سات افراد سمیت گاڑی ڈوب گئی

breaking news

ملتان کے چھوٹے سے علاقے ڈھوک موسی میں، منگل کی صبح جب آسمان پر ابھی ہلکی سی سرخی بھی نہ پھیلي تھی اور فجر کی اذان میں کچھ منٹ باقی تھے، اچانک سڑک کے کنارے گہری کھائی میں پانی کے تیز بہاؤ میں ایک سفید رنگ کی انووا گاڑی پھنس گئی۔ گاڑی میں سات مسافر سوار تھے؛ تین مرد، دو خواتین اور دو چھوٹے بچے۔ رات بھر کی بارش نے کھائی کو ندی بنا دیا تھا اور گاڑی تیزی سے ڈوب رہی تھی۔ پانی گاڑی کی کھڑکیوں تک پہنچ چکا تھا اور اندر موجود لوگ چیخ چیخ کر مدد مانگ رہے تھے، مگر اندھیرا اور دور دراز کا علاقہ ہونے کی وجہ سے سڑک پر کوئی نہ تھا۔

گاؤں کی چھوٹی سی مسجد، جو سڑک سے محض دو سو میٹر کے فاصلے پر تھی، اس وقت بالکل خاموش تھی۔ موذن صاحب، جن کا نام حافظ عبدالرحمٰن تھا، سحری کھا کر وضو کرنے کے بعد مسجد میں داخل ہی ہوئے تھے کہ ان کے کانوں میں مدد کی آہ و پکار پہنچی۔ پہلے تو انہیں لگا کہ شاید کوئی خواب میں چیخ رہا ہے، مگر جب دوسری بار چیخیں بلند ہوئیں تو وہ دوڑتے ہوئے مسجد کی چھت پر چڑھ گئے۔ اندھیرے میں انہیں صرف پانی کی چمک اور گاڑی کا سر نظر آیا جو اب آدھا ڈوب چکا تھا۔

ایک لمحے کو تو حافظ صاحب کے پاؤں لڑکھڑا گئے۔ ان کے ذہن میں آیا کہ اکیلے کیا کر سکتے ہیں؟ مگر اگلی ہی لحظہ انہوں نے وہ کام کیا جو شاید ہی کوئی اور سوچ پاتا۔ وہ تیزی سے نیچے اترے، مینار پر چڑھے، لاؤڈ اسپیکر کا مائیک ہاتھ میں لیا اور فجر کی اذان سے کچھ منٹ پہلے ہی پورے گاؤں کو جگا دیا۔ ان کی آواز میں خوف بھی تھا اور عجلت بھی:

”اے گاؤں والو! جاگو! اللہ کے لیے جاگو! مسجد کے سامنے والی کھائی میں ایک گاڑی ڈوب رہی ہے، اس میں لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔ بچے چیخ رہے ہیں، عورتیں رو رہی ہیں۔ جو بھی سن رہا ہے، فوراً رسی، بانس، ٹارچ، کچھ بھی لے کر دوڑو! اللہ تمہیں جزائے خیر دے، جلدی کرو!“

یہ اعلان اتنا پرجوش اور خوفناک تھا کہ گاؤں کے کتے بھی بھونکنے لگے۔ چند سیکنڈوں میں ہی گھروں کے دروازے کھلنے کی آوازیں آنے لگیں۔ کوئی لنگی باندھے، کوئی کمبل اوڑھے، کوئی ننگے پاؤں ہی دوڑتا ہوا نکلا۔ ایک بزرگ نے تو سجدے کی حالت میں ہی سر اٹھایا اور پوچھا ”کیا ہوا؟“ بیوی نے جواب دیا ”گاڑی ڈوب رہی ہے، چلو!“

پانچ منٹ کے اندر اندر پچاس سے زائد افراد موقع پر جمع ہو گئے۔ کوئی رسیاں لایا، کوئی بانس، کوئی لوہے کی راڈ، کوئی ٹریکٹر کی چین۔ نوجوان لڑکوں نے پانی میں چھلانگ لگا دی۔ پانی ٹخنوں سے اوپر تھا اور تیز بہاؤ کی وجہ سے کھڑا ہونا مشکل تھا، مگر سب نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما اور انسانی زنجیر بنا لی۔

گاڑی کا دروازہ پانی کے دباؤ سے نہیں کھل رہا تھا۔ ایک لڑکے نے بانس سے شیشہ توڑا، دوسرے نے بچے کو کھینچ کر باہر نکالا۔ ایک خاتون بے ہوش ہو چکی تھیں، انہیں کندھے پر اٹھا کر کنارے پر لایا گیا۔ آخری شخص، جو ڈرائیور تھا، گاڑی کے ساتھ ہی پانی میں دھنس رہا تھا۔ اس کے پاؤں سیٹ سے پھنس گئے تھے۔ تین نوجوانوں نے مل کر گاڑی کو دھکیلی، پانی کے دباؤ کو کم کیا اور اسے بھی باہر نکال لیا۔

جب ساتوں افراد کو زندہ بچا لیا گیا تو سورج کی پہلی کرن ابھی ابھی نکل رہی تھی۔ گاؤں والوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا، کئی تو رو پڑے۔ بچائی گئی خاتون نے حافظ صاحب کے پاؤں پکڑ لیے اور بولیں ”آپ نے ہمیں دوسری زندگی دی ہے۔“ ایک بچے نے موذن صاحب کو ”بابا“ کہہ کر گلے لگا لیا۔

بعد میں پتہ چلا کہ گاڑی میں سوار لوگ گوہاٹی سے تیزپور جا رہے تھے، رات کی بارش میں سڑک نہ دیکھ سکی اور کھائی میں جا گری۔ اگر حافظ عبدالرحمٰن نے وہ بروقت اعلان نہ کیا ہوتا تو شاید دس منٹ بعد ہی گاڑی مکمل طور پر ڈوب چکی ہوتی اور کوئی زندہ نہ بچتا۔

مقامی تھانے کے ایس ایچ او خود موقع پر آئے اور حافظ صاحب کے ہاتھ چوم کر بولے ”آج آپ نے پوری انسانیت  ا نام روشن کیا ہے۔ یہ مائیک صرف اذان کے لیے نہیں، جان بچانے کے لیے بھی ہوتا ہے۔“
گاؤں والوں نے اسی دن فیصلہ کیا کہ مسجد کے مینار پر ایک تختی لگائی جائے گی جس پر لکھا ہو گا:

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے