نے سوالیہ نظروں سے ضرار کی طرف دیکھا۔ ضرار نے اُسے حکم دیا : ”تم میاں جی کو چھوڑنے کے بعد گھر چلے جانا۔“ یہ سنتے ہی ساجد میاں جی کے پیچھے بھاگا۔ ”اور میں صاحب … ؟“ ملازمہ نے جلدی سے پوچھا۔ ”ظاہر ہے تم بھی گھر ہی جاؤ گی۔
“ ضرار نے روکھے لہجے میں کہا۔ عزت نے ضرار کی طرف حیرت سے دیکھا پھر اپنی خادمہ کی طرف دیکھ کر بڑے مہذب انداز کے ساتھ کہنے لگی : ” بی بی ! میں آپ کے داماد کے ساتھ جا رہی ہوں۔“ بی بی نے اثبات میں گردن ہلا دی۔ ”ضرار صاحب !“ جب ضرار پوری طرح سے عزت کی طرف متوجہ ہو گیا پھر وہ بولی : ”یہ بی بی خانم ہیں۔ میرے گھر کی کرتا دھرتا۔“ بی بی خانم یہ سنتے ہی باغ باغ ہو گئی۔
” بی بی پیار دیں نا ! “ عزت نے کہا۔ بی بی خانم نے بڑی محبت کے ساتھ ضرار کے کندھے پر اپنا دست شفقت رکھا۔ ”بی بی آپ نہیں مجھے پیار دیں گی۔ “ عزت نے ضرار کی ملازمہ سے سوالیہ انداز میں پوچھا۔ ملازمہ نے ضرار کی طرف دیکھا۔ ضرار نے اشارے سے اجازت دے دی۔ ملازمہ نے ڈرتے ڈرتے عزت کے سر پر ہاتھ پھیر دیا۔ ”بی بی خانم ! اپ ضرار صاحب کو نیچے لے جائیں ہم دونوں آتے ہیں۔ “ خانم ضرار کو لے کر نیچے چلی گئی۔ ”کیا نام ہے آپ کا۔“ عزت نے ضرار کی ملازمہ سے پوچھا۔ ” شاکرہ “ ” آپ میرے ساتھ آئیں۔“ عزت نے ایک کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔ اپنے محلے کی گلی میں سے مین سڑک کی طرف جاتے ہوئے عزت اپنے شوہر کے ساتھ قدم سے قدم ملاتے بڑے وقار کے ساتھ چل رہی تھی۔ وہ ہمیشہ کی طرح بڑی سی چادر میں لپٹی ہوئی تھی۔
بس عزت کے سامنے اُس کی خوبصورتی دب سی گئی تھی۔ ”عزت نے مال دیکھا ہے لڑکا نہیں۔“ ”بے چاری کب تک درزن بنی رہتی۔“ ”لنگور لے کر جا رہا ہے حور کو…“ ایک دل جلے نے کہا۔ ”میاں جی نے کروایا ہے یہ رشتہ۔“ دوسرے ٹھرکی نے بتایا۔ ”ہائے میں کیوں نہ میاں جی کا مرید بن گیا۔“ لڑکوں کی ٹولی میں سے ایک ساتھ قہقہے گونجے۔ ہجوم میں سے ایک بوڑھی خاتون عزت کی طرف بڑھی عزت کو پیار دیتے ہوئے ہولے سے اُس کے کان میں بولی : ”ماں کی طرح مت کرنا اس بے چارے کے ساتھ۔
عزت نے شاکرہ کو اشارہ کیا کہ وہ آگے بیٹھے۔ شاکرہ اُس بیگ کو گود میں رکھتے ہوئے اگلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ ”ساجد ! آپ جاؤ۔“ عزت نے مہذب انداز میں حکم دیا۔ ”جی بیگم صاحبہ ! “ ساجد نے تابعداری سے کہا اور گاڑی لے کر وہاں سے چلا گیا۔ ”میں تم اور میرا ملازم آپ ؟“ ضرار نے احتجاجی لہجے میں کہا تھا۔ ”اب بھی ہم دونوں کا کچھ نہیں بگڑا… تمھاری رقم محفوظ ہے اور میری عزت ! “ عزت نے بڑی سنجیدگی سے بتایا۔
سڑک سے گزرتے ہوئے لوگ رُک رُک اس جوڑے کو دیکھ رہے تھے۔ ضرار نے دیکھا تو وہ کہنے لگا : ”کار میں بیٹھو۔“ ضرار نے کوٹ کی جیب سے ریموٹ نکال کرگاڑی کو ان لاک کیا۔ عزت اگلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ ضرار نے کار کی ڈگی میں سے ایک کالا لیدر کا بیگ نکالا پھر وہ بھی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔ ”یہ تمھارا حق مہر۔“ ضرار نے وہ بیگ عزت کو دیتے ہوئے بتایا۔
عزت نے بیگ پکڑ کر پچھلی سیٹ پر رکھ دیا۔ ضرار نے ہلکے سے طنز کے ساتھ کہا : ” سات کروڑ کی گنتی نہیں کرو گی۔“ عزت نے اپنے رخسار سے حجاب ہٹایا۔ نظر بھر کے ضرار کو دیکھا پھر میٹھی مسکراہٹ ہونٹوں پر لاتے ہوئے بولی : ” راؤ ضرار اعتماد کیا ہے تم پر !“ ضرار حریص نظروں سے عزت کو دیکھے جا رہا تھا۔ ”یہ غیر مناسب ہے…؟“ عزت نے بتایا۔ ”کیا …؟“ ضرار نے پوچھا۔ ”سڑک کنارے ! “ ”اوہ …“ ضرار نے کار اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا۔ جب کار چل پڑی تو اُس نے پوچھا : ” جانا کہاں ہے …؟“ ”شوکت خانم“ ”شوکت خانم… ؟“ ضرار نے حیرانی سے کہا۔ ” شوکت خانم کینسر ہاسپٹل!“ عزت نے زور دے کر بتایا۔ ”میں تو سمجھا تھا تم میرے لیے آئی ہو۔“ ضرار نے عزت کی طرف دیکھتے ہوئے میٹھی خفگی کے ساتھ کہا تھا۔ ”سامنے دیکھ کر گاڑی چلاؤ!“ عزت نے میٹھی زبان میں کہا۔ اتنے سے ہی، ضرار خوش ہو گیا تھا۔ تقریباً تیس پینتیس منٹ بعد ضرار نے شوکت خانم کے مین گیٹ سے اندر داخل ہو کر کار پارکنگ میں کھڑی کر دی۔ عزت نے پچھلی سیٹ سے وہ بیگ اُٹھاتے ہوئے ضرار سے کہا : ”تم رکو میں تھوڑی دیرمیں آتی ہوں۔“ عزت کار سے اُتر کر فنانس ڈپارٹمنٹ کی طرف چل دی۔ ضرار نے اپنی سیٹ کے نیچے سے ایک شیشے کی بوتل نکالی اور اُسے منہ لگا کر اُس میں سے گھونٹ گھونٹ پینے لگا۔ پندرہ بیس منٹ بعد جب ضرار نے عترت کو اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا تو اُس نے وہ بوتل پھر سے اپنی سیٹ کے نیچے رکھ دی۔ واپسی پر عشت کے ہاتھ میں لیدر کا بیگ نہیں تھا۔ وہ آکر ضرار کے پہلو میں بیٹھ گئی۔ عزت نے لمبی سانس اندر کو لی تو ضرار فٹ سے بول پڑا : ” تم نے تو بتایا تھا کہ شوکت خانم والوں نے کہا ہے کہ تم باہر سے علاج کرواؤ۔“ عزت نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا : ” میں جھوٹ سے بچنے اور وعدہ پورا کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔
“ ضرار کی آنکھیں گول گول گھومنے لگیں، اُس نے پوچھا : ” میں نے کون سا وعدہ توڑا ہے…؟“ ”تم نے ہمیشہ مجھے آپ کہنے کا وعدہ کیا تھا ! “ ضرار نے نظر بھر کے عزت کو دیکھا پھر اُس کے گلے لگ گیا۔ عزت نے کوئی مزاحمت نہیں کی، کافی دیر بعد وہ عزت سے الگ ہوا۔ ” اس طرح تو سات کروڑ پورا نہیں ہوگا۔ تم مجھے ہوٹل بھی لے جا سکتے ہو اور گھر بھی۔ “ عزت نے یہ بولنے کے بعد ارد گرد دیکھا۔ اُن کے آگے پیچھے کاریں ہی کاریں تھیں۔ ضرار کے چہرے کے خدوخال بدل گئے۔ عزت ونڈ اسکرین سے شیشے کے پار دیکھنے کے بعد بولی : ”صرف سامنے والی اسکرین سے اندر نظر پڑتی ہے۔ اپنی بیوی کے پردے کا پورا پورا خیال رکھا ہے تم نے۔ “ ”شٹ اَپ “ ضرار جذباتی ہو گیا۔ ” تم تو انگلش بھی بول لیتے ہو… بولو گے کیوں نہیں میں میٹرک پاس ہوں اور تم انٹر فیل۔ “ عزت نے سرخ آنکھوں کے ساتھ بڑی سنجیدگی سے بتایا۔ ضرار نے اسے جواب دینے کی بجائے کار اسٹارٹ کی اور ہسپتال سے نکل کر کار سڑک پر ڈال دی۔ عزت نے اپنی آنکھیں بند کر کے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا لی۔ سارے رستے ان دونوں میں کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ ڈیفنس گھر کے باہر پہنچ کر ضرار نے کار کا ہارن بجایا فٹ سے گارڈ نے گیٹ کھول دیا۔ ” میرا گھر۔عزت بت بنی کھڑی رہی، جب ضرار نے عزت کو جذبات سے ماورا پایا تو اُس نے غصے سے عزت کو دھکا دے دیا۔ عزت لیدر کے صوفے پر جا گری۔ اُسے کوئی چوٹ نہیں لگی، تو وہ زور زور سے ہنسنے لگی۔ عزت کے قہقہے سن سن کر ضرار کو غصہ آ رہا تھا۔ اُس نے دانت پیستے ہوئے پوچھا : ” کیوں پاگلوں کی طرح ہنسے جا رہی ہو۔“ عزت نے دو تین لمبی سانسیں لیں پھر ارد گرد دیکھا۔
لیدر کے صوفے کے ساتھ شیشے کی میز پر پانی سے بھرا جگ اور ایک گلاس پڑا تھا۔ عزت نے گلاس میں پانی ڈالا اور تین سانس لے کر سارا پانی پینے کے بعد خالی گلاس میز پر رکھتے ہوئے بتانے لگی : ” میں جتنی دکھی ہوتی ہوں، اُتنے ہی زور سے ہنستی ہوں۔“ ”مجھ سے شادی کر کے تم دکھی ہوئی ہو!“ ضرار نے معنی خیز انداز میں پوچھا۔ ”دُکھ شادی نے نہیں۔ تمھارے رویے نے دیا ہے۔
“ عزت نے گیلی آواز میں بتایا۔ ” بیوی ہو تم میری“ ضرار نے حق جتاتے ہوئے اطلاع دی۔ ”اسی لیے میں نے تمھیں کچھ نہیں کہا۔“ عزت نے سرخ آنکھوں کے ساتھ ضرار کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بتایا تھا۔ ضرار نے نظریں چراتے ہوئے بات بدلی : ” کچھ کھاؤ گی … ؟“ عزت صوفے سے اُٹھتے ہوئے بولی : ” پہلے تم اپنی بھوک تو مٹا لو۔“ عزت اپنے مجازی خدا کے سامنے کھڑی تھی۔
عزت نے سنجیدگی سے پوچھا : ”ابھی ہوس تو پوری نہیں ہوئی ہو گی تمھاری …؟“ ضرار نے عزت سے منہ موڑتے ہوئے کہا : ”کتنی بے شرم ہو تم۔“ عزت نے ضرار کے سامنے آتے ہوئے سوالیہ انداز میں پوچھا : ” میں ہوں بے شرم… ؟“ ”تمھاری ماں بھی گھر سے بھاگ گئی تھی !“ ضرار نے طعنہ دیا۔ ” یہ میرے کہنے پر ہی میاں جی نے تمھیں بتایا تھا۔“ عزت کی یہ بات سن کر ضرار کو حیرت کا شدید دھچکا لگا تھا۔
ضرار نے عزت کو دونوں کندھوں سے تھامتے ہوئے پوچھا : ” تم ثابت کیا کرنا چاہتی ہو … ؟“ ”فی الحال تو اپنے شوہر کے ساتھ جینا چاہتی ہوں۔“ عزت نے پگھلتے ہوئے لہجے میں بتایا۔ ضرار نے غور سے عزت کو دیکھا پھر سوال کیا : ” میرے ساتھ … ؟“ ”ہاں … “ عزت نے بڑی حسرت سے بتایا۔ ضرار نے عزت کو صوفے پر بٹھا دیا اور خود کرسی لے کر اُس کے مدمقابل بیٹھ گیا۔
عزت بڑی شائستگی سے گویا ہوئی : ” ضرار صاحب ! مرد جسم کا پجاری ہے اور عورت اپنی خواہشوں کی“ ضرار نے یہ بات سننے کے بعد لمحہ بھر سوچا پھر کہنے لگا : ” تم بھی پجارن … ہو کیا ؟“ ”ہاں نا… میری خواہش ہے … میں ایک لمبی زندگی جی کر اپنے شوہر کے ساتھ وفا کی ایک مثال قائم کر جاؤں…؟“ عزت نے خاموشی اختیار کی، تو ضرار نے فوراً پوچھ لیا : ” وفا کی مثال … ؟“ ”ضرار صاحب ! بے وفاؤں کی اولاد کو وفا کی مثال قائم کرنی پڑتی ہے۔
“ ” تم نے مجھ سے شادی کیوں کی … ؟“ ضرار نے پوچھا۔ ”میں تمھارے والدین کی پسند ہوں۔“ عزت کے منہ سے یہ سنتے ہی ضرار کے منہ سے تذبذب کے عالم میں نکلا : ”کیا مطلب … ؟“ ”وہ لڑکی میں ہی ہوں حس کے ساتھ شادی کرنے سے تم نے انکار کیا تھا۔“ ضرار کا رنگ فق ہو گیا۔ وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو پکڑتے ہوئے کرسی سے اُٹھ کر کہنے لگا : ” بھولنا چاہتا ہوں میں اُس رات کو … بھولنا چاہتا ہوں۔
“ وقت کا دھارا دوبارہ بہنے لگا۔ ضرار کا دل دہل گیا، وہ اپنے اوسان مجتمع کرنا چاہ رہا تھا۔ مگر اُسے کامیابی نہیں مل رہی تھی۔ وہ ٹیرس کا دروازہ کھول کر اُدھر چلا گیا پھر لوہے کی کرسی پر بیٹھ گیا۔ عزت بیڈ روم کے اندر سے ہی اُسے دیکھ رہی تھی۔ زندگی کی ڈگر ضرار کو چار مہینے پیچھے لے گئی۔
👇👇
.jpg)
0 تبصرے