اک عیاش کی محبت - پانچواں حصہ

Sublimegate Urdu Stories

ضرار جب میاں جی کے حجرے میں داخل ہوا تو وہاں کا منظر بالکل بدلا ہوا تھا۔ حجرے کے بیچ میں ایک قبر بنی تھی، جسے سبز چادروں سے ڈھانپا گیا تھا۔ دیواروں اور چھت کو مسہری کے سامان سے سجایا گیا تھا۔ قبر کے سرہانے دو بڑے چینی کے پیالوں میں خشک آٹے میں کھڑی اگربتیاں جل رہی تھیں، اور پچھلی طرف بجھے ہوئے دیے پڑے تھے۔ یہ سب دیکھ کر ضرار حیران رہ گیا اور اس کے منہ سے نکلا، "میاں جی!" سفید لباس میں ملبوس میاں جی اس کے پیچھے کھڑے تھے اور بولے، "جی ضرار صاحب!" ضرار نے فوراً پوچھا، "یہ قبر کس کی ہے؟" میاں جی نے بتایا کہ یہ ان کے ساتھی علی بخش کی ہے۔ ضرار نے جلدی سے پوچھا کہ علی بخش کو کیا ہوا تھا؟ میاں جی نے ایک کونے میں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ ضرار بیٹھ گیا، اور میاں جی قبر کے سرہانے اس کے سامنے بیٹھے۔ ضرار نے طنزیہ کہا کہ اس دن وہ عورت اور مرد جھوٹ بول رہے تھے، لیکن پھر خود ہی اپنی بات کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں شفا نہ ملتی تو وہ دو لاکھ کیوں دیتے؟ میاں جی نے آنکھیں بند کر کے کہا کہ توحید کی ترسیل کا ذریعہ رسالت ہے، شفا اللہ اسباب سے دیتا ہے، اور انسان اپنے گمان کے مطابق حقیقت پاتا ہے۔ ضرار نے بے چینی سے کہا کہ یہ مشکل باتیں اس کی سمجھ سے باہر ہیں۔

میاں جی نے سادہ الفاظ میں کہا کہ زندگی، موت، عزت، بدنامی، دولت، اور غربت سب اللہ کے اختیار میں ہے۔ ضرار نے پوچھا کہ پھر اس جیسے لوگ ان جیسوں کے پیچھے دعائیں کروانے کیوں بھاگتے ہیں؟ وہ رکا اور پھر بولا کہ اس نے میاں جی سے دعا اور روح کے بارے میں دو سوال پوچھے تھے، لیکن ان کے پاس جواب نہیں۔ اسی دوران توفیق شاہ فون پر بات کرتا حجرے میں داخل ہوا کہ مزار بنانے پر ڈیڑھ کروڑ خرچہ آئے گا اور ضرار نے صرف دس لاکھ بھیجے ہیں۔ ضرار نے پلٹ کر دیکھا تو توفیق کی شکل بدلی ہوئی تھی؛ وہ ریشمی شیروانی، موتیوں والی پگڑی، اور قیمتی پتھروں والی انگوٹھیوں میں ملبوس تھا۔ توفیق نے کہا کہ مرشد علی بخش کا شاندار مزار بنانا ہے، اور بڑے راؤ صاحب ہوتے تو سارا خرچہ اٹھاتے۔ ضرار نے کہا کہ میاں جی مزار کے خلاف ہیں، لیکن جب اس نے میاں جی کی طرف دیکھا تو وہ وہاں نہ تھے۔ توفیق نے کہا کہ میاں جی کی خواہش کے مطابق علی بخش کی عام قبرستان میں تدفین ہوئی، لیکن علی بخش شاندار مزار چاہتے تھے۔ عزت کی کڑکتی آواز گونجی کہ توفیق جھوٹ بول رہا ہے۔ وہ پولیس کے ساتھ حجرے میں داخل ہوئی، اور پولیس نے توفیق کو ہتھکڑی لگا دی۔ تھانیدار نے توفیق کو قاتل کہہ کر دھمکایا اور لے گیا۔ عزت نے تھانیدار سے کہا کہ توفیق میاں جی کے قریبی ساتھی کا قاتل ہے، اسے نہ چھوڑا جائے۔ تھانیدار نے کہا کہ وہ میاں جی کے احسانات کی وجہ سے تھانیدار بنا، اور وہ اسے نہیں چھوڑے گا۔ حجرے میں اب صرف ضرار اور عزت تھے۔ ضرار اس کونے کی طرف دیکھ رہا تھا جہاں میاں جی بیٹھے تھے۔ وہ زمین کو چھونے لگا۔ عزت نے فکرمندی سے پوچھا کہ وہ ٹھیک ہے؟ ضرار نے کپکپاتی آواز میں کہا، "وہ میاں جی!" عزت نے بتایا کہ جس دن وہ مکہ سے مدینہ گئے، اسی دن فجر کے بعد میاں جی مسجد میں انتقال کر گئے تھے۔ ضرار کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے، اور عزت نے اسے سنبھال لیا۔

اگلے دن رات کو ڈاکٹر زیبا عزیز اپنے شوہر عزیز آفندی کے ساتھ عزت سے ملنے ضرار کے گھر آئے۔ ڈاکٹر زیبا نے کہا کہ وہ مٹھائی لائے ہیں، چائے بنوائیں تاکہ سب منہ میٹھا کریں۔ ضرار نے تجسس سے پوچھا کہ کیا خوشخبری ہے؟ عزت اس وقت ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی۔ عزیز آفندی نے بتایا کہ عزت تیزی سے صحت یاب ہو رہی ہے۔ ضرار کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا۔ عزت ڈاکٹر زیبا کے پاس گئی، جنہوں نے اسے گلے لگا کر ماتھا چوما اور کہا کہ یہ اس کے مضبوط ارادے کی وجہ سے ممکن ہوا۔ عزت نے کہا کہ اس سے زیادہ کسی کی دعاؤں کا اثر ہے۔ ڈاکٹر عزیز نے پوچھا کہ کس کی؟ عزت نے کہا کہ وہ جانتے ہیں۔ ڈاکٹر زیبا نے افسردگی سے کہا کہ میاں جی کی وفات کا سن کر دکھ ہوا۔ عزت نے بتایا کہ میاں جی نے اسے کبھی نہیں ڈانٹا، سوائے اس دن جب انہوں نے اسے ڈاکٹر زیبا کے پاس بھیجا تھا، کیونکہ وہ جانا نہیں چاہتی تھی۔ ڈاکٹر زیبا نے کہا کہ ان کے پہلے تین بچے پیدائش کے بعد فوت ہو گئے تھے، اور ان کی والدہ نے اصرار کیا کہ وہ میاں جی کے پاس جائیں۔ انہوں نے بڑی مشکل سے ڈاکٹر عزیز کو منایا۔ ڈاکٹر عزیز نے بتایا کہ اس وقت وہ روحانیت پر یقین نہیں رکھتے تھے، لیکن میاں جی سے مل کر انہیں اپنی رائے بدلنی پڑی۔

