اک عیاش کی محبت - چوتھا حصہ

Sublimegate Urdu Stories

عزت ضرار کے کپڑوں کے ساتھ بیڈ روم میں داخل ہوئی اور کھڑکی کا پردہ ہٹاتے ہوئے ہلکے لہجے میں بولی کہ ضرار صاحب کتنا سوتے ہیں۔ ضرار آنکھیں ملتے ہوئے جاگا، اس کے کانوں میں عزت کے جملے سے صرف "آپ" گونجا۔ اس نے حیرت سے عزت کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا کہ آپ؟ عزت شرما گئی اور نظریں چراتے ہوئے کمبل طے کرنے لگی۔ کمبل الماری میں رکھنے کے بعد اس نے بیڈ شیٹ کھینچ کر لپیٹی اور نئی بیڈ شیٹ بچھانے لگی۔ ضرار، جو اب بیڈ سے اٹھ چکا تھا، بیڈ شیٹ کو دیکھ رہا تھا۔ وہ عزت کی طرف سنجیدگی سے بڑھا، اس کا چہرہ ہاتھوں میں لیتے ہوئے بولا کہ عزت، تم شادی سے پہلے پاک دامن تھیں جبکہ میں عیاش تھا، پھر تم نے مجھ جیسے سے شادی کیوں کی؟ عزت نے فوراً کہا کہ آج سے عیاشی کا دروازہ بند کر دیں۔ ضرار نے کہا کہ یہ اس کے سوال کا جواب نہیں ہے۔ عزت نے بات بدلتے ہوئے کہا کہ بہت بھوک لگی ہے، جلدی غسل کر لیں۔ ضرار نے حیرت سے کہا، غسل؟ عزت نے لمحہ بھر سوچ کر کہا کہ نہا لیں۔ ضرار باتھ روم چلا گیا جبکہ عزت نے دل میں سوچا کہ اسے شاید غسل کے فرائض بھی معلوم نہیں اور اسے راہ راست پر لانا مشکل کام ہے۔

نہا کر ضرار کمر پر تولیہ لپیٹے باہر نکلا۔ عزت نے فوراً اس کے کپڑے اٹھا کر پیش کیے اور کہا کہ آپ کے کپڑے۔ ضرار نے کپڑے لیتے ہوئے دوبارہ کہا، پھر آپ؟ عزت نے سنجیدگی سے کہا کہ وہ آپ سے جناب پر جا سکتی ہے لیکن تم پر کبھی واپس نہیں آئے گی، اور وہ ناشتے پر انتظار کر رہی ہے۔ بیڈ روم سے نکلتے ہی ضرار نے شور کی وجہ پوچھی تو عزت نے بتایا کہ اوپر سلائی مشینیں چل رہی ہیں۔ اس نے ناشتے کی طرف اشارہ کیا۔ ناشتہ کرتے ہوئے ضرار نے پوچھا کہ یہ کپڑے کہاں سے آئے؟ عزت نے برتن اٹھاتے ہوئے بتایا کہ ساجد سے منگوائے تھے۔ ضرار کو عزت کا کام کرنا پسند نہ آیا اور چڑ کر پوچھا کہ تمہاری ملازمہ کہاں ہے؟ عزت نے میز صاف کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اوپر کارخانے میں لڑکیوں سے کام کروا رہی ہے۔ جب عزت کچن کی طرف گئی تو ضرار نے صوفے پر بیٹھے ہوئے پوچھا کہ ہم گھر کب جائیں گے؟ عزت نے کچن سے جواب دیا کہ برتن دھو رہی ہوں، آ کر بتاتی ہوں۔ کچھ دیر بعد وہ صوفے پر بیٹھی اور ضرار سے کہا کہ اسے کچھ باتیں کرنی ہیں۔ ضرار نے رومانوی انداز میں اس کے گال پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا کہ چلو بیڈ روم میں۔ عزت کو یہ بات ناگوار گزری، لیکن مسکراتے ہوئے بولی کہ وہ خود بہت رومینٹک ہے۔ ضرار نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا کہ رات کو اسے اس کا اندازہ ہو گیا تھا۔ عزت نے سنجیدگی سے کہا کہ اوپر کارخانے میں لڑکیاں کام کر رہی ہیں اور دروازے کی کنڈی بھی نہیں لگی، کچھ خیال کریں۔ ضرار سنجیدہ ہو گیا۔ عزت اسے بیڈ روم میں لے گئی، دروازہ بند کیا اور کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ بیٹھتے ہوئے اس نے کہا کہ اسے چھچھورے لوگ پسند نہیں۔ ضرار نے پوچھا کہ اسے کیسے مرد پسند ہیں؟ عزت نے شائستگی سے کہا کہ لوگوں کی بات کی تھی، مردوں کی نہیں۔ ضرار نے روکھے انداز میں دوبارہ پوچھا کہ مرد کیسے پسند ہیں؟ عزت نے کہا کہ میاں جی جیسے۔ ضرار نے غصے سے کہا کہ کیا وہ چھچھورا ہے؟ عزت نے نرمی سے وضاحت کی کہ اس کا مطلب یہ نہیں تھا، لیکن ضرار نے تلخی سے کہا کہ پھر کیا مطلب تھا، اور ملازمہ کو دستک دے کر آنا چاہیے تھا۔ عزت نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ اسی غصے کی وجہ سے اس نے اپنے والدین کھو دیے، کہیں وہ بھی اس کی زندگی سے نہ چلی جائے۔ ضرار نے اسے بانہوں میں دبوچ کر چومنا شروع کیا، لیکن عزت نے خود کو آزاد کراتے ہوئے کہا کہ وہ یہاں سے چلے جائیں، ورنہ وہ ایک ہفتے میں خلع کے لیے کیس دائر کر دے گی۔ عزت نے آخری بات کی کہ غسل کے تین فرض اور پانچ سنتیں ہیں، گھر جا کر یاد کر لیں۔ ضرار کے جانے کے بعد عزت بہت دیر تک روتی رہی۔

کچھ دن بعد ضرار نے عزت کو فون کیا اور ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ عزت نے طنزیہ لہجے میں کہا کہ پانچ دن باقی ہیں۔ ضرار سیخ پا ہو کر عزت کے گھر پہنچا۔ گلی میں دو بوڑھی خواتین نے اسے عزت کا شوہر پہچان کر تعریف کی کہ عزت شریف لڑکی ہے۔ گھر پہنچ کر ایک لڑکی نے دروازہ کھولا اور عزت کو بوتیک میں بتایا۔ ضرار بوتیک میں داخل ہوا تو سب حیران رہ گئیں۔ عزت نے وضاحت کی کہ اس کے شوہر کو معلوم نہیں کہ بوتیک میں مردوں کا داخلہ منع ہے۔ اس نے کوثر سے کہا کہ ضرار کو اوپر لے جائیں۔ ایک لڑکی نے پوچھا کہ کیا یہ اس کے شوہر ہیں، اور دوسری نے اداسی سے کہا کہ اسے کوئی لہنگا نہیں لینا۔ عزت نے صورتحال کو سنبھالتے ہوئے سب کو کام پر لگایا۔ اوپر ہال میں ضرار بے چین ٹہل رہا تھا۔ عزت نے دروازہ بند کر کے پوچھا کہ کیا خدمت کروں؟ ضرار نے کہا کہ وہ خود چل کر آیا ہے، لیکن عزت نے دل شکنی سے کہا کہ وہ گھر بسانا چاہتی ہے اور اس نے ضرار کا انتخاب جان بوجھ کر کیا تھا۔ اس نے کہا کہ وہ چلے جائیں۔ ضرار نے گھٹنوں پر بیٹھ کر معافی مانگی۔ عزت نے بی بی خانم کو فون کر کے ضرار کے آنے کی اطلاع دی اور پوچھا کہ کچھ لیں گے؟ ضرار نے کہا کہ وہ صرف اسے لینے آیا ہے۔ عزت نے پوچھا کہ اس کے کتنے روپ ہیں؟ ضرار شرمندہ ہوا جب عزت نے کہا کہ اس نے سات کروڑ بھی پورے نہیں کیے اور وہ طلاق مانگ رہی ہے۔ ضرار نے کہا کہ وہ کبھی طلاق نہیں دے گا۔ عزت نے کہا کہ اس کے کپڑوں والا بیگ اب بھی شاکرہ کے پاس ہے۔ ضرار نے محبت کا اظہار کیا، لیکن عزت نے کہا کہ وہ اپنی محبت کا ثبوت دے چکے ہیں اور اب چلے جائیں۔ دروازے پر دستک ہوئی، کوثر نے بتایا کہ سب لڑکیاں ضرار سے ملنا چاہتی ہیں۔ عزت نے اجازت دی، اور لڑکیوں نے ضرار سے سوالات کی بوچھار کر دی۔ عزت نے نماز کا وقت بتاتے ہوئے سب کو واپس بھیجا۔ کوثر کے سوال پر کہ ضرار نے اس سے ہی شادی کیوں کی، ضرار نے کہا کہ اس نے اعلیٰ خاندان کا انتخاب کیا کیونکہ عزت جیسا کوئی نہیں۔ سب لڑکیاں خوش ہوئیں، لیکن عزت نے سنجیدگی سے کہا کہ اس کی عزت سب سے اہم ہے اور ضرار کو اس کے بارے میں سب کچھ بتا چکی ہے۔ اس نے کہا کہ ضرار کا غصہ اور عورت کو صرف جسم سمجھنے کا رویہ اسے قبول نہیں، اور وہ چلے جائیں۔ ضرار نے میاں جی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ واپسی کے دروازے بند نہیں کرتا، پھر وہ اسے کیوں روک رہی ہے؟ یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔

شاکرہ نے ضرار کو کھانا کھانے کو کہا، لیکن اس نے چیخ کر منع کر دیا۔ ساجد اور شاکرہ نے فکرمندی سے بات کی کہ ضرار نے کچھ نہیں کھایا اور فیکٹریوں کا معاملہ بھی میاں جی کے ماننے والوں کی وجہ سے سنبھلا ہوا ہے۔ شاکرہ نے عزت کو فون کیا اور بتایا کہ ضرار نے کچھ نہیں کھایا۔ عزت نے ٹھنڈا جواب دیا اور کال کاٹ دی۔ ادھر عزت بھی اداس تھی۔ بی بی خانم نے اسے کھانا کھانے کو کہا، لیکن اس نے انکار کر دیا اور چھت پر چلی گئی۔ وہاں اس نے خود سے سوال کیا کہ وہ اداس کیوں ہے۔ اس کے اندر سے آواز آئی کہ وہ اپنی محبتیں شوہر پر نچھاور کرنا چاہتی تھی، لیکن اب جھگڑ رہی ہے۔ ضرار کا فون آیا، اس نے آخری موقع مانگا اور وعدہ کیا کہ اب بدتمیزی نہیں کرے گا۔ عزت نے اجازت دی، اور ضرار نے کہا کہ وہ آ رہا ہے۔ عزت خوش ہو گئی اور ساجد کو ہدایت دی کہ ضرار کو اکیلے نہ آنے دیں۔ گھر پہنچ کر عزت نے بی بی خانم سے اجازت مانگی، جو انہوں نے محبت سے دی۔ عزت تیار ہو کر ضرار کے ساتھ چلی گئی۔ کار میں اس نے ضرار کا ہاتھ پکڑا، اور گھر پہنچ کر کھانا بیڈ روم میں لگوایا۔ عزت نے ضرار سے پوچھا کہ اس نے کھانا کیوں نہیں کھایا۔ ضرار نے کہا کہ اس کی بھوک اسی لیے مری تھی۔ کھانا کھاتے ہوئے عزت نے اسے کھلایا۔ بعد میں عزت نے نماز پڑھی، اور ضرار اسے دیکھتا رہا۔ عزت نے پوچھا کہ وہ سگریٹ کیوں پیتا ہے۔ ضرار نے بتایا کہ کنفیوژن میں پیتا ہے۔ عزت نے کہا کہ وہ اسے سمجھنا چاہتی ہے تاکہ خوش رکھ سکے۔ اس نے ضرار کا سر گود میں رکھ کر بالوں میں انگلیاں پھیرنا شروع کیں۔ ضرار نے کہا کہ اسے سکون مل رہا ہے۔ عزت نے بتایا کہ وہ اس کی منکوحہ ہے، اور حلال میں سکون ہوتا ہے۔ ضرار نے پوچھا کہ وہ اچانک پریشان کیوں ہو گئی؟ عزت اس کے سینے سے لگ گئی، اور دونوں خاموشی میں ایک دوسرے کے قریب آ گئے۔

رات کے پچھلے پہر جب ضرار کے وجود سے حدت کم ہوئی، وہ عزت سے باتیں کرنے لگا۔ اس نے بتایا کہ جب اس نے عزت کو پہلی بار میاں جی کے حجرے میں دیکھا، تب ہی اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ کسی بھی قیمت پر اسے حاصل کرنا ہے۔ "حاصل" کے لفظ پر عزت نے خفگی سے اس کی طرف دیکھا، وہ ضرار کے بازو پر سر رکھے کمبل کے اندر لیٹی تھی۔ ضرار نے وضاحت دی کہ وہ اپنی اندر کی کمینگی بتا رہا ہے۔ اس نے بتایا کہ جب وہ عزت کو ڈراپ کرنے گیا اور اس نے پھول پیش کیے، لیکن عزت نے انکار کر دیا، تب اسے اندازہ ہوا کہ شادی کے بغیر وہ اسے کبھی نہیں پا سکتا۔ واپسی پر اس نے کار روک کر کافی دیر سوچا اور فیصلہ کیا کہ یہ ایڈونچر کر کے دیکھتے ہیں۔ عزت نے مزے سے پوچھا کہ ایڈونچر کیسے؟ ضرار نے کہا کہ اس نے سوچا تھا کہ ڈیڑھ دو مہینے مزے کرنے کے بعد وہ عزت کو مرتے ہوئے قریب سے دیکھے گا۔ عزت زیر لب مسکرائی، لیکن ضرار سنجیدہ ہو گیا اور جذبے سے بولا کہ اب وہ اسے مرنے نہیں دے گا۔ عزت نے یقین سے کہا کہ اسے کس نے کہا کہ وہ اس سے پہلے مر جائے گی۔ ضرار نے حیرت سے پوچھا کہ اس کا مطلب کیا ہے؟ عزت نے بتایا کہ بچپن سے اس نے اللہ سے ایک ہی دعا مانگی کہ شادی کسی سے بھی ہو، اس کے مرنے کے دس سال بعد تک اسے زندہ رکھنا۔ ضرار نے اشتیاق سے پوچھا کہ وہ کیوں؟ عزت نے کہا کہ اس نے بچپن سے لوگوں کے طعنے سنے کہ وہ بے وفا، بدمعاش، یا گھر سے بھاگی ہوئی کی بیٹی ہے، اس لیے اس نے ہمیشہ حیا، وفا، عزت اور لمبی عمر مانگی۔ بات کرتے کرتے وہ چپ ہو گئی، پھر اچانک بولی کہ دعا کے ساتھ دوا کا حکم بھی ہے، اور اس نے آج کی دوائی نہیں کھائی کیونکہ ضرار فولڈر کار میں چھوڑ آیا۔ ضرار نے انٹر کام کی طرف ہاتھ بڑھایا کہ وہ منگواتا ہے، لیکن عزت نے کہا کہ رات کے تین بجے کسی کی نیند خراب کرنے کی ضرورت نہیں، وہ خود لے آتی ہے۔ ضرار نے اس کی پیشانی چومتے ہوئے کہا کہ وہ خود جائے گا، پھر پوچھا کہ کیا گارڈ جاگ رہا ہوگا؟ عزت نے اجازت دی، اور ضرار نے گارڈ کو انٹر کام پر فولڈر لانے کا حکم دیا۔ دروازے پر دستک ہوئی، ضرار گاؤن پہن کر فولڈر لینے گیا اور عزت کو دیا۔ عزت نے دوائی نکالی اور ضرار کے دیے پانی کے ساتھ کھائی، مشکور نظروں سے اسے دیکھا۔ اس نے بتایا کہ صبح اسے مسلم ٹاؤن ڈاکٹر زیبا عزیز کے کلینک جانا ہے۔ ضرار نے کہا کہ وہ خود اسے لے جائے گا۔

تفصیلی چیک اپ کے بعد جب عزت ڈاکٹر زیبا عزیز کے آفس سے نکلی، ضرار فکرمندی سے کھڑا ہو کر پوچھنے لگا کہ ڈاکٹر نے کیا کہا۔ عزت نے اطمینان سے بتایا کہ یہ روٹین چیک اپ تھا۔ ضرار نے اصرار کیا کہ کچھ تو کہا ہوگا۔ عزت نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر اسے کچھ نہیں کہتیں۔ ضرار نے تشویش سے پوچھا کہ کیا وہ ڈاکٹر سے مل سکتا ہے؟ عزت نے کہا کہ وہ بھی اس سے ملنا چاہتی ہیں اور اندر جانے کا اشارہ کیا۔ ضرار نے سنجیدگی سے کہا کہ وہ اکیلے ملنا چاہتا ہے۔ عزت نے ہنستے ہوئے کہا کہ کوئی فائدہ نہیں، وہ بوڑھی ہیں اور اسے بیٹا کہیں گی۔ ضرار مسکراتے ہوئے آفس میں داخل ہوا جبکہ عزت لیب چلی گئی۔ ڈاکٹر زیبا نے چشمے کے اوپر سے ضرار کو دیکھا اور اس کے تعارف پر کہا کہ وہ بیٹھ جائے۔ انہوں نے بتایا کہ عزت نے نکاح پر انہیں بلایا تھا، لیکن وہ اسلام آباد ایک فنکشن میں تھیں، اور وہ ضرار کو دیکھنا چاہتی تھیں۔ ضرار نے فکرمندی سے کہا کہ وہ عزت کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہے۔ اس نے جذباتی ہو کر کہا کہ پیسوں کی کوئی کمی نہیں، بس عزت کو بچا لیں۔ ڈاکٹر نے اطمینان دلایا کہ وہ ان شاء اللہ بچ جائے گی۔ ضرار نے کہا کہ وہ اسے کسی بھی ملک علاج کے لیے بھجوا سکتا ہے۔ ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے کہا کہ عزت نے سات کروڑ والی بات بتائی ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ سال پہلے جب عزت کا کینسر تشخیص ہوا، کسی ڈاکٹر نے کہا تھا کہ علاج کے لیے سات کروڑ لگیں گے۔ عزت جناح ہسپتال میں ان کے پاس پریشان آئی تھی۔ ڈاکٹر نے اسے شوکت خانم جانے کا مشورہ دیا اور قرض سمجھ کر علاج شروع کرنے کو کہا۔ ضرار نے بتایا کہ عزت نے قرض واپس کر دیا۔ ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے کہا کہ عزت کے بچنے کے امکانات پچاس فیصد ہیں، لیکن اس کی مضبوط قوت ارادی اور دعاؤں کی بدولت وہ یہاں تک پہنچی ہے۔ عزت آفس میں آئی، اور ڈاکٹر نے چائے کی دعوت دی، لیکن عزت نے کہا کہ وہ چائے نہیں پیتی۔ ڈاکٹر نے ضرار سے کہا کہ وہ پی لے، لیکن ضرار نے کہا کہ پھر کبھی۔ ڈاکٹر نے ضرار سے کہا کہ وہ عزت کا خیال رکھے کیونکہ وہ بہت پیاری بچی ہے۔

کار میں بیٹھتے ہی ضرار نے کہا کہ اس عام سے کلینک سے کیا علاج ہوگا۔ عزت نے بتایا کہ کلینک عام ہے، لیکن ڈاکٹر زیبا اور عزیز خاص ہیں۔ ڈاکٹر زیبا ریٹائرڈ ہیں اور یہ ان کا کلینک ہے، جبکہ ڈاکٹر عزیز شوکت خانم میں کام کرتے ہیں اور پالیسی کی وجہ سے پرائیویٹ کلینک نہیں چلا سکتے۔ ضرار نے پوچھا کہ اب کہاں جانا ہے؟ عزت نے بتایا کہ شملہ پہاڑی جائیں گے کیونکہ اسے نیا شناختی کارڈ بنوانا ہے، پھر راوی کے پل کے پاس پاسپورٹ آفس۔ ضرار نے فکرمندی سے کہا کہ وہ اس کا علاج باہر سے کروائے گا، اس کلینک سے نہیں۔ عزت نے مسکراتے ہوئے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر سمجھایا کہ اس کا علاج شوکت خانم سے ہو رہا ہے، اور وہاں ہر مہینے چیک اپ ہوتا ہے۔ ضرار نے کہا کہ اسے لگتا ہے کہ وہ عزت کو صدیوں سے جانتا ہے۔ عزت نے ہنستے ہوئے کہا کہ وہ احتیاط سے گاڑی چلائے، کیونکہ اس نے ساجد کو ساتھ لانے کو کہا تھا۔ ضرار نے کہا کہ ساجد ہوتا تو عزت اس کی طرف دیکھتی بھی نہیں۔ عزت نے بتایا کہ اس دن وہ یہی سمجھانا چاہتی تھی کہ اس نے میاں جی اور اماں کو کبھی ایک چارپائی پر بیٹھتے، کھسر پھسر کرتے یا اشاروں سے بات کرتے نہیں دیکھا، لیکن ان کی محبت لازوال تھی۔ وہ ایک دوسرے کو آپ کہتے اور ایک پاؤ گوشت کو بھی ایک دوسرے کے لیے بچاتے۔ عزت نے کہا کہ انہیں دیکھ کر اس کے اندر بھی ایسی محبت کی خواہش پیدا ہوئی۔ ضرار نے جذباتی ہو کر کہا کہ اس نے اپنے والدین کو ہر وقت ایک دوسرے سے چپکے دیکھا۔ عزت نے نادرا آفس کی طرف اشارہ کیا، اور وہ اندر چلے گئے۔ نکلتے ہوئے عزت نے کہا کہ وہ اسے پاسپورٹ آفس چھوڑ کر فیکٹری جائے۔ ضرار نے کہا کہ وہ اسے اکیلے نہیں چھوڑ سکتا۔ عزت خاموش رہی۔ ریلوے اسٹیشن کے پاس ضرار نے بے تکلفی سے کہا کہ وہ فیکٹری چلا جائے گا۔ عزت نے ہنستے ہوئے کہا کہ اکیلے میں وہ اسے یار، جان، جگر کچھ بھی کہہ سکتا ہے۔ پاسپورٹ آفس کے سامنے عزت نے کہا کہ اسے یہیں اتار دے۔ ضرار نے فائل دی اور کہا کہ وہ فیکٹری کے بعد کلفٹن راوی آئے گا، پھر گھر چلیں گے۔ عزت نے مسکراہٹ نقاب سے چھپائی اور آفس میں داخل ہوئی، جبکہ ضرار اسے دیکھتا رہا۔

پندرہ دن بعد عشاء کے بعد عزت اور ضرار میاں جی سے ملنے گئے۔ میاں جی نے عزت کو دیکھ کر خوشی سے کہا کہ ان کے بھاگ جاگ گئے کیونکہ ان کی بیٹی ملنے آئی ہے۔ ضرار نے ہنستے ہوئے کہا کہ وہ بھی ساتھ ہے۔ میاں جی نے مذاقاً کہا کہ ضرار مطلبی ہے کیونکہ نکاح کے بعد آج آیا ہے۔ عزت نے گھوری ڈالتے ہوئے کہا کہ ضرار نے اسے بتایا تھا کہ وہ میاں جی سے ملتا رہتا ہے۔ میاں جی نے بات بدل کر پوچھا کہ عزت آج کل کہاں مصروف ہے۔ عزت نے بتایا کہ اس نے ضرار کے خالی پلازہ میں ڈیفنس میں بوتیک کھول لی ہے۔ ضرار نے کہا کہ اس نے اس کی مخالفت کی تھی کیونکہ اسے کمانے کی کیا ضرورت ہے۔ میاں جی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ضرار جمع کرنے کے لیے کماتا ہے، جبکہ عزت تقسیم کرنے کے لیے۔ لانگری کو میاں جی نے چائے پانی لانے کو کہا، لیکن عزت نے قہوہ مانگا۔ عزت نے میاں جی سے پوچھا کہ ان کی اور اماں جی کی جیسی محبت میاں بیوی میں کیسے پیدا ہوتی ہے۔ میاں جی نے کہا کہ مرد سختی کرتا ہے لیکن محبت کی امید رکھتا ہے، جبکہ عورت دماغ سے زیر کرنا چاہتی ہے۔ عزت نے کہا کہ وہ دانائی کی نفی کر رہے ہیں۔ میاں جی نے وضاحت دی کہ عورت کا دماغ مرد سے کم وزن کا ہوتا ہے، لیکن اس کے دل کی وسعت زیادہ ہوتی ہے۔ مرد نرمی سے پیش آئے اور عورت دل سے کام لے تو محبت پیدا ہوتی ہے۔ عزت اس پر غور کر رہی تھی جب لانگری قہوہ لے آیا۔ ضرار نے یاد دلایا کہ وہ مٹھائی لائے تھے، اور لانگری سے کہا کہ ڈگی سے ٹوکری لے آئے۔ عزت نے میاں جی سے پوچھا کہ فقیری کی تعریف کیا ہے۔ میاں جی نے کہا کہ فقیری نہ طمع، نہ منع، اور نہ جمع ہے، یعنی حرص و ہوس ختم کرنا، سوالی کو انکار نہ کرنا، اور مال کی محبت میں گرفتار نہ ہونا۔ لانگری مٹھائی اور مٹی کی پلیٹیں لے آیا۔ میاں جی نے برفی، ضرار نے رس گلے، اور عزت نے چھم چھم لی اور باقی لانگری کو بانٹنے کو کہا۔ ضرار نے بتایا کہ وہ پرسوں عمرے پر جا رہے ہیں۔ میاں جی نے کہا کہ اللہ اپنے گھر میں نہیں رہتا، پھر بھی سب گھروں میں موجود ہے۔ انہوں نے عزت سے کہا کہ اسے آخر عمرے کے لیے محرم مل گیا۔ میاں جی نے ضرار کو نصیحت کی کہ محرم مرہم لگانے والا ہو، ورنہ من کا مجرم بن جاتا ہے، اور عزت سے نرمی سے پیش آنے کو کہا۔ عزت نے میاں جی سے نصیحت مانگی، تو انہوں نے کہا کہ محبت اگر خدمت سے خالی ہو تو صرف چار حروف رہ جاتی ہے، اور بندگی عشق کا جھومر ہے۔ ضرار نے اجازت مانگی، اور میاں جی نے کہا کہ رات سورج کی غیر حاضری ہے، پھر حجرے سے باہر نکل آئے۔

ڈیرے کے صحن میں الاؤ جل رہا تھا، اور میاں جی کے آٹھ دس عقیدت مند اسے تاپ رہے تھے۔ ملنگ برگد کے پیڑ کے نیچے اکیلا بیٹھا تھا، اپنی ہی دنیا میں گم۔ میاں جی جیسے ہی ڈیرے کے دروازے سے باہر نکلے، سب ادب سے کھڑے ہو گئے۔ ضرار نے کہا، "اجازت میاں جی!" میاں جی نے اسے گلے لگایا اور چند لمحوں بعد الگ کرتے ہوئے بولے، "خیر سے جاؤ۔" ضرار نے سوالیہ نظروں سے عزت کی طرف دیکھا، جس نے کہا کہ وہ دو منٹ میں آتی ہے اور اسے گاڑی میں بیٹھنے کو کہا۔ ضرار گاڑی کی طرف چلا گیا۔ عزت نے میاں جی سے ادب سے کہا کہ وہ ہمیشہ ترش لہجے میں بات کرتی رہی، لیکن وہ اس کے لیے باپ سے بڑھ کر ہیں، اس لیے اس نے کبھی ابا نہیں کہا۔ اس نے کہا کہ اس نے زندگی میں کسی کا احسان نہیں رکھا، لیکن میاں جی کے احسانات چکانا اس کے بس میں نہیں۔ پھڑپھڑاتے ہوئے وہ میاں جی کے سینے سے لگ گئی اور کہا، "میاں جی! میری گستاخیاں معاف کر دیجیے گا۔" اس کے گالوں پر آنسو رقص کر رہے تھے۔ میاں جی نے محبت سے اس کا سر چوما اور آسمان کی طرف دیکھ کر دعا دی، "یا اللہ! کملی والے کے صدقے اس بچی کو لمبی بابرکت عمر عطا کر دے۔" عزت نے اجازت مانگی، اور میاں جی نے کہا، "فی امان اللہ۔" عزت کار کی طرف چلی، پلٹ کر میاں جی کو دیکھا، پھر گاڑی میں بیٹھ گئی۔ ضرار نے فکرمندی سے پوچھا کہ وہ کیوں رو رہی ہے۔ عزت نے کار چلانے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بس دل بھر آیا تھا۔ ضرار نے مسکراتے ہوئے پوچھا کہ اس سے تو دل نہیں بھر گیا۔ عزت نے اسے دیکھ کر کوئی جواب نہ دیا۔ ضرار نے کہا کہ وہ اس سے کبھی جھوٹ نہیں بولے گا۔ اس نے یقین سے کہا کہ عزت نے اس کی دولت کی وجہ سے شادی نہیں کی۔ عزت نے پوچھا کہ پھر کیوں؟ ضرار نے کہا کہ اس جیسے سے محبت بھی نہیں ہو سکتی۔ عزت نے سنجیدگی سے کہا کہ نیک بننے کے لیے نیت پہلی شرط ہے۔

اگلے دن عزت نے شوکت خانم ہسپتال سے ماہانہ چیک اپ کروایا اور دوائی لی۔ اس کے اگلے دن وہ عمرے کے لیے روانہ ہوئے۔ رات دس بجے مکہ کے ہوٹل میں سامان رکھ کر انتظامیہ نے انہیں وزٹنگ کارڈ دیے۔ عزت دیوانہ وار حرم کی طرف تیز چلی، ضرار کو اس کے ساتھ چلنے میں مشکل ہو رہی تھی۔ وہ باب النبی سے حرم میں داخل ہوئے۔ خانہ کعبہ دیکھتے ہی عزت کا دل دہل گیا، اس نے ستون کا سہارا لیا اور ضرار کا ہاتھ پکڑ کر آنکھیں بند کیں۔ جب اسے سکون ملا، اسے اپنے اندر نور اترتا محسوس ہوا، اور اس کے اندیشے دھوئیں کی طرح اڑ گئے۔ ضرار نے اسے غور سے دیکھا، وہ کسی اور دنیا میں تھی۔ ہجوم میں وہ اس کی ڈھال بنا۔ عزت نے آنکھیں کھولیں تو اسے اپنے سوالوں کے جواب مل چکے تھے، جن میں سے ایک تھا کہ عورت کے ساتھ محرم کیوں ضروری ہے۔ وہ مسکرائی اور ضرار کا ہاتھ پکڑ کر طواف کے لیے بڑھی۔

فجر کی نماز کے بعد وہ ہوٹل لوٹے۔ ضرار نے افسوس کیا کہ وہ پہلے کیوں نہیں آیا۔ عزت کے چہرے پر اطمینان تھا، جبکہ ضرار میں کچھ پانے کی تڑپ تھی۔ عزت نے سوٹ کیس سے کپڑے نکالے، احرام کی جگہ سفید شلوار قمیض پہنی، اور ضرار کا احرام سوٹ کیس میں رکھا۔ ضرار نے پوچھا کہ کیا کل عمرہ نہیں کرنا؟ عزت نے کہا کہ اس نے مولوی سے معلومات لی ہیں کہ مسجد عائشہ سے احرام باندھ کر دوبارہ عمرہ کر سکتے ہیں۔ اس نے ضرار سے دوسرا اور تیسرا کلمہ سنا، پھر چوتھا کلمہ سنانے کے بعد کتاب سے پڑھنے کو کہا۔ ضرار نے شکایت کی کہ اس نے یاد نہیں کرایا۔ عزت نے کہا کہ وہ احرام کھول لے۔ واپس لوٹ کر اس نے اسکارف باندھا اور ناشتے کے لیے چلنے کو کہا۔ ضرار نے تھکاوٹ کا بہانہ کیا، لیکن عزت نے اسے اٹھایا۔ ہوٹل سے نکلتے ہوئے ضرار نے سٹار پیکج کی بات کی، لیکن عزت نے یاد دلایا کہ طے یہ تھا کہ عمرہ اپنے پیسوں سے کریں گے۔ ضرار نے پوچھا کہ وہ اسے اپنا نہیں سمجھتی؟ عزت نے کہا کہ اس نے خود کو اسے سونپ دیا ہے۔ ضرار نے پوچھا کہ پھر اس کے پیسوں سے عمرہ کیوں نہیں کیا؟ عزت نے بتایا کہ وہ سالوں سے پیسے جوڑ رہی تھی، کیونکہ اگر غریب سے شادی ہوتی تو وہ کہاں سے لاتا۔ ہوٹل میں ایک جوڑے سے کراچی دربار کا پتہ معلوم کر کے وہ ناشتے کے لیے گئے۔ عزت نے شیڈول بتایا کہ ناشتہ کر کے سوئیں گے، بارہ بجے مسجد عائشہ سے احرام باندھ کر حرم جائیں گے، اور عشاء کے بعد واپس آئیں گے۔

سونے سے پہلے عزت نے خود دانت صاف کیے اور ضرار سے بھی برش کروایا۔ بیڈ پر لیٹ کر اس نے پوچھا کہ کیا وہ عمرے کے بارے میں رائے دے سکتی ہے۔ ضرار نے اشارہ کیا۔ عزت نے بتایا کہ علماء میں اختلاف ہے کہ ایک سفر میں ایک یا کئی عمرے کیے جا سکتے ہیں۔ اس نے کہا کہ وہ اختلافی مسائل میں نہیں پڑتی اور جو سمجھ آتا ہے، اس پر عمل کرتی ہے۔ ضرار نے پوچھا کہ وہ کیا کرے گی؟ عزت نے کہا کہ خانہ کعبہ زمین کے مرکز میں ہے، اور اسے لگتا ہے کہ زمین اور کائنات اسی کے گرد گھومتی ہے۔ ضرار نے تشویش سے پوچھا کہ وہ ٹھیک ہے؟ عزت نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اب بالکل ٹھیک ہے۔ ضرار نے کہا کہ وہ عمرے کی بات کر رہے تھے۔ عزت نے کہا کہ وہ عمرہ کر چکی، لیکن اگر وہ مزید کرنا چاہتا ہے تو کرے، وہ طواف کرے گی۔ ضرار نے کہا کہ وہ بھی طواف کرے گا۔

چودہ دن مکہ میں گزار کر وہ مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہوئے۔ عزت بے چین تھی۔ بس میں سوار ہونے سے پہلے اس نے بی بی خانم کو فون کیا، پھر ایک اور نمبر پر کال کی۔ جب اس نے پوچھا کہ کیا ہوا تھا، تو اس کے آنسو بہنے لگے۔ ضرار نے پوچھا کہ کیا ہوا، عزت نے بتایا کہ اس کا ایک عزیز فوت ہو گیا۔ وہ بس میں بیٹھ گئی، اور ضرار اس کے پیچھے۔ عزت نے کھڑکی سے مکہ کو دیکھا، اور ضرار کو بلینکیٹ ڈال کر اس کی نیند کا خیال رکھا۔ مدینہ قریب آتے ہی اس کا دل تیز دھڑکنے لگا۔ ظہر سے پہلے وہ مدینہ پہنچے اور مسجد نبوی کی طرف چل پڑے۔ عزت وقار سے میناروں کو دیکھتی چلی۔ نماز کے بعد وہ گنبد خضریٰ کی طرف بڑھے۔ اسے دیکھتے ہی عزت کے قدم تھم گئے، اس کی سانسیں رک گئیں، اور دل کو قرار ملا۔ وہ روضہ مبارک کو دیکھتی رہی، اور ضرار کبھی اسے اور کبھی گنبد کو۔ مکہ میں عزت طواف کرتی رہی، لیکن مدینہ میں وہ جنت البقیع اور گنبد خضریٰ کے درمیان درود پڑھتی رہی۔ چودہ دن گزر گئے، اور مدینہ چھوڑنا اس کے لیے تکلیف دہ تھا۔ روضہ اقدس کے سامنے اس نے دعا مانگی کہ اللہ اس کی بیماری دور کرے، کیونکہ وہ دنیا دیکھنا چاہتی ہے। ضرار نے کہا کہ دیر ہو رہی ہے، ورنہ وہ نہ جانے کیا مانگتی۔ وہ الٹے پاؤں مسجد سے نکلی، روضے کی طرف پشت نہ کی۔

جہاز میں کھانے کے بعد عزت نے پوچھا کہ کیا ضرار نے ولیمے کا پلان بنایا۔ ضرار نے کہا کہ اس نے ارادہ نہیں بدلا۔ عزت نے کہا کہ وہ بدل گئے ہیں، اور ضرار نے اس کی سنگت کا اثر مانا۔ عزت نے بتایا کہ کل وہ گھر کسی کو ملوانا چاہتی ہے، پرسوں چیک اپ کے بعد میاں جی کے ڈیرے جائیں گے، اور پھر وہ اسے راوی کلفٹن چھوڑے گا۔ شرماتے ہوئے اس نے کہا کہ وہ دلہن بننا چاہتی ہے۔ ضرار نے حیرت سے پوچھا، "دلہن؟" عزت نے بتایا کہ اسے دلہن بننے کا شوق تھا، لیکن اس نے کبھی شادی کا جوڑا نہیں پہنا۔ ضرار نے ندامت سے کہا کہ اس نے اسے موقع نہیں دیا۔ عزت نے کہا کہ وہ اسے معاف کر چکی ہے اور پوچھا کہ وہ کس کا جوڑا پہنے گی۔ ضرار نے کہا کہ اس کا خود کا تیار کردہ، لیکن عزت نے کہا کہ اماں مطوفہ کا۔ ضرار نے پوچھا کہ اماں مطوفہ کون ہیں؟ عزت نے بتایا کہ وہ میاں جی محمد ثقلین کی بیوی، اس کی ماں ہیں۔ ضرار نے کہا کہ اسے آج پتا چلا کہ میاں جی کا نام ثقلین ہے۔ عزت نے بتایا کہ پچیس دن بعد وہ ساجد کے ساتھ راوی کلفٹن جائے گی، اور رات کو ضرار اسے لینے آئے گا، اگلے دن ولیمہ ہوگا۔ ضرار نے پوچھا کہ پچیس دن بعد کیوں؟ عزت نے جواب دینے کی بجائے مسکرایا، اور ضرار نے رضا مندی ظاہر کی۔ عزت نے کہا کہ وہ اب روز کام پر جائے۔

ڈرائنگ روم میں عزت نے صنم کو ضرار سے متعارف کرایا کہ وہ شاہ زمان کی سابقہ بیوی ہیں۔ صنم نے حیرت سے عزت کی طرف دیکھا۔ ضرار نے پوچھا کہ صنم کون ہیں؟ صنم نے تلخی سے کہا کہ وہ اس کی ماں ہے۔ عزت نے کہا کہ ماں سے ممتا ہوتی ہے، لیکن صنم نے اسے صرف جنم دیا، اس کی ماں تو اماں مطوفہ ہیں۔ صنم نے طنز کیا کہ کیا عزت نے اسے بے عزت کرنے کے لیے بلایا۔ عزت نے ضرار کا ہاتھ پکڑ کر اسے صوفے پر بٹھایا اور کہا کہ یہ اس کے شوہر ہیں، جنہیں سدھارنے کا چیلنج صنم نے دیا تھا۔ ضرار کچھ نہ سمجھا۔ عزت نے بتایا کہ ضرار کے والدین نے میاں جی سے رشتہ مانگا تھا، اور بی بی خانم نے بتایا کہ صنم اس کی ماں ہے۔ صنم نے کہا تھا کہ اگر ہمت ہے تو شاہ زمان جیسے سے زندگی گزار کر دکھائے۔ عزت نے کہا کہ وہ جینا شروع کر چکی ہے۔ صنم نے طعنہ مارا کہ اس کے پاس زندگی ہے ہی کتنی۔ ضرار غصے میں آیا، لیکن عزت نے اسے روکا اور کھانے کی دعوت دی۔ صنم نے کہا کہ اس کی باتوں سے عزت کی بھوک نہیں مری۔ عزت نے کہا کہ اس نے حرص، ہوس اور جسم کی بھوک ماری ہے، اور کھانا صرف زندہ رہنے کے لیے کھاتی ہے۔ صنم نے کہا کہ عزت نے اس کی عزت دو کوڑی کی کر دی۔ عزت نے طنز کیا کہ صنم نے اپنے شوہر کو دمڑی کا بھی نہیں چھوڑا تھا۔ اس نے کہا کہ جو عورت اپنے مجازی خدا سے ہار جاتی ہے، وہ زمانے سے جیت جاتی ہے۔ صنم نے عزت کو طمانچہ مار دیا۔ ضرار غصے میں کھڑا ہوا، لیکن عزت نے اسے روکا۔ اسی وقت عزت کا فون بجا، "وزیر جی" کی کال تھی۔ وہ ڈرائنگ روم سے باہر چلی گئی۔ ضرار نے صنم سے کہا کہ اسے ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیے تھا۔ صنم نے کہا کہ کم از کم وہ کسی کی آنٹی تو ہے، لیکن عزت نے اس سے کوئی رشتہ نہیں رکھا۔ ضرار نے پوچھا کہ وہ رشتہ کیوں رکھنا چاہتی ہے۔ صنم نے بتایا کہ وہ اس کی بیٹی ہے، اور اس کا قصور یہ تھا کہ شاہ زمان کے نکاح میں ہوتے ہوئے اسے ارمغان پٹھان پسند آ گیا، اس لیے وہ اس کے ساتھ چلی گئی۔ ضرار نے پوچھا کہ وہ واپس کیوں آئی؟ صنم نے بتایا کہ بختیار نے اسے طلاق دے دی، اور اس نے صرف ملنے کے لیے آئی۔ ضرار نے کہا کہ اس نے تو ارمغان سے شادی کی تھی۔ صنم نے بتایا کہ ارمغان کے مرنے کے بعد اس نے نادر سے شادی کی، پھر بختیار سے، اور اب وہ فارغ ہے۔ عزت نے اندر آتے ہوئے سنا اور طنز کیا کہ وہ پانچویں کی تلاش میں ہے۔ صنم نے کہا کہ اس نے صرف چار شادیاں کیں، کوئی گناہ نہیں کیا۔ عزت نے کہا کہ وہ کھانا کھائیں۔

ضرار نے عزت سے پوچھا کہ کیا اس نے اسے سدھارنے کے لیے شادی کی۔ عزت نے افسردگی سے کہا کہ وہ اپنی ماں کو راہ راست پر نہ لا سکی، اسے کیا سدھارے گی۔ ضرار نے کہا کہ اسے وضو، غسل، کلمے اور نماز سب عزت نے سکھایا، اور وہ اس کی وجہ سے سیدھے راستے پر آیا۔ عزت نے کہا کہ اللہ انہیں ہدایت دیتا ہے جو اس کے طالب ہوں، لیکن صنم دنیا کی طالب ہے۔ ضرار نے دوبارہ پوچھا کہ اس نے اس سے شادی کیوں کی۔ عزت نے بتایا کہ وہ مرنے سے پہلے شادی کرنا چاہتی تھی، لیکن اس کی بیماری کی وجہ سے سب انکار کر دیتے تھے۔ ضرار کا رشتہ آیا، لیکن اس نے اس کے قصوں کی وجہ سے انکار کر دیا۔ صنم کے طعنے پر اس نے ہاں کی۔ اگلے دن اسے پتا چلا کہ ضرار کے والد کو ہارٹ اٹیک ہوا۔ جنازے پر اس نے ضرار کو پہلی بار دیکھا۔ جب اس کی ماں کا دل بیٹھ گیا، عزت نے کہا کہ ان کی روح نکل گئی۔ ضرار نے غصے میں اسے بکواس بند کرنے کو کہا، لیکن میاں جی اور ایک ڈاکٹر کی تصدیق کے بعد اسے یقین آیا۔ چار مہینوں بعد عزت نے ضرار سے ملنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ وہ میاں جی کے پاس آتا تھا۔ ہڑتال کے دن وہ ڈیرے گئی اور اس کی گاڑی دیکھ کر حجرے میں داخل ہوئی۔ ضرار نے اس کے رخسار کو ہاتھوں میں لے کر کہا کہ اس جیسے دیکھ کر مانتے ہیں۔ شوکت خانم کی پارکنگ میں ضرار بے چین تھا، کیونکہ عزت نے اسے اندر آنے سے منع کیا تھا۔ ڈیڑھ گھنٹے بعد عزت آئی تو ضرار نے پوچھا کہ ڈاکٹروں نے کیا کہا۔ عزت نے بتایا کہ کل رپورٹس ملیں گی۔ ضرار نے کہا کہ وہ اسے باہر لے جائے گا، لیکن عزت نے کہا کہ اندر باہر کا ایک مالک ہے، اور اس نے اس کے حضور عرضی پیش کر دی ہے۔ اس نے میاں جی کے ڈیرے جانے کی خواہش کی۔ وہاں پہنچے تو لانگری اور ملنگ کار کے پاس آئے۔ ملنگ نے عزت کا دروازہ کھولا، اور عزت نے لانگری کو ضرار کا دروازہ کھولنے کا اشارہ کیا। ضرار نے تحائف کی طرف دیکھا، لیکن عزت نے کہا کہ انہیں گاڑی میں رہنے دیں۔ اس نے ضرار کو حجرے میں جانے کو کہا اور خود کسی کو فون ملایا۔

👇👇

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے