فرہاد علی تیمور ضلع شیخو پورہ کی تحصیل شاہ کوٹ کے ایک بہت بڑے زمیندار کا بیٹا تھا ۔ ان کی زمینیں پانچ سو ایکڑ تک پھیلی ہوئی تھیں۔ قسمت کی خوبی دیکھیے کہ پیدا ہوتے ہی ماں سے محروم ہو گیا اور چھ سال کی عمر میں باپ بھی نہ رہا ۔
اس کے چچا ناصر علی جو کہ شہر میں رہتے تھے اور زمینداری سے کوئ دلچسپی نہ رکھتے تھے ۔ بھائ کے مرتے ہی ساری زمینوں اور جائیداد پر قابض ہو گئے اور فرہاد علی تیمور کو اپنے ساتھ لے کر لاہور آ گئے ۔یہاں آ کر اسے معلوم ہوا کہ چچا کی وہ سب پیار و محبت ایک سراب تھا ۔ چچی اسے دھتکارنے کا کوئ موقع جانے نہ دیتیں ۔ ان کے بچے ظہیر علی اور غزالہ دونوں اس سے بڑے تھے بہت مغرور اور نک چڑھے تھے ۔ غزالہ اس سے پاؤں تک دبوایا کرتی جبکہ چھوٹی شاہینہ ہر وقت گود میں سوار رہتی۔
ایک دن چچا نے چچی کی نفرت انگیز باتیں سن لیں ۔ بھلے ہی اس کی جائیداد پر قابض تھے لیکن اس کی سایئڈ لیتے ہوئے کہنے لگے
میں نے ہزار بار تمہیں سمجھایا ہے لڑکے سے اچھی طرح پیش آیا کرو اگر یہ بدک کر پھوپھی کے ہاں چلا گیا تو اس کی زمینوں کی آمدنی بھی ساتھ ہی چلی جائے گی ۔
چچی کہنے لگی میں کدھر کچھ کہتی ہوں لیکن مجھے اس کی آنکھیں دیکھ کر وحشت ہوتی ہے ۔ تم نے شاید غور نہیں کیا اس کی آنکھوں میں عجیب سی چمک ہے۔
میں سچ کہتی ہوں اس کے اندر شاید کوئی بدروح گھسی ہوئی ہے ۔
چچی کی نفرت انگیز باتیں سن کر فرہاد علی تیمور کو اپنے والد کی کہی ہوئی بات یاد آ گئ
"میرے بیٹے کی آنکھوں میں قدرتی چمک ہے ، فرشتوں کا نور ہے ۔ یہ اپنے مخاطب کا دل موہ لیا کرے گا "
دو متضاد باتوں نے فرہاد علی تیمور کو اپنی آنکھیں آیئنے میں دیکھنے پر مجبور کر دیا ۔
اسے یہ سوچ کر خوشی ہو رہی تھی کہ چچی اس کی آنکھوں سے ڈرتی ہیں۔
یوں نفرتوں کے سائے میں اس کے دل میں عداوت پلنے لگی ۔
انہی دنوں چچی کے بارے میں ایک خوفناک انکشاف نے اس کے پیروں تلے سے زمین کھینچ لی ۔
رات کے دس بجے تھے ۔ چچا کسی کام سے گھر سے باہر تھے ۔ چچی شاہینہ کو اس کے بستر پر لٹا کر اپنے کمرے میں چلی گئ تھیں ۔ وہ چچی کو بلانے گیا تاکہ وہ شاہینہ کو آکر لے جائیں۔دستک دینے پر چچی نے غصے سے ذرا سا دروازہ کھول کر جھانکا اسے لگا کمرے میں کوئ شخص موجود ہے ۔ چچی نے اسے بےنقط سنائیں اور دروازہ بند کر لیا ۔
وہ بہت دیر دروازے کو گھورتا رہا ۔ اندر سے کسی مرد کی آوازیں آ رہی تھیں ۔ فرہاد علی تیمور کو پہلی بار یہ لگا جیسے وہ کمرے کے اندھیرے میں بھٹک رہا ہے ۔
چچی نے اپنا گناہ چھپانے کے لیے اگلی صبح چچا کے آنے کے بعد فرہاد علی تیمور پر شاہینہ کو لے کرگھٹیا الزامات لگائے ۔ وہی شاہینہ جسے وہ اپنی سگی بہن سمجھتا تھا ۔ اس نے بہت کوشش کی کہ چچا کو چچی کی مکاری کے بارے میں بتائے لیکن انہوں نے اس کی ایک نہ سنی اسے بری طرح مارا پیٹا اور سٹور میں بند کر دیا ۔ اس کا کھانا پینا سب بند کر دیا ۔ شاہینہ کو چچی کے کہنے پر اس کے ننھیال بھیجوا دیا گیا۔اادونوں نے طے کیا کہ بڑے ہونے پر شاہینہ کی شادی فرہاد علی تیمور سے کر دی جائے اور اسے گھر داماد بنا لیں ۔ یہ فیصلہ کرتے ہیں فرہاد علی تیمور کو سٹور سے رہائ مل گئ لیکن بدصورت رویوں سے رہائی شاید ابھی ممکن نہ تھی ۔
وقت گزرتا گیا اور اسی زہریلے ماحول میں وہ بیس سال کی عمر کو پہنچ گیا ۔اس دوران اس کی شاہینہ سے ایک دو بار مختصر ملاقات ہی ہو سکی۔
چچا اسے زمینوں کے جھوٹے کاغذات دکھا کر باور کراتے رہے کہ یہ ساری جائیداد ان کے نام ہے جس پر اسے ذرہ برابر یقین نہیں تھا ۔ وہ اس سے جھوٹی محبت جتاتے اور اسے اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش میں لگے رہتے ۔
تو پیارے پڑھنے والو یہ تھا شروع کا خلاصہ
اب آگے پڑھیے فرہاد علی تیمور کی سرگزشت سسپینس ڈائجیسٹ سے
میں ان کی محبت اور خلوص سے متاثر نہ ہو سکا اور مزید کچھ کہے سنے بغیر وہاں سے چلا آیا ۔ میں نے اسی وقت سوچ لیا کہ دوسرے دن شاہ کوٹ جاؤں گا اور وہاں کے پٹواری سے اصل حقیقت پتا کروں گا ۔کیوں کہ پٹواریوں کے پاس تمام زمینوں اور زمینداروں کی ملکیت کے ریکارڈز موجود رہتے ہیں وہیں سے جھوٹ سچ کا پتا چل جائے گا ۔
میں اپنے کمرے میں آ کر ٹہلنے لگا تھوڑی دیر بعد ایک ملازم نے آکر کہابی بی جی آپ کو بلا رہی ہیں ۔
گھر کے ملازم غزالہ کو بی بی جی کہا کرتے تھے ۔میں سمجھ گیا کہ ان میں نے اس کے بوائے فرینڈ کا حلیہ بگاڑ دیا ہے اس لیے وہ بھی اپنی ماں کی طرح باتیں سنانا چاہتی ہے ۔ پہلے تو میں نے سوچا کہ نہ جاؤں بات خوامخواہ بڑھے گی۔ وہ ایک کہے گی تو میں دس سناؤں گا ۔پھر
میرے سوچنے کا انداز بدل گیا ۔ دل میں نفرت تھی اور یہ نفرت عداوت میں بدلنے والی تھی ۔ میں یہی چاہتا تھا کہ وہاں عزت سے رہوں یا پھر لڑ جھگڑ کر نکل آؤں۔
میں اس کے کمرے کی طرف چل پڑا میرا دل کہہ رہا تھا کہ آج کچھ ہونے والا ہے مگر میں بزدل نہیں تھا کہ ایک لڑکی کا سامنا کرنے سے کترا جاتا ۔ میں اس کے کمرے میں پہنچا تو وہ پلنگ پر لیٹی ہوئی تھی میں اسے دیکھتے ہی ٹھٹھک کر رک گیا ۔
وہ اپنے چہرے کو ایک بازو میں چھپائے ہوئے لیٹی ہوئی تھی ۔ دروازہ کھلنے پر اس نے ذرا سا ہاتھ ہٹا کر مجھے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں بلا کا خمار تھا ۔ ان دنوں میں بیس برس کا نوجوان تھا ۔ عورت کو اس کی آنکھوں سے پہچاننے کا کوئ تجربہ نہیں تھا ۔ میرے کہنے کا یہ مطلب نہیں کہ میں نادان تھا ۔ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔اس دور میں دس برس کے بچے بھی ذہنی عیاشی کا کورس پڑھنا اور سمجھنا شروع کر دیتے ہیں ۔ میں بھی نادان نہیں تھا مگر شیطان بھی نہیں تھا اس حد تک معصوم تھا کہ غزالہ کی خمار آلود آنکھیں دیکھ کر اسے نیند کا خمار سمجھا۔
وہ بڑی سنجیدگی سے بولی
"آؤ دروازہ آہستگی سے بند کرو میرے سر میں درد ہو رہا ہے"
میں نے دروازہ بند کیا اور پلنگ کی طرف بڑھتے ہوئے اس کے بوائے فرینڈ کا نام لے کر کہا
"میں نے قیصر کو مارا ہے اور درد تمہارے سر میں ہو رہا ہے"
"تم مجھے طعنہ نہ دو ۔ بزدل ہمیشہ مار کھاتے ہیں ۔ مجھے قیصر سے کوئی ہمدردی نہیں ۔ آج تمہاری دلیری دیکھ کر میرا سوچنے کا انداز بدل گیا ہے"
میں سمجھنا چاہتا تھا کہ وہ کیا کہنا چاہتی ہے ۔ میں نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا تو میری نظریں بہک گئیں ۔ وہ زبان سے کچھ نہیں کہہ رہی تھی اپنے بدن کے نشیب و فراز سے پکار رہی تھی ۔
مجھے خاموش دیکھ کر اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا
کیا اس کوٹھی میں تم مالک کی حیثیت سے نہیں رہنا چاہتے؟"
میں نے بڑے اعتماد سے کہا
"میں صرف اس کوٹھی کا ہی نہیں شاہ پور کی زمینوں کا بھی مالک ہوں اس کا فیصلہ جلد ہو جائے گا "
وہ ہسنے لگی اور ہنستے ہنستے کہنے لگی
فیصلہ اتنا ہی آسان ہوتا تو تم محتاجی کی زندگی نہ گزار رہے ہوتے ۔ تم ایک ایک زینہ چڑھنے کی بجائے چھلانگ لگا کر تمام زمینوں اور جائیداد کے مالک بن جانا چاہتے ہو ۔ اس طرح تم میرے ڈیڈی کے دشمن بن سکتے ہو مگر کچھ حاصل نہیں کر سکتے ۔ میں تمہاری دشمن نہیں ہوں فرہاد میں تمہارے کام آنا چاہتی ہوں۔
اگر تم میرا ساتھ دو تو میں تمہیں ڈیڈی سے بہت کچھ حاصل کرنے کے طریقے بتا دوں گی "
"وہ طریقے کیا ہیں ؟" میں نے پوچھا
اس نے لیٹے ہی لیٹے ہاتھ بڑھا کر کہا
"پہلے دوستی کے لیے ہاتھ بڑھاؤ"
ایک مغرور اور بد دماغ لڑکی جو سیدھے منہ بات نہ کرتی تھی وہ دوستی کا ہاتھ بڑھا رہی تھی میں نے سوچا اگر دوستی سے کام بنتا ہے تو ضرور بنانا چاہیے۔
میں نے دوستی کے خیال سے مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا اس نے بڑی گرمجوشی سے میرے ہاتھ کو بھینچ لیا ۔ اپنی ملائم ہتھیلی اور انگلیوں کی نزاکت میں جکڑ لیا ۔
وہ مصافحہ طویل ہو گیا ۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ نہایت آہستگی سے اشارتی انداز میں میرے ہاتھ کو اپنی طرف مائل کر رہی ہے جس طرح ہلکے ٹھمکے سے پتنگ کو ہوا کے دوش پر سنبھالا جاتا ہے اسی طرح وہ مصافحے کے ٹھمکے سے مجھے سنبھال کر اور سنبھل کر بلا رہی تھی ۔
میں سمجھتا رہا اور انجان بنا ایک بت کی طرح خاموش کھڑا رہا ۔ آخر اسے زبان سے کہنا پڑا
" آؤ یہاں بیٹھو۔ آج ہم بہت سی باتیں کریں گے ۔ ہم ایک دوسرے کے دوست بن کر اپنے مستقبل کا پروگرام بنائیں گے"
وہ مجھے قریب بیٹھنے کی دعوت دے رہی تھی۔ اس کا ہاتھ کانپ رہا تھا شاید وہ اندر سے کانپ رہی تھی ۔ میں پلنگ کے سرے پر بیٹھ گیا ۔ میرا ہاتھ ابھی تک اس کے ہاتھ میں تھا ۔
تم کیسے پہاڑ ہو گئے ہو مجھ سے عمر میں "چھوٹے ہو مگر میں تم سے چھوٹی نظر آ رہی ہوں اور میں کونسی بڑی ہوں تین برس کا فرق تو کوئ فرق نہیں ہوتا ۔ مرد اسی کو کہتے ہیں جس کے ڈیل ڈول کے آگے عورت کی عمر چھپ جائے ۔ مجھے چھپا لو ۔۔۔۔"
میں الجھن میں پڑ گیا اگرچہ وہ جوان تھی اور بےحد حسین تھی مگر عمر میں مجھ سے بڑی تھی میں نے کبھی اس انداز سے نہیں سوچا تھا جیسے وہ سوچ رہی تھی ۔
"یہ.... یہ تم کیسی باتیں کر رہی ہو ؟ "
"انجان نہ بنو فرہاد! ہائے تمہارے نام میں کتنی رومانیت ہے ۔ کیا مجھے دیکھ کر میرے قریب آ کر تمہارا دل نہیں دھڑک رہا "
"یہ ۔۔۔۔ یہ بری بات ہے "
مجھے بدکتے دیکھ کر وہ اٹھ گئی ۔ پھر مجھے سمجھانے لگی۔
"بری بات یہ ہے کہ تم مجھ سے کترا رہے ہو ۔ کیا میں جوان نہیں ہوں ، کیا میں حسین نہیں ہوں ؟ مجھ میں کوئی کمی ہے تو بتاؤ ؟"
"مم۔۔۔۔۔ میں کچھ نہیں جانتا ۔ مجھے یہ بتاؤ کہ تم کس طریقے سے مجھے میرا حق دلاؤ گی؟"
"تم سے شادی کر کے"
"شادی ؟" میں نے حیرت سے کہا"یہ کیسے ہو سکتا ہے تم مجھ سے بڑی ہو چچا چچی راضی نہیں ہوں گے"
"کیسے راضی نہیں ہوں گے ۔ وہ جانتے ہیں کہ پھوپھی تمہیں بہکا رہی ہیں ۔ ایک دن ڈیڈی کہہ رہے تھے کہ شاہینہ سے تمہاری شادی کر کے تمہیں گھر داماد بنا لیں گے ۔مگر میں ڈیڈی کا ارادہ بدل دوں گی ۔ میں ان سے کہہ دوں گی کہ ہم دونوں جیون ساتھی بننا چاہتے ہیں ۔ ڈیڈی اعتراض نہیں کریں گے وہ تو صرف چاہتے ہیں کہ تمہیں گھر داماد بنا کر رکھیں "
وہ باتوں کے دوران میرے دائیں سے بائیں مچل رہی تھی ۔ حد ہوگئ تھی ایسے موقعوں پر تو فرشتے بھی بہک جاتے ہیں
ایسے موقعوں پر تو فرشتے بھی بہک جاتے ، میں بھی بہک جاتا مگر گھر داماد والی بات میری خودداری پر ایک ہتھوڑے کی طرح لگی
میں ان مکاریوں اور چالبازیوں پر غصے سے ۔ کھول گیا ۔ میں نے غزالہ کی گداز بانہوں کو تھام کر اپنے سے الگ کیا۔ ایک نظر اس کی سلگتی جوانی کو دیکھا اور فیصلہ کیا ۔ اگر آج میں اس بدن کی لذت سے آشنا ہو گیا تو ایک بار پھر یہاں غلام بن جاؤں گا ۔ عورت کا نشہ بار بار مجھے پکارے گا اور میں بار بار بہکتا جاؤں گا ۔
میں نے اسے پرے دھکیلا اور وہاں سے اٹھ گیا ۔
پھر حقارت سے بولا" میں ایسا احمق نہیں ہوں کہ تم سے شادی کر کے یہاں غلام بن کر رہ جاؤں"
وہ بستر پر چاروں شانے چت ہو گئ، پہلے چند ساعت کے لیے اس کا چہرہ سرخ ہو گیا ۔ وہ توہین کے احساس سے تلملائ ، مجھے غرا کر دیکھا ۔ مگر دیکھتے ہی جیسے پھر جذبات سے سلگ اٹھی۔ وہ عجیب کیفیات سے دوچار تھی ۔ توہین کا احساس بھی تھا ، غصہ بھی تھا اور میرے بازوؤں میں مچلنے کی دیوانگی بھی تھی۔ میں آگ لگا رہا تھا اور میں ہی آگ بجھا سکتا تھا ۔ وہ تڑپ کر اٹھی دوڑتی ہوئی میرے سامنے آئ اور میرا راستہ روک کر کھڑی ہوگئی ۔
" تم نہیں جا سکتے۔ تم کیسے پتھر ہو ؟ تم سمجھتے کیوں نہیں ؟ تمہیں غلام نہیں بنانا چاہتی تم سے شادی کر کے تمہیں اپنا بنانا چاہتی ہوں ۔ میں تمہیں نہیں جانے دوں گی"
"چھوڑو مجھے. میں تمہارے فریب میں آ کر اپنا مستقبل برباد نہیں کر سکتا ۔ دور ہٹو ۔۔۔۔۔"
میں نے پھر اسے دھکا دیا ۔ وہ لڑکھڑا کر دو قدم پیچھے گئ ۔ اس بار توہین کا احساس غالب آ گیا ۔ وہ جھلا کر چیخنے لگی۔ "سور, کمینے ۔ میں تمہارا منہ نوچ لوں گی۔تمہیں جان سے مار ڈالوں گی مگر تمہیں جانے نہیں دوں گی ۔"
وہ میرا منہ نوچنے کے لیے اچھل کر میری طرف آئ ۔ میں نے اس کے دونوں ہاتھ پکڑ لیے۔
وہ لانبے اور نوکیلے ناخن نیل پالش کی سرخی میں نہائے ہوئے تھے اور اب میرے خون کی سرخی میں ڈوبنا چاہتے تھے ۔ شاید لڑکیاں اسی لیے ناخن بڑھا کر رکھتی ہیں کہ بوقت ضرورت ان سے منہ نوچنے کا کام لیا جا سکے ۔
میں اسے روک رہا تھا اور وہ بپھری ہوئی شیرنی کی طرح بار بار مجھ پر جھپٹ رہی تھی اور ساتھ ساتھ چیخ رہی تھی۔
" تم۔۔۔۔۔تم ذلیل۔۔۔۔۔۔کمینے ۔۔۔۔۔۔۔ہمارا جوٹھا کھانے والے۔۔۔۔۔۔ تم مجھے ٹھکرا ریے ہو ۔ بڑے بڑے رئیس زادے میرے تلوے چاٹتے ہیں ۔ تم بھی یہی کرو گے ۔ ورنہ میں اپنی جان پر کھیل جاؤں گی لیکن یہ توہین برداشت نہیں کروں گی ۔ مجھ سے معافی مانگو ۔ میں سلگ رہی ہوں ، میں جل رہی ہوں ، میری آگ بجھاؤ ورنہ میں تمہیں جلا کر خاک کر دوں گی ۔"
وہ چیخ رہی تھی ، چلا رہی تھی۔ رات کے سناٹے میں وہ کمرہ اور وہ کوٹھی گونج رہی تھی ۔
پھر چچا ، چچی اور ظہیر کی آوازیں آنے لگیں۔ وہ کمرے کا دروازہ پیٹ رہے تھے ۔
میری گرفت ڈھیلی پڑ گئ۔ وہ ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑا کر دروازے کی طرف بھاگی ۔ پھر دروازہ کھلتے ہی اپنی ماں کی طرف بھاگی اور روتے ہوئے کہنے لگی۔
"ممی مجھے بچائیے یہ بدمعاش میری عزت لوٹنا چاہتا ہے ۔ میں اس گھر میں نہیں رہ سکتی جب تک یہ کمینہ یہاں رہے گا ۔ میں یہاں سے کہیں دور چلی جاؤں گی مجھے یہاں سے لے چلیے "۔
میں اس کے جھوٹ اور چلتر بازی پر حیران رہ گیا ۔ میں کچھ کہنا چاہتا تھا کہ چچا نے آگے بڑھ کر میرا گریبان پکڑ لیا اور مجھے جھنجھوڑتے ہوئے کہا۔
"حرام خور۔ تم اتنی کمینگی پر اتر آئے ۔ تم نے یہ بھی نہ سوچا کہ یہ تمہاری بڑی بہن ہے۔ میں تمہاری بوٹی بوٹی کاٹ کر پھینک دوں گا ۔"
اگر یہ بڑی بہن ہے تو میں اس پر تھوکتا ہوں ۔ میں زندگی کے کسی موڑ پر ایسی لڑکی کو بہن نہیں کہہ سکتا جو مجھے اپنے کمرے میں بلا کر گناہ کی دعوت دیتی ہو "۔
"یہ جھوٹ ہے ڈیڈی! " غزالہ نے چیخ کر کہا
"میں نے اسے بلایا تھا صرف یہ کہنے کے لیے کہ قیصر ایک بڑے آفیسر کا لڑکا ہے تم نے اس پر ہاتھ اٹھا کر اچھا نہیں کیا ہے ۔ اس پر یہ کمبخت کہنے لگا میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں ۔ قیصر کو اپنا رقیب سمجھتا ہوں ۔ پھر یہ کھلی بےشرمی کی باتیں کرنے لگا ۔ آج اس بات کا فیصلہ ہو جائے کہ اس گھر میں یہ رہے گا یا میں۔ میں آپ کی بیٹی ہوں کوئ بازاری عورت نہیں کہ اپنی ذلت برداشت کروں گی "
چچا نے میرے منہ پر طمانچہ مارنا چاہا تو میں نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا پھر اس ہاتھ کو جھٹک کر کہا۔
"بس اب مجھ پر ہاتھ نہ اٹھانا۔ آج سے میں تمام رشتے توڑ رہا ہوں ۔ تم لوگ بچپن سے مجھے بےوقوف بناتے آ رہے ہو ۔ جوانی میں تمہاری بیٹی مجھے بےوقوف بنا کر اپنے اشاروں پر نچانا چاہتی ہے ۔ میں تم لوگوں کو اچھی طرح سمجھ گیا ہوں۔ اب یہاں میرا گذارا نہیں ہے ۔ میں جا رہا ہوں مگر یاد رکھنا ایک دن میں اس کوٹھی کا مالک بن کر آؤں گا اور تم سب کو دھکے دے کر یہاں سے نکالوں گا ۔"
چچا اور چچی چیخ چیخ کر مجھے چیلنج کر ریے تھے کہ تمہارے دعوے جھوٹے ہیں ۔ میں کمرے سے جانے لگا تو میری بہن شاہینہ ایک کونے میں ظہیر کے پیچھے سہمی کھڑی تھی۔
میں نے شاہینہ کو وہاں سے جانے کے لیے کہا وہ میرا ہاتھ تھام کر مجھے روکنے لگی۔
میں اسے دلاسا دیتا ہوا اپنے کمرے میں آ گیا ۔ اپنے کپڑے کتابیں اور دوسرا سامان باندھ کر ہمیشہ کے لیے وہ گھر چھوڑ کر اپنی پھوپھی کے ہاں چلا آیا ۔
پھوپھی شاہدرہ رہتی تھیں۔ پھوپھا کا انتقال ہو چکا تھا ۔ وہ ایک اسکول میں بچوں کو پڑھایا کرتی تھیں۔ ان کی لڑکی زرینہ میری ہم عمر تھی ۔ بہت خوبصورت دل موہ لینے والی زرینہ مجھے بہت عزیز تھی ۔
اس رات ہم دیر تک باتیں کرتے رہے ۔ وہ دو کمروں کے کچے مکان میں رہتی تھیں ۔ انہوں نے ایک کمرہ میرے لیے مختص کر دیا ۔
میں نے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر کوئ چھوٹی موٹی ملازمت کر کے پھوپھی کے اخراجات اٹھانے کا فیصلہ کیا جسے انہوں نے ناراضگی سے منع کر دیا ۔
میں ساری رات چچا سے انتقام کے منصوبے بناتا رہا ۔ میں کوئ ایسا پراسرار علم سیکھنا چاہتا تھا جس سے میرے دشمن دہشت زدہ ہو کر میرے قدموں میں جھک جائیں ۔ کوئ راہنما اور استاد تو تھا نہیں میں بازار سے ایسی کتابیں لے آیا اور ان علوم کو پڑھنے اور سمجھنے لگا.
وہ کتابیں مجھے زندگی کے ایک نئے موڑ پر لے آیئں ۔ یہ سچ ہے کہ محض کتابوں سے علم حاصل نہیں ہوتا اس کے لیے بڑے عالم اور عامل کے تجربات اور مشاہدات سے راہنمائی حاصل کرنی پڑتی ہے۔ پھر بھی ان کتابوں سے اتنا فایدہ ضرور ہوا کہ میں ان علوم کو سیکھنے کے ابتدائی مراحل سے گزرتا چلا گیا ۔
جو حضرات ہپناٹزم اور ٹیلی پیتھی سے دلچسپی رکھتے ہیں وہ ارتکاز کی اہمیت کو اچھی طرح سمجھتے ہیں ۔ ارتکاز اور توجہ کے بغیر اس میدان میں ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھا جا سکتا اور میں تو بچپن ہی سے توجہ اور خیال کی قوت کو ایک جگہ مرکوز کر دینے کا عادی تھا ۔ لہذا شمع بینی کی مشقوں کے دوران مجھے کوئ مشکل پیش نہیں آئ ۔
رات کو جب سناٹا چھا جاتا اور کسی کی مداخلت کا خدشہ نہ ہوتا اس وقت میں اپنے کمرے میں مومی شمع روشن کرتا اور شمال کی طرف رخ کر کے بیٹھ جاتا اور شمع کی لو کو یک ٹک دیکھتا رہتا ۔ شمع بینی کے دوران میری توجہ صرف اس خیال پر قائم رہتی کہ میری آنکھوں میں مقناطیسی قوت پیدا ہو رہی ہے ۔ میں جسے چاہوں اپنی نگاہوں کے شکنجے میں جکڑ سکتا ہوں ۔ اگرچہ پہلے مرحلے پر مجھے ایسی جارحانہ باتیں سوچنی نہیں چاہیے تھیں مگر میں اپنے حالات سے مجبور تھا ۔ اس عمل کے دوران میرے دشمن پیش نظر رہتے تھے ۔
(یہاں دشمن سے مراد فرہاد علی تیمور کے چچا اور ان کا خاندان ہے جو اس کی ساری وراثت ہڑپ کر چکے تھے )
پھر رفتہ رفتہ میں نے اپنے جوش اور جذبوں پر قابو پا لیا اور نہایت سکون اور سنجیدگی سے شمع کا مشاہدہ کرنے لگا۔
اب میں جلتی ہوئی لو پر نظریں جمائے دل ہی دل میں کہتا
"اس روشن لو میں جو چمک ہے وہ میری آنکھوں میں اتر رہی ہے ۔ اس میں جو گرمی اور حرارت ہے وہ حرارت میری نگاہوں میں پیدا ہو رہی ہے "
کئ ماہ تک بلاناغہ یہ مشق جاری رہی ۔ ابتدا میں قدرے مایوسی ہوئی کیونکہ چند ماہ کے عرصے میں ہی میں خوڈ کو ہپناٹزم کا ماہر سمجھنے لگا تھا ۔ خود کو ماہر عامل سمجھ کر وقتاً فوقتاً دوسروں کو گھور گھور کر دیکھتا اور انہیں اپنے زیرِ اثر لانے کی ناکام کوشش کرتا تھا ۔
کئ بار ناکام ہونے کے بعد مجھے عقل ا گئ کہ " اگر یہ علم سیکھنا اتنا آسان ہوتا تو آج لاکھوں کی تعداد میں ہپناٹزم کے ماہر نظر آتے "
اس عمل کے حصول کے لیے صبر و تحمل ، خود اعتمادی اور کڑی مشقوں کی ضرورت ہے ۔ لہٰذا میں ایک بار پھر سنبھل گیا اور دوسروں کے سامنے اپنی مقناطیسی آنکھوں کی نمائش کرنے کی بجائے صرف اپنی ذات میں ڈوب کر شمع بینی کی مشقیں کرنے لگا ۔
کچھ عرصے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ شمع کی لو پھیلتی ہوئی میری نگاہوں کا احاطہ کر لیتی ہے اور چاروں طرف مجھے اس گرم لو کے سوا کچھ نظر نہیں آتا ۔ اس طرح مجھے گرمی کا احساس ہونے لگا ۔ پہلے پہل میں اپنے جسم میں رینگنے والی حرارت سے گھبرا گیا تھا ۔ پھر رفتہ رفتہ اس کا عادی ہوتا چلا گیا ۔ اب شمع کا وہ ننھا سا شعلہ میرے دماغ کو چھوتا تھا میری آنکھوں میں اترتا تھا اور نگاہوں سے خارج ہوتا ہوا محسوس ہوتا تھا ۔
یہ میرے احساسات تھے۔ عملی طور پر میں کہاں تک کامیاب ہو چکا ہوں یہ میں نہیں جانتا تھا ۔
ویسے میرے کالج کے ساتھی مجھ سے اکثر کہتے کہ میری آنکھوں میں کچھ عجیب سی کشش پیدا ہو گئ ہے ۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے میں اپنے ماموں سے ملنے گوجرانولہ گیا تھا ۔ ایک رات وہاں گزارنے کے بعد علی الصبح ایک ٹرین سے لاہور کے لیے روانہ ہوا ۔ سردی کا موسم تھا۔ میرے جسم پرلنڈے کا ایک بوسیدہ سا سویٹر تھا لیکن سردی ایسی تھی کہ دانت بج رہے تھے ۔ٹرین میں بھی بھیڑ نہیں تھی ۔ میرے سامنے ایک بوڑھا شخص آلتی پالتی مارے بیٹھا تھا ۔ سر کے بال بھنویں داڑھی سب سفید ہو چکے تھے لیکن چہرے پر تازگی تھی۔ ہماری طرف جو کھڑکی کھلی تھی میں اسے بند کرنے لگا تو کہنے لگا
"رہنے تو بیٹا ٹھنڈی ہوا آ رہی ہے"
میں حیرانی سے انہیں دیکھنے لگا ۔ یہاں سردی سے قلفی جمی جا رہی تھی اور بڑے میاں ٹھنڈی ہوا کھا رہے تھے ۔ میں نے دل میں کہا کہ یہ مجھ جیسے ہٹے کٹے نوجوان کی توہین ہے ۔ میں سردی سے ٹھٹھر رہا ہوں اور یہ بوڑھے بابا سردی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں ۔ کیا یہ آگ سے بنے ہیں ؟
بڑھے بابا مسکرا کر بولے
"میں آگ سے بنا ہوا نہیں ہوں تمہاری طرح خاک کا پتلا ہوں ۔"
شدید حیرانی سے میری آنکھیں پھیل گیئں ۔ بوڑھے بابا نے وہ جواب دیا تھا جو میں سوچ رہا تھا ۔
میں ان کی طرف دیکھ رہا تھا ، وہ میری طرف دیکھ رہے تھے ۔ ان کی آنکھوں میں گہرائی تھی ۔ وہ آنکھیں مجھے اپنی طرف کھینچ لینا چاہتی تھی۔ لیکن یہ ممکن نہ تھا شاید میں شمع بینی میں بہت آگے بڑھ گیا تھا ۔
"ہوں"
انہوں نے لمبی ہوں کے ساتھ کہا " میرا خیال درست نکلا تو تم شمع بینی کی مشقیں کر چکے ہو "
آپ ۔۔۔۔ آپ کون ہیں ؟ جو باتیں میں سوچتا ہوں وہ آپ سن لیتے ہیں اسے تو ٹیلی پیتھی کہتے ہیں ۔ آپ یقیناً دوسروں کے خیال پڑھ لیتے ہیں ۔
انہوں نے میرے ہاتھ کو تھپکتے ہوئے کہا
"تمہاری معلومات درست ہیں"
"بابا جی " میں نے گڑگڑا کر کہا " میں ایسے علم کے لیے بھٹک رہا ہوں خدا کے لیے میری مدد کیجیے ، مجھے اپنے علم کے خزانے سے ایک چٹکی بھیک دے دیجیے میں آپ کا احسان زندگی بھر نہیں بھولوں گا"
انہوں نے مسکرا کر کہا " جو علم تمہیں ابھی حاصل ہو رہا ہے تم تو اسے اپنے استعمال میں لانا نہیں جانتے خیال خوانی تو دور کی چیز ہے ۔ دیکھو تم سردی سے ٹھٹھر رہے ہو اور سردی سے محفوظ رہنے کی کوئ تدبیر نہیں کر سکتے "
کیا تدبیر کروں ؟ کیسے کروں ؟ میں نے پوچھا
"ذرا سیدھے بیٹھ جاؤ میں تمہیں بتاتا ہوں"
میں سیدھا ہو کر بیٹھ گیا
"تم اپنی ہتھیلیوں کو پھیلا کر انہیں توجہ سے دیکھو"
اب اپنے علم کو کام میں لاؤ اور یہ خیال قائم کرو کہ تمہاری ہتھیلیوں شمع کی لوویں روشن ہیں اور ان لی نادیدہ حرکت سے تمہاری ہتھیلیاں گرم ہو رہی ہیں"
میں نے ان کی ہدایت پر عمل کیا ۔ اپنے دماغ سے تمام منتشر خیالات کو جھٹک کر صرف ایک شمع کی لو کو اپنی ہتھیلیوں پر روشن کرنے لگا ۔ ۔میں دل ہی دل میں کہہ رہا تھا
" میری ہتھیلیاں گرم ہو رہی ہیں ۔ میری نگاہوں کی حرارت سرد لہروں کو پگھلا رہی ہے ۔ مجھے ایک راحت بخش اور پُرسکون حرارت کی ضرورت ہے اور وہ حرارت ان ہتھیلیوں تک پہنچ رہی ہے"
ٹرین تیز رفتاری سے بھاگی جا رہی تھی ۔ سرد ہوا کے جھونکے میری ہتھیلیوں تک آ رہے تھے ۔ میں یہ فقرے بار بار دہرا رہا تھا ۔
ایک منٹ کے بعد ہی میری ہتھیلیوں پر دھیمی دھیمی سی حرارت رینگنے لگی ۔ میری نگاہیں آنچ دے رہی تھیں ۔ علم کی بند مٹھی کو کھول رہی تھیں ۔زندگی کی بساط پر پہلی مرتبہ عملی تجربے کا پانسہ پھینک رہی تھیں۔
میری ہتھیلیاں گرم ہونے لگیں پھر حرارت ہولے ہولے رینگتی ہوئی سرسراتی ہوئی خون کی روانی کی طرح رگوں میں دوڑنے لگی ۔ اور میرے سارے جسم کو گرمانے لگی ۔ وی ایسی راحت بخش اور پُرسکون حرارت تھی جس کا میں متمنی تھا ۔
مارے خوشی کے میں اپنے جسم کو چھو کر دیکھنے لگا ۔
"کیا ہوا؟" انہوں نے مسکرا کر پوچھا
میں نے فوراً جھک کر ان کے پاؤں پکڑ لیے
" باباجی آپ نے میرا رخ موڑ دیا ہے ۔ میں جس راہ کی تلاش میں تھا آپ نے وہ راہ دکھا دی۔ مجھے کچھ اور سکھائیے بابا میں ہمیشہ آپ کے در کا بھکاری رہوں گا"
"بیٹے علم سیکھنے سے نہیں ملتا مانگنے سے ملتا ہے ۔ دیکھو میں نے تمہیں نہیں سکھایا اسے تم نے خود سیکھا ہے میں نے تو ذرا سی راہنمائی کی ہے "
" تو پھر کچھ اور راہنمائی کیجیے ناں۔ مجھے بتائیے اب مجھے کیا کرنا چاہیے "
وہ بولے " لوگ یہ علم کیوں سیکھنا چاہتے ہیں ؟ تاکہ کسی کو زیر اثر لا سکیں ۔ کسی کو بھی اپنا معمول اور مطیع بنا کر ان سے فائدے اٹھا سکیں ۔ اگر تم بھی کسی غلط ارادے سے سیکھنا چاہتے ہو تو اپنے ارادے سے باز آ جاؤ ۔"
میں نے ان سے اپنے دل کی بات صاف صاف کر دی۔ اپنے دشمنوں کے ارادوں کے بارے میں تفصیل سے بتایا ۔
آپ ہی بتائیے مجھے اپنے حقوق حاصل کرنے کا حق ہے کہ نہیں ؟"
ہے ۔۔۔۔ حق ہے دنیا کا کوئی بھی علم اس لیے سیکھا جاتا ہے کہ اس کی روشنی میں انسان دیانتداری سے اپنے جینے کا حق حاصل کرے۔ مجھے یقین ہے کہ تم جو بھی سیکھو گے اس سے کسی شریف یا غیر متعلق شخص کو نقصان نہیں پہنچاو گے اور دوسروں سے ناجائز فائدے حاصل نہیں کرو گے ۔ تمہاری باتوں سے ظاہر ہو گیا ہے کہ تم اپنے دشمنوں کو تسخیر کرنا چاہتے ہو اس کے لیے تمہیں التسخیر مشقوں سے گزرنا ہوگا ۔
وہ مجھے سمجھانے لگے کہ التسخیر مشقیں کیا ہوتی ہیں اور ان کی انتہا کیا ہے ۔ میں غور سے ان کی باتیں سنتا رہا اور سمجھتا رہا ۔
وہ مختصر سا سفر کیسے گزر گیا پتہ ہی نہ چلا ہم دونوں لاہور کے سٹیشن پر ٹرین سے اتر گئے ۔
میں نے عقیدت سے ان کا ہاتھ تھام لیا
"میں آپ کے قدموں میں رہنا چاہتا ہوں آپ سے خیال خوانی کا علم سیکھنا چاہتا ہوں "
انہوں نے شفقت سے سمجھایا" ایک وقت میں ایک ہی خیال قائم کرو اور ایک ہی خیال سیکھو ۔ ٹیلی پیتھی کی منزل ابھی دور ہے میں تم سے خود رابطہ کروں گا میرے پیچھے نہ آنا"
یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گئے
اس کے بعد میرا شوق اور دیوانگی بڑھ گئ۔ میں نے روائ کے کنارے ایک مخصوص جگہ پر ایک درخت پر چھوٹا سا دائرہ بنایا ۔ میں ہر روز صبح منہ اندھیرے وہاں جا کر بابا جی کی سکھائ ہوئ التسخیر کی مشقیں کرتا ۔ مجھے کھانے پینے پہننے اوڑھنے کا کوئ ہوش نہ تھا ۔ میں کئ کئ دن ایک ہی لباس پہنے رکھتا ۔ میری شیو بڑھی گئ تھی اور دیوانوں کی سی حالت ہو گئ تھی ۔۔۔۔۔۔
مشقوں کے دوران مجھ سے کئ بار غلطیاں ہوئیں ۔ کئ بار ایک انجانا سا خوف طاری ہو جاتا ۔ کبھی وقتی طور پر میرا ذہنی توازن ڈگمگا جاتا ۔ کبھی تیز بخار چڑھ جاتا لیکن میری ثابت قدمی میں کوئ کمی نہ آئ ۔
درخت کے تنے پر بنائے ہوئے دائرے کو میں بتدریج بڑھاتا گیا ۔ رفتہ رفتہ اسی حالت میں تین سال گزر گئے ۔ میری نگاہوں میں ایسی قوت پیدا ہو چکی تھی کہ وہ دائرہ جو اب چاند کے برابر ہو چکا تھا وہ بھی میری نگاہوں سے اوجھل ہو جاتا ۔ میں جہاں نظر اٹھا کر دیکھتا وہاں بےشمار روشن دائرے بننے لگتے ۔ مجھے سیاہ دائرے کی تاریکی میں روشنی کا سراغ مل رہا تھا ۔ یا یوں کہیے مجھے انسانی دماغ کے تاریک تہہ خانوں میں اترنے کا راستہ نظر آنے لگا تھا ۔
اس کے بعد میں نے اپنی حالت سنبھال لی ۔ میں شیو کرنے اور صاف ستھرے کپڑے پہننے لگا ۔ تین سال کے بعد دیوانگی سے فرزانگی کی طرف آیا تو میری شخصیت میں عجیب نکھار پیدا ہو گیا ۔ میری آنکھوں میں ایسی مقناطیسی قوت پیدا ہو گئی تھی کہ اس کا اثر سب سے پہلے زرینہ پر ہوا کیونکہ وہی میرے سب سے قریب تھی ۔ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے ہمارا آمنا سامنا ہوتا تھا وہ میری طرف کھچی چلی آتی ۔ بظاہر بہت سادہ اور شرمیلی سی تھی ۔
میں نے اپنی علم کو زرینہ پر آزمانے کا فیصلہ کر لیا ۔
اگلے دن جب پھوپھی سکول چلی گیئں تو میں نے دروازے کو اندر سے بند کر دیا ۔ زرینہ میری اس حرکت کو چور نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔
میں نے اپنے کمرے میں چلنے کو کہا تو شرمانے لگی ۔ اچانک ہی اس کے رخسار تمتما نے لگے ۔ وہ میرے سامنے شرماتی لجاتی کمرے میں آ گئ۔
میں نے دھیمے لہجے میں کہا
" بستر پر لیٹ جاؤ"
اس نے حیا سے بل کھا کر منہ دوسری طرف کر لیا۔ میں نے قدرے تحمکانہ لہجے میں کہا
" جو کہتا ہوں وہ کرو ۔ بستر پر لیٹ جاؤ"
ہپناٹزم کے لیے آواز بڑی اہم ہوتی ہے ۔ میری آواز میں گونج اور گرج بھی تھی اور شہد کی سی شیرینی اور ملائمت بھی۔
وہ چپ چاپ سکڑ کر بستر پر لیٹ گئ۔
میں نے کہا " اس طرح نہیں چت لیٹ کر ہاتھ پاؤں سیدھے کر لو اور میری طرف دیکھتی رہو"
اس نے نظریں اٹھا کر میری طرف دیکھا تو پھر دیکھتی رہی۔ آہستہ آہستہ اس نے ہاتھ پاؤں سیدھے کر لیے اور چت لیٹ گئی ۔
میری نگاہیں اس کی نگاہوں میں اترنے لگیں ۔ اس کی آنکھوں کے راستے اس کے دماغ میں پہنچنے لگیں ۔
میں نے بھاری لہجے میں بولنا شروع کیا
" تم آرام اور سکون سے لیٹی رہو ۔ میری آنکھوں کے سوا اس دنیا کا کوئ نظارہ تمہارے سامنے نہیں ہے ۔ تم اپنے آس پاس کے ماحول سے غافل ہوتی جا رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔"
اس کی آنکھیں یوں کھلی تھیں جیسے سوتے سوتے کھلی رہ گئ ہوں ۔ اس پر تنویمی نیند طاری ہو گئی تھی ۔ میں رک رک کر کہتا جا رہا تھا ۔
"میں ایک سے دس تک گنتا ہوں ہر گنتی پر تم اس دنیا کے نظاروں سے دور ہوتی جا رہی ہو"
وہ بلکل خاموش پڑی ہوئ تھی اور پلکیں جھپکائے بغیر مجھے دیکھے جا رہی تھی ۔
میں دو دو سیکنڈ کے وقفے سے گننے لگا ۔ دس تک گننے کے بعد میں نے اسے مخاطب کیا ۔
" میں تم سے مخاطب ہوں تم میری آواز سن رہی ہو ؟ "
اس کی آواز کسی اندھے کنوئیں سے آئ
"ہاں میں سن رہی ہوں "
"تمہارا نام زرینہ ہے"
"ہاں میرا نام زرینہ ہے "
" نہیں تمہارا نام حسینہ ہے " میں نے حاکمانہ لہجے میں کہا
" میرا نام حسینہ ہے " وہ ایک محکوم کی طرح بولی
" تم میری مطیع اور فرمانبردار ہو میں جو کچھ پوچھوں گا تم صحیح جواب دو گی "
"تمہاری عمر کتنی ہے"
"چوبیس برس"
"دوسروں کو اپنی عمر کیا بتاتی ہو ؟"
"سولہ سال"
"تم میرے متعلق کیا سوچتی ہو "
" میں ہر وقت تمہارے متعلق سوچتی ہوں ۔ تمہارا چہرہ ، پہاڑ جیسا قد ، اور فولاد جیسا جسم ہر وقت میرے حواس پر چھایا رہتا ہے ۔ پھر کچھ دنوں سے تمہاری آنکھیں مجھے پکار رہی ہیں ۔ تم دیکھتے ہو تو میرا وجود تمہاری طرف پرواز کرنے پر مائل ہو جاتا ہے ۔ میں بار بار تمہارے کمرے میں آتی ہوں لیکن تم انجان بن جاتے ہو "
میں حیرت زدہ اس شرمیلی سی لڑکی کو دیکھ رہا تھا جو معصومیت سے نظریں جھکائے رہتی تھی۔ اس کے بعد زرینہ نے جو کچھ بتایا وہ اس کے ہوش اڑا دینے کے لیے کافی تھی ۔
وہ نیند میں ڈوبی بتاتی رہی کہ وہ کس طرح محلے کے دوسرے لڑکوں کے ساتھ بات چیت کیا کرتی تھی اور میرے آنے کے بعد اس کے ارادے بدل گئے ۔ وہ مجھے کسی بھی طرح حاصل کرنا چاہتی ہے ۔ اور مجھے متوجہ کرنے کے منصوبے بناتی رہتی ہے ۔ مجھے اپنی طرف مائل نہ کرسکنے کی صورت میں وہ غزالہ کی طرح مجھ پر الزام لگا دے گی اور چاروناچار مجھے اس سے شادی کرنا پڑے گی ۔
وہ اس قدر خوبصورت تھی کہ میں بنا کسی منصوبے کے اسے حاصل ہو جاتا لیکن میرے مستقبل میں شادی وغیرہ کی کوئ جگہ نہیں تھی ۔ مجھے اپنی زندگی میں بہت کچھ کرنا تھا میں شادی کا جھنجھٹ نہیں پال سکتا تھا ۔
بظاہر وہ اتنی اچھی تھی کہ اس سے نفرت نہیں کی جا سکتی تھی لیکن مجھے اس کے منصوبے نے بیزار کر دیا ۔
میں نے کہا
" اچھی بات ہے"
نہ میں تمہیں بدنام کرنا چاہتا ہوں نہ خود بدنام ہونا چاہتا ہوں ۔ ابھی تم میرا حکم مانو ۔ میں جو کہتا ہوں اس پر عمل کرو ۔ بولو تمہارے دل میں اب میری خواہش پیدا ہوگی ؟ "
وہ میرے حکم کے مطابق کہنے لگی
" میرے دل میں اب تمہاری خواہش پیدا نہیں ہوگی"
"تم مجھے بدنام نہیں کرو گی"
"میں تمہیں بدنام نہیں کروں گی "
" تم ایک شریف زادی کی طرح اپنے جذبات پر قابو رکھو گی "
میں بار بار اپنی بات دہراتا رہا پھر اسے حکم دیا
" چلو اب سو جاؤ ایک گھنٹے بعد جب تم اٹھو گی تو میری ہدایت پر عمل کرو گی "
وہ عمل ختم کر کے میں کچھ دیر وہاں کھڑا رہا پھر کرسی پر آ کر بیٹھ گیا ۔ میں سوچ رہا تھا کہ جلد از جلد مجھے اپنی آمدنی کا کوئی بندوبست کرنا چاہیے ۔ یہاں مزید رکنا اب بدنامی کو دعوت دینے کے برابر ہے ۔ وہ تو اچھا ہوا کہ میرا عمل کامیاب ہو گیا ورنہ یہاں بھی غزالہ کی طرح ذلت اٹھانی پڑتی
میں اپنے خیال کی لہریں چچا تک پہنچا رہا تھا ۔ان کی تصویر میری آنکھوں کے سامنے تھی ۔ لیکن ان سے خیال کا رابطہ نہ ہو سکا ۔ بہت ساری آوازیں گڈ مڈ ہو رہی تھیں میں سمجھ گیا کہ چچا میلوں دور ہیں۔ اگر اس شہر میں ہوتے تو ان سے فوراً رابطہ ہو جاتا ۔
میں سوچنے لگا کہ اب مجھے کیا کرنا چاہیے ۔ میری جسم پر معمولی لباس سا تھا ۔ میری جیب میں گنتی کے پیسے تھے۔ میں لاکھوں کی جائیداد کا حقدار ہو کر اب مزید مفلسی کی زندگی برداشت نہیں کر سکتا تھا ۔ میں نے فیصلہ کیا کہ چچی سے کچھ پیسے لے کر اپنا کام چلایا جائے کیونکہ ان کے پاس جو کچھ بھی تھا وہ میرا ہی تھا یہ ہر گز چوری نہ تھی ۔
یہ سوچ کر میں نے چچی سے دماغی رابطہ کیا ۔
میرے دماغ میں ان کے گنگنانے کی آواز آنے لگی۔ شاید وہ کہیں جانے کے لیے تیار ہو رہی تھیں ۔
وہ اپنے آپ کو یقین دلا رہی تھیں کہ وہ اب بھی حسین اور کم عمر دکھائ دیتی ہیں ۔
میں نے انہیں مخاطب کیا
"ہیلو بیگم ناصر" کہاں کی تیاری ہے ؟
وہ ٹھٹھک کر رک گئیں اور سوچنے لگیں یہ میں اپنے آپ کو بیگم ناصر کیوں کہہ رہی ہوں
میں نے ان کی سوچ کو اپنی گرفت میں لیا اور کہا " کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہماری سوچ ہم سے سوال کرتی ہے اور جواب بھی مانگتی ہے ۔ اب تم بتاؤ تم کہاں ہو ؟"
وہ پلکیں جھپک جھپک کر دیکھنے لگیں لیکن سامنے کا منظر واضع نہ ہوا ۔
میں نے ان کی سوچ میں کہا غور کرو ذرا دھیان سے دیکھو کہ تم کدھر موجود ہو ۔ وہ دماغ پر زور دے کر ادھر ادھر دیکھنے لگیں ۔ سامنے سنگھار میز کا شیشہ نظر آ رہا تھا ۔ وہ اپنے کمرے کا منظر دیکھ رہی تھیں ۔
"اب بتاؤ تم کدھر ہو ؟"
'میں اپنے کمرے میں ہوں"
"تم کہاں جا رہی ہو ؟'
"میں غزالہ کی سہیلی کے ہاں شادی پر جا رہی ہوں ۔ غزالہ اور ظہیر پہلے ہی جا چکے ہیں ۔"
"گھر میں اور کون ہے ؟"
"گھر میں صرف ایک چوکیدار ہے"
"تمہارے پرس میں کتنے روپے ہیں"
"ڈھائی ہزار "
"تمہارے کمرے کی سیف میں کتنے روپے ہیں "
"تیس ہزار روپے"
"اس کے علاؤہ اور کیا ہے ؟"
"زیورات ہیں, زمرد کی ایک انگوٹھی اور ہیرے کا لاکٹ ہے "
تم اٹھو اور چوکیدار کی چھٹی کرا دو اور اپنا پرس لے کر پورچ میں آ جاؤ
وہ معمول کے مطابق اٹھی اپنا پرس پکڑا اور باہر آ کر چوکیدار کو آواز دی
چوکیدار بھاگتا ہوا پورچ میں آیا
"تم اب کواٹر میں جاؤ ابھی تمہاری ضرورت نہیں" انہوں نے چوکیدار سے کہا
"اب تم پورچ میں کھڑی ہو کر انتظار کرو ۔ ایک ٹیکسی والا آئے گا اس میں سے ایک اجنبی اترے گا تم نے اسے دیکھا ہوا ہے لیکن تم اسے نہیں پہچانتی "
وہ سوچنے لگیں" ہاں میں اسے نہیں پہچانتی "
اتنے میں میں ٹیکسی سے اتر کر اندر آ گیا ۔ ان کا پرس کھولا اور پانچ روپے ٹیکسی والے کو دیے
پھر اندر آ کر گیٹ بند کر دیا ۔
چچی صاحبہ مکمل طور پر میری ہدایات پر عمل کر رہی تھیں ۔ میں انہیں لے کر ان کے کمرے میں آ گیا ۔
اب تم صوفے پر بیٹھ جاؤ
وہ صوفے پر بیٹھ گیئں
میں ان کے سامنے بیٹھ گیا ۔ ابھی تک میں نے زبان سے ایک لفظ نہیں کہا تھا ۔ وہ سوچ رہی تھیں اور میں سن رہا تھا ۔
"اب یہ بتاؤ کہ زمینوں کے کاغذات کہاں ہیں ؟"
وہ سوچنے لگیں" زمینوں کے دو قسم کے کاغذات ہیں ایک اصلی جو فرہاد علی تیمور کے والد کے نام ہیں اور ایک نقلی جو میرے خاوند نے پٹواری کے ساتھ مل کر نہایت چالاکی سے اپنے نام پر بنوائے ہیں ۔ "
میں نے پوچھا" اصلی کاغذات کہاں ہیں "
"بینک کے لاکر میں "
"لاکر کس کے نام ہے"
"میرے نام "
" تمہارا خاوند ناصر اتنے قیمتی کاغذات تمہارے لاکر میں کیوں رکھتا ہے "
" میں خود اسے اتنا موقع نہیں دیتی کہ وہ کاغذات اپنے پاس رکھے ۔ اگر جوش جذبات میں اس نے یہ کاغذات فرہاد کو دے دیے تو میرا بیٹا کنگال ہو جائے گا "
تمہارے اکاؤنٹ میں کتنے روپے ہیں ؟
"پندرہ لاکھ"
اور زیورات کہاں ہیں؟
"لاکر میں "
چلو اٹھو اب کوئ سوٹ کیس لاؤ
وہ اٹھ کر الماری کھولنے لگیں
الماری میں بےشمار بیش قیمت کپڑے اور شالیں وغیرہ لٹکی تھی ۔ میرے ذہن میں پھوپھو کے پرانے کپڑے ا گئے میں نے اٹھا کر ساری چیزیں سوٹ کیس میں رکھیں۔
"اب اس میں سارے پیسے اور زیورات رکھ دو" وہ اٹھیں اور فرمانبرداری سے سارے پیسے اور زیورات نکال کر سوٹ کیس میں رکھ دیے۔
میں نے سوٹ کیس بند کیا اور ان کے دماغ میں کہا تم مجھے یاد نہیں رکھو گی ۔ سب بھول جاؤ گی۔
وہ فرمانبرداری سے میری بات دہرانے لگتیں ۔
مرحوم تیمور علی کی زمینوں کے اصلی کاغذات تم نکال کر لاؤ گی ۔
انہوں نے اثبات میں جواب دیا
اب میں جاتا ہوں تم ادھر بیٹھ جاؤ اور گنگناتی رہو ۔
وہ صوفے پر بیٹھ گیئں اور بےسرا گنگنانے لگیں
میں خاموشی سے سوٹ کیس اٹھا کر وہاں سے نکل آیا ۔ ٹیکسی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے مجھے یقین نہیں آیا کہ میں اپنے پہلے مشن میں کامیاب ہو چکا ہوں ۔ میں ٹیکسی کی سیٹ کی پشت پر ٹیک لگائے سوچ رہا تھا کہ اگر ٹیکسی ڈرائیور کا ایمان خراب ہو گیا تو وہ کتنی آسانی سے میری رقم ہڑپ کر سکتا ہے ۔ یہ جاننے کے لیے میں نے اس کی سوچ میں چھلانگ لگائ تو معلوم ہوا کہ وہ ایک کشمکش سے گزر رہا ہے ۔ گھر پر بوڑھی ماں ہے ایک جوان بہن ہے اور کھانے کو کچھ نہیں ۔ اگر میں اس مسافر کا سامان لوٹ لوں تو کسی کو معلوم نہیں ہوگا ۔ پھر خود ہی اپنی بات کی نفی کرتا ہے " میرے جیسا شریف آدمی یہ کیسے کر سکتا ہے نہیں نہیں ایسا نہیں ہو سکتا ہے"
میں اس کی سوچ پڑھتا رہا ۔ اور سوچتا رہا کہ شریف انسان کو خود پر قابو رکھنے کے لیے کتنے جتن کرنے پرتے ہیں ۔ میں نے گھر سے کچھ دیر پہلے اسے ٹیکسی روکنے کا کہا ۔
میں نیچے اترا اور اسے سامان اٹھانے کے لیے کہا
وہ نیچے اترا اور ڈگی کھولی۔ میں نے سوٹ کیس کی زپ کھول دی ۔ وہ حیرانی سے نوٹوں کو دیکھنے لگا ۔
میں نے چھ سات ہزار اٹھا کر اس کی جھولی میں ڈالے اور سوٹ کیس اٹھا کر گھر کی طرف چل پڑا ۔میں جیسے ہی دروازے پر پہنچا دروازے پر کسی کا سایہ دیکھ کر ٹھٹھک گیا ۔ گلی کی نیم تاریکی میں پہلے تو وہ پہچانا نہ گیا پھر میں سمجھ گیا کہ وہ جمال ہے جس سے زرینہ چھپ چھپ کر بات کرتی ہے ۔میں دبے پاؤں چلتا ہوا اس کے پیچھے آیا ۔ وہ ذرا سی آہٹ پا کر چونکا تو میں نے فوراً ایک ہاتھ سے اس کی گردن دبوچ لی ۔۔ آدھے کھلے دروازے سے زرینہ ایک سائے کی طرح کھڑی نظر آئ پھر مجھے دیکھ کر پیچھے ہٹی اور کمرے کی تاریکی میں گم ہو گئ۔
جمال اپنی گردن چھڑانے کی کوشش کر رہا تھا ۔
میں نے جھٹکا دیتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا
" جمال اگر میں بات بڑھاؤں گا تو یہ لڑکی بدنام ہو جائے گی میں اس بار تجھے چھوڑ دیتا ہوں آئندہ اگر میں نے تجھے اس گھر کے سامنے سے گزرتے ہوئے دیکھا تیری لاش گرا دوں گا"
میں نے اسے دھکا دیا ۔ وہ گرتے گرتے سنبھل گیا اور تیزی سے بھاگتا ہوا چلا گیا ۔ میں دروازا کھول کر اندر آ گیا ۔ زرینہ کمرے کے ایک گوشے میں لالٹین روشن کر رہی تھی ۔ اپنا چہرہ چھپانے کے لیے میری جانب پشت کیے کھڑی تھی۔
ایسے وقت میں اس کے خیالات کو سمجھنا ضروری تھا کہ عشق میں ناکامی کے بعد وہ کیا سوچ رہی ہے .
میں اس کی سوچ پڑھنے لگا ۔ وہ سوچ رہی تھی اللّٰہ میں کیا کروں کیسے اپنی صفائی پیش کروں ۔ کیا میں عورت نہیں ۔ فرہاد خود تو پتھر ہے میری طرف دیکھنا گوارا نہیں کرتا کسی اور کو بھی دیکھنے نہیں دیتا ۔ ٹھیک ہے اگر یہ میری بات نہ مانا تو میں بھی اس پر الزام لگاؤں گی کہ یہ تہمت لگا رہا ہے ۔
میں حیرت زدہ رہ گیا
میں نے اسے پکارا "زرینہ"
وہ پلٹ کر اپنی صفائیاں دینے لگی ۔ میں نے محبت سے کہا میں جانتا ہوں تم نے اسے نہیں بلایا ہے۔ چھوڑو جانے دو یہ سوٹ کیس کمرے میں لے جاؤ میں آتا ہوں ۔
میں کمرے میں پہنچا تو وہ سوٹ کیس کے پاس کھڑی تھی اس کا دوپٹہ ایک طرف کو ڈھلکا ہوا تھا ۔ میں نے دلچسپی سے دیکھا ۔
وہ یقیناً مجھے متوجہ کرنے کے لیے کھڑی تھی۔
میں نے اس کشش کو دل سے محسوس کیا ۔
"زرینہ یہ سوٹ کیس کھولو"
وہ حیرت سے میرے اس فضول سے حکم پر آگے بڑھ کر سوٹ کیس کھولنے لگی ۔ پھر کھلتے ہی اس کے کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ۔
یہ پیسے یہ زیورات اور اتنی ساڑھیاں ؟ یہ کہاں سے لائے ہو ؟
یہ پیسے میرے ہیں اور یہ زیورات اور ساڑھیاں تمہاری ہیں ۔
میں ہیرے کا لاکٹ اٹھا کر اسے پہنانے لگا
تم نے کبھی اصل ہیرا دیکھا ہے ؟
اس نے نفی میں سر ہلایا اور اس جگمگاتے ہیرے کو دیکھنے لگی۔
میں اس ہیرے کو تمہارے گلے کا ہار بنا رہا ہوں
میں اپنے دونوں ہاتھ اس کی گردن کے پیچھے لیجا کر نیکلس کی ہک لگانے لگا ۔ اگرچہ وہ برسوں سے ایک مرد کی قربت میں بہکنے کے لیے تڑپ رہی تھی ، میں نے محسوس کیا کہ وہ اسکے باوجود اپنے ارمانوں کی پہلی دہلیز پر سہمی سہمی سی لرز رہی تھی۔
پچھلے کئ برسوں سے تنویمی عمل کے دوران میں عامل رہا اور وہ معمولہ ۔ وہ اس وقت بھی ایک معمولہ تھی لیکن ایک عامل کی طرح مجھے سحرزدہ کر رہی تھی ۔ وہ مجھے ٹرانس میں لا رہی تھی اور میں اسے ٹرانس میں لا رہا تھا ۔مٹھائ پر چاندی کا ورق چڑھا ہو تو بھلا لگتا ہے عورت پر سونے چاندی کا لباس ہو تو بوجھ لگتا ہے ۔
میں اس مٹھاس پر سے ایک ورق کر کے اتارنے لگا ۔
لذت ،حرارت ، نزاکت ، بےچینیاں ، ایک عورت کے نازک بدن میں کتنی سحر انگیزیاں چھپی ہوتی ہیں انہیں میں سمجھ رہا تھا ۔ کچھ سیکھ رہا تھا کچھ سکھا رہا تھا ۔ میری زندگی کا ایک حسین اور رنگین باب کھل رہا تھا ۔ رات اپنے جوبن پر آ گئ تھی ۔ وقت گزر رہا تھا ۔
ہم جذبات کے طلاطم میں بہتے بہتے رات کے آخری حصے میں آ گئے ۔ زرینہ اب مجھ سے اپنا آپ چھڑانے لگی تھی اور میں تشنگی کا احساس لیے پیچھے ہٹ رہا تھا ۔
صبح میری آنکھ کھلی تو وہ کمرے میں نہیں تھی ۔ میرا خیال تھا کہ اب وہ کسی جمال کمال کے پیچھے زندگی برباد کرنے نہیں جائے گی ۔
میں سوٹ کیس اٹھا کر پھوپھی کے پاس لے آیا
میں نے اچھا لباس پہنا کچھ نوٹ رکھے اور باہر نکل گیا ۔ آج کچھ تفریح کا موڈ ہو رہا تھا ۔ پہلی بار میری جیب نوٹوں سے بھری ہوئ تھی ۔ دل کر رہا تھا پیسے لٹاوں جو جی چاہے خریدوں جسے دل کرے دے دوں ۔ مگر میں نے اپنے دل کو سمجھایا مجھے صبر سے کام لینا چاہیے ۔ کل بینک کھلنے کا انتظار کرنا چاہیے ۔اپنے اہم مقصد کو بھول کر عیش و آرام میں گم ہو جانا دانش مندی نہیں ہے ۔ یہ سوچ کر میں نے دس میل کا فاصلہ طے کیا پھر اسی درختوں کے جھنڈ میں چلا آیا ۔ وہاں آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا اور چچی کو دماغ میں لانے کی کوشش کرنے لگا
چچی کے دماغ میں جھنجھلاہٹ اور پریشانی تھی ۔ وہ سوچ رہی تھیں میں کیا کروں کسے بتاؤں کہ پیسے اور زیورات تجوری سے غائب ہو چکے ہیں جبکہ چابی بھی میرے پاس تھی ۔ کون میرا یقین کرے گا ۔ گھر میں بھی کوئ نہیں آیا ۔
وہ میری ہدایت کے مطابق میرے بارے میں سب کچھ بھول چکی تھیں ۔ اتنے میں غزالہ کی آواز سنائ دی ۔ میں اس کے دماغ میں نہیں جا سکتا تھا ۔ کیوں کہ بیک وقت دو لوگوں کے دماغ کو کنٹرول نہیں کیا جا سکتا تھا ۔
چچی کی سوچ نے کہا " آں ، کون غزالہ ؟ آؤ بیٹی دروازہ بند کر دو ۔" میں سمجھ گیا کہ چچی کے کمرے میں غزالہ آئ ہے ۔ میں نے چچی سے دماغی رابطہ توڑ کر غزالہ کی سوچ سے رابطہ کیا ۔ وہ کہہ رہی تھی
" کیا بات ہے ممی۔۔۔۔ آپ کچھ پریشان ہیں ؟ "
جواب میں خاموشی چھا گئ
چچی کہہ رہی تھیں اور غزالہ سن رہی تھی ۔ میں ایک ہی وقت میں دونوں سے رابطہ قائم نہیں کر سکتا تھا ۔
تھوڑی دیر بعد غزالہ کی سوچ نے کہا " یہ کیسے ممکن ہے ممی چابی بھی آپ کے پاس تھی اور پیسے بھی غائب ہیں زیورات بھی غائب ہیں ۔
اور آپ کہہ رہی ہیں کوی کمرے میں آیا ہی نہیں ۔
وہ یقین نہیں کر رہی تھی جبکہ چچی اسے یقین دلا رہی تھی ۔
غزالہ کی سوچ پڑ کر مجھے اس سے جڑے پرانے واقعات یاد آنے لگے ۔ کس طرح اس نے مجھ پر جھوٹے الزامات لگا کر مجھے ذلیل کیا تھا ۔ میرے اندر انتقام کروٹیں لینے لگا ۔ میں سوچنے لگا کہ کس طریقے سے غزالہ سے انتقام لیا جائے ۔ یوں تو ہوش و حواس کے عالم میں ہر انسان گناہ سے نفرت کرتا ہے لیکن گناہ کرنے کا کوئ نہ کوئ جواز بھی پیدا کر لیتا ہے ۔ میں بھی یہ سوچ رہا تھا کہ غزالہ تو مجھے خوامخواہ بدنام کر چکی ہے ۔ میں ایک ناکردہ گناہ کا بوجھ اٹھائے پھر رہا ہوں پھر کیوں نہ اس کے حسن و شباب سے فیض حاصل کروں ۔
" ہاں یہ ٹھیک ہے میں تمہارے ڈیڈی سے کہہ دوں گی کہ سیف کی چابی گم ہو گئ ہے یا کہیں رکھ کر بھول گئ ہوں ۔ پانچ دس ہزار کی ضرورت پڑی تو تم دے دینا ۔ کل بینک کھلتے ہی میں تمہیں واپس کر دوں گی"
پھر غزالہ اٹھ کر وہاں سے نکل آئ ۔ میں نے اس کی سوچ پڑھی وہ اپنی ماں کے خلاف سوچ رہی تھی ۔ اسے یقین تھا کہ ممی نے اپنی عیاشیوں کے لیے پیسے ہڑپ کر لیے ہیں ۔ وہ اپنی ماں کی گھٹیا فطرت سے خوب واقف تھی۔
میں نے غزالہ سے خیالی رابطہ ختم کر دیا ۔ فی الحال میں ظہیر پر توجہ دینا چاہتا تھا ۔ میں جانتا تھا کہ مال روڈ والی ساری دوکانیں ظہیر کے نام ہیں ۔ مجھے کوئ ایسا قانونی طریقہ سوچنا تھا جس سے دوکانیں میرے نام ہو جاتیں۔ کیوں کہ قانونی دستاویزات کے مطابق میں زمینوں کا مالک بن سکتا تھا لیکن کوٹھی اور ان دوکانوں پر اپنی ملکیت ثابت نہیں کر سکتا تھا ۔
کوی بہت ہی دانش مندانہ طریقہ سوچنے کے لیے میں نے ظہیر کا تصور کیا تاکہ اس سے معلومات حاصل کر سکوں ۔
اس کی سوچ کو پڑھتے ہی معلوم ہوا کہ وہ قدرے بیمار ہے ۔ کل کی شادی کی دعوت میں اس نے زیادہ کھا لیا تھا جس سے بدہضمی کا شکار ہو گیا تھا ۔
وہ سوچ رہا تھا پلاؤ قورمہ کھا کر کس مصیبت میں پڑ گیا ہوں ۔ پیٹ میں سخت درد ہے ۔ ایک گولا سا ہے جو ادھر ادھر گھومتا محسوس ہو رہا ہے ۔ میں نے موقعے سے فائدہ اٹھا کر اس کی سوچ میں کہا درد بڑھتا جا رہا ہے ۔ میرے پیٹ میں پتا نہیں کیا ہے سمجھ نہیں آ رہا ۔
وہ شروع سے ہی وہمی تھا ۔ اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرنے لگا اور ادھر ادھر چکر لگانے لگا ۔
میں نے اس کے وہم کو مزید ہوا دی " میرا درد بڑھتا جا رہا ہے ۔ میرا سانس بند ہو رہا ہے کیا میں مرنے لگا ہوں ؟ "
موت کے خیال سے اس کی حالت غیر ہونے لگی ۔
میں نے اس کی سوچ میں کہا " کلمہ پڑھو "
اسے کلمہ یاد نہیں تھا وہ گھبرا کر سوچنے لگا
میں رک رک کر ٹھہر ٹھہر کر اس کی سوچ میں کلمہ پڑھنے لگا۔ وہ میرے پیچھے پیچھے دہرانے لگا ۔ میں نے اس کی سوچ میں کہا " ہاں اب سکون آ رہا ہے ۔ ایمان کی دولت سے بڑھ کر کوئ دولت نہیں"
وہ اطمینان محسوس کرنے لگا ۔ میں نے اس کی سوچ سے رابطہ ختم کر دیا ۔ مجھے معلوم تھا وہ کچھ دیر مذہبی سوچوں کو اپنے ذہن میں حاوی رکھے گا۔
میرا منصوبہ یہ تھا کہ میں آہستہ آہستہ اس کے دماغ پر ایمان کا نشہ حاوی کر دوں گا اور اسے مولوی بنا دوں گا ۔ وہ دولت کی بجائے ایمان سے اپنی دنیا سنوارنے کے لیے تگ و دو کرے گا ۔ اپنی دوکانیں شاہینہ کے نام کر دے گا ۔ میں اسے نیکی کے راستے پر لگا کر دوکانیں اپنے نام نہیں کرانا چاہتا تھا پھر وہ نیکی نہ ہوتی ۔ میرا ضمیر مجھے ملامت کرتا کہ میں نے جائیداد کے لیے مذہب کے حربے کو استعمال کیا ہے ۔ لہذا میں نے اپنی کوئ غرض یا لالچ نہیں رکھا ۔
میں وہاں سے شہر چلا آیا ۔ شہر پہنچ کر میں نے دو سوٹ کا کپڑا خرید کر درزی کو دیا چار سوٹ ریڈمیڈ خریدے کچھ جوتے پھپھو اور زرینہ کے لیے کچھ کپڑے لیے اور گھر واپس آ گیا ۔
پھوپھو میرا انتظار کر رہی تھیں ۔انہوں نے چچا کے سامنے والی کوٹھی کرائے پر لے لی تھی ۔ وہ چچا سے جلی بھنی بیٹھی تھیں ایک عرصے بعد انہیں چچا کو نیچا دکھانے کا موقع مل رہا تھا ۔ میں نے انہیں صرف ضروری چیزیں ساتھ لے جانے کا کہا ۔ زرینہ ان کے ساتھ بیٹھی تھی ۔ مجھے دیکھ کر منہ پھیر لیا ۔ میں پھوپھی کو شفٹنگ کی تیاری کا کہہ کر کمرے میں چلا آیا نہا کر نیا لباس پہنا ۔ میری شخصیت میں نکھار آ گیا تھا ۔
میں باہر نکلا تو زرینہ جس نے تھوڑی دیر پہلے منہ پھیر لیا تھا دیکھتی رہ گئ اب کی بار میں منہ پھیر کر نکل آیا ۔ پھوپھی کے پاس ڈوپلیکیٹ چابیاں تھیں ۔ میں نے ایک سیٹ لیا
" آپ زرینہ کے ساتھ مل شام تک وہاں آ جائیں ۔ یہ سب سامان خیرات کر دیں "
میں سوٹ کیس میں پیسے چیک کیے اور اٹھا کر گلبرگ فرنیچر مارکیٹ آ گیا ۔
یہاں آ کر میں نے بیڈ رومز اور ڈرائنگ روم کے لیے نیا سامان خریدا ۔
اس دنیا میں جتنے بھی کھیل ہوتے ہیں سب پیسے کے کھیل ہیں ۔ کل میرے پاس پیسے نہ تھے ۔ لنڈے کے جوتے اور کپڑے پہنتا تھا آج اتنی دولت تھی کہ میں دس ہزار کا فرنیچر خرید لیا ( دس ہزار کے فرنیچر پر میری ہسی چھوٹ گئ 
خیر تب دس ہزار کی پتا نہیں کیا ویلیو ہوتی ہوگی)

خیر تب دس ہزار کی پتا نہیں کیا ویلیو ہوتی ہوگی)رات کے گیارہ بجے تک میں نے پورا گھر سیٹ کر دیا ۔ پھر ڈنر کے لیے ایک چائینیز ریسٹورنٹ چلا آیا ۔ وہاں کا ماحول خوابناک اور رومان پرور تھا ۔ ہر طرف خوش باش مسکراتے چہرے تھے ۔ رنگین آنچل تھے ۔ میں تنہائی محسوس کرنے لگا۔ اس رومان پرور ماحول میں مجھے زرینہ کی رنگین صحبتیں یاد آ گئیں ۔ وہ پہلی دوشیزہ تھی جس نے مجھے انسانی مسرتوں کے ایک نئے ذائقے سے روشناس کروایا ۔ اس وقت بھی میں چاہتا تو کسی حسینہ کی سوچ تک رسائ حاصل کر کے اسے اپنی طرف مائل کر سکتا تھا لیکن میں نے اپنے آپ سے سختی سے وعدہ کر رکھا تھا کہ میں اپنے علم کو گناہ یا کسی بھی غلیظ مقصد کے لیے استعمال نہیں کروں گا ۔ یہ سوچتے ہوئے مجھے غزالہ یاد آ گئ ۔اس کی یاد کے ساتھ اس کا سراپا نگاہوں کے سامنے طلوع ہو گیا ۔ چاندنی سے تراشا ہوابدن سفید نائیٹی میں جھلمل جھلمل ستاروں کی طرح جھانکنے لگا۔
ایک وقت تھا کہ اس نے اپنے آپ کو میرے حوالے کرنا چاہا اور میں نے اپنی نادانی میں اسے گنوا دیا ۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ پہلے لذت گناہ ملتی ہے پھر بدنامی سے واسطہ پڑتا ہے لیکن غزالہ کے سلسلے میں ، میں پہلے ہی بدنام ہو چکا تھا ۔
ایک عرصے بعد پھرسے اس تک پہنچنے کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔ میں جانتا تھا وہ میری موجودہ شخصیت کو دیکھتے ہی پگھل جائے گی ۔ اس کے لیے کسی علم کی ضرورت نہیں ۔ اگر ہوتی بھی تو میں اسے غزالہ کے لیے ہر گز استعمال نہ کرتا ۔ مضبوط ارادے اور مستحکم منصوبہ بندی میرے کردار کی خصوصیات ہیں ۔
میں اپنے جذبات کو علم کی مٹھی میں بند کر سکتا ہوں مگر علم جذبات کے دھارے پر نہیں چھوڑ سکتا ۔
آدمی کی سوچ صحت مند ہو تو وہ بہت ساری غلطیوں سے بچ جاتا ہے ۔ اس وقت بھی میں نے یہی سوچا کہ مجھے اگلے دن کی منصوبہ بندی کر کے سو جانا چاہیے۔
میں وہاں سے اٹھ کر نئے گھر میں آ گیا ۔ اپنے بیڈ روم میں آ کر صوفے پر بیٹھ کر ایک سیگریٹ سلگایا اور کل کے لیے کچھ چیزیں سوچیں پھر سو گیا ۔ سونے سے پہلے اپنے دماغ کو صبح پانچ بجے اٹھنے کی ہدایت کی ۔
صبح مقررہ وقت سے پانچ منٹ پہلے میری آنکھ کھل گئ۔ میں اپنی علمی مشقوں کے لیے اوپر بنے کمرے میں چلا آیا ۔ ابھی چاروں طرف اندھیرا اور خاموشی تھی ۔ میں نے حبسِ دن یعنی سانس روکنے کی مشق شروع کر دی ۔ جب اچھی طرح دن نکل آیا تو ناشتہ کرنے کے لیے بازار چلا گیا ۔ واپس آ کر اپنے بیڈ پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا ۔ ابھی آٹھ بجے تھے ۔ بینک کھلنے میں ایک گھنٹہ باقی تھا ۔ میں چچی کی سوچ پڑھنا چاہتا تھا
میں نے مراقبے میں جانے کے بعد چچی کے دماغ سے رابطہ کیا ۔ چچی صاحبہ ناشتے میں مصروف تھیں۔
وہ سوچ رہی تھیں کہ چچا کے اٹھنے سے پہلے ابھی بینک جا کر پچیس تیس ہزار روپیہ اور کچھ زیورات نکلوا کر گھر کے سیف میں رکھوں گی تاکہ انہیں گزشتہ چوری کا علم نہ ہو ۔
وہ اٹھ کر کمرے میں چلی گیئں ۔ اور تیار ہونے لگیں ۔ میں نے ان کی سوچ میں کہا " بیگم ناصر"
وہ چونک کر سوچنے لگی " یہ کیا ، پہلے بھی میں نے ایک بار اپنے آپ کو اسی طرح مخاطب کیا تھا"
میں نے ان کی سوچ میں کہا " ہاں یاد کرو ابھی پرسوں ہی تم نے اپنے آپ کو ایسے مخاطب کیا تھا ۔ یاد کرو اس کے ساتھ ہی وہ آنکھیں تصور میں آئ تھیں۔ دیکھو دیکھو وہ آنکھیں تمہارے تصور میں روشن ہو رہی ہیں ۔ انہیں پہچانو یہ کمبخت فرہاد کی آنکھیں ہیں ۔ایک بار تم نے کہا تھا ان آنکھوں میں بدروح گھسی ہوئی ہے. پہچان رہی ہو ؟"
" ہاں میں انہیں پہچان رہی ہوں ۔ وہ آنکھیں مجھے گھور رہی ہیں ۔ میں انہیں دیکھنا نہیں چاہتی لیکن دیکھتی جا رہی ہوں ۔ یہ مجھے کیا ہو گیا ہے میں کہیں اور کیوں نہیں دیکھ پا رہی "
"تم کہیں اور نہیں دیکھ سکتی ۔ اب تم ان آنکھوں کے زیرِ اثر ہو ۔ یہ آنکھیں جو تمہیں کہیں گی تم اس پر عمل کرو گی۔ بولو عمل کرو گی؟"
" ہاں میں عمل کروں گی "
"پرسوں رات تم ان آنکھوں کے زیرِ اثر رہ چکی ہو "
کیا تمہیں یاد آیا ؟
"ہاں مجھے یاد آ رہا ہے"
کیا تمہیں یاد ہے کہ ایک اجنبی تم سے ملنے آیا تھا ۔ تم نے وعدہ کیا تھا کہ میں بینک کے لاکر سے زمینوں کے کاغذات ، اصلی اور نقلی دونوں دستاویزات اس اجنبی کے حوالے کر دوں گی "
"ہاں وعدہ کیا تھا "
ا"ب اپنا وعدہ پورا کرو ۔ اپنی الماری سے لاکر کی تمام چابیاں اور تمام بینکوں کے چیک بکس نکالو"
اور اپنی ہر حرکت کے مطابق سوچتی رہو
میری ہدایات کے مطابق وہ اپنی ہر حرکت کے بارے میں سوچنے لگیں ۔
"اب میں الماری کی طرف جا رہی ہوں ۔ اب میں الماری کے دراز سے الماری چابیاں نکال کر پرس میں رکھ رہی ہوں۔ میں چار مختلف چیک بکس بھی اٹھا کر پرس میں رکھ رہی ہوں ۔اب میں الماری بند کر رہی ہوں اب مجھے کیا کرنا چاہیے؟"
میں نے انہیں ہدایت کی" دو آنکھیں تمہارے دماغ میں پیوست رہیں گی اور تم ظاہری آنکھوں سے اس دنیا کو دیکھتی اور سمجھتی رہو گی ۔ ابھی اپنے کمرے سے نکل کر بینک جاؤ ۔ جو بھی راستے میں آئے اس سے مسکرا کر بات کرو پھر آگے بڑھ جاؤ "
ان کی سوچ بتانے لگی کہ وہ کمرے سے نکل کاریڈور سے گزر کر ڈرائنگ روم میں جانے لگیں ہیں ۔ اس وقت ان کی سوچ نے کہا " میرا خاوند مجھے بلا رہا میں کیا کروں ؟"
میں نے کہا " اپنے خاوند سے مسکرا کر بات کرو"
وہ باتیں کرنے لگیں ۔ چچا نے ان سے کچھ پوچھا تھا ۔ وہ جواب دے رہی تھیں ۔" آپ کیا میرے ساتھ بینک جائیں گے لیکن میں تو ۔۔۔۔"
وہ کہتے کہتے رک گئیں ۔ میں نے انہیں مشورہ دیا ،" اپنے خاوند سے کہو اچھا ٹھیک ہے آپ نہا دھو کر تیار ہو جائیں اس وقت تک میں پاس والی کوٹھی سے ہو کر آتی ہوں"
انہوں نے میرے حکم کے مطابق اپنے خاوند کو جھانسہ دیا اور
سوچنے لگیں " اب وہ نہانے چلے گئے ہیں اور میں باہر آ گئ ہوں"۔ میں نے ان کی سوچ میں کہا سامنے والی کوٹھی کو ذہن نشین کر لو کاغذات لا کر تم اس کوٹھی کے پچھلے گیٹ سے او گی اور اندر داخل ہو کر کمرے میں وہ سلگتی ہوئ آنکھیں تمہارا انتظار کر رہی ہیں ۔ اب جاؤ گاڑی میں بیٹھ کر بینک روانہ ہو جاؤ ۔ "
وہ میری ہدایات پر مکمل عمل کر رہی تھیں ۔ راستے میں کوی رکاوٹ نہ آئ ۔ انہوں نے میری راہنمائی میں بینک سے کاغذات نکالے اور میری کوٹھی پر واپس پہنچ گئیں ۔ پچھلے دروازے سے داخل ہو کر سیدھی میرے کمرے میں داخل ہوئیں اور کاغذات میرے حوالے کر دیے۔
میں نے جلدی سے کاغذات چیک کیے ۔ اصل کاغذات اپنے پاس رکھ کر نقل ان کو واپس کر دی اور ان کی سوچ میں کہا ۔ یہ کاغذات لے جاؤ اور بینک سے ایک لاکھ روپیہ نکال کر کسی دوسری ٹیکسی میں واپس ادھر آ جاؤ "
میں اس تفصیل میں نہیں جانا چاہتا کہ وہ کس طرح ہر ہفتے لاکھ دو لاکھ مجھے دیتی رہیں۔
میں نے دھیرے دھیرے چچی کے تمام اکاؤنٹس خالی کر دیے ۔
وہ ہر بار شدید پریشانی اور اختلاج قلب میں مبتلا ہو جاتیں ۔ ان کی دولت پراسرار طور پر غائب ہو گئ تھی وہ کسی کو بتا نہیں پا رہی تھیں
اب ان کی زندگی کا سارا دارومدار ظہیر پر تھا ۔ اسکی دوکانوں سے آنے والی رقم سے وہ گھر چلاتیں اور دوسرے اخراجات پورے کرتیں ۔
اب میں نے ظہیر کو ٹارگٹ بنا لیا تھا ۔ ظہیر جیسے کمزور ارادے کا مالک انسان بہت آسانی سے میرا معمول بن گیا تھا ۔
ایک دن میں لبرٹی مارکیٹ میں تھا کہ اس سے ملاقات ہو گئ۔ وہ مجھے دیکھ کر حیرت زدہ رہ گیا ۔ اسکی گرل فرینڈ دوکان سے کچھ خریدنے کے لیے گئ ہوئ تھی ۔ وہ کار میں بیٹھا اس کا انتظار کر رہا تھا ۔
وہ میری طرف دیکھ رہا تھا ۔ ہماری نظریں ملیں اور وہ میری آنکھوں کی گرفت میں آ گیا ۔ میں اس کی سوچ پڑھ رہا تھا ۔
وہ سوچ رہا تھا " اوہ میرے خدا یہ فرہاد علی تیمور ہے ؟ یہ تو پہچانا نہیں جا رہا"
میں نے اسکی سوچ میں کہا "ہاں یہ فرہاد ہے تم اسکی آنکھوں میں دیکھو ۔ یہ آنکھیں تمہاری سوچ کا محاصرہ کر رہی ہیں ۔ تم ان کا حکم مانو گے"
اس کی آواز کسی اندھے کنوئیں سے آتی محسوس ہوئ" ہاں میں ہر حکم مانوں گا "
"اچھا یہ بتاؤ تمہارا نام کیا ہے "
"میرا نام ظہیر ناصر"
" میری یہ دو آنکھیں ہمیشہ تمہارے تصور میں رہیں گی ۔ تم ان کے تابع رہو گے "
"ہاں میں ان کے تابع رہوں گا "
"تم پرائ لڑکیوں سے نہیں ملو گے"
" ہاں میں پرائ لڑکیوں سے نہیں ملوں گا "
"یہ اللّٰہ کو سخت ناپسند ہے "
"تم یہاں کس کا انتظار کر رہے ہو"
"میں شکیلہ کا انتظار کر رہا ہوں "
"اب تم شکیلہ کو نہیں پیچانو گے "
"اب میں شکیلہ کو نہیں پہچانوں گا"
" تم گاڑی سے اتر کر کسی کتابوں والی دکان میں جاؤ گے اور نماز روزے اور کلمات سیکھنے کے لئے کتابیں خریدو گے "
"میں کسی کتابوں والی دوکان پر جاؤں گا "
اتنے میں شکیلہ دوسری طرف سے آ کر گاڑی کا دروازا کھولنے لگی ۔
میں نے ظہیر کی سوچ میں کہا اسے پہچاننے سے انکار کر دو
وہ فوراً بولا ٹھہرو کون ہو تم ؟
"یہ کیسا بھونڈا مذاق ہے"
"میں مذاق نہیں کر رہا تم میرے لیے پرائ ہو میں پرائ عورتوں سے بات نہیں کرتا۔"
" تم کیا کہہ رہے ہو کیا تم واقعی سنجیدہ ہو "
" ہاں میں سنجیدہ ہوں ۔ چار دن کی زندگی ہے میں اسے یاد الٰہی میں گزارنا چاہتا ہوں "
شکیلہ نے طنزیہ کہا
" اچھا مولوی صاحب پھر تم میرے شو روم کی کار میں کیا کر رہے جاؤ جا کر مسجد میں عبادت کرو۔ ورنہ مجھ سے معافی مانگو اور اپنے الفاظ واپس لو "
اوہ تو یہ گاڑی شکیلہ کی ہے ۔ میں نے کار میں جھانکا ۔ اسی وقت شکیلہ نے میری طرف دیکھا ۔ اسکی آنکھوں میں دلچسپی اور معصومیت ایک ساتھ رقص کر رہی تھی ۔ وہ شکل سے چھوٹی سی بچی لگ رہی تھی ۔
میں نے ظہیر کی سوچ میں کہا "اب تم گاڑی سے اتر کر سیدھا کتابوں کی دوکان جاؤ اور کل شام تک تم میرے معمول رہو گے "
وہ فوراً گاڑی سے اترا اور مخالف سمت میں چلا گیا ۔ شکیلہ حیرت سے گاڑی سے باہر نکل آئ ۔ وہ کبھی مجھے اور کبھی ظہیر کو دیکھنے لگتی ۔
"کمال ہے یہ اس سے پہلے تو ایسا نہیں تھا"
"اس دنیا میں انسان کو بدلنے کچھ دیر نہیں لگتی ۔ ہر پل مختلف ہے " میں نے مسکرا کر شکیلہ کو دیکھا
"تم کون ہو " اسنے میری طرف اشارہ کر کہا
"ظہیر میرا مقروض ہے ۔ اس سے پہلے میں اس سے اپنے قرض کی واپسی کی بات کر رہا تھا"
"مجھے یقین نہیں آ رہا کہ ظہیر جیسا بندہ بھی مقروض ہو سکتا ہے "
"میں تمہارے سامنے کسی وقت ظہیر سے قرض کی واپسی کی بات کروں گا"
"ویسے تم اسے کیسے جانتی ہو"
"تم نے مجھے کس خوشی میں تم کہا ۔ ہم ایک دوسرے کو نہیں جانتے"
"میں بچوں کو تم ہی کہتا ہوں"
وہ گھوم کر میرے سامنے آئ اور اکڑ کر اس طریقے سے کھڑی ہو گئ کہ اس کے بھرے بھرے جسم کا ہر زاویہ لباس سے باہر چھلکنے لگا
"میں چھوٹی ہوں؟ غور سے دیکھو"
میں نے اس کی سوچ پڑھی تو پتا چلا کہ وہ ظہیر سے غصہ کر کے پچھتا رہی تھی ۔ ظہیر اس کی کار خریدنا چاہتا تھا ۔ اس کا گاہک بنا خریدے چلا گیا تھا ۔ اب وہ مجھے اپنی طرف مائل کر کے دیکھنا چاہتی تھی کہ شاید میں اس کی کار خرید لوں ۔ عورت کے ساتھ کاروبار میں یہ غلطی ہوتی ہے کہ وہ سودا کرتے ہوئے اپنا آپ بھی پیش کرنے لگتی ہے
میں نے اس کی طرف یوں مسکرا کر دیکھا جیسے میں اس نے حسن و شباب سے مرعوب ہو گیا ہوں ۔" ہاں میں تمہارا سراپا دیکھ کر بہک گیا ہوں لیکن افسوس ہم تو ایک دوسرے کو جانتے تک نہیں"
"مگر تم تو بےتکلفی میں بہت کچھ کہہ گئے وہ ہستے ہوئے بولی " مرد بڑے چالاک ہوتے ہیں "
"عورتوں سے زیادہ نہیں ہوتے" میں نے بھی ہستے ہوئے کہا
"یہ کار کس کی ہے"
"یہ میرے چچا کے شو روم کی ہے کیوں تم کیوں پوچھ رہے ہو"
"میں ایک کار خریدنا چاہتا ہوں" مجھے ایک کار کی ضرورت تو تھی سوچا چل کر دیکھ لیتا ہوں ۔
" تمہارے پاس کونسی کار ہے ؟"
وہ یہ بات سن کر ایکدم کھل اٹھی تھی
"میرے پاس فی الحال کوئ کار نہیں ہے جس کی وجہ سے کچھ مشکل پیش آ رہی ہے ۔"
میں نے اس کی سوچ پڑھی ۔ وہ سوچ رہی تھی کہ مجھے فوراً مطلب کی بات کرنی چاہیے وہ کار کی قیمت گرائے گا ۔ مجھے اس کار کی اہمیت جتانا چاہیے
"تمہارے چچا کا شو روم کہاں ہے"
"پلازہ سینما کے پاس"
"اس کار کی کیا قیمت ہے"
"پچاس ہزار ۔ ظہیر کو دوستی کی وجہ سے پینتالیس دے رہی تھی ۔ پانچ ہزار میرا کمیشن ہے ۔ ظہیر کو شو روم میں لے کر جاؤں گی تو وہ دس زیادہ دے گا۔"
"ہاں اتنا زیادہ منافع چھوڑنا نہیں چاہیے ۔ لے جاؤ " میں نے بےنیازی سے کہا
وہ کچھ بجھ سی گئ " اچھا مجھے پلازہ سینما تک تو چھوڑ دوپلیز " اس نے بڑی عاجزی سے کہا تو میں ڈرائیونگ سیٹ پر آ گیا ۔ وہ ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گئ۔
"کیسی سپیڈ ہے " راستے میں اس نے پوچھا
" بہترین بلکل ایک حسین دوشیزہ کی طرح"
"یہ دوشیزہ تمہاری بھی ہو سکتی ہے " وہ ادا سے بولی
"بلکل اگر قیمت اصل ہو تو "
"میں ٹھیک کہہ رہی ہوں اس کی اصل قیمت پچپن ہزار ہے"
"عورتوں کے ساتھ کاروبار میں ایک خرابی ہے وہ چیز کی قیمت کے ساتھ اپنی قیمت بھی لگا دیتی ہیں "
وہ مجھے گھور کر دیکھنے لگی
وہ سوچنے لگی ملک صاحب چالیس ہزار مانگتے ہیں اگر میں اپنا کمیشن کم کر دوں تو پھر بھی تینتالیس ہزار بنتے ہیں ۔
گاہک اس کے ساتھ ساتھ ہلکا رومینس بھی کرنا چاہتے ہیں اور کچھ تو بیڈ روم تک لے جاتے ہیں ۔ اتنے سب کے بعد میرا اتنا کمیشن بھی نہیں بنتا۔
میں کون ہوں کوئ نہیں جانتا ۔ میرے دو بچے ہیں طلاق یافتہ ہوں ۔ اپنا گھر کیسے چلاتی ہوں کوی نہیں جانتا ۔
"ٹھیک ہے میں نے اپنی قیمت دو ہزار لگائ ہے تم مجھے وہ نہ دو میں ۔۔۔"
میں نے اس کی بات کاٹ دی
"مجھے شو روم لے چلو میں تمہارے انکل سے ڈائریکٹ معاملہ طے کروں گا ۔ میں وعدہ کرتا ہوں تمہیں تمہارا کمیشن پورا ملے گا ۔ اب یہاں اتر جاؤ اور دوکان میں گاڑی لے جاؤ میں وہاں آتا ہوں "
ایک بات سچ سچ بتانا" یہ شو روم تمہارے انکل کا نہیں ہے ناں"
"نہیں میں یہاں ملازم ہوں اپنی ویلیو بڑھانے کے لیے گاہک سے جھوٹ بول دیتی ہوں " وہ شرمندگی سے بولی
دل ہی دل میں بےیقینی سے سوچتی مجھے اتار کر آگے چلی گئ۔
میں شو روم گیا معاملات طے کیے اور کار خرید لی ۔ شکیلہ کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا ۔ میں گاڑی لے کر باہر نکلا تو شکیلہ سامنے فٹ پاتھ پر کھڑی تھی ۔ میں نے اس کے سامنے جا کر گاڑی روکی۔
وہ مسکراتی ہوئی بیٹھ گئ۔ میں نے بینک کے سامنے گاڑی روک کر پانچ ہزار روپے کیش کروائے اور شکیلہ کے ہاتھ پر رکھ دیے
"یہ لو تمہارا کمیشن"
وہ حیرت اور خوشی سے مجھے دیکھنے لگی ۔
"تم اپنی زبان کے پکے ہو"
وہ سوچ رہی تھی ایسے گاہک کے لیے تو میں ایک ہفتہ اس کے ساتھ رہ لوں۔
"اب تم جاؤ"میں نے شو روم کے سامنے گاڑی روکی
وہ حیران سی مجھے دیکھتے ہوئے اتر گئ ۔ میں آگے بڑھ گیا ۔
میرے ذہن میں ظہیر سے متعلق اگلا منصوبہ تشکیل پا رہا تھا۔۔۔
میں گاڑی دوڑاتا ہوا گھر لے آیا ۔ گیٹ پر زرینہ کار کو دیکھتے ہی اس پر سیر کے لیے شور مچانے لگی ۔ میں اسے لے کر گھماتا رہا پھر گھر واپس آ گئے ۔ گھر کے سامنے چچا سے ملاقات ہو گئ ۔ وہ مجھے اتنی اچھی گاڑی اور بہترین سوٹ میں دیکھ کر کچھ دیر کے لیے حیرت زدہ رہ گئے ۔
میں نے گاڑی سے اتر کر ان سے مصافحہ کیا ۔ "سلام چچا جان کیسے مزاج ہیں"
وہ حیرانی اور بےیقینی سے کوٹھی کو دیکھنے لگے ۔ میں ان کی سوچ پڑھ سکتا تھا ۔ ان کے چہرے سے حیرانی، ندامت اور پریشانی جھلک رہی تھی ۔
"میں فرہاد ہوں کیا آپ نے مجھے پہچانا نہیں " میں نے پھر مسکرا کر کہا
"معلوم ہوتا ہے آپ کو میری خوشحالی سے خاصا صدمہ پہنچا ہے"
"نن۔۔ نہیں بیٹے" انہوں نے جلدی سے کہا" اللّٰہ تمہیں اور ترقی دے آج کل تم کیا کر رہے ہو ؟"
میں نے جواب دیا" جب اللّٰہ ترقی دیتا ہے تو پھر ادھر کا مال ادھر آتا رہتا ہے ۔ آپ نے میرے باپ کی دولت سے یہ زندگی خریدی ہے ۔ لیکن دنیا نہیں جانتی اسی طرح میری دولت مندی بھی ایک راز ہے "
" یہ تمہاری غلط فہمی ہے بیٹے ۔ میں نے کبھی تمہارا حق نہیں چھینا "
میں نے ان کی سوچ میں جھانکا ۔ ان کے دماغ میں کھلبلی مچی ہوئ تھی ۔ وہ جاننا چاہتے تھے کہ میری حیثیت کا کیا راز ہے ۔
"چلیں میں مان لیتا ہوں " میں نے خوشدلی سے کہا
"ہاں بیٹے پرانی رنجشیں بھول جاؤ او تمہیں تمہاری چچی سے ملواتا ہوں ۔" انہوں نے دلچسپی سے زرینہ کو دیکھا تو زرینہ نے گاڑی سے اتر کر فوراً سلام کیا ۔ ہم سب چلتے ہوئے ان کے گھر کے اندر داخل ہو گئے ۔چچا ہمیں ڈرائنگ روم میں لے گئے اور چچی کو اونچا اونچا آواز دینے لگے ۔
میں غیر ارادی طور پر غزالہ کو تلاش کر رہا تھا ۔ شاید میرے ذہن سے اپنی اس دن والی رسوائ محو نہیں ہوئی تھی ۔
چچی ڈرائنگ روم میں آیئں تو میری آنکھیں دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئیں ۔ میں نے ان کی پریشانی بھانپ کر ان کے دماغ میں جھانکا ۔ وہ سوچ رہی تھیں کہ ان سلگتی ہوئ آنکھوں کو میں نے کہیں دیکھا ہے ۔ میں نے ان کی سوچ کو حکم دیا کہ وہ ان آنکھوں کو بھول جایئں اور مسکرا کر باتیں کریں۔
ان کے تاثرات ایکدم بدل گئے وہ مسکرانے کر آگے بڑھیں
" آہا یہ تو اپنا فرہاد ہے بیٹا کہاں رہے اتنے دن ۔ ساتھ ہی ساتھ وہ میری حیثیت سے میری مالی حالت کا اندازہ لگا رہی تھیں ۔ اتنے میں ظہیر اندر داخل ہوا ۔ اس کی داڑھی بڑھی ہوئ تھی سر پر سفید ٹوپی ، شلوار ٹخنوں سے کافی اوپر تھی اور ہاتھ میں تسبیح تھی ۔
وہ منہ ہی منہ میں کچھ پڑھتا ہوا آ رہا تھا اندر داخل ہوتے ہی اس نے اسلامی طریقے سے سلام کیا ۔ مجھے اتنی امید نہیں تھی کہ میرا تنویمی عمل اسے اس طرح صراطِ مستقیم پر لے آئے گا ۔
چچا اسے غصے سے گھور رہے تھے " یہ کیا حلیہ بنا رکھا ہے ۔ دیکھا تم نے فرہاد یہ اس عمر میں دنیا چھوڑ کر بیٹھا ہے تو دنیا کے کام کون کرے گا"
میں نے نرمی سے کہا "" چچا جان آپ خوامخواہ ناراض ہو رہے ہیں اللہ رسول کا نام لینا گناہ تو نہیں ۔ دنیا کے کام تو روز ہوتے ہیں ایک دن عبادت کے لئے بھی ہونا چاہیے "
تو وہ فوراً بات بدل گئے ۔
ظہیر اب نیچے قالین پر درویشانہ طریقے سے آلتی پالتی مارے بیٹھا تھا ۔ زرینہ اسے دلچسپی سے دیکھ رہی تھی ۔ تب ہی میرے ذہن میں زرینہ اور ظہیر کی شادی کا خیال آیا ۔ میں نے زرینہ اور ظہیر کے دماغوں میں جا کر انہیں اس بات کے لیے قائل کیا ۔ اس دوران چچی بار بار میری طرف تحسین آمیز نظروں سے دیکھ رہی تھیں ۔
میں نے ان کی سوچ میں آ کر کہا بیگم ناصر کیا بات ہے کس بات پر خوش ہو ۔ وہ ہڑبڑا کر سیدھی ہوگئیں ۔ چور نظروں سے میری طرف دیکھتے ہوئے سوچنے لگیں کاش فرہاد مجھے ایک لاکھ روپے قرض دے دے ۔ ناصر علی کل سے مجھ سے رقم کا تقاضا کر رہا ہے ۔
میں اور زرینہ کچھ دیر بیٹھے باتیں کرتے رہے پھر گھر آنے لگے تو چچی ہمارے ساتھ ہو لیں ۔
میرے گھر پہنچ کر چاروں طرف نظریں گھما گھما کر دیکھنے لگیں اور مجھ سے جھوٹی محبت جتانے لگیں ۔
پھوپھی انہیں دیکھتے ہی غصے میں آ گئیں ۔ میں نے پھوپھی کو ایک طرف لے جا کر پیار سے سمجھایا کہ دشمن خود چل کر گھر آ جائے تو اچھے طریقے سے بات کرنی چاہیے وہ منہ بناتی رہیں۔ چچی جاتے وقت مجھے ایک طرف لے گیئں ۔
" فرہاد مجھے تم سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے"
میں اٹھ کر ان کے ساتھ اپنے کمرے میں آ گیا ۔ سامنے صوفے پر بیٹھ کر وہ نہایت لگاوٹ اور منت سے بولیں " فرہاد مجھے ایک لاکھ روپیہ ادھار چاہیے تمہارے چچا کو کچھ کام کے لیے فوری درکار ہے جبکہ میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہے بینک بھی بند ہے میں بینک کھلتے ہی تمہیں لوٹا دوں گی"
" کیوں نہیں لاکھ دو لاکھ تو میرے پاس پڑے رہتے ہیں " یہ کہتے ہوئے میں نے دیوار میں موجود آہنی الماری کھولی ۔ ایک لاکھ روپیہ گن کر چچی کی طرف بڑھایا ۔
وہ نیاز مندی سے جھکی جا رہی تھیں۔ پیسے پکڑے اور فوراً کمرے سے نکل گیئں ۔
اگلی صبح میں نے چچی کے دماغ میں ظہیر اور زرینہ کی شادی کی بات ڈالنے کے لیے میں نے چچی کی سوچ کو چھوا تو معلوم ہوا کہ وہ سخت پریشان ہیں وہ پیسے جو میں نے ان کو دیے تھے وہ چوری ہو چکے ہیں وہ غصے سے تلملاتی ہوئ کمرے میں ادھر ادھر چکر کاٹ رہی تھیں ۔
" سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اب میں کیا کروں ناصر نے سارا الزام مجھ پر رکھ دینا ہے ۔ وہ تو پہلے ہی میرے بارے میں شک میں پڑے رہتے ہیں ۔
بس اس کا اب ایک ہی حل ہے ۔ آج ذرا سا زہر ناصر کے لیے بنے ہوئے دودھ میں ڈال دوں گی ۔ اسے مرنا ہی ہوگا "
میں عورت کی مکاری پر حیران رہ گیا ۔ جس شوہر نے تمام عمر اپنی کمائ کا ایک ایک پیسہ اس عورت پر خرچ کیا ۔ وہ اس شوہر کے ساتھ وفادار ہی نہیں ۔ وہ اسے جان سے مار ڈالنا چاہتی ہے ۔ مجھے اس پل اس عورت سے شدید نفرت محسوس ہوئ ۔
وہ چپ چاپ اٹھی کچن میں جا کر دودھ گرم کیا اور اس میں زہر ملا دیا ۔ میں نے اس کے دماغ میں کہا ۔ اب یہ دودھ لے جا کر اپنے کمرے میں رکھو ۔ وہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئ کمرے میں آئ اور دودھ سائیڈ ٹیبل پر رکھا ۔
میں نے اس کے دماغ میں کہا "اب ایک کاغذ اور پین لے کر آؤ"
اس نے ڈریسنگ ٹیبل کی دراز سے ایک کاغذ اور بال پوائنٹ نکالا ۔
اب اس پر لکھو "میں نے اپنی مرضی سے یہ زہر ملا دودھ پیا ہے ۔ میں زندگی سے اکتا گئ ہوں ۔ یہ دنیا ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر جانا چاہتی ہوں "
انہوں نے میری ہدایت کے مطابق ایک نوٹ تیار کیا ۔
"اب یہ دودھ پی لو"
وہ دودھ اٹھا کر بیڈ پر بیٹھ گئیں اور غٹا غٹ دودھ پی لیا ۔
اس کی سوچ میں آہستہ آہستہ اندھیرا چھانے لگا ۔ایسی عورت کا یہی انجام ہونا چاہیے تھا ۔ میں اس کے بےجان دماغ سے نکل آیا ۔
میں نے جلدی سے کچھ کپڑے اور زمینوں کے کاغذات سوٹ کیس میں رکھے ۔ کچھ پیسے اور ضروری سامان پیک کیا ۔ اب میری منزل میرے گاؤں شاہ پور کی حویلی تھی جو چچا نے جعلی ملکیت کی دستاویزات بنانے پر اس جعلساز پٹواری کو تحفے میں دے دی تھی ۔ میرا اگلا منصوبہ اس حویلی کو واپس لینا تھا اور میں اپنے ارداے کو پایہ تکمیل پہنچانے میں ذرا دیر نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
میں نے پھوپھی کو خدا حافظ کہا اؤر سوٹ کیس اٹھا کر گاڑی میں رکھا ۔ اور گاڑی سٹارٹ کی۔ چچا کے گھر پر خاموشی چھائی ہوئی تھی ابھی کسی کو چچی کے مرنے کی خبر نہیں ہوئ تھی ۔
میں تیزی سے ڈرائیو کرتا ہوا شاہ پور کی طرف روانہ ہو گیا ۔
شام کے چھ بجے میں اپنی حویلی کے دروازے پر کھڑا تھا ۔ وہاں سے شادیانے بجنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ پتا کرنے پر معلوم ہوا ،کمبخت بڈھا پٹواری دوسری شادی کر رہا ہے ۔ کھلے حصے میں دیگیں پک رہی تھیں ۔ چونکہ وہ اپنے کالے کرتوتوں سے علاقے کی مشہور شخصیت بن چکا تھا تو پورے علاقے کے بڑے بڑے زمیندار بھی شادی میں آئے ہوئے تھے ۔
ان سب نے مجھے کار سے اترتے دیکھ لیا تھا لیکن پہچانا نہیں ۔ میں نے پاس جا کر اپنا تعارف کروایا
" میں فرہاد ہوں تیمور علی مرحوم کا بیٹا ۔ سنا ہے کہ میرے چچا نے یہ حویلی اس پٹواری کو رشوت میں دی تھی اور میری زمینوں کی جعلی دستاویزات بنوائ تھیں ۔"
میں پٹواری کی شان میں گستاخی کر رہا تھا ۔ کچھ تو طیش میں آ گئے
ذرا تمیز سے بات کرو صاحبزادے یہ شہر نہیں ہے پنڈ ہے ۔ ذرا اکڑ دکھائی تو تمہاری لاش ہی یہاں سے جائے گی"
"پنڈ کے لوگ بڑی دلیر ہوتے ہیں لیکن ایماندار بھی ہوتے ہیں ۔ کسی کی بےایمانی برداشت نہیں کرتے ۔اگر میں ثابت کر دوں کہ یہ شخص بےایمان ہے تو کس کا ساتھ دوگے میرا یا اس کا ؟ "
سب ہی سوچ میں پڑ گئے کیونکہ سب ہی جانتے تھے کہ یہ حویلی میرے والد تیمور علی کی ہے اور پٹواری اس پر ناجائز قبضہ جمائے ہوئے ہے ۔بوڑھا پٹواری غراتے ہوئے میری طرف بڑھا
" تم پھر یہاں بکواس کرنے آ گئے ہو ۔ پہلے آئے تھے تو بدن پر معمولی لباس تھا اب حلیہ بدل کر آئے ہو کہو تو مزاج بھی بدل دوں ؟ "
میں نے حویلی کی اصل دستاویزات نکال کر اس کے سامنے لہرائیں" پہلے حویلی کے کاغذات دیکھ لو پھر اپنی بربادی پر رو گے "
وہ سرسری سا دیکھتے ہی سمجھ گیا تھا کہ کاغذات اصلی ہیں ۔ ایک عمر سے پٹواری تھا کاغذات سونگھ کر بتا سکتا تھا کہ اصل کیا ہے اور نقل کیا ۔
وہ اپنی بد حواسی چھپانے کے لیے کاغذات پر نظریں جمائے سوچ رہا تھا کہ آج ہی میری شادی ہے اس مصیبت سے اب کیسے چھٹکارہ حاصل کروں ۔ پھر بناوٹی حقارت سے بولا
"ان کی کاغذات کی کوئ حیثیت نہیں اصل کاغذات وہی ہیں جو ناصر علی کے پاس ہیں ۔"
"ٹھیک ہے نہ مانو میں کل سے قانونی کارروائی شروع کروں گا ۔ میں نے سوچا تھا کہ تم شرافت سے راہ راست پر آ جاؤ گے لیکن تم جیسے اس طرح کہاں قابو آتے ہیں اب تو یہ شادی بھی بربادی میں بدلے گی "
یہ کہہ کر میں جانے لگا تو وہ آگے بڑھ کر چالاکی سے بولا ۔" ٹھہرو میری پوری بات سن لو میں تمہارا دشمن نہیں ہوں میرے ساتھ حویلی چلو یہ موقع ایسا نہیں کہ میں تمہیں اس طرح ناراض کروں "
وہ مجھے حویلی کی بیٹھک میں لے گئا پھر دروازے کو بند کر کے میری منتیں کرنے لگا ۔ میں نے اس کی باتوں کے دوران اس کی سوچ پڑھی تو یہ جانا کہ وہ اپنے سے عمر میں بہت چھوٹی نوجوان لڑکی سے زبردستی شادی کرنا چاہتا ہے ۔
یہ جان کر مجھے اس پر بہت تاؤ آیا ۔ اب تو اس کی بات سننا ہی فضول تھا ۔
"کون ہے وہ لڑکی جس سے تم شادی کر رہے ہو بڈھے ؟"
میں نے سختی سے پوچھا
وہ جھینپ گیا اور سوچنے لگا یہ تو میں بھول ہی گیا کہ فرہاد جوان لڑکا ہے حسن پرست ہوگا اسے کسی ایسے ہی ذریعے سے قابو کرنا چاہیے
بولو کیا وہ لڑکی خوبصورت ہے ؟
"آں ہاں بیٹا میں دستاویزات کی بات کر رہا ہوں ۔۔۔۔"
حق بحق رسید۔ میں اپنا حق لے کر رہوں گا ۔ فی الحال تو تمہارے سامنے دو شرطیں ہیں
حویلی فورآ میرے نام کر دو اور دوسری شرط یہ کہ یہ شادی منسوخ کر دو
وہ ہکا بکا رہ گیا ۔ دل ہی دل میں بل کھانے لگا
گالیاں دینے لگا اور میرے پاؤں پڑ گیا ۔
"تمہارے پاس دو گھنٹے کی مہلت ہے جاؤ جا کر میری دونوں شرائط پر عمل کرو "
"وہ ہاتھ باندھ کر اپنی ہونے والی بیوی کو میرے سامنے پیش کرنے کی بات کرنے لگا ۔
" مجھے معاف کر دو میری شادی ہو جانے دو میں اسے پہلی رات تمہارے پاس چھوڑ جاؤں گا
وہ بہت خوبصورت ہے سولہ سال کی ہے تمہارا دل خوش ہو جائے گا"
میں نے نفرت سے اسے دھکا دیا یہ معزز ، اور عزت شناس دلال اپنی نو بیاہتا بیوی کی دلالی کر رہا تھا
تم ایک شریف آدمی کی بیٹی کو میرے سامنے رشوت کی طرح پیش کرنا چاہتے ہو لیکن میں اس سے اونچی رشوت لوں گا تم اپنی بیٹی لے آؤ "
وہ تھر تھر کانپنے لگا اپنے بال نوچنے لگا اور دل ہی دل میں نہایت چالاکی سے پاگل ہو جانے کا منصوبہ بنانے لگا
" صرف دو گھنٹے کی مہلت دے دو ابھی تم آرام کرو میں کچھ کرتا ہوں "
وہ مجھے چھوڑ کر کمرے سے باہر چلا گیا ۔ کچھ دیر کے بعد دروازے پر دستک دے کر ایک لڑکی اندر چلی آئ ۔ چھم سے پازیب بجی ۔ گلابی رنگ کے لباس میں کھلتے گلاب جیسی، گورے چمچماتے بدن سے چاندنی پھوٹ رہی تھی ۔ چہرہ شہابی بڑی بڑی آنکھیں ۔
وہ شربت کی ٹرے اٹھائے اندر آ گئ
میں سمجھ گیا پٹواری کی چال کیا ہے ۔
اس نے قریب آ کر مجھے سلام کیا اور شربت کو میز پر رکھ کر اپنے حنائ ہاتھ سے گلاس میں شربت انڈیلنے لگی
میں نے پوچھا " شربت زیادہ میٹھا تو نہیں"
" نہیں میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے"
"پھر تو اس شربت میں مہندی کی خوشبو بھی رچی ہوگی"
وہ شرما کر بل کھا کر رہ گئ جیسے پھولوں بھری ڈالی لچک جائے
"کون ہو تم"
" شادو ۔ میں دینا پٹواری کی بب۔۔۔ بیٹی ہوں "
میں اس کے جھجھکنے پر غور نہ کر سکا ۔ یہ دیکھ کر میرے ذہن کو جھٹکا لگا تھا کہ کمینا بڈھا اپنا مطلب نکالنے کے لیے بیٹی کو پیش کر رہا ہے ۔
" پہلے تم یہ شربت پی کر دکھاؤ یہ نہ ہو میرے دشمن نے اس میں کچھ ملایا ہو "
" میرے ابا کبھی آپ کے دشمن تھے اب نہیں ہیں ۔ میں قسم کھاتی ہوں اس شربت میں کچھ نہیں ہے ۔ آپ اتنے اچھے ہیں اتنے اچھے ہیں کہ میں کتنی دیر سے آپ کو چھپ چھپ کر دیکھ رہی ہوں"
شادو نے اک ادا سے اپنے حسن کا تیر پھینکا
"یہ گلاس پی کر ثبوت دو میں تمہاری باتوں میں نہیں آنے والا"
اس نے مسکرا کر مجھے دیکھا پھر شربت کا گلاس بھرا اور غٹا غٹ پی گئ ۔ پھر ایک گلاس بھر کر میری طرف بڑھایا ۔
میں اس کے ہاتھ سے شربت کا گلاس لے کر اس کی سوچ کو ٹٹولنے لگا۔
وہ اندر سے کہہ رہی تھی ایسے باپ پر ہزار لعنت جو اپنے فائدے کے لیے اپنی بیٹی کو کسی مرد کی تنہائی میں بھیجے ۔
وہ سوچنا چھوڑ کر مجھے کہہ رہی تھی
"آپ ابا کو معاف کر دیں ۔ وہ بہت پریشان ہیں آج اگر ان کی شادی جمیلہ سے نہ ہوئ تو ساری برادری میں ان کی ذلت ہوگی "
شادو مجھے الجھا رہی تھی ۔ اپنے حسن کو پلیٹ میں رکھ کر دعوت دے رہی تھی ۔ اکسا رہی تھی ۔ میں اس دعوت نامے کی خاموش تحریر کو سمجھ رہا تھا جیسے کہہ رہی ہو
گر قبول افتدزہے عزو شرف
ج س م ف ( میرا ابا انتظار کر رہا ہے)
ایسی حسین دعوت کون مرد ٹھکراتا ہے لیکن اگر میں اسے قبول کر لیتا تو جمیلہ کی زندگی ہمیشہ کے لیے دینا پٹواری کے جہنم میں جھونک دی جائے گی ۔
"اب تم جاؤ اور اپنے باپ کو یہاں بھیجو " میں نے اس بار سختی سے کہا
"آپ میرے ابا کی مجبوریوں کو سمجھ گئے ہیں ناں"
اس نے دونوں ہاتھوں سے میرا ہاتھ تھام لیا ۔ اس کے نرم ملائم ہاتھوں کی گرمی میرے ہاتھ کے رستے دھیرے دھیرے میرے خون میں گردش کرنے لگی ۔ عورت کو مرد کو معمول بنانے کے لیے کسی لفظ کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ میں نے اس کی آنکھوں کو اپنی گرفت میں لے کر حکم دیا
" میرا ہاتھ چھوڑو اور اپنے باپ کو میرے پاس بھیجو"
اس کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی
"اپنے باپ کو کہاں سے بھیجوں ؟ "
"کیا مطلب؟"
"مطلب یہ کہ میرا باپ بہت سال پہلے مر چکا ہے ۔ دینا پٹواری میرا باپ نہیں میرا سرپرست ہے ۔ وہ مجھے بیٹی کہتا ہے سمجھتا نہیں ۔ اپنے فائدوں کے لیے مجھے دوسروں کے آگے پیش کرتا ہے ۔ بدلے میں بڑے بڑے افسروں اور زمینداروں سے اپنے کام نکلواتا ہے "
دینا پٹواری کا یہ کریہہ چہرہ دیکھ کر مجھے اس سے ذرا سی ہمدردی بھی نہ رہی ۔
میں افسوس سے اس معصوم لڑکی کو دیکھتا رہا جسے ابھی کسی گھبرو سے محبت کرنی تھی ۔ ایک گھر کے خواب دیکھنے تھے ۔ اور وہ پٹواری جیسے گھٹیا درندے کے ہتھے چڑھ گئ تھی ۔
"تم کسی کو پسند کرتی ہو ؟ میرا مطلب تمہاری زندگی میں اگر کوئ ہے تو میں تمہاری اس سے شادی کروا دیتا ہوں"
وہ سر جھکائے ہوئے بولی
"میں تمہیں چھپ کر دیکھ رہی تھی ۔ تم مجھے بہت اچھے لگے ہو کیا تم مجھ سے شادی کرو گے ؟"
میں نے گڑبڑا گیا
"مجھے اپنی زندگی میں بہت سے کام دیکھنے ہیں تم مجھے بھول جاؤ میں فی الحال شادی نہیں کرنا چاہتا ۔" میں نے اس کی امید بھری نظروں سے اپنی آنکھیں ہٹا لیں " تم اب جاؤ اور پٹواری کو بھیجو ۔ میں نے اس کی سوچ میں حکم دیا ۔
وہ مایوسی سے اٹھی اور دروازہ کھول کر چلی گئ ۔
کچھ دیر کے بعد پٹواری اندر داخل ہوا ۔ اس کے چہرے سے بےچینی مترشح تھی ۔
میں اٹھ کر اس کے مقابل آ کھڑا ہوا ۔
"تو بتاؤ تمہارا کیا فیصلہ ہے میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے "
" کون ہو تم میں تمہیں نہیں پہچانتا "
میں نے دل میں حیران ہوتے ہوئے اس کی سوچ پڑی وہ پاگل ہونے کی اداکاری کر رہا تھا ۔
مجھے اس وقت پٹواری سے نمٹنے کے لیے راستہ مل گیا ۔ میں نے اس کے ذہن میں جا کر
اسے مزید پاگل بننے پر مجبور کر دیا ۔ وہ قہقہے لگانے لگتا کبھی اپنے بال نوچنے لگتا اور کبھی مرغا بن کر اذان دینے لگتا ۔ سب لوگ اس کے گرد جمع ہو گئے۔ اس کے گھر والوں نے اسے پکڑ کر ایک درخت کے ساتھ باندھ دیا ۔
میں نے سب لوگوں سے کہا
" آپ سب گواہ ہیں ۔ جب میں نے اس پٹواری کو اپنی حویلی کے کاغذات دکھائے تو وہ ذہنی توازن کھو بیٹھا ۔ اپنے بال نوچنے لگا ہے ۔ میری آپ سے درخواست ہے کہ عدالت جانے کی بجائے ہم سب آپس میں معاملات کو طے کر لیتے ہیں ۔
آپ سب مل کر میرا حق مجھے واپس دلوانے میں میری مدد کریں اور اس پٹواری کو میری حویلی سے نکال باہر کریں۔ اس کے ساتھ ہی میرا حکم ہے کہ جمیلہ کی شادی پٹواری سے نہیں ہوگی ۔
وہ سب میری ہاں میں ہاں ملانے لگے ۔ وہاں موجود گاؤں کے سرپنچ نے حویلی خالی کرنے کا حکم دیا ۔ میں اس معاملے سے فارغ ہونے کے بعد حویلی آ گیا ۔
میں اپنے کمرے کا دروازا بند کر کے بیڈ پر لیٹ گیا ۔ رات گہری ہو چکی تھی۔ گھر میں خاموشی چھا گئ تھی ۔ کہ اچانک شور سے میری آنکھ کھل گئ ۔ میں نے کھڑکی کھول کر دیکھا سامنے پٹواری کا بیٹا درخت سے بندھے ہوئے باپ کے سامنے جھکا ہوا تھا ۔
میں نے فوراً اس کی سوچ میں جا کر دیکھا وہ اپنے باپ کو مار کر اسے ایک پاگل کی خودکشی ثابت کر کے ساری دولت ہتھیا لینا چاہتا تھا ۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھری تھی جو دینا پٹواری کے دل میں پیوست تھی ۔ اس نے چھری کے دستے پر اپنے باپ کے دونوں ہاتھ رکھے اور وہاں سے بھاگ گیا ۔
میں نے تاسف سے کھڑکی بند کر دی ۔ بڑی عجیب بات تھی میں نے اپنی زندگی میں ہمیشہ اپنے لالچی دشمن کو اسکے سگے رشتوں کے ہاتھوں مرتے ہوئے دیکھا ۔
میں بیڈ پر بیٹھا آنے والے واقعات کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ ہلکی دستک سے چونک گیا ۔ دروازا کھولا تو سامنے شادو ہاتھ ملتی ہوی کھڑی تھی۔ میں نے حیران ہوتے ہوئے اسے اندر آنے کا اشارہ کیا تو وہ چوڑیوں کا جلترنگ بجاتے ہوئے وہ کمرے میں آ گئ اس کی نظریں جھکی ہوئی تھیں۔
میں نے اسے سخت لہجے میں حکم دیا " دروازا کھول دو اور میرے کمرے سے چلی جاؤ"
وہ کچھ سہم کر پیچھے ہٹ گئ۔ وہ دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپا کر بولی
" میں آپ کی طرف نہیں دیکھ سکتی ۔ پتا نہیں آپ کی آنکھوں میں کیا ہے میں جب پہلی بار آپ کی آنکھوں میں دیکھا تو میں سحر زدہ ہو گئ ۔
میرا دل آپ کی طرف کھچا چلا جاتا ہے۔ دل کرتا ہے آپ کی آغوش میں آ کر مر جاؤں "
اس کی باتوں میں اس کے لہجے میں خود کو میرے سپرد کر دینے کی محبت اور دیوانگی نے میرا دل نرم کر دیا میں نے آہستگی سے کہا
"تم ایک مظلوم لڑکی ہو میں تمہیں کھلونا سمجھ کر نہیں کھیل سکتا نہ تمہیں اپنا سکتا ہوں تم یہاں سے چلی جاؤ یہ میرا حکم ہے "
"نہیں میں یہ نہیں کر سکتی" وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی
"آپ کی آنکھوں میں جادو ہے آپ کوئ پراسرار علم جانتے ہیں ایک کمزور عورت پر اپنا علم کا زور چلانا مردانگی نہیں ہے"
مجھے جھٹکا لگا واقعی وہ ٹھیک کہہ رہی تھی میں مرد تھا مضبوط قوت ارادی کا مالک تھا ایک کمزور عورت کو کنٹرول کرنے کے لیے اسے ہپناٹزم کی ضرورت نہیں تھی ۔
"ٹھیک ہے میں تمہاری آنکھوں میں نہیں دیکھوں گا تم اپنے چہرے سے ہاتھ ہٹاؤ اور میری بات غور سے سنو"
اس نے دھیرے سے اپنے ہاتھ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمیں ہپناٹزم سیکھنا پڑتا ہے جبکہ یہ غزالی آنکھوں والیاں سیکھی سکھائ ہوتی ہیں ۔
واقعی مجھے اس بات کا خدشہ تھا کہ وہ اپنی ہرنی جیسی آنکھوں سے مجھے معمول بنا لے گی ۔ میں نے اس کی آنکھوں سے نظر چرائ تو اس کے پنکھڑیوں جیسے کھلتے لبوں پر ٹھہر گیئں ۔
آدم کی جنت سے اولاد آدم کی زمین تک اسی طرح مرد کے ارادے کو کاٹتی آئ ہے ۔ اس میدان میں وہ حسن و شباب ، رنگ و بو ، نگاہوں اور اداؤں کے کتنے ہی دل لیوا اور جان لیوا ہتھیاروں سے لیس ہوتی ہے اور مرد بلکل نہتا ہوتا ہے ۔ ایسے میں باپ دادا کی نصیحتیں ہوا ہو جاتی ہیں شر سے بچنے کی جتنی دعائیں ہوتی ہیں وہ اٹک اٹک کر بھی دماغ میں آنا بھول جاتی ہیں ۔
اب میں نے سوچا یہ تو کفرانِ نعمت ہے بےچاری خود چل کر میرے قریب آئ ہے اس کے دل میں سینکڑوں ارمان ہیں ۔ اور کسی کا دل توڑنا ویسے بھی بہت بڑا گناہ ہے ۔ یہ بداخلاقی ہے۔ ہماری تہذیب میں اس بات کی خاصی گنجائش ہے ۔ وقت اور ماحول کے مطابق حرام کو حلال اور ناجائز کو جائز قرار دینے کی بہت سی تاویلیں ہمیں مل جاتی ہیں ۔
وہ میرے بلکل قریب آ گئ اتنی قریب کہ اب کائنات میں صرف وہی رہ گئ تھی اس کے علاؤہ کوئ نہیں ۔
میں اور وہ سندر نگری کے سحر میں کھو گئے ۔ حسن نے سب پردے اٹھا دیے ۔ رات بھیگتی رہی اور میں اس پری وش کی چاندنی سے سیراب ہوتا رہا۔ اگلی صبح مجھے جانا تھا لیکن شادو کے طلسم ہوش ربا نے دو دن مجھے جکڑے رکھا ۔
تیسرے دن میں بمشکل اس کے آنسوث اور اس کے لبوں کے طلسم سے آزاد ہو کر واپس پلٹ آیا ۔
وہاں چچی کے مرنے کی خبر میری منتظر تھی میں افسوس کے لیے چچا کے گھر آیا تو غزالہ سے سامنا ہو گیا ۔ وہ اپنے دوست قاسم کے ساتھ پنڈی سے واپس آ چکی تھی اور مجھ میں خاصی دلچسپی لے رہی تھی ۔ میں چچا کے کمرے میں گیا تو وہ اداس اور تھکے ہوئے ایک کونے میں کرسی پر بیٹھے تھے ۔ مجھے دیکھ کر بولے
"یہ نہ کہنا کہ تمہیں اس عورت کے مرنے پر خوشی ہوئ ہے جس نے تمام عمر تمہیں اذیت دی"
"دکھ تو ہوتا ہے موت چیز ہی ایسی ہے چاہے وہ ہمارا دشمن ہی کیوں نہ ہو وہ تو پھر آپ کی بیوی تھیں۔"
میں نے افسوس سے سر ہلاتے ہوئے کہا
"نام نہ لو میرے سامنے اس منحوس عورت کا ۔ پورے خاندان میں مجھے بدنام کر کے رکھ دیا ہے سب پوچھ رہے کہ تمہاری بیوی نے خودکشی کیوں کی ۔ میرے سارے پیسے ، زیوارات اور جائیداد پتا نہیں کن عاشقوں پر لٹا گئ ہے ۔ میں نے اس عورت کی خاطر تمہارا دل دکھایا تمہارا حق مارا ۔ میرے پاس پچھتاوے کے علاؤہ کچھ نہیں"
وہ بولتے بولتے رونے لگے
" فرہاد مجھے معاف کر دو میں نے تمہارے ساتھ بہت برا کیا ۔ پتا نہیں میں تمہارا قرض کیسے اتاروں گا "
مجھے پتا چل رہا تھا کہ چچا حقیقتاً شرمندہ ہیں۔ میں نے ان کو تھپکتے ہوئے کہا
" چچی بہت نیک عورت تھیں ۔ انہیں ایسے الفاظ نہ کہیں ۔ مرنے سے چند دن پہلے مجھے اپنی ساری جائیداد اور پیسے لوٹا گئی تھیں ۔ زمینوں کے کاغذات بھی میرے حوالے کر دیے ۔ آپ ان کے لیے برے الفاظ استعمال نہ کریں"
وہ حیران اور پریشان مجھے دیکھتے رہے ۔ پھر دھیمے لہجے میں بولے " فرہاد تم اپنی سب دوکانیں وغیرہ بھی واپس لے لو ۔ میں تمہارا شکرگزار ہوں گا اگر تم مجھے معاف کر دو "
میں نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا " چچا یہ دوکانیں آپ رکھیں اور ان کی آمدنی بھی ۔
مجھے یہ سب نہیں چاہیے میں نے آپ کو معاف کیا آپ غم نہ کریں "
یہ کہہ کر میں ان کے کمرے سے نکل کر ڈرائنگ روم میں آ گیا ۔ جہاں غزالہ اپنے دوست قاسم کے ساتھ ہسی مزاق میں لگی ہوئی تھی ۔ درحقیقت قاسم ہی وہ شخص تھا جس نے غزالہ کے ساتھ مل کر چچی کے ایک لاکھ روپے چرائے تھے ۔ یہ سب مجھے غزالہ کی سوچ سے معلوم ہوا ۔
غزالہ مجھے دیکھ کر کھل اٹھی۔ جبکہ اس کا دوست قاسم یہ سب دیکھ کر اندر ہی اندر پیچ و تاب کھا رہا تھا ۔
میں نے غزالہ کی سوچ میں جھانکا وہ سوچ رہی تھی " یہ فرہاد کتنا ڈیشنگ ہو گیا ہے اور دولت بھی خوب ہے کیوں نہ اسے اپنے جال میں پھسایا جائے۔ اس کی سوچ سے مجھے پتا چلا کہ قاسم اور وہ دونوں جوا کھیلنے کے عادی ہیں ۔ میں اس کی مکاری پر حیران تھا وہ بلکل اپنی ماں پر گئ تھی ۔
قاسم اور غزالہ نے مجھے سینما جا کر فلم دیکھنے کی دعوت دی تو میں سوچ میں پڑ گیا ۔
مجھے سمجھ آ گئ کہ ان کی نظر میری جیب پر ہے ۔
غزالہ اپنی ماں کی موت کو قطعی فراموش کر کے مکمل تفریح کے موڈ میں تھی ۔
میں نے اس کے ساتھ پرانا حساب چکانے کا فیصلہ کر لیا۔
ہم تینوں فلم دیکھنے چلے گئے پھر وہاں سے شبانہ کلب چلے گئے ۔ کسی نائٹ کلب میں فلیش کھیلنے کا یہ میرا پہلا تجربہ تھا جو بہت کامیاب رہا ۔ قاسم اور غزالہ بری طرح ہار گئے ۔ میں نے ان سے تقریباً اسی ہزار جیت لیے ۔
غزالہ نے قاسم کو حقارت سے دیکھا جو مجھ سے ہار کر تقریباً رونے والا ہو چکا تھا ۔ وہ سوچ رہی تھی یہ روپے اب میں فرہاد سے وصول کروں گی ۔
"فرہاد مجھے گھر تک چھوڑ دو ۔ بہت تھک گئی ہوں" اس نے ایک ادا سے ہاتھ اوپر اٹھا کر کہا۔
میں اسی انتظار میں تھا فوراً اس کا ہاتھ تھام کر گاڑی تک لے آیا ۔ اس کے جسم سے شہنیل کی دھیمی دھیمی مسحور کن مہک اٹھ رہی تھی ۔ اس نے میرے ہاتھ کو تھپکتے ہوئے اور سہلاتے ہوئے چھوڑ دیا ۔
جب میں نے اسے گیٹ پر اتارا تو وہ اپنی طرف سے مجھے مکمل طور پر شیشے میں اتار چکی تھی ۔
میری وکٹری کو سیلیبریٹ کرنے کے لیے غزالہ مجھے اپنے بیڈروم میں لے آئ دراصل وہ مجھ سے ہارے ہوئے پیسے واپس نکلوانا چاہتی تھی ۔
کمرے میں لا کر اس نے مجھے وہی پرانی آفر کی تو مجھے اپنی برسوں پرانی ذلت یاد آ گئ ۔ ورنہ غزالہ کا حسن بلا خیز کسی مرد کے ٹھکرانے کی چیز نہیں تھا ۔
"آؤ فرہاد دوستی کر لو پرانی باتیں بھول جاؤ آج سے ہم ایک خوبصورت شروعات کرتے ہیں"
اس نے اپنا مرمریں ہاتھ میرے کاندھے پر رکھ کر میری آنکھوں میں دیکھا . اس وقت وہ سراپا قیامت تھی اور مجھ پر نثار ہونے کے لیے تڑپ رہی تھی ۔
" چلو ٹھیک ہے او پھر سے وہیں شروع کریں اسی دن سے ۔ تم بیڈ پر لیٹ جاؤ میں کمرے میں آتا ہوں "
میں نے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے کہا ۔
وہ فوراً بیڈ پر لیٹ گئ اور اپنی آنکھوں پر اپنا بازو رکھ لیا۔ میں دروازے سے باہر جا کر دستک دے کر دوبارا اندر آیا ۔ اس نے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھا کر کہا
" آؤ فرہاد ہم دوست بن جائیں"
اس سمے مجھے اس سے اس قدر نفرت محسوس ہوئ کہ میں نے اس کے اوپر تھوک دیا ۔
" منحوس عورت مجھے دس ہزار بار بھی موقع ملے تو میں تمہارے ساتھ یہی کروں گا۔
میں نے پلٹ کر دروازا کھولا اور تیز قدموں سے چلتا ہوا کوٹھی سے نکل آیا ۔ اس دوران
میں اس کے دماغ میں موجود تھا ۔ وہ ہذیانی انداز میں چیخ رہی تھی تلملا رہی تھی اور انتقام کی آگ میں جل رہی تھی ۔ زخم کھائ ہوئ ناگن کی طرح بل کھاتے ہوئے کمرے میں چکر کاٹ رہی تھی ۔
میں لعنت بھیج کر اس کے دماغ سے نکل آیا ۔ اس وقت مجھے پر سکون دماغی مشقوں کی اشد ضرورت محسوس ہو رہی تھی ۔ اس کے لیے میں راوی کے کنارے درختوں کے جھنڈ میں اپنی پرانی جگہ چلا آیا ۔ میں وہاں بیٹھ کر دنیا سے دور اپنے دماغ کی بھول بھلیوں میں کھو جاتا ۔ شاہینہ اور اس کے پسندیدہ شخص کی خیر خبر لینا بھی ضروری تھا ۔ اب میں شاہینہ کی جلد از جلد شادی کر دینا چاہتا تھا ۔
ایک شام میں معمول کی مشقوں میں مصروف تھا کہ میری آنکھوں میں روشنی کے جھماکے ہونے لگے ۔ اس کا مطلب تھا کہ کوی میری تنہائی میں مخل ہو رہا ہے ۔ میں نے ایکدم آنکھیں کھول کر دیکھا ۔ دور کچھ لوگ میری طرف آتے دکھائی دیے ۔ وہ تعداد میں تین تھے ۔ ان میں سے ایک جو آگے آگے چل رہا تھا وہ غزالہ کا پرانا بوائے فرینڈ قیصر تھا ۔ اس کے ساتھ دو ہٹے کٹے بدمعاش ٹائپ آدمی ہاتھوں میں ہاکیاں اٹھائے میری طرف بڑھ رہے تھے ۔
"اچھا تو غزالہ بیگم نے انہیں انتقام لینے کے لیے بھیجا ہے" میرے دماغ میں فوراً جھماکہ ہوا ۔
مجھے غزالہ سےاس طرح کی امید تو تھی لیکن اتنی جلدی نہیں ۔ میں سوچ رہا تھا اتنی دیر میں تینوں قریب آ گئے ۔
اس طرح کی لڑائ میں تنویمی عمل یا خیال خوانی کام نہیں آتی تھی ۔ مجھے ان سے جسمانی طور پر مقابلہ کرنا تھا ۔ قیصر میری طرف دیکھ کر قہقہہ لگا کر بولا
"ذرا اپنے پیچھے بھی دیکھ لو پھر آگے بڑھنا "
میں نے مڑ کر دیکھا تو میرے پیچھے چار بدمعاش کھڑے تھے ان میں سے ایک اچھرے کا مشہور غنڈہ اور کرائے کا ق ا ت ل رامے شاہ تھا جس کے ہاتھ میں تیز دھار چاقو تھا ۔
پہلی بار میں نے اپنے دل میں بےبسی کو اترتے ہوئے محسوس کیا ۔ پھر دوسرے پل اسے جھٹک کر مقابلے کے لیے تیار ہو گیا ۔ میں نے اپنے ذہن میں لڑائی کی منصوبہ سازی کرنے کے بعد پیچھے ہٹنا شروع کر دیا ۔ وہ آگے آنے لگے پھر میں پیچھے ہٹتے ہوئے ان پر پل پڑا ۔ کچھ دیر میں پھر یہی طریقہ اختیار کرتا ۔ میں نے تین لوگوں کو بری طرح زخمی کر دیا اور رامے شاہ کے سر پر ہاکی دے ماری ۔ لیکن اس لڑائ میں میں بری طرح زخمی ہو چکا تھا ۔ رامے شاہ کو گرتے دیکھ کر باقی لوگ ڈر گئے ۔ بزدل تھے ورنہ میں اس وقت لڑنے کی پوزیشن میں نہیں رہا تھا ۔ مجھے لگ رہا تھا جیسے میری ہڈیاں کئ جگہ سے ٹوٹ گئ ہوں ۔ جونہی میں نے رامے شاہ کا چاقو چھینا وہ اپنی ہاکیاں چھوڑ کر بھاگ گئے ۔
میں زمین پر گر پڑا ۔ میرے سر سے خون بہہ رہا تھا اور آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا تھا ۔ میں نے موت کے انتظار میں آنکھیں بند کر لیں ۔
اب کوی آئے اور مجھے ذبح کر ڈالے ۔ تب بھی نہیں اٹھوں گا ۔ زندگی کے لیے جتنا لڑنا تھا لڑ چکا ۔ اب تو مرتے وقت آرام آ رہا تھا ۔ میرا جسم ڈھیلا پڑ چکا تھا آنکھیں یوں پھیل گیئں جیسے پتھرا گئ ہوں ۔
پھر میری آنکھیں بند ہوتے ہوتے رہ گئیں میرے کان کھڑے ہو گئے ۔ کسی کے بھاری بھرکم قدموں کی آہٹ سنائی دے رہی تھی ۔
آہ شاید دشمن آ گئے
نہیں ۔ شاید کوئ ہمدرد آ رہا ہے
قدموں کی آواز قریب آ کر رک گئ ۔
کون ہے بے تو ؟
میں نے بمشکل آنکھیں کھول کر دیکھا ۔ مجھ سے کچھ فاصلے پر کوئ کھڑا تھا ۔ رات کی تاریکی میں صرف اس کا سفید لباس نظر آ رہا تھا ۔ کوئ لمبا سا جبّہ پہنے ہوئے تھا ۔ اس کی کرخت آواز سے لگ رہا تھا کہ وہ کوئ اچھا آدمی نہیں تھا ۔
پھر وہ قریب آ گیا ۔ ہمارے درمیان ایک شعلہ لپکا لائیٹر کے ننھے سے شعلے میں اس سیاہ چہرہ اور بڑی بڑی سرخ آنکھیں نہایت خوفناک لگ رہی تھیں ۔ اس کی مونچھیں منگولین ٹائپ تھیں ۔ وہ مجھے ایسے ٹٹول رہا تھا جیسے قربانی کے جانور کو دیکھتے ہیں ۔ پھر خوشی سے دانت نکال کر کہنے لگا
تگڑا ہے بھئ تگڑا ہے ۔ کافی خون بہہ چکا ہے لیکن ایک بالٹی اور نکل آئے گا ۔
"ابے کون تجھے یہاں مرنے کے لیے چھوڑ گیا ہے ؟"
میں نے بولنے کی کوشش لیکن لب ہل کر رہ گئے ۔ اس نے حقارت سے کہا ، سالا بول بھی نہیں سکتا ۔ کوئ بات نہیں میں لے جاؤں گا آرام سے لے جاؤں گا
اس نے لائیٹر بھجایا اور میرے بال مٹھی میں لے کر گھسیٹنے لگا ۔ مجھے شدید درد کا احساس ہوا۔ پہلے ہی تکلیف سے سانس لینا دشوار تھا ۔ میں بےہوش ہو گیا۔
میں وقتی طور پر مر چکا تھا ۔ نہ جانے کتنا وقت گزر چکا تھا پھر رفتہ رفتہ مجھے ہوش آنے لگا ۔ پہلے قوت سماعت جاگی ۔ کانوں میں دھیمی دھیمی آوازیں آنے لگیں ۔ میں صاف طور پر کچھ سن نہیں پا رہا تھا ۔ شاید کوئ زیر لب بڑبڑا رہا تھا ۔ دماغ پر دھند چھائی ہوئی تھی ۔ میں آنکھیں بند کیے سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ میں کون ہوں کہاں ہوں ۔
پھر یاد آیا کہ غزالہ کے انتقام نے مجھے موت کے منہ میں دھکیل دیا تھا ۔ میں زخموں سے چور ہو کر گرا تھا پھر ایک بےرحم قصائ آیا تھا اور مجھے کوئ ہوش نہ رہا تھا ۔
میں نے کروٹ بدلنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ میں رسیوں سے اس طرح بندھا ہوا ہوں جیسے سانپ کے سٹائل میں بازوں سے لے کر ٹانگوں تک لپیٹ دیا جائے ۔ میں حرکت نہیں کر سکتا تھا صرف رول ہو سکتا تھا ۔ میں نے ٹھنڈی سانس بھر کے ادھر ادھر دیکھا ۔ میں سوکھی اور زرد گھاس پر الٹا پڑا ہوا تھا ۔
وہ ایک کچا مکان تھا ۔ چھت سے لٹکے ہوئے چھینکے میں تین چھوٹی بڑی ہانڈیاں لٹکی ہوئی نظر آیئں تو مجھے بھوک لگنے لگی ۔
میں نے رسیوں کو توڑنے کے لیے زور آزمائی کی کوشش کی تو ہانپنے لگا لیکن رسیوں کو کوئ فرق نہیں پڑا ۔ میں نے بےبسی سے دروازے کی طرف دیکھا تو دوسری طرف ایک اور کمرہ نظر آ رہا تھا ۔ وہ بڑبڑانے کی آواز وہیں سے آ رہی تھی ۔
اس دروازے تک پہنچنے کے لیے میں لڑھکتا ہوا آگے آیا ۔ میں دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ کون ہے اور کیا کر رہا ہے ۔ میں آہستہ آہستہ اسی طرح فرش پر لڑھکتا ہوا دروازے تک پہنچ گیا ۔
دوسرے کمرے کے عین وسط میں وہی رات والا درندہ نما شخص آلتی پالتی مارے بیٹھا تھا ۔ اس کے ہاتھ قینچی کی شکل میں گردن کے ساتھ لگے ہوئے تھے ۔ وہ سرخ آنکھیں سامنے مرکوز کیے کوئ منتر پڑھ رہا تھا ۔ اس کے سامنے ایک واؤ رکھا ہوا تھا جس سے مجرموں کے سر قلم کرتے ہیں ۔
میں نے سوچا کہ گھبرانے اور پریشان ہونے سے بہتر ہے سکون سے کوئ تدبیر کی جائے کیونکہ اس شخص کو ہیپناٹزم سے زیر نہیں کیا جا سکتا تھا ۔ کالے علم اور جادو وغیرہ کے ماہر لوگوں کی سوچ تک رسائ آسان نہیں ہوتی ۔ میں سکون سے لیٹ گیا ۔
میں نے فیصلہ کیا کہ خیال خوانی کے ذریعے اس کی سوچ کو پڑھ کر ہی کوئ مدد مل سکتی ہے ۔ میں وہیں لیٹے لیٹے مراقبے میں چلا گیا ۔
وہ کسی اجنبی زبان میں کچھ بڑبڑا رہا تھا ۔ میں نے اس کی سوچ میں حکم دیا " بند کرو یہ منتر رک جاؤ یہ جاپ بند کرو "
میری سوچ کی لہریں جیسے کسی پتھر سے ٹکرا کر واپس آ گئیں ۔ وہ بدستور منتر پڑھتا رہا ۔ اس وقت مجھے اپنی کم علمی کا احساس ہوا ۔ اب تک میں نے کسی علم والے پر اپنی صلاحیتوں کو نہیں آزمایا تھا ۔
عجیب بےبسی کا عالم تھا ۔ میں نے زور زور سے چیخنا شروع کر دیا کہ شاید کسی تک میری آواز پہنچ جائے ۔ اس شخص کے کان پر جوں تک نہ رینگی ۔ میں شور مچائے چلے جا رہا تھا کہ اچانک باہر سے آواز سنائی دی۔۔۔ پائل بج رہی تھی ۔
میں چونک کر آواز کو سننے لگا
چھم ۔ چھم ۔ چھم ۔ ۔۔۔پائل دوڑتی ہوئی ادھر ادھر بھاگ رہی تھی پھر دروازہ کھلنے کی آواز آئ ۔ اس کمرے کے پیچھے بھی کوئ کمرہ تھا جہاں سے وہ داخل ہوئ اور اجنبی کے عین سامنے والے دروازے کو کھول کر اندر آ گئ۔۔

0 تبصرے