شاکرہ چائے کی ٹرالی لے کر آئی، اور عزت نے سب کو خود مٹھائی اور چائے پیش کی۔ بیڈ روم میں ضرار خوشی سے سرشار تھا۔ جیسے ہی عزت داخل ہوئی، وہ اس کی طرف لپکا اور اسے گلے لگا لیا۔ دونوں کافی دیر خاموشی سے ایک دوسرے سے لپٹے رہے۔ ضرار نے الگ ہوتے ہوئے عزت کے کندھوں سے پکڑ کر پوچھا کہ اب وہ چھچھورا تو نہیں، کیونکہ وہ اب کسی کے سامنے اسے نظر بھر کر نہیں دیکھتا۔ جب ڈاکٹر نے اس کی صحت کے بارے میں بتایا، اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اسے بانہوں میں بھر کر جھومے۔ عزت نے ہلکا سا قہقہہ لگایا اور کہا کہ اب وہ بہت اچھا بچہ بن گیا ہے۔ اس نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر صوفے پر بیٹھ کر بات کرنے کو کہا۔ ضرار نے مسکرا کر رضا مندی ظاہر کی۔ دونوں صوفے پر آمنے سامنے بیٹھ گئے۔ عزت نے کہا کہ کل سے وہ زیادہ سوچ رہا ہے اور کم بول رہا ہے، حجرے میں اس نے کیا دیکھا؟ ضرار کے چہرے پر خدشات نظر آئے۔ عزت نے اندازہ لگایا کہ وہ بتانا نہیں چاہتا، اس لیے اس نے بات بدل دی اور پوچھا کہ کیا ولیمے کے دعوت نامے چھپوانے ہیں؟ ضرار نے سنجیدگی سے کہا کہ اس نے عزت سے زیادہ ذہین عورت نہیں دیکھی۔ عزت نے مذاق میں کہا کہ دلہن بننے سے پہلے ہی وہ عورت بن گئی؟ ضرار نے بتایا کہ اس نے حجرے میں میاں جی کو دیکھا، جو اس سے باتیں کرتے رہے، اور پچھلے چھتیس گھنٹوں میں اسے اپنے دونوں سوالوں کے جواب مل گئے۔ عزت نے پوچھا کہ کون سے سوال؟ ضرار نے بتایا کہ اس کے والدین کی اچانک موت سے اسے صدمہ پہنچا تھا، اور وہ روح کے بارے میں سوچتا رہتا تھا۔ ایک دن ریشم نے پوچھا کہ وہ کیا سوچ رہا ہے، اور اس نے ایک مغربی فلم دیکھنے کا مشورہ دیا، لیکن اس سے کچھ سمجھ نہ آیا۔ اس نے میاں جی کے ڈیرے جانا شروع کیا، جہاں سب دعا مانگتے تھے۔ عزت کی سنجیدگی دیکھ کر اس نے جلدی سے کہا کہ ریشم ماڈلنگ کرتی ہے، لیکن اب اس کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ عزت مسکرائی۔

ضرار نے پوچھا کہ وہ کیوں مسکرائی؟ عزت نے بتایا کہ وہ سوچ رہی تھی کہ اسے شفا کیسے ملی، اور یہ میاں جی کی دعا کا اثر ہے، جنہوں نے اس کے لیے لمبی عمر کی دعا کی تھی۔ ضرار حیران ہوا۔ عزت نے بھرائی آواز میں کہا کہ اس نے ہمیشہ شاہ زمان کی بخشش اور صنم کی ہدایت کے لیے دعا کی، لیکن میاں جی اور اماں کا خیال نہ آیا۔ ضرار نے پوچھا کہ کیوں؟ عزت نے کہا کہ انسان اتنے ذہین اور نیک نہیں جتنے لوگ سمجھتے ہیں۔ ضرار نے کہا کہ وہ سمجھا نہیں۔ عزت نے بتایا کہ اللہ کا کرم ہے کہ جو اس کا دل سے ذکر کرتا ہے، اللہ اس کا چرچا کرتا ہے۔ جب وہ میاں جی کی قبر پر گئی تو اسے پیری اور فقیری کی سمجھ آئی۔ ضرار نے پوچھا کہ وہ کیا ہے؟ عزت نے بتایا کہ اس کے دادا شاہ چانن فقیر تھے، اور شاہ زمان پیر بننا چاہتا تھا، اسی لیے شاہ چانن نے میاں جی محمد ثقلین کو خلیفہ بنایا۔ فقیر عام قبرستان میں دفن ہوتا ہے، اور پیر کا مزار بنتا ہے۔ میاں جی شاہ چانن کے نقش قدم پر عام قبرستان میں دفن ہوئے۔ ضرار نے پوچھا کہ کیا توفیق شاہ بھی پیر بننا چاہتا تھا؟ عزت نے بتایا کہ اس نے سوتے ہوئے علی بخش کے منہ پر تکیہ رکھ کر اس کا قتل کیا۔ ضرار نے پوچھا کہ اسے کس نے بتایا؟ عزت نے اپنا موبائل نکال کر ایک ویڈیو دکھائی، جس میں توفیق علی بخش کے حجرے میں داخل ہوا، تکیہ اٹھایا، اور اسے دبا کر قتل کر دیا۔ ضرار نے پوچھا کہ ویڈیو کس نے بنائی؟ عزت نے بتایا کہ ملنگ نے۔ ضرار حیران ہوا۔ عزت نے کہا کہ ملنگ پراسرار ہوتے ہیں۔ لانگری اور ملنگ شاہ چانن کے عقیدت مند تھے اور انہیں لگتا تھا کہ میاں جی نے خلافت مال کے لیے ہتھیائی، لیکن میاں جی نے اپنی جمع پونجی اس کے نام کر دی۔ ضرار نے پوچھا کہ کون سی پونجی؟ عزت نے بتایا کہ میاں جی ریلوے میں ملازم تھے، ریٹائرمنٹ پر ملنے والی رقم سے انہوں نے آٹھ کنال زمین خریدی اور اس کی رجسٹری اس کے نام کر دی۔ ضرار نے پوچھا کہ ملنگ کے پاس موبائل کہاں سے آیا؟ عزت نے بتایا کہ ایک عقیدت مند نے میاں جی کو قیمتی موبائل دیا، جو انہوں نے ملنگ کو دیا کہ ڈیوٹی میں کام آئے گا۔ میاں جی جانتے تھے کہ ملنگ اور لانگری اس کی رپورٹ دیتے ہیں۔ ضرار نے کہا کہ اس نے چھ ماہ میں اپنی پوری زندگی سے زیادہ سیکھا۔ عزت نے کہا کہ اس کے والدین کو گزرے بھی چھ ماہ ہوئے، ماں چھتری اور باپ ڈھال ہوتا ہے۔ ضرار نے عزت کو گلے لگا کر کہا کہ اب وہ اس کے لیے سب کچھ ہے۔ عزت نے مسکراتے ہوئے کہا کہ وہ اس کی چھتری ہے اور وہ اس کی ڈھال۔

بابا تیمور نے کہا کہ کسی کی ذات میں صفات نہ ڈھونڈو، اپنی حیثیت جانو، اور سوال دوسرے کی قابلیت پرکھنے کے لیے نہ پوچھو۔ ایک گاہک نے دو دودھ پتی مانگی۔ بابا تیمور نے چائے پھینٹتے ہوئے مسکرا کر استقبال کیا۔ بسیط تابش نے تجمل احمد اور قدسیہ احد کے سامنے سے اٹھتے ہوئے کہا کہ وہ چلتا ہے۔ تجمل نے چائے پینے کو کہا، لیکن بسیط نے مصروفیت کا بہانہ بنایا۔ بابا تیمور نے کہا کہ جو جتنا مصروف ہے، وہ اتنا ہی فارغ ہے۔ گاہکوں کو چائے دینے کے بعد بابا تیمور نے باقی چائے تین پیالیوں میں ڈالی اور تجمل اور قدسیہ کے سامنے بیٹھ گئے۔ دو افراد نے چائے مانگی، لیکن بابا تیمور نے کہا کہ دودھ ختم ہو گیا۔ قدسیہ پیالی کے کناروں پر انگلی گھما رہی تھی۔ بابا تیمور نے کہا کہ چیزیں دائروں میں سفر کرتی ہیں، اور دائرے کا نہ آغاز ہوتا ہے نہ اختتام۔ قدسیہ نے مسکرا کر جواب دیا۔ تجمل نے کہا کہ وہ کہیں جانا چاہتی ہے اور چلا گیا۔ تجمل، بسیط، اور قدسیہ کالج کے ساتھی تھے۔ بسیط پولیس میں بھرتی ہو گیا، تجمل نے وکالت کی، اور قدسیہ معروف مصنفہ بن گئی۔ قدسیہ گاہکوں کے جانے کے بعد بھی بیٹھی رہی۔ بابا تیمور نے برتن دھو کر رکھ دیے اور دکان کا ایک کواڑ بند کیا۔ قدسیہ خانہ کعبہ کی تصویر دیکھ رہی تھی۔ بابا تیمور نے کہا کہ چائے ٹھنڈی ہو گئی، پی لو۔ قدسیہ نے کہا کہ خانہ کعبہ چوکور ہے، پھر بھی ہم دائرے میں گھوم کر منزل پانا چاہتے ہیں۔ بابا تیمور نے کہا کہ اس کی اونچائی میٹروں میں نہیں سماتی، اور منزل کوئی نہیں، بس چلنا ہے۔ قدسیہ نے ایک سانس میں چائے پی اور پیالی رکھ دی۔ بابا تیمور نے پوچھا کہ وہ ٹھنڈی چائے کیوں پیتی ہے؟ قدسیہ نے کہا کہ یہ اس کی عادت ہے۔ قدسیہ نے پوچھا کہ اگر منزل نہیں تو ہم ایک جگہ سے دوسری جگہ کیسے پہنچتے ہیں؟ بابا تیمور نے کہا کہ شیطان سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں سفر کرتا ہے۔ قدسیہ نے کہا کہ جواب اس کے سوال سے نہیں ملتا۔ بابا تیمور نے کہا کہ وہ کسی مکان میں نہیں رہتا، لیکن کوئی مکان اس سے خالی بھی نہیں۔ قدسیہ نے پوچھا کہ پھر ہم خانہ کعبہ کو سجدہ کیوں کرتے ہیں؟ بابا تیمور نے کہا کہ سجدہ مکان کو نہیں، ذات کو ہوتا ہے، کیونکہ کعبے پر اللہ کے نور کی تجلیاں پڑتی ہیں۔ قدسیہ نے پوچھا کہ کیا سجدوں سے وہ مل جاتا ہے؟ بابا تیمور نے کہا کہ ہر شخص کو وہی ملتا ہے جس کی طرف وہ ہجرت کرتا ہے۔

قدسیہ نے پوچھا کہ وصل کی طرف ہجرت سے کیا وصل ملے گا؟ بابا تیمور نے مسکرا کر کہا کہ فراق ہی وصل ہے، اور وہ موجود ہے، ہم ہی غیب ہیں۔ قدسیہ نے کہا کہ اس نے بہت کچھ پڑھا، لیکن معرفت نہ سمجھ سکی۔ بابا تیمور نے کہا کہ معرفت کی پہلی سیڑھی محبت اور دوسری خدمت ہے۔ قدسیہ نے پوچھا کہ تیسری سیڑھی کیا ہے؟ بابا تیمور نے کہا کہ لوگ پہلی سیڑھی تک بھی نہیں پہنچتے۔ قدسیہ نے کہا کہ اس نے محبت پر بہت لکھا۔ بابا تیمور نے کہا کہ اس نے کتابیں تو لکھیں، لیکن من کے گھڑے میں پڑا آب حیات نہ چکھا۔ قدسیہ نے حیرت سے پوچھا کہ وہ کیا ہے؟ بابا تیمور نے کہا کہ دل من نہیں، اور آب حیات جذبات نہیں، معرفت احساسات سے ملتی ہے۔ قدسیہ نے کہا کہ اسے کچھ سمجھ نہ آیا۔ بابا تیمور نے کہا کہ پیاسے کوے کی کہانی کی طرح کتابیں کنکروں کی طرح ہیں، جو سمجھ آئیں تو آب حیات تک لے جاتی ہیں، ورنہ گھائل کر دیتی ہیں۔ قدسیہ نے پوچھا کہ قلب کیا ہے؟ بابا تیمور نے کہا کہ وہ دل کو من اور کسک کو محبت سمجھتی ہے، لیکن من کو مارنے سے قلب زندہ ہوتا ہے۔ سمندر حقیقت ہے، اور لہریں کچھ نہیں۔ اپنی ذات پہچاننے سے رب کو جانا جاتا ہے۔ غریب کی غربت دور کرو، خیانت محبت اور عزت دونوں میں جرم ہے، اور اطاعت رقص ہے۔ علم سے غرور یا پھل نکلتا ہے۔ قدسیہ نے پوچھا کہ انہوں نے آج ہی اتنی باتیں کیوں بتائیں؟ بابا تیمور نے کہا کہ زندگی اور موت کا بھروسہ نہیں، اہل سے چھپانا اور جاہل کو بتانا جرم ہے، اور قدسیہ طالب بھی ہے اور اہل بھی۔ انہوں نے کہا کہ اپنی ذات میں صفات پیدا کرو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذات میں مکمل تھے۔ مغرب کی اذان شروع ہو گئی۔ 


قدسیہ دکان سے باہر نکل آئی۔ بابا تیمور نے قدسیہ کے جانے کے بعد دکان کے دونوں کواڑ اندر سے بند کیے اور سیڑھیوں سے اپنے کمرے میں چلے گئے۔ قدسیہ فٹ پاتھ پر بیٹھے ملنگ کے پاس جا کر بیٹھی۔ ملنگ کے چہرے پر اس کی وجاہت نمایاں تھی۔ قدسیہ نے قریب ہی کھڑی پھلوں کی ریڑھی سے کچھ پھل خرید کر ملنگ کے پاس رکھ دیے۔ ملنگ نے فوراً ایک سیب اٹھایا اور پاگلوں کی طرح کھانے لگا۔ بابا تیمور اپنے کمرے کی کھڑکی کا ایک کواڑ کھول کر یہ سب دیکھ رہے تھے، جبکہ قدسیہ اس سے بے خبر تھی۔ "کسک سے محبت کی طرف پہلا قدم اٹھایا ہے،" بابا تیمور نے مسکراتے ہوئے خود کلامی کی اور کھڑکی بند کر دی۔ قدسیہ اپنی گاڑی میں بیٹھ گئی اور شیشے سے ایک بار اس پرانی عمارت کو غور سے دیکھا، اس کی نگاہیں بابا تیمور کی کھڑکی پر مرکوز تھیں۔ اس نے گاڑی شروع کی اور وہاں سے چلی گئی۔ چند کلومیٹر آگے جا کر قدسیہ نے ایک خریداری کے مرکز کی پارکنگ میں گاڑی کھڑی کی، اردگرد دیکھا، لوگ بے پروا آ جا رہے تھے۔ وہ گاڑی سے اتری، ماحول کا جائزہ لیا، پھر گاڑی کے رہنما سے ڈگی کھولی اور اس میں سے چمڑے کا ایک چھوٹا کندھے کا تھیلا نکال کر خریداری کے مرکز کے کھانے پینے کے حصے کی طرف چل دی۔

"ان لوگوں نے قرآن پاک کی بے حرمتی کی ہے۔"
"سوچ کیا رہے ہو... آگے بڑھو..."
"جلا دو سب کے گھروں کو..."
"ہاں ہاں... ساری بستی کو..."
"نعرہ تکبیر..."
"اللہ اکبر..." فضا اللہ اکبر کی آوازوں سے گونج اٹھی۔ سرد اور تاریک رات میں ہر طرف شعلے تھے۔ آگ کے شعلے... کسی کا گھر جل رہا تھا، کسی کا ایمان پختہ ہو رہا تھا، کسی کا کلیجہ جل رہا تھا، اور کسی کے دل کو ٹھنڈک مل رہی تھی۔ کہیں چیخیں تھیں، کہیں ہونٹوں پر مسکراہٹ۔ اللہ کے دو نبیوں کے ماننے والے ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ چند گھنٹوں بعد سماجی میڈیا اور برقی میڈیا چیخ اٹھا۔ ہر چینل بڑھ چڑھ کر خبریں دے رہا تھا۔

"یہ دیکھیں، سب سے پہلے یہ خبر ہم نے دی!" ایک ٹی وی رپورٹر فخر سے کیمرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بول رہا تھا۔
"آپ میرے پیچھے دیکھ سکتے ہیں، ہر طرف آگ ہی آگ ہے۔ آگ بجھانے والی گاڑیاں کوشش کر رہی ہیں،" ایک کمزور سی خاتون رپورٹر بول رہی تھی، جس کی صحت کمزور تھی مگر خبریں دینے میں زور تھا۔
"پولیس نے پورے علاقے کو گھیر لیا ہے،" تیسرا رپورٹر ایک پل پر چڑھ کر بازو پھیلائے بول رہا تھا، جیسے کوئی ہیرو سرسبز پہاڑیوں پر گانا گا رہا ہو۔
"اب تک کوئی حکومتی عہدیدار یہاں نہیں پہنچا،" ایک بڑے چینل کا رپورٹر بتا رہا تھا۔
"ابے، کبھی تیرا مائیک خراب، کبھی کیمرہ چلتا ہی نہیں۔ ہمیں خبر گھنٹہ دینا ہے،" ایک رپورٹر اپنے کیمرہ مین سے الجھ رہا تھا۔

اگلے دن اخبارات کی سرخیاں تھیں:
"عیسیٰ نگری میں نامعلوم افراد نے آگ لگائی۔"
"عیسائیوں کی پوری بستی جل گئی۔"
"13 افراد جل کر ہلاک، 81 زخمی۔"
"دہشت گردوں کا ایک اور بڑا حملہ۔"
"ہم نے کمیشن بنا دیا ہے،" صوبائی وزیر قانون۔
"جلد مجرموں کو سزا دیں گے،" وزیر اعلیٰ۔

اگلے دن اخبار پڑھ کر تجمل احمد تیزی سے بابا تیمور کی دکان کی طرف نکلا۔ عیسیٰ نگری کے سامنے سڑک کی دوسری طرف کی دکانیں بھی جل کر راکھ ہو چکی تھیں، جن میں بابا تیمور کی چائے کی دکان بھی تھی۔ "بسیط... بسیط..." تجمل نے ایڑھیاں اٹھاتے ہوئے کہا۔ "کدھر جوان، دیکھ نہیں رہا، صاحب ٹی وی والوں سے بات کر رہے ہیں،" ایک موٹا پولیس والا بولا۔ "وہ میرا دوست ہے،" تجمل نے الجھتے ہوئے کہا۔ "کون، ٹی وی والا؟" "نہیں، تمہارا صاحب! ہٹو آگے سے!" تجمل نے دو پولیس والوں کے بیچ سے گزرنے کی کوشش کی۔ "کدھر جانے دو!" دوسرے پولیس والے نے چٹکی بجاتے ہوئے کہا، اس کی بڑی بڑی مونچھیں تھیں۔ "تتر بتر ہو جا، ورنہ رات کو اندر ڈال دوں گا،" موٹا پولیس والا بولا۔ "میں نے بتایا نا، بسیط میرا دوست ہے،" تجمل نے سنجیدگی سے کہا۔ لوگ ایک دوسرے پر گر رہے تھے۔ ایک شخص پھٹی آنکھوں سے دکانوں کی طرف دیکھ رہا تھا، دوسرا پتھرائی آنکھوں سے بولا، "میری دکان نہیں جلی، میرا نصیب جل گیا۔" دوسرا بولا، "میں نے کون سی گستاخی کی؟ میری دکان میں قرآن پاک بھی تھا، کیا وہ بھی جل گیا؟" تجمل نے پیچھے مڑ کر دیکھا، ایک کتابوں والا اپنی بربادی پر ماتم کر رہا تھا، دوسرا پنکچر لگانے والا۔ "میں ہائی کورٹ کا وکیل ہوں، اے ایس پی بسیط تابش میرا دوست ہے، ہٹو!" تجمل غصے سے پولیس والوں کو ہٹاتے ہوئے آگے بڑھا۔ دونوں پولیس والوں نے حیرت سے تجمل کو بسیط کی طرف جاتے دیکھا۔ تجمل ٹریک سوٹ اور جوگرز میں تھا۔ "یہ بڑے لوگ صبح سویرے ایسے ہی کپڑے پہنتے ہیں،" موٹے پولیس والے نے مونچھوں والے کو بتایا۔ بسیط نے تجمل کو دیکھ کر ہاتھ ہلایا، جو پولیس والوں نے دیکھ لیا۔ بسیط ٹی وی والوں سے فارغ ہو کر تجمل کی طرف آیا۔ مونچھوں والے نے موٹے پولیس والے کے پیٹ کی طرف دیکھ کر کہا، "تیرا یہ پیٹ جو وردی سے باہر نکل رہا ہے، شکر کر نہ نکلا۔" بسیط نے تجمل کو گلے لگا کر تسلی دی۔ "کیا مطلب؟" موٹا پولیس والا بولا۔ "صاحب نے جس طرح اس لڑکے کو گلے لگایا، جگری یار لگتے ہیں۔ تیری بدتمیزی اگر اس نے صاحب کو بتا دی تو نہ یہ پیٹ رہے گا، نہ وردی،" موٹے پولیس والے نے فوراً اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھے۔

"یہ دو لاشیں ان دکانوں سے ملی ہیں، دیکھ لو، ان میں بابا تیمور کی کون سی ہے،" بسیط نے ہسپتال کے مردہ خانے میں دو لاشوں سے کپڑا ہٹاتے ہوئے کہا۔ لاشیں نہیں، جلے ہوئے کوئلے تھے، سفید چادروں سے ڈھکے ہوئے۔ تجمل نے ایک نظر دیکھی، دوسری کی ہمت نہ تھی۔ "شناخت کر لو، بابا تیمور کی لاش کون سی ہے؟" بسیط نے تجمل کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔ "جو زیادہ جلی ہے، دائیں والی،" تجمل کی آواز میں شدید درد تھا۔ "تم کیسے یقین سے کہہ سکتے ہو؟" بسیط نے تفتیشی انداز میں پوچھا۔ "بابا تیمور کے دائیں ہاتھ کی شہادت والی انگلی میں چاندی کی انگوٹھی تھی، جس میں نیلم جڑا تھا، اس لاش کی انگلی میں بھی جلی ہوئی انگوٹھی ہے،" تجمل نے کہا اور نم آنکھوں کے ساتھ مردہ خانے سے نکل گیا۔

"تم صبح پریشان تھے، اس لیے ملنے آیا،" بسیط نے تجمل کو اپنے آنے کی وجہ بتائی۔ تجمل نے اسے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ بسیط بیٹھتے ہوئے بولا، "مجھے بھی بابا تیمور کی موت کا بہت دکھ ہے۔" "والد کے انتقال کے بعد یہ سب سے بڑا صدمہ ہے، ہم نے بابا تیمور سے کتنا کچھ سیکھا،" تجمل نے رندھی آواز میں کہا۔ "ان کے پاس گوگل سے زیادہ معلومات تھیں!" بسیط نے کہا۔ "قدسیہ پھر غائب ہو گئی؟" تجمل نے پوچھا۔ "کسی کردار کی تلاش میں نکلی ہو گی،" بسیط نے کہا۔ "اسے اس سانحے کی خبر دی؟" تجمل نے پوچھا۔ "اس کا نمبر بند ہے،" بسیط نے بتایا۔ "قدسیہ کی بابا تیمور سے ہم دونوں سے زیادہ قربت تھی،" تجمل نے کہا۔ "وہ چار سال کی تھی جب اس کے والد شہید ہوئے، وہ بابا تیمور میں اپنے والد کو ڈھونڈتی تھی،" بسیط نے کہا۔ "اتنا جانتے ہو تو اس سے شادی کیوں نہیں کر لیتے؟" تجمل نے مشورہ دیا۔ "تم کر لو!" بسیط نے سنجیدگی سے کہا۔ "وہ ہم دونوں میں سے کسی سے شادی نہیں کرے گی،" تجمل نے زبردستی مسکراتے ہوئے کہا۔ "سچ کہا!" بسیط نے مان لیا۔ "قدسیہ ایک الجھے کیس جیسی ہے،" تجمل نے تصور میں اسے لاتے ہوئے کہا۔ بسیط نے لمبی سانس لے کر کہا، "وہ چپ چاپ سنتی ہے، بولتی کچھ نہیں۔" "بابا تیمور سے بڑے سوال کرتی تھی!" تجمل نے فوراً کہا۔ "ہم اس کے عجیب سوالوں کے جواب کہاں دے سکتے ہیں،" بسیط نے پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ "کچھ پتا چلا، کس کی لگائی آگ تھی جس نے بابا تیمور سمیت درجنوں لوگوں کو جلا دیا؟" تجمل کو بابا تیمور کی یاد ستانے لگی۔ "انتہا پسندی کی!" بسیط نے بتایا۔ "مطلب؟" تجمل نے تشویش سے پوچھا۔ "سوچ رہا ہوں نوکری چھوڑ دوں، خون خرابہ دیکھ کر تنگ آ گیا،" بسیط نے اداسی سے کہا۔ "میں آج تک کوئی کیس نہیں جیت سکا،" تجمل نے اپنا دکھڑا بتایا۔

"بہت مصروف رہتے ہو!" کرنل صاحب نے آواز سے پاک کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا، "بہت اچھا کیا، قدسیہ!" قدسیہ اٹھتے ہوئے بولی، "سچ کہوں تو میں زیادہ پرجوش نہیں ہوں۔" کرنل صاحب نے لمبی سانس لے کر کہا، "جانتا ہوں، نقصان بہت ہوا۔" "انہوں نے کچھ بتایا؟" قدسیہ نے شیشے کے دوسری طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔ "بہت گہرا ہے،" کرنل صاحب نے اسی طرف دیکھتے ہوئے کہا، پھر شیشے کے پاس جا کر بتانے لگے، "کہتا ہے، سچ بتا دوں گا، مگر اس آدمی سے ملنے کے بعد جس کی وجہ سے آپ مجھ تک پہنچے۔" قدسیہ فوراً کمرے سے نکل گئی۔ کرنل صاحب کرسیوں اور میز کی طرف لوٹے، ہیڈ فون کانوں پر لگایا۔ قدسیہ شیشے کے دوسری طرف کمرے میں داخل ہوئی۔ بابا تیمور اسے دیکھ کر ہنسنے لگا، پھر سنجیدگی سے بولا، "بیٹی، مجھے کبھی کبھی تم پر شک ہوتا تھا!" قدسیہ کرسی لے کر اس کے سامنے بیٹھ گئی۔ تیمور لوہے کی کرسی پر ہتھکڑیوں اور بیڑیوں سے جکڑا تھا۔ "تمہیں مجھ پر شک کیسے ہوا؟" تیمور نے پوچھا۔ قدسیہ کی آنکھوں میں نمی آئی، وہ ضبط کرتے ہوئے بولی، "بابا جی! باہر سے اتنے حلیم، اندر سے اتنے سفاک!" تیمور مسکرایا، "جنگ میں خون ہی بہتا ہے۔" "ہم نے کوئی جنگ نہیں چھیڑی!" قدسیہ نے دھیمے لہجے میں کہا۔ "پونی صدی گزرنے کے بعد بھی کسی کے وجود کو تسلیم نہ کرنا جنگ ہے،" تیمور نے کہا۔ قدسیہ نے غور کیا، پھر بولی، "آپ اسرائیل سے ہیں؟" تیمور نے سر نفی میں ہلایا، "نہیں، اسرائیل مجھ جیسے جانثاروں سے ہے۔" "آپ اتنے آرام سے کیسے مان گئے؟" قدسیہ کے پوچھنے پر تیمور مسکرایا، "اب شہادت میرا مقدر ہے، کیوں تشدد کرواؤں؟" "اللہ؟" قدسیہ نے سوالیہ انداز میں پوچھا۔ "ہم مسلمانوں سے زیادہ توحید پرست ہیں،" تیمور نے فخر سے کہا۔ قدسیہ نے نفرت سے اسے دیکھا، "حضرت محمدﷺ کو نہ ماننا ان کی شان میں گستاخی ہے۔" "میں گستاخ نہیں، محمدﷺ کی گستاخی حرامی کرتے ہیں،" تیمور نے سنجیدگی سے کہا۔ "حرامی؟" "قدسیہ بیٹی!" تیمور کے بولتے ہی قدسیہ نے کاٹا، "مجھے بیٹی مت کہو!" تیمور مسکرایا، "اگر میری بیٹی ہوتی تو وہ بھی اتنا ادب نہ کرتی جتنا تم نے کیا۔" "تھا،" قدسیہ نے فوراً کہا۔ "افسوس، اس ملک میں کروڑوں مومن محمدﷺ کو سب سے زیادہ محبوب رکھتے ہیں،" تیمور نے کہا। "اتنا ادب کرتے ہو تو ان پر ایمان کیوں نہیں لاتے؟" قدسیہ نے شائستگی سے پوچھا۔ تیمور نے قہقہہ لگایا، "میں نے کہا، محمدﷺ کی بے ادبی حرامی کرتے ہیں، میں حلالی ہوں۔" "حرامی سے کیا مراد؟" قدسیہ نے جانچتی نظروں سے پوچھا۔ تیمور نے اس کا جائزہ لیا، "بے حیائی سے زنا عام ہوتا ہے، زنا سے پیدا ہونے والے بچے محمدﷺ کے گستاخ بنتے ہیں۔" "بے حیائی تمہارے ملک میں نہیں؟" قدسیہ نے معصومیت سے کہا۔ "بھولی بھالی، گڑیا جیسی، نازک سی بچی، اندر سے اتنی ذہین! تم انجان بن کر سب جان لیتی ہو،" تیمور نے کہا۔ "بے حیائی پر بات ہو رہی تھی،" قدسیہ نے یاد دلایا۔ "باتیں ہی تمہاری قوم بھول جاتی ہے۔ قرآن میں ہمارے بارے میں سب لکھا ہے۔ ہم عورتوں کے ذہن میں ڈالتے ہیں کہ اسلام نے انہیں مردوں کے برابر حقوق نہیں دیے، پھر وہ پلے کارڈ لے کر سڑکوں پر نکلتی ہیں۔" "کیسے ڈالتے ہو؟" قدسیہ نے پوچھا। "ہر شعبے سے ہمیں کرائے پر لوگ مل جاتے ہیں،" تیمور نے کہا۔ "شعبے سے کیا مراد؟" "میڈیا، سیاست دان، فوجی، جج، پولیس، خواتین کے حقوق کی لڑائی لڑنے والیاں، اور مولوی!" "مولوی بھی؟" قدسیہ نے حیرت سے کہا۔ "مولوی غربت کے باوجود پیسوں پر نہیں بکتا، اسے دین کی سربلندی کے لیے خریدتے ہیں،" تیمور نے بتایا। "دین کی سربلندی؟" قدسیہ کے منہ سے نکلا۔ "ہم نے پاکستان میں محمدﷺ کے دین کو فرقوں کی شکل دی۔ مولوی، پیر، ذاکر اپنے فرقے کو اصل دین سمجھتے ہیں،" تیمور نے کہا۔ قدسیہ نے تحمل سے کاٹا، "تم اتنے آرام سے سب اگل رہے ہو۔" تیمور نے آنکھیں بند کر کے آیت پڑھی: ﴿وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعاً وَّلاَ تَفَرَّقُوْا﴾ (آل عمران: 103)۔ قدسیہ نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ تیمور نے ترجمہ کیا، "اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامو اور تفرقے میں نہ پڑو۔ جو قوم قرآن پڑھ کر نہ جاگی، وہ میرے اقرار سے کیا جاگے گی؟" قدسیہ سوچ میں پڑ گئی۔ تیمور نے طنزیہ کہا، "سینئرز سے سوالات کی فہرست لے آتی تو وقت بچتا۔" "تمہارا وقت ختم ہو گیا،" قدسیہ نے سنجیدگی سے کہا۔ "میں اپنے وقت سے دس سال زیادہ جی چکا،" تیمور نے فاتحانہ مسکراہٹ سے کہا۔ "مطلب؟" "1985 میں پچیس سالہ منصوبے کے تحت پاکستان آیا،" تیمور نے بتایا। "کہاں سے؟ کون سا منصوبہ؟" قدسیہ نے دو سوال پوچھے۔ "میں ایرانی نژاد یہودی ہوں۔ اٹھارہ سال کی عمر میں مصر گیا، جامعہ الازہر میں پڑھا، پھر غیر قانونی طور پر اسرائیل گیا، پانچ سال ٹریننگ لی، مصر واپس آیا، پھر ایران۔ ایران میں شیعہ مسلک اختیار کیا، مدرسے میں داخلہ لیا، پھر پاکستان بھیجنے کی خواہش ظاہر کی۔ کراچی پہنچا، حالات سازگار تھے۔ سعودیہ اور ایران اپنے مسلک کی فصل اگانا چاہتے تھے۔ دس سال اہل تشیع کو اہل سنت کے خلاف بھڑکایا، پھر جہلم میں مولانا بن کر اہل تشیع کو نشانہ بنایا۔ بیس سال مشقت کے بعد ملتان میں پیر بنا، دس سال پیری کی، پچھلے پانچ سال تمہارے سامنے ہیں۔" قدسیہ نے فوراً کہا، "پھر لاہور میں مذہبی عالم بنے۔" "مذہبی عالم بننا غلط فیصلہ تھا،" تیمور نے مزے سے کہا۔ "پینتیس سال پاکستان میں برباد کیے!" قدسیہ نے حقارت سے کہا۔ "کافر کے لیے اس کا کفر، مسلمان کے لیے اس کا دین، میرے لیے میری قوم۔ میں نے اپنی قوم کو مقام دلانے کی کوشش کی،" تیمور نے فخر سے کہا۔ "تمہارے کوارٹر سے ملی دو لاشیں تمہارے ساتھی تھیں؟" "مہرے تھے، ساتھی نہیں،" تیمور نے معنی خیز مسکراہٹ سے کہا۔ "مہرے اور ساتھی میں فرق؟" قدسیہ نے بھولی صورت سے پوچھا۔ "ساتھی اپنی قوم کے، مہرے دوسری قوم سے۔ میری قوم کے لوگ مہرے نہیں بنتے، ہم سب کو کٹھ پتلیوں کی طرح نچاتے ہیں،" تیمور نے کہا۔ "عیسیٰ نگری اور رحمان پورہ میں دنگے کیسے کروائے؟" قدسیہ نے کاٹتے ہوئے پوچھا۔ "پیسے کے زور پر۔ وہ دو آدمی جو دودھ ختم ہونے کے بعد چائے پینے آئے تھے، یاد ہیں؟" قدسیہ نے سوچ کر کہا، "جنہیں تم نے کہا دودھ ختم ہو گیا؟" "ہاں وہی!" تیمور نے کہا۔ "اے میرے خدا!" قدسیہ نے سر پکڑ لیا۔ "بیٹی، جلی لاشیں زندہ نہیں ہوں گی،" تیمور نے کہا۔ "مجھے بیٹی مت کہو!" قدسیہ نے میز پر ہاتھ مار کر چلائی۔ تیمور نے سفاکی سے قہقہہ لگایا۔ قدسیہ نے غصے سے پوچھا، "پھر کیا ہوا؟" "ایسے میں کچھ نہیں بتاؤں گا،" تیمور نے کمینی مسکراہٹ سے کہا۔ قدسیہ نے ٹھنڈی سانس لی، "وہ دو آدمی کون تھے؟" "پاکستانی، ایک مسلمان، ایک عیسائی، دونوں بے روزگار۔ عیسائی کو قرآن کی بے حرمتی کے لیے لاکھوں دیے، مسلمان کو عیسیٰ نگری میں آگ لگانے کے لیے۔ کام کے بعد وہ میری دکان پر آئے۔ میں نے انگوٹھی اور پشاور کا پتہ دیتے ہوئے کہا، 'یہاں آرام سے سو جاؤ، کل دکان کو تالا لگا دینا، کوئی پوچھے تو کہنا پشاور گیا ہوں۔ پندرہ بیس دن بعد اس پتے پر ملنا، انگوٹھی دکھانے پر ملاقات ہو گی۔' مسلمان نے انگوٹھی پہن لی۔ میں باہر نکلا، عیسیٰ نگری میں آگ لگی تھی۔ میں نے مارکیٹ کو بھی آگ لگائی۔ جاتے وقت ملنگ نے مجھے دبوچ کر بے ہوش کر دیا۔ ہوش آئی تو یہاں تھا۔" "میں نے ملنگ کو تم پر نظر رکھنے کے لیے بٹھایا تھا،" قدسیہ نے بتایا۔ "ملنگ پر مجھے پہلے دن سے شک تھا، تم پر نہیں۔ جب تم نے اسے پھل دیے، مجھے یقین ہو گیا کہ نکل جانا چاہیے۔ مہینوں کے منصوبے کو پورا کرنے کے لیے مہروں کو فون کیا،" تیمور نے کہا। "پشاور جا کر کیا کرنا تھا؟" قدسیہ نے پوچھا۔ "ادھورے کاموں کا ذکر نہیں کرتے،" تیمور نے مسکرا کر کہا۔ "پشاور میں تمہارے ساتھی کون ہیں؟" "میں نے بتایا، ساتھی اپنے ہوتے ہیں، میری قوم انمول ہے، مول دوسری قوموں کا لگاتے ہیں،" تیمور نے کہا۔ "تم بھی مہرہ ہو!" قدسیہ نے تیکھے لہجے میں کہا۔ تیمور ہنسنے لگا، "ساری زندگی حکم دیے، اسرائیل سے ٹریننگ کے بعد کبھی رابطہ نہیں رکھا۔" قدسیہ سوچ میں پڑ گئی۔ "سوال ختم؟" تیمور نے طنزیہ پوچھا۔ "ابھی شروع ہوئے ہیں،" قدسیہ نے سنجیدگی سے کہا۔ "جو جواب دیے؟" تیمور نے خفگی سے پوچھا۔ قدسیہ نے قہقہہ لگایا، "وہ ناول کے لیے پوچھے تھے۔" "قوموں کو عروج جانثاروں سے ملتا ہے، مصنفوں سے نہیں،" تیمور نے متکبرانہ کہا۔ "جانثاروں کی تاریخ کون لکھتا ہے؟" قدسیہ نے پوچھا۔ تیمور نے چونک کر دیکھا۔ قدسیہ نے گردن ہلاتے ہوئے کہا، "ہم ہاتھی کو چیونٹی اور چیونٹی کو ہاتھی لکھ دیں تو تاریخ بن جاتی ہے۔" "مجھ پر کہانی لکھو گی؟" تیمور نے جلدی سے پوچھا۔ "تمہاری کہانی مکمل کہاں ہوئی؟" قدسیہ نے سنجیدگی سے کہا۔ "مطلب؟" تیمور کو فکر لاحق ہوئی۔ "اب تک تمہاری زندگی میں چین تھا، بے چینی اب شروع ہو گی۔ کہانی شروع کرنا آسان، ختم کرنا مشکل۔ اگر کہانی کار کی کہانی ختم نہ ہو تو وہ کہانی مکمل کر لیتا ہے، تم وہ بھی نہیں کر سکتے،" قدسیہ نے کہا۔ "کیا کہانی کہانی لگا رکھی؟" تیمور نے بوکھلا کر کہا۔ قدسیہ کی فاتحانہ مسکراہٹ دیکھ کر وہ چڑ کر بولا، "اب کسی سوال کا جواب نہیں دوں گا۔" "ٹھیک، پھر میں چلتی ہوں،" قدسیہ نے کہا۔ "رکو!" تیمور نے خوفزدہ ہو کر کہا۔ "بولو!" "مجھ پر شک کیسے ہوا؟" قدسیہ نے جواب دینے کی بجائے پوچھا، "پاکستان میں کتنی شادیاں کیں؟" "سات،" تیمور نے فوراً کہا۔ "بچے کتنے ہیں؟" "نو... نہیں، دس! پتہ نہیں کتنے ہیں!" "مطلب؟" قدسیہ نے زور دیا۔ تیمور ماضی میں کھو گیا۔ "کبھی بچوں کے بارے میں سوچا؟" قدسیہ کے سوال پر تیمور کا خوف ختم ہو گیا، وہ اعتماد سے بولا، "میرے بچوں کے بارے میں تم سوچو۔ وہ پاکستانی ہیں، مگر ان کی رگوں میں یہودی خون ہے۔ میرے دس بچے حلالی ہیں، حرامیوں کی گنتی نہیں کر سکا۔" قدسیہ کرسی سے اٹھ گئی۔ "میرے سوال کا جواب دے!" تیمور نے فاتحانہ کہا۔ "جواب!" قدسیہ نے نظریں ملاتے ہوئے کہا۔ "سمجھا نہیں،" تیمور نے لاعلمی ظاہر کی۔ قدسیہ میز پر ہاتھ رکھ کر قریب آئی، "تمہارے پاس پاکستان سے متعلق ہر سوال کا جواب تھا۔" تیمور نے آنکھیں بند کیں، زور سے قہقہہ لگایا، "تم پاکستانی ڈرو اس وقت سے جب میرے بچے اس ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔" قدسیہ نے ہلکا قہقہہ لگایا، "تیمور صاحب! میں آہٹ ہوں، دھماکہ ابھی باقی ہے۔" اس نے شیشے کی طرف دیکھ کر کہا، "سر، اسے دھماکے والوں کا ٹریلر دکھائیں۔" ایل سی ڈی پر ڈھائی منٹ کا خاموش ٹریلر دیکھ کر تیمور کی کرسی کے نیچے فرش گیلا ہو گیا۔ قدسیہ نے فرش دیکھا اور چل دی۔ دروازے پر پہنچتے ہی دروازہ کھلا۔ وہ پلٹی، معنی خیز انداز میں بولی، "پتہ ہے تم نے پاکستان میں پینتیس سال کیوں نکالے؟ کیونکہ تم نے مذہبی چولا پہنا تھا۔ تم نے خود کہا تھا، مذہبی چولا پہننے والوں سے برہنہ رنڈی بہتر ہے۔" تیمور کا رنگ فق ہو گیا۔ قدسیہ نے تفاخر سے کہا، "اب ’مارخور‘ کے جانثار آئیں گے، اور مجھے فخر ہے کہ میں ان کی ساتھی ہوں۔"

"میں نے کتنی بار کہا، میں بچہ پیدا نہیں کروں گی،" عزت نے فخر کے برابر کھڑے ہو کر کہا۔ "میں نے کبھی بچوں کی بات کی؟" فخر نے دھیمے لہجے میں پوچھا। "تمہاری امی تو کرتی ہیں، آج ان کا فون آیا، کہنے لگیں، ’فخر ہمارا اکلوتا بیٹا ہے، ہم چاہتے ہیں اس کے ڈھیر سارے بچے ہوں۔ گاؤں میں ایک لڑکی دیکھی ہے، وہ ہمارے پاس رہے گی۔ فخر کو دوسری شادی کی اجازت دے دو، بیٹی،‘" عزت نے بتایا۔ "تو اجازت دے دو!" فخر نے مذاق میں کہا۔ "وہی جاگیردارانہ سوچ، شادی پر شادی! ایک شادی سے تم مردوں کا پیٹ نہیں بھرتا۔ چار پیسے آئیں تو تین چار شادیاں کر لیتے ہو،" عزت نے طنزیہ کہا۔

👇👇

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے