آدم خوردرندوں کا شکاری (قسط نمبر13) میرے ایک پڑوسی دوست کے بنگلے کا احاطہ آٹھ فٹ اونچا تھا۔ ان کے بارہ قاز، ایک مہینے کے اندر اندر بوربچہ ...
آگے پڑھیںآدم خوردرندوں کا شکاری (قسط نمبر12) میں شام تک نرکے نکلنے کا انتظار کرتا رہا مگر وہ کسی طرح ایک انچ بھر آگے بڑھانہ سامنے آیا۔ جب اندھیرا ب...
آگے پڑھیںآدم خوردرندوں کا شکاری (قسط نمبر11) عباسی، ہیر چند اور چمار کے ہزار چیخنے چلانے اور پتھر مارنے کے باوجود گلدار جھاڑ سے نہ نکلا۔ چمارنے عبا...
آگے پڑھیںآدم خوردرندوں کا شکاری (قسط نمبر10) ہمارے ایک راجپوت اور بڑے محلص دوست چودھری وجے پال سنگھ موضع کول کے رہنے والے ہیں اور یہیں کھولہ سے ملا...
آگے پڑھیںآدم خوردرندوں کا شکاری (قسط نمبر9) مجھے جنگل میں اکیلا چھوڑ کر گاؤں والے چلے گئے اور کہہ گئے کہ ضرورت پڑنے پر میں اگر حلق پھاڑ کر پکاروں گا ...
آگے پڑھیں