اک عیاش کی محبت - تیسرا حصہ

Sublimegate Urdu Stories

”ہم نے تمھارے لیے ایک لڑکی پسند کی ہے۔“ ضرار کے پاپا راؤ حماد نے اُس کی ماما انیسہ حماد کی طرف مشاورتی نظروں سے دیکھتے ہوئے ضرار کو بتایا۔ ”کس سیاست دان کی بیٹی ہے … ؟“ ضرار نے بڑی دلچسپی سے پوچھا۔ ضرار کے والدین خاموش رہے تو اُس نے اندازہ لگایا : ” کسی جرنل، کرنل کی بیٹی ہے کیا … ؟“ ”نہیں ضرار بیٹا وہ یتیم ہے۔ “ انیسہ نے آگاہ کیا۔ ”ہاسپٹل میں کوئی دل کی ڈاکٹر تو پسند نہیں آگئی آپ کو … ؟“ ”وہ بے چاری تو خود مریضہ ہے۔“ راؤ حماد نے زخمی مسکراہٹ کے ساتھ خبر دی۔ ” پڑھ پڑھ کے ذہنی مریضہ بن گئی ہو گی… ؟“ ضرار نے مذاق میں کہا۔ ” نہیں بیٹا وہ تو صرف میٹرک پاس ہے۔“ انیسہ نے آگاہ کیا۔ ”آپ دونوں کا دماغ تو نہیں خراب ہو گیا۔ “ ضرار نے بڑی بد تمیزی سے کہا۔ ” ضرار !“ راؤ حماد نے پوری گھن گرج کے ساتھ ضرار کو ٹوکا پھر وہ کرسی سے کھڑے ہوتے ہوئے کہنے لگا : ” ہم تمھارے ماں باپ ہیں… !“ ” اچھا جی ! مجھے تو پتہ نہیں تھا تم میرے باپ ہو۔“ جیسے ہی ضرار کے منہ سے یہ طنزیہ جملہ نکلا انیسہ نے ضرار کے منہ پر ایک تھپڑ جڑ دیا۔ ” تم دونوں نے خود گھر سے بھاگ کر شادی کی اور میرے اوپر اپنی مرضی مسلط کر رہے ہو۔ “ راؤ حماد دل پکڑ کر کرسی پر بیٹھ گیا۔ وہ تکلیف کے عالم میں کہنے لگا : ”ابھی نکل جاؤ میرے گھر سے۔“ ” یہ گھر میرے نام پر ہے راؤ حماد ! “ ضرار یہ بول کر لاؤنج سے اپنے بیڈ روم کی طرف جاتی ہوئی سیڑھیوں پر چڑھنے لگا۔ راؤ حماد منہ کے بل فرش پر جا گرا۔ انیسہ اُسے اُٹھاتے ہوئے چلائی : ”ساجد… شاکرہ… ان کو پھر دل کا دورہ پڑ گیا ہے۔ “ ساجد اور شاکرہ بھاگ کر آ گئے۔ ضرار بھی یہ سنتے ہی بھاگا۔ 
٭٭٭٭
  ضرار کرسی سے اُٹھ کر عترت کی طرف بھاگتا ہوا آیا اور اُس سے لپٹ کر کہنے لگا : ”ماما … مجھ سے غلطی ہو گئی۔ اُس دن میں نے بہت زیادہ پی رکھی تھی … ماما آپ کو تو پتہ ہے میں آپ دونوں سے کتناپیار کرتا ہوں۔ سوری ما ما ! مجھے معاف کر دیں۔“ گھنٹہ بھرپہلے والا شکاری اب خود پناہ کی تلاش میں تھا۔ عزت نے ضرار کو بیڈ پر لٹایا اور خود بھی اُس کے ساتھ اپنی ماں کی طرح لپٹ گئی۔ جیسے میاں جی کی بیوی مطوفہ اُسے بچپن میں ماں کی طرح اپنے سینے سے لگاتی تھیں بالکل اُسی طرح عزت نے ضرار کو اپنے سینے سے لگا رکھا تھا۔ ضرار سو گیا تو عزت اُس کے پہلو سے اُٹھی اور واش روم چلی گئی۔

 وہ وضو کر کے لوٹی تھی۔ اُس نے ارد گرد دیکھا اُسے جائے نماز کہیں نظر نہیں آیا۔ وہ ٹیرس پر گئی آسمان کی طرف منہ کر کے سورج کی سمت کا اندازہ لگایا پھر ٹیرس پر ہی اپنی چادر بچھا کے اُس پر نماز پڑھنے لگی۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد وہ بیڈ روم میں لوٹی۔ ضرار گہری نیند میں تھا۔ اُسے نظر بھر کے دیکھنے کے بعد عزت بیڈ روم سے نکل گئی۔  رات دس بجے کے پاس ضرار جاگا تو اُس نے ذہن پر زور دے کر سب کچھ یاد کیا۔ اُس نے ارد گرد دیکھا عزت نہیں تھی۔ وہ بے چین ہو کر بیڈ روم سے نکلا۔ گھر کے مختلف مقامات سے گزرتے ہوئے وہ زور زور سے چلایا۔ ” شاکرہ … ساجد… شاکرہ“ ” جی صاحب ! “ شاکرہ نے اُس کے پاس آتے ہوئے کہا۔ ” عزت کہاں ہے … ؟“ ” وہ تو چلی گئی۔“ شاکرہ نے بتایا۔ ” کیسے چلی گئی۔“ ضرار نے پوچھا۔ ” سر ! میں چھوڑ کر آیا تھا۔“ ساجد نے جلدی سے آگاہ کیا۔ ” کیوں …؟“ ضرار نے تلخ انداز میں پوچھا۔ ساجد نے سر جھکا لیا۔ ضرار اُن دونوں کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔ بیڈ روم میں پہنچ کر اُس نے اپنا موبائل آن کیا اور عزت کا نمبر ملا دیا۔ ”السلام علیکم!“ اب کیسی طبیعت ہے تمھاری۔“ عزت نے کال رسیو کرتے ہی پوچھ لیا۔ ایک جملے ہی سے ضرار کا غصہ کچھ ہلکا ہو گیا تھا۔ ” میں ٹھیک ہوں۔ آپ چلی کیوں گئی…؟“ ضرار نے پوری کوشش کر کے دھیمے لہجے میں پوچھا تھا۔ ” مجھے جھوٹ اور دھوکے سے سخت نفرت ہے۔“ عزت نے سنجیدگی سے بتایا۔ ” Sorry…“ ضرار نے دھیرے سے کہا۔ چند لمحے دونوں اطراف سکوت رہا پھر ضرار کی عاجزانہ آواز نے سکوت توڑا : ” مجھے اکیلے میں ڈر لگتا ہے … میں آپ کے پاس آ جاؤں …؟“ عزت نے یہ سنتے ہی فٹ سے بول دیا : ” ساجد کے ساتھ آنا … جب وہاں سے نکلو تو میری ساجد سے بات کروا دینا میں اُسے بتا دوں گی کہاں آنا ہے۔ ہاں شلوار قمیض پہن کر آنا اُسی پینٹ کوٹ میں دوڑ مت لگا دینا۔ میں انتظار کر رہی ہوں۔“ آخری لائن عزت نے بڑی مٹھاس سے کہی تھی۔

 ضرار کے اندر خوشی کی لہر دوڑ گئی وہ دیوانوں کی طرح سے واڈ روب سے کپڑے نکالنے لگا۔ ایک گرم شلوار قمیض پر اس کا ہاتھ رُکا تھا۔ وہ تیار ہو کر نیچے آیا اور ساجد کو جوش سے پکارا : ”ساجد ! او ساجد کدھر ہو …؟“ ساجد نے فوراً جواب دیا : ” جی سر ! “ ”چلو…!“ ضرار یہ بول کر باہر کی طرف چل دیا۔ ساجد بھی اُس کے پیچھے لپکا۔ ضرار نے عزت کا نمبر ملا دیا : ”جی … “ عزت نے لفظ ضائع نہیں کیے۔ ضرار نے ساجد کی طرف فون کرتے ہوئے کہا : ” یہ لیں ساجد سے بات کریں۔“ ”جی آپی۔“ ساجد نے بڑے ادب سے کہا۔ اس کے باوجود ضرار کو ناگواری گزری تھی۔ ” ساجد ! اُسی جگہ صاحب کو بھی اُتارنا۔ شاہدرہ پہنچتے ہی مجھے فون کر دینا میں خود صاحب کو لینے آؤں گی۔ “ ” ٹھیک ہے آپی !“ ساجد نے اپنی بات بول کر موبائل ضرار کی طرف کر دیا۔ ضرار نے موبائل پکڑ کر اسے اپنی لیدر کی جیکٹ کے ساتھ مسلا تھا۔ ساجد نے آگے بڑھ کرگاڑی کا پچھلا دروازہ کھول دیا۔ ضرار نے گاڑی میں بیٹھنے کے بعد گاڑی کے ڈیش بورڈ کے اوپر پڑے ہوئے ٹشو کے ڈبے کی طرف دیکھا۔

 جیسے ہی ساجد ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا۔ ضرار نے فٹ سے حکم دیا : ”ٹشو دو ! “ ساجد نے بائیں ہاتھ سے ٹشو کا ڈبہ پکڑنے کے بعد دونوں ہاتھوں سے ضرار کے سامنے پیش کیا۔ ضرار نے اُس میں سے پانچ چھ ٹشو نکال لیے اور اُن سے اپنا موبائل صاف کرتے ہوئے تیکھے انداز میں کہنے لگا : ” آپی آپی ! کیا لگا رکھی تھی وہ بیگم صاحبہ ہیں تمھاری۔“ ”سر ! بیگم صاحبہ کہنے سے انھوں نے منع کیا ہے۔“ ساجد نے بتایا۔ ”میڈم تو بول سکتے تھے نا… “ ضرار نے سختی سے کہا۔ ”یہ بھی بولا تھا سر ! وہ کہنے لگیں مجھے میرے محلے میں سب آپی کہتے ہیں… تم بھی آپی ہی کہو۔ “ ساجد نے یہ بتانے کے بعد اپنی ساری توجہ سڑک پر مرکوز کر دی۔ ڈیفنس سے نکل کر اب وہ رنگ روڈ پر سفر کر رہے تھے۔ ضرار ارد گرد باہر اندھیرے میں بھی کچھ دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ جلد سے جلد عزت کے پاس پہنچنا چاہتا ہے۔ نا چاہتے ہوئے بھی اُس نے ساجد سے پوچھا : ”اور کیا کہا تھا تمھاری آپی نے …؟“ ”کس بارے میں سر ! “ ساجد نے سینٹر والے مرر میں ضرار کو دیکھ کر کہا : ”مطلب کیا پوچھا… کیا بتایا … ؟“ ضرار نے رُک رُک کر سوال کیا تھا۔ ” سر! آپی مجھ سے امی اور لائبہ کے بارے میں ہی سوال کرتی رہیں۔“ ”لائبہ کون… ؟“ ضرار نے فٹ سے پوچھا۔ ” لائبہ میری بیوی سر ! “ ساجد نے بتایا۔ ”ہاں … ہاں… تمھاری شادی دو چار مہینے پہلے ہوئی تھی۔“ ضرار نے یاد کرتے ہوئے کہا۔ ”سال ہونے کو ہے سر ! چند دن تک تو میں باپ بھی بن جاؤں گا۔“ ساجد نے دبی سی خوشی کے ساتھ بتایا۔ ”کبھی دیکھا نہیں تمھاری بیوی کو“ ضرار نے کہا۔ ساجد کے منہ سے بے ساختہ نکل گیا۔ ”ہم اُسے آپ کے سامنے نہیں آنے دیتے سر ! “ ساجد کی بات ضرار کو ایسے لگی، جیسے بے خیالی میں اُسے کسی نے تھپڑ مار دیا ہو۔

 اُس وقت وہ دونوں ایک دوسرے سے ڈر رہے تھے۔ ضرار کے موبائل پر بیل ہونے لگی اُس نے چونک کر موبائل اسکرین کو دیکھا کوئی انجان نمبر تھا، اُس نے کال اُٹھا لی : ”ہیلو“ ”آج کل کدھر ہو جان ! “ بڑی سریلی آواز میں کسی لڑکی نے پوچھا تھا۔ ”ریشم “ ضرار نے تصدیقی لہجے میں پوچھا۔ ” تمھاری جدائی میں ریشم کھدر ہو گئی ہے۔ کال کروں تو تمھارا نمبر آف ملتا ہے۔“ ضرار نے ریشم کی بات کاٹتے ہوئے بتایا : ”میں نے شادی کر لی ہے۔“ ضرار نے کال کاٹتے ہی اپنا موبائل بھی آف کر دیا تھا۔ ساجد نے گاڑی رِنگ روڈ سے راوی کے پل کی طرف اتارتے ہوئے عزت کا نمبر ملایا : ”جی ساجد ! “ ” آپی ہم آٹھ سے دس منٹ تک اُسی جگہ پہنچ جائیں گے۔ “ ” ٹھیک ہے۔“ عزت نے یہ بول کر کال کاٹ دی۔ ساجد نے ابھی موبائل کان سے الگ کیا ہی تھا کہ ضرار نے خفگی سے پوچھ لیا : ” میرے بارے میں تو کچھ نہیں بتایا عزت کو!!“ ”نہیں سر ! “ ”سچ بول رہے ہو۔ نا …؟“ ضرار نے لفظوں پر زور دے کر پوچھا تھا۔ ”جی سر!“ ساجد نے سنجیدگی سے کہا۔ ”کبھی بتانا بھی مت۔“ ضرار حکمیہ لہجے میں بولا۔ ” بہتر سر !“ ساجد نے اُسی جگہ پھاٹک سے پہلے گاڑی روکی تھی۔

 پھاٹک کے ایک طرف مغلیہ کالونی اور دوسری طرف راوی کلفٹن کا علاقہ ہے۔ گاڑی کے رکتے ہی عزت ایک کھجور کے شجر کے پیچھے سے برآمد ہوئی۔ ساجد کے دروازہ کھولنے سے پہلے ہی ضرار خود اپنا دروازہ کھول کر باہر نکل آیا تھا۔ عزت کو حجاب کے اندر دیکھنے کے باوجود ضرار کی آنکھیں چمک اُٹھی تھیں۔ عزت نے بھی سر تا پیر غور سے ایک نظر ضرار پر ڈالی۔ گندمی رنگت اور دراز قد والا ایک لڑکا جس نے سرمئی شلوار قمیض کے اوپر لیدر کی ایمپورٹڈ جیکٹ پہن رکھی تھی۔ اس کے پیروں میں لیدر کے ہی اٹالین شوز تھے۔ بائیں کلائی پر راڈو اور دائیں ہاتھ میں اُس کا موبائل تھا۔ عزت نے ضرار کے بعد ساجد کی طرف دیکھتے ہوئے کہا : ” ساجد بھائی ! آپ چلے جاؤ!“ ساجد نے ضرار کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ ضرار نے موبائل جیکٹ کی جیب میں ڈالتے ہوئے ساجد کو گردن ہلا کر جانے کا اشارہ دے دیا۔ ساجد کے وہاں سے جانے کے بعد عزت نے ضرار کا سیدھا ہاتھ پکڑتے ہوئے پوچھا : ” کھانا کھایا …؟“ ضرار نے نفی میں گردن ہلا دی۔ عزت نے خوشی سے اطلاع دی : ” میں نے بھی نہیں کھایا۔“ عزت نے اپنے اُلٹے ہاتھ کے پنجے سے ضرار کے سیدھے پنجے کو جکڑ لیا اور مقبرہ جہانگیر کی طرف چل دی۔ تھوڑا سا آگے جا کر چائے کے ایک کھوکھے پر اُس نے نظر ڈالی۔ دو بوڑھے اُسے اپنی پہچان کے نظر آ گئے تھے۔ وہ اُسی طرح اپنی انگلیوں سے ضرار کی انگلیوں کو جکڑتے ہوئے اُن کے پاس جا کر بولی : ” بزرگو ! السلام علیکم “ دو کی بجائے چار بابوں نے یک زبان ہو کر جواب دیا : ” و علیکم السلام ! “ ”دھی رانی میں نے پہچانا نہیں تجھے۔ “ اُن میں سے ایک بابے نے پنجابی لہجے میں کہا۔ ” بابا جی ! میں شاہ چانن کی پوتی ہوں اور یہ ہے میرا گھر والا !“ عزت نے ایک ایک لفظ پر ٹھہرتے ہوئے بتایا۔ ” شاہ چانن کی پوتی“ دوسرا بابا یہ بولتا ہوا کھڑا ہو گیا۔ پہلے بابے نے دوسرے لوگوں کی طرف دیکھتے ہوئے بڑی عقیدت سے کہا : ”اوئے نالائقو میرے مرشد شاہ چانن کی پوتی ہمیں ملنے آئی ہے اور تم سب بیٹھے ہوئے ہو۔ “ فٹ سے سب لوگ کھڑے ہو گئے۔

 ضرار نے ایسا احترام میاں جی کے بعد زندگی میں پہلی بار عزت کے لیے دیکھا تھا۔ ”بابا صادقا ! اس بچی نے سارے علاقے کی بچیوں کو قرآن شریف پڑھایا ہے۔“ ایک درمیانی عمر کا شخص بولا تھا۔ ” وہ بھی تو بتا اس دھی رانی نے سارے علاقے کی لڑکیوں کو سلائی کڑھائی کا کام بھی تو سکھایا ہے۔“ دوسرے آدمی نے ستائشی اندا زمیں کہا۔ ” اوئے گوگی ودھیا سی دودھ پتی بنا۔“ ایک موٹے سے بندے نے لاہوری انداز میں چائے والے کو حکم دیا۔ سب لوگوں نے باری باری عزت کے سر پر اور ضرار کے کندھے پر پیار دیا۔ ” بٹ صاحب ! آپ کی طرف چائے اُدھار رہی۔ ابھی تھوڑی جلدی ہے۔“ عزت نے موٹے بندے کی طرف دیکھ کہا تھا۔ ” ٹھیک ہے بیٹا جی۔“ بٹ صاحب نے عزت کے سر پر دونوں ہاتھوں سے پیار دیتے ہوئے کہا۔ ”اجازت ہے بزرگو۔“ عزت نے بوڑھوں کی طرف دیکھ کر پوچھا تھا۔ ”رب سوہنا تجھے لمبی حیاتی دے۔“ یہ سن کر عزت کی آنکھوں میں اُمید کے دیپ جل اُٹھے تھے۔ عزت نے ضرار کا تجسس بھانپ لیا تھا۔ ضرار کے پوچھنے سے پہلے ہی وہ بول اُٹھی : ”اب ہم سیدھے گھر جائیں گے۔“ عترت نے چابی سے اپنے گھرکا  تالا کھولا۔ نیچے چھوٹے سے گیراج کے ساتھ بہت بڑا ہال تھا۔ ہال کے دروازے پر تختی لگی تھی۔ اندر صرف عورتوں کو آنے کی اجازت ہے۔ ”یہ میری بوتیک ہے۔“ عترت نے بوتیک کے اندر جاتے ہوئے بتایا۔ بوتیک کی لائٹیں آن کرنے کے بعد اُس نے اپنے چہرے سے نقاب ہٹایا پھر اپنی کالی گرم چادر اُتاری۔ کالی چادر کے نیچے سے سفید شلوار قمیض میں ملبوس ایک چاندنی نمودار ہوئی تھی۔ چاندنی کی چمک سے ضرار کے تن بدن میں بجلی دوڑ گئی۔

 عزت نے غور سے ضرار کو دیکھتے ہوئے کہا : ” کچھ کہنا چاہتے ہو!“ ”چاند سے چکور کیا کہے !“ ضرار نے نظروں ہی سے عزت کے جسم کو جکڑ رکھا تھا۔ عزت کو اس بات کا احساس ہو گیا تھا۔ وہ ضرار کے پاس آ کر بڑی نزاکت کے ساتھ اُس سے لپٹ گئی۔ وہ ضرار سے ایسے لپٹی ہوئی تھی جیسے پنچھی کے بدن سے پنکھ لپٹے ہوتے ہیں۔ اُس نے ضرار کے کندھے پر اپنا سر ٹکاتے ہوئے بڑی اُلفت سے کہا : ”کہہ دو ! جو دل میں ہے۔“ ”آپ بہت حسین ہو۔“ ضرار نے عزت کے کان میں سرگوشی کی۔ ” اور کچھ … “ عزت نے دھیرے سے پوچھا۔ ”میں آپ کو مرنے نہیں دوں گا۔“ ضرار نے فرطِ محبت کے ساتھ کہا۔ ”میں بھی جینا چاہتی ہوں…!“ ”اپنی بد تمیزی پر معذرت چاہتا ہوں۔“ ضرار نے پشیمانی سے کہا۔ ” میں معاف کر چکی ہوں۔“ عزت نے ضرار سے الگ ہوتے ہوئے بتایا۔ وہ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے۔ عزت ہلکا سا شرماتے ہوئے بولی : ”کھانا کھا لیتے ہیں۔ یہ نہ ہو کہ ہم دونوں ایک دوسرے کو ہی کھا جائیں۔“ ضرار مسکرانے لگا۔ عزت نے کہا : ” چلو اوپر چلتے ہیں۔ میں نے تمھارے لیے پالک گوشت بنایا ہے۔“ ضرار کو کلائی سے پکڑ کر عزت اوپر لے گئی۔ ”تم یہاں بیٹھو ! میں روٹیاں بنا لوں۔“ ہال میں پہنچ کر عزت نے صوفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا۔ ” اگر میں کچن میں تمھارے پاس کھڑا رہوں تو … ؟“ ضرار نے تھوڑی جھجھک کے ساتھ پوچھا تھا۔ عزت نے مسکراتے ہوئے بات مان لی۔

 عزت روٹیاں پکانے لگی اور ضرار اُسے دیکھتا رہا۔ روٹیاں پکانے کے بعد عزت برتن ٹرے میں رکھنے لگی۔ پھر اُس نے سالن ڈونگے میں نکالا۔ ”وہ کدھر ہیں۔“ ضرار نے اِرد گرد دیکھتے ہوئے پوچھا۔ ”اوپر والی منزل پر … بی بی خانم 9 بجے سو جاتی ہیں… اب تو 12 بجنے والے ہیں۔ تم آجاؤ۔“ عزت برتن اور پانی اُٹھا کے کچن سے ہال میں آ گئی۔ ضرار روٹیاں اور سالن اُٹھا لایا۔ میز پر برتن رکھنے کے بعد وہ پلٹی تو ضرار اُس کے پیچھے تھا۔ اُس نے مسکراتے ہوئے بڑی محبت سے ضرار کو دیکھا پھر صوفے کی طرف بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ ضرار بیٹھ گیا تو عزت اُس کے ساتھ جڑ کر بیٹھ گئی اور ایک پلیٹ میں سالن ڈالا پھر روٹی کا نوالہ توڑ کر سالن سے لگانے کے بعد کہنے لگی : ”بسم اللہ پڑھو“ ضرار نے بسم اللہ پڑھی۔ ”اب منہ کھولو۔“ ضرار نے منہ کھولا۔ عزت نے بسم اللہ پڑھ کر وہ نوالہ ضرار کے منہ میں ڈال دیا کھانے سے فارغ ہونے کے بعد عزت نے ضرار سے پوچھا: ”میں چائے نہیں پیتی تم نے پینی ہے تو بنا دیتی ہوں۔ “ ضرار نے نفی میں گردن ہلا دی۔ ”چھت پر چلیں۔“ عزت نے معصومیت سے پوچھا۔ ”چھت پر …؟“ ضرار نے تھوڑی حیرت سے کہا۔ عزت نے اُسی معصومیت کے ساتھ گردن ہلا دی۔ تھوڑی دیر بعد وہ دونوں چوتھی منزل پر پہنچ گئے۔ چھت سے کلفٹن راوی کا سارا علاقہ نظر آ رہا تھا۔ رات کی رانی اور مروا کی خوشبو سے فضا معطر تھی۔ ایک طرف دریائے راوی اور دوسری طرف جہانگیر کا مقبرہ۔ اُسی وقت لاہور سے آنے والی ٹرین راوی کے پل سے چھکا چھک گزری۔

 عزت چھت کی منڈیر پر ہاتھ رکھ کے جاتی ہوئی ٹرین کو دیکھنے لگی۔ ضرار کی نظریں کبھی ٹرین پر جاتی اور کبھی عزت پر۔ ٹرین کے جانے کے بعد عزت تھوڑی اداس ہو گئی تھی۔ اُس نے افسردگی سے بتایا : ”صنم ٹرین کے ذریعے ہی گھر سے بھاگی تھی۔“ ”کون صنم … ؟“ ضرار نے پوچھا۔ ” جس کی وجہ سے میں نے ساری زندگی لوگوں کی لعن طعن سنی ہے۔ “ عزت نے بھرائی ہوئی آواز میں خود کو سمیٹتے ہوئے ضرار کو آگاہ کیا۔ ضرار کوایسے لگا جیسے عزت کو سردی لگ رہی ہے۔ اُس نے اپنی جیکٹ اُتار کر عزت کے کندھوں پر ڈال دی۔ عزت نے اپنے شانوں پر ضرار کی جیکٹ کو دیکھتے ہوئے کہا : ” میاں بیوی لباس تو اپنا اپنا ہی پہنتے ہیں مگر اُن دونوں نے عزت ایک دوسرے کی اوڑھی ہوتی ہے۔“ ”آپ باتیں بہت گہری کرتی ہیں۔ “ ضرار نے بتایا عزت نے کڑھتے ہوئے لہجے میں کہا : ” یہ سارا علاقہ شاہ چانن کے ہاتھ چوما کرتا تھا۔ صنم کے بھاگنے کے بعد ہر بندے نے زمان پر انگلی اُٹھائی۔ پھٹیچر سا بندہ بھی زمان کو ٹچکر کر کے گزرتا تھا۔ زمان نے اُس کا حل یہ نکالا کہ وہ دنیا ہی سے نکل گیا۔ اُس نے خودکشی کر لی، میں دنیا میں اکیلی رہ گئی۔ اگر اُس وقت اماں اور میاں جی مجھے اس گھر سے نہ لے جاتے تو … ؟“ عزت بات کرتے کرتے رُک گئی۔ ”آپ کی ماں نے آپ کے باپ کو کیوں چھوڑا… ؟“ ضرار نے تھوڑی لجاجت سے پوچھا۔ ” صنم نے زمان سے اُس کی دولت کی وجہ سے شادی کی تھی۔ زمان کی دولت پر صنم کے سارے خاندان نے عیاشی کی۔ 

جب صنم کو پتہ چلا کہ اب زمان کے پاس کچھ نہیں ہے تو اُس نے اپنی راہ لی۔“ عزت جھرجھری لیتے ہوئے خاموشی ہو گئی۔ ضرار نے عزت کو یقین دلاتے ہوئے کہا : ”میں ہوں آپ کے ساتھ۔ “ عزت نے مسکرانے کی کوشش کی۔ ضرار نے کہا : ”ایک بات پوچھوں …؟“ عزت نے نظروں سے بولنے کی اجازت دی۔ ” آپ کے دادا نے آپ کے باپ کو اپنا خلیفہ کیوں نہیں بنایا تھا…؟“ ”وہ خلافت کا اہل نہیں تھا۔“ عزت نے بتایا۔ ” میں سمجھا نہیں…؟“ ”عیاش تھا وہ! “ ”عیاش مطلب … ؟“ ضرار نے تمسخرانہ انداز میں پوچھا۔ اُس کی تسلی نہیں ہوئی وہ مزید تفصیل جاننا چاہتا تھا۔ عزت کو ضرار کا یہ انداز پسند نہیں آیا اُس کے ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ اُبھری وہ اُسی مسکراہٹ کے ساتھ بولی : ”عیاش کا مطلب ہے، تمھارے جیسے… “ عزت کے منہ سے دو ٹوک بات سنتے ہی ضرار کی رنگت بدل گئی۔ ضرار نے احتجاجی لہجے میں پوچھا : ”پھر مجھ سے شادی کیوں کی…؟“ ”اگر یہی سوال میں پوچھوں…؟“ ضرار کے ساتھ ساتھ عزت بھی سنجیدہ ہو گئی۔ ضرار سوچ میں پڑ گیا وہ بات کرتے کرتے رُکا تو عزت کہنے لگی : ” راؤ ضرار سچ سچ بتانا۔“ ”گھر بلا کر تم نے میری بے عزتی کی ہے۔“ ضرار نے تلخی سے کہا۔ ”میری عزت نظر نہیں آئی…؟“ عزت نے تڑپ کر پوچھا۔ ”میں تمھارے حسن پر مرمٹا تھا۔ میں کسی بھی قیمت پر تمھیں حاصل کرنا چاہتا تھا۔“ ضرار غصے سے چلایا تھا۔ عزت زور زور سے ہنستے ہوئے ضرار سے چمٹ گئی۔ ” لو حاصل کر لو… جو تم حاصل کرنا چاہتے تھے کر لو… کرتے کیوں نہیں۔“ ضرار کی جیکٹ عزت کے شانوں سے چھت پر گر گئی تھی۔

 ضرار نے بڑے تحمل کے ساتھ عزت کو خود سے الگ کیا۔ چھت کے فرش سے اپنی جیکٹ اُٹھا کر پھر سے عزت کے کندھوں پر ڈال دی اور بڑی ملائم آواز میں کہنے لگا : ”میاں بیوی لباس تو اپنا اپنا ہی پہنتے ہیں مگر انھوں نے عزت ایک دوسرے کی اوڑھی ہوتی ہے۔ “ ضرار کے منہ سے اپنے الفاظ سن کے عزت ٹھٹھک کے رہ گئی۔ ضرار اُسی تال پر پھر سے بول اُٹھا : ”میں نے آپ کی عزت اُتاری تھی… آپ تو میری عزت مت گراؤ۔“ ضرار کی یہ بات سن کر عزت کو پشیمانی ہوئی اُس نے اپنے کندھے پر ضرار کی جیکٹ کو ہاتھ لگایا، پھر ضرار کو دیکھے بغیر اُس کا ہاتھ پکڑ کر نیچے کو چل دی ۔ عزت کا ہاتھ پکڑتے ہوئے ضرار ایک بیڈ روم میں داخل ہوا۔ بیڈ روم میں داخل ہوتے ہی ضرار اُس کا جائزہ لینے لگا۔ جس دروازے سے وہ داخل ہوئے تھے وہ بیڈ روم کے ایک کونے میں تھا، اُسی دیوار کے ساتھ چھوٹی میز کے دائیں بائیں دو کرسیاں رکھی ہوئی تھیں۔ سیدھے ہاتھ والی دیوار پر کھڑکی تھی جس پر سفید رنگ کا ریشمی پردہ لگا ہوا تھا۔ اُلٹے ہاتھ والی دیوار پر لکڑی کی الماری بنی ہوئی تھی۔ سامنے والی دیوار کے دائیں ہاتھ کونے میں باتھ روم تھا۔ باتھ روم کے دروازے سے ذرا ہٹ کے سائیڈ ٹیبل تھا۔ اُس کے ساتھ عام سا بیڈ دیوار کے ساتھ لگا ہوا تھا۔ بیڈ پر سفید رنگ کی موٹی سی بیڈ شیٹ بچھی ہوئی تھی۔ بیڈ کی پچھلی طرف طے کیا ہوا ایک کمبل رکھا ہوا تھا۔ جب ضرار کا جائزہ مکمل ہوا تب عزت نے لمحہ بھر ضرار کی طرف دیکھتے ہوئے بیڈ کی طرف اشارہ کر دیا۔

 ضرار بیڈ کی طرف چل پڑا اور عزت بیڈ روم سے نکل گئی۔ بیڈ پر لیٹتے ہوئے ضرار کو عجیب سا لگ رہا تھا، اُس نے اپنا نائٹ ڈریس جو نہیں پہنا تھا۔ وہ اُٹھ کر بیٹھ گیا پھر باتھ روم چلا گیا۔ باتھ روم سے نکل کر اُس نے سوئچ بورڈ کے سارے بٹن آن آف کرنے کے بعد لائٹ آف کر کے زیر و کا بلب آن کر لیا تھا۔ ضرار کمبل اوڑھ کر کروٹ لے کر لیٹ گیا۔ آرام سے دروازہ کھولا۔ عزت اندر داخل ہوئی، سائیڈ ٹیبل پر کچھ رکھا اور کمبل میں گھستے ہوئے ضرار کے کان کے پاس اپنے عنابی ہونٹ لے جاتے ہوئے بولی : ”دودھ لائی ہوں۔ “ ضرار فٹ سے پلٹا۔ عزت اُس کے پہلو میں کہنی کے بل لیٹی ہوئی تھی۔ ضرار کے منہ سے حیرت سے نکلا : ” آپ یہاں…؟“ ”شوہر ہو تم میرے…“ عزت نے ضرار سے آنکھیں ملاتے ہوئے کہا۔ چند لمحوں تک وہ ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے رہے۔ پھر عزت اُٹھ کے بیٹھ گئی اور سائیڈ ٹیبل سے ایک دودھ کا مگ اُٹھا کر ضرار کو پیش کیا۔ ضرار چپ چاپ دودھ پینے لگا۔ عزت بھی دودھ پینے لگی۔ وہ دونوں اپنی اپنی سوچوں میں گم چپ چاپ دودھ پیتے رہے۔ عزت نے پہلے اپنا دودھ ختم کیا اور اپنی طرف والی سائیڈ ٹیبل پر اپنا مگ رکھا اور الماری کی طرف کروٹ لے کر لیٹ گئی۔ جب ضرار نے یہ دیکھا تو اُس نے بھی عزت کی تقلید کی وہ کھڑکی کے اوپر لگے ہوئے پردے کی طرف منہ کر کے لیٹ گیا۔ کتنی دیر وہ دونوں چپ چاپ ایک دوسرے کی طرف پشت کر کے لیٹے رہے۔ یک دم وہ دونوں ایک ہی لمحے پلٹے اور ایک دوسرے سے لپٹ گئے ۔ دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کا حق ادا کر رہے تھے۔ پھر دونوں کی بے قراری کو قرار مل گیا۔

زندگی اور موت تو اللہ کی طرف سے ہے اور زندگی میں محبت کا رنگ بھر دیا جائے تو یہ جنت بن جاتی ہے۔ ضرار نے اپنی محبت پا لی تھی اور عزت بھی اپنی لڑکھڑاتی زندگی میں ضرار کو پا کر خوش تھی۔ جانے کتنے دن کی زندگی اس کے پاس تھی اسے معلوم نہیں تھا۔ لیکن وہ جذبات سے بھرپور لمحات ضرار کیساتھ گزارنا چاہتی تھی۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے