دیوتا - پارٹ 3


میں تھکن سے چور تھا۔ میرا خیال تھا کہ میں فوراً سو جاؤں گا لیکن بیڈ پر لیٹتے ہی مجھے سامی یاد آ گئی ۔ یہاں اس کمرے میں ابھی تک اس کی خوشبو باقی تھی ۔ اسی خوابگاہ میں میں نے اس کا نرم و نازک ہاتھ تھام کر بوسہ دیا تھا ۔ اور آج وہ مجھ سے میلوں دور تھی ۔ میں کروٹ لے کر اس کے ذہن میں جھانکنے لگا ۔ رات کا وقت تھا ۔ سامی کے اطراف خاموشی اور تنہائی تھی۔میری سوچ کی لہروں نے اسے پکارا
" سامی ! میں فرہاد ہوں "
اس کے دماغ نے بتایا کہ وہ یکبارگی اچھل کر بیٹھ گئ ہے ۔ پھر وہ بےاختیار مجھے پکارنے لگی ۔
فرہاد ۔۔۔ فرہاد ۔۔۔۔ تم کتنے کٹھور ہو ۔ کتنے سنگدل ہو ۔ میں اب تک تمہیں ہزاروں بار تمہیں اپنی سوچ میں پکار چکی ہوں مگر تم نے پانچ منٹ کے لیے بھی مجھ سے رابطہ نہیں کیا ۔"
" میں مجبور تھا ۔ مجھے انٹیلیجنس نے اس رات مجھے تمہیں فرار کرانے کے الزام میں حراست میں لے لیا تھا ۔ میں اب تک انہیں الزامات میں الجھا ہوا تھا ۔ اب سے کچھ دیر پہلے ہی سب الزامات سے بری ہوگیا ہوں ۔ تم بتاؤ کس حال میں ہو ؟" میں نے باقی سب تفصیلات مصلحتاً چھپا لی تھیں ۔
اس کا جواب سنائ دیا" ابھی تک خیریت ہے ۔ مجھے اسی کمرے میں رکھا گیا ہے جہاں پہلے چھمیا کو قید کیا گیا تھا ۔ یہ لوگ مجھے سلمیٰ قادر عرف چھمیا سمجھ رہے ہیں اور مجھ سے اس بلی کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں ۔ میں اب تک ایک ہی جواب پر قائم ہوں کہ میں بھوانی شنکر کے ساتھ تھی ۔ بلی کے بارے میں کچھ نہیں جانتی ۔ بھوانی شنکر ہی بتا سکتا ہے کہ بلی کہاں ہے ۔ میں نے ان سے کہا کہ ہم انٹیلیجنس کی نظروں میں آ گئے تھے ۔ ایک بار ان سے زبردست ٹکراؤ ہوا تو ہم سب منتشر ہو گئے ۔ جسے بھاگنے کے لیے جو راستہ ملا وہ اسی راستے پر چل نکلا ۔ میں بھی وہاں سے بھاگ کر لاہور چلی گئ ۔ اور وہاں ایک نوجوان سے دوستی کر لی ۔
میری اس داستان پر ابھی تک کسی آفیسر نے تنقید نہیں کی ہے۔ مجھے یہاں تک لانے والا ایک گونگا اور ایک پائلٹ تھا ۔ وہ بھی نہیں جانتے کہ پنڈی میں ہم پر کیا گزری ۔ اس لیے اب یہاں بھوانی شنکر کا انتظار کیا جا رہا ہے ۔ ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ احمد شیخ اور بھوانی شنکر اپنے ساتھیوں سمیت آج رات یہاں پہنچیں گے ۔ تب تک میں یہاں قید ہوں لیکن وہ کرنل مجھے ہر بار للچای ہوئ نظروں سے دیکھتا ہے ۔
تم بے فکر رہو بھوانی شنکر اور شیخ کبھی ادھر نہیں پہنچ سکیں گے ۔ وہ اب ہماری قید میں ہیں ۔ تم کرنل پر نظر رکھو جونہی وہ کوئ گڑ بڑ کرے مجھے بتا دینا ۔ میں تم سے رابطے میں رہوں گا ۔
اچانک وہ بات کرتے ہوئے چپ ہو گئ ۔ کیا ہوا سامی ؟ میں نے محسوس کیا وہ سہم گئ ہے
کیا بات ہے تم خاموش کیوں ہو گئ ہو ؟
ہاں وہ کرنل دروازا کھول کر میرے کمرے میں آ گیا ہے ۔ یہ پہلے بھی مجھے ہوس بھری نظروں سے دیکھتا رہتا ہے ۔ فرہاد اس وقت اس کے تیور اچھے نہیں لگ رہے ۔ یہ جسم تمہاری امانت ہے ۔ مجھے بتاؤ میں اس کی حفاظت کیسے کروں "
میں نے اس کی سوچ میں کہا" تم گھبراؤ نہیں ۔ اس سے بات کرو تا کہ میں اس کے لب و لہجے کو سمجھ لوں "
وہ سہمے ہوئے انداز میں کہنے لگی آپ اتنی رات کو میرے کمرے میں کیوں آئے ہیں۔
کرنل کے ہسنے کی آواز آئ" تم اتنی بھولی نہیں ہو کہ سمجھ نہ سکو "
ہوں میں سمجھ گئی ۔ تمہارے من میں پاپ ہے ۔ تم میری عزت کے دشمن بن کر آئے ہو ۔ تم نے ماتھے پر تلک لگا رکھا ہے ۔ ہاں یاد آیا آج گنیش پوجا ہے ۔ تم پوجا کر کے سیدھے پاپ کرنے آ گئے ہو چھی چھی ۔۔۔۔
" بکواس مت کرو " کرنل نے جھینپ کر کہا ۔ میں اسی وقت اس کے دماغ میں پہنچ گیا ۔ وہ واقعی اس بات پر جھینپ گیا تھا کہ پوجا کر کے پاپ کر رہا تھا ۔
انسان کے دماغ میں پاپ کا پلڑا ہمیشہ بھاری ہوتا ہے خاص طور پر جب سامی جیسی حسین لڑکی سامنے ہو ۔ اس کے دماغ نے کہا یہ پوجا کی جگہ نہیں ہے یہ پاپ کی جگہ ہے۔ پوجا کا وقت ختم ہو چکا ہے ۔
وہ سامی کی طرف بڑھنے لگا ۔
سامی نے چیخ کر کہا " خبردار مجھے ہاتھ مت لگانا ورنہ میں جان دے دوں گی"
میں جانتا تھا سامی کا آخری حربہ یہی ہے اور کرنل اپنی نیچ حرکت سے باز نہیں آئے گا ۔
اس کی سوچ میں شیطان حاوی ہو رہا تھا ۔ اس نے سامی کا بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا ۔ سامی پورا زور لگا کر اپنا بازو چھڑانے لگی ۔
میں نے کرنل کی سوچ میں للکار کر کیا " ہے شیو شنکر ۔۔۔ ہے بھولے ناتھ ۔۔ ہے پاروتی تیرے لاڈلے گنیش کا ایک سپوت پاپ گندگی میں گر رہا ہے اس مورکھ کو بچا لے "
وہ ایکدم سامی کا ہاتھ چھوڑ کر پیچھے ہٹ گیا ۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام لیا اور سوچنے لگا یہ کیسی آواز تھی ۔
میں نے اس کی سوچ میں کہا یہ تیرے اچھے کرم کی آواز تھی اگر تو اب بھی باز نہ آیا تو یہ چھوکری مر جائے گی ۔ تو اس کے شریر کو ہاتھ نہیں لگا سکے گا "
وہ کسی حد تک قائل ہو گیا لیکن اس کے دماغ میں شیطانیت اتنی طاقتور تھی کہ دوسرے پل وہ پھر بہک رہا تھا ۔
میں نے سامی سے کہا جونہی یہ تمہارے پاس آ کر تمہیں چھوئے تم اپنا جسم چھوڑ مردہ بن جانا ۔ تم یہ بتاؤ تم کتنی دیر اپنے جسم سے الگ رہ سکتی ہو ؟
وہ بولی یہ میری قوت برداشت پر ہے میں زیادہ سے زیادہ ایک منٹ تک اپنے جسم سے علیحدہ رہ سکتی ہوں ۔
تمہارے مردہ بن جانے پر جب وہ رام نام جپنے لگے تم اپنے جسم میں واپس آ جانا۔
اس دوران کرنل نے سامی کو پکڑ لیا وہ میرے مشورے کے مطابق فوراً مردہ بن گئ۔
کرنل نے اسے سنبھال کر فرش پر لٹایا" ارے یہ تو سچ مچ مر گئ"
میں نے اس کی سوچ میں کہا " ابھی تمہیں سمجھایا تھا کہ تم اسے چھو نہ سکو گے اس پاپ سے باز آ جاؤ لیکن تم نے پاپ کی ٹھان لی "
وہ سامی کی نبض چیک کرنے لگا ۔ میں نے اپنی رسٹ واچ پر دیکھا تیس سیکنڈ گزر چکے تھے ۔ اب اس کے شیطان کو دھرم کی طرف موڑنا تھا۔ میں نے اس کی سوچ میں کہا
اگر تو ایمان دھرم کی سچائ کو آزمانا چاہتا ہے تو رام نام جپنا شروع کر دے ۔ یہ ابھی زندہ ہو جائے گی ۔ چل دیر نہ کر ۔۔۔
وہ سامی کے مردہ جسم کے سامنے بیٹھ کر بلند آواز میں کہنے لگا ۔۔ ۔۔۔۔ ہرے رام۔۔۔ ہرے کرشنا ۔۔۔۔ ہرے رام۔۔۔۔۔
چند سیکنڈز کے بعد سامی نے آنکھیں کھول دیں ۔ وہ زور زور سے جاپ کرنے لگا ۔
سامی اٹھ کر بیٹھ گئی ۔ کرنل اسے دیکھ رہا تھا اور رام نام جپ رہا تھا ۔ ساتھ ہی سامی کے بھرپور جوان حسین جسم کو دیکھتا جا رہا تھا ۔ ہر دھرم ہر مذہب کے لوگوں کی یہ فطرت ہوتی ہے کہ زبان پر اللّٰہ کا نام یا رام کا نام ہوتا ہے اور ٹھیک اسی وقت دماغ کی سکرین پر بلیو فلم چلتی رہتی ہے ۔ سچائ بہت کڑوی ہوتی ہے مگر میں کیا کروں میں سوچ نگر کا شہزادہ ہوں ۔ ہر انسان کے اندر سے دیکھتا ہوں اور ان کی اچھی اور بری سوچوں کا تماشا دیکھتا ہوں ۔
میں اس کی دوغلی حرکتیں دیکھ رہا تھا ۔ رام نام جپتے وقت اس کے اندر کے شیطان نے کہا اتنی سندر چھوکری جوانی کا بازار سجائے بیٹھی ہے اور تو سادھوبنا جاپ کر رہا ہے۔ مجھے ذرا عقل سے کام لینا چاہیے ۔ یہ مری نہیں ہوگی شاید گھبرا گئ تھی ۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک چھوکری پٹ سے مرے اور پٹ سے زندہ ہو جائے ۔ مجھے ایک بار پھر سے کوشش کرنی چاہیے ۔
میں نے سامی کی سوچ میں کہا اگر یہ پھر تمہیں ہاتھ لگائے تو تم دوبارا مردہ بن جاؤ اس طرح اس کا دھرم مضبوط ہو جائے گا اور پھر یہ کبھی بھی تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا ۔
وہ جونہی سامی کی طرف لپکا سامی پھر سے مردہ بن گئ۔ اس کے دیدے پھیل گئے نبض تھم گئ ۔ اس بار کرنل کو میری نصیحت کی ضرورت نہیں پڑی وہ زور زور سے جاپ کرنے لگا۔
سامی نے ٹھیک چالیس سیکنڈ کے بعد آنکھیں کھول دیں تو وہ اور لہک لہک کر پڑھنے لگا ۔
میں نے اس کی سوچ میں کہا مورکھ تو نے کنواری کنیا کو چھونے کا پاپ کیا ہے ۔ تجھے اس پاپ کاپراشچس کرنا ہوگا اب کی بار تو نے ہاتھ لگایا تو تو مر جائے گا ۔
ذرا دیر کے بعد وہ رام نام جپتا ہوا کمرے سے نکل گیا ۔ میں نے سامی سے کہا تم اب بےفکر ہو جاؤ کرنل اور اس کے حواری تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے ۔
سامی سے بات کرتے ہوئے مجھے کچھ خطرے کا احساس ہوا ۔ میں نے سامی کو بتایا کہ شاید کوئ گڑ بڑ ہےتم اپنا خیال رکھنا ۔ اب میں تم سے رابطہ توڑ رہا ہوں ۔ میں نے آنکھیں کھول کر دروازے کی طرف دیکھا باہر سے کوئ دھکے مار مار کر دروازا توڑ رہا تھا ۔ دروازا بہت مضبوط لکڑی سے بنا تھا اور اندر سے لاکڈ تھا ۔ دروازا توڑنے والا نہایت چالاکی سے دروازے کے قبضوں پر ضربیں لگا رہا تھا ۔
کون ہے ؟
میں نے بلند آواز سے پوچھا
اتنے میں دروازے کے سارے قبضے ایکدم کھل گئے اور ایک دیوہیکل آدمی اچھل کر کمرے میں آ گیا ۔ وہ سر سے پاؤں تک سیاہ لباس میں تھا ۔ اس کے پورے چہرے پر نقاب تھا ۔ حتی کہ اس کی آنکھیں بھی ٹھیک سے دکھائی نہیں دے رہی تھیں۔ میں اس کی سوچ نہیں پڑھ سکتا تھا کیونکہ ابھی تک اس نے ایک لفظ نہیں بولا تھا ۔ اس وقت میری خیال خوانی کی صلاحیتیں بےکار ہوگئ تھیں ۔ وہ کمر پر ہاتھ رکھے میرے سامنے کھڑا مجھے للکار رہا تھا ۔
وہ کتنا طاقتور تھا یہ ٹوٹا ہوا دروازا بتا رہا تھا ۔
میرے ذہن میں ایکدم جھماکہ ہوا
شیتل ۔۔۔۔دا بلیک گائیڈ
اس کا سراپا بلیک گائیڈ کی تفسیر پیش کر رہا تھا ۔ میں نے محض اندازہ کیا کہ وہ شیتل دا بلیک گائیڈ ہو سکتا ہے لیکن میرا اندازہ درست ثابت ہوا ۔ کاش میں اس کے خیالات پڑھ سکتا ۔ آنکھوں کی جگہ نقاب میں دو سوراخ تھے ۔ باقی چہرہ نقاب میں چھپا ہوا تھا اس نے ایک بار بھی میری آنکھوں میں نہیں دیکھا تھا اب صرف ایک ہی صورت تھی کہ میں نے اسے للکار کر کہا
کون ہو تم ؟
جواب میں اس نے کچھ بولنے کی بجائے اچانک میری ٹھوڑی پر ایک گھونسا رسید کیا ۔ میں لڑکھڑا کر پیچھے گر گیا ۔ وہ ایک ذبردست گھونسہ تھا میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا ۔ میں فوراً ہی اٹھ نہ سکا اس کے آہنی ہاتھوں نے مجھے پیچھے سے پکڑ کر اوپر اٹھا لیا ۔ میں کوئ ہلکا پھلکا کھلونہ نہیں تھا میرا وزن دو من پندرہ سیر تھا ۔ اس نے مجھ جیسے وزنی آدمی کو اٹھا کر آہنی الماری پر پھینک دیا الماری پر قد آدم آئینہ لگا ہوا تھا میں اس سے ٹکرایا تو آئینہ چکنا چور ہو گیا ۔ میری کمر اور سر میں شیشے کے کئ ٹکڑے چبھ گئے تھے ۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے ۔ میں زمین پر شیشوں کے اوپر چت پڑا ہوا تھا وہ دوبارا میری طرف بڑھا تو میں نے اسے پوری قوت سے لات ماری۔ مجھے لگا جیسے میں نے لوہے کے بدن کو لات ماری ہے ۔ وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔ اس نے میری بائیں ٹانگ پکڑ کر مجھے ہوا میں اچھال دیا میں بیڈ کے گدے پر آیا پھر لڑھکتا ہوا فرش پر گر گیا ۔ وہ عین میرے سر پر اس طرح کھڑا تھا کہ میری آنکھیں اس کے نقاب میں موجود سوراخوں سے ٹکرائیں ۔ میں نے ساری ہمت جمع کر کے اپنے دماغ کو کلئیر کیا اور اپنی شعلہ بار نگاہیں اس کی آنکھوں میں گاڑ دیں ۔
"کون ہو تم وہیں رک جاؤ"
میں نے للکار کر اس کی سوچ میں کہا
وہ ایک لمحے کے لیے جھٹکا کھا کر پیچھے ہٹا پھر مجھے گریبان سے پکڑ کر سیدھا کر دیا
میری حیرانی کی انتہا نہ رہی جب میں نے دیکھا کہ میری ٹیلی پیتھی کا اس پر کوئی اثر نہ ہوا تھا ۔ مجھے سوچنے کا مزید موقع نہ ملا اس نے مجھ پر چوتھا حملہ کیا ۔ وہ میرے سر پر دونوں ہاتھوں سے ضرب لگانا چاہتا تھا ۔ میں نے اس کے دونوں ہاتھ پکڑ لیے لیکن وہ ہاتھ اتنے وزنی تھے کہ میں زیادہ دیر ان کا بوجھ برداشت نہ کر پایا اور پیچھے کی طرف الٹ گیا ۔ میرا خیال تھا کہ میں پیچھے ہٹ کر اس کے پیٹ میں ٹکر ماروں گا لیکن وہ بجلی کی سی پھرتی سے پیچھے ہٹ گیا میں اپنے ہی زور پر سیدھا جا کر دروازے سے لگا ۔ میرا آدھا جسم دروازے کے باہر اور آدھا اندر تھا اس نے پیچھے سے اپنے ہاتھوں کے شکنجے سے میری گردن دبوچ لی ۔ اس کے سارے جسم کا بوجھ مجھ پر تھا ۔ میں تکلیف سے تڑپنے لگا ۔ وہ پورا زور لگا کر میری گردن دبا رہا تھا ۔ مجھے تسلیم کرنا پڑا کہ وہ جناتی قوت کا مالک تھا ۔میں اندر سے ٹوٹنے لگا ۔ اب بچاؤ کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی تھی ۔ میں نے دھندلائ ہوئ آنکھوں سے سامنے دیکھا وہ ریوالور ہاتھ میں تھامے سامنے سے آ رہی تھی ۔ میں نے آنکھیں میچ کر دوبارا دیکھا وہ زرینہ تھی ۔ اس کے ہاتھ میں ریوالور تھا اور وہ کانپتی ہوئی ڈولتی ہوئ ریوالور تھامے آگے بڑھ رہی تھی ۔
میں نے اسے گولی چلانے سے منع کرنے کے لیے آواز دی لیکن میری آواز گلے میں گھٹ کر رہ گئ ۔ میں دو طرفہ مصیبت میں پھنس گیا تھا ۔ مجھے پتا تھا زرینہ کا نشانہ کیسا ہوگا ۔ وہ کانپتے ہاتھوں سے مجھے ہی مار ڈالے گی ۔
میں نے اس کے دماغ میں کہا چھت پر فائر کرو ۔ میری بات مان کر اس نے اندھا دھند چھت پر فائرنگ شروع کر دی ۔ نقاب پوش نے انًافانًا مجھے زرینہ پر اچھال دیا ۔ میں نے ایک سیکنڈ ضائع کیے بغیر ریولوار زرینہ کے ہاتھ سے لے کر اس کی طرف فائر کھول دیا ۔ لیکن اس سے ایک لمحہ پہلے وہ کسی غوطہ خور کی طرح ہوا میں تیرتے ہوئے کھڑکی سے باہر کود گیا ۔
میں بری طرح زخمی تھا ۔ اس کا پیچھا کرنے کے لیے جتنی جلدی اٹھنا چاہیے تھا اتنی تیزی سے اٹھ نہیں سکا ۔ میرا سر بری طرح چکرا رہا تھا ۔ میں آج سے پہلے کسی دشمن کے سامنے اتنا بےبس نہیں ہوا تھا ۔ زرینہ بھاگتی ہوئی میرے پاس آئ ۔ میں نے اسے شہباز کا نمبر لکھوا کر اسے ساری صورتحال بتانے کا کہا ۔
مجھے ایکدم شدید تھکن نے آ گھیرا ۔ میری آنکھیں بند ہو رہی تھیں ۔ میں نے سوچا شاید مجھے نیند آ رہی ہے لیکن میں بےہوش ہو چکا تھا ۔
جب مجھے ہوش آیا تو میں ہسپتال کے ایک کمرے میں پڑا ہوا تھا ۔ ایک ڈاکٹر میرے پاس کھڑا میرے جسم کے مختلف ایکسرے فوٹو لینے کی بات کر رہا تھا ۔ میرے بستر کے آس پاس ڈائریکٹر جنرل شبیر حسن ، شہباز خان اور دوسرے آفیسرز کھڑے تھے ۔
مجھے آنکھیں کھولتے دیکھ کر ڈائریکٹر جنرل نے شفقت سے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور تسلی دیتے ہوئے کہا " اب گھبرانے کی کوئی بات نہیں تم پولیس ہسپتال میں ہو یہاں چاروں طرف سخت پہرا ہے۔ تمہاری اجازت کے بغیر پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا ہے ۔ تم یہ بتاؤ کہ کیا تم بیان دینے کے قابل ہو ؟
میں نے نقاہت سے کہا جی میں آپ کو ابھی پورا واقعہ سنا سکتا ہوں "
لیکن ڈاکٹر نے فوراً مداخلت کرتے ہوئے کہا" ابھی انہیں آرام کرنے دیجئے ۔ یہ شام تک بہتر ہو
جائیں گے تو پھر آپ ان سے بات کر سکتے ہیں "
اس وقت ان سے بات کرنے سے ان کے سر کی چوٹ بڑھنے کا خدشہ ہے
میں نے ڈاکٹر کی ساری بات سن کر آنکھیں بند کر لیں کیونکہ اتنی سی دیر میں مجھ پر پھر سے تھکن غالب آ رہی تھی ۔
رات آٹھ بجے اچانک میری آنکھ کھل گئی ۔ پتا نہیں یہ حسن تقدیر ہے یا حسن اتفاق کہ
جہاں حسین اور خطرناک عورتیں ہوتی ہیں وہاں میری چھٹی حس مجھے چونکا دیتی ہے ۔ میری کھلی آنکھوں کے سامنے دودھیا لباس میں ایک خوبصورت دودھیا پری مجسم ہو کر نرس کے روپ میں کھڑی تھی ۔ وہ واقعی اپسرا تھی یا بیماری کی حالت میں مجھے ہی اتنی خوبصورت لگی تھی ۔ کیونکہ تپتی دھوپ میں کسی صحرا سے گـزر کر آئیں تو کھجور کا سایہ بھی مل جانے پر وہ خیالی جنت سے زیادہ حسین محسوس ہوتا ہے ۔
مجھے اس کی آنکھوں میں دکھ کی گہری لکیر محسوس ہوئ
مجھے جاگتے دیکھ کر وہ مسکرائ ہم کچھ دیر ایک دوسرے کو دیکھتے رہے پھر وہ جلدی سے میرے قریب آ گئ "آپ جاگ گئے ہیں . ٹھہریۓ میں ڈاکٹر کو انفارم کر کے آتی ہوں ۔ میں نے اسے جانے دیا کیونکہ میں اس کے یہاں سے جانے کے بعد بھی اس کے دماغ میں موجود تھا ۔ کچھ عرصے سے میرا معمول ہو گیا تھا کہ شروع میں اپنے آس پاس لوگوں کی سوچ پڑھتا تھا ۔وہ اپنے آپ سے کہہ رہی تھی پتا نہیں میرا پپو ، میرا بچہ کس حال میں ہوگا ۔ ظالموں نے اسے قید کر رکھا ہے ۔ میں کیسے اسے چھڑا کر لاؤں کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہے ۔
وہ سوچتے سوچتے رک گئ ۔ پھر اپنے ماتھے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی مجھے جانے کیا ہو گیا ہے بیڈ نمبر دس کے مریض کو درد کا انجیکشن دینا تھا ۔ وہ کوریڈور سے مڑ کر واپس میرے کمرے کی طرف آنے لگی تو سامنے آتی ایک نرس نے اس کا راستہ روک لیا ۔ میں نے اس سے رابطہ کاٹ کر کمرے میں دیکھا ۔ میرے دائیں جانب دیوار پر ایک درمیانے سائز کی کھڑکی تھی جس پر نیلے رنگ کے پردے لگے ہوئے تھے ۔ میں نے اٹھنے کی کوشش کی تو بےاختیار کراہ نکل گئ ۔ اسی لمحے وہ نرس دوائیوں کی ٹرے اٹھائے کمرے میں داخل ہوئ ۔ مجھے اٹھتے دیکھ کر بھاگتی ہوئی میرے پاس آئ اور بولی " سر پلیز ۔ اٹھیں نہیں آپ لیٹے رہیں ہلیں بھی مت ابھی آپ کے زخم کچے ہیں کھل جائیں گے ۔ "
میں نے مسکراتے ہوئے کہا " میں اتنا نازک مزاج نہیں ہوں فکر نہ کرو ۔ تم بتاؤ اتنی پریشان کیوں ہو ؟ "
" میں ؟ نہیں تو ایسی کوئی بات نہیں ہے "
تمہارا نام کیا ہے ؟
"سسٹر"سب مجھے سسٹر کہتے ہیں ۔ وہ ذرا سا مسکرائ تو اس کے دودھیا دانت روشنی دینے لگے
" سسٹر تو سب کہتے ہیں لیکن تمہاری طرح خوبصورت سا ایک نام بھی ہوگا "
میرا نام فرزانہ ہے
فرزانہ مجھے لگتا ہے کہ تمہیں گہرا دکھ پہنچا ہے ۔ جیسے کوئ تمہارا گھر اجاڑ گیا ہو ؟ تم مجھ سے کہہ کر دل کا بوجھ ہلکا کر سکتی ہو ۔ میں نے اس کی اداس آنکھوں میں دیکھا
اس نے نظریں جھکا لیں اور سرنج میں دوائ بھرنے لگی ۔
وہ سوچ رہی تھی میری تو کوکھ ہی اجڑ گئ ہے ۔ پتا نہیں کون نامراد ہے جو میرے بچے کو چھین کر لے گیا ہے ۔
اس کی چپ توڑنے کے لیے میں نے کہا "مجھے معلوم ہے کہ تمہارا بچہ چھن گیا ہے "
وہ انجیکشن ہاتھ میں پکڑے حیران سی کھڑی رہ گئ
آ ۔۔۔ آپ کو کیسے معلوم ہوا ؟
کیا آپ نجومی ہیں ؟
میں تھوڑا بہت علم جانتا ہوں ۔ میں تمہارے ہاتھ سے اندازہ لگا سکتا ہوں کہ تمہارا بچہ اس وقت کہاں ہے ؟
وہ سب کچھ چھوڑ کر میرے پاس بستر پر بیٹھ گئ ۔ " سچ کہیے آپ میرے بچے کو ڈھونڈ سکتے ہیں ۔ خدا کے واسطے میری مدد کیجیے " اس نے
اپنی گلابی ہتھیلیاں میرے سامنے پھیلائیں"
وہ گورے گورے گلابی گلابی ہاتھ میری نگاہوں کے سامنے تھے ۔ وہ پوچھ رہی تھی میں کون سا ہاتھ دیکھنا پسند کروں گا ۔ مجھے تو دونوں ہی ہاتھ پسند تھے اور ان ہاتھوں سے دور تک بھی وہ پسند تھی ۔ جی چاہ رہا تھا کہ ایک ہاتھ تھام کر لکیریں دیکھوں اور دوسرا سینے پر رکھ کر دھڑکنوں میں سمو لوں ۔
میں جانتا ہوں مجھے ایک غیر عورت کو اس طرح نہیں دیکھنا چاہیے مگر انسان کی فطرت ہے وہ غیر عورت کے بارے میں زیادہ سوچتا ہے ۔ گھر کی مرغی دال برابر ہی نظر آتی ہے ۔ جس چیز میں ذرا دماغ لڑانا پڑے اور چور دروازوں سے گزرنا پڑے اس میں بےحد کشش ہے ۔
یہ بھی درست ہے کہ ایسی عورت کے بارے میں سوچنا ذلالت ہے جو اپنے بچے کے لیے پریشان ہے۔ مگر سچائ ذرا کڑوی ہے ۔ اول روز سے اس دنیا میں یہی ہوتا آیا ہے کسی کی بہن کی مجبوری سے کسی کی ماں کی ممتا سے لوگ فوری طور پر فائدے حاصل کرتے ہیں ۔ میں نے خیال خوانی سے لوگوں کے دماغ میں بیٹھ کر ایسے ایسے شرمناک خیالات پڑھے ہیں کہ اگر انہیں آشکار کیا جائے تو انسان کا سر شرم سے جھک جائے گا ۔ میں نے ایسے کالے چہرے بھی دیکھے ہیں جو اپنے دوست کی بیٹی کو صدق دل سے بیٹی کہتے ہیں لیکن چور دریچے سے جھانک کر اسی بیٹی کی جوانی کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہیں ۔
میں نے ہر انسان کی سوچ میں جھانک کر دیکھا اور یہی سمجھا کہ ہر انسان اپنے چہرے کے پیچھے ایک اور چہرہ چھپا کر رکھتا ہے ۔ میں نے بھی اس چہرے کے پیچھے ایک دوسرا چہرہ چھپا کر رکھا ہوا ہے جسے میں زیادہ نہیں چھپاتا ۔ کسی جوان اور حسین لڑکی کو دیکھ کر بےنقاب کر دیتا ہوں ۔ اس وقت بھی اس نرس کو دیکھ کر مجھے دو طرح کے خیالات کا سامنا تھا ۔ ایک یہ کہ میرے سامنے ایک مجبور بےبس ماں ہے اور دوسرا یہ کہ سامنے بیٹھی عورت محض حسن کا مجسمہ ہے اسے اسی طرح دیکھنا چاہیے ۔
جلدی سے دیکھ کر بتائیں میرا بچہ کہاں ہے ۔" اس وقت وہ صرف ایک ماں تھی نہ خوبصورت نہ بدصورت اس کے روئیں روئیں میں ممتا بھری ہوئی تھی ۔
میں نے اس کا ہاتھ تھام لیا ۔ اس کا ہاتھ روئ کے گالے کی طرح نرم اور ملائم تھا ۔ میں اس کی ہتھیلی کے درمیان میں انگلیاں پھیرنے لگا جیسے لکیریں پڑھ رہا ہوں لیکن درحقیقت میں اس کی سوچ پڑھ رہا تھا ۔ اس کے ذہن کے مطابق دو دن پہلے آدھی رات کو ایک شخص اس کے کمرے میں داخل ہوا اسے بےبس کر کے اس کا بچہ چھین کر لے گیا ۔ پھر اگلے دن صبح اسے فون پر بتایا گیا کہ اگر اپنے بچے کی خیریت چاہتی ہو تو کمرہ نمبر دو کے مریض تک ہماری پیغام رسانی کرو ۔ کمرہ نمبر دو کا سن کر میں ٹھٹھک گیا ۔ اس کمرے میں بھوانی شنکر کو آپریشن کے بعد رکھا گیا تھا ۔
میں فرزانہ کو اس کی سوچ میں پڑی ساری باتیں بتانے لگا ۔ وہ ششدر بیٹھی سنتی رہی ۔ اس کی آنکھوں میں عقیدت ابھر آئی ۔
میں اس کا ہاتھ تھامے اس کی سوچ پڑھ رہا تھا ساتھ ساتھ اسے بتاتا جا رہا تھا کہ ایکدم کمرہ کھول کر ڈائریکٹر جنرل شبیر حسین اور انسپکٹر شہباز خان اندر آ گئے ۔ فرزانہ گھبرا کر ہاتھ چھڑاتے ہوئے تیزی سے کمرے سے نکل گئ ۔
" کیوں بھئ مجھے تو بتایا گیا تھا کہ تم اٹھ نہیں سکتے یہاں تو عشق کی پینگیں بڑھائ جا رہی ہیں" شبیر حسن نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا ۔
شہباز خان میرے پاس آ کر میرے کندھے پر ہاتھ مار کر بولا " سر میرا یار عشق کے میدان کا ماہر کھلاڑی ہے " شہباز خان سے دوستی اس مقام تک آ چکی تھی کہ ہم دونوں ایک دوسرے کی فطرت کو اچھی طرح جان گئے تھے ۔
میں نے سنجیدگی سے ان کی طرف دیکھتے ہوئے اصل بات بتائ ۔ ڈائریکٹر جنرل تحسین آمیز نظروں سے دیکھتے ہوئے بولے " فرہاد تم اس وطن کا سرمایہ ہو ۔ تمہارے کارناموں نے ہمارے دل جیت لیے ہیں ۔ مجھے حیرت ہے کہ دشمن ہماری ناک کے نیچے کیا کھیل کھیل رہا ہے ۔ ہم ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے ۔ لیکن ایک بات جو میں اس دن سے سوچ رہا ہوں کہ تمہیں فائٹنگ ٹریننگ کی اشد ضرورت ہے ۔ جس طرح کے مہلک دشمنوں سے ہمارا واسطہ ہے تمہیں اس ٹریننگ کی بہت ضرورت ہے "
شہباز خان نے بھی تائید میں سر ہلایا" ہاں کم از کم اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے "
میں نے کہا" آپ دونوں ٹھیک کہہ رہے ہیں مجھے ٹھیک ہو کر ٹریننگ سینٹر جائن کرنا چاہیے فی الحال تو میں اس شخص کے دماغ میں جانا چاہتا ہوں جس نے فرزانہ کے بچے کو اغوا کر رکھا ہے "
میں نے ڈائریکٹر جنرل سے گذارش کی کہ آپ دونوں تھوڑی دیر کے لیے باہر چلے جائیں تاکہ مجھے اور فرزانہ کو کھل کر بات کرنے کا موقع مل سکے ۔
ٹھیک ہے فرہاد تم اپنی طرف سے اچھی طرح تسلی کر لو پھر ہم انہیں گھیرنے کا منصوبہ بناتے ہیں ۔ یہ کہتے ہوئے ڈاریکٹر جنرل کمرے سے نکل گئے ۔ پیچھے پیچھے شہباز بھی نکل گیا ۔
میں کچھ دیر آنکھیں بند کر کے اپنے دماغ کو ایک نقطے پر مرتکز کرنے کی مشق کرتا رہا ۔ تقریباً دس منٹ بعد فرزانہ دوبارا کمرے میں داخل ہوئ ۔ وہ سہمی ہوئی تھی ۔ وہ میرے پاس آ کر رک گئ ۔ میری آنکھیں بند تھیں ۔ وہ تذبذب میں تھی کہ مجھے اٹھائے یا نہیں اتنے میں میں نے آنکھیں کھول دیں ۔ اس کی نظریں میری سلگتی ہوئ آنکھوں سے ٹکرائیں ۔ وہ مجبور لہجے میں بولی " فرہاد مجھے پتا چل چکا ہے کہ آپ کے پاس کوئ خاص علم ہے ۔ آپ میرے بچے کو ڈھونڈ لیں گے ناں "
مجھے اس پر ترس آ گیا ۔ خوبصورتی اور ستائش کہیں بہت پیچھے چلی گئ ۔ وہ اپنے بچے کے لیے مچل رہی تھی اور میں اپنے وطن کے لیے ۔ ہم دونوں کے اندر بےچینی تھی ۔
میں نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور کہا " دیکھو فرزانہ میرے پاس عام سا علم نجوم ہے ۔ میں اس سے مدد لے کر تمہارے بچے کو واپس لانے کی پوری کوشش کروں گا لیکن اگر تم اپنے بیٹے کی سلامتی چاہتی ہو تو مجھے ہر بات سچ سچ بتاؤ ۔ میں پھر ہی اپنے علم سے کوئ مدد کر سکتا ہوں "
اس کی سوچ بتا رہی تھی کہ وہ تعاون پر پوری طرح آمادہ ہے ۔ اتنے دن اپنے بچے کے لیے تڑپنے کے بعد اسے امید کی ایک کرن نظر آئ تھی ۔ وہ آہستہ آہستہ سب بتانے لگی
میں نے پوچھا " کیا تمہیں اس بدمعاش کا حلیہ یاد ہے جو رات کو تمہارے گھر گھس کر تمہارے بچے کو لے گیا تھا"
"ہاں وہ سانولے رنگ کا دبلا پتلا سا آدمی تھا ۔ اس کی ناک لمبی اور چھوٹی چھوٹی آنکھوں میں ذہانت تھی ۔پیشانی آگے کی طرف ابھری ہوئی تھی جیسے چوٹ کھا کر ورم آ گیا ہو ۔ اس نے مجھ سے پوچھا کمرہ نمبر دو کے مریض کے متعلق بتاؤ اسے کیا بیماری ہے ؟
میں جانتا تھا کہ کمرہ نمبر دو میں بھوانی شنکر ہے لیکن نرس کو اس کے بارے میں علم نہیں تھا ۔ وہ اسے محمود حسن کے نام سے جانتی تھی ۔
میں جان گئ تھی کہ وہ کوی خطرناک مجرم ہے ۔ یہاں ہسپتال میں اکثر خطرناک مجرم لائے جاتے ہیں ۔ لیکن اگر میں اسے اس مریض کے بارے میں نہ بتاتی تو وہ میرے بچے کو مار ڈالتا ۔ اس نے کہا جب تک دو نمبر کا مریض صحت یاب نہیں ہوگا وہ میرے بچے کو اپنے پاس رکھے گا اور تب تک میں اس کے لیے پیغام رسانی کا کام کرتی رہوں ۔ مجھے معلوم ہے یہ قانون کے خلاف ہے لیکن دوسری طرف میرا بچہ ہے میں اپنے بچے کو نہیں کھو سکتی تھی فرہاد صاحب اس لیے اس دن سے پیغام رسانی کر رہی ہوں ۔ یہ پیغام کوڈ ورڈز میں ہوتا ہے ۔"
یہ پیغام تم کہاں پہنچاتی ہو ؟
وہ میری ڈیوٹی ختم ہوتے ہی میرے کواٹر میں آ جاتا ہے ۔ میں اسے محمود حسن کا پیغام دے دیتی ہوں ۔ اور اس کا پیغام محمود حسن تک پہنچا دیتی ہوں ۔
میں نے اس سے کہا" اب تم گھر جاؤ گی تو اپنے بچے کی تصویر لے کر آنا " تصویر سے میں معصوم بچے کے دماغ تک پہنچ کر بآسانی پتا لگا سکتا تھا کہ اسے کہاں رکھا گیا ہے ۔
وہ بولی" ابھی میری ڈیوٹی ختم ہونے والی ہے میں کواٹر میں جاؤں گی تو وہ بدمعاش وہاں موجود ہوگا ۔ میں محمود حسن کا پیغام اسے دے دوں گی
میں نے چونک کر پوچھا " تمہارے پاس پیغام ہے ؟
" ہاں میرے پاس پیغام ہے۔ اسنے کچھ جھجھکتے ہوئے رخ موڑ کر اپنے بلاوز کے اندر سے ایک مڑا تڑا چھوٹا سا کاغذ نکال کر میرے سامنے رکھا ۔
میں نے اس کے ظالم لمس سے نظر چراتے ہوئے کاغذ کھولا ۔ یہ عام سا پیپر تھا جس پر آڑی ترچھی لکیریں کھینچی گئ تھیں ۔ میں سمجھ گیا یہ وہی بتا سکتا ہے جس کے لیے یہ پیغام ہے ۔
" تم جاؤ اور اس پیغام کو اس بدمعاش کو دے دو ۔ ایک بات کا دھیان رکھنا ۔ تم اس سے کچھ بات چیت کرنے کی کوشش کرنا ۔"
وہ مجھے احترام اور عقیدت سے دیکھتی ہوئ چلی گئ ۔ میں اس کے دماغ میں موجود تھا ۔ میرے کمرے سے نکل کر وہ ڈیوٹی روم میں گئ ۔ وہاں جا کر کچھ کاغذ دوسری نرس کے حوالے کیے پھر ہسپتال کی پچھلی طرف بنے کواٹرز کی طرف جانے لگی ۔ وہ دل ہی دل میں سخت سہمی ہوئی تھی ۔ جونہی اس نے کوارٹر کا دروازا کھولا اس کی سوچ میں اضطراب بھر گیا ۔ میں سمجھ گیا کہ وہ بدمعاش وہاں موجود ہے ۔ اس کی سوچ نے بتایا کہ وہ بدمعاش پیغام کا مطالبہ کر رہا ہے ۔ اسے یاد آیا کہ میں نے اس سے کہا تھا کہ مجھے کچھ بات چیت کرنی ہے ۔ وہ کہنے لگی" میں تمہارا کام کر رہی ہوں اب تم مجھ پر رحم کرو اور میرے بچے کو میرے پاس لے آؤ میں وعدہ کرتی ہوں کہ میں اسی طرح تمہارے کام آتی رہوں گی "
جواب میں اس نے کہ " تمہارا بچہ ہمارے پاس محفوظ ہے تم ہمارا کام کرتی رہو ۔ ہم آج رات اپنے مریض کو وہاں سے لے جائیں گے "
میرے لیے اتنا لب ولہجہ کافی تھا ۔ میں نے اس شخص کے دماغ میں چھلانگ لگائ ۔ وہ فرزانہ کا لایا ہوا پیغام پڑھ رہا تھا ۔ گو کہ وہ کوڈ ورڈز تھے لیکن اس کی سوچ میں واضح تھا کہ یہ کیا پیغام ہے ۔ بھوانی شنکر نے اسے لکھا تھا کہ "آپریشن کا زخم بھرنے میں کئ دن لگ جائیں گے بلیک گائیڈ تمہیں کم از کم ایک ہفتہ انتظار کرنا پڑے گا"
مجھے حیرت ہوئ۔ تو یہ بلیک گائیڈ تھا لیکن وہ کون تھا جس نے مجھ پر حملہ کیا تھا ۔
میں نے اس کے دماغ میں کہا مجھے بھوانی شنکر تک اپنا پیغام پہنچانا چاہیے۔
اس نے ایک کاغذ پر چند لکیریں گھسیٹیں جن کا مطلب تھا
" تمہاری صحت یابی تک انتظار نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ شیتل تمہیں آرام سے اٹھا کر لے آئے گا تمہیں کسی قسم کی تکلیف نہیں ہوگی ۔میں کل کسی وقت موقع پا کر آؤں گا اور تمہیں لے جاؤں گا "
اس نے پیغام نرس کے حوالے کیا" یہ رکھ لو اور کل صبح اسے دے دینا ۔ تمہارا بچہ کل شام تمہارے پاس واپس آ جائے گا "
اور وہ وہاں سے نکل گیا ۔ مجھے اب نرس کے دماغ کی ضرورت نہیں تھی میں اس بدمعاش کے دماغ میں موجود تھا ۔ وہ ہم سب کے لیے اجنبی تھا ۔ میں معلوم کرنا چاہتا تھا کہ وہ کون ہے ۔ اور مجرموں کے گروہ میں اسے کیا حیثیت حاصل ہے ۔
میں نے اس کے دماغ میں چند سوالات کیے جس سے معلوم ہوا کہ وہ بلیک گائیڈ ہے ۔ بلیک گائیڈ ان تمام جاسوسوں کی پشت پناہی کرتا ہے جو تخریب کاری کے لیے سرحد پار سے آتے ہیں ۔ بلیک گائیڈ بظاہر کمزور جسم کا مالک ہے لیکن ذہانت میں اس کا کوئ ثانی نہیں ہے ۔ دشمنوں کی سیکرٹ سروس کے بہت کم لوگ اس کے بارے میں جانتے تھے ۔ وہ کبھی سامنے نہیں آتا ۔ اس کے ماتحت دو گونگے ہیں جو اس کے منصوبوں پر عمل کرتے ہیں ۔ ان میں سے ایک شیتل تھا جس نے مجھ پر حملہ کیا تھا اور دوسرا چیتل تھا ۔ دونوں ہمشکل جڑواں بھائی تھے لڑنے میں ماہر اور مشینی جسم کے مالک تھے ۔
اس وقت ان کی رہائش برانڈتھ روڈ کے پیچھے ایک پرانے مکان میں تھی جس کا نمبر دو سو تین تھا ۔ یہ ساری معلومات اکٹھی کر کے میں نے آنکھیں کھولیں تو ڈاریکٹر جنرل اور انسپکٹر شہباز میرے کمرے میں بیٹھے بےچینی سے منتظر تھے ۔
مجھے دیکھتے ہی شہباز بولا " فرہاد مجھے امید ہے کہ تمہارے پاس ہمارے لیے مکمل معلومات موجود ہیں"
میں نےجب انہیں بلیک گائیڈ کے بارے میں بتایا کہ وہ کس طرح اسی ہسپتال کی ایک نرس کے ذریعے بھوانی شنکر کے ساتھ رابطے میں ہے تو ۔ ڈائریکٹر جنرل اپنی سیٹ سے اٹھ کھڑے ہوئے انہوں نے جوش مسرت سے میرے ہاتھ تھام لیے اور بولے ہمیں فوراً سے پہلے اسے حراست میں لے لینا چاہیے ۔ چلو شہباز خان اب کی بار تم اس مشن کے انچارج ہوگے ۔ تم فرہاد سے مدد لیتے ہوئے ہوٹل کو گھیرے میں لے لو ۔ میں تمہارے ساتھ تمہاری ٹیم میں موجود رہوں گا ۔ "
فرہاد تمہارا بہت شکریہ تم نے اتنے خطرناک دشمن کی طرف ہماری مکمل راہنمائی کی ہے ۔
وہ تیز تیز بولتے فیصلہ کن انداز میں دروازے کی طرف مڑے ۔
میں نے انہیں آواز دی " جناب آپ بلکل ٹھیک راستے پر ہیں لیکن میرا مشورہ ہے کہ ہمیں اس شخص کو ذرا سی ڈھیل دے کر ان کے اصل ٹھکانوں تک پہنچنا چاہیے ۔ اس مشن میں جلدبازی ٹھیک نہیں ہے "
میں جانتا تھا کہ ان کے عہدے کی وجہ سے انہیں براہ راست منع نہیں کر سکتا تھا ۔
پھر بھی میں نے ڈھکے چھپے انداز میں انہیں سمجھایا کہ ہمیں دشمن کو سمجھ کر اسے مات دینا ہوگی ۔ اندھا دھند حملے میں ہمارے ساتھیوں کی جان بھی جا سکتی ہے ۔ اس کے علاؤہ ہم ایک معصوم بچے کی جان کو بھی خطرے میں ڈال دیں گے ۔
لیکن انہیں میری مداخلت ناگوار گزری وہ دل میں سوچ رہے تھے فرہاد ابھی ناتجربہ کار نوجوان ہے اسے نہیں پتا کہ دشمن کو ذرا سی ڈھیل کتنا بڑا نقصان کر سکتی ہے
میں نے شہباز کو اشارے سے سمجھانے کی کوشش کی مگر بےسود ۔ میں نے ڈائریکٹر جنرل کے دماغ میں ایک بار پھر انہیں پکار کر کہا جناب اگر آپ نے اس طرح جلدی کی تو اس عورت کے بچے کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ وہ جواباً طنزیہ بولے " فرہاد ملک و قوم کے مفاد کی خاطر ہم ایک بچے کو لے کر نہیں بیٹھ سکتے تم سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کر رہے ہو " مجھے اندازہ ہوا کہ وہ میری ایک نہیں سنیں گے ۔
میں نے انہیں قائل کرنے کی کوشش کی کہ یوں جلدبازی میں آپ اپنی فورس کا نقصان کر سکتے ہیں ۔ مگر وہ ٹھان چکے تھے ۔ تو میں نے ان سے دماغی رابطہ منقطع کر دیا ۔
کچھ دیر سوچنے کے بعد میں نے بلیک گائیڈ کے دماغ میں جھانکا ۔ وہ اشاروں میں اپنے ماتحت شیتل کو سمجھا رہا تھا کہ بچے کو لے کر ایکس تھرٹی نمبر والی کوٹھی میں لے جاؤ وہاں ایک ادھیڑ عمر عورت ہے یہ بچہ تم اسے دے دینا ۔ یہ بچہ ادھر مکان میں رکھنا ٹھیک نہیں ۔ یہاں کسی وقت پہرے پر موجود گارڈ نے اس کے رونے کی آواز سن لی تو سب کیے کرائے پر پانی پھر جائے گا ۔
پھر وہ اسے لکھ کر پتا سمجھانے لگا ۔ میں نے پتا ذہن نشین کر لیا ۔ جسے اللّٰہ رکھے اسے کون چکھے ۔ ڈاریکٹر جنرل جسے بچانا نہیں چاہتے تھے اسے اللّٰہ نے بال بال بچا لیا ۔ میں نے انسپکٹر شہباز خان کو ایڈریس سمجھایا ۔ کچھ ہی دیر میں انٹیلیجنس کی ایک ٹیم نے ریڈ کر کے اس کوٹھی سے بچے کو بآسانی بازیاب کرا لیا ۔ وہاں صرف ایک بوڑھی عورت اور ایک مسلح گارڈ موجود تھا ۔ پولیس کی اتنی بھاری نفری دیکھ کر اس نے فوراً ہتھیار ڈال دیے ۔ میں نے فرزانہ کو بلا کر فوراً خوش خبری سنائی ۔ وہ احسان مندی سے جھکی مجھے نظر اٹھا کر دیکھ نہیں پا رہی تھی ۔ جلدی سے کمرے سے نکل گی۔
اس کے جاتے ہی کمرہ ویران ہو گیا ۔ اکثر میرے ساتھ یہی ہوتا ہے میں زندگی کے ہنگاموں سے گزرتے گزرتے ایکدم تنہا رہ جاتا ہوں ۔ ایسے وقت میں سوچتا ہوں اتنی بڑی دنیا میں میرا کوئ اپنا نہیں ۔ نہ ماں نہ باپ نہ بہن بھائی ۔ کوئ ایسا گہرا رشتہ نہیں جسے تنہائی میں یاد کروں ۔ سامی سے دل کا رشتہ ہے لیکن وہ محبت سے زیادہ جسم کی حفاظت کو ترجیح دیتی ہے ۔ اسے اپنا جسم عزیز ہے ۔ میں اب بھی اس سے محبت کرتا ہوں لیکن اس پر فخر نہیں کرتا ۔ اس کا خیال آتے ہی اس کے خوبصورت ذہین دماغ میں جھانکا وہ سو رہی تھی ۔ اور بہت سہانا سپنا دیکھ رہی تھی ۔ میں خاموشی سے اس کے دماغ سے نکل آیا ۔
میں نے بلیک گائیڈ کے دماغ میں اپنی سوچ کی لہریں پہنچائیں ۔ وہ اس وقت اس مکان میں موجود تھا جس کا پتہ میں نے شہباز خان کو بتایا تھا ۔ اس کی سوچ سے معلوم ہو رہا تھا کہ انہیں خبر ہو چکی ہے کہ انٹیلیجنس پولیس نے اس مکان کو گھیرے میں لے رکھا ہے ۔ وہ اپنے دماغ میں ایک شاطر منصوبہ ترتیب دے رہا تھا ۔ اس کے سامنے شیتل ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔
اس کے منصوبے کی تفصیلات جان کر میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئ۔ وہ اس مکان میں ٹائم بم نصب کر چکا تھا ۔
شہباز خان اور اس کے آدمیوں کے اندر داخل ہونے سے پہلے وہ خفیہ راستے سے باہر نکل کر مکان کو ٹائم بم سے اڑا دے گا ۔
میں نے شہباز خان کی سوچ میں کہا میں فرہاد ہوں میری بات غور سے سنو اس مکان میں اب کوئ نہیں ہے ۔ بلیک رائڈر خفیہ راستے سے نکل رہا ہے ۔ تم اپنے آدمیوں کو لے کر اسی وقت اس مکان سے دور ہٹ جاؤ ۔
انسپیکٹر شہباز خان اس وقت اتنے جوش میں تھا کہ وہ مجھے اپنے دماغ میں محسوس ہی نہیں کر پا رہا تھا ۔ وقت تیزی سے گزر رہا تھا ۔ میں اسے بار بار خبردار کر رہا تھا لیکن اس کی سوچ کہہ رہی تھی مکان سے دو آدمیوں کے باتیں کرنے کی آوازیں آ رہی ہیں ۔ میں یہاں سے نہیں جاؤں گا جب تک بلیک رائیڈر کو گولی سے نہ اڑا دوں ۔
میں نے بےبسی سے گھڑی کی طرف دیکھا ۔ میں نے ڈائریکٹر جنرل کی سوچ میں جا کر ساری صورتحال بتائ ۔ جب تک وہ شہباز خان کو ہدایات جاری کرتے ایک دھماکے سے مکان اور اس کے آس پاس ہر چیز ملبے کا ڈھیر بن گئ ۔
میں خاموشی سے کرسی پر ڈھے گیا ۔ شہباز خان میرا بہت قریبی دوست تھا ۔ اسے کچھ ہو گیا تو ۔۔۔۔ ۔۔ یہ سوچ اتنی ہولناک تھی کہ میرا دل بیٹھ گیا ۔ میں نے شہباز خان کے دماغ میں جانے کی کوشش کی لیکن وہاں مکمل اندھیرا تھا ۔ کیا انسپیکٹر شہباز خان مر گیا ؟..... نہیں نہیں شاید بے ہوش ہو گیا ہو ۔۔۔۔ شاید وہ دھماکے سے پہلے ہی دور بھاگ گیا ہو ۔ میرے ذہن میں خدشات کی جنگ ہونے لگی ۔
اب انتظار کرنے کے علاؤہ کوئ راستہ نہیں تھا ۔ کچھ دیر کے بعد ڈائریکٹر جنرل شبیر حسن میرے کمرے میں داخل ہوئے ۔ ان کا چہرا ستا ہوا تھا ۔
میرے پاس آ کر انہوں نے اپنی کیپ اتار کر سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی ۔" فرہاد ہم نے شہباز خان کو کھو دیا "
میرے کانوں میں سائیں سائیں ہونے لگی ۔ دشمن نے میرا بہت بڑا نقصان کر دیا تھا ۔ میں نے آنکھیں بند کر کے تصور میں شہباز خان کے مسکراتے ہوئے چہرے کو دیکھا ۔ اس دن مجھے اندازہ ہوا کہ لڑائ صرف میدان جنگ میں نہیں لڑی جاتی ۔ ہمارے جوان ہر لمحہ ہر آن وطن کی حفاظت کے لیے قربان ہونے کو تیار رہتے ہیں اور ان بےنام شہیدوں کے نام سے کبھی کوئ تمغے جاری نہیں ہوتے ۔ ڈائریکٹر جنرل شبیر حسن نے مجھے دلاسا دیتے ہوئے کہا " فرہاد ہمیں یوں ہار مان کر بیٹھ جانا مہنگا پڑے گا ۔ دشمن کھلا پھر رہا ہے ۔ اس سے پہلے کہ وہ وطن پر کوئ مہلک وار کرے ہمیں اس کا پیچھا کرنا ہے "
میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہی بلیک گائیڈ کی سوچ میں نقب لگائی ۔
"ہوٹل برج فرسٹ فلور کمرہ نمبر دو"
میں نے زیر لب دہرایا
"کیا " ڈائریکٹر جنرل حیرت سے چیخے
"ہاں وہ اس وقت ہسپتال کے سامنے والے ہوٹل برج میں پہلے فلور پر تیسرے کمرے کے اندر چھپے ہوئے ہیں "
میری رائے لیے بغیر اس بار بھی شبیر حسن تقریباً بھاگتے ہوئے ہسپتال کے احاطے سے نکل کر گاڑی میں بیٹھ کر چل پڑے ۔
وہ اب بھی مجھے اپنی فورس کا اہم حصہ نہیں سمجھ رہے تھے ۔ مجھے تھوڑا سا افسوس ہوا لیکن میں ان کے فرائض کو سمجھتا تھا ۔ میں ان کی راہنمائی کے لیے مستقل ان کی سوچ میں موجود رہنا چاہتا تھا لیکن ان کی ناگواری محسوس کر کے رابطہ کاٹ دیا ۔ مجھے ڈر تھا کہ پچھلی بار کی طرح اس بار کی جلدبازی کسی بڑے نقصان کا پیش خیمہ نہ ثابت ہو ۔
ان سے رابطہ ختم کر کے میں نے فرزانہ کی خبر لی ۔ وہ اپنی ساتھی نرس روبی کے ساتھ بیٹھی میرے بارے میں بات کر رہی تھی ۔
مجھے کچھ دلچسپی محسوس ہوئ اس کے ذہن میں ایک خوشگواری اور محبت تھی ۔ بہت مدت کے بعد اپنے بارے میں کسی کے ذہن میں اتنے خالص جذبات محسوس کر کے دل عجیب راحت میں ڈوب گیا تھا ۔ وہ روبی سے کہہ رہی تھی " تم اس شخص کو ایک بار دیکھ لو تو دیوانی ہو جاؤ وہ اتنا دلکش اتنا پیارا ہے میرے لیے وہ اس زمین پر سب سے زیادہ قابلِ احترام انسان ہے جس نے مجھے میرا کھویا ہوا بچہ واپس دلایا ۔
میں انہیں باتیں کرتا ہوا چھوڑ کر ڈائریکٹر جنرل شبیر حسن کے دماغ میں پہنچ گیا ۔ میری حیرانی کی انتہا نہ رہی جب میں نے انہیں ہوٹل برج کے کاؤنٹر کے سامنے کھڑے دیکھا ۔
اس کا مطلب ہے کہ بلیک گائیڈ چاروں طرف سے گھیر لیا گیا ہے میں نے اس کے دماغ میں جھانکا
وہ اور شیتل کمرے کے بیچ و بیچ کھڑے اشاروں میں کوئ منصوبہ ترتیب دے رہے تھے اتنی دیر میں باتھ روم سے سیٹی کی آواز آنے لگی
اوہ یہ تو ٹرانسمیٹر کی آواز ہےوہ بھاگ کر باتھ روم میں گیا ۔ ہوٹل کا منیجر اسے اطلاع دے رہا تھا کہ ہوٹل کو انٹیلیجنس ایجنسی نے گھیر لیا ہے وہ جدید اسلحے سے لیس ہیں اور ڈاریکٹر جنرل ہوٹل کے رجسٹر میں اس کا نام اور پتہ پڑھ کر بہت متاثر ہو رہا ہے کیونکہ وہاں بلیک گائیڈ کا نام معروف ڈاکٹر سعد شیرازی تھا جو حال ہی میں ایران سے آیا ہوا ہے
اتنے میں دروازے پر دستک ہونے لگی
وہ پریشانی سے ادھر ادھر ٹہل کر کچھ سوچنے لگا ۔ پھر جیسے چٹکی بجاتے ہوئے دروازہ کھول دیا
سامنے ڈائریکٹر جنرل شبیر حسن ہوٹل کا منیجر اور دو مسلح افراد کھڑے تھے
انہوں نے ڈاکٹر سعد شیرازی سے پاسپورٹ اور کاغذات طلب کیے ۔ مسلح افراد آگے بڑھ کر کمرے کی تلاشی لینے لگے ۔
اب میری باری تھی ۔ مجھے شبیر حسن کو بتانا تھا کہ یہ کاغذات جعلی ہیں اور آپ بلیک گائیڈ کے سامنے کھڑے ہیں ۔ لیکن اگلے پل بلیک گائیڈ نے ایسی چال چلی کہ کوئ سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔
اس نے شبیر حسن سے پوچھا
جناب آپ نے میرے بارے میں پوری تحقیق کر لی ہے اب مجھے اپنے بارے میں کچھ بتائیے
شبیر حسن نے فخر سے کہا " میں ڈائریکٹر جنرل انٹیلیجنس شبیر حسن"
وہ آگے بڑھا اور گرمجوشی سے مصافحہ کرتے ہوئے شبیر حسن کے انگلی پر اپنی انگوٹھی کو ذرا سا چبھویا ۔ ایک سیکنڈ لگا تھا اور شبیر حسن کا دماغ اپنی حسیات کھو چکا تھا ۔ جیسے انسان گہری نیند میں ہوتا ہے ویسے ہی وہ اپنے دماغ پر اپنا کنٹرول کھو بیٹھے تھے ۔ اب میں ان کے دماغ میں کوئ انفارمیشن نہیں پہنچا پا رہا تھا ۔
میں نے ان کے دماغ کو جگانے کے لیے تحمکانہ لہجے میں کہا
" شبیر حسین میں فرہاد بول رہا ہوں ہوش کی دوا لیں
آں ہاں ۔۔۔۔ یہ میرے دماغ میں کون بول رہا ہے
وہ اپنا سر پکڑ کر بولے
لگتا ہے کوئ فرہاد ہے
وہ مجھے مکمل طور پر بھول چکے تھے
میں نے نے ان کے دماغ میں کہا جناب مجھے پہچانیے میں فرہاد ہوں میں خیال خوانی کے ذریعے آپ سے مخاطب ہوں
وہ اونچی آواز میں بولے فرہاد میرے دماغ میں خیال خوانی کے ذریعے بول رہا ہے
وہ دشمن کے زیر اثر آ کر اس کے سامنے میرا راز فاش کر ریے تھے
میں نے گھبرا کر بلیک گائیڈ کی سوچ پڑھی وہ رائفل بردار سے بات کر رہا تھا جو اس سے پوچھ رہے تھے کہ مصافحہ کرتے ہیں شبیر حسن کی طبیعت کیوں بگڑ گئی ہے ۔
وہ دونوں اپنے دھیان میں پوچھ گچھ کر رہے تھے کہ پیچھے سے شیتل نے آ کر ان پر حملہ کر دیا ۔ شیتل اس قدر وحشت ناک درندہ تھا کہ مجھے اگلے سین کو سوچنے کی ضرورت نہیں تھی
میں اپنے سامنے ڈائریکٹر جنرل کو بلیک گائیڈ کا معمول بنتے دیکھ رہا تھا ۔ وہ تنویمی عمل کے ذریعے انہیں مکمل کنٹرول میں رکھے ہوئے تھا ۔ بازی بری طرح پلٹ گئ تھی ۔ شبیر حسن فر فر میرے بارے میں سب کچھ بتا رہے تھے ۔ میرے ہسپتال کا کمرہ فرزانہ کی موجودگی ہر چیز انہوں نے کھول کر رکھ دی تھی اور اپنے دو وفادار ماتحت بھی گنوا بیٹھے تھے ۔
میرے پاس وقت بہت کم تھا ۔ مجھے مکمل یقین تھا کہ اگلے چند منٹ بعد مجھ پر حملہ ہونے والا ہے
شبیر حسن میرا بھید کھول رہے تھے ۔ بلیک
گائیڈ گہری سنجیدگی سے سوچ رہا تھا ۔ "یہ انٹیلیجنس کا افسر پہلے بھی کسی فرہاد کے بارے میں بتا چکا ہے جو اس کے دماغ میں گفتگو کرتا ہے ۔ اس کا مطلب ہے وہ واقعی ٹیلی پیتھی جانتا ہے ۔ اسی فرہاد نے ہمارے خفیہ ٹھکانے پولیس کو بتائے ہیں ۔ اور اسی نے انٹیلیجنس کو میرا نام بلیک گائیڈ بتایا ہے ورنہ ان کے فرشتوں کو بھی علم نہ ہوتا کہ میں کون ہوں اور کہاں ہوں۔"
بلیک گائیڈ نے شبیر حسن کو تحمکانہ لہجے میں کہا " میری آنکھوں میں دیکھو "
انہوں نے حکم کی تعمیل کی اور اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگے ۔ میں بلیک گائیڈ کے دماغ میں اسے ہپناٹائز کرتے دیکھ رہا تھا ۔ شبیر حسن آہستہ آہستہ ٹرانس میں آ رہے تھے کیونکہ وہ دماغی طور پر کمزور ہو چکے تھے ۔
بلیک گائیڈ نے بھاری بھرکم آواز میں کہا " میں عامل ہوں ۔ تم میری ہر بات کا جواب دو گے "
شبیر حسن نے خوابیدہ آواز میں کہا " ہاں میں ہر بات کا جواب دوں گا"
"فرہاد کون ہے ؟"
وہ بولنے لگے " فرہاد ایک نوجوان ہے اسی ملک کا شہری ہے ۔ وہ ٹیلی پیتھی جانتا ہے ۔ اس کی راہنمائی میں ہم نے احمد شیخ اور ٹونی کو گرفتار کیا ہے ۔ اسی نے ہمیں بتایا کہ ہم نے جس زخمی جاسوس کو احمد شیخ کے گھر سے گرفتار کیا تھا وہ محمود الحسن نہیں بلکہ بھوانی شنکر ہے اور اس کے جبڑے کے نیچے ایک مائیکرو فلم ہے جس میں ہمارے ملک کے خفیہ راز ہیں ۔ ہم نے بھوانی شنکر کے آپریشن سے وہ مائیکرو فلم حاصل کرلی "
بلیک گائیڈ نے سوال کیا " وہ مائیکرو فلم کہاں ہے ؟"
" وہ مائیکرو فلم وزارت خارجہ کے سیکرٹری کو بھجوا دی گئی تھی "
" فرہاد کہاں ہے "
"وہ اس وقت ہسپتال کے کمرہ نمبر دس میں زیر علاج ہے"
کیا وہ بیمار ہے ؟
ہاں۔ ایک فولادی انسان دروازا توڑ کر اس کے بیڈروم میں آیا اور اسے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا"
" اوہ۔۔ تو وہ فرہاد تھا جس پر شیتل نے حملہ کیا ۔ اس کی قسمت اچھی تھی جو وہ بچ گیا ورنہ شیتل کے آہنی شکنجے سے کوئ بچ کر نہیں جا سکتا ہے. چلو ٹھیک ہے کوئ بات نہیں اب وہ مجھ سے بچ کر نہیں جا سکے گا"
پھر اس نے شبیر حسن کو مخاطب کیا " تم میرے معمول ہو ۔ تم میرے ہر حکم پر عمل کرو گے ۔ تم ابھی ہمارے ساتھ ہسپتال جاؤ گے ۔ وہاں تم اپنے جوانوں کو حکم دو گے کہ کمرہ نمبر دو اور کمرہ نمبر دس کے مریضوں کو ایک ایمبولینس میں پہنچایا جائے کیونکہ سیکیورٹی کے پیشِ نظر انہیں کسی اور ہسپتال میں منتقل کیا جا رہا ہے ۔ ایمبولینس تمہارا ایک ماتحت چلائے گا ۔ تمہارا دوسرا ماتحت اور شیتل ایمبولینس کے پچھلے حصے میں ان دونوں کے ساتھ بیٹھیں گے ۔ میں اور تم پیچھے ایک جیپ میں آئیں گے ۔ ہماری منزل کہاں ہے یہ نہیں بتاؤں گا ابھی تم میری باتیں ذہن نشین کر لو۔"
چلو اب اٹھو
میں نے خیال خوانی کا سلسلہ کچھ دیر کے لیے ترک کر دیا ۔ میرے لیے یہ اشد ضروری تھا کہ میں وقت ضائع کیے بغیر یہاں سے نکل جاؤں ۔ لیکن کہاں ۔۔۔ میں اپنے بستر سے اٹھا اور ادھر ادھر پھرنے لگا ۔ میں اپنے دماغ میں ایک پلین تیار کر رہا تھا اس کے ساتھ ساتھ اپنے ہاتھ پاؤں ہلا جلا کر اطمینان کر رہا تھا ۔ دراصل اتنے دن ہسپتال کے بستر پر لیٹے لیٹے میں جامد سا ہو کر رہ گیا تھا ۔ گو کہ دو وقت مالش اور ورزش سے اب چوٹوں کا نام و نشان بھی باقی نہیں تھا ۔ صرف اعصاب میں کھچاؤ سا تھا ۔ ویسے بھی موجودہ صورتحال نے میرے اندر بجلی سی بھر دی تھی ۔ شاید موت سے بچنے کی خواہش ہر جاندار کی طرح انسانی جبلت بھی ہے۔ موت کو اپنے سامنے دیکھ کر کمزور سے کمزور انسان اپنے بچاؤ کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے ۔
میں نے بھی اس حسین نرس کو آزمانے کا فیصلہ کر لیا جو میری خاطر کچھ بھی کرنے کو تیار تھی ۔ رات کے تین بج چکے تھے ۔ میں نے کاریڈور میں جھانک کر دیکھا ۔ میرے کمرے کے باہر دو آفیسر ڈیوٹی پر موجود تھے ۔ ایک تھک کر بنچ پر سو گیا تھا جبکہ دوسرا میرے کمرے کے عین سامنے چوکس کھڑا تھا ۔ میں دروازا کھول کر باہر آ گیا ۔ اس نے بڑے ادب سے پوچھا کیا بات ہے مسٹر فرہاد آپ اپنے بستر سے کیوں اٹھ کر آئے ہیں ؟
میں نے اس کی آنکھوں میں جھانک کر اس کی سوچ میں کہا " ارے باپ رے۔ میری کھوپڑی الٹی گھوم رہی ہے ۔ اس نے بوکھلا کر اپنا سر تھام لیا ۔۔۔اس کے سنبھلنے سے پہلے ہی میں نے کہا ارے میں تو آگے کو جھکا جا رہا ہوں ۔۔۔۔ وہ بےاختیار آگے کی طرف جھکنے لگا ۔ ۔۔۔ میں نے کہا میرے گھٹنے کانپ رہے ہیں مجھے بیٹھ جانا چاہیے ۔۔۔ وہ فوراً بیٹھ گیا ۔
انسان اپنے دماغ کا تابع فرمان ہے ۔ دماغ کی قوتوں سے اپنے پیروں پر کھڑا ہوتا ہے ، دماغ کی کمزوری سے گرتا ہے اور وہی دماغ اسے حوصلہ دے تو گرتے گرتے سنبھل جاتا ہے ۔
انسانی دماغ کی انہی کارفرمائیوں کے پیش نظر اس مسلح نوجوان کی حالت کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا ۔
جب وہ بیٹھنے لگا تو میں نے کہا " نہیں بیٹھنا نہیں ہے مجھے سنبھلنا چاہیے میں اس قابل ہوں کہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو سکتا ہوں ۔
وہ فوراً کھڑا ہو گیا ۔ میں نے اس کے دماغ کو کچھ دیر کے لیے آزاد چھوڑ دیا ۔ وہ سوچنے لگا " یا اللّٰہ میرے دماغ کو کیا ہو گیا ہے ۔ یوں لگتا ہے میرا ذہنی توازن بگڑ گیا ہے ۔ پہلے تو کبھی ایسا نہیں ہوا ۔ یہ مسٹر فرہاد کی آنکھوں میں کچھ ایسی چیز ہے ۔ کس قدر سلگتی ہوئ آنکھیں ہیں ۔
میں نے اس کی منفی سوچ میں کہا نہیں یہ میرا وہم ہے ایسا کچھ نہیں مجھے ان کی آنکھوں میں دیکھنا چاہیے ۔
یہ سوچ کر وہ میری آنکھوں میں دیکھنے لگا ۔ وہ باوجود کوشش کے اپنی نظریں نہیں ہٹا پا رہا تھا ۔ میں نے اس کی سوچ میں کہا افف کتنی پر کشش آنکھیں ہیں ۔ میں ان کے سحر میں گرفتار ہو رہا ہوں ۔
اگلے ہی پل وہ ساکت ہو گیا ۔ وہ میری آنکھوں میں دیکھے جا رہا تھا ۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ مضبوط اور صحت مند دماغ کو ہپناٹائز نہیں کیا جا سکتا ۔ اپنا معمول بنانے کے لیے پہلے سامنے والے کو دماغی طور پر کمزور کرنا پڑتا ہے ۔ جیسے بلیک گائیڈ نے انگوٹھی میں موجود زہریلی چیز کے ذریعے شبیر حسن کے دماغ کو کمزور کر دیا تھا ۔ اس کے بعد انہیں ہپناٹائز کر کے اپنا معمول بنا لیا ۔
اسی طرح میں نے پہلے اس نوجوان افیسر کے دماغ کو کنفیوز کر کے کمزور بنا دیا پھر اسے ہپناٹائز کرنا آسان بن گیا ۔
میں نے اسے حکم دیا " چپ چاپ اس کرسی پر بیٹھ جاؤ ۔
وہ خاموشی سے جا کر کسی پر بیٹھ گیا
" دروازے کی طرف دیکھتے رہو ۔ یہ دروازہ اندر سے بند ہے ۔ تم یہ سوچتے رہو گے کہ مسٹر فرہاد اندر سو رہے ہیں ۔ اگر کوئ پوچھنے آئے تو تم یہی جواب دو گے "
اس نے جیسے نیند کی حالت میں جواب دیا" ہاں میں یہی جواب دوں گا کہ مسٹر فرہاد اندر اپنے بیڈ پر سو رہے ہیں "
وہ میرے حکم کی تعمیل کر رہا تھا ۔ میں کاریڈور سے گزر کر لفٹ کے اندر چلا گیا ۔ میری منزل ہسپتال کی پچھلی طرف بنے کوارٹرز تھے۔
مجھے فرزانہ کے کوارٹر کا نمبر معلوم نہیں تھا ۔ ہسپتال سے نکلتے ہوئے مجھ سے یہ غلطی سرزد ہو گئ تھی کہ میں نے اس کے کوارٹر کا نمبر معلوم نہیں کیا تھا ۔ میں تھک کر سامنے گھاس پر بیٹھ گیا ۔ اتنے دن کے بعد پیدل چلنے سے مجھے تھکاوٹ محسوس ہو رہی تھی ۔ میں نے بلیک گائیڈ کے دماغ میں جھانک کر دیکھا ۔
وہ چٹکی بجاتے ہوئے خوشی سے چہک کر کہہ رہا تھا "یہ ہوئ نہ بات. تم نے پہلے کیوں نہ بتایا کہ فرہاد کی یہ کمزوری ہے .
مجھے بلکل سمجھ نہ آیا کہ وہ کس کمزوری کا ذکر کر رہا ہے ۔ میں نے دماغ پر زور دیا میری کونسی کمزوری ہے ؟
اور مجھے اپنی کمزوری کے بارے میں علم نہیں تھا ۔ کمال ہے ہمارے ارد گرد سب لوگ ہماری کمزوری کے بارے میں جانتے ہیں لیکن ہم خود بھول جاتے ہیں ۔ عجیب گھن چکر ہے ۔ مجھے ذہن پر زور دینے پر بھی اپنی ایسی کوئی کمزوری یاد نہ آئ جسے دشمن اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں ۔ میں نے بلیک گائیڈ کی سوچ میں معلوم کرنے کی کوشش کی لیکن وہ بہت محتاط ہو چکا تھا ۔
وہ کسی قسم کی معلومات کے بارے میں سوچنے سے گریز کر رہا تھا ۔ وہ اور شیتل شبیر حسن کے ساتھ ہسپتال کی طرف تیزی سے بڑھ رہے تھے ۔ میری موت قریب آتی جا رہی تھی ۔
میں نے سوچا اتنی رات گئے یقیناً فرزانہ سو رہی ہوگی ۔ آخری کوشش کے طور پر اس کے دماغ میں جھانک دیکھا تو وہ خلاف معمول جاگ رہی تھی ۔ اس نے اپنے بچے کو سینے سے لگا رکھا تھا اور میرے احساسات کے متعلق ، میری صلاحیتوں کے متعلق سوچ رہی تھی کہ کس طرح میں نے اس کے ہاتھ کی لکیریں دیکھ کر اس کے بچے کو دشمنوں سے حاصل کر لیا تھا۔
کچھ میری صلاحیتیں تھیں اور کچھ میری شخصیت کا اثر تھا میرے بارے میں سوچتے ہوئے اس کا دل پیار سے دھڑک رہا تھا ۔
میں نے اس کی سوچ میں کہا " کتنے افسوس کی بات ہے کہ ڈیوٹی کے اوقات کے بعد میں فرہاد سے نہیں مل سکتی ۔ اگر پہرے دار اجازت دیتے تو میں ابھی ان کے پاس پہنچ جاتی اور تمام رات ان کی خدمت کرتی۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ ابھی میرے کواٹر میں آ جائیں"
اس کی سوچ نے کہا " کیا پاگل پن ہے ۔ وہ بیمار ہیں میرے کواٹر میں کیسے آ سکتے ہیں "
میری سوچ نے جواباً کہا" اگر جذبہ عشق صادق ہو تو کچے دھاگے سے بندھے آئیں گے میرے سرکار ۔ کیا فرہاد کے دل میں میری محبت جوش مارے گی تو وہ یہاں نہیں آ سکے گا "
"نہیں یہ شاعرانہ باتیں ہیں ۔ حقیقت میں یہ ممکن نہیں "
میں نے اس کی سوچ میں کہا" یہ شاعری یو یا حقیقت اسے آزمانے میں کیا حرج ہے ۔ میں دروازا کھول کر دیکھوں گی کہ میرے جذبات میں کتنی سچائی ہے "
اس کا دل مجھ سے ملنے اور مجھے دیکھنے کے لیے مچل رہا تھا اس لیے وہ فوراً بستر سے اٹھ کر دروازے پر آ گئ۔
میں بھی گھاس سے اٹھ کر کواٹر کے سامنے کھڑا ہو گیا ۔
وہ سوچ رہی تھی کہ اگر واقعی فرہاد دروازے پر موجود ہوا تو وہ محبت پر ایمان لے آئے گی ۔
یہ سوچ کر اس نے دروازا کھولا ۔ مجھے سامنے دیکھ کر پہلے حیرانی سے دیکھنے لگی ۔ اگلے ہی لمحے اس کا دل محبت کے جذبے سے بھر گیا ۔ وہ تیزی سے بھاگتی ہوئی مجھ سے لپث گئ۔
" میں مان گئ کہ پیار کرنے والے کیسے ایک دوسرے کی طرف کھچے چلے آتے ہیں ۔ ابھی میرا دل کہہ رہا تھا کہ آپ آئے ہیں۔ اور آپ سچ مچ میرے سامنے ہیں " وہ میرے گلے میں اپنی گداز بانہیں ڈالے جوش محبت میں بولے چلے جا رہی تھی ۔
میں نے اس کے اطراف اپنے بازوؤں کا حلقہ باندھ دیا ۔ اس حلقے کے باہر موت میری تلاش میں بھٹک رہی تھی
وہ میرے بازوؤں میں آنکھیں موندے شانت ہو کر اپنا سر میرے سینے سے لگائے شاید وہیں عمر بتانے کا ارادہ رکھتی تھی ۔ ایک لمحے کو میرا دل کیا کہ کاش زندگی بسر یہی ہوتی ۔

میں نے بمشکل اپنے آپ کو سنبھالا اور کہا " فرزانہ اس وقت ہم خطرے میں ہیں ۔ جو دشمن پپو کو اغوا کر کے لے گیا تھا وہ پوری تیاری سے ادھر آ رہا ہے"
وہ ایک جھٹکے میں مجھ سے علیحدہ ہو گئ ۔ محبت کے جذبات ایکدم ٹھنڈے پڑ گئے ۔ اس نے جھپٹ کر پپو کو گود میں لے لیا ۔
میں نے اسے کہا "ہمیں ٹھنڈے دماغ سے دشمنوں کے خلاف منصوبہ بندی کرنی ہوگی ۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم سب سے پہلے یہاں سے نکل کر کسی محفوظ مقام پر چلے جائیں"
وہ سر اٹھا کر کہنے لگی" آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔ پپو پر کوئ آفت آ نے کے خیال سے میرا دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے ۔ میرے پاس روبی کے کواٹر کی چابی ہے ۔ آئیے ابھی ہم وہاں چلے جاتے ہیں ۔ کل کے لیے چھٹی لے لوں گی تو روبی میری جگہ ہسپتال میں رک جائے گی ۔ اس طرح ہمیں آگے کے لیے سوچنے کا وقت مل جائے گا ۔
روبی کا کواٹر فرزانہ کے گھر سے ذرا ہٹ کر تھا ۔ ہم تینوں دبے پاؤں وہاں آ گئے ۔ فرزانہ نے پپو کو ایک چھوٹے کمرے میں لٹایا اور میرے لیے ساتھ والا کمرہ کھولا ۔
کمرے کے بیچ میں ایک ڈبل بیڈ اور سائیڈ پر دو پلاسٹک کی کرسیاں پڑی تھیں ۔ میں جوتے اتار کر بیڈ پر بیٹھ گیا ۔ فرزانہ آہستگی سے آ کر میرے سینے سے لگ گئ۔ وہ شرمندگی سے بولی " فرہاد میرے بیٹے کی وجہ سے آپ کتنی مشکل میں پھنس گئے ہیں ۔ مجھے بتائیں میں آپ کے لیے کیا کر سکتی ہوں"
اس وقت اس کی دھڑکن سے پیچھا چھڑانا میرے لیے تقریباً ناممکن تھا اگر مجھے اپنے پیچھے موت کی آہٹیں سنائ نہ دیتیں ۔ دانشمندی یہی تھی کہ جوانی کے بہکاوے میں نہ آؤں اور دشمن کا پتہ لوں
میں نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا " وہ صرف پپو کے ہی دشمن نہیں ہمارے وطن کے بھی دشمن ہیں ۔ کبھی نہ کبھی تو ان سے ٹکرانا ہی تھا ۔ میرے لیے مشکل یہ ہے کہ میں ابھی ان سے مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح صحتیاب نہیں ہوں ۔ اگر کچھ دن چھپنے کی جگہ مل جائے تو ہم ان سے اتنی دور چلے جائیں گے کہ وہ ہماری ہوا کو بھی نہ چھو سکیں "
وہ تڑپ کر مجھ سے الگ ہو گئ ۔ میرے ہاتھ چوم کر آنکھوں سے لگاتے ہوئے بولی " فرہاد میں اس زندگی میں کبھی آپ کا ساتھ نہ چھوڑوں گی ۔ آپ کی خدمت کروں گی جب تک آپ مکمل صحت یاب نہیں ہوتے"
میں نے اسے کہا " ہم صبح کوئ مکان کرائے پر لے لیتے ہیں تاکہ کچھ دن دشمنوں سے محفوظ رہیں ابھی تم پپو کے پاس جاؤ وہ رونے لگے گا تو رات کے اس پہر بڑی مشکل ہو جائے گی"
بات اس کی سمجھ میں آ گئ۔
وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے میرے قریب سے اٹھ کر دوسرے کمرے میں چلی گئ۔
میں نے آنکھیں بند کر کے لمبی سانس لی ۔ مجھے بلیک گائیڈ کو ٹریک کرنے کے لیے تنہائ درکار تھی ۔
میں نے بیڈ پر آلتی پالتی مار کر آنکھیں بند کر لیں۔ اس کی سوچ سے معلوم ہوا کہ وہ ہسپتال کے احاطے میں ایک ایمبولینس سے ٹیک لگائے شبیر حسین اور شیتل کا انتظار کر رہا ہے جو اندر مُجھے اور بھوانی شنکر کو دھوکے سے یہاں لانے والے ہیں ۔ وہ بار بار گھڑی دیکھ رہا تھا اس کے مطابق پندرہ منٹ گزر چکے تھے ۔ دو منٹ کے بعد شیتل اور شبیر حسن ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ سے نکلے ان کے پیچھے ایک ڈیوٹی آفیسر ویل چئیر پر بھوانی شنکر کو بٹھائے اس کی طرف آتا دکھائی دیا ۔وہ الجھن سے انہیں دیکھنے لگا کیونکہ ان کے ساتھ اس کا مطلوبہ دشمن فرہاد علی تیمور نہیں تھا
قریب آتے ہی شیتل نے تیزی سے ایمبولینس کا پچھلا دروازا کھول کر بھوانی شنکر کو اس میں ڈالا اور اچھل کر اس کے ساتھ بیٹھ گیا ۔
بلیک گائیڈ نے چیخ کر میرے بارے میں پوچھا " فرہاد کہاں ہے"
شبیر حسن نے مایوسی سے نفی میں سر ہلایا " معلوم نہیں فرہاد اپنے کمرے میں نہیں تھا ۔ میں نے ڈیوٹی آفیسر سے پوچھا تو وہ بھی لاعلم تھا ۔
بلیک گائیڈ کو اچھی طرح پتا تھا کہ میں اس وقت اس کے دماغ میں موجود ہوں ۔ اس نے قہقہہ لگا کر کہا" فرہاد تم بھاگ کر کہاں جاؤ گے میں تمہیں پاتال سے بھی ڈھونڈ نکالوں گا پھر تمہارے دماغ کا آپریشن کر کے ٹیلی پیتھی کا بھوت ہمیشہ کے لیے مار ڈالوں گا "
پھر وہ شیتل کی طرف مڑا اور اشاروں میں کہا" پلین بدل گیا ہے ہم سب جیپ میں جائیں گے تم بھوانی شنکر کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اسے جیپ میں بٹھاؤ
اس کے ساتھ ہی اس نے شبیر حسن کو حکم دیا کہ اپنے جوان کو واپس بھیج دو
شبیر حسن نے فوراً حکم کی تعمیل کی
میں بلیک گائیڈ کے دماغ میں موجود اس کے منصوبے کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔
اور اگلے پانچ منٹ میں اس کی شاطرانہ سوچ پر حیرت زدہ رہ گیا
اس نے جیپ میں بیٹھ کر شیتل کو اپنی آنکھوں پر بھی پٹی باندھنے کا کہا ۔ یعنی بھوانی شنکر اور بلیک ٹائیگر کی آنکھوں پر پٹی بندھی رہے گی تاکہ میں ان کی سوچ کے ذریعے ان کے ٹھکانے تک نہ پہنچ سکوں۔ شبیر حسن اس کے تنویمی عمل کے زیرِ اثر تھے وہ میرے کسی کام کے نہیں تھے اور شیتل کے گونگے ہونے کی وجہ سے میں اس کے دماغ میں نہیں جا سکتا تھا ۔ میں نے شبیر حسن پر دانت پیسے ۔ یہ بھی انہوں نے ہی بتایا ہوگا کہ میں شیتل کے دماغ تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا ہوں ۔
میرے پاس فی الحال ان تک پہنچنے کا کوئ راستہ نہیں تھا ۔ میں اس کے دماغ سے نکل آیا ۔
بلیک گائیڈ مجھ سے خائف تھا وہ ہر لمحہ میری خیال خوانی کی صلاحیتوں سے سہما ہوا تھا کوئی اور دشمن ہوتا تو گھبرا کر اب تک میرے سامنے گھٹنے ٹیک چکا ہوتا مگر وہ ضدی تھا شکست کے اخری لمحے تک پہنچنے سے پہلے مجھ شکست دینے کی ہر ممکن کوشش میں مصروف تھا
میں نے اس وقت اس کا پیچھا چھوڑ دیا اور اپنے ماحول میں واپس آگیا میری زندگی بھی عجیب تھی میں خیالی راستوں کا مسافر ہوں منٹوں میں صدیوں کا فاصلہ طے کر جاتا ہوں ابھی میں بہت دور بلیک گائیڈ کی بھاگتی ہوئی کار میں اس کے دماغ سے چپکا ہوا تھا اور ابھی روبی کے کمرے میں واپس آگیا کمرے میں بدستور اندھیرا تھا روبی کے بیڈ پر فرزانہ پپو کے پاس لیٹی ہوئی تھی مجھے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی جب میں نے کھڑکی کی طرف سے پلٹ کر اسے دیکھا تو اس نے پوچھا کیا ہوا دشمن چلا گئے
ہاں میں نے جواب دیا تمہارے بیٹے کے سر سےخطرہ ٹل گیا ہے ۔ وہ دشمن اب ادھر نہیں آئے گا۔
خدا کا شکر ہے وہ اطمینان کا سانس لے کر بولی چلیے ہم اب کوارٹر چلتے ہیں
میں نے کہا تم جا کر ارام کرو ابھی میری قسمت میں آرام نہیں لکھا ہے مجرم ہسپتال سے بھوانی شنکر اور شبیر حسن کو ساتھ لے گیا ہے میں بھی ہسپتال سے چلا آیا ہوں ایسی صورت میں پولیس والے میرے پیچھے پڑ جائیں گے اور گم ہونے والوں کے متعلق مجھ سے طرح طرح کے سوالات کریں گے اگر میں نے انہیں اطمینان دلا بھی دیا تب بھی انٹیلیجنس والے مجھے مجبور کریں گے کہ میں اپنی صلاحیتوں سے شبیر حسن کو تلاش کروں دوسری طرف بلیک گائیڈ کو اگر یہ پتہ چل گیا کہ میں دوبارہ انٹیلیجنس والوں سے منسلک ہو گیا ہوں تو میرا ٹھکانہ معلوم کر لے گا اور کسی وقت بھی شیتل کو اچانک مجھ پر حملہ کرنے کے لیے بھیج دے گا ۔ دیکھو فرزانہ میں تمہیں ساری تفصیل نہیں بتا سکتا کہ میں کس طرح دشمنوں میں گھرا ہوا ہوں مجھے یہاں سے جلد از جلد چلے جانا چاہیے ۔
میں بھی تمہارے ساتھ چلوں گی"
وہ ضدی لہجے میں بولی
نہیں میرے ساتھ ساتھ ہمیشہ موت چلتی ہے تم ساتھ رہو گی تو میری وجہ سے تمہارے بیٹے کی زندگی بھی خطرے میں پڑ جائے گی ۔
وہ بولی اپ پپو کی محبت کا واسطہ دے کر مجھے خوفزدہ نہ کریں اتنا تو مجھے یقین ہو گیا ہے کہ پپو آپ کے سائے میں رہے گا تو اس پر کوئی آنچ نہیں آئے گی کیا اپ مجھے اتنی بے حس اور بے مروت سمجھتے ہیں کہ میں آپ کی بیماری اور مصیبت کے وقت آپ کا ساتھ چھوڑ دوں گی۔
میں جانتا ہوں کہ تم مجھے دل و جان سے چاہتی ہو تم میرا ساتھ نہیں چھوڑو گی مگر میں کسی دن تمہارا ساتھ چھوڑ جاؤں گا میں خود نہیں جانتا کیونکہ دشمن سرحد پار کرنے والے ہیں میں ان کے دیس تک ان کا پیچھا کروں گا اور ان کے گھروں میں گھس کر عبرت ناک سزا دوں گا ۔
ٹھیک ہے آپ جہاں جائیں گے میں آپ کے راستے کی دیوار نہیں بنوں گی لیکن میرے کہنے سے آپ کو دو چار روز تک دشمنوں کا خیال چھوڑنا ہوگا آپ کی حالت ایسی نہیں ہے کہ آپ خطروں کے پیچھے ایک طویل سفر کر سکیں میں آپ کی ضرورت کی دوائیں خریدوں گی صبح شام آپ کے بدن کی مالش کروں گی جب آپ صحت یاب ہو جائیں گے تو پھر میں آپ کے راستے سے ہٹ جاؤں گی۔
میں اس کی خدمت اور محبت کے جذبوں سے بہت متاثر ہوا تھا ۔ بھلا ایسی وفادار حسین عورت کا دل کون توڑ سکتا ہے میں نے اس کے مشورے کو تسلیم کر لیا وہ پپو کو گود میں لے کر باہر آگئی میں نے پہلے کی طرح روبی کے کوارٹر کو لاک کر دیا اور ہم دونوں فرزانہ کے کوارٹر میں آگئے اس دوران میں سوچ رہا تھا کہ مجھے کہاں پناہ لینی چاہیے۔ میں اپنی کوٹھی میں واپس نہیں جا سکتا تھا کیونکہ وہاں انٹیلیجنس والے پہنچ جاتا ہے اور ابھی میں ان لوگوں کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
میں ان سے دور رہ کر اپنے وطن کی حفاظت کرنا چاہتا تھا ۔
فرزانہ نے ایک سوٹ کیس میں اپنے کپڑے رکھتے ہوئے کہا ہم اپنے سوٹ کیس اور ضرورت کا دوسرا سامان لے کر کسی اور محلے میں کرائے کا مکان لے کر رہیں گے ۔میں نے کہا یہ اچھا مشورہ ہے لیکن کرائے کا مکان تلاش کرنے میں بہت دن لگیں گے ابھی ہمیں سر چھپانے کو فورا کوئی جگہ چاہیے بہتر ہے کہ ہم کسی اچھے ہوٹل میں ایک کمرہ لے کر وہاں رہ لیں تمہارے لیے مناسب ہوگا کہ اپنا سامان اسی کوارٹر میں رہنے دو صرف پہننے کے لیے چند جوڑے رکھ لو میرے لیے مشکل ہے کیونکہ میرے بدن پر ایک ہی جوڑا ہے جو میرے پاس ہے اگر ایک اور جوڑا کہیں سے مل جاتا تو۔۔۔۔۔۔ فرزانہ نے قطع کلامی کرتے ہوئے کہا میرے پاس میرے مرحوم شوہر کے چند جوڑے رکھے ہوئے ہیں ان کی جسامت اپ ہی کے برابر ہے اپ ان لباسوں کو پہن کر دیکھیں شاید اپ کے کام آ جائیں یہ کہہ کر وہ الماری کے پاس گئی اسے کھول کر کپڑے نکالے اور میرے سامنے بستر پر رکھتے ہوئے بولی اگر آپ کو پسند آ جائیں تویہ آپ کے لیے ہیں۔ میں ایک پتلون اور شرٹ اٹھا کر غسل خانے میں لباس بدلنے چلا گیا وہ باتھ روم کے بند دروازے کو دیکھ رہی تھی اور میرے ہی متعلق سوچ رہی تھی جب میں لباس بدل کر باہر آیا تو وہ مجھے ایسے دیکھنے لگی جیسے اس کا برسوں کا بچھڑا ہوا خاوند دوبارہ زندہ ہو کر آگیا ہو وہ لباس میرے بدن پر پورا تھا اور میں فرزانہ کے حسن معیار پر پورا اتر رہا تھا وہ بے اختیار میری جانب کھچی چلی آئی ۔ پہلے تو وہ میرے جسم پر سجے ہوئے اپنے خاوند کے لباس کو ہتھیلیوں سے سہلا کر دیکھتی رہی ان مسرور کن لمحات کو یاد کرتی رہی جو اس گزر جانے والے کے ساتھ گزر چکے تھے پھر اس نے اپنا سر میرے سینے پر رکھ دیا اس کے دونوں ہاتھ میرے شانوں پر آگئے اس کے بعد وہ دھڑکتے دل سے سوچنے لگی یہ جو میرے سامنے ہے اور جس کے چٹانی سینے پر میرا سر رکھا ہوا ہے یہی میرے سپنوں کا شہزادہ ہے میں کیا کروں اس کے قریب آتی ہوں تو سنبھل نہیں پاتی اس کے بازو میں آ کر ایک دم سے ٹوٹ جانے کو دل چاہتا ہے۔
وہ سوچ رہی تھی میں سن رہا تھا اور اپنے سینے پر اس کے دل کی دھڑکنوں کو محسوس کر رہا تھا ایسے وقت میں سچ مچ سنبھلنے کو جی نہیں چاہتا بہکنے میں جو لطف آتا ہے اسے صرف بہکنے والے ہی جانتے ہیں لیکن میری کمزوری اور بیماری آڑے آگئی میں نے سوچا اگر میں ان رنگین لمحات میں کھو گیا تو دشمن مجھے تلاش کر لیں گے دانشمندی یہی ہے کہ میں جلد سے جلد ہسپتال سے نکل کر کہیں دور چلا جاؤں اسی وقت اذان کی اواز سنائی دی اور عورت خواہ کتنی ہی جذبات میں بہک جائے لیکن اس میں اتنی مشرقیت ہوتی ہے کہ فوراً ہی سنبھل کر آنچل سر پر رکھ لیتی ہے فرزانہ بھی چونک کر مجھ سے یوں الگ ہو گئی جیسے ایک دم اندھیرے سے اجالے میں ا گئی ہو اس نے سر پر آنچل رکھا تو میں بھی سنبھل گیا میں نے کہا صبح ہو رہی ہے ہمیں وقت برباد نہیں کرنا چاہیے بہتر ہے کہ اندھیرے میں ہی یہاں سے نکل چلیں تاکہ ہمیں یہاں سے جاتے ہوئے کوئی نہ دیکھ سکے ۔
میری بات سن کر اس نے پپو کو گود میں اٹھا لیا میں نے سوٹ کے سنبھالا پھر ہم دونوں کوارٹر کو لاک کر کے تیز قدموں سے چلتے ہوئے ہسپتال کی عمارت سے باہر آگئے خوش قسمتی سے ہمیں فورا ہی ٹیکسی مل گئی ہم اس میں بیٹھ کر ہوٹل انٹرنیشنل پہنچ گئے۔ میرے پاس کیش نہیں تھا لیکن فرزانہ اپنے تمام نقدی زیورات لے آئی تھی۔ اس نے ٹیکسی کا بل ادا کیا اور اسی نے ہوٹل کا کمرہ کرائے پر لیا یہ بات میرے مزاج کے سخت خلاف تھی کہ کوئی عورت میرے اخراجات کو برداشت کرے بحالت مجبوری وقتی طور پر میں نے اسے برداشت کر لیا لیکن میں نے سوچ لیا تھا کہ فورا اپنے پیسوں کا انتظام کرنا چاہیے اس کے لیے مجھے تنہائی کی ضرورت تھی تاکہ میں پھوپھی سے رابطہ کر کے رقم منگوا سکوں مگر مجھے فورا تنہائی نصیب نہ ہوئی کیونکہ پپو نیند سے بیدار ہو گیا تھا پھر میں فرزانہ پر یہ ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا کہ میں خیال خوانی کے علم سے میں واقف ہوں میں تھوڑی دیر تک پپو سے باتیں کرتا رہا پھر میں نے فرزانہ سے کہا ہم دونوں تمام رات جاگتے رہے ہیں میں کچھ دیر کے لیے سونا چاہیے لیکن ہم اگر سو جائیں گے تو پپو تنہا اس کمرے میں کیسے وقت گزارے گا فرزانہ نے جواب دیا جب میں صبح ڈیوٹی پر جاتی ہوں ہسپتال کی دوسری نرسیں پپو کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔ آج میں ڈیوٹی پر نہیں جاؤں گی ۔ایک ہفتے کی چھٹی کی درخواست دے کر ا جاؤں گی اور پپو کو ساتھ لے جا کر روبی کے پاس چھوڑاؤں گی کیونکہ میں بھی تھوڑی دیر کے لیے سونا چاہتی ہوں میں نے دل میں سوچا یہ اچھی بات ہے فرزانہ تھوڑی دیر کے لیے پپو کو لے کر یہاں سے چلی جائے تاکہ مجھے تنہائی مل جائے میں نے کہا ٹھیک ہے تم پپو کے ساتھ لے جاؤ اور دروازے کو باہر سے لاک کرتی جاؤ ہو سکتا ہے تمہاری واپسی تک مجھے نیند آ جائے وہ بپو کو لے کر جلد ہی واپس انے کا وعدہ کرتی ہوئی کمرے سے باہر چلی گئی۔
باہر سے دروازہ لاک ہونے کی آواز آئی تو میں نے اطمینان کا سانس لیا پھر فوراً ہی مراقبے میں چلا گیا سب سے پہلے میں نے بلیک گائیڈ کی خبر لی
شبیر حسن کہہ رہا تھا میں کب تک آنکھوں پر پٹی باندھے بیٹھا رہوں گا اب تو خدا کے لیے یہ پٹی کھول دو۔
بلیک گائیڈ نے جواب دیا پٹی میری آنکھوں پر بھی بندھی ہوئی ہے مگر ہم دونوں کی آنکھوں سے یہ پٹی کھل جائے تو پھر ہم کھلی ہوئی آنکھوں سے اس کمرے کے ماحول کو دیکھیں گے ہم جو کچھ دیکھتے ہیں وہ ہماری آنکھوں کے ذریعے ہمارا ذہن ہمیں سمجھاتا ہے کہ ہم کیا دیکھ رہے ہیں ہم ذہن کو اس سوچ سے نہیں روک سکیں گے اور فرہاد ہمارا دشمن ہماری سوچ میں کنڈلی مارے بیٹھا ہوا ہے وہ ہماری سوچ کو پڑھ لے گا وہ اس جگہ ان کو دیکھ کر ہمیں تلاش کر لے گا دانشمندی یہی ہے کہ ہماری آنکھوں پر پٹی بندھی رہے
بلیک گائیڈ کی باتیں سن کر مجھے یہ بات سمجھ میں آگئی تھی کہ وہ اب بہت زیادہ محتاط ہو گیا ہے اور وہ جب تک شیتل کے ساتھ سرحد پار نہیں چلا جائے گا وہ اپنی آنکھوں سے پٹی نہیں ہٹائے گا مجھے اس کی آنکھوں سے پٹی ہٹانے کے لیے اس کے دماغ میں ہلچل مچانے کی ضرورت تھی لیکن میں نے جلد بازی نہیں کی کیونکہ شام کا وقت تھا جب تک اندھیرا نہ پھیلتا وہ اپنی خفیہ پناہگاہ سے باہر نہ نکلتے فلحال میں نے انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا اور پھوپھی کے ذہن میں جھانکنے لگا
وہ ابھی اس وقت ناشتہ تیار کر رہی تھی اور میرے ہی متعلق سوچ رہی تھیں کیونکہ میں دن سے غیر حاضر تھا انہوں نے ہسپتال آ کر مجھ سے ملنے کی کوشش بھی کی تھی لیکن انہیں انٹیلیجنس والوں سے اجازت نہیں ملی تھی ۔
میں نے ان کے ذہن پر دستک دیتے ہوئے کہا پھوپھی جان میں ہوں فرہاد وہ چونک کر ادھر ادھر دیکھنے لگی میری سوچ نے کہا کہ آپ بھول گئی کہ میں خیال خوانی کا علم جانتا ہوں ایک بار میں نے سوچ کے ذریعے آپ سے رابطہ قائم کیا تھا اس وقت بھی میں آپ سے مخاطب ہوں پھوپھی نے سر ہلاتے ہوئے کہا ہاں ہاں بیٹے میں جانتی ہوں پتہ نہیں تم کن الٹی سیدھی مشقوں میں الجھے ہوئے ہو مگر خدا کا شکر ہے اس علم کے ذریعے تم سے رابطہ تو قائم ہوا میں تمہارے لیے بہت پریشان ہوں بتاؤ میں تم سے کیسے مل سکتی ہوں؟
میں نے جواب دیا میں بھی اس الجھن میں مبتلا ہوں کہ اپ سے کیسے ملاقات کروں کیونکہ پولیس والوں سے اور دوسرے دشمنوں سے بچنے کے لیے ایک ہوٹل کے کمرے میں چھپا ہوا ہوں اس کمرے تک آپ کا آنا مناسب نہیں ہے اب ہو سکتا ہے کہ پولیس کا کوئی آدمی آپ کی نگرانی کر رہا ہو کہ کس طرح وہ مجھ تک پہنچ جائیں۔ وہ بولی بیٹے تم کیا کرتے ہو خواہ مخواہ لوگوں کو اپنا دشمن کیوں بنا رہے ہو کیا تم کسی ایک جگہ بیٹھ کر ایک پرسکون زندگی نہیں گزار سکتے ہو۔
پھوپھی جان میرے پاؤں میں چکر ہے میں ایک جگہ ٹھہر کر نہیں بیٹھ سکتا خود بھی یہی چاہتا ہوں کہ وقت کی طرح بہتا چلا جاؤں اس طرح نت نئی مصیبتوں کا سامنا ضرور ہوتا ہے لیکن یہی مہماتی زندگی مجھے بہت پسند ہے اور یہ میرے وطن اور میری قوم کے لیے بھی ضروری ہے میں چاہتا ہوں میری زندگی میری قوم اور میرے ملک کی سلامتی کی جدوجہد میں گزر جائے اس وقت میں نے اپ سے اس لیے رابطہ قائم کیا ہے کہ مجھے 10 ہزار روپے کی سخت ضرورت ہے اپ یہ پیسے لے کر فوراً ہسپتال پہنچیں اور فرزانہ نام کی ایک نرس سے ملاقات کر کے یہ پیسے اس کو دے دیں اور اسے یہ کہیں کہ یہ فرہاد کی امانت ہے یہ اس تک پہنچا دو ۔ اب دیر نہ کریں فوراً پہنچیں پھپی جان نے مجھے یقین دلایا کہ تم فکر نہ کرو میں فوراً پہنچ رہی ہوں
اس کے بعد میں بستر پر لیٹ گیا مراقبہ توڑ دیا اور پاؤں سیدھے کر لیے میں بہت تھکا ہوا تھا میں نے آنکھیں بند کر لی ہیں۔ اور اپنے دماغ کو ہدایت کی کہ بارہ بجے آنکھ کھل جانی چاہیے ۔ میں بہت دیر گہری نیند سوتا رہا تقریبا 12 بجے کے قریب میری آنکھ کھل گئی مجھے پتہ نہیں تھا کہ فرزانہ کب واپس آئی ۔مجھے گہری نیند میں دیکھ کر وہ بھی بستر پر آکر سو گئی تھی۔ میرے دماغ نے ٹھیک 12 بجے مجھے بیدار کر دیا تھا ۔ میں نے کروٹ بدل کر دیکھا وہ گہری نیند سو رہی تھی اس کا دوپٹہ سرہانے رکھا ہوا تھا وہ سیدھی لیٹی ہوئی سو رہی تھی اور اس کے بدن کے نشیب و فراز جاگ رہے تھے ۔ اس کے جسم کو اب تک میں نے جاگتی ہوئی حالت میں دیکھا تھا لیکن خوابیدہ حسن نے اس کو اور پرکشش بنا دیا تھا دل بے اختیار اس کی طرف کھینچا چلا جا رہا تھا ۔ میں تھوڑی دیر تک سر سے پاؤں تک نگاہوں کی انگلیوں سے اسے ٹٹولتا رہا اس نے درست کہا تھا اس نے اپنے خاوند کے ساتھ صرف چند گھڑیاں ہی گزاری تھیں
وہ ایک ادھ کھلی کلی کی مانند تھی اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اگر تشنگی باقی رہے اور اپنے من کے مطابق اور اپنی آرزوؤں کے مطابق جذبات کی تکمیل نہ ہو تو عورت کی عمر ایک جگہ ٹھہر جاتی ہے۔
میں نے اس شہر میں پانی کی سطح پر ہلچل مچا دی تھی میری سانسوں کی تپش نے اس کو بیدار کر دیا کیونکہ وہ نیند سے بیدار ہوئی تھی اس لیے فورا ہی سمجھ نہ سکی کہ کہاں ہے اور کس حال میں ہے اس کی کٹورا سی انکھیں کچھ سمجھنے اور نہ سمجھنے کے دوران پھیلی ہوئی تھی۔ ان انکھوں میں اتنی کشش تھی کہ میں بے اختیار ہو گیا تب اسے ہوش آگیا ۔ذرا دیر کے لیے وہ بھول گئی تھی کہ ابھی میں ہسپتال سے آیا ہوں اور مجھے پوری طرح صحت یاب ہونے میں ابھی کچھ وقت درکار ہے ۔
وہ بہکتی رہی اور مجھے بہکاتی رہی ۔ جب میں مزید آگے بڑھنے لگا تو اس کے اندر کی نرس بیدار ہو گئ ۔
اس نے جلدی سے کروٹ بدل کر اٹھتے ہوئے کہا نہیں فرہاد بس آگے نہ بڑھو میں تمہاری ہوں کہیں بھاگی تو نہیں جا رہی ہوں پہلے میں تمہارے لیے صرف ایک نرس بن کر رہوں گی اس کے بعد میں تمہاری محبوبہ بنوں گی۔
یہ کہہ کر وہ بستر سے اٹھی پھر تیزی سے باتھ روم میں جا کر دروازے کو اندر سے بند کر لیا تھوڑی دیر بعد شاور سے پانی گرنے کی اواز سنائی دی۔ ایک گھنٹے کے بعد میں بھی غسل سے فارغ ہو کر اس کے ساتھ ناشتہ کر رہا تھا وہ مجھے بتا رہی تھی کہ میری پھوپھی سے اس کی ملاقات ہوئی تھی وہ 10 ہزار روپے لے کر آئی ہے۔ میری ضرورت کی تمام دعائیں بھی خرید لائی ہے ہلکا سا ناشتہ کرنے کے بعد میں قمیض اتار کر پھر بستر پر لیٹ گیا اور وہ دوا نکال کر میرے بدن پر مالش کرنے لگی اس طرح اس نے صبح اور شام میرے بدن کی مالش کی ایسے وقت ہم دونوں ہی سخت آزمائش میں گھرے رہے لیکن وہ بہت سمجھدار تھی اس نے میری صحت یابی کو اپنا مقصد بنا رکھا تھا اس لیے وہ بہکتے بہکتے بھی سنبھل جاتی اور مجھے بھی سنبھلنے پر مجبور کر دیتی تھی۔ شام ہونے لگی تو میں نے اپنی ضرورت کا کچھ سامان لانے کے لیے اسے باہر بھیج دیا جب وہ شاپنگ کے لیے چلی گئی تو تنہائی ملتے ہی میں نے پھر مراقبہ کیا میرا رابطہ بلیک گائیڈ سے تھا اس وقت بلیک گائیڈ شیتل کا انتظار کر رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ
پتہ نہیں کمبخت کہاں چلا گیا ہے ۔ اتنا تو مجھے یقین ہے کہ وہ یہاں سے نکلنے کے انتظامات کر رہا ہوگا ۔ اس نے اپنی سوچ میں کہا کہ اب شیتل سے صرف انگلیوں کے ذریعے کوڈ ورڈز میں بات ہوگی میں فرہاد کو کوئی موقع نہیں دوں گا کہ وہ ہمارے ٹھکانوں پر پہنچ جائے۔
میرا نام ذہن میں آتے ہی اس نے آنکھیں کھول کر شبیر حسین کی طرف دیکھا اور پوچھا کہ آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ فرہاد ہسپتال سے فرار ہونے کے بعد کہاں جا سکتا ہے؟
شبیر حسن نے جواب دیا گلبرگ کی جس کوٹھی میں وہ رہتا تھا وہاں تمہارے شیتل نے ایک بار حملہ کیا تھا وہ اتنا چالاک ہے کہ وہ دوبارہ اس کوٹھی میں نہیں جائے گا ۔
بلیک گائیڈ نے کہا تم کہتے ہو وہ اچھی طرح چلنے پھرنے کے قابل نہیں تھا اسے مزید تیمارداری کی ضرورت تھی ۔کیا وہ کسی کی مدد کے بغیر اس کمرے سے نکل سکتا ہے ؟اگر نہیں تو سوچ کر بتاؤ ہسپتال میں کون ایسا ہے جو اس کا ساتھ دے سکتا ہے؟
ہاں مجھے یاد آیا ہسپتال میں ایک نرس ہےجس کے بچے کو تم اٹھا کر لائے تھے وہ فرہاد کی احسان مند تھی۔ کیونکہ اسی نے اس بچے کو تم سے چھین لیا تھا۔ فرہاد نے تم سے چھین کر دوبارہ اس کی گود تک پہنچایا وہی ایک وہاں موجود تھی جو اس کی مدد کر سکتی تھی۔ شبیر حسن اسے فرزانہ کے بارے میں بتانے لگے میں نہایت خاموشی سے شبیر حسن کے کمالات دیکھ رہا تھا کہ وہ ہپنیٹائز ہو کر کس طرح بلیک گائیڈ کا معمول بنے ہوئے تھے شبیر حسن کی بات ختم ہوتے ہی بلیک کارڈ کے خیال سے پتہ چلا کہ شیتل وہاں آگیا ہے بلیک ایڈ انگلیوں کے اشارے سے اسے سمجھانے لگا کہ ۔۔۔۔۔
تم نے فرار کا جو بھی منصوبہ بنایا ہے اسے میرے علم میں نہ لاؤ ہمارا دشمن بہت خطرناک ہے اور وہ میری سوچ پڑھ کر تمام منصوبوں تک پہنچ جاتا ہے تم صرف یہ بتاؤ کہ آج کی رات ہم فرار ہونے میں کامیاب ہو سکتے ہیں یا نہیں اس کے جواب میں شیتل نے بتایا کہ آج کی رات سرحد پار کرنا ممکن نہیں اگر میں اس کی وجہ بتاؤں گا تو فرہاد تمہاری سوچ سے یہ جان جائے گا ۔
بلیک گرڈ نے خوش ہو کر کہا شاباش تم بہت سمجھدار ہو اسی طرح محتاط رہ کر کام کرو تو میں فرہاد تک پہنچنے کا طریقہ بتاتا ہوں اسے پوری توجہ سے ذہن نشین کر لو تمہیں وہ بچہ یاد ہوگا جیسے میں ہسپتال کے ایک کوارٹر سے اٹھا کر لایا تھا تم نے اس بچے کو بھی دیکھا ہے اور نرس کو بھی پہچانتے ہو تم اپنے دو خاص آدمیوں کو لے کر جاؤ تم نہیں بول سکتے مگر تمہارے آدمی بولیں گے اور ہسپتال پہنچ کر اس نرس کے متعلق معلومات حاصل کریں گے وہ یا اس کا بچہ جہاں بھی ملے ان سے فرہاد کا پتہ معلوم کرو اگر وہ نرس بتانے سے انکار کرے تو اسے یرغمال کے طور پر ساتھ لے آؤ ۔ابھی اسی وقت جاؤ۔ میں دیکھوں گا کہ فرہاد کتنے پانی میں چھپا ہوا ہے۔
بلیک گائیڈ کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ رقصاں تھی
مجھ پر ایک اضطراری سی کیفیت طاری ہو گئی اگر یہ یقین ہو جائے کہ موت آ رہی ہے لیکن یہ پتہ نہ چلے کہ کس سمت سے آ رہی ہے تو ایسی صورت میں بوکھلاہٹ میں مبتلا ہو جانا لازمی ہے میں بستر سے اٹھ کر ٹہلنے لگا تھوڑی دیر بعد مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا ۔
غلطی یہ تھی کہ میں پریشانی میں الجھ کر ذہنی یکسوئی سے کام لینا بھول گیا تھا میں فورا ہی بستر سے اٹھ کر التی پالتی مار کر بیٹھ گیا پھر میں نے ایک گہری سانس کھینچ کر ان سانسوں کو سینے میں جمع کر لیا اور آنکھیں بند کر کے مراقبے میں چلا گیا اب میرے پاس خیالات کا انتشار نہیں تھا میری پوری توجہ صرف ایک خیال پر مرکوز ہو گئی کہ دشمن کسے چارہ بنا کر مجھ تک پہنچنا چاہتا ہے
فرزانہ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ فرزانہ ہی تھی جیسے وہ مہرے کے طور پر استعمال کرنا چاہتے تھے لہذا میں نے فرزانہ سے دماغی رابطہ قائم کیا میں یہ معلوم کرنا چاہتا تھا کہ ابھی وہ کہاں ہے اور کیا کر رہی ہے وہ ہسپتال کی طرف جا رہی تھی اور سوچتی جا رہی تھی کہ اس نے میرے سائز کے مطابق ایک سوٹ اور جوتے خرید لیے ہیں اب وہ ہسپتال پپو کو لینے جا رہی ہے۔
پپو کو وہاں سے لا کر کسی محفوظ مقام پر پہنچانا بہت ضروری تھا اس لیے میں نے فرزانہ کو ہسپتال جانے دیا اور خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیا
میں انتظار کرنے لگا کہ کب دشمن فرزانہ کے سامنے آئیں اور میں فرزانہ کے ذریعے ان کے دماغ تک پہنچ کر ان کے ٹھکانوں پر نقب لگا سکوں
میں تنہائی میں آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی قوتوں کو ازمانے لگا میں نے یوگا کی ایک مشق کے مطابق سانس کھینچ کھینچ کر اپنے سینے میں جمع کر لی پھر سانس لینا بند کر دی پھر اپنی مٹھیوں کو سختی سے بھینچنے اور کھولنے لگا اپنے جسم کو کتنے ہی زاویوں سے توڑنے اور موڑنے لگا اپنے ہاتھوں کو شانے کی بلندی کی سید میں لا کر ایک ٹانگ پر کھڑا ہو کر دوسرے پاؤں کو شانے کی بلندی تک کک مارنے کے انداز میں اچھالنے لگا یہ مکمل ایک منٹ تک سانس رک کے مختلف مشکیں کرتا رہا پھر میری قوت برداشت جواب دے گی یہ بیماری کے بعد میں پہلی بار ان مشقوں سے گزرا تھا اس لیے بری طرح ہانپ رہا تھا جب میں تازہ دم ہو گیا تو پھر دوبارہ سانسیں روک کر مختلف مشقیں کرنے لگا
کچھ دیر کے بعد میں نے فرزانہ کا دماغ میں جھانکا وہ ایک نرس کے کوارٹر میں بیٹھی اس سے باتیں کر رہی تھی اس کے ساتھ پپو بھی تھا اسی وقت اس کی سہیلی روبی کمرے میں آئی اور فرزانہ کو دیکھ کر کہا تم یہاں بیٹھی ہو وہاں ہسپتال کے باہر برامدے میں کوئی شخص تمہارے فرہاد کو پوچھ رہا ہے جب میں نے بتایا کہ ہمارا مریض پچھلی رات صلہ پتہ ہے تو تمہیں پوچھنے لگا اس لیے میں تمہیں تلاش کرتی یہاں تک آئی ہوں تم جا کر اس سے ملاقات کرو ہو سکتا ہے کہ وہ فرہاد کا کوئی بہت قریبی عزیز ہو
فرزانہ سوچنے لگی کہ وہ کون ہو سکتا ہے اسے میرے عزیز سے ملنا چاہیے کہ نہیں؟
میں نے اس کی منفی سوچ میں کہا نہیں ملنا چاہیے
اس کی مثبت سوچ نے کہا کیوں نہیں ملنا چاہیے آخر نقصان ہی کیا ہے ہو سکتا ہے کوئی فائدہ پہنچ جائے ہو سکتا ہے کہ وہ بھی فرہاد کی پھوپھی کی طرح کوئی بڑی رقم لایا ہو اگر ایسا ہوا تو وہ رقم فرہاد کے ہی کام ائے گی مجھے ضرور جانا چاہیے یہ کہہ کر وہ اپنی جگہ سے اٹھی بچے کو اس نرس کے پاس چھوڑ کر روبی کے ساتھ ہسپتال کے برامدے کی طرف جانے لگی
سامنے سے آتے ایک اجنبی کو دیکھ کر دونوں رک گئیں روبی اس اجنبی سے کہہ رہی تھی یہی فرزانہ یے آپ فرہاد کا جو پیغام دینا چاہتے ہیں وہ اسے دے دیں یہ کہہ کر بھی چلی گئی تب میں نے اس اجنبی کی آواز سنی وہ فرزانہ سے مخاطب تھا جب بھی ہم سے کوئی مخاطب ہوتا ہے تو اس کی آواز ہمارے دماغ کو چھوتی ہے اور ہمیں سمجھاتی ہے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے جب اس کی آواز فرزانہ کے دماغ تک پہنچی تو وہ آواز فرزانہ کے دماغ سے نشر ہو کر مجھ تک پہنچنے لگی
وہ اجنبی فرزانہ سے کہہ رہا تھا فرہاد کی پھوپھی نےمجھے یہ معلوم کرنے کے لیے بھیجا ہے کہ وہ ہسپتال سے واپس آگیا ہے کہ نہیں اس کی پھوپھی اچانک بیمار پڑ گئی ہیں انہوں نے کہا ہے کہ اگر فرہاد سے ملاقات نہ ہو تو فرزانہ نام کی ایک نرس کو میرے پاس لے آنا وہ فرہاد کے متعلق کوئی بہت ضروری بات تم سے کرنا چاہتی ہیں
فرزانہ سوچنے لگی کہ اسے اس اجنبی کے ساتھ جانا چاہیے کہ نہیں اب میں اسے اس اجنبی کے ساتھ جانے سے نہیں روکنا چاہتا تھا کیونکہ میں اس اجنبی کی آواز اور اس کے لہجے کے ذریعے اس کے دماغ میں بھی جھانکنے کے قابل ہو گیا تھا میں نے فرزانہ کی سوچ میں کہا
مجھے فرہاد کی پھوپھی کے پاس جانا چاہیے ہو سکتا ہے کہ فرہاد کے فائدے کی بات معلوم ہو جائے
وہ اجنبی کے ساتھ ہسپتال کے کمپاؤنڈ سے باہر جانے لگی اب میں نے فرزانہ کو چھوڑ دیا اور اس اجنبی کے دماغ میں جھانکنے لگا وہ فرزانہ کو کن اکھیوں سے دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا یہ تو بہت حسین لڑکی ہے جوانی کیسے پھوٹی پڑ رہی ہے اس بار تو بہت اچھا مال ہاتھ آیا ہے اگر اس نے ہمارے سوالوں کا جواب دینے سے انکار کیا تو میں ایسے اذیتیں دینے سے پہلے اس کی جوانی سے خوب فائدہ اٹھاؤں گا
انسان کی سوچ اس کی کمزوری کو ظاہر کر دیتی ہے اس کی کمزوری مجھے معلوم ہو گئی کہ وہ فرزانہ جیسی حسین اور جوانہ عورتوں کا رسیا ہے وہ دونوں ایک کار کے پاس آئے ۔کار کی ڈرائیونگ سیٹ پر ایک اور شخص بیٹھا ہوا تھا وہ دونوں کار کا دروازہ کھول کر پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئے تو فرزانہ نے پوچھا
ہمیں کتنی دور جانا ہے
اجنبی نے جواب دیا زیادہ دور نہیں گلبرگ کے آخری سرے میں فرہاد کی ایک کوٹھی ہے فرہاد کی پھوپھو وہاں رہتی ہے اس کے بعد کار میں خاموشی چھا گئی
کچھ دیر کے بعد وہ گاڑی سے نکلے تو میں نے فرزانہ کی سوچ میں کہا کہ مجھے کوٹھی کا نمبر یاد کر لینا چاہیے
اس طرح میں نے کوٹھی کا نمبر فرزانہ کے دماغ سے اپنے دماغ میں منتقل کر لیا ۔ اس کے بعد فوراً ہوٹل کے کمرے کو لاک کر کے میں ہوٹل سے باہر نکل آیا اب میری منزل وہ کوٹھی تھی جہاں شیتل آنے والا تھا
اس دوران میں مستقل فرزانہ کے دماغ میں موجود تھا فرزانہ نے کوٹھی کے اندر ا کر پوچھا فرہاد کی پھوپھو کہاں ہے یہاں تو کوئی نظر نہیں آرہا ہے
اجنبی نے ہنستے ہوئے کہا
یہاں ہم ہیں کیا ہم تمہیں نظر نہیں ارہے ہیں تمہارے جیسی جوان اور خوبصورت عورت کو کسی بوڑھی پھوپھو کی نہیں ہماری ضرورت ہے
فرزانہ نے بگڑ کر کہا
ب**** مت کرو کیا تم مجھے یہاں دھو کے سے لائے ہو
اجنبی نے جیب س چاقو نکال کر کھولتے ہوئے کہا تم بہت دیر سے سمجھتی ہو لیکن یہ بات میں فوراً ہی سمجھا دوں کہ اگر تم نے چیخنے کی کوشش کی تو اس سے پہلے یہ میں تمہاری گردن اڑا دوں گا
وہ سہم کا چاقو کو دیکھنے لگی اجنبی نے ایک صوفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا یہاں بیٹھ جاؤ اور جو کچھ ہم تم سے پوچھے اسے صحیح جواب دو وہ سامنے صوفے پر بیٹھ گئی
فرہاد کہاں ہے
اس نے جواب دیا میں کسی فرہاد کو نہیں جانتی اس بدمعاش نے کہا تم سمجھتی ہو کہ ہم تمہیں قتل کرنے کے بعد خاموشی سے بیٹھ جائیں گے نہیں میری جان تمہارے بعد تمہارے پپو کی باری آئے گی اور پپو کے نام پر اس کی مامتا بیدار ہو گئی وہ سوچنے لگی اپنے بیٹے کو بچانے کی خاطر اپنے محبوب کو دشمنوں کے حوالے کر سکتی ہوں ۔؟یہ کیا آزمائش ہے
اسی وقت میں نے فرزانہ کی سوچ میں کہا کہ مجھے اس اجنبی کی کمزوری سے فائدہ اٹھانا چاہیے فی الحال اسے کچھ مہلت مانگوں گی اگر یہ راضی ہو گیا تو مجھے کچھ باتیں سوچنے کا موقع مل جائے گا
یہ سوچ کر وہ ایسی نظروں سے اجنبی کو دیکھنے لگی جیسے اپنی نظروں سے اسے قتل کر رہی ہو اجنبی نے چاقو کے تیز پھل کو چومتے ہوئے کہا جان من میں تو چاقو سے ہلاک کرتا ہوں مگر تم تو ایک ہی نظر سے قتل کر دیتی ہو فرزانہ نے شرمانے کی ادائیں دکھائیں پھر ذرا بل کھا کر بولی آپ اپنے ساتھی کے سامنے ایسی باتیں کر رہے ہیں کچھ تو خیال کریں اجنبی نے کہا واقعی میں کتنا احمق ہوں میں نے یہ نہیں سوچا کہ ایک عورت کسی دوسرے مرد کی موجودگی میں شرما جاتی ہے اس نے اپنے ساتھی سے کہا کہ وہ کمرے سے باہر چلا جائے وہ باہر چلا گیا تو اس بدمعاش نے پوچھا کیا تمہارا فرہاد تمہیں یاد ہے تمہارے انکار سے تو پتہ چلتا ہے کہ تم اس کو بچانے کی خاطر موت سے بھی نہیں ڈرتی ہو
میں فرہاد سے ڈرتی نہیں ہوں میں اس کی احسان مند ہوں اس نے میرے بیٹے کی جان بچائی تھی کیا کسی کا احسان ماننا اچھی بات نہیں ہے ؟
اگر تم بھی مجھ پر احسان کرو گے تو میں تمہاری بات مانوں گی۔
کیسا احسان
فرزانہ اس کے قریب آ کر رازداری سے بولی اگر تم میرے محسن کو چھوڑ دو تو میں تمہارے ساتھ خوشی سے جانے کو تیار ہو جاؤں گی
تو کیا تم فرہاد کو بچانا چاہتی ہو؟
یہ ذرا مشکل کام ہے کیونکہ اس کام کے لیے مجھے 10 ہزار روپے مل رہے ہیں
فرزانہ نے کہا اگر تمہیں وہ 10 ہزار روپے دے رہا ہے تو میں تمہیں 15 ہزار دوں گی
اجنبی نے کچھ دیر سوچا جیسے فیصلہ نہ کر پا رہا ہو کہ عورت اور پیسہ دونوں مل جائیں تو ۔۔۔۔۔۔پھر کہنے لگا ٹھیک ہے جب تک وہ مجھے 15 ہزار نہیں دے گا تم میری قید میں رہوگی
میں اس دیوہیکل گونگے کو ایک ویران جگہ پر لے جاؤں گا اور اسے ختم کر دوں گا اس کے بدلے میں ، میں تمہارا حقدار ہوگا اور پندرہ ہزار بھی لوں گا بولو منظور ہے ؟
فرزانہ نے بظاہر خوش ہوتے ہوئے کہا " منظور ہے
یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر چلا گیا ۔
اس کی سوچ سے پتہ چلا کہ شیتل ساتھ والے کمرے میں بیٹھا ہوا ہے ۔ جب وہ کمرے میں داخل ہوا تو پورے کمرے میں ملگجا سا اندھیرا چھایا ہوا تھا شیتل کی آنکھوں پر کالے رنگ کی عینک لگی ہوئی تھی میں سمجھ گیا کہ یہ ساری احتیاط اس لیے بڑھتی گئی ہے کہ میں ان کی سوچ تک نہ پہنچ سکوں اس آدمی نے اشاروں سے سمجھایا کہ وہ لڑکی یہ بتا رہی ہے کہ فرہاد کہاں چھپا ہوا ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ اس تک پہنچنے کے لیے ہمیں چھانگا مانگا کے جنگلات میں جانا پڑے گا اس لڑکی کے مطابق فرہاد وہیں ایک پرانے مکان میں چھپا ہوا ہے
شیتل نے اشارے سے کہا ٹھیک ہے تم اس لڑکی کو بلاؤ ہم ابھی چلیں گے
بدمعاش جو کہ کرائے کا قاتل تھا اور اب فرزانہ کے لیے لڑنے مرنے پر تیار تھا بولا ،ٹھیک ہے تم گاڑی میں جا کر بیٹھو میں لڑکی لے کر آتا ہوں یہ کہہ کر وہ آدمی تیز قدموں سے چلتا ہوا کونے میں بنے ایک چھوٹے سے کمرے میں آ گیا ۔
یہاں اس کا دوسرا ساتھی اگلے حکم کا منتظر تھا ۔اس نے اپنے ساتھی کو تمام منصوبہ بتا کر کہا پہلے ہمیں اس گونگے کو ٹھکانے لگانا ہے
تم اپنےکچھ ساتھیوں کو لے کر ہماری گاڑی کے پیچھے آنے کا اشارہ دو ۔
کیوں کہ ہم اکیلے اس سانڈ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے ۔
ہم جنگل کی طرف نکل جائیں گے
وہیں اس درندے کو گھیر کر ماریں گے ۔
منصوبے کے مطابق وہ فرزانہ کو لے کر چھانگا مانگا کے جنگل میں پہنچ گئے ۔
گھنے جنگل میں پہنچ کر اس نے گاڑی ایک طرف روک دی پیچھے سے ایک دوسری کار بھی ان کے پاس آ کر رک گئ
ان میں سے کوئ نہیں جانتا تھا کہ ایک تیسری کار ان کا پیچھا کر رہی ہے اور اس میں فرہاد علی تیمور ہے
میں نے گاڑی تھوڑا فاصلے پر درختوں کے ایک جھنڈ کے پیچھے روک دی
وہ سب اتر کر شیتل پر ٹوٹ پڑے تھے ۔ بےخبری میں کیے گئے وار کا یہ فائدہ ہوا کہ اسے سنبھلنے کا موقع نہ مل سکا ۔ چھ لوگوں نے مل کر اسے زمین پر گرا لیا تھا ۔
لیکن شیتل کو قابو کرنا اتنا آسان نہیں تھا ۔ وہ ایک ماہر فائٹر تھا اور بےپناہ قوت کا مالک تھا ۔
اس نے سپرنگ کی طرح اپنے جسم کو اچھالا اور دو لوگوں کو گردن سے پکڑ کر اتنی زور سے ایک دوسرے سے ٹکرایا کہ ان کی کھوپڑیاں چکناچور ہو گئیں ۔ اب وہ تیسرے کی طرف بڑھ رہا تھا یہی وقت تھا جب میں نے اپنا کام کرنا تھا ۔ میں گاڑی کو فل سپیڈ سے چلاتا ہوا آگے لایا ۔ شیتل کا دھیان ایک پل کو ان سب سے ہٹ گیا ۔ ایک بدمعاش نے ٹانگ آگے کر کے اسے گرا دیا ۔ میں نے ایکسلیریٹر دبایا اور فل سپیڈ سے کار شیتل کے اوپر سے گزار دی ۔
یہ دیکھ کر فرزانہ جو گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھی تھی باہر نکل آئ ۔
پھر میں نے گاڑی ریورس کر کے باقی دو بدمعاشوں کی طرف لے آیا اور چیخ کر کہا
اگر تم لوگ بھی اپنا حال یہی کروانا چاہتے ہو تو تیار ہو جاؤ
وہ دونوں دہشت سے شیتل کا انجام دیکھ رہے تھے فوراً بھاگ کر گاڑی میں بیٹھے اور یہ جا وہ جا
میں نے شیتل کی طرف دیکھا اس کے سر پر اور جسم پر کئ زخم آئے تھے لیکن پھر بھی ابھی جان باقی تھی ۔
اب وہ میرے کام کا آدمی تھا ۔ اس کا دماغ کمزور ہو چکا تھا ۔ میں اسے آسانی سے اپنا معمول بنا سکتا تھا
میں نے اسے سیدھا کر کے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور پھر پانچ منٹ میں وہ میرے زیر اثر آ چکا تھا ۔
فرزانہ میرے پاس کھڑی مجھے یوں دیکھ رہی تھی جیسے میں کسی اور سیارے سے آیا ہوا ہوں ۔
میں نے گونگے کو ہپناٹائز کرنے کے بعد اپنی گاڑی میں ڈالا پھر فرازنہ کو فرنٹ سیٹ پر بٹھا کر اپنے گھر لے آیا ۔
کوٹھی پہنچ کر ایک کمرے میں گونگے کو لٹا یا اور پھوپھی جان کو تفصیل بتانے چلا گیا
پھر فرزانہ کو اپنے بیڈ روم میں بٹھایا ۔ وہ عقیدت اور محبت سے مجھے دیکھتی رہی ۔
پھوپھی جان اور زرینہ بھی وہیں چلی آئیں ۔
میں انہیں باتیں کرتا چھوڑ کر شیتل کے پاس چلا آیا ۔ کچھ دیر اس کی آنکھوں میں دیکھتے رہنے کے بعد میں نے اس سے کہا
اب تم میرے معمول ہو۔ میں جو کہوں گا وہ تم مانو گے
وہ کیسے گہری نیند میں بولا " ہاں تم جو کہو گے میں وہ مانوں گا
بلیک گائیڈ بھوانی شنکر اور شبیر حسن کے ساتھ کہاں چھپا ہوا ہے ؟
وہ راوی روڈ پر کوٹھی نمبر چار سو بارہ میں ہیں
شیتل نے فر فر کہا
بس میرے لیے کافی تھا ۔
میں نے فرزانہ سے کہا تم ہسپتال جاؤ اور پپو کو لے کر آ جاؤ ۔ پھر شیتل کا علاج کرنے کا کہہ کر کوٹھی سے باہر نکل آیا میری کار کا رخ راوی روڈکی طرف تھا ۔
راوی روڈ پر مجھے کوٹھی نمبر 412 کو ڈھونڈنے میں کوئی دقت پیش نہ آئی میں کوٹھی کی چابی شیتل سے لے کر آیا تھا
جب دروازے کے لاک میں چابی گھومنے کی اواز آئی تو بلیک گائیڈ کی اواز سنائی تھی وہ شبیر حسن سے کہہ رہا تھا
خاموش رہو شیتل آ رہا ہے پتہ نہیں کیا خبر لایا ہے
میں نے دروازے کو اندر سے لاک کر دیا پھر کمرے سے گزر کر دوسرے کمرے میں پہنچا تو بلیک گائیڈ اور شبیر حسن دونوں صوفے پر بیٹھے ہوئے تھے ان کی آنکھوں پر بدستور پٹیاں بندھی ہوئی تھیں اندھوں کی طرح بیٹھے شیتل کی آہٹ سننے کے منتظر تھے
میں نے شیتل کے انداز میں منہ سے سانس کے بھپکے کے چھوڑتے ہوئے ہوں ہاں کی آواز نکالی
بلیک گائیڈ نے کہا تم آگئے شیتل
یہ کہہ کر اس نے دونوں ہاتھ کے اشارے سے کہا کہ میں اس کے قریب آؤں اور انگلیوں کے اشارے سے اپنی رپورٹ پیش کروں
میں اس کے قریب پہنچا لیکن انگلیوں سے اشارہ کرنے کے بجائے میں نے اس کے سر پر ایک چپت رسید کی اس نے بوکھلا کر کہا
ارے یہ کیا بدتمیزی ہے
میں نے اس کی سوچ میں کہا
پتہ نہیں شیتل کو کیا ہو گیا ہے اس نے ایسا پہلے تو کبھی نہیں کیا اب اگر میں آنکھوں سے پٹی ہٹا کر اسے دیکھوں گا تو پھر یہ ماحول مجھے نظر آئے گا اور جو کچھ نظر آئے گا اسے فرہاد میری سوچ کے ذریعے پڑھ لے گا ۔ نہیں مجھے اپنی انکھوں سے پٹی نہیں ہٹانی چاہیے
یہ فیصلہ کرنے کے بعد اس نے پھر اشاروں سے کہا شیتل میرے قریب آؤ اور جو کچھ میں کہتا ہوں اس پر عمل کرو
میں پھر اس کے قریب گیا اس بار میں نے اپنی دو انگلیوں سے اس کی ناک پکڑ کر مروڑ دی وہ تکلیف سے بلبلا اٹھا اس کے آواز سن کر شبیر حسن نے پوچھا کیا بات ہے تم کرا ہ کیوں رہے ہو؟
اس پر بلیک وائٹ نے چلا کر اپنی انکھوں سے پٹی ہٹا دی پھر مجھے دیکھتے ہی وہ چند لمحوں تک سکتے میں آگیا وہ مجھے چہرے سے نہیں پہچانتا تھا اس نے حیرانی سے پوچھا
کون ہو تم
میں ہوں تمہاری کھوپڑی میں گھس کر رہنے والا فرہاد
یہ کہہ کر میں نے زور کا الٹا ہاتھ اس کے منہ پر رسید کیا میرا نام سنتے ہی شبیر حسن نے اپنی آنکھوں سے پٹی ہٹا دی پھر مجھے دیکھتے ہی کہا ہاں یہ فرہاد ہے
میں نے کہا ڈائریکٹر جنرل صاحب آپ کیسے محب وطن ہیں کل سے اپ ایک دشمن کے ہاتھوں میں کھلونا بنے ہوئے ہیں ؟
شبیر حسن نے بلیک گائڈ کی طرف دیکھا بلیک گائڈ نے انہیں گھور کر دیکھتے ہوئے کہا تم میرے حکم کے بغیر اس کے کسی سوال کا جواب نہیں دو گے
میں نے بلیک گائیڈ کے منہ پر ایک گھونسا رسید کیا وہ چیختا ہوا صوفے سمیت پیچھے الٹ گیا وہ جسمانی اعتبار سے ایک دبلا پتلا سا آدمی تھا میرا ایک گھونسا کھاتے ہی خون تھوکنے لگا میں نے ایک رسی لے کر اس کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے اس کے بعد دوسرے کمرے میں گیا وہاں بھوانی شنکر ایک بستر پر پڑا ہوا تھا اس کی آنکھوں پر بھی پٹی بندھی ہوئی تھی
میں نے کہا بھوانی شنکر تم لوگوں کا آخری وقت اگیا ہے اپنی انکھوں سے اپنے جھوٹے غرور کی پٹی ہٹا
بھوانی شنکر نے ہڑبڑا کر اپنی آنکھوں سے پٹی ہٹا دی اب سے پہلے انٹیلیجنس والوں کے حوالات میں ہم دونوں کا سامنا ہو چکا تھا اس نے مجھے دیکھتے ہی پریشان ہو کر کہا
تم وہی ہو جس نے میرے جبڑے میں چھپی ہوئی فلم کی بو کو سونگ لیا تھا تمہاری وجہ سے میں اس حال کو پہنچا ہوں کاش میں اس وقت بیمار نہ ہوتا
میں نے قہقہہ لگاتے ہوئے اس کے سر کے بالوں کو اپنی مٹھی میں جکڑ لیا پھر اسے ایک جھٹکے سے اٹھا کر بٹھا دیا اس نے نقاہت کے باوجود مجھ پر حملہ کرنے کی کوشش کی لیکن میں نے اس کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ لیا اسی وقت دروازے پر شبیر حسن کی اواز سنائی دی
خبردار ایک طرف ہٹ جاؤ میں نے پلٹ کر دیکھا وہ ہاتھ میرے ریوالور لیے کھڑے تھے میں نے چلا کر کہا یہ کیا حماقت ہے آپ دشمنوں کا ساتھ دے رہے ہیں اور مجھے گولی کا نشانہ بنا رہے ہیں
میری سمجھ میں آگیا کہ وہ ٹرانس میں ہے میری باتیں ان کی سمجھ میں نہیں آئیں گی اور وہ بلیک گائیڈ کے حکم کی تعمیل کرتے رہیں گے یہ بات سمجھ میں آتے ہی میں نے بڑی پھرتی سے بھوانی شنکر کو اپنی طرف کھینچ کر ان کی جانب دھکیل دیا اسی وقت تو انہوں نے فائر کیا مگر میری تیزی کام آگئی تھی ریوالور کی گولی بھوانی کے آر پار ہو گئ وہ لڑکھڑا کر ان پر گر گیا اس کے ساتھ ہی میں نے ان پر چھلانگ لگا دی انہیں دوسری بار فائر کرنے کا موقع ہی نہیں دیا ان کے ریوالور والے ہاتھ کو پکڑ کر ایک طرف کر دیا پھر پے در پر ان کے منہ پر گھونسے برسانے لگا حتی کہ ریوالور ان کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر پڑا میں ریوالور اٹھا کر ان سے الگ ہو گیا ۔ پھر میں نے ان کے منہ پر پے در پے گھونسے مارےاور انہیں پکڑ کر کرسی پر باندھ دیا ۔
بلیک گائیڈ رسی کی بندشوں سے آزاد ہونے کی جدوجہد کر رہا تھا میں نے ایک زور کی ٹھوکر مارتے ہوئے کہا تم شبیر حسن کو معمول بنا کر نجات حاصل کر سکو گے؟ یہ تمہاری بھول ہے تمہاری خیریت اسی میں ہے کہ تم چپ چاپ پڑے رہو
یہ کہہ کر میں ٹیلی فون کے پاس آیا اور رسیور اٹھا کر انٹیلیجنس کے دفتر کے نمبر ڈائل کرنے لگا بلیک گائیڈ میری طرف دیکھ رہا تھا اس نے یک بریک دوستانہ لہجے میں کہا
فرہاد میں جانتا ہوں تم انٹیلیجنس کے آدمی نہیں ہو اگر تم چاہو تو ہم دوستی کا معاہدہ کر سکتے ہیں میری دوستی تمہارے مستقبل کو اتنا تابناک بنا دے گی کہ تم نے ایسی شاندار زندگی کے بارے میں سوچا بھی نہ ہوگا بیرونی ممالک کے بینکوں میں تمہارے نام سے لاکھوں کی رقم جمع ہوگی تمہاری پسند کے ممالک میں تمہارے لیے ایک گھر اور ایک کار مخصوص رہا کرے گی دنیا کی بہترین شراب اور حسین عورتیں تو میں مہیا کی جائیں گی یہ ملک تمہاری صلاحیتوں کی قدر نہیں کرے گا میں تمہیں زمین کی پستیوں سے اٹھا کر آسمان کی بلندیوں پر پہنچا دوں گا
میں نے جواب دیا میں سمجھتا تھا کہ تم بہت ذہین ہو مگر تم اول درجے کے ڈفر ہو کیا یہ بات تمہاری سمجھ میں نہیں آئی کہ میں جہاں جاؤں گا ٹیلی پیتھی کے ذریعے دنیا کی ہر خوشی خرید لوں گا خیال خانی ایک سکہ رائج الوقت ہے جو ہر ملک میں بغیر کسی عذر کے کیش ہو جاتا ہے تم مجھے کیا خریدو گے تمہارے جیسے ہزاروں بلیک گائیڈ کو اپنے علم کے بل پر میں خرید سکتا ہوں
اسی وقت فون پر انٹیلیجنس والوں سے رابطہ ہو گیا میں نے افیسر سے کہا کہ وہ فوراً چند مسلح جوانوں کو لے کر کوٹھی نمبر 412 راوی روڈ پہنچے یہاں ان کے ڈائریکٹر جنرل شبیر حسن دوسرے مجرموں کے ساتھ موجود ہیں
اس کے ساتھ ہی میں نے اپنا تعارف بھی کرا دیا وہ مجھے اچھے سےجانتے تھے۔لیکن پھر بھی ان کی طرف سے مطالبہ کیا گیا کہ اگر ڈائریکٹر انٹیلیجنس شبیر حسن وہاں موجود ہیں تو ہماری ان سے بات کرائی
اور یہ بات میں نے ان کو کتنےجتن سے سمجھائی یہ میں ہی جانتا ہوں کہ شبیر حسن دشمن کا معمول بنے ہوئے ہیں اور وہ اس وقت فون کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے
خیر میرے وضاحت دینے سے وہ کافی حد تک مطمئن ہو گئے اور اگلے 15 منٹ میں انٹیلیجنس کی ایک مسلح ٹیم نے کوٹھی کا محاصرہ کر لیا ۔
کچھ ہی دیر میں بلیک گائیڈ انٹیلیجنس پولیس کی حراست میں تھا ۔ شبیر حسن کو ایک علیحدہ جگہ پر رکھا گیا تھا ۔
ان کی وفاداری مشکوک ہو چکی تھی حالانکہ انہیں خود بھی پتا نہیں چلا تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہے ۔ جب انہیں ساری تفصیلات بتائ گئیں تو وہ شرمندگی سے کچھ بول نہ سکے۔ائیندہ کچھ دیر کے لئے شبیر کو نظر بند کر دیا گیا تھا اور ان کی جگہ سینئر افسر سعید احمد نے ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ سنبھال لیا تھا ۔سعید احمد نے بلیک گائیڈ سے ملکی راز اگلوانے کے لیے اسے میرے حوالے کر دیا تھا ۔ میں جانتا تھا کہ بلیک گائیڈ کے دماغ سے کچھ بھی حاصل کرنا ممکن نہیں جب تک کہ اس کے دماغ کو کمزور نہ کیا جائے ۔اس کے لیے ڈائرکٹر جنرل نے ایک ڈاکٹر کی خدمات حاصل کیں جس نے بلیک گائیڈ کے دماغ کومخصوص انجیکشنز کے ذریعے
اتنا کمزور کر دیا کہ وہ میرے زیر اثر آ گیا ۔ میں نے اس سے ملک کے ساری اہم فائلز کا پتا لگایا
اور دشمن کے تمام ٹھکانوں کے پتے معلوم کیے ۔
اسی سے مجھے یہ معلوم ہوا کہ وہ ہمارے ملک کے رازوں کا سودا کرنے کے لیے ایک غیر ملکی لڑکی سے رابطہ کرتا تھا ۔ شیتل اور چیتل اسے جانتے تھے ۔
وہ لڑکی آگ کا کھیل جانتی تھی۔
سعید احمد میری خدمات کے اتنے معترف تھے کہ ہر بات میں مجھ سے مشورہ کرنے لگے ۔ وہ مجھے ایجنسی میں اعلیٰ عہدہ دلوانا چاہتے تھے لیکن مجھے یہ منظور نہ تھا ۔
میں نے انہیں بتانا ضروری سمجھا کہ میں بھی ایک چھوٹے سے جرم کا مرتکب ہوا ہوں ۔ میرے پاس بلیک گائیڈ کا دست راست شیتل موجود ہے ۔ جو ہمارے بہت کام آ سکتا ہے
سعید احمد نے سر ہلا کر کہا
ہاں وہ کام کا آدمی ہے میں نے اس کی کیس ہسٹری پڑھی ہے لیکن تم نے اپنے دشمن کو پناہ کیوں دی ہے؟
وہ بہت کام کا آدمی ہے۔ اگرچہ وہ ان کاغذات کے بارے میں نہیں جانتا ہے جو بلیک گائیڈ نے چھپا کر رکھے ہیں اس کے باوجود وہ بلیک گائیڈ کے بارے میں بہت کچھ جانتا ہے بلیک گائیڈ نے تنوینی عمل کے زیر اثر جتنی خفیہ پناہ گاہوں کے پتے بتائے ہیں شیتل ان کے متعلق جانتا ہے۔ وہ ان لوگوں کے بارے میں بھی جانتا ہے جن سے اب تک بلیک گائیڈ رابطے کرتا رہا ہے۔
پھر تو شیتل واقعی کام کا آدمی ہے۔لیکن وہ تو تمہارا جانی دشمن ہے تم نے اسے دوست کیسے بنا لیا ہے؟
"اپنی صلاحیتوں سے"
واقعی تم اپنی صلاحیتوں سے بڑی بڑی حکومتوں کو جھکا سکتے ہو تمہارے آگے شیتل کیا چیز ہے۔
میں سعید احمد کو بتانے لگا کہ کس طرح شیتل چھانگا مانگا میں غنڈوں کا مقابلہ کرتے ہوئے بری طرح زخمی ہو گیا تھا۔ اس کے جسم پر گہرے زخم آئے ہیں وہ بہت بری حالت میں میرے یہاں زیر علاج ہے۔ میں نے سعید احمد سے کہا کہ وہ کسی طرح اسے قانون کی گرفت سے بچائے وہ کسی اچھے ڈاکٹر سے باقاعدہ اس کا علاج کروائیں
سعید احمد نے کہا
اچھا ہوا تم نے مجھے شیتل کے بارے میں سب کچھ بتا دیا ہم اسے سلطانی گواہ بنا کر عدالت میں پیش کریں گے میں ابھی دفتر پہنچ کر شیتل کے لیے ایمبولنس بھیجتا ہوں پولیس ہسپتال میں باقاعدہ اس کا علاج ہوتا رہے گا۔
میرے دل سے ایک بوجھ اتر گیا تھا اب میں شیتل کو چھپا کر کوئی جرم نہیں کر رہا ہوں اب وہ قانون کے سائے میں رہے گا اور میرے کام بھی آتا رہے گا۔
وہ دن بہت مصروفیت میں گزرا شیتل کو ہسپتال پہنچا دیا گیا تھا دفتری کاروائیاں بھی مکمل ہو گئی تھی فرزانہ پھر اپنی ڈیوٹی پر واپس چلی گئی تھی شام کو میں نے سعید احمد کے ساتھ ہسپتال جا کر شیتل سے ملاقات کی ۔
وہاں میں نے شیتل سے پوچھا کہ اس غیر ملکی ایجنٹ کے متعلق بتاؤ جس سے بلیک گائیڈ اہم کاغذات کا سودا کر رہا تھا۔
شتل نے بتایا کہ
وہ انگریز ہے اور ان دنوں کراچی میں ہے میں ایک بار بلیک ایڈ کے ساتھ وہاں گیا تھا میں اس جگہ کا نام اور پتہ نہیں بتا سکتا اس لیے کہ مجھے یاد نہیں ہے اگر مجھے اپنے ساتھ لے جاؤ گے تو میں تمہیں وہاں تک پہنچا دوں گا دور ہی سے اس کی کوٹھی دکھا دوں گا لیکن اس کوٹھی میں نہیں جاؤں گا۔
تم کوٹھی میں کیوں نہیں جاؤ گے۔ میں نے تعجب سے پوچھا
اس نے جواب دیا
اس کوٹھی میں انگریز کی ایک نوجوان لڑکی ہے مجھے اس سے ڈر لگتا ہے۔
میں نے اسے حیرانی سے دیکھتے ہوئے پوچھا یہ تم کیا کہہ رہے ہو تم دس آدمیوں پر بھاری ہو اور ایک نوجوان لڑکی سے ڈرتے ہو؟
میں دراصل اس سے نہیں آگ سے ڈرتا ہوں
آگ سے اس لڑکی کا کیا تعلق ہے؟
وہ آگ سے کھیلتی ہے۔ آگ کے شولوں پر رقص کرتی ہے۔ اور کھیلتے ہی کھیلتے وہ اپنے دشمنوں کو اس آگ میں جھونک دیتی ہے۔
اس کی باتیں میرے پلے نہیں بڑھ رہی تھیں۔ ایک لڑکی جو اگ کے شعلوں پر رقص کرتی ہو کیا وہ خود نہیں جلتی ہوگی؟
میں نے شیتل سے یہی سوال کیا۔
اس نے جواب دیا
ہاں آگ اس پر اثر نہیں کرتی اس لیے میں اسے ڈرتا ہوں میرا ایک جڑواں بھائی چیتل ہے وہ بھی میری طرح گونگا ہے میری طرح بہترین فائٹر ہے ہم دونوں بھائی ناقابل شکست ہیں ہم دنیا کی کسی چیز سے نہیں ڈرتے صرف آگ سے ڈرتے ہیں۔
سعید احمد نے مجھ سے پوچھا کہ یہ گونگا کیا کہہ رہا ہے
شیتل نے مجھے جو کچھ بتایا تھا میں وہ سید احمد کو بتانے لگا۔ تمام باتیں سننے کے بعد سید احمد نے کہا
مجھے تو یہ بات بکواس لگتی ہے کہ ایک لڑکی بے خوف و خطر آگ سے کھیلتی ہو اور آگ سے اپنے دشمنوں کو زیر کرتی ہو۔ اس سائنسی دور میں میں یہ تسلیم نہیں کروں گا کہ وہ کسی جادوئی عمل کے ذریعے ایسا کرتی ہے۔
میں نے کہا بہرحال میڈیکل سائنس کے ذریعے بھی اگر وہ لڑکی فائر پروف بن گئی ہے تو اس کے خطرناک ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ یہ غیر ملکی جاسوس یا خطرناک قسم کے مجرم ہمیشہ اپنے ساتھ شیتل جیسے ناقابل شکست باڈی گارڈ رکھتے ہیں اس لڑکی جیسے عجیب و غریب انسانوں کو بہترین حربوں کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
اس کا مطلب ہے ہمیں سب سے پہلے اس لڑکی کو حراست میں لینا ہوگا۔
میں نے کہا ہاں بشرطیکہ وہ ہمارے قابو میں آ جائے۔ ایسے مجرم عام طور پہ ترنوالہ نہیں ہوتے۔ ہمیں دشمن کو اچھی طرح جانچ کر پھر ان پر ہاتھ ڈالنا چاہیے۔
سعید احمد نے مسکراتے ہوئے کہا۔
معلوم ہوتا ہے شیتل کی طرح تم بھی خوفزدہ ہو گئے ہو۔
میں نے سعید احمد کے شانے پر ہاتھ رکھ کر کہا، دوست! سابقہ ڈائریکٹر جنرل نے بھی یہی کیا تھا۔ میں نے دو بار ان کو روکنے کی کوشش کی۔ انہوں نے میرے مشوروں کے خلاف دو بار مجرموں کے گرد گھیرا ڈالا اور دونوں بار انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ بلکہ دوسری بار تو وہ مجرموں کا آلہ کار بن گئے۔
سعید احمد نے تائید میں سر ہلا کر کہا
میں تمہاری ان باتوں کو تسلیم کرتا ہوں شبیر حسن صاحب کی ناکامیاں میرے سامنے ہیں میں اپنے تجربے پر فخر نہیں کروں گا بلکہ تمہارے تجربات سے فائدہ اٹھاؤں گا۔
مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ اپ ایک آفیسر کی بجائے ایک دوست بن کر میرے مشوروں کی قدر کر رہے ہیں ۔
میں نے کہا فی الحال ہم کراچی نہیں جا سکتے۔ اس لیے کہ شیتل کے صحت یاب ہونے میں ابھی کچھ وقت لگے گا۔ تب تک آپ دشمن کی ان پناگاہوں پر چھاپے ماریں جن کے پتے ہم بلیک ٹائیگر سے نوٹ کر چکے ہیں۔
میرا خیال ہے اس سلسلے میں میری کوئی خاص ضرورت نہیں ہوگی۔ میں کچھ دنوں کے لیے سکون سے رہنا چاہتا ہوں۔
سعید احمد نے بخوشی اجازت دے دی کہ میں کچھ عرصہ سکون سے گزاروں۔ ایک طویل عرصے بعد مجھے سکون اور حاصل ہو گیا ۔ میں نے چند روز فرزانہ کے ساتھ اتنی اچھی طرح گزارے کہ ان دنوں کی یادیں اب تک میرے حافظے میں محفوظ ہیں ۔
تقریبا ایک ہفتے کے بعد شیتل چلنے پھرنے کے قابل ہو گیا۔ اب وہ روزانہ ہلکی پھلکی ورزش کیا کرتا تھا ۔ وہ اپنی جسمانی پھرتی اور قوت کو بحال کرنے کی کوشش کر رہا تھا میں اس کی صحت یابی کا منتظر تھا جب وہ اچھلنے کودنے کے قابل ہو گیا تو میں نے اس سے کہا کہ وہ مجھے اپنے لڑنے کے داؤ پیچ سکھائے۔ وہ میرا فرمانبردار بن چکا تھا دن میں کئی کئی گھنٹے وہ مجھے لڑنے کی ٹریننگ دیتا تھا۔ میں نے اس سے سیکھنے کے دوران اتنی مار کھائی ہے کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔ بہرحال میں نے اپنی ہڈی پسلی تڑوا کر اس سے اتنا کچھ سیکھ لیا کہ اب اس کے مقابلے پر ڈٹ جاتا تھا ۔ وہ جتنی پھرتی سے مجھ پر حملہ کرتا تھا میں اپنے بچاؤ کے لیے اس سے بھی زیادہ پھرتی کا مظاہرہ کرتا تھا گھنٹوں وقفے وقفے سے لڑنے کے بعد وہ تسلیم کر لیتا کہ اب مجھے کوئی زیر نہیں کر سکتا۔ اس دوران میں اس کی سوچ کو پڑھتا رہتا تھا ۔ میں جاننا چاہتا تھا کہ وہ اپنے داؤ پیچ اپنے لیے چھپا کر تو نہیں رکھتا۔ کیونکہ اکثر استاد اپنی برتری کے لیے اپنے شاگردوں سے ایک آدھ داؤ پیچ بچا کر رکھتے ہیں۔ لیکن اس کی سوچ سے پتہ چلا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے اس نے بڑی ایمانداری سے مجھے سب کچھ سکھایا تھا۔
اس دوران سعید احمد اصرار کرتے رہے کہ ہمیں جلد از جلد کراچی چلنا چاہیے اور اس مشن کے اگلے مرحلے پر عمل کرنا چاہیے۔
مجھے ان کی بات سے اتفاق تھا ۔ وہاں جانے سے پہلے ہم نے کچھ آفیسرز کے ساتھ مل کر ایک منصوبہ ترتیب دیا ۔ اس کے مطابق ہم تینوں یعنی میں شیتل اور سعید احمد بذریعہ ہوائی جہاز کراچی جائیں گے۔ پہلے قدم پر شیتل مجھے اور سعید احمد کو اس کوٹھی کی نشان دہی کے لیے لے کر جائے گا ۔
پھر ہم اپنے ایک آدمی کو کوٹھی کے اندر بھیج کر اندر کی معلومات حاصل کریں گے ۔ اس کے بعد ان معلومات کے مطابق ایکشن لیا جائے گا ۔
اگلی صبح ہم کراچی آ گئے ۔ کراچی ائیرپورٹ پر سادہ کپڑوں میں سعید احمد کے ماتحتوں نے ہمیں رسیو کیا ۔ ہم کچھ دیر ہوٹل فلیٹیز کے دوسرے فلور پر بکڈ ایک کمرے میں آئے ۔ فریش ہوئے اور اپنی منزل کی طرف چل پڑے
وہاں کی انٹیلیجنس کی طرف سے ہمیں دو کاریں مہیا کی گئ تھیں ۔ سب سے آگے میں اور شیتل تھے پچھلی کار میں سعید احمد تھے۔ کچھ دور جا کر مجھے احساس ہوا کے ہمارے پیچھے ایک جیپ بھی ہے جس میں سادہ کپڑوں میں ملبوس چار آدمی تھے ۔
شی نے ہل پارک کی لین فائیو کے سامنے کار رکوائ اور تیسری کوٹھی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سمجھایا کہ
یہ ہماری مطلوبہ کوٹھی ہے ۔ یہاں سے آگے نہیں جا سکتا کیونکہ وہ باپ بیٹی مجھے پہچان لیں گے ۔ میں وہاں گاڑی سے اتر آیا اور شیتل کو واپس بھیج دیا ۔ سعید احمد بھی کار ایک سائیڈ پر روک کر میرے پاس چلے آئے ۔
میں نے پیچھے کھڑی جیپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا کہ
کیا یہ آپ کے آدمی ہیں ؟
سعید احمد نے پیچھے دیکھتے ہوئے کہا ہاں یہ ہمارے ہی آدمی ہیں ۔ ہمیں ان کی ضرورت پڑ سکتی ہے ۔ یہ پیچھے رہ کر ہمیں کور کریں گے ۔
مجھے یہ بات خاصی ناگوار گزرتی تھی کہ غیر ضروری لوگ ہمیشہ کام بگاڑ دیتے ہیں ۔ میں نے سعید احمد سے کہا
برائے مہربانی اپنے آدمیوں کو واپس بھیج دیجئے ۔ اس طرح دشمن الرٹ ہو جائے گا اور ہمارے منصوبے پر عمل درآمد نہیں ہو سکے گا ۔
سعید احمد میری بات سمجھ گئے ۔ وہ پیچھے کھڑی جیپ کی طرف چلے گئے ۔ کچھ دیر کے بعد ان کے ساتھ ایک آدمی میری طرف آتا دکھائی دیا ۔
" فرہاد یہ واجد ہے اسے اس کوٹھی کے بارے میں کافی معلومات ہیں ۔ جو ہمارے کام آ سکتی ہیں"
میں نے واجد کو کار میں بیٹھنے کا اشارہ کیا اور دوسری طرف سے گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ پر آ گیا ۔ سعید احمد پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئے ۔
واجد علی ہمیں بتانے لگا
" اس کوٹھی میں علم نجوم اور ستارہ شناسی کا ایک ماہر غیر ملکی اسٹوفر گریس اور اس کی حسین بیٹی انجلا رہتے ہیں ۔ وہ خود کو استنبول کا باشندہ کہتے ہیں اور ترکی کے پاسپورٹ پر آئے ہیں۔ اونچے طبقے کی لکھ پتی اور کروڑپتی عورتیں مستقبل کا حال معلوم کرنے کے لیے اسٹوفر کے پاس آتی ہیں منچلے نوجوان اور دل پھینک قسم کے بوڑھے انجلا کو دیکھنے جاتے ہیں اسٹوفر اپنی بیٹی انجلا کو اپنا معمول بناتا ہے ظاہر ہے کہ وہ اسے اپنے ہپناٹائز کرتا ہے لیکن اپنے دولت مند گاہکوں کے سامنے الٹے سیدھے منتر پڑھتا ہے ۔ہےسیدھے منتر پڑھتا ہے ان کے سامنے ایک سٹیج پر آگ دہکتی رہتی ہے اور شعلے بھڑکتے رہتے ہیں۔
انجلا اس کے حکم پر بے لباس ہو کر ان شعلوں کے درمیان چلی جاتی ہے پھر آگ میں جلنے کے دوران وہ لوگوں کو ماضی حال اور مستقبل کی باتیں بتاتی ہے میرا خیال ہے وہ باتیں کم سنتے ہیں اور اسے دیکھتے زیادہ ہیں کیونکہ وہ بے حد حسین ہے اور نگاہوں کو للچانے والا بے حد خطرناک جسم رکھتی ہے اس پر غضب یہ کہ اس کے بدن پر لباس نہیں ہوتا بھڑکتے ہوئے شعلے لباس کے چیتھڑوں کی طرح اسے ادھر ادھر سے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں جلتی آگ میں جلتے اور تپتے ہوئے بدن کا منظر بڑا ہی ہے جان انگیز ہوتا ہے ۔
اس کوٹھی میں داخلے کی فیس فی کس 5 سو روپیہ ہے
اس کے علاوہ وہ مسائل حل کرنے کا معاوضہ ہزار پانچ ہزار اور 10 ہزار تک لیتا ہے۔ اس علاقے کے لوگوں کے پاس بے حساب دولت ہے وہ اسے منہ مانگا معاوضہ دیتے ہیں بظاہر تو وہ ایک ماہر نجوم ہے لیکن جس انداز میں وہ ماضی حال اور مستقبل کی باتیں بتاتا ہے اور لوگوں کے مسائل حل کرتا ہے باطن میں اس کا یہ انداز کیبرے ڈانسر کا ہے بلکہ وہاں کا ماحول کیبرے سے زیادہ ہیجان انگیز ہوتا ہے مشکل یہ ہے کہ ہم اس کی ان حرکات کو غیر قانونی نہیں کہہ سکتے کیونکہ ہمارے ملک کے بیشتر شہروں میں ایسے طلسم کدہ ہیں جہاں عامل حضرات اپنے علم کے ذریعے روحوں کو طلب کرتے ہیں یہاں صرف فرق اتنا ہے کہ اسٹرفر کے بنائے ہوئے سٹیج پر کوئی روح نہیں آتی بلکہ انجلا کا جیتا جاگتا قیامت خیز بدن آتا ہے اور وہ بدن آگ کے شعلوں سے کھیل کر یہ ثابت کرتا ہے کہ اینجلا ایک ٹھوس جسم رکھنے کے باوجود ایک ایسی روح ہے یا آتشیں پیکر ہے جس پر آگ اثر نہیں کرتی وہاں جانے والے اس منظر سے بہت متاثر ہوتے ہیں اور دونوں باپ بیٹی کے عقیدت مند بن کر رہ جاتے ہیں۔
میں نے پوچھا کیا وہاں جانے کا کوئی وقت مقرر ہے؟
اس نے جواب دیا جی ہاں ضرورت مند صبح نو بجے سے 12 بجے تک وہاں جا کر اسٹوفر سے ملاقات کرتے ہیں اور اسے اپنی پریشانیاں بتاتے ہیں اس وقت اینجلا کسی کے سامنے نہیں اتی اسٹو فر صبح آنے والوں کو شام کا وقت دیتا ہے اور ان سے کہتا ہے کہ اس کی بیٹی انجلا ٹھیک سات بجے آگ کے شعلوں میں نہائے گی اور انہیں ان کی پریشانیوں کا سبب بتائے گی اور ان کا حل پیش کرے گی۔ یہ تماشہ صرف آدھے گھنٹے کے لیے ہوتا ہے اس کے بعد ضرورت مند تماشائی رخصت ہو جاتے ہیں آٹھ بجے کے بعد اس کوٹھی میں سناٹا چھا جاتا ہے۔
میں نے پوچھا کیا واقعی وہ لوگوں کے مسائل حل کر دیتا ہے اور انہیں ان کی پریشانیوں کا سبب بتا دیتا ہے؟
جی ہاں میں نے ایک دولت مند بوڑھے سے ملاقات کی تھی اس نے مجھے بتایا کہ اسٹروفر صحیح معنوں میں ایک عالم ہے اس نے اس بوڑھے کے ماضی اور حال کی باتیں بڑی تفصیل سے بتا دی جو کچھ بھی اس نے بتایا اس میں ایک لفظ بھی جھوٹ نہیں تھا پھر اس نے بوڑھے کو مستقبل کے لیے بہترین مشورہ دیا تھا
میں نے پوچھا وہ مشورہ کیا تھا
اس شخص نے جواب دیا اس نے بوڑھے سے کہا وہ کسی جوان لڑکی سے شادی کر لے بوڑھا بہت خوش ہوا کیونکہ اس نے اس کی خواہش کے مطابق اسے مشورہ دیا تھا۔
گاڑی میں کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئی ہے۔ سعید احمد نے میری طرف دیکھا اور پوچھا اب کیا ارادہ ہے؟ ہم دونوں کو اندر جا کر اسٹوفر سے ملاقات کرنی چاہیے ۔ آخر پتا تو چلے کہ وہ ہے کیا ۔
میں نے سعید احمد کو اشارہ کیا کہ وہ میرے ساتھ ایک سائیڈ پر آئیں ۔
ہم دونوں گاڑی سے اتر کر ایک سائیڈ پر کھڑے ہو گئے۔ میں نے انہیں سمجھایا کہ ابھی ہم واجد کو کوٹھی کے اندر بھیجیں گے وہ اپنے کسی مسئلے کا حل پوچھنے کے بہانے اس انگریز بوڑھے سے ملے اس سے باتیں کرے۔ میں واجد کی سوچ کے ذریعے اس بوڑھے انگریز کی سوچ تک پہنچ جاؤں گا اور پھر آگے کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دیں۔
سعید احمد میں ایک خوبی تھی کہ وہ میرے مشورے پر غور کرتے تھے ۔ پھر اگر وہ انہیں ٹھیک لگتا تو فوراً مان جاتے ۔ اس وقت بھی انہوں نے میری بات مان لی ۔
ہم دونوں گاڑی میں واپس آ گئے ۔ سعید احمد نے واجد کو سمجھایا کہ اسے کیا کرنا ہے ۔
میں کار ڈرائیو کرتا ہوا کوٹھی سے تھوڑا آگے نکل گیا ۔ آگے جا کر میں نے واجد علی کو اتارا اور ہم دونوں ہل پارک کے ایک کونے میں جا کر بیٹھ گئے ۔
میں واجد کی آنکھوں سے اس کے ارد گرد کے مناظر دیکھ رہا تھا ۔ وہ تیز تیز چلتا ہوا اس کوٹھی کے گیٹ پر پہنچ گیا تھا ۔ گیٹ اندر سے بند تھا ۔ اسنے ڈور بیل بجائ تو ایک مسلح گارڈ نے دروازا کھولا ۔ سامنے ڈرائیو وے سے گزر کر ایک شیشے کا دروازا تھا ۔ واجد گارڈ کے اشارے پر وہ دروازا کھول کر اندر چلا گیا ۔ یہ ایک بڑا سا ہال کمرہ تھا جس کی دیواروں کے ساتھ کرسیاں لگی ہوئی تھیں ۔ بلکل سامنے ایک کاونٹر تھا جس کے پیچھے ایک لڑکی کا غذ پر کچھ نوٹ کر رہی تھی ۔
کرسیوں پر مختلف لوگ اپنی باری کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ واجد بھی ایک کونے میں کرسی پر بیٹھ گیا ۔
کاؤنٹر کے پیچھے بیٹھی لڑکی نے واجد کو ایک چھوٹا سا کاغذ اور قلم تھمایا اور اسے کہا کہ اس پر اپنا ایڈریس ۔ نام اور یہاں آنے کی وجہ لکھ کر دے دے ۔واجد نے اس کے اوپر اپنا ایک فرضی نام احمد ، اور ایک فرضی پتہ لکھا ۔ اس نے یہ بھی لکھا کہ وہ اپنا نیا کاروبار شروع کرنا چاہتا ہے اور وہ یہاں یہ معلوم کرنے کے لیے آیا ہے کہ اس کے لیے کون سا کاروبار بہتر رہے گا۔ کاغذ لڑکی کو واپس کر کے وہ دوبارہ اسی کونے میں کرسی پر بیٹھ گیا۔ اس نے ایک سگریٹ سلگائی اور سوچنے لگا کہ ڈائریکٹر صاحب کی مہربانی سے وہ آج انجلا کو ضرور دیکھے گا جس کے حسن اور جوانی کے بہت چرچے ہیں۔ وہ سوچ رہا تھا اور میں اس کے چور خیالات کو پڑھ رہا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے محسوس کیا کہ واجد کے دماغ میں گڑبڑ سی ہو رہی ہے۔
اس کے دماغ میں دو مختلف قسم کی سوچیں ابھر رہی ہیں ایک سوچ اس سے کہہ رہی تھی کہ انجلا کے متعلق سوچنے سے پہلے اپنی حیثیت کے متعلق سوچو اگر وہ میری طرف مائل ہو گئی تو کیا میں اتنی دولت مند حسینہ کہ نخرے برداشت کر سکوں گا ؟
اس کی دوسری سوچ نے ذرا ٹھٹک کر کہا ہاں واقعی وہ میری حیثیت سے بہت اونچی ہے.
پہلی سوچ : مگر میری حیثیت کیا ہے
دوسری سوچ: میری حیثیت جو بھی ہے اسے سوچ کر میں کیا کروں گا
پہلی سوچ: سوچنے میں کیا حرج ہے ابھی خاموشی ہے مجھے دل ہی دل میں اپنے حالات کا جائزہ لینا چاہیے ہو سکتا ہے کہ میں اپنی حیثیت کو بلند کرنے کے لیے کوئی تدبیر کر سکوں ہاں میں سوچ رہا ہوں میں سوچ رہا ہوں
دوسری سوچ نے بے اختیار کہا میں ایک معمولی ملازم ہوں پہلی سوچ : مگر کہاں ملازم ہو دوسری سوچ میں انٹیلیجنس کے دفتر میں ملازم ہوں میری معمولی حیثیت کی وجہ سے شاید کبھی انجلا کے قریب نہ پہنچ سکوں لیکن وقتی طور پر اس تک پہنچنے کے لیے جاسوسی کے فرائض انجام دینے کا بہانہ ہاتھ آگیا ہے ۔
پہلی سوچ نے پوچھا میں یہاں آ کر کس قسم کی معلومات فراہم کر رہا ہوں
دوسری سوچ: ہاں مجھے اسٹرفر سے کس قسم کی باتیں کرنی چاہیے مجھے سوچ لینا چاہیے ۔ فی الحال تو میں اسے یہ کہوں گا کہ میں ایک بزنس مین ہوں اور کاروبار بڑھانے کے لیے کسی بہت اچھے ذریعے کی تلاش میں ہوں ۔ آپ مجھے بتائیں کیا مجھے کوئی ایسا فائنینسر مل سکے گا جو ایک اچھا بزنس شروع کرنے کا سٹارٹ فراہم کر سکے پھر شاید اسٹو فر کی حسین بیٹی شام کے سات بجے آگ کے شعلوں میں کھڑی ہو کر مجھے مشورہ دے گی ۔ مشورہ کون کمبخت سننا چاہتا ہے میں تو اس آگ والی کے بے لباس بدن سے آنکھیں سینکتا رہوں گا۔
پہلی سوچ نے مداخلت کی اس طرح جاسوسی کیا ہو سکے گی میں باس کو کیا رپورٹ دوں گا دوسری سوچ نے کہا رپورٹ کیا دینی ہے میں جو تماشہ یہاں دیکھوں گا وی ڈائریکٹر کے سامنے پیش کر دوں گا انہوں نے میرے ذمے اتنا ہی کام لگایا ہے اس سے زیادہ اور میں کیا کروں گا
پہلی سوچ ہاں ڈائریکٹر جنرل۔۔۔ ویسے جنرل اس وقت کہاں ہیں دوسری سوچ: پتہ نہیں کیوں میں بےتکی باتیں سوچے جا رہا ہوں پتہ نہیں وہ کہاں ہوں گے۔ ابھی کچھ دیر پہلے تو وہ یہاں سے دوسری اور تیسری کوٹھی کے سامنے اپنی کار کے پاس کھڑے ہوئے تھے ۔ تعجب ہے کہ میں بے وجہ بے مقصد ایسی باتیں سوچ رہا ہوں۔
میں نے ہڑبڑا کر آنکھیں کھول دیں۔
سید احمد نے چونک کر میری طرف دیکھا ۔ کیا بات ہے تمہاری انکھوں سے پریشانی ظاہر ہو رہی ہے۔
میں نے جواباً کہا گھر کا "بھیدی لنکا ڈھائے" واجد اپنے اور ہمارے بارے میں اسٹوفر کو سب کچھ بتا رہا ہے۔
کیا مطلب ؟ نہیں۔۔۔ واجد ایسا آدمی نہیں ہے۔ وہ خواہ مخواہ ایک مجرم کو ہمارا متعلق کچھ نہیں بتائے گا ۔
میں آپ کی بات تسلیم کرتا ہوں لیکن وہ نا دانستگی میں بھید کھول رہا ہے ۔ آپ کو یہ سن کر حیرانی ہوگی کہ مجرم بھی ٹیلی پیتھی کا ماہر ہے ابھی میں واجد کے ذہن میں جھانک رہا تھا وہاں میں نے مثبت اور منفی سوچوں کے سوال و جواب سنے ۔ منفی سوچ بہت ہی توانا اور تحمکانہ تھی اور واجد کی سوچ کے ذریعے اس کی اصلیت اگلوا رہی تھی سیعد احمد حیرانی سے آنکھیں پھاڑے مجھے دیکھ رہے تھے۔ میری باتیں سن کر انہوں نے کہا اس سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ وہ واقعی خیال خوانی کا ماہر ہے۔ تمہارا ٹکراؤ اپنے ہی جیسے ایک آدمی سے ہے۔
جی ہاں بیٹی آگ سے کھیلتی ہے اور باپ میری طرح دوسروں کے خیالات پڑھ لیتا ہے اب آپ خود ہی سوچیں وہ ہم سب کے ذہنوں میں جھانک کر کس طرح آسانی سے اپنے بچاؤ کی تدبیریں کر سکتا ہے اور ہمارے لیے کتنا نقصان دہ ہو سکتا ہے
فرہاد تمہاری پیش بندی کام آ گئ ۔ اگر میں اسے
تر نوالہ سمجھ کر گرفتار کرنے کوشش کرتا تو وہ بڑی آسانی سے بچ کر نکل جاتا ۔ اب تو اس کی گردن ناپنے کے لیے بڑی سخت پلیننگ کی ضرورت ہے ۔
جی ہاں سب سے پہلے تو ہمیں یہ کوشش کرنی چاہیے کہ ہمارا اور اس کا سامنا نہ ہو ورنہ وہ ہماری آنکھوں کے ذریعے یا ہماری گفتگو کے ذریعے ہمارے دماغوں میں جھانکنا شروع کر دے گا میں نے کبھی ایسے مجرم کے متعلق سوچا تک نہ تھا جو میری ہی صلاحیتیں اور حربے لے کر مجھ سے ٹکرائے گا۔
سعید احمد نے پوچھا اگر ہم اس کا سامنا نہیں کریں گے تو پھر وہ کیسے گرفت میں آئے گا؟
سامنا تو کرنا ہی ہوگا لیکن اس طرح کہ وہ ہم پر شبہ نہ کر سکے۔ ہمیں اپنی سوچ پر کنٹرول کرنا ہوگا اس کے سامنے جب بھی ہمارے دماغ میں متضاد سوچ پیدا ہو ،کیوں اور کیسے والے خیالات جنم لے، تو ہمیں اس وقت محتاط ہونا پڑے گا۔
اپ انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر جنرل ہیں لیکن آئندہ اپنی اصلیت چھپانے کے لیے اپ کو تنہائی میں بھی یہ سوچنا ہوگا کہ اپ ایک بزنس مین ہیں اور کاروبار کے سلسلے میں لاہور سے کراچی آئے ہیں بہتر ہے کہ ہم اپنا نام بدل لیں۔ کیونکہ واجد کے ذریعے سے ہمارے نام اور اپ کے عہدے کا پتہ چل چکا ہے۔ یہ اپ نے اچھا ہی کیا کہ واجد کو اسٹو فر کی کوٹھی سے سیدھا دفتر جانے کے لیے کہہ دیا اگر وہ وہاں سے ہمارے پاس آتا اور ہم سے گفتگو کرتا تو مجرم بھی میری طرف وہی چال چلتا یعنی واجد کی سوچ کے ذریعے ہماری گفتگو اور لہجے کی ڈور کو تھام کر ہمارے دماغ تک پہنچ جاتا ۔
واقعی ہم نے یہ دانشمندی کی ہے کہ واجد کو اپنے سے دور رکھا لیکن جب بھی میں دفتر جاؤں گا تو واجد سے سامنا ہوگا اور اسٹوفر اس تاک میں بیٹھا ہوگا کہ وہ اس کے ذریعے ہماری اصلیت تک پہنچے۔
سعید صاحب بڑی احتیاط کی ضرورت ہے میرا مشورہ ہے کہ اب آپ دفتر ہی نہ جائیں یا پھر یوں کریں کہ واجد سے پہلے آپ دفتر پہنچیں اور یہاں کے سینیئر افسر کو مشورہ دیں کہ وہ واجد کو ایک مہینے کے لیے عارضی طور پر ملازمت سے برخاست کر دے۔ اس کے لیے واجد کی کوئی غلطی تلاش کی جائے تاکہ خیال پڑھنے والے اسٹو فر کو یقین ہو جائے کہ اسے کسی احتیاطی تدبیر کے باعث ملازمت سے الگ نہیں کیا گیا ہے بلکہ اسے کسی غلطی کی سزا دی جا رہی ہے اس طرح اسے اس بات کا علم نہیں ہوگا کہ ہم اس کی ٹیلی پیتھی کی صلاحیتوں سے واقف ہو گئے ہیں۔
سعید احمد نے تائید میں سر ہلا کر کہا
ٹھیک ہے میں ابھی دفتر جاتا ہوں اور وہاں کے سینیئر افسر سے ملاقات کر کے واجد کو عارضی طور پر اس طرح ملازمت سے برخاست کروں گا اور یہ بھی کہوں گا کہ ایک مہینے تک وہ انٹیلیجنس کی عمارت میں داخل نہ ہونے پائے۔
اس کے علاوہ اور بھی احتیاطی قدم اٹھانا ہے مثلاً یہ کہ واجد کو ہماری رہائش کا علم ہے ہمیں فوراً ہی ہوٹل چھوڑ کر کہیں دوسری جگہ منتقل ہونا پڑے گا۔جو سرکاری گاڑیاں ہمارے استعمال میں ہیں ان کے نمبروں سے بھی واجد واقف ہے وہ بیچارہ ہمارا دشمن نہیں ہے لیکن نادانستگی میں اسٹوفر کا اعلی کار بنتا رہے گا اور اس کے لیے معلومات فراہم کرتا رہے گا لہذا ہمیں گاڑیاں بھی بدل دینی چاہیے اب اپ یہ بتائیں کہ ہم ہوٹل چھوڑ کر فوراً ہی کہاں منتقل ہو سکیں گے۔
سعید احمد نے کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا
یہاں ہاکس بے کے ساحل پر میرے ایک دوست کا کاٹج ہے ہم فی الحال وہاں چلے جائیں گے میں ان کاموں سے تقریباً دو تین گھنٹے میں فارغ ہو جاؤں گا یعنی ایک بجے میں شیتل کے ساتھ میٹرو پول میں تمہارا انتظار کروں گا۔
میں نے کہا ٹھیک ہے آپ یہ گاڑی لے جائیں۔
تمام پروگرام طے کرنے کے بعد وہ گاڑی لے کر چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد میں آہستہ آہستہ چلتا ہوا ہل پاک کے ایک سرے پر آگیا جہاں سے دور نشیبی حصے میں اسٹوفر کی کوٹھی نظر آرہی تھی میں ایک درخت سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا ۔ چند لمحوں تک اس کوٹھی کو دیکھتے رہنے کے بعد میں نے آنکھیں بند کر لی اور پھر سے واجد کے دماغ میں جھانکنے لگا ریسیپشن روم میں اس کے سوا جو ضرورت مند بیٹھے ہوئے تھے وہ اسٹروفر سے ملاقات کرنے کے بعد رخصت ہو گئے تھے اب واجد کی باری تھی۔
لیڈی سیکٹری اسٹوفر کے کمرے تک اس کی رہنمائی کر رہی تھی۔
اسٹوفر نے اپنے کمرے کو خالص مشرقی انداز میں سجا رکھا تھا۔ کمرے میں فرنیچر اور قالین وغیرہ نہیں تھے۔ کمرے کے ایک حصے میں چاندنی بچی ہوئی تھی بڑے بڑے گاؤ تکیے رکھے ہوئے تھے۔ جن کی ریشمی غلافوں پر سنہری دھاگوں سے ڈیزائن بنے ہوئے تھے ۔ ایک اونچے سے لوبان سوز میں کوئلے دہک رہے تھے اور اس میں سے اٹھتی خوشبو اور دھواں سارے کمرے میں پھیلا ہوا تھا ۔
میں اس سے بہت دور درخت سے ٹیک لگائے یہ منظر دیکھ رہا تھا ۔ ٹیلی پیتھی کے کرشمے سے مجھے طرح طرح کے نظارے دیکھنے کو ملتے تھے ۔ میرے دماغ کے پردے پر ایک فلم سی چلتی رہتی تھی اور آہنی دیواروں کے پیچھے چھپی ہوئی باتیں اور کردار میرے سامنے متحرک ہو جاتے تھے ۔
اسٹوفر ایک سنہری لبادے میں ملبوس گاؤ تکیوں کے درمیان ٹیک لگائے بیٹھا تھا ۔ اس کے سر پر بڑی سی ایک پگڑی تھی اس کو سرخ و سفید چہرے پر سرخی مائل داڑھی بہت جچ رہی تھی۔جب اس نے آنکھیں کھولی تو واجد ایک دم لرز گیا۔
واجد کی سوچ مجھے بتا رہی تھی کہ اسٹوفر کی آنکھوں کی جگہ دو دہکتے انگارے ہیں ۔ وہ انگارہ آنکھیں واجد کی سوچ کے ساتھ چپک گئ تھیں ۔ اور وہ بےاختیار جھکتا چلا جا رہا تھا ۔ اس کا جسم کانپ رہا تھا ۔
تب ہی ایک بھاری بھرکم آواز نے تحمکانہ لہجے میں واجد کے دماغ پر دستک دی۔
واجد جھوٹ انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے ہمارے سامنے ایک کاغذ رکھا ہوا ہے اس میں تم نے لکھا ہے کہ تم ایک بزنس مین ہو کیا یہ جھوٹ نہیں ہے؟
اسٹوفر نے واجد کو ہپنیٹائز کرنا شروع کر دیا تھا اس نے اپنی آنکھوں کو اس حد تک پرکشش بنا لیا تھا کہ واجد جیسا ضدی اور کھلاڑی طبیعت کا نوجوان اس کے سامنے جھک گیا تھا کیونکہ کہ ہپناٹزم کے عمل میں آواز کی بڑی اہمیت ہوتی ہے اور اسٹوفر کو بھاری بھرکم آواز اور حاکمانہ لہجے پر پوری قدرت حاصل تھی۔
واجد کی سوچ نے مجھے بتایا کہ اس کی ایک آواز کتنے ہی نوکیلے نشتروں کی طرح اس کے دماغ میں چبھ رہی ہے اور وہ اس کی کسی بات سے انکار کی جرات نہیں کر سکتا
اگلے ہی لمحے واجد لرزتی ہوئی آواز میں اپنے جھوٹ کا اعتراف کر رہا تھا تھا
جی ہاں! میں بزنس مین نہیں ہوں ایک ملازم ہوں ۔
کمرے کی محدود فضا میں پھر اسٹوفر کی آواز گونجنے لگی ہاں تم ملازم ہو پرائے گھر کے بھیدی ہو اسے جاسوس کہا جاتا ہے
واجد نے عقیدت سے سر جھکا کر کہا آپ واقعی عالم ہیں۔ آپ سے کوئی بات چھپی نہیں ہے مجھ سے بڑی غلطی ہوئی ہے میں آئندہ کوئی بات آپ سے نہیں چھپاؤں گا
تم یہاں صرف جاسوسی کے لیے نہیں آئے ہو تمہارے دل میں ایک ہلچل سی مچی ہوئی ہے اسے ہم سے نہ چھپاؤ صاف صاف بیان کرو
اتنی دیر میں، میں اسٹوفر کی آواز اور اس کی گفتگو کے لہجے کو اچھی طرح سمجھ رہا تھا۔اور اب اس کے دماغ میں جھانکنے کے قابل ہو گیا تھا مجھے چپ چاپ اس کی سوچ کو پڑھنا تھا اور اس بات کا خاص خیال رکھنا تھا کہ میری کوئی سوچ اس کے دماغ تک نہ پہنچے یہ اسی وقت ہوتا جب میں اس کے دماغ پر دستک نہ دیتا۔ میں نے سوچ رکھا تھا کہ جہاں تک ممکن ہوگا میں خود کو اس سے چھپاؤں گا اور چپ چاپ اس کی سوچ کا مطالعہ کرتا رہوں گا لہذا اس وقت بھی میں واجد کے ذریعے اسٹوفر کے دماغ کو پڑھنے لگا۔
اس وقت واجد ایک کشمکش میں مبتلا تھا ۔ وہ سوچ رہا تھا کہ کس طرح اسٹوفر سے کہے کہ وہ اس کی بیٹی کے لیے آیا ہے ۔
وہ سوچ رہا تھا ۔ اسٹوفر اس کی سوچ پڑھ رہا تھا اور میں اسٹوفر کی سوچ پڑھ رہا تھا۔
اسٹوفر واجد کو گہری نظروں سے دیکھتا ہوا سوچ رہا تھا۔
انسان کتنا کمینہ اور بزدل ہوتا ہے ۔ کسی کی بیٹی کو بے لباس دیکھنے کے لیے بے چین ہے لیکن بیٹی کے باپ کو دیکھ کر سارا عشق دھرا کا دھرا رہ جاتا ہے۔ انسان ایسی باتیں کیوں کرتا ہے جس کا اظہار وہ پوری دلیری سے دوسروں کے سامنے نہیں کر سکتا یہ بے وقوف جو میرے سامنے بیٹھا ہوا ہے یہ میرا بہترین آلہ کار بن سکتا ہے۔ یہ انٹیلیجنس کے بہت سے اہم راز مجھ تک پہنچائے گا اور یہ کام انجلا اس سے کروائے گی۔
یہ سوچ کر اس نے پھر گونجتی ہوئی آواز میں کہا !
"واجد تم کس کشمکش میں مبتلا ہو؟ تم لاکھ چھپانا چاہو پھر بھی راز چھپ نہیں سکتا ہم تمہارے چہرے پر ایک حسین دوشیزہ کی جھلکیاں دیکھ رہے ہیں وہ دوشیزہ تمہیں نہیں جانتی ہے لیکن اگر وہ تم جیسے خوبصورت نوجوان کو دیکھ لے تو تم پر ہزار جان سے عاشق ہو جائے گی۔ تمہاری زندگی کا نقشہ بدل دے گی۔ پھر تم ایک معمولی ملازم نہیں رہو گے ۔ اس کے پاس اتنی دولت ہے کہ وہ تمہیں ایک بہت بڑا بزنس مین بنا دے گی۔ تمہارے پاس کوٹھی ہوگی۔ کار ہوگی ۔ لاکھوں کا بیلنس ہوگا آج تم جن افسروں کے سامنے جھکتے ہو کل وہ تمہارے سامنے سر جھکا کر بات کریں گے۔
اسٹو فر کہہ رہا تھا اور واجد خوابوں کے اڑن کھڈولے میں اڑا جا رہا تھا۔ وہاں اس کے ساتھ حسین انجلا بھی تھی ۔اس نے فوراً ہی آگے بڑھ کر اس کے گھٹنوں کو چھوتے ہوئے کہا
"آپ واقعی پہنچے ہوئے بزرگ ہیں۔ آپ دلوں کا حال معلوم کر لیتے ہیں۔ اگر آپ کچھ جانتے ہیں تو مجھے بتا دیں کہ یہ دوشیزہ کون ہے؟ اور وہ مجھے کب اور کہاں ملے گی؟
"وہ تو میں ابھی ملے گی اور یہاں ملے گی"
اس دوشیزہ تک پہنچنے کے لیے لازمی ہے کہ پہلے تم جھوٹ سے توبہ کرو اور یہ یقین دلاؤ کہ ہمیشہ سچ بولو گے۔
واجد نے اپنے گالوں پر تھپڑ مارتے ہوئے کہا میں جھوٹ سے توبہ کرتا ہوں اگر اس شیزا کو حاصل کرنے اور ایک خوشحال مستقبل کے لیے سچ بولنا پڑے تو اس سے اچھی بات اور کیا ہوگی۔
"تو پھر سچ بتاؤ تم خود یہاں آئے ہو یا بھیجے گئے ہو ؟"
"میں خود یہاں آنا چاہتا تھا لیکن میری آمدنی اتنی نہیں تھی کہ میں آپ کی فیس ادا کر سکتا. آج اتفاق سے ایک دفتری کام نکل آیا اور جس سلسلے میں میرے افسر نے مجھے یہاں بھیجا ہے وہ باتیں آپ سے پوشیدہ نہیں ہیں۔
واجد سوچنے لگا کہ کیا اسے بتا دوں کہ مجھے ڈائریکٹر جنرل نے بھیجا ہے ۔
اسٹوفر نے کہا ، " تم ابھی بھی سچ بتانے پر ہچکچا رہے ہو ۔ اس طرح تم اس دوشیزہ تک پہنچ نہیں سکو گے ۔ کیا یہ بھی ہم بتا دیں کہ تم یہاں اپنے ڈائریکٹر جنرل کے ساتھ آئے تھے ۔
واجد چونک کر اس کو دیکھنے لگا۔ وہ ہر لمحہ اس بات کا قائل ہو رہا تھا کہ سامنے بیٹھا ہوا عالم غیب کی باتیں جانتا ہے اور اسے کچھ بھی چھپایا نہیں جا سکتا ہے۔
اسٹوفر نے کہا, "اب میں پھر تمہاری سچائی آزمانا چاہتا ہوں یہ بتاؤ کہ ڈائریکٹر جنرل کے ساتھ دوسرا آدمی کون تھا؟"
واجد نے کہا، "وہ دوسرا ادمی ڈائریکٹر جنرل کا دوست ہے وہ ہر معاملے میں اپنے دوست سے مشورہ کرتے ہیں اس کا نام فرہاد ہے"
واجد کی سوچ سے معلوم ہو رہا تھا کہ اس نے اسٹوفر کے سامنے مکمل ہتھیار ڈال دیے ہیں ۔ اب وہ اس سے جھوٹ بولنے کی غلطی نہیں کرے گا ۔
اسٹوفر نے کہا،" اس کا مطلب ہے کہ یہاں آنے کا مشورہ بھی فرہاد نہیں دیا تھا"
" ہاں میرا خیال ہے کہ یہ مشورہ بھی فرہاد نے ہی دیا تھا کیونکہ جب ہم کار میں بیٹھے ہوئے تھے تو ڈائریکٹر جنرل فرہاد کو لے کر ایک سائیڈ پر چلے گئے تھے اور وہ دونوں آپس میں کچھ باتیں کرنے لگے۔
پھر واپس آ کر انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کو ٹھی کے اندر جاؤں اور جا کر معلومات حاصل کرو ں۔"
" وہ میرے متعلق کیا معلوم کرنا چاہتے ہیں؟"
" انہیں آپ کے خلاف ٹھوس ثبوت چاہیے"
"کس بات کا ثبوت؟"
" اس بات کا ثبوت کہ آپ دشمن ملک کے ایجنٹ ہیں"
" انہیں کیسے شبہ ہوا کہ میں دشمن ملک کا ایجنٹ ہوں؟"
واجد نے جواب دیا "وہ دونوں اپس میں بات کر رہے تھے کہ اپ کسی سے ہمارے ملک کے اہم کاغذات کا سودا کر رہے ہیں۔"
اسٹوفر ایکدم چونک گیا ۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ بات اس حد تک گھمبیر ہے ۔
اس نے سنبھل کر پوچھا ، " انہیں اس بات کا بھی علم ہوگا کہ میں کس آدمی سے کاغذات کا سودا کر رہا ہوں ؟ "
مجھے یاد آیا کہ میں نے واجد کے سامنے ان کاغذات کے حوالے سے ایک بار بلیک ٹائیگر کا نام لیا تھا ۔
واجد ذہن پر زور ڈالتے ہوئے بولا ، " میں معافی چاہتا ہوں بہت یاد کرنے پر بھی مجھے اس شخص کا نام یاد نہیں آ رہا ہے ۔"
اسٹوفر واجد کی سوچ کو کھنگال چکا تھا ۔ وہ جانتا تھا کہ واجد جھوٹ نہیں بول رہا ۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ واجد کے دماغ کو الرٹ رکھے تاکہ وہ چھپے ہوئے گوشوں سے راز کی باتیں نکال لائے ۔ ٹیلی پیتھی کا ایک ہنر یہ بھی ہے کہ یہ انسان کی سوچ کے ذریعے وہ باتیں بھی معلوم کر لیتی ہے جو وہ بھول چکا ہوتا ہے ۔
اسٹوفر یہ سوچ رہا تھا کہ (دھرم دیر) بلیک گائیڈ لاہور میں ہے ۔ اس نے اب تک مجھے مائیکرو فلم نہیں بھیجی کہیں وہ گرفتار تو نہیں ہو گیا ۔ میں ابھی اس کے دماغ میں جا کر پتا کرتا ہوں ۔ اس فرہاد وغیرہ کو تو میں چونٹی کی طرح مسل کر رکھ دوں گا ۔
ابھی واجد کو انجلا کے پاس بھیجتا ہوں تاکہ یہ مکمل میری مٹھی میں آ جائے ۔ یہ کہہ کر اس نے انٹرکام کی بیل بجائ ۔
فوراً کاؤنٹر والی لڑکی کمرے میں داخل ہوئ ۔
اسٹوفر نے واجد کو انجلا کے پاس لے جانے کا حکم دیا ۔
میں نے بےچینی سے پہلو بدلا ۔ بلیک گائیڈ کے دماغ تک پہنچنے کا مطلب تھا اسٹوفر یہ جان جاتا کہ اسے فرہاد نے گرفتار کروایا ہے اور فرہاد علی تیمور ٹیلی پیتھی کا ماہر ہے ۔ یہ بہت بڑی گڑ بڑ ہونے جا رہی تھی ۔
کوی اور وقت ہوتا تو میں واجد کی سوچ میں رہ کر انجلا کو ضرور دیکھتا لیکن اب میری جان پر بنی ہوئی تھی ۔ میں واجد کے دماغ سے نکل آیا ۔
میں نے اسٹوفر کے دماغ میں جھانکا ۔ وہ آلتی پالتی مارے ، سانس روکے بیٹھا تھا ۔ اس کا مطلب تھا کہ وہ اپنی سوچ کو پوری قوت کے ساتھ ایک نقطے پر مرکوز کر رہا ہے ۔ اس مراقبے سے دماغی لہروں کی طاقت کئ گنا بڑھ جاتی ہے ۔
میں نے ادھر ادھر دیکھا ۔ ہل پارک میں اس وقت ویرانی چھائی ہوئی تھی ۔ آس پاس کوئ نہیں تھا ۔ میں بھی آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا ۔ آنکھیں بند کر کے میں نے سانس روک لی اور اپنے دماغ کی تمام طاقت جمع کر کے میلوں دور بلیک گائیڈ کے دماغ میں پہنچ گیا ۔ میں نے محسوس کیا کہ اس کی سوچ میں کوئ اور بھی موجود ہے ۔ اور وہ یقیناً اسٹوفر تھا ۔
تھوڑی دیر کے بعد میرے اندازے کی تصدیق ہو گئی ۔ بلیک گائیڈ کے دماغ میں ایک سوالیہ سوچ ابھری دوسرے لفظوں میں یوں کہنا چاہیے کہ اسٹوفر بلیک گائیڈ کی سوچ میں پوچھ رہا تھا" اس وقت میں کہاں بیٹھا ہوا ہوں؟"
بلیک گائیڈ نے سمجھا کہ یہ اس کی اپنی سوچ ہے اس نے جوابا کہا اہ اور کہاں بیٹھوں گا میں پنجرے میں اس طرح قید ہوں کہ پرندے کی طرح پھڑپھڑا بھی نہیں سکتا میرے پر کاٹ دیے گئے ہیں میری پرواز کی قوت کا نام شیدل ہے اور وہی مجھ سے بچھڑ گیا ہے ان حالات میں اس کی مدد کے بغیر میں کچھ نہیں کر سکتا
اسٹوفر کی سوچ نے کہا
میرا باڈی گارڈ شیتل میری مدد کے لیے ضرور ائے گا مجھے اس پر بھروسہ کرنا چاہیے اور ابھی ان کاغذات کے متعلق سوچنا چاہیے جنہیں میں نے بڑی حفاظت سے چھپا رکھا ہے
میں ان کاغذات کے متعلق کیا سوچوں جو میرے قبضے سے نکل چکے ہیں اس کے متعلق سوچ کر وقت کیوں ضائع کروں
اسٹوفر کی سوچ نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن یہ تو مجھے سوچنا چاہیے کہ میری گرفتاری سے میرے اپنے لوگوں کو نقصان پہنچا ہے
بہت نقصان پہنچا ہے میری جان چلی جاتی تب بھی میں اپنے لوگوں کا پتہ نہ بتاتا لیکن وہ کمبخت فرہاد۔۔۔۔۔
میں نے فورا مداخلت کی۔ کیونکہ بلیک گائز یہ کہنے جا رہا تھا کہ فرہاد حپناٹزم اور ٹیلی پیتھی کے ذریعے اس سے سب کچھ گلوا چکا ہے اس لیے اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی یعنی اس کی سوچ میں کہا
رام رام ۔۔۔۔گڑبڑ ہو گئی۔۔۔۔ گڑبڑ ہو گئی۔۔۔۔ فرہاد گڑبم۔۔۔۔ہرے راما ہرے کرشنا۔۔۔ تراشیدم۔۔۔۔ پرستم ۔۔۔۔دم شکستم۔۔۔ دم فرہاد گڑبڑم۔۔۔
اس بکواس جے بعد میں اسٹوفر کی سوچ پڑھنے لگا ۔ وہ سوچ رہا تھا ، " یہ کیا بات ہوئی یہ تو کچھ الٹی سیدھی سی باتیں کر رہا ہے اس بجواس میں جو فارسی الفاظ ہیں انہیں تو میں سمجھتا ہوں اس لیے کہ میں فارسی زبان جانتا ہوں لیکن یہ گڑبڑم اور فرہادم شاید سنسکرت زبان ہے"
یہ سوچنے کے بعد اسٹوفر نے پھر بلیک گائیڈ کی سوچ میں کہا" میں کیسی بکواس کر رہا ہوں میں شاید فرہاد کے متعلق کچھ کہتے کہتے بکواس کرنے لگا تھا مجھے ابھی فرہاد کے متعلق سوچنا چاہیے"
میں نے پھر بلیک گائیڈ کی سوچ میں ہلچل مچائی
گڑبڑم۔۔۔ فرہادم نے میرے ذہن میں کانٹے بھر دیے ہیں اس نے مجھے ایسی ذہنی اذیتیں پہنچائی ہیں کہ میں اکثر سوچتے سوچتے گڑبڑا جاتا ہوں میرا دماغ الٹا سیدھا سوچنے لگتا ہے نہ جانے میرا کیا ہونے والا ہے؟
اس کی سوچ بڑھ کر اسٹو فر سوچ میں پڑ گیا کہ آخر بلیک گائیڈ جیسے زہین آدمی کو کیا ہو گیا ہے؟ وہ بلیک گائیڈ سے مل چکا تھا اور اس کی ذہانت سے بہت متاثر ہوا تھا اب اس کی الٹی سیدھی سوچیں پڑھ کر یہ سمجھنے پر مجبور ہو گیا کہ اس ملک کے انٹیلیجنس والے بہت چالاک ہیں انہوں نے بلیک گائیڈ جیسے زہین مجرم کو جسمانی اذیتیں دینے کی بجائے ذہنی اذیتیں پہنچائی ہیں اور یہ شدید اذیت بچانے والا ہی فرہاد ہے جب بھی فرہاد کا نام آتا ہے اس کی سوچ میں کھلبلی سی مچ جاتی ہے اور وہ سہمے ہوئے انداز میں کبھی فارسی اور کبھی سنسکرت میں بکواس کرتا ہے۔ اس کے دوران بھی وہ فرہادم کہتا ہے یعنی اذیتیں دینے والا فرہاد اتنا خطرناک اور ظالم ہے جس کے نام سے مجرم کانپ جاتے ہیں۔
یہ سوچنے کے بعد اس نے آزمائشی طور پر دو تین بار بلیک گائیڈ کی سوچ کو پھر سے اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔میں بھی محتاط بیٹھا ہوا تھا۔ جب بھی بلیک گائیڈ کی سوچ میں میرا نام آتا میں فوراً ہی اس کی سوچ میں انتشار پیدا کر دیتا آخر اسٹوفر نے تھک ہار کر یہ سمجھ لیا کہ وہ بلیک گائیڈ کے پراگندہ ذہن سے اہم معلومات حاصل نہیں کر سکے گا لہٰذا اس نے بلیک گائیڈ سے دماغی رابطہ توڑ دیا میں نے بھی اطمینان کی سانس لی۔ بلیک کو چھوڑ کر پھر اس اسٹوفر کے دماغ میں جھانکنے لگا۔
اس وقت اس کی سوچ کا ہیرو میں تھا ۔ وہ میرے بارے میں سوچ رہا تھا کہ یہ فرہاد کوئ بہت ہی خطرناک اور ظالم انسان ہے جس نے بلیک گائیڈ جیسے مجرم کو چوہا بنا کر رکھ دیا ہے ۔ مجھے پہلے فرہاد تک پہنچنا ہے ایک بار میں نے اسے ایک نظر دیکھ لیا تو پھر ٹیلی پیتھی کے ذریعے اسے قابو کرنا میرے لئے کوئ مشکل نہیں ۔ یہی سوچتے ہوئے اسے شیتل کا خیال آیا ۔ اس نے سوچا شیتل ضرور فرہاد کو جانتا ہوگا ۔
لیکن اس کی سوچ سے پہلے میں شیتل کے دماغ میں پہنچ چکا تھا ۔ اس بار بھی میں نے اسٹوفر کو فرہاد علی تیمور تک پہنچنے نہیں دیا ۔ جونہی شیتل کی سوچ میں فرہاد کا ذکر آتا میں اسے بھٹکا دیتا ۔ اسٹوفر شیتل سے بھی مایوس ہو کر اب واجد کے متعلق سوچنے لگا تھا اس کے مطابق اب واجد کی ایک ذریعہ تھا جس کی مدد سے وہ مجھ تک پہنچ سکتا تھا ۔ اس نے واجد کی سوچ میں چھلانگ لگائی ۔
واجد انجلا کے پاس بیٹھا تھا ۔ اور وہ اس سے خوب لگاوٹ بھری باتیں کر رہی تھی ۔ وہ کہہ رہی تھی!
واجد تم ایک معمولی شکل و صورت کے ادمی ہو لیکن پھر بھی میرا دل تمہاری طرف کھچا چلا جا رہا ہے۔ تم ہی بتاؤ تمہارے اندر ایسی کیا بات ہے کہ میرا دل بار بار تمہیں دیکھنے کو کر رہا ہے۔
واجد کی آواز سنائی دی
"محبت اسی کو کہتے ہیں عشق ہو جائے تو صورت شکل نہیں دیکھی جاتی صرف دل کی دھڑکنیں گنی جاتی ہیں اب تم سے جدا ہو کر میں تارے گنا کروں گا۔" وہ بکواس کر رہا تھا
اسٹوفر نے انجلا کی سوچ میں کہا " انشاءاللہ ایک بہت ہی ضروری ہدایت ہے واجد کو بڑی محبت سے مجبور کرو کہ ابھی وہ تمہارے پاس سے اٹھ کر جائے اور اپنے ڈائریکٹر جنرل کے دوست فرہاد سے ملاقات کرے۔
اگر وہ کہے کہ وہ اپنے افسر سے یا افسر کے کسی دوست سے ان کی اجازت کے بغیر نہیں مل سکتا تو تم اسے شہ دو اسے سمجھاؤ کہ وہ بڑے آدمیوں سے بلا جھجک نہیں ملے گا تو خود بڑا آدمی کیسے بنے گا تم اسے سہارا دو کہ اگر فرہاد سے ملنے کی کوشش میں اس کی ملازمت چلی گئی تو وہ کوئی غم نہ کرے تم اس کے ساتھ مستقبل کے محبت بھرے منصوبے بناؤ گی اور اسے ایک بہت بڑے کاروبار کے لیے بہت بڑی رقم دو گی"
بیٹی کی سوچ نے کہا!
" ڈیڈی آپ فکر نہ کریں یہ الو کا پٹھا مجھ پر مر مٹا ہے میں جیسے چاہوں گی اس کو ناچ نچاؤں گی۔ میں ابھی اسے فرہاد کے پاس بھیج رہی ہوں اس وقت انجلا آنکھیں بند کیے ہوئے اور ایک ہاتھ سے سر کو تھامے ہوئے باپ سے گفتگو کر رہی تھی۔ واجد نے اس سے پوچھا تم اس طرح کیوں بیٹھی ہو کیا سر میں درد ہو رہا ہے ؟ اس نے جواب دیا ہاں کبھی کبھی اچانک ہی سر دکھنے لگتا ہے۔ میں چاہتی تھی کہ ابھی تمہارے ساتھ مستقبل کے منصوبے بناؤں لیکن اس سے پہلے میں یہ دیکھنا چاہتی ہوں کہ تم کتنے حوصلہ مند آدمی ہو۔ کیا تم بڑے لوگوں سے بلا جھجک گفتگو کر سکتے ہو؟
" ہاں کیوں نہیں. یہ کون سی بڑی بات ہے؟"
" اچھا تو میں آزماتی ہوں۔ تم ابھی یہاں سے جاؤ اور اپنے ڈائریکٹر جنرل سے اور اس کے دوست سے ملاقات کرو۔ واجد نے جھجکتے ہوئے کہا ڈائریکٹر جنرل نے مجھے حکم دیا ہے کہ اس کوٹھی سے نکل کر سیدھا دفتر چلا جاؤں۔ وہ لوگ تو شاید کسی ہوٹل کے کمرے میں آرام کرنے چلے گئے ہوں گے۔ ان کی اجازت کے بغیر میں وہاں جا کر ان سے ملاقات نہیں کر سکتا ۔"
انجلا نے کہا!" اس کو چھوٹا پن کہتے ہیں تم اس لیے احساس کمتری میں مبتلا ہو کہ تم ان کے ملازم ہو۔ لیکن میری محبت کی ایک شرط یہ ہے کہ تم خود کو کسی کا ملازم نہ سمجھو۔ آج سے تم کہیں ملازمت نہیں کرو گے۔ میں تمہیں اتنی بڑی رقم دوں گی کہ تم اپنی تمام مجبوریوں اور محتاجیوں کو بھول جاؤ گے لیکن اس کے لیے بھی ایک شرط ہے کہ پہلے تم بڑے لوگوں کے سامنے سر اٹھا کر بات کرنا سیکھو اس لیے میں تمہیں آزمائش کے طور پر کہہ رہی ہوں کہ اب تک تم جن بڑے لوگوں کو سمجھتے رہے ہو پہلے انہی کے پاس جا کر خاص طور پر ڈائریکٹر جنرل اور فرہاد کے سامنے پہنچ کر ان کے منہ پر کہو کہ تم یہ حقیر سی ملازمت نہیں کرو گے۔"
واجد یہ سوچنے لگا کہ " انجلا پہلی ہی ملاقات میں میری ہو گئی ہے ۔ مجھے اپنے ساتھ ایک شاندار زندگی گزارنے کا مشورہ دے رہی ہے۔ آج سے میری زندگی کا رخ بدل رہا ہے اور جب کہ مجھے ملازمت چھوڑنی ہی ہے تو پھر ڈائریکٹر جنرل اور فرہاد کے سامنے ڈرنا کیسا ؟میں ابھی ان کے سامنے جاؤں گا اور انہیں بتاؤں گا کہ مجھے اس دو ٹکے کی نوکری کی قطعاً ضرورت نہیں "
وہ کوٹھی سے نکلا اور تیر کی طرح ہوٹل فلیٹیز پہنچا ۔ کاؤنٹر سے اسے پتا چلا کہ وہ دونوں ہوٹل چھوڑ گئے ہیں ۔ اس دوران اسٹوفر اس کے دماغ میں موجود رہا ۔ وہاں سے نکل کر وہ دفتر پہنچا تو اسے ایک لیٹر ملا جس میں اس کے ایک مہینے کی ٹرمینیشن کے آرڈر تھے ۔
اسٹوفر نے اس سے رابطہ منقطع کر لیا ۔ اب وہ اس کے کام کا آدمی نہیں تھا ۔ وہ انجلا سے کہہ رہا تھا کہ" یہ سب باتیں کسی بڑی گڑبڑ کی طرف اشارہ ہیں ۔ فرہاد اور ڈائریکٹر جنرل جان بوجھ کر نظروں سے اوجھل ہوگئے ہیں ۔ حالانکہ آج صبح وہ میری کوٹھی کے قریب موجود تھے ۔ انہوں نے واجد کو چارا بنا کر آگے کیا ہے ۔ پھر غائب ہو گئے ۔پھر واجد کو ایک مہینے کے لیے دفتر سے نکال دیا گیا ۔ یہ سب اس بات کو ظاہر کر رہا ہے کہ انہیں واجد پر شبہ ہو گیا تھا کہ وہ میرا آلہ کار بن چکا ہے۔ لیکن کیسے ؟"
انجلا نے کہا" ڈیڈی جس طرح فرہاد احتیاطی تدابیر کر رہا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فرہاد ہمارے منصوبوں سے واقف ہو گیا ہے اور اسے واجد پر شبہ ہو گیا ہے کہ اسے اپ نے اپنا آلہ کار
بنا لیا ہے"
" ہاں مجھے یقین ہے کہ یہ ایسا ہی ہے لیکن مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ اسے کیسے یہ معلوم ہوا کہ واجد ہمارا آلہ کار بن چکا ہے؟
"ڈیڈی مجھے تو لگ رہا ہے کہ فرہاد بھی دماغوں کو پڑھنا جانتا ہے " انجلا نے کچھ سوچتے ہوئے کہا
" نہیں یہ ممکن نہیں ۔ اس پسماندہ ملک میں تعلیم کی کمی اور وسائل کے نہ ہونے کی وجہ سے یہ ممکن نہیں کہ کوئ ٹیلی پیتھی کا علم حاصل کر لے ۔ یہاں بک اسٹالز پر ایسی کتابیں موجود ہیں جن میں صرف ابتدائی چیزیں لکھی ہیں ۔ ٹیلی پیتھی سیکھنے کے لئے جو ویژن چاہیے وہ یہاں ناپید ہے ۔"
انجلا نے کہا واجد ناکام ہو کر یہاں آ رہا ہوگا اس کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟
ابھی اس کے ساتھ محبت پیش آؤ ۔ اور اسے فرہاد کے پیچھے لگائے رکھو ہو سکتا ہے اس سے کہیں اتفاقیہ ملاقات ہو جائے ۔
اسے صبح تک ٹال دینا ۔ کیوں کہ رات نو بجے تمہیں صمد بخاری سے عشق کرنا ہے "
وہ بہت دیر تک اپنے مطلب کی باتیں کرتے رہے ۔ میں وہاں سے اٹھ کر کاٹیج میں چلا آیا ۔
مجھے دیکھتے ہی سعید احمد پوچھنے لگے " کہو فرہاد کیا خبر ہے ؟ "
میں نے ان سے پوچھا " آپ کے دفتر میں صمد بخاری نام کا کوئ آدمی ہے ؟ "
وہ حیرانی سے بتانے لگے کہ صمد بخاری ایک ہیڈ کلرک ہے ۔ تمام فائلیں اس کے ہاتھ سے ہو کر مجھ تک پہنچتی ہیں ۔
لیکن تم کیوں ہوچھ رہے ہو ؟
میں نے کہا آج رات انجلا نے اسے ہوٹل سویٹ ڈریمز میں ڈنر پر بلایا ہے ۔ وہ اسے محبت کے جال میں پھنسا کر کچھ فائلز کے بارے میں معلومات لینا چاہتی ہے "
سیعد احمد نے کہا اچھا ہوا تم نے مجھے بتا دیا اب ہم صمد بخاری کو وہاں جانے سے روک دیں گے۔
میں نے کہا اس سے کیا ہوگا
وہ پہلے ہی ہمارے غائب ہونے سے اور واجد کی دفتر سے نکالے جانے پر الرٹ ہو چکے ہیں۔ اگر ہم نے صمد بخاری کو وہاں جانے سے روک دیا تو ہمیں ان کے منصوبوں کا علم نہیں ہو سکے گا آپ انہیں ان کے منصوبوں پر کھل کر عمل کرنے دیجئے تاکہ ہم ان پر بروقت ہاتھ ڈال سکیں۔ ائندہ کی حکمت عملی یہ ہے کہ ہم دونوں اپنے نام بدل لیں
میرا نام شہزاد ہوگا میں اب سے شہزاد انور کے نام سے پہچانا جاتا ہوں۔ آپ اپنا نام خود سوچ لیں۔
سعید احمد بولے ٹھیک میرا نام مراد علی ہوگا
میں نے ان سے کہا اب ہم ایک دوسرے کو اسی نام سے مخاطب کیا کریں گے حتیٰ کہ ہم اپنی تنہائی میں بھی جب اپنے متعلق سوچیں گے تو میں خود کو شہزاد انور کے طور پر سوچوں گا ۔ آپ بھی ہر حال میں سوتے جاگتے خود کو مراد علی کے نام سے یاد کریں گے اگر آپ نے سوچنے کے دوران بھول سے بھی خود کو سعید احمد یا ڈائریکٹر جنرل کہا تو اسٹوفر ہماری اصلیت تک پہنچ جائے گا کیونکہ ہم یہ نہیں جانتے ہیں کہ وہ کس وقت اچانک ہی ہمارے دماغ میں جھانکنے لگے گا ہوٹل سویٹ ڈریمز میں واجد سے سامنا ہونے کا اندیشہ نہیں ہے اس لیے انجلا اور اسٹوفر سے ہمارا سامنا ہوگا تو اسٹوفر اس وقت تک ہماری اصلیت کو نہیں پہنچ سکے گا جب تک کہ ہم اپنے دماغ میں چپ چاپ اپنی اصلیت کے متعلق نہ سوچیں۔
سعید احمد نے کہا!
" فرہاد سوچ پر کنٹرول رکھنا بہت مشکل ہے انسان اکثر خیالات کی دھن میں بے اختیار نہ جانے کیا کیا سوچتا چلا جاتا ہے سوچ ایک ایسا نشہ ہے کہ انسان بیداری کے عالم میں بھی ہوش سے بیگانا ہو جاتا ہے وہ خیالات سے چونکتا ہے تو خود یہ نہیں کہہ سکتا کہ چند منٹ پہلے وہ کیا سوچ رہا تھا انسان لاکھوں روپے انگلیوں پر گن سکتا ہے لیکن اپنی سوچ کے پوائنٹ کو یاد نہیں کر سکتا میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے اپنے آپ پر اختیار نہیں ہے پتہ نہیں اسٹوفر کیسے کیسے ہتکنڈوں سے میری حیثیت یا سوچ بن کر میرے ذہن کو کھنگالنے کی کوشش کرے۔ تم سوچ نگر کے باشندے ہو اور ذہنی قلابازیوں کو اچھی طرح سمجھتے ہو اس کا علم تم پر اثر انداز نہ ہو سکے گا ۔ لیکن کسی نہ کسی طرح مجھے متاثر کر دے گا اس لیے میں ان کا سامنا نہیں کرنا چاہتا ہوں ۔تم تنہا وہاں جاؤ گے۔ میں تمہاری حفاظت کے لیے تم سے دور رہوں گا ۔"
میں نے کہا ! "حفاظت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ نہ تو میرا وہاں کوئ جھگڑا ہوگا ۔نہ میں وہاں انہیں اپنی اصلیت تک پہنچنے کا موقع دوں گا۔ وہاں میں ایک اجنبی کی حیثیت سے جاؤں گا اورنجلا میں دلچسپی لے کر ایک عاشق کا رول ادا کروں گا ۔ "
سعید احمد بولے
"اچھا تو پھر طے ہو گیا میں ابھی کچھ دیر کے بعد لاہور واپس چلا جاؤں گا اس دوران اگر تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہو تو تم رابطہ کر لینا "
میں نے سعید احمد سے کہا " ہاں آپ لاہور واپس چلے جائیں اور اپنے ساتھ شیتل کو بھی لے جائیں ۔ میرا نہیں خیال مجھے اس کی ضرورت پڑے گی ۔ اگر وہ میرے ساتھ رہا تو صاف پہچانا جائے گا "
سعید احمد تیاری کے لیے کمرے سے نکل گئے ۔ اس دوران میں نے پھوپھی جان اور فرزانہ کو خط لکھے ۔ پھوپھی جان کو شیتل کے بارے میں آگاہ کیا کہ وہ آپ کے پاس ہی رہے گا اور آپ اس کا خاص خیال رکھیں گی ۔ اس کے علاؤہ انہیں بتایا کہ فرزانہ اور اس کے بیٹے کو انیکسی والے دو کمرے دے دیں ۔ وہ مجھے کرایہ ادا کیا کرے گی ( کرائے والی بات میں نے پھوپھی جان کو مطمئن کرنے کے لیے کہی تاکہ وہ اور زرینہ فرزانہ کو تنگ نہ کریں ۔)
پھر میں نے فرزانہ کو لکھا کہ تم اسی کوٹھی کی انیکسی میں شفٹ ہو جاؤ ۔ میں ایک مناسب رقم بھیجتا رہوں گا ۔ میں نے اسے بہت پیار سے مشورہ دیا کہ وہ میرے انتظار میں اپنی عمر برباد نہ کرے ۔ اور جلد از جلد اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کر لے ۔ کیوں کہ میری زندگی کا کوئ بھروسہ نہیں آج یہاں ہوں تو کل کدھر ۔ میں اسے اور اس کے بیٹے کو کسی قسم کے خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا ۔
میں نے خط لفافے میں بند کر کے سیل کر دیے ۔ اور ایک پر پھوپھی جان کا نام لکھا اور دوسرے پر فرزانہ کا ۔
جب شیتل وہاں سے روانہ ہوا تو میں نے اسے دونوں خط دیے اور کہا کہ یہ پھوپھی جان اور فرزانہ کو دے دے ۔
ہوٹل سویٹ ڈریمز کے بڑے ہال میں دور تک میںزیں بچھی ہوئی تھی ۔ نوجوان لڑکیاں ویٹرس کے فرائض انجام دے رہی تھیں ۔ وہاں نوجوانوں سے
زیادہ بوڑھے دولت مند نظر آرہے تھے۔ وہ بوڑھے بڑی بے چینی سے بار بار سٹیج کی جانب دیکھ رہے تھے جہاں ایک مصری رقاصہ رقص کرنے والی تھی۔ رقص کے دوران آہستہ آہستہ اپنا لباس للچانے والے انداز میں اتارتی تھی ۔ وہاں بوڑھوں کی تعداد اس لیے زیادہ تھی کہ ان کی جوانی مر چکی تھی صرف ہوس باقی تھی۔ ایسے وقت جب کہ بوڑھے جسم ہوس کی تکمیل کے قابل نہیں رہتے تو وہ صرف نگاہوں سے اپنی پیاس بجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس لیے وہ بار بار للچائی ہوئی نظروں سے سٹیج کی جانب دیکھ رہے تھے۔
ٹھیک 10 بجے ایک نہایت حسین عورت اس حال میں داخل ہوئی۔ اس کا حسن اور اس کا لباس ایسا تھا کہ تمام لوگوں کی نگاہیں اس کی طرف اٹھی رہ گئیں ۔اس ماڈرن سوسائٹی میں جہاں عورتیں کم سے کم لباس پہن کر اپنے جسم کی نمائش کرتی ہیں وہاں وہ حسینہ چوڑی دار پاجامہ اور گھیر دار پشواز پہن کر آئی تھی کلائیوں میں چوڑیاں کھنک رہی تھیں۔ اور بدن پر چاندی کے زیورات چمک رہے تھے ۔ اس کا حسینہ کے چہرے کے تیور بتا رہے تھے کہ وہ انگریز عورت ہے ۔ اس مغربی حسن پر مشرقی لباس ایسے جچ رہا تھا کہ دیکھنے والوں کی نگاہیں سر سے پاؤں تک بھٹک رہی تھی۔ میں بھی بڑی دلچسپی سے دیکھ رہا تھا میرا اندازہ تھا کہ وہ انجلا ہے کیونکہ اس کے ساتھ جو دیسی آدمی تھا وہ اپنے حلیے سے ہی ہیڈ کلرک نظر آتا تھا ۔لنڈے بازار کا سوٹ پہن کر اس حسینہ کے ساتھ فخریہ انداز میں چلنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کے متعلق میں نے یہی اندازہ لگایا کہ وہ صمد بخاری ہے۔
پھر اچانک ہی مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ مجھے اپنی سوچ کی دنیا میں انجلا اور صمد بخاری کو نہیں پہچاننا چاہیے کیونکہ میں وہاں اجنبی بن کر گیا تھا ۔اس وقت نہ جانے اسٹوفر کہاں بیٹھا ہوا تھا وہ جہاں کہیں بھی ہو وہ انجلا کے ذہن سے جھانک کر اس ہوٹل کے تمام لوگوں کو دیکھ سکتا تھا ۔ اگر مجھ پر شبہ ہوتا تو وہ انجلا کے ذریعے میری سوچ پڑھ سکتا تھا۔ اب تک انجلا کی نظر مجھ پر نہیں پڑی تھی۔ براہ راست سامنا ہوتا تب ہی اسٹوفر میرے ذہن تک پہنچ سکتا تھا اس سے پہلے ہی میں محتاط ہو گیا کہ اب اینجلا اور صمد بخاری کا نام میری سوچ میں نہیں آنا چاہیے میں ان کے لیے اجنبی ہوں میرا نام شہزاد انور ہے اور میں اسی حیثیت سے ہر حال میں سوچتا رہوں گا میں نے عام نوجوانوں کی طرح اس حسینہ میں دلچسپی لی۔ اسے دیکھتے ہوئے اپنی سوچ میں اس کی تمنا کرنے لگا۔ وہ مغرور حسینہ کسی پر ایک نظر ڈالے بغیر اپنے ساتھی مرد کے ساتھ مسکراتی ہوئی اور باتیں کرتی ہوئی بالکونی کی ایک میز پر آ کر بیٹھ گئی میں سوچتا رہا کہ اس سے کیسے لفٹ حاصل کرنے چاہیے ۔
تھوڑی دیر کے بعد ہال کی تیز روشنیاں بجھنے لگیں۔ صرف مدھم سی خوابناک روشنی رہ گئی ۔ اناؤنسر نے اعلان کیا تھا کہ مصری رقاصہ سٹیج پر اپنے فن کا مظاہرہ کرنے آرہی ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی ارگسٹرا کی آواز گونجنے لگی۔ بوڑھوں کے دل تیز تیز سڑکنے لگے ۔نوجوان ویٹرس اس پاس گھوم رہی تھی ۔ اچانک ہی پورے ہال میں تاریخ کی چھا گئی پھر ارکسٹرا کی ایک بینگ کے ساتھ سٹیج کی ایک سپاٹ لائٹ میں وہ مصری رقاصہ نظر آئی ۔ لیکن میری نظریں اس حسینہ پر جمی ہوئی تھی جو مغربی اور مشرقی تہذیب کا کاکٹیل نظر آرہی تھی یعنی وہ اینجلا تھی لیکن اسے میں انجلا کے نام سے نہیں سوچ رہا تھا اسے اجنبی دوشیزہ سمجھ کر اس سے لفٹ حاصل کرنے کا کوئی بہانہ تلاش کر رہا تھا۔ وہ میز پر اپنے ساتھی صمد بخاری کے ساتھ باتیں کرنے میں مصروف تھی۔

وہ میز پر جھکی اپنے ساتھ ہی صمد بخاری کے
ساتھ باتیں کرنے میں مصروف تھی۔بہت سے لوگ جو دور کی نشستوں پر تھے وہ گردن اٹھائے سٹیج کی جانب دیکھ رہے تھے انہیں مصری رقاصہ پوری طرح نظر نہیں آ رہی تھی۔ کچھ لوگ موزوں جگہ کی تلاش میں اپنی جگہ چھوڑ کر ادھر ادھر بھٹک رہے تھے۔میں نے بھی اپنی جگہ چھوڑ دی اور اس حسینہ کی میز کے آس پاس بھٹکنے لگا۔ 
دوسرے تو میز کے قریب سے گزر جاتے لیکن میں ایک پروانے کی طرح اس کا طواف کر رہا تھا بار بار اسے ایسے دیکھ رہا تھا جیسے پہلی بار کسی حسین عورت کو دیکھ رہا ہوں اس کے ساتھ ہی مرد نے ایک بار میری جانب بنا گواری سے دیکھا اس کے ساتھ اس حسینہ کی نگاہیں بھی میری جانب اٹھ گئیں
نگاہیں ٹکراتے ہی میں نے سوچا
ہائے کیسی قاتل نگاہیں ہیں ۔ آج پتہ چلا ہے کہ ایسی نگاہوں کو قاتل کیوں کہتے ہیں اف یہ نگاہیں تو مجھے مارے ڈال رہے ہیں کاش کہ میں کسی طرح ایسی قربت حاصل کر سکتا ۔
میں جان بوجھ کر عاشقانہ انداز میں ایسی باتیں سوچ رہا تھا مجھے یقین تھا کہ اس وقت اسٹوفر اپنی بیٹی کی سوچ پڑھ رہا ہے اور وہ باتیں سن رہا ہے جو صمد بخاری اس سے کر رہا تھا۔ 
اب چونکہ اینجلا کی نگاہیں مجھ سے ٹکرا رہی تھیں اور وہ یک ٹک میری آنکھوں میں دیکھے جا رہی تھی۔ تو میں یہ سمجھ رہا تھا کہ اب اسٹو فر میری سوچ کو پڑھ رہا ہے میں ٹیلی پیتھی جانتا ہوں اگر میں اسٹو فر کی جگہ ہوتا تو میں بھی یہی کرتا اس لیے اسٹو فر کی چالوں کو سمجھنا میرے لیے بہت اسان ہو گیا تھا اور میں اسی کے مطابق عمل کر رہا تھا
میرا خیال غلط نہیں تھا کیونکہ انجلا کی نگاہوں سے نگاہیں ملاتے ہی میں بھی اس کی سوچ کو پڑھنے لگا تھا اور مجھے اس کی سوچ میں اسٹوفر کا سوال سنائی دے رہا تھا۔ وہ پوچھ رہا تھا 
یہ کون ہے انجلا؟ تم نے جیسے ہی اس کی جانب دیکھا میں اس کی سوچ کو پڑھنے لگا تھا اس کی سوچ بتا رہی تھی کہ وہ تمہارے حسن سے متاثر ہو کر تمہاری قربت حاصل کرنے کی تمنا کر رہا ہے 
اتنے میں صمد بخاری نے اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے مجھ سے کہا آپ یہاں کیوں کھڑے ہیں کہیں بیٹھ جائیے۔
میں بڑی بے شرمی سے شکریہ ادا کرتے ہوئے انجلا کے قریب ہی کرسی پر بیٹھ گیا ۔
صمد بخاری نے جھلا کر کہا
یہ کیا بدتمیزی ہے ؟
میں نے کہا اس میں بدتمیزی کی کون سی بات ہے آپ نے فراخ دلی سے کہا کہ کہیں بیٹھ جائیے یہ جگہ خالی تھی لہذا میں یہاں بیٹھ گیا ہوں۔
میں کہتا ہوں آپ یہاں سے چلے جائیں ورنہ بہت برا ہوگا یہ کہہ کر اس نے انجلا کی جانب دیکھا تاکہ وہ بھی میرے بیٹھنے پر ناراضگی کا اظہار کرے انجلا نے میری ڈیھٹائی پر مسکراتے ہوئے کہا
مسٹر کسی سے لفٹ لینے کا یہ طریقہ مناسب نہیں۔
میں نے کہا میرا نام مسٹر نہیں ہے شہزاد انور ہے میں بہت دیر سے تمہیں دیکھ رہا ہوں میری عادت ہے کہ جو چیز مجھے پسند آ جائے میں اس کی قربت ضرور حاصل کرتا ہوں پہلے تو اسے محبت سے اپنانے کی کوشش کرتا ہوں۔ محبت سے نہ ملے تو خریدنا چاہتا ہوں اور اگر خریدنے میں بھی ناکام ہو جاؤں تو جبراً چھین لیتا میں تم سے صرف یہ کہنے آیا تھا۔۔۔ یاد رکھنا ۔۔ پھر ملاقات ہوگی ۔اچھا بائے
میں وہاں سے اٹھ کر اپنی میز پر آ گیا۔ اپنی جگہ پر بیٹھ کر میں یہ سوچ رہا تھا
وہ حسینہ بھی کیا یاد کرے گی میں نے اچھی دھونس جمائی ہے۔ میرا نام بھی شہزاد انور ہے میں تو بڑی بڑی تجوریوں کے آہنی تالے کھول کر دوسروں کی چھپائی ہوئی دولت حاصل کر لیتا ہوں اور یہ دو شیزہ تو ایک کھلی ہوئی تجوری کی طرح میرے سامنے رکھی ہے میں چپ چاپ اسے حاصل کر سکتا ہوں۔
لیکن ابھی یہ کوشش ہے کہ یہ محبت سے حاصل ہو جائے۔
میں اس وقت ایک چور اور ایک لاک بریکر شہزاد انور بن کر سوچ رہا تھا۔ مجھے فرہاد علی تیمور کی شخصیت کو بالکل بھلا دینا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ اسٹو فر میری سوچ میں موجود ہے۔میں نے اپنی سوچ کو مزید عامیانہ اور گھٹیا بناتے ہوئے سوچا
عورت رومینٹک موڈ میں اگر اپنے آپ کو ہمارے حوالے کر دے تو اس کا لطف اور لذت ہی کچھ اور ہوتی ہے لیکن اس کے ساتھ وہ بے وقوف سا آدمی کون ہے نہ صورت نہ شکل نہ کوئی پرسنیلٹی پھر بھی یہ دوشیزہ اس سے باتیں کیے جا رہی ہے ۔ مجھے تو دال میں کچھ کالا نظر آرہا ہے میں ہیرا پھیری کی زندگی گزارنے والوں کو اچھی طرح پہچانتا ہوں کیونکہ میں خود بھی ایسی ہی زندگی گزارتا آ رہا ہوں شاید وہ بے وقوف سا آدمی کسی خاص اہمیت کا حامل ہے یا تو بہت زیادہ دولت مند ہے یا پھر کسی دوسرے لحاظ سے اہم ہے اور یہ دوشیزہ میری طرح مجرمانہ زندگی گزار رہی ہوگی اور اس اہم شخص سے کوئی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہوگی۔ 
اچانک ہی میں نے اپنے دماغ میں ایک کھٹکا محسوس کیا۔ میرے اندر ایک سوچ پوچھ رہی تھی
اگر اس دوشیزہ کی کوئی خطرناک آرزو ہو تو میں اسے پوری کر سکتا ہوں؟
میں سمجھ گیا اسٹوفر میرے دماغ میں پوچھ رہا ہے اور میرے سے معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے کہ کیا واقعی میں اس کا آلہ کار بن سکتا ہوں یا نہیں؟
میں آلہ کار بننے کے لیے ہوٹل سویٹ ڈریم کے سویٹ ماحول میں آیا تھا ۔ میں جانتا تھا کہ ڈیلی پیتھی جاننے والا مجھے پھانسنے کے لیے وہی حرب استعمال کرے گا جو میں دوسروں پر آزماتا آ رہا ہوں اور اب میرے خیال کے مطابق وہ میری سوچ میں پوچھ رہا تھا کہ اس دوشیزہ کی کوئی خطرناک آرزو ہو تو کیا میں اسے پوری کر سکتا ہوں؟
میں نے جواب دیا میں اپنے سے زیادہ خطرناک کسی کو نہیں سمجھتا پھر ایک حسینہ کے آرزو کیا خطرناک ہوگی؟
میرے اس جواب پر خاموشی چھا گئی میں بڑی خاموشی سے اس کی سوچ کو پڑھ رہا تھا۔
میری داستان حیات پڑھنے والوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ٹیلی پیتھی کی دنیا میں کسی کی سوچ کو پڑھنے میں اور سوچ میں مداخلت کرنے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ اس کے لیے یوں مثال دی جا سکتی ہے کہ ایک کمرے میں ایک شخص بیٹھا بلند آواز میں باتیں کر رہا ہے۔ کمرے میں مکمل تاریکی ہے اسی کمرے میں دوسرا شخص اندھیرے میں ایک کونے میں بیٹھا ہے اسے نظر نہیں آ رہا لیکن وہ اس کی باتیں سن رہا ہے لیکن خود کو اس پر ظاہر نہیں کر رہا۔
ٹھیک اسی طرح میں دماغ کے اندھیرے میں اسٹوفر کی سوچ سن رہا تھا اور خود کو اس پر ظاہر نہیں کر رہا تھا اسٹر چونکہ میری سوچ کے ذریعے مجھے احمد بنانے کی کوشش کر رہا تھا اس لیے میں نے اس کو پہچان لیا تھا اور وہ نہ سمجھ سکا کہ بہروپیا فرہاد شہزاد انور بنا خاموشی سے اس کی سوچ پڑھ رہا ہے۔
اس وقت اسٹو فر کی سوچ کے ذریعے معلوم ہوا کہ وہ اپنے بیڈ روم میں بیٹھا ہوا ہے اور وہاں سے بیٹھے بیٹھے ہی میری سوچ کو پڑھ رہا تھا اور کبھی اپنی بیٹی انجلہ کو سوچ کے ذریعے پیغام دے رہا تھا اور اس فکر میں تھا کہ کس طرح میری صلاحیتوں کو پہچان میں لا سکے جب تک میں اس کے کام کا آدمی ثابت نہ ہوتا اس وقت تک وہ مجھے اپنی بیٹی کے قریب جانے کا موقع نہ دیتا۔
ویسے میں اپنے طور پر بڑی بڑی ڈینگیں مار چکا تھا اور شہزاد انور کے روپ میں خود کو ایک تجربے کار لاک بریکر ظاہر کر رہا تھا اس کے علاوہ اس کی حسین بیٹی سے کہہ چکا تھا کہ جو چیز مجھے پسند آ جاتی ہے اس میں اس کی قربت حاصل کر لیتا ہوں۔
یہ ظاہر ہے کہ میں اپنی سوچ میں پلیننگ کر رہا تھا کہ کسی طرح مجھے اس حسینہ کی رہائش کا پتہ چل جائے تو میں اس کے ساتھ تعلقات بڑھانے کا آغاز کرو ں۔ اسی طرح کی باتیں سوچتے ہوئے میں وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا سٹیج پر مصری رقاصہ اپنے عریاں فن کے انتہائی کلامیکس تک پہنچ گئی تھی ۔لیکن میرے لیے اس میں کوئی کشش نہیں تھی میں انجلا پر ایک نظر ڈالتے ہوئے باہر آگیا ۔
اس دوران میں ایک بار پھر چپکے سے اسٹوفر کے خیالات کو پڑھنے لگا۔ وہ شاید اس بات پر مطمئن ہو گیا تھا کہ میں اس کی بیٹی کے حسن و شباب سے اتنا متاثر ہو گیا ہوں کہ اب اس کا پیچھا کرنے کے لیے ایک ٹیکسی انگیج کرنے جا رہا ہوں اس لیے اب وہ میری سوچ میں مداخلت نہیں کر رہا تھا اور اپنی بیٹی کی سوچ سے رابطہ قائم کر چکا تھا اس سے وہ کہہ رہا تھا
جب تم پروگرام کے آخر میں اٹھ کر جاؤ گی تو شہزاد تمہارا پیچھا کرے گا۔ وہ اس مقصد کے لیے ٹیکسی انگیج کرنے گیا ہے۔ تم صمد بخاری کو اس کے مکان کے پاس ڈراپ کر کے آگے بڑھ جانا کچھ دور جانے کے بعد اپنی کار روک کر اس کا بونٹ کھول کر یہ ظاہر کرنا کہ جیسے تمہاری گاڑی خراب ہو گئی ہے۔ شہزاد یقینا اپنی گاڑی سے اتر کر تمہاری مدد کے لیے آئے گا۔
اس کے بعد اسے پھانسنے کا کام تمہارا ہے میں چاہتا ہوں کہ تم اسے کوٹھی میں لے آؤ تمہارے لیے یہ کام مشکل نہیں ہوگا
یہ ڈیڈی!! ایسے نوجوانوں کو بے وقوف بنانا کوئی مشکل کام نہیں ہے ایسی صورت میں جب کہ وہ مجھے دیکھتے ہی حماقت میں یعنی محبت میں گرفتار ہو گیا ہو۔
اسٹوفر نے پوچھا یہ بتاؤ صمد بخاری کیا کہتا ہے؟
صمد بخاری مایوس کر رہا ہے یہ کہہ رہا ہے کہ جس فائل کی میں نقل چاہتی ہوں یہاں سے اسلام آباد جا چکی ہے۔
نان سینس اگر فائل اسلام اباد جا چکی ہے تو یہ اب ہمارے کسی کام کا نہیں اسے ٹھوکر مار دو اب اس کے ساتھ اپنا وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں ہے اسے اس کے گھر تک پہنچا کر بھول جاؤ۔
میں ہوٹل کے برآمدے میں کھڑا ان کی باتیں سن رہا تھا۔ میں نے وہاں سے نکل کر ایک ٹیکسی والے کو روکا ۔
جی صاحب کدھر جانا ہے ؟
میرے بیٹھتے ہی ٹیکسی ڈرائیور بولا ۔
میں نے جواب دیا ، یہ تو میں بھی نہیں جانتا کہ مجھے کہاں جانا ہے تمہاری ٹیکسی میں ایسے لوگ بھی بیٹھتے ہوں گے جو کسی حسین لڑکی کا پیچھا کرتے ہوں گے اور انہیں اپنی منزل کا پتہ نہیں ہوگا۔
ٹیکسی ڈرائیور نے مسکرا کر کہا اچھا صاحب!! سمجھ گیا اپ بھی سمجھتے ہوں گے کہ ایسے سفر کا ہےکرایہ دگنا ہو جاتا ہے۔
منظور ہے بھائ ۔ بس تم مجھے لے چلو ۔
اسی دوران انجلا صمد بخاری کے ساتھ باہر آتی دکھائی دی ۔
میں نے ٹیکسی ڈرائیور کو اشارے سے بتایا کہ وہ انگریز لڑکی جو ایک گنجے آدمی کے ساتھ ہے اس کے پیچھے چلو۔
ڈرائیور نے ایک آنکھ دبا کر پوچھا! پٹ گئ ہے یا پٹنے والی ہے ۔
اگر پَٹنے والی نہ ہوتی میں خوامخواہ پِٹنے والا نہیں ہوں۔
او جیو بادشاہ پرانے کھلاڑی معلوم ہوتے ہو؟
میں نے مسکرا کر انجلا کی طرف دیکھا وہ سفید ٹیوٹا کی طرف بڑھ رہی تھی ۔
15 منٹ بعد انجلا نے صمد کو ایک مکان کے سامنے اتار دیا اور اسے گڈ بائے کہہ کر گاڑی آگے بڑھا لے گئی۔ وہ پروگرام کے مطابق عمل کر رہی تھی کچھ دور جا کر اس نے گاڑی روک دی اور باہر نکل کر گاڑی کا بونٹ کھول کر کھڑی ہو گئی
میں نے ٹیکسی ڈرائیور کو گاڑی روکنے کا کہا ۔
میں نے چونکنے کی اداکاری کرتے ہوئے کہا لگتا ہے کہ میم کی گاڑی خراب ہو گئی ہے تم یہاں رکو میں ابھی آتا ہوں۔
میں ٹیکسی سے اتر کر اس کے قریب گیا اور کہا
کیا میں آپ کی کچھ مدد کر سکتا ہوں؟
اس نے کار کا بونٹ گراتے ہوئے ہم مسکرا کر کہا نہیں میں تمہاری مدد کرنے کے لیے رک گئی ہوں ۔ تم نے سویٹ ڈریمز میں کہا تھا کہ اگر میں محبت یا دولت سے حاصل نہ ہوئی تو تم مجھے طاقت کے بل بوتے پر حاصل کر لو گے۔ تمہاری سلیری نے مجھے بہت متاثر کیا ہے ورنہ اس ملک کے لوگ بڑے بزدل ہوتے ہیں عورتوں سے باتیں کرتے ہوئے یا تو شرماتے ہیں یا پھر دنیا والوں سے ڈرتے ہیں۔ میں تمہاری دولت کی بھوکی نہیں ہوں میں محبت کی جستجو میں ہوں اور یہ محبت مجھے تم سے مل سکتی ہے میری گاڑی میں آ جاؤ۔
میں نے اس سے کہا میں تمہیں بھگا کر لے جانا چاہتا تھا مگر واہ ری قسمت تم مجھے بھگا کر لے جا رہی ہو۔ کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ تم مجھے کہاں لے جا رہی ہو؟
جہاں میں رہتی ہوں۔ تم فکر نہ کرو میری ڈیڈی دقیانوسی خیال کے نہیں ہیں۔ تمہیں میرے ساتھ دیکھ کر برا نہیں مانیں گے۔
اللہ ہر نوجوان لڑکی کو تمہارے جیسے ڈیڈی عطا کرے
وہ ہنستی ہوئی بولی تم بہت زندہ دل ہو ڈیڈی تم سے مل کر بہت خوش ہوں گے۔

یہ ریڈی کب تک ہمارے درمیان رہیں گے؟
جب تک وہ تم سے مطمئن نہ ہو جائیں۔
کیا مطلب ؟کیا وہ میرا طبی معائنہ کریں گے؟
شریر کہیں گے وہ جھینپ کر بولی ۔ یہ بات نہیں ہے میرے ڈیڈی بہت بڑے عالم ہیں اگر انہیں اطمینان ہو گیا کہ تم سچے دل سے مجھے چاہتے ہو تو پھر ہماری دوستی پکی ہو جائے گی۔
پھر تو مجھے اچھے سے اپنے چہرے پر شرافت طاری کر لینی چاہیے اور دل ہی دل میں دعا مانگتے رہنا چاہیے کہ بیٹی سے پہلے بیٹی کا باپ مجھے پسند کرلے۔
میری اس بات پر وہ دل کھول کر قہقہے لگانے لگی ۔ 
اس دوران مجھے اس بات کا علم تھا کہ اس کا باپ اپنے بیڈ روم میں بیٹھا ہماری گفتگو سن رہا ہوگا اور میں گفتگو کے دوران انجلا کی سوچ کو پڑھ رہا تھا وہ میری باتوں کی وجہ سے واقعی مجھ میں گہری دلچسپی لے رہی تھی۔
پھر میں انجلہ کے ساتھ اسی کوٹھی میں پہنچ گیا جو میری شکار گاہ تھی یہ اور بات تھی کہ میں خود شکار ہو کر آیا تھا۔ بعض اوقات اپنا داؤ آزمانے کے لیے دوسروں کے داؤں میں آنا پڑتا ہے۔
جب ہم کوریڈور سے گزرتے ہوئے بیڈ روم کی طرف انے لگے تو اسٹوفر کی آواز آئی
انجل تم نے واپسی میں بڑی دیر کر دی 

انجلہ نے کہا جی ہاں جی سویٹ ڈریمز کا پروگرام بہت دلچسپ تھا اور اس سے زیادہ دلچسپ مسٹر شہزاد ہیں یہ میرے ساتھ آئے ہیں کیا اپ ان سے ملنا پسند کریں گے؟
ہم دونوں کوریڈور میں ایک دروازے کے سامنے کھڑے تھے انجلہ نے دروازہ کھولتے ہوئے مجھے اندر آنے کے لیے کہا
یہ وہی کمرہ تھا جو میں واجد کی سوچ کے ذریعے دیکھ چکا تھا ۔ ٹھیک اسی طرح کمرے میں چاندنی بچھی ہوئی تھی ۔
گاؤ تکیوں کے درمیان اسٹوفر سنہری جبہ پہنے بیٹھا تھا۔ اس نے اپنی چھوٹی چھوٹی داڑھی میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا
کم ان مسٹر شہزاد آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔
اس نے رسمی طور پر مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا جسے میں نے بڑی گرم جوشی سے تھامتے ہوئے کہا آپ کی حلیے سے پتہ لگتا ہے کہ آپ بہت بڑے عالم ہیں۔ اتنی بڑی پگڑی میں نے کہیں نہیں دیکھی جو اپ نے پہن رکھی ہے اس سے پگڑی نہیں پگڑا کہنا چاہیے۔
اس نے مسکراتے ہوئے کہا تم واقعی زندہ دل اور دلچسپ آدمی ہو۔ انجلا نے ٹھیک ہی کہا تھا لیکن وہ دل کے بھید نہیں جانتی تم اوپر سے جتنے دلچسپ ہو اندر سے اتنے ہی خطرناک ہو۔
جی۔۔۔جی یہ آپ
کیا کہہ رہے ہیں میں نے گھبرانے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے
اس نے میری گھبراہٹ سے محظوظ ہوتے ہوئے کہا 
تم کیا کرتے ہو؟
جواب دینے سے پہلے میں نے سوچا کہ مجھے یہ نہیں بتانا چاہیے کہ میں ایک بہت بڑا لاک بریکر ہوں بلکہ مجھے کہنا چاہیے کہ میں ایک خاندانی رئیس ہو۔ یہ سب کچھ سوچتے ہوئے میں محسوس کر رہا تھا کہ اسٹو فار میری سوچ کو پڑھ رہا ہے لہذا میں نے جو سوچا تھا وہی کہہ دیا۔
میری بات سنتے ہی اس ٹو فر نے ایک گہری سانس کھینچ کر آنکھیں بند کر لیں۔ وہ مجھ پر ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ وہ مراقبے میں ہے اور اپنے علم کے ذریعے کچھ معلومات حاصل کر رہا ہے۔ تھوڑی دیر بعد اس نے کہا مجھے جھوٹ سی نفرت ہے میں کسی جھوٹے کو اپنی بیٹی کے پاس بھی پھٹکنے نہیں دے سکتا تم خاندانی رئیس نہیں ہو جھوٹ نہ بولو جو تمہاری اصلیت ہے وہ ظاہر کرو۔
یہ کہہ کر اس نے آنکھیں کھول دیں اور مجھے گھور کر دیکھنے لگا میں نے فوراً یوں نظریں جھکا لیں جیسے اس کی سرخ مقناطیسی انکھیں مجھے متاثر کر رہی ہوں۔ اس نے مجھے خاموش دیکھ کر کہا ایسے چور جو سوسائٹی میں شریفوں کی طرح زندگی گزارتے ہیں کبھی دوسروں کے سامنے اعتراف نہیں کرتے کہ چوری ان کا پیشہ ہے۔ تم میں جو برائی ہے اگر اس برائی کو سچائی سے ظاہر کر دو گے تو میں تمہاری برائی سے نفرت نہیں کروں گا بلکہ تمہاری سچائی کی قدر کروں گا۔
میں نے عقیدت سے سر جھکا کر کہا
انجلہ نے درست کہا تھا اپ واقعی بہت بڑے عالم ہیں۔ لیکن سچ کہنے سے پہلے میں یہ بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں انجلا کچھ چاہتا ہوں۔ اور میں اسے ہر صورت حاصل کر کے رہوں گا۔میں اپنی ناکامی برداشت نہیں کر سکتا بڑے بڑے مجرم میرا نام سن کر سہم جاتے ہیں۔ آپ نے مجھ سے میرا پیشہ پوچھا ہے
تو سنیے میں ایک لاک بریکر ہوں اس دنیا کا کوئی ناقابل فہم تالا ہو میں اسے کھول کر دکھا دوں گا اس دنیا کی ہر تجوری میرے ایک اشارے سے کھل جاتی ہے اگر یقین نہ ہو تو میں ابھی یہ تماشہ دکھا سکتا ہوں کیا اپ کے یہاں کوئی آئرن سیف ہے؟
اس ٹو فر نے کہا انجلہ کے بیڈ روم میں ایک آئرن سیف ہے تم یہیں ٹھہرو میں پہلے جا کر اس کے نمبروں کی ترتیب بدلتا ہوں پھر تمہیں اپنا ہنر آزمانے کا موقع دوں گا۔ وہ بڑبڑاتا ہوا اپنی بیٹی کے ساتھ کمرے سے نکل گیا۔
کچھ دیر میں انجلہ مجھے اپنے بیڈ روم میں لے گئی۔ میں دیوار پر لگے ایک سیف کی طرف اشارہ کیا اور کہا چلو شروع ہو جاؤ میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ تم اپنی بات میں کتنے سچے ہو۔
اس دوران میں محسوس کر رہا تھا کہ وہ میری سوچ میں موجود ہے ۔ اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ جب وہ نمبروں کی ترتیب بدل رہا تھا تو میں بھی اس کی سوچ میں موجود تھا اور میں اسے نمبر بدلتے ہوئے چپ چاپ دیکھ رہا تھا۔
میں صرف کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا اور اسٹوفر سے کہا اپ ایک کاغذ اور پینسل لے کر میرے ساتھ کھڑے ہو جائیں میں جو کچھ بھولتا جاؤں گا وہ آپ لکھتے جائیں ۔
میرے دائیں ہاتھ کی انگلی میں ایک سونے کی انگوٹھی تھی۔ میں انگوٹھی کو لاک کے قریب لے گیا پھر یک لخت خاموش ہو کر اپنی سوچ میں غیبی آوازیں سننے لگا۔ بھلا غیبی اوازیں کہاں سے آ نی تھیں۔ چونکہ اسٹوفر میری سوچ کو پڑھ رہا تھا اس لیے میں طلسم کا ڈھونڈ کر رہا تھا اور عجیب و غریب ناقابل فہم اوازیں نکال رہا تھا۔
غوں ہوں ہوں نمبر 2... ساتھ ہی میں نے اشارہ کیا کہ لکھو
اسی طرح میں باری باری آوازیں سوچتا اور مطلوبہ نمبر بولتا ۔ آخری نمبر بول کر میں نے اسٹوفر کی طرف دیکھا وہ حیران پریشان مجھے دیکھ رہا تھا ۔ انجلا نے اپنے باپ کی طرف دیکھا تو وہ بولا
میں نے اپنی زندگی میں کبھی اتنا شاندار جادو نہیں دیکھا تھا ۔ تم نے مجھے متاثر کر دیا ہے ۔ کیا تم یہ انگوٹھی مجھے دکھا سکتے ہو ؟
میں نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا نہیں میرے استاد کا حکم ہے کہ اسے میرے علاوہ کوئ نہیں چھوئے گا ۔ اگر آپ دیکھنا چاہتے ہیں تو اسے ایسے ہی میرے ہاتھ میں دیکھ لیں۔
میں نے ہاتھ آگے کیا ۔ وہ میرا ہاتھ تھام کر انگوٹھی کو دیکھنے لگا ۔ درحقیقت وہ میری سوچ پڑھ رہا تھا میں معصومیت سے انگوٹھی کے بارے میں سوچنے لگا ۔ جب اسے یقین ہوگیا کہ میں اصل میں ایک لاک ماسٹر ہوں اور فراڈ نہیں کر رہا تو میرا ہاتھ چھوڑ کر کہا
میں نے بہت جادو دیکھے ہیں لیکن اتنا طلسماتی کرشمہ کبھی نہیں دیکھا ۔ لیکن میں تمہیں تھوڑا سا اور آزمانا چاہتا ہوں اس کے لیے تمہیں ایک رات میرے گھر میں رکنا ہوگا۔ آج رات تم میرے مہمان رہو گے پھر صبح میں تمہیں بتاؤں گا کہ تم نے کونسا سیف کھولنا ہے ۔یہ ساتھ والا بیڈروم تمہارا ہے آؤ میرے ساتھ ۔
بیڈروم میں آ کر میں نے دیکھا میرے اور انجلا کے کمرے کے درمیان والی دیوار میں کھڑکی کی طرح کی ایک سکرین بنی ہوئ ہے جو شیشے کی ہے ۔ دوسرے لفظوں میں وہ شیشے کی طرح کی ایک دیوار تھی جہاں انجلا کے کمرے کا منظر صاف نظر آتا تھا ۔ اسٹوفر نے مجھ سے کہا
" تم یہاں آرام کرو صبح ملاقات ہوگی "
میں نے کہا اگر آپ مجھے لاک کھولنے کے لیے آزمانا چاہتے ہیں تو ابھی کیوں نہیں ۔ ابھی بتاییے کونسا لاک کھولنا ہے ۔
اس نے جواب دیا!! ابھی نہیں ۔ میں رات بھر میں فیصلہ کرنا چاہتا ہوں کہ مجھے تم پر بھروسہ کرنا چاہیے کہ نہیں ۔
لیکن بےیقینی کی وجہ کیا ہے ؟
تمہاری طلسماتی انگوٹھی ۔ میں سمجھ رہا تھا کہ تم سائینٹفک طریقے سے لاک کھولو گے لیکن جادوئی طریقے نے مجھے الجھن میں ڈال دیا ہے ۔
آپ کو یقین کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے ۔ یہ ہم آپس میں سودا طے کر لیتے ہیں۔ یہ جس تجوری کو کھولوں گا اس کا آدھا مال اپ کا آدھا مال میرا۔
آپ کو کو مال کھانے سے مطلب ہونا چاہیے۔ یہ تجوریاں میں کیسے کھولتا ہوں اس پر آپ پریشان کیوں ہوتے ہیں؟
تم ٹھیک کہتے ہو مجھے صرف اپنے مقصد کو دیکھنا چاہیے۔ لیکن بات کچھ اور ہے ۔ میں تمہیں پہنچنے کے لیے کہوں گا اس میں سے تمہیں دولت نہیں ملے گی۔
پھر اس میں سے کیا ملے گا؟ تجوری کے اندر تو خزانہ ہی ہوا کرتا ہے۔
ہاں اس میں سے ایک ننھا سا خزانہ ملے گا لیکن اس سے تمہیں نہیں مجھے فائدہ پہنچے گا۔
میں ایسی تجوری نہیں کھولتا جس سے مجھے فائدہ حاصل نہ ہو لیکن انجلا کی خاطر اپ کا یہ کام کر دوں گا مجھے بتائیے وہ سیف کہاں ہے ؟
ابھی نہیں میں نے کہا نا کہ صبح تک مجھے یہ فیصلہ کرنے دو۔ دراصل میں تمہیں اپنا رازدار بنانا چاہتا ہوں اس لیے مجھے سوچنے کا موقع دو اچھا گڈ نائٹ۔
یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گیا ۔ مجھے معلوم تھا کہ پلٹ کر وہ میری سوچ ضرور پڑھے گا کیونکہ یہی حربے میں دوسروں پر آزماتا ہوں ۔
تھوڑی دیر کے بعد یہی ہوا۔ میرے دماغ میں ایک منفی سوچ ابھری مجھے پتہ چل گیا کہ وہ مجھے کرید رہا ہے وہ میری ہی سوچ میں مجھ سے پوچھ رہا تھا کیا مجھے انجلا کے ڈیڈی پر بھروسہ کرنا چاہیے؟ کہیں وہ مجھے کسی ایسے سیف کا پتہ تو نہیں بتائے گا جہاں پہنچتے کسی مصیبت میں گرفتار ہو جاؤں؟
میں نے مثبت سوچ میں کہا نہیں انجلا کا باپ ایسا تو نظر نہیں آتا وہ جیسے پیاری پیاری سی ہے اس کا باپ بھی کچھ کم پیارا نہیں ہے میں نے اس کے چہرے کو دیکھ کر اندازہ لگایا ہے کہ صحیح نمبر کی ترتیب بتانے کے بعد وہ مجھ سے بہت زیادہ متاثر ہو گیا ہے اور مجھ سے کوئی اہم کام لینا چاہتا ہے کام کتنا اہم ہے مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے بس یہ آرزو ہے کہ اس کے صلے میں مجھے انجلا مل جائے۔
یہ سوچ کر میں خاموش ہو گیا اس کے بعد میرے دماغ میں کوئی منفی سوچ نہیں ابھری۔
میں نے اس کے دماغ میں جھانکا وہ سوچ رہا تھا کہ یہ کمبخت تو گھوم پھر کر انجلا پر آ جاتا ہے۔ فی الحال یہ انجلا پر دنیا کی کسی دولت کو ترجیح نہیں دے رہا ہے ۔ یہی مناسب ہے کہ انجلا اسے دور دور سے تڑپاتی رہے اور اس کی طلب میں شدت پیدا کرتی رہے۔ اس پر جتنی دیوانگی طاری ہوگی وہ اتنی توجہ سے میری آزمائش سے گزر جائے گا مجھے اس سلسلے میں انجلا کو ضروری ہدایات دینی چاہیے۔ وہ تمام رات اسے اپنی اداؤں سے دیوانہ بناتی رہے گی۔
اس کے بعد وہ انجلا کی سوچ میں پہنچ گیا ساتھ ہی میرا دماغ بھی قلابازی کھا کر انجلا کے دماغ میں چلا آیا ۔
وہ دونوں مجھے پاگل بنانے کے طریقوں پر بحث کرنے لگے ۔ یہ موقع اچھا تھا ۔
میں نے اپنے کمرے کی تمام لائٹس آف کر دیں ۔ اور اپنے بستر پر لیٹ کر آنکھیں بند کر لیں۔
پھر انہیں چھوڑ کر سعید احمد کے دماغ پہنچ میں گیا ۔
وہ اپنے کمرے میں لیٹے ہوئے تھے اور میرے بارے میں سوچ رہے تھے ۔ میری سوچ نے کہا
ہیلو میں فرہاد ہوں ۔
وہ فوراً اٹھ کر بیٹھ گئے ۔
فرہاد یہ تم ہو ؟ کیا تم اس وقت مجھ سے رابطے میں ہو ۔
میں نے کہا ہاں یہ میں ہوں ۔ پھر انہیں اپنے اور انجلا کے بارے میں مختصراً بتانے لگا ۔
پھر واپس کمرے میں آنکھیں کھولیں ۔ کچھ دیر کے لیے مجھے یقین نہ آیا کہ میں کیا دیکھ رہا ہوں ۔ میں بیڈ سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا ۔ چاروں طرف اندھیرا تھا ۔اور انجلہ کے کمرے میں نیلی روشنی پھیلی ہوئی تھی انجلہ کے سرخ چہرے پر نیلی روشنی کا امتزاج ایسا تھا جیسے زہر کی نیلاہٹ لیے کوئی ناگن کھڑی ہو۔ اس نے دوپٹے کو ایک طرف رکھ دیا اور پشواز کے بٹن کھولنے لگی ۔
میں نے آنکھیں بند کر لیں ۔ میں اسٹوفر پر یہ ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ اس نظارے نے مجھ پر کپکپاہٹ طاری کر دی ہے اور حقیقت میں ایسا ہی تھا ۔
جب میں نے آنکھیں کھولیں تو پلکیں جھپکنا بھول گیا ۔
عورت کے جسم پر لباس نہ ہو تو مرد کو دنیا میں سوائے اس کے کچھ نظر نہیں آتا لیکن اگر وہ ایسے زاویوں سے اس کے سامنے آئے کہ اس کے جسم کا ہر حصہ دعوت دے رہا ہو تو سکتہ طاری ہونا لازمی ہے ۔
وہ یوگا کی مشقیں کر رہی تھی ۔ اس کا گلابی جسم کئ سمتوں سے مڑ رہا تھا۔ کھِل رہا تھا ۔
مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے میں کیبرے ڈانس دیکھ رہا ہوں ۔ میرے دل کی دھڑکن تیز ہو گئ تھی ۔ اس نے پسینہ صاف کرنے کے لیے تولیہ پکڑا تو میں نے اصل میں آنکھیں بند کر لیں ۔ کیونکہ مزید آزمائش کی تاب نہ تھی ۔ میں جوان تھا ۔
بھوکے کے سامنے دسترخوان پر انواع اقسام کے کھانے رکھ دیے جائیں اور وہ کھا نہ سکے تو اس کی کیا حالت ہوگی ۔ میں اس کیفیت سے خود کو بچانا چاہتا تھا ۔
میں دل ہی دل میں لاحول پڑھنے لگا پھر قسمیں کھانے لگا کہ پارے کی طرح مچلتے اس جسم کو حاصل کر کے رہوں گا ۔
میں اسٹوفر پر ظاہر کر رہا تھا کہ میں انجلا کے سحر میں بری طرح ڈوب گیا ہوں ۔
وہ میری طرف سے مطمئن ہو کر خاموش ہو گیا تو میں بیڈ پر لیٹ گیا ۔ مجھے آنے والے دن میں جو مشکل درپیش تھی اس نے مجھے انجلا کی طرف دوبارہ دیکھنے نہیں دیا ۔
میں نے یکسو ہو کر اپنی سانس کھینچ کر روک لی ۔ اپنے دماغ کی طاقت کو ایک نقطے پر مرکوز کر کے میں نے ہر سوچ سے خالی کر دیا ۔ اور دو گھنٹے کے بعد آنکھ کھلنے کا میسیج دیا ۔ اس کے بعد میں نے سونے کے لیے آنکھیں بند کر لیں ۔
ٹھیک دو گھنٹے بعد میری آنکھ کھل گئی ۔ میں نے گھڑی دیکھی اس وقت رات کے تین بجے تھے ۔ پرفیکٹ ٹائم ۔ اب مجھے اپنی انتہائی صلاحیتوں کو آزمانا تھا ۔
میں نے انجلا کی سوچ میں جھانکا وہ الٹے سیدھے خواب دیکھ رہی تھی ۔ پھر میں اپنے اصل شکار کی طرف آگیا ۔ اب تک اسٹوفر مجھے شکار کر رہا تھا اور میں بچ رہا تھا ۔ اب میں اسے شکار کرنا چاہتا تھا اور پہلے ہی وار سے اسے چاروں شانے چت کر دینا چاہتا تھا ۔
کہتے ہیں کہ اپنے دشمن پر بےخبری میں کیا گیا وار کبھی خالی نہیں جاتا۔ یہی داؤ میرے ہاتھ میں تھا ۔
میں نے اسٹوفر کے دماغ میں جھانک کر دیکھا وہاں مکمل خاموشی تھی یعنی وہ گہری نیند میں تھا ۔ ٹیلی پیتھی جاننے والے یہ علم رکھتے ہیں کہ سوتے میں انسانی دماغ بہت کمزور ہوتا ہے ۔ ٹیلی پیتھی جاننے والا خواہ کتنا ہی طاقتور ہو اگر سونے سے پہلے اپنے دماغ کے گرد حصار نہیں باندھتا جس طرح میں نے سونے سے پہلے کیا تھا تو وہ بھی عام انسانوں کی طرح ہوتا ہے۔ اسے زیر کرنے کا یہ سنہری موقع ہوتا ہے اور یہی موقع میرے ہاتھ آ گیا تھا ۔ اگرچہ اسٹوفر مجھ سے زیادہ علم رکھتا تھا لیکن وہ اپنے اسی اعتماد سے مار کھا گیا تھا۔
میں نے ہولے سے اس کے ذہن پر دستک دی ۔
اسٹوفر تم خواب دیکھ رہے ہو اور تم خواب دیکھتے رہو گے ۔۔۔۔
میں نے اپنے جانے پہچانے کھیل کا آغاز کیا
تمہاری آنکھیں بند ہیں اور اسی طرح بند رہیں گی۔ دیکھو ذرا سوچو تم کیا دیکھ رہے ہو ۔
تحمکانہ انداز میں ایسا سوچتے وقت میں نے اسے ذہنی طور پر کسمساتے ہوئے محسوس کیا ۔ شاید وہ نیند میں چونکنے والا تھا ۔
میں نے پھر تحمکانہ لہجے میں کہا ۔۔۔۔ خاموش پڑے رہو خواب دیکھو کوئ اندیشہ نہ کرو ۔ تم ٹیلی پیتھی جانتے ہو ۔ ٹیلی پیتھی جاننے والے انسانی نفسیات سے واقف ہوتے ہیں تم اس نفسیات کو سمجھو ۔ یہ ایسا ہی تحمکانہ انداز ہے جیسا تم دوسروں کو ٹرانس میں لانے کے لیے استعمال کرتے ہو ۔ لہٰذا کوئ اندیشہ نہ کرو ۔ تمہارے آس پاس سب کچھ دھندلا رہا ہے اور دو آنکھیں واضح ہو رہی ہیں ۔ ان آنکھوں کو دیکھو ۔ تم ان آنکھوں کو پہلے بھی دیکھ چکے ہو لیکن تم انہیں نہیں پہچانو گے صرف انہیں دیکھو گے ۔ کیا تم ان آنکھوں کو دیکھ رہے ہو ؟
یہ کہہ کر میں نے آنکھیں کھول دیں اور گھور کر خلا میں دیکھنے لگا ۔
اس وقت اسٹوفر کے دماغ میں ایک سوچ ابھری
ہاں میں نے آنکھوں کو دیکھ رہا ہوں اف یہ کس طرح انگارے برسا رہی ہیں ۔ میں سمجھتا تھا کہ میری آنکھیں بہت خطرناک ہیں دوسروں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں لیکن میں ان آنکھوں کی طرف کھینچا جا رہا ہوں مجھے کیا ہو رہا ہے میری قوت ارادی کمزور کیوں پڑ گئی ہے میں آنکھوں کو نہیں دیکھنا چاہتا میں ان آنکھوں کو نہیں دیکھوں
گا نہیں دیکھوں گا۔۔۔۔۔۔

اسے ٹرانس میں لانا کوئی بچوں کا کھیل نہیں تھا وہ میری ٹکر کا ادمی تھا میری طرح ہپناٹزم اور ٹیلی پیتھی دونوں ہی علوم سے واقف تھا۔
بلکہ اپنی عمر کے لحاظ سے زیادہ تجربہ کار تھا۔ لیکن بات موقع کی ہوتی ہے جسے موقع مل جاتا ہے اس کا داؤ چل جاتا ہے۔ میں اگر سونے سے پہلے اپنے دماغ کے گرد آہنی حصار نہ باندھتا تو وہ میرے ساتھ بھی یہی سلوک کرتا ۔ اس سے چھوٹی سی ایک غلطی ہو گئی کہ وہ خود پر ضرورت سے زیادہ اعتماد کر بیٹھا تھا اور اپنے دماغ کے گرد حصار باندھنا بھول گیا۔
بہرحال میں نے بڑی کوششوں سے اس سے خوابیدہ حالت میں اپنا محکوم بنا لیا ہے۔ میں نے اس سے پوچھا 
تم کون ہو اور کس مقصد کے لیے اس ملک میں آئے ہو؟
وہ اپنی سوچ میں جواب دینے لگا
میں برطانیہ کا باشندہ ہوں مجھے بچپن سے حیرت انگیز علوم سیکھنے کا خبط ہے۔ میں جوان ہو کر ہپناٹزم اور ٹیلی پیتھی کے علوم میں ماہر ہو گیا تھا۔ دولت سمیٹنے کے لیے اور عیش و عشرت کی زندگی گزارنے کے لیے جرائم کے راستوں پر چل پڑا میرے پاس ایسے علوم ہیں جن کے ذریعے میں بڑے سے بڑا مجرم اپنا مطیع و فرمان بنا لیتا ہوں ۔ لیکن اس دنیا میں ہر سیر کے لیے سوا سیر موجود ہوتا ہے۔ جب میں مختلف ممالک کی سیر کرتا ہوا استنبول پہنچا وہاں ماسٹر یوشے سے میرا سامنا ہوا وہ ٹیلی پیتھی کی اتنی گہرائی میں ڈوبا ہوا تھا کہ اس گہرائ تک پہنچنے کے لیے برسوں تک ریاضت کرنی پڑتی ہے۔ کتنی ہی صبر آزما مشقوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ ماسٹر یو شے کی آنکھوں میں اتنی قوت ہے کہ وہ کئی منٹ تک جلتے ہوئے سورج سے آنکھیں ملاتا ہے میں اس کے سامنے طفل مکتب تھا۔ اس نے مجھے اپنا محکوم بنا لیا اور مجھے ایک ایسے گروہ میں لے گیا جس کا ہر فرد کسی نہ کسی علم اور فن کا استاد تھا اسی گروہ میں اینجلا سے میری ملاقات ہوئی۔ 
میں نے پوچھا کیا انجلا تمہاری بیٹی نہیں ہے؟
نہیں اس سے میرا کوئی رشتہ نہیں ہے
انجلا کے متعلق بتاؤ؟
انجلا کاباپ آگ کا دیوتا ہے۔ وہ آگ کے شعلوں میں ایسے ایسے تماشے دکھاتا ہے کہ اس کے سامنے آگ پانی ہو جاتی ہے۔
اس نے ایک قسم کا اینٹی فائر لوشن تیار کیا ہے وہ اپنے تمام جسم پر اس لوشن کی مالش کرتا ہے اس کے بعد آگ اس پر اثر نہیں کرتی ہے۔ اس لوشن کا فارمولا صرف انجلا جانتی ہے لیکن ٹیلی پیتھی کے ذریعے میں نے اور ماسٹر یوشے نے ک فارمولا معلوم کر لیا ہے۔
میں نے پوچھا کیا وہ لوشن انجلا کے پاس موجود ہے؟
ہاں وہ اس کے سیف میں موجود ہے۔
میں نے اس سے سوال کیا اس گروہ کے بارے میں بتاؤ جس کے لیے تم کام کرتے ہو؟
اس گروہ کے چار بڑے ماسٹر ہیں ان میں سے ایک ماسٹر یوشے اور انجلہ کا باپ مسٹر دانیال ہے جو آگ کا دیوتا کہلاتا ہے. باقی دو ماسٹر کبھی میرے سامنے نہیں آئے ۔ یہ تمام لوگ سیاسی مجرم ہیں تمام ملکوں کے اہم راز تک پہنچتے ہیں کوئی ملک ان کا دوست ہے نہ دشمن یہ ایک ملک ہے راز دوسرے ملک کے ہاتھوں فروخت کرتے ہیں اور چھوٹی سے چھوٹے راز کے لاکھوں ڈالر وصول کرتے ہیں اس گروہ کا نام انٹرنیشنل ماسٹرز گروپ ہے اس کا مخفف آئی ۔ ایم۔ جی ہے۔
آئی۔ ایم۔ جی کا ہیڈ کوارٹر کہاں ہے؟
"زنجیبار میں"
میں نے ایک اہم سوال کیا
جب تم پر کوئی مشکل آ پڑتی ہے جسے تم اپنے علوم میں آسان نہیں کر سکتے تو ایسی صورت میں کس سے مدد حاصل کرتے ہو؟
ماسٹر یوشے میری مدد کرتے ہیں۔
اس وقت خواب کی حالت میں جس طرح تم محکوم بنائے گئے ہو اور جس غائبانہ سوچ کے لہجے کو تم سمجھ رہے ہو کیا وہاں تک ماسٹر یوشے پہنچ سکتا ہے؟

"ہاں پہنچ سکتا ہے"
"کس طرح ؟وضاحت کرو"
اسٹوفر کی سوچ کہنے لگی جب میں صبح اٹھوں گا تو مجھے یہ خواب یاد ائے گا پھر میں سوچوں گا کہ کسی اجنبی شخص نے خواب میں مجھے اپنا محکوم بنایا تھا جب میری سمجھ میں نہیں ائے گا تو میں ماسٹری یوشے سے دماغی رابطہ قائم کروں گا۔
میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ صبح آنکھ کھلنے کے بعد تم اس خواب کو بھول جاؤ گے۔
"ہاں میں اس خواب کو بھول جاؤں گا" وہ فرمانبرداری سے بولا
اب تم شہزاد کے بارے میں بتاؤ؟
شہزاد میرے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ چونکہ میری یہ ڈیوٹی ہے کہ کوئی بھی مجرم شخص مجھ سے ٹکرائے تو میں اس کے بارے میں معلومات ماسٹر یوشے تک پہنچاؤں۔ اس لیے میں اسے اپنے گھر لے ایا لیکن اس کی سونے کی انگوٹھی نے مجھے الجھن میں ڈال دیا۔ جاگتے ہوئے وہ ایک مضبوط سوچ کا مالک شخص ہے میں اس کی سوچ کے چھپے ہوئے خانوں کو کھنگال نہیں پایا لیکن مجھے حیرت ہوئی کہ سوتے ہوئے بھی میں اس کی سوچ تک نہیں پہنچ پایا اس چیز نے مجھے شک میں ڈال دیا ہے کل صبح میں ماسٹر یوشے سے اس کے بارے میں مدد لوں گا۔
مجھے فوراً یہ احساس ہوا کہ میں ایک خطرناک صورتحال سے دوچار ہو چکا ہوں۔ میرے لیے اسٹوفر کچھ کم خطرناک نہیں تھا کہ میں دنیا کے طاقتور ترین ماسٹر یوشے سے ٹکرا جاؤں ۔ وہ اپنے فن میں یکتائے زمانہ تھے اور مجھے کٹھ پتلی کی طرح نچا سکتے تھے کیا اس وقت میں اس قابل تھا کہ خطرناک استادوں کا سامنا کر سکوں؟
یہ فیصلہ کرنے کے لیے بڑی سوچ بچار کی ضرورت تھی میں کسی ضدی یا مغرور انسان کی طرح اپنے علم اور تجربات پر فخر کرتے ہوئے بغیر سوچے سمجھے پہاڑوں سے نہیں ڈرا سکتا تھا فی الحال مجھے چار ماسٹروں کے متعلق سوچنے سے پہلے ان کے شاگرد اسٹوفر سے نپٹنا تھا میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ صبح اٹھ کر ماسٹر یو شے سے مجھے متعارف کروا دے 
۔
ماسٹر یوشے ان دو لوگوں یعنی اسٹوفر اور انجلا کے ذریعے مجھ تک پہنچ سکتا تھا مجھے فوری طور پر ان دو لوگوں کو ختم کرنا تھا یہ دونوں ایک خطرناک تنظیم ائی جی ایم کے ممبرز تھے ان کے ذریعے وہ کل سب مل کر مجھ پر چڑھ دوڑیں گے ۔ میرے لیے ضروری تھا کہ آج رات ان دونوں کو ختم ہو جانا چاہیے ان کے لیے آج رات کی صبح نہیں ہونی چاہیے لیکن اسٹرفر کو ختم کرنے سے پہلے مجھے کچھ اہم معلومات درکار تھی۔
تم نے یہاں آ کر اپنی تنظیم کے لیے اب تک کتنا کام کیا ہے؟
یہاں پر میں نے دو غیر ملکی جاسوسوں سے اہم سودے کیے ہیں ۔
ایک دھرم دیر ( بلیک گائیڈ) جس سے مجھے کاغذات نہیں مل سکے اور وہ گرفتار ہو گیا۔ اور دوسرا بیل منڈو ہے۔ بیل منڈو ایک فری لانسر ہے۔ اس کا طریقہ کار بھی یہی ہے کہ جب بھی کوئی اہم راز اس کے ہاتھ لگ جاتا ہے تو وہ کسی بھی ملک کے ہاتھوں اچھی خاصی رقم لے کر فروخت کر دیتا ہے ابھی میں اس سے سودا کر رہا ہوں اس کے پاس ایک ملک کے فوجی اڈوں کی مائیکرو فلم ہے۔
وہ اس فلم کے 25 لاکھ ڈالر مانگتا ہے جو بہت زیادہ ہیں اس کے لیے صرف 10 لاکھ تک دے سکتا ہوں جب اس نے اس سودے سے انکار کیا جو میں نے اس کی سوچ کے ذریعے اس مائکروفیلم تک پہنچنے کی کوشش کی۔ اس کی سوچ سے مجھے معلوم ہوا کہ اس کی ناک پلاسٹک کی ہے کسی حادثے میں اس کی ناک کٹ گئی تھی جس کی جگہ پلاسٹک کی ناک لگائی گئی ہے وہ مائکرو فلم اپنی ناک میں چھپا کر رکھتا ہے۔ اس فلم کو حاصل کرنے کے لیے میں نے یہاں کے نامور غنڈوں کی خدمات حاصل کی لیکن وہ لڑنے مرنے والے آٹھ دس غنڈے بھی اسے قابو نہ کر سکے۔ وہ ایک خطرناک فائٹر ہے اور اسے زیر کرنا میرے لیے تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔ میں یہ فلم حاصل کرنے کے لیے شہزاد انور کے جادو سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہوں۔
میں نے اسٹو فر سے سوال کیا تم نے یہ کیسے سمجھ لیا تھا کہ شہزاد اتنے خطرناک فائٹرز ناک سے وہ فلم نکال کر لے ائے گا وہ تو محض تجوریاں کھول سکتا ہے۔
ہاں میں سمجھتا ہوں کہ شہزاد اس درندے کو کبھی بھی قابو نہیں کر سکتا لیکن شہزاد اس کے سیف میں سے وہ مائکروفلم نکال کر لا سکتا ہے۔ بیل منڈو سونے سے پہلے اپنے ناک سے وہ فلم نکال کر اپنی خواب گاہ میں موجود ایک سے میں لاک کر کے رکھ دیتا ہے۔ شہزاد وہ سیف کھول کر اس میں سے وہ مائکروفلم لا سکتا ہے ۔
بیل منڈو کہاں رہتا ہے ؟
وہ اپنی سوچ کے ذریعے مجھے بتانے لگا کہ بیل منڈو سمندر کے کنارے ایک اونچے ٹیلے پر سبز رنگ کی کوٹھی میں رہتا ہے ۔ اس کے قریب ایک مچھیروں کی بستی ہے وہ سب اس کے آدمی ہیں جو سمندر کے راستے سونا اور ڈرگ سمگل کرتے ہیں ۔
ساری معلومات لینے کے بعد میں نے اسٹوفر کو حکم دیا کہ ایک تیز دھار چاقو لے کر آؤ ۔ وہ میرا معمول تھا ۔ اس نے اٹھ کر سائیڈ ٹیبل کی دراز کھولی اور ایک تیز دھار چاقو نکالا۔
اب یہ چاقو لے کر بیڈ پر لیٹ جاؤ
وہ بیڈ پر آ کر سیدھا لیٹ گیا ۔
میں نے تحمکانہ لہجے میں کہا
یہ چاقو اٹھاؤ اور پوری قوت سے اپنے سینے میں گھونپ دو ۔
اگلے لمحے اس نے میری ہدایت پر عمل کر لیا ۔ کچھ دیر تڑپنے کے بعد وہ ساکت ہو گیا ۔
مجھے افسوس ہے کہ میں نے ایک انسانی جان لی ۔ لیکن وہ نہ مرتا تو ماسٹر یوشے مجھے کل اپنا آلہ کار بنا لیتا اور میرے ملک کے خلاف استعمال کرتا جو مجھے کسی صورت منظور نہ تھا ۔
اب میں نے انجلا کے دماغ میں جھانکا وہ گہری نیند میں تھی۔ 
اسے معمول بنانا نسبتاً آسان تھا ۔ میرا پہلا مشن اس کے سیف میں سے اینٹی فائر لوشن نکال کر اپنے جسم پر ملنا تھا ۔
میں نے اسے حکم دیا کہ اپنی خواب گاہ کا دروازا کھول دے ۔
اس نے فوراً حکم کی تکمیل کی اور دوبارہ بیڈ پر جا کر لیٹ گئ۔ میں نے اس کے دماغ کو ہدایت کی کہ پندرہ منٹ کے بعد ہپناٹزم کا اثر ختم ہو جانا چاہیے ۔
جب میں اس کے کمرے میں داخل ہوا تو وہ باریک ریشمی لباس پہنے گہری نیند میں تھی ۔
میں کچھ دیر اس سوئ ہوئ قیامت کو دیکھتا رہا ۔ پھر اس کا سیف کھول کر اینٹی فائر لوشن نکالا ۔ اپنا لباس اتار کر میں نے لوشن اپنے جسم پر اچھی طرح سے مل لیا ۔ اس میں سے ایک ناگوار سی بو آ رہی تھی لیکن کچھ دیر کے بعد ختم ہو گئی ۔ میں نے اپنا لباس پہنا اور دروازے سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا ۔
اب وقت آ گیا تھا کہ انجلا کو جگایا جائے کیونکہ پندرہ منٹ گزر چکے تھے اور میرے تنویمی عمل کی مدت ختم ہو چکی تھی ۔
میں نے اسے آہستہ سے آواز دی ۔
اس نے ایکدم آنکھیں کھول کر ادھر ادھر دیکھا ۔ یہ اس کی تربیت کا حصہ تھا ۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گئ۔ پھر اس کی نظر مجھ پر پڑی ۔ اس کی خوبصورت آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں ۔ ت ۔۔۔ تم یہاں کیسے آئے۔ ڈیڈی اٹھ گئے تو بہت ناراض ہوں گے ۔
میں نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا تمہارا بناسپتی باپ اس دنیا میں نہیں ہے ۔
کیا ۔۔۔ کیا مطلب ۔۔۔ تم۔۔۔ تم کہنا کیا چاہتے ہو وہ بوکھلا کر اسٹوفر کی خوابگاہ کی طرف بھاگی ۔ میں اس کے پیچھے آ کر کھڑا ہو گیا۔
وہ سکتے میں اسٹوفر کی لاش کے پاس کھڑی تھی ۔
تم نے اسے قتل کر دیا ؟
نہیں بلکل نہیں اتنے طاقتور شخص کو مار ڈالنا میرے بس کا روگ نہیں ہے ۔ اس نے خود کشی کر لی ہے ۔ اور مرتے ہوئے مجھے کہا کہ جاؤ میری بیٹی کے کمرے میں جاؤ اور عیش کرو۔
انجلا کے چہرے پر ایسے تاثرات تھے کہ جیسے کوئ فیصلہ نہ کر پا رہا ہو کہ کیا کرنا چاہیے ۔
میں نے اس کی سوچ میں جھانکا ۔۔۔۔

وہ اپنی سوچ کے مطابق مجھے مارنے کا منصوبہ ترتیب دے رہی تھی ۔
وہ سوچ رہی تھی کہ اتنے خطرناک آدمی کو کنٹرول کرنے کے لیے مجھے اپنے آگ والے طریقے پر عمل کرنا چاہیے ۔ میں اسے اپنے حسن کے جال میں پھنسا کر آگ بھڑکا دوں گی جس میں یہ جل کر بھسم ہو جائے گا ۔ اس سے پہلے مجھے اپنی خوابگاہ میں جا کر اینٹی فائر لوشن اپنے جسم پر ملنا ہوگا ۔ 
یہ سوچتے ہوئے اگلے پل اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئ ۔ وہ دھیرے دھیرے چلتی ہوئی میرے قریب آ کر رک گئ ۔
تم نے میری زندگی سے ایک خطرناک بلا کو مار ڈالا ہے ۔ میں تمہاری احسان مند ہوں ۔ یہ مجھے ہر وقت دولت کمانے کی گڑیا کے طور پر استعمال کرتا تھا ۔ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ تم اتنے بہادر ہو سکتے ہو۔ مجھے اپنی زندگی میں ایسے ہی کسی بہادر کی محبت کی تلاش تھی 
آؤ اج ہم اپنی محبت کا پہلا جشن مناتے ہیں۔
یہ کہہ کر اس نے میرے بازو پر ہاتھ رکھا اور مجھے لے کر اپنی خوابگاہ میں آگئی ۔ میں نے ایسے ظاہر کیا جیسے میں اسی انتظار میں تھا ۔ میری آنکھوں سے لالچ اور ہوس ٹپکنے لگی ۔
وہ مجھے لیے بستر پر آگئی اور ہلکے سے دھکے کے ساتھ مجھے بیڈ پر گرا دیا۔
میں اس کا اشارہ سمجھ کر بستر پر لیٹ گیا ۔ وہ پیچھے ہٹتے ہوئے دلربا انداز میں ایک توبہ شکن انگڑائی لیتے ہوئے بولی
ایک منٹ میں ذرا یہ لباس سے پیچھا چھڑا لوں ۔
میرے دل کی دھڑکن حقیقتاً بےقابو ہو رہی تھی ۔ میں نے گہری سانس لے کر اس کی سوچ میں جھانکا ۔
وہ اپنے جسم پر اینٹی فائر لوشن ملنے کے لیے جا رہی تھی ۔ میں نے آنکھیں بند کر کے ایسے ظاہر کیا جیسے مجھ سے اب کنٹرول نہیں ہو رہا ہے ۔
میں نے اس کی سوچ سے پوچھا ۔ یہ لوشن کمال چیز ہے ۔ یہ کیسے بنا ہوگا ۔
وہ اپنے آپ کو سمجھاتے ہوئے سوچ رہی تھی ۔ اس وقت مجھے ایسی چیزوں کے بارے میں نہیں سوچنا چاہیے اس کا فارمولا میرے سیف میں ایک ڈائری پر لکھا ہوا ہے ۔ یہ سوچتے ہوئے اس نے سیف کھول کر لوشن نکالا اور باتھ روم میں چلی گئ ۔
میں نے آنکھیں کھول دیں ۔ مجھے وہ فارمولا اس کے باتھ روم سے واپس آنے سے پہلے سیف سے نکال کر رکھ لینا چاہیے ۔ میں نے اٹھ کر سیف کھولا وہاں سامنے ہی بلیک ڈائری پڑی تھی اس کے علاؤہ کچھ زیورات اور ایک ہیرے کی انگوٹھی تھی۔ میں نے وہ ڈائری اور انگوٹھی مال غنیمت کے طور پر رکھ لی اور پھر سے بستر پر لیٹ گیا ۔
ایک منٹ کے بعد انجلا باتھ روم سے ایسے نکلی جیسے ابھی جنم لیا ہو ۔ اس کے حسین چمکتے بدن پر ایک بھی چیز اسے چھپانے کو موجود نہ تھی۔
وہ ایک کیبرے ڈانسر کی طرح اپنے پنجوں کے بل چلتی ہوئی میرے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی ۔ پھر اسی طرح سٹیپس لیتے ہوئے مجھے انگلی کے اشارے سے بلانے لگی ۔ میں اس کا ہاتھ تھام کر اس کے قریب آ گیا ۔ میری قربت اسے مدہوش کر رہی تھی لیکن وہ جس تنظیم کی رکن تھی وہاں جذبات پر کنٹرول پہلی شرط ہوتی ہے ۔
اس نے اپنے بازو میری کمر کے گرد لپیٹ کر میز پر رکھی سیگریٹ اٹھا لی ۔ اور مجھے جلانے کو کہا ۔
میں سمجھ گیا کہ آگ کے رقص کا وقت آ گیا ہے ۔
میں نے ایک ہاتھ سے انجلا کی کمر کو تھاما اور دوسرے ہاتھ سے میز پر پڑا لائیٹر اٹھا کر انجلا کے منہ میں دبی سیگریٹ کی طرف بڑھایا ۔
انجلا نے اپنے سرخ ہونٹوں پر ایک دل آویز مسکراہٹ لیے مجھے دیکھا ۔
میں نے لائیٹر جلا دیا ۔ ووش کی آواز سے ہمارے چاروں طرف آگ شعلے بھڑکنے لگے ۔
انجلا میرے بازوؤں میں قہقہے لگانے لگی۔ اس کی آنکھوں میں ایسی شیطانی چمک تھی کہ شعلے ماند پڑ رہے تھے ۔
وہ اونچا اونچا چیخنے لگی۔۔۔
میں آگ کے دیوتاماسٹر دانیال کی بیٹی ہوں ۔ میں آگ لگا کر تمہیں راکھ بنا دوں گی ۔
ہمارے چاروں طرف آگ رقص کر رہی تھی لیکن اس نے ہم دونوں کو چھوا بھی نہیں تھا ۔
میں انجلا کی گردن پر نرمی سے انگلی پھیرتے ہوئے کہا
غور سے دیکھو میں تمہارے حسن کی آگ میں جل رہا ہوں ۔
اس نے حیرانی سے مجھے دیکھا ۔ پھر اس کی نظر میرے جسم پر پڑی جس پر آگ کا کوئ اثر نہیں ہو رہا تھا ۔ اس نے کچھ بولنے کی کوشش کی لیکن اس کی آواز اس کے گلے میں گھٹ کر رہ گئ ۔ میں نے اپنی گرفت میں اس قیامت کو آگ کے شعلوں کے درمیان پگھلتے ہوئے دیکھا ۔ اس کی قوت مدافعت ختم ہو چکی تھی ۔ بس آگ باقی تھی ۔ کچھ دیر کے بعد جب آگ بجھ چکی تو میں نے اسے کہا
اب ا جاؤ اور اپنے جسم سے ان شعلوں کی باقیات دھو ڈالو ۔
وہ بھاگتی ہوئی باتھ روم میں بنے ٹب میں جا کر لیٹ گئ۔ تنویمی عمل سے اسے اس پانی میں ڈبونے میں مجھے پانچ منٹ سے زیادہ وقت نہیں لگا تھا ۔
میں نے انجلا کا بےجان جسم پانی میں چھوڑ دیا ۔ وہ بےحس و حرکت پڑی رہی ۔ اسے وہیں چھوڑ کر میں کوٹھی سے نکل آیا ۔ ہاکس بے آ کر میں سیدھا سمندر کے کنارے چلا آیا ۔ اس وقت صبح ہونے میں کچھ وقت باقی تھا ۔ میں ساحل کی بھیگی ہوئی ریت پر چلنے لگا سامنے وسیع وعریض سمندر تھا اور اوپر کھلا آسمان ۔ چاروں طرف خاموشی تھی ۔سکون تھا ۔ ایسا سکون جو بہت دیر کے بعد میسر آیا تھا ۔
میں وہاں آنکھیں بند کر کے کچھ دیر بیٹھ گیا ۔ اس وقت میں کسی سے رابطہ نہیں کرنا چاہتا تھا ۔ میں نے گہری سانس لے کر ہر سوچ کو جھٹک دیا ۔ پتا نہیں کتنی دیر میں ایسے بیٹھا رہا ۔ جب ہلکی ہلکی روشنی پھیلنے لگی تو میں اٹھ کر کاٹیج میں چلا آیا ۔
ایک طویل شاور لے کر ڈٹ کر ناشتہ کیا ۔ یہاں کوئ ملازم نہیں تھا ۔ لیکن سعید احمد کافی زیادہ کھانے پینے کی چیزوں کا بندوست کر گئے تھے ۔ ناشتہ کر کے میں نے سعید احمد سے رابطہ کیا ۔ اور ان کو انجلا اور اسٹوفر کی موت کی تفصیلات بتائیں ۔
وہ حیران پریشان رہ گئے ۔ پھر دھیمے لہجے میں کہنے لگے ۔
فرہاد مجرم چاہے کتنا بھی برا ہو قانون کو ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے ۔
میں نے ان کو ماسٹر یوشے اور آئ جی ایم کے بارے میں بتایا تو فوراً ان کی رائے تبدیل ہو گئ۔ ایک انٹیلیجنس آفیسر کے دماغ میں وطن کی محبت سب سے پہلے ہوتی ہے پھر دوسری چیزیں آتی ہیں ۔
وہ معذرت خواہانہ لہجے میں بولے ۔ فرہاد تمہاری سوچ کی اڑان جہاں تک ہے میں وہاں تک ہر گز نہیں پہنچ سکتا ۔ تم نے موقع کی مناسبت سے جو کیا وہ بہترین تھا ۔ اتنے خطرناک مجرموں سے نمٹنے کے لیے جس دماغ کی ضرورت ہے وہ تمہارے پاس موجود ہے اور یہ میری خوش قسمتی ہے کہ تم میرے ساتھ ہو ۔ تم فکر نہ کرو ۔ میں سارے انتظامات کر لوں گا۔
میں انہیں اپنے منصوبے کے بارے میں بتانے لگا ۔
اب ہمارا اگلا ٹارگٹ بیل منڈو اور مونگری کی بستی تھا ۔ اس سے پہلے کہ ماسٹر یوشے وہاں تک پہنچتا ہمیں 
تیزی سے بیل منڈو تک پہنچنا تھا ۔
👇👇
 دیوتا - پارٹ 4

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے