سرخ ریشم کا گھاگھرا، سرخ ریشم کی چولی ۔ گھاگھرے کی لہر لہر پر روپہلی گوٹ لہرا رہی تھی ۔ چولی پر رنگ برنگی موتیاں چمک رہی تھیں ۔ چاندی کی پائل ، سونے کے کنگن کانوں میں جھمکے اور گلے میں سنہری مالایئں ۔ اس کا بدن چاندی کی طرح اجلا تھا اور اس پر سنہرے زیور چمک رہے تھے ۔ اسکی رنگت بیک وقت سفید، سنہری اور سرخ تھی ۔ اس کے بدن کے تمام نشیب و فراز انگڑائی کی اٹھان پر تھے ۔ اس عمر میں عورت کا جسم ایک بھرپور انگڑائی کی طرح ہی ہوتا ہے ۔ میں ایک لمحے کے لیے بھول گیا کہ میں کہاں ہوں ۔ اور کس طرح موت کی کھائ میں گرنے کے بعد یہاں پہنچا ہوں ۔ مصائب کے اندھیروں میں بھی اگر روشنی نظر آئے تو انسان ایک لمحے کو اندھیرے بھول جاتا ہے ۔ میری کیفیت بھی کچھ اسی طرح کی تھی ۔ وہ دور سے مجھے دیکھ کر بڑی نخوت سے مسکرائ اور ایک شان بے نیازی سے چلتی ہوئی میری طرف آنے لگی ۔ وہ جتنی نزاکت سے چلتی ہوئی میرے پاس آئ اتنی ہی ادا سے میرے سینے پر پاؤں رکھ کر کھڑی ہو گئ ۔
"کیوں رے ہوش میں آتے ہی یہاں چلا آیا ۔ چل واپس جا "
یہ کہہ کر اس نے مجھے ٹھوکر ماری
میں اور عورت سے ٹھوکر کھاؤں ۔ یہ ممکن نہیں تھا ۔ میں غرایا ۔ میری آنکھوں سے شعلے نکلنے لگے یا بجلیاں کوندی تھیں وہ ایک جھٹکا کھا کر پیچھے ہٹی ۔ پھر دوسرے لمحے اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا ۔ میں اس کی سوچ پڑھنے لگا ۔ وہ سوچ رہی تھی کہ یہ تو گیانی ہے ۔ کچھ خاص بات ہے ۔ یہ سوچ کر اس نے کہا
"کون ہے تو ؟ کیا کالا علم جانتا ہے ؟"
میں نے اپنی آنکھوں کی آنچ دھیمی کر لی ۔
"کالا علم کیا ہوتا ہے"
ہی ہی ہی ہی وہ ہستے ہوئے بولی مجھ سے جھوٹ بولتا ہے ؟ تیری آنکھوں میں وہی چمک ہے جو کسی علم والے کی آنکھوں میں ہوتی ہے"
"ٹھہر میں ابھی تجھے بتاتی ہوں" یہ کہہ کر اس نے دونوں پاؤں ذرا سا پھیلائے اور دونوں ہاتھ اٹھا کر مٹکنے لگی اور کسی اجنبی زبان میں گانے لگی ۔
اگر یہ کسی عیش کدے کی محفل ہوتی تو لوگ سانس روکے اسے دیکھے چلے جاتے لیکن مجھے وہ زہر لگ رہی تھی ۔ تھوڑی دیر ناچتے گاتے رہنے کے بعد وہ سامنے گول دائرے کے اندر بیٹھے شخص کے پاس گی اور اپنا ہاتھ گول دائرے کے اندر لے گئ ۔ اس کے ہاتھ میں ایک شعلہ لپکا ۔ اسئنے ہاتھ میرے پاس لا کر میرے منہ کے قریب پھونک ماری ۔
پھوں ۔۔۔ اور وہ ننھا سا شعلہ میرے اوپر گرا ۔ میں اچانک بھڑکتے شعلوں میں گھر گیا ۔ اف ایسی جلن اور ایسی اذیت تھی کہ میں چیختا ہوا ادھر ادھر لڑھکنے لگا ۔ میں جہنم کی آگ میں جل رہا تھا اور وہ قہقہے لگا رہی تھی ۔
" بچنے کی کوشش کر۔ اگر علم جانتا ہے تو ان شعلوں کو بجھا کر دکھا ۔ یہ تو معمولی شعبدے بازی ہے اسے تو کوئ دو ٹکے کا جادوگر بھی بجھا دے"
" میں کوئ علم نہیں جانتا سؤر کی بچی ۔ان کو بجھا ۔ " میری قوت برداشت جواب دے گئ میرا دل ڈوبنے لگا اسی وقت اس نے جانے کیا منتر پڑھا کہ وہ شعلے ایکدم بجھ گئے ۔ حیرت کی بات تھی کہ اتنا جلنے سے میری جلد پر کوئ اثر نہیں پڑا تھا ۔
میری حیرانی دیکھ وہ مسکراتے ہوئے بولی "میں تجھے جلانا نہیں چاہتی تو تو قربانی کا بکرا ہے ۔ آج ایک کالی بلی تیرے لہو سے اشنان کرے گی "
مجھے اب اس منتر کی سمجھ آ گئ جو وہ خونخوار آدمی کمرے بیچوں بیچ دائرہ بنائے پڑھ رہا تھا ۔ اس کے سامنے جو داؤ رکھا تھا اس کی دھار میرے ہی لہو کی پیاسی تھی۔
وہ اب مجھے غور سے دیکھ رہی تھی ۔ اس کے انداز میں نزااکت تھی حسن تھا اور ادا تھی ۔ میرے ذہن میں ایک خیال پیدا ہوا کہ وہ لاکھ جادو ٹونا جانتی ہو اس کے باوجود ہے تو الہڑ دوشیزہ اس پر عشق و محبت کا داؤ آزما کر دیکھنا چاہیے ۔ اگر وہ جذبات میں بہہ گئ تو میں آسانی سے رسیاں کھلوا لوں گا ۔
وہ چھینکے سے ہانڈیاں اتار کر میرے پاس لے آئ ۔
"مرنے سے پہلے پیٹ بھر کر کھا لو میں تمہیں بھوکا نہیں ماروں گی"
میں نے سوچا کھانا ضروری ہے تاکہ صحتمندی سے حالات کا مقابلہ کیا جا سکے۔ وہ کھانا لے کر میرے پاس بیٹھ گئ۔ اس کا گھاگھرا جو پنڈلیوں تک تھا اب گھنٹوں سے اوپر اٹھا ہوا تھا ۔ میں سمجھ گیا وہ بڑی حرافہ ہے جان بوجھ کر مجھے بہکا رہی ہے ۔ میں نے بھی ایک تھڑدلے عاشق کی طرح جذباتی لہجے میں کہا
" تم بہت حسین ہو ۔ تم مجھے ایک بار مارنا چاہتی ہو میں بار بار مرنا چاہتا ہوں ۔ ایسا دو آتشہ حسن میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا"
وہ ایک برتن میں آلو بینگن کی بھاجی اور پوری نکالتے ہوئے بولی
" ہاں یہ جسم لاجواب ہے ایک برس پہلے جب میں نے اس جسم کو دیکھا تو دیکھتے ہی ہزار جان سے اس پر عاشق ہو گئ تھی"
اس کی بکواس میری سمجھ میں نہ آئ ۔
" کیا ؟ تم نے اپنے جسم کو ایک برس پہلے دیکھا ؟ اس سے پہلے تم اندھی تھی ؟ "
وہ ہستی ہوئی بولی "میں اندھی نہیں تھی بوڑھی تھی ۔ ستر برس کی بوڑھی۔ یہ جسم جسے تو دیکھ رہا ہے یہ میرا نہیں ۔ صرف روح میری ہے ۔ یہ جسم تو میں نے اپنے علم سے حاصل کیا ہے "
میں حیرت زدہ رہ گیا
روح ستر برس پرانی اور جسم اتنا جوان ۔ کیا جادو ٹونے سے یہ ممکن ہے؟ جادو کے متعلق میں نے بہت کچھ سنا تھا لیکن آج اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا ۔
"تم یہ کہنا چاہتی ہو کہ تم بوڑھی ہو اور جادو کے ذریعے ایک جوان لڑکی کے جسم میں داخل ہو گئ ؟"
" میں اب بوڑھی نہیں ۔ میں بوڑھی تھی ۔ مگر میری روح ایک جوان جسم میں آ چکی ہے تو اسے سو برس پرانی کہہ لے مگر بوڑھی نہیں "
"لے اب کھا " اس نے نوالہ بنا کر میرے منہ میں ڈالا ۔
میں نے رسیوں میں جکڑے بازوؤں کو ہلاتے ہوئے کہا " مجھے کچھ دیر کے لیے کھول دو میں اپنے ہاتھوں سے آخری بار کھانا چاہتا ہوں"
" نہیں" وہ میرے منہ میں نوالہ ٹھونستے ہوئے بولی" مجھے نادان نہ سمجھ کیدار نے مجھے بتایا ہے کہ تو بہت خطرناک ہے"
"کیدار کون"
"وہی جو ادھر جاپ کر رہا ہے یہ میرا چیلا ہے "
"وہ مجھے بالوں سے پکڑ کر لایا ہے"
ہاں اس نے بتایا " تو نے چار آدمیوں کو مار بھگایا ۔ ایک تو جان سے گیا دوسرا ادھ مویا ہو کر وہیں پڑا تھا "
"چار نہیں آٹھ. وہ آٹھ تھے "
اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گیئں ۔ وہ سوچ رہی تھی کتنا طاقتور آدمی ہے ساتھ ساتھ میرے سینے پر ہاتھ پھیر رہی تھی ۔
میں نے موقعے سے فائدہ اٹھایا اور اس کی سوچ میں کہا مرد اگر طاقتور ہے تو اس کے آگے یہ معمولی بات ہے لیکن ایک خوبصورت عورت پر مر مٹتا ہے۔
وہ مجھ پر جھکتے ہوئے کہنے لگی" مرد کی طاقت عورت کا دل موہ لیتی ہے "
میں اس کے حسن کے شعلوں میں جھلس رہا تھا ۔ مگر مجھ سے ایک غلطی ہو گئ میں اس کے دماغ تک اپنی سوچ کی لہریں پہچانے لگا ۔
میں نے اس کے دماغ میں کہا "اس قیدی کے اندر کتنے طوفان چھپے ہیں اگر میں اس کی رسیاں کھول دوں تو یہ مجھے خوابوں کی وادی میں لے جائے جہاں کوئ مجھے آج تک نہ لے جا سکا "
وہ میرے سینے سے لگی اپنی سوچوں سے لڑ رہی تھی ،
" نہیں میں اس کی رسیاں نہیں کھولوں گی یہ بہت خطرناک ہے"
" تھوڑی دیر کھول دینے میں کیا حرج ہے ۔ یہ دشمنوں کے لیے خطرناک ہے لیکن میرے حسن کے چنگل میں پھنس چکا ہے "
نہیں ، نہیں ۔۔۔ وہ تڑپ کر مجھ سے الگ ہوگئ اور وحشت سے مجھے دیکھنے لگی
میں نے فوراً آنکھیں بند کر لیں اس وقت اس کے دماغ میں رہنا ٹھیک نہیں تھا وہ ٹھوس ارادوں کی مالک تھی اتنی آسانی سے میری معمولہ نہیں بن سکتی تھی ۔
میں نے ٹھنڈی سانس لے کر آہ بھری" میں تمہیں کبھی نہیں بھول سکتا خوبصورت جادوگرنی"
اس نے مجھے جھڑک کر نوالہ میرے منہ میں ڈالا
میں نے نوالہ چباتے ہوئے کہا تمہیں اچھا نہیں لگتا تو میں کچھ نہیں بولوں گا لیکن ایک بات بتا دو
"یہ حسین بدن کہاں سے چرا کر لائ ہو"
"کہیں سے بھی لائ ہوں تمہیں اس سے کیا ۔ تم چپ چاپ کھانا کھاؤ اور مرنے کے لیے تیار ہو جاؤ "
" ہاں اس جسم سے اب مجھے کچھ نہیں ملے گا ۔ یہ میری قسمت میں نہیں ہے لیکن تاج محل دیکھ کر ہر کوئی اس کے بنانے والے کے بارے میں پوچھتا ہے ۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ اس گلبدن کی مالک کون بدنصیب ہے ۔ تم نے اسے کیسے حاصل کیا ۔ تم جانتی ہو مجھے مر جانا ہے ۔ مرنے سے پہلے کا وقت آسانی سے کٹ جانے دو"
" ہاں وقت تو میں بھی گزارنا چاہتی ہوں کیونکہ آدھی رات سے پہلے وہ نہیں آئے گی۔ "
"کون "
"سامی"
"کون سامی"
"وہی لڑکی جس کا جسم تمہارے سامنے ہے"
میں اس پھولوں کی طرح مہکتے جسم کو ایک نئ دلچسپی سے دیکھنے لگا ۔
"اور تمہارا نام کیا ہے"
"میرا نام چھمیا ہے"
"کمال ہے جسم ہیرا نام کنکر"
" ہیرا جس کے پاس ہو اسی کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ یہ جسم اب میرا ہے ۔ میں اس کی مالک ہوں ۔ دولت مند امیر نوجوان مجھے دیکھ کر میرے قدموں میں نثار ہوتے ہیں ۔ مجھ پر دولت کی بارش کر دیتے ہیں ۔ لیکن وہ سامی کی روح مجھے کسی کے قریب نہیں جانے دیتی ۔ وہ مجھے پریشان کرنے کے لیے آ جاتی ہے ۔ وہ نہیں چاہتی کہ اس کا جسم کسی کے سامنے سستا ہو "
"تم سامی کی روح قابو نہیں کر سکتی تمہیں تو بہت منتر جنتر آتے ہیں "
میں نے طنزیہ اس کی طرف دیکھا
" ہاں میں تمہیں بھینٹ چڑھا کر آج ہمیشہ کے لیے اسے اس بلی میں قید کر دوں گی ۔ پھر یہ جسم ہمیشہ کے لیے میرا ہو جائے گا "
میں نے اپنا غصہ دبا کر کہا "مجھے سامی سے ہمدردی ہو رہی نہ جانے کون تھی؟ کیا تم اس کے بارے میں بتا سکتی ہو ؟
اس نے ہانڈیاں ایک طرف رکھتے ہوئے کہا
"اس کا نام سامی پوکر ہے وہ ایک انگریز کمشنر جان پوکر کی بیٹی ہے ۔ باپ انگریزی اور ماں انڈین ۔ یورپ اور ایشیا کے ملاپ سے جس حسن وجود میں آتا ہے وہ تمہارے سامنے ہے اس کی مکمل تعریف نہیں ہو سکتی یہ بےاختیار کر دینے والا حسن ہے ۔ میں نے جب اسے پہلی بار دیکھا تو اسے حاصل کر لینے کی خواہش پیدا ہو گئ.
ان دنوں میں کیدار کو ایک جسم سے روح نکال کر دوسرے جسم میں منتقل کرنے کے منتر سکھا رہی تھی ۔ ہم نے شہر سے دور ایک جنگل میں درختوں کے جھنڈ میں کٹیا بنا رکھی تھی ۔ اس پر رکشا کنڈل رکھ دیا تھا "
"یہ رکشا کنڈل کیا ہے" میں نے سامی کی آنکھوں اور چھمیا کی روح کو مخاطب کیا
"رکشا کنڈل ایک منتر ہے جس سے کوئ چیز دوسروں کے لیے غائب ہو جاتی ہے ۔ خیر ہم دونوں منتر پڑھتے ۔ کیدار بہت کند ذہن ہے میں اسے سکھاتی اور وہ بھول جاتا ۔ الٹ پلٹ کر کے پڑھنے سے وہ سارا منتر بھول جاتا ۔ پھر بھی میں اسے صبر سے سکھاتی رہی ۔ ان ہی دنوں ہم نے سامی کو دیکھا ۔ اس کے حسن و شباب پر ہم دونوں کی نظر للچا گئ۔
کیدار نے کہا " چھمیا اگر تو اس لڑکی کے جسم میں چلی جائے تو میں ساری حیاتی تیرا غلام رہوں گا"
"وہ اپنے گھر کے لان میں اپنے دوستوں کے ساتھ بیڈمنٹن کھیل رہی تھی ۔ وہ اچھل رہی تھی ، تھرک رہی تھی ، پارے کی طرح مچل رہی تھی ۔ میرا دل اس کے جسم پر فریفتہ ہو گیا ۔ میں نے اسی وقت فیصلہ کر لیا کہ میں یہ جسم حاصل کر کے رہوں گی ۔
رات کو جب سب سو گئے تو ہم دونوں پچھلی دیوار پھلانگ کر گھر کے اندر داخل ہو گئے ۔
ہمارا منصوبہ یہ تھا کہ کیدار اگلی سائیڈ پر جائے گا اور چوکیدار کو قابو کرے گا اور میں اندر جا کر سامی کو جادو کے زور پر اپنے ساتھ لے کر باہر آ جاؤں گی ۔
چوکیدار کو ابدی نیند سلا کر ہمارا منصوبہ آرام سے مکمل ہو گیا ۔ ہم دونوں سامی کو لے کر اپنی کٹیا میں آ گئے ۔ اس دوران میں مسلسل منتر پڑھتی رہی اور وہ میرے ساتھ ایسے چلتی رہی جیسے نیند میں چل رہی ہے ۔ کٹیا میں آ کر میں نے منتر ختم کر دیا ۔ کیدار اس پر دیوانہ وار نثار ہو رہا تھا ۔
سامی نے یہ سب دیکھتے ہوئے خوب شور مچایا ۔ اچھل کود کی لیکن ہم دونوں نے اسے رسیوں سے باندھ دیا ۔ میں نے اسے سمجھایا کہ ہم نے کٹیا کے چاروں طرف نظر بندی اور سماعت بندی کی ریکھائیں کھینچ دی ہیں۔ اس لیے شور مچانے کا کوئ فائدہ نہیں ۔ یہ سن کر اس پر سکتہ طاری ہو گیا ۔
یہ تو مجھے پتا چل گیا تھا کہ کیدار یہ منتر نہیں سیکھ پائے گا ۔ اس کا توڑ کرنے کے لیے میں دو تختیوں پر منتر لکھ کر اسے دیے ۔ ایک پر میرے جسم سے روح نکالنے کا منتر اور دوسری پر اسے سامی کے جسم میں داخل کرنے کا منتر ۔
ہم نے ایک انگیٹھی میں آگ روشن کر لی ۔ طریقہ کچھ ایسے تھا کہ کیدار جسم سے روح نکالنے کا منتر چالیس بار پڑھتا اور ماش کے چالیس دانے آگ میں ڈالتا ۔ اس دوران میں منتر کو اپنی روح میں جذب کرتی جاتی ۔اس کے بعد روح کو داخل کرنے کا منتر اسی طرح چالیس بار پڑھا جاتا ۔ اس عمل میں بڑی ہیرا پھیری ہے میں تمہیں ساری باتیں تو نہیں بتا سکتی۔ اتنا سمجھ لو کہ یہ عمل بھی کیدار کے پلے نہیں پڑا ۔ کبھی منتر بھول جاتا ، کبھی گنتی بھول جاتا اور کبھی ماش کے دانے آگ میں پھینکنا بھول جاتا ۔
کئ دنوں تک یہ ہوتا رہا سامی چپ چاپ ہمیں دیکھتی رہتی ۔اخر ایک رات وہ روح نکالنے والا منتر بلکل ٹھیک پڑھ گیا ۔ اب میں اپنے جسم سے روح نکال سکتی تھی ۔ میں نے سامی کو دیکھا وہ بلکل میری طرح دم سادھے بیٹھی تھی ۔ میں نے کیدار سے کہا اس کی رسیاں کھول دو اب میں اس کے جسم میں داخل ہو جاؤں گی ۔ جونہی اس کی رسیاں کھلیں وہ ایک طرف کو لڑھک گئ ۔ ارے یہ تو مر گئ ۔ میں نے فوراً اپنی روح کو اپنے جسم سے آزاد کیا تاکہ سامی کے مردہ جسم میں داخل ہو جاؤں ۔
تمہیں کیا بتاؤں کہ روح کی بصارت سے دنیا دیکھنا کتنا خوبصورت اور رنگین ہے ۔ ایک نور تھا جو چاروں طرف پھیلا ہوا تھا ۔ اسی وقت میں نے سامی کے جسم کے پاس ایک سراپا جس کی کوئ شکل نہیں تھی لیکن سامی کے قد کے برابر جھلمل کرتا ہوا دیکھا ۔
میں سامی کی طرف بڑی تو وہ مجھ سے ٹکرا گیا ۔ میں نے اسے دھکیلنے کی کوشش کی مگر وہ اتنا زور آور تھا کہ اس نے مجھے سامی کے جسم تک پہنچنے نہ دیا ۔ میں جلدی سے اپنے جسم میں واپس آ گئ تو سامی اٹھ کر بیٹھ گی اور قہقہے لگانے لگی
میں نے وحشت زدہ نظروں سے دیکھا سامی زندہ ہو گئ تھی ۔
" حرافہ تو کیا سمجھتی ہے جتنے دن سے تو اس کوڑھ مغز چیلے کو جادو سکھا رہی تھی اسے میں یاد نہیں کر سکتی تھی۔ تیرا یہ آدمی جتنے دنوں منتر یاد کر رہا تھا اتنے دنوں میں تو طوطا بھی سیکھ لے ۔ تو وہاں سمادھ لگایا کرتی تھی تو میں یہاں سمادھ لگاتی ۔ میں نے تیرے ساتھ کئ دن یہ مشق کی ہے۔ اب میں بھی روح کو جسم سے نکال سکتی ہوں اور ایک جھٹکے میں دوبارا داخل کر سکتی ہوں "
میں اور کیدار آنکھیں پھاڑے اس لڑکی کو دیکھ رہے تھے ۔
کیدار بولا" کیا اس کی روح مجھے نقصان پہنچا سکتی ہے ؟"
" نہیں یہ صرف جسم سے نکل سکتی ہے اور دوبارا داخل ہو سکتی ہے اس کے علاؤہ یہ کچھ نہیں کر سکتی "
کیدار کی آنکھیں چمکنے لگیں
"تو پھر ٹھیک ہے میں اس کے جسم سے اپنی پیاس بجھاؤں گا اور اسے اس قابل نہیں چھوڑوں گا کہ یہ اس جسم کے ساتھ کسی کو منہ دکھا سکے "
میں نے چٹکی بجاتے ہوئے سامی سے کہا" تیرا یہی علاج ہے ٹھیک ہے تو مجھے اپنا جسم نہیں دے گی ۔ تو تیری مرضی ۔
میں نے کیدار کو اشارہ کیا "
سامی کا رنگ اڑ گیا" میرے قریب مت آنا ورنہ میں اپنے جسم سے نکل جاؤں گی ۔ کیا تم ایک لاش کے ساتھ عیاشی کرو گے ؟ "
" ہاں تو چاہے لاش بن جا ہم اب تجھے نہیں چھوڑیں گے ۔ تیرے اس خوبصورت جسم کو عبرت بنا دیں گے "
وہ بےبسی سے اپنے رسیلے ہونٹ چبانے لگی پھر ہارے ہوئے لہجے میں بولی " ٹھیک ہے میں اپنا جسم چھوڑ رہی ہوں مگر یاد رکھنا میں تمہیں یہ موقع کبھی نہیں دوں گی کہ تم اسے کسی اپنی عیاشیوں اور حرام کا ریوں کے لیے استعمال کرو ۔
میں تمہیں اسے کسی مرد کے حوالے نہیں کرنے دوں گی ۔ "
یہ کہتے ہوئے وہ اپنے جسم کو مردہ چھوڑ کر نکل گئ ۔ میں اسے نہیں دیکھ پا رہی تھی اس لیے میں نے بھی اپنا جسم چھوڑ دیا ۔ وہ نورانی سراپا جھلملا رہا تھا لیکن اس نے مجھے روکا نہیں میں جھٹ سے اس کے حسین جسم میں گھس گئ۔
چھمیا یہ کہہ کر چپ ہو گئ
میں اسے دیکھ رہا تھا اور میں سوچ رہا تھا کہ میں کسے دیکھ رہا ہوں سامی کو یا چھمیا کو ؟
وہ اٹھ کر جانے لگی تو میں نے اس سے پوچھا " پھر سامی کی روح کدھر گئی"
وہ کیدار کو دیکھتے ہوئے بولی
" اس وقت مجھے کسی چیز کا ہوش نہ رہا ۔ میرے پاس جوان پر شباب جسم تھا ۔ میں اسے چھو چھو کر آیئنے میں دیکھنے لگی ۔ کیدار بھی ایک لمحے کو مجھے دیکھ کر ٹھٹھک گیا ۔ میں ایک ناز سے چلتی ہوئی اس کے قریب آ نے لگی کہ مجھے لگا میرا سانس رک رہا ہے ۔ میرا دم گھٹنے لگا میں ایک جھٹکے سے پیچھے فری ۔
کیدار حیران ہو کر مجھے پوچھنے لگا" کیا ہوا ۔ تم ایسے کیوں کر رہی ہو "
"مجھے سامی کی روح تنگ کر رہی تھی وہ میرے سانس کے ذریعے مجھ میں گھسنے کی کوشش کر رہی تھی ۔ "
کیدار نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کھینچا" چھوڑو یہ ساری باتیں چھمیا اب تم اپنا وچن پورا کرو ۔ تم نے کہا تھا تم سامی کے جسم کو حاصل کرتے ہی میری ہو جاؤ گی "
میں اپنا ہاتھ چھڑا کر پیچھے ہٹی
" نہیں نہیں ابھی سامی کی روح کبھی ہمیں ایک نہیں ہونے دے گی ہمیں یہ جگہ یہ شہر چھوڑ دینا چاہیے "
" مگر وہ گئ کہاں کیا وہ یہاں موجود ہے "
میں اسے نہیں دیکھ سکتی تھی اس کے لیے مجھے اپنا جسم چھوڑنا پڑتا جو کہ میں اب کبھی نہیں کر سکتی تھی
ہم دونوں نے کلکتہ جانے کا پروگرام بنایا ۔ اپنا ضروری سامان لے کر ہم اسی وقت کلکتہ سٹیشن کے لیے نکل پڑے ۔
اس وقت چاند نکل آیا تھا ۔ جنگل میں ہر طرف ہریالی پھیلی تھی ۔ ہم تیزی سے بھاگتے ہوئے سٹیشن کی طرف جا رہے تھے ۔ راستے میں کہیں کہیں جانوروں کی آوازیں آتیں ورنہ پورا جنگل خاموش تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا ۔ ہم ریلوے اسٹیشن پہنچے تو میں نے محسوس کیا تمام لوگ مجھے دیکھ رہے ہیں ۔ میں سامی کے قیامت خیز جسم میں گردن اکڑا کر چل رہی تھی کہ ایکدم ایک کالی بلی ہمارا راستہ کاٹ کر دائیں طرف بھاگ گئ۔ میرے دل میں برے خیالات آنے لگے لیکن میں نے کیدار کو نہیں بتایا ۔
ٹرین آنے میں کچھ وقت باقی تھا ہم دونوں ایک بینچ پر بیٹھ گئے ۔ کچھ دیر بعد میں نے محسوس کیا کہ ایک پولیس والا بہانے بہانے سے ارد گرد چکر کاٹ رہا ہے ۔ میں نے مسکرا کر دیکھا وہ مجھ پر لٹو ہو چکا تھا ۔
کیدار ٹکٹ لینے کے لیے گیا تو میں نے کن اکھیوں سے دیکھا وہ ایک کڑیل جوان تھا ۔ لیکن مجھ پر پہلا حق کیدار کا تھا میں نے اس سے وعدہ کر رکھا تھا ۔
کیدار ٹکٹ لے کر واپس آیا تو اس کے بازوؤں میں وہی کالی بلی تھی۔
یہ ٹکٹ گھر کے پاس بیٹھی تھی ۔ مجھے دیکھتے ہی میرے پاؤں میں لوٹنے لگی ۔
میں نے ناگواری سے کہا " اسے چھوڑو ٹرین آ چکی ہے ہم اسے ساتھ نہیں لے جا سکتے"
لیکن وہ اسے چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوا ۔ کہنے لگا "جانور روحوں کو پہچان لیتے ہیں اس کی وجہ سے ہم سامی کو دیکھ لیں گے "
ہم ٹرین میں آ بیٹھے ۔ کیدار نے بلی کو اوپر والی برتھ پر بٹھا دیا ۔ میں نچلی برتھ پر لیٹ گئ۔ کیدار نے مجھے ایسے دیکھا جیسے کچا چبا جائے گا ۔
وہ دروازا بند کرنے کے لیے بڑھا کہ دروازا ایک جھٹکے سے کھل گیا ۔ سامنے وہی انسپیکٹر کھڑا تھا ۔ اس کے ساتھ دو سپاہی بھی تھے
کیدار رنگ میں بھنگ پڑنے کی وجہ سخت تلملایا ہوا تھا ۔ لیکن پولیس والے کے آگے اس کی ایک نہ چلی ۔اسے دروازے کے پائیدان پر کھڑا کر کے انسپکٹر نے سپاہیوں کو چلتا کیا اور دروازا بند کر لیا ۔
میں چاہتی تو جادو کے زور اسے بھسم کر سکتی تھی لیکن اس موقع پر میں کوئ ہلا گلا نہیں چاہتی تھی ۔ اگر کسی کو کانوں کان خبر ہو جاتی کہ میں سامی پوکر ہوں تو کہانی بگڑ جاتی ۔
وہ میرے قریب آ گیا ۔ میں نے سہم جانے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا ۔ جبکہ میرا دل ایک گھبرو جوان کے لیے بری طرح مچل رہا تھا ۔
اس نے میری طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ بلی کی غراہٹ سنائ دی ۔ اور پلک جھپکتے ہی بلی اس پر پل پڑی ۔ اس کی گردن پر پنجے مارتے ہوئے دوسری طرف کود گئ ۔ وہ بری طرح لڑکھڑا گیا ۔ بلی نے بھاگتے ہوئے پھر اس کے چہرے پر حملہ کیا ۔
وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایک بلی بھی ایسے حملہ کر سکتی ہے ۔ غصے سے پاگل ہوتے ہوئے وہ بلی کے پیچھے بھاگا ۔ بلی چھلانگ لگا کر برتھ کے اوپر چڑھ گئ ۔ اس نے سیٹ پر چڑھ کر بلی کو پکڑنا چاہا تو بلی اپنے دونوں پنجے اٹھا کر ایک بار پھر اس پر حملہ آور ہوئ لیکن اس نے اسے دبوچ لیا اور مکوں اور تھپڑوں سے اسے مارنے لگا ۔ بلی ایکدم بےجان ہو گئ۔ اس نے قہقہہ لگاتے ہوئے بلی کے مردہ جسم کو گھما کر دروازے سے باہر پھینکنا چاہا تو بلی پھر سے زندہ ہو گئ ۔ وہ ایک دم جھٹکا کھا کر ٹرین سے باہر جا گرا۔ کالی بلی اچھلتے ہوئے اوپر والی برتھ پر جا بیٹھی ۔
کیدار جو کہ دروازے کے باہر پائیدان پکڑ کر کھڑا
ہوا تھا اندر آ گیا ۔
" کیدار اسے پکڑو مارو اسے یہ وہی منحوس چڑیل ہے "
کیدار نے جھپٹ کر اوپر برتھ پر بیٹھی بلی کو پکڑنا چاہا تو وہ چھلانگ لگا کر دوسری برتھ پر پہنچ گئ۔ میں نے سوچا پھر وہی جنگ شروع ہو جائے گی ۔ ٹرین کا اگلا سٹاپ قریب آ رہا تھا وہاں ہمارے پکڑے جانے کا خدشہ تھا ۔ کچھ دیر کے بعد انسپیکٹر کی تلاش شروع ہو جائے گی ہمیں تب تک یہاں سے نکل جانا چاہیے ۔
! میں نے فوراً فیصلہ کیا " کیدار اسے چھوڑو ۔ زنجیر کھینچو! ہم جنگل کے راستے دوسری طرف نکل جاتے ہیں ۔ " یہ حرامذادی اول تو تمہارے ہاتھ نہیں آئے گی اور اگر آ بھی گئ تو مردہ بن جائے گی ۔ ہم اس سے بعد میں نمٹ لیں گے ۔ پہلے پولیس سے بچنے کی کوشش کرو ۔
کیدار میرے حکم کا غلام ہے اس نے جلدی سے زنجیر کھینچ دی ۔
ٹرین رکتے رکتے بھی آدھا میل تک چلتی رہی ۔ میں نے دروازہ کھولا تو سامی مجھ سے پہلے چھلانگ لگا کر باہر نکل گئ ۔ یہ تو معلوم ہو رہا تھا کہ یہ ہمارا پیچھا آسانی سے نہیں چھوڑے گی لیکن ہمیں ابھی پولیس سے بچنا تھا ۔ ہم ٹرین سے اتر کر جنگل میں بھاگنے لگے ۔
میں سامی کو چشم تصور دیکھ رہا تھا اس کی دلیری اور بہادری مجھے اپنا گرویدہ بنا رہی تھی
چھمیا نے اپنی پائل کو چھوا اور مجھ پر نظریں جمائے اپنی کہانی جاری رکھی۔
ہم کہاں جا رہے تھے کدھر جا رہے تھے ہمیں اس سے کوئ غرض نہیں تھی بس ایک خوف تھا جو ہمیں بھگا رہا تھا ۔ ہم جانتے تھے کہ جادو منتر سے پولیس سے نہیں بچا جا سکتا ۔ زیادہ سے زیادہ ہم رکشا کنڈل کر کے بیٹھ جاتے لیکن پولیس کی نظروں سے بچنے کے لیے اس علاقے سے دور ہو جانا بہت ضروری تھا ۔
ہم بھاگتے بھاگتے تھک جاتے تو آہستہ آہستہ چلنے لگتے پھر بھاگنے لگتے ۔ اس دوران ہم نے جب بھی مڑ کر دیکھا سامی کی دو چمکدار آنکھیں ہمارے ساتھ ساتھ بھاگ رہی ہوتیں ۔
وہ سائے کی طرح ہمارے ساتھ لگی ہوئی تھی ہم اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے تھے بھاگتے
بھاگتے پھر نہ جانے ہم کتنی دور نکل آئے تھے آسمان پر صبح کی سپیدی نمودار ہونے لگی تھی ۔
چلتے چلتے قریب ہی ایک بستی نظر آنے لگی ۔ کیدار نے کہا ہمیں بستی میں نہیں آنا چاہیے ۔ اگر ہمیں ڈھونڈتے ہوئے پولیس ادھر آ گئ تو بستی والے قانون کا ساتھ دیں گے ۔
ہم لمبا چکر کاٹ کر بستی سے دور ہو گئے ۔
"مجھے بھوک لگ رہی ہے. تم بھی تھک گئ ہو ۔ ہم کچھ کھا پی کر آرام کریں گے"
کیدار نے لنگڑے فقیر کا بھیس بدلا اور بستی سے کچھ کھانے کے لیے لینے نکل گیا ۔
میں رکشا کنڈل بنا کر بیٹھ گئ۔ بیٹھنے کے تھوڑی دیر بعد نیند سے میری آنکھیں بند ہونے لگیں تومیں وہیں گھاس پر سر سو گئ۔ تقریباً دو گھنٹے گزر چکے تھے ۔میں سوتی رہی کیدار آم کا اچار اور سوکھی روٹیاں لے کر آ گیا ۔ ہم ابھی کھا ہی رہے تھے کہ دور سے ایک پولیس انسپکٹر اور چار سپاہی کچھ لوگوں کے ساتھ ادھر آتے دکھائی دیے ۔ رکشا کنڈل کی وجہ سے وہ ہمیں نہیں دیکھ پا رہے تھے ۔ لیکن ہم انہیں اچھی طرح دیکھ رہے تھے ۔ ہمارے قریب سے گزرتے ہوئے انسپیکٹر ساتھ چلتے ایک آدمی سے بولا "تم تو کہتے تھے ادھر ایک لنگڑا فقیر گیا تھا یہاں تو کوئ نہیں ۔
آدمی بولا ، " حضور میں نے ادھر ایک لنگڑا فقیر دیکھا تھا ۔ ہو سکتا ہے وہ دوسری طرف نکل گیا ہو آیئے ادھر دیکھتے ہیں
وہ باتیں کرتے ہوئے دور نکل گئے ہم نے کھانا کھایا ۔ اور شام ہونے تک ادھر ہی سو گئے ۔
شام ہوتے ہی میں نے کیدار کو جگایا ۔ ہم رکشہ کنڈل سے باہر آ گئے ۔ اسی وقت سامی کہیں سے اچھل کر میرے سامنے آ گئ اور غرانے لگی جیسے کہہ رہی ہو مجھ سے بچ کر کدھر جاؤ گے ۔ میں قبر تک تمہارا پیچھا کروں گی ۔
میں نے کیدار سے کہا " اسے پکڑ لو اور اتنا مارو کہ یہ واقعی مر جائے منحوس کیسے سائے کی طرح پیچھے لگی ہے "
کیدار اسے پکڑنے کے لیے بھاگا تو وہ اگے لگ کر بھاگنے لگی ۔ جنگل میں اچھل کود شروع ہو گئی ۔ کیدار پیچھے پیچھے اور وہ آگے آگے بھاگ رہی تھی ۔ کبھی درخت پر چڑھ جاتی کبھی کسی جھاڑی کے پیچھے چھپ جاتی ۔ ایک گھنٹے بعد کیدار ہانپتا ہوا بیٹھ گیا ۔ " رہنے دو یہ ویسے بھی مرنے کا ناٹک کر لے گی ہم اسے نہیں پکڑ سکتے"
"مر جائے تو زمین میں گاڑ دینا میں بھی دیکھوں وہاں سے کیسے نکلتی ہے " میں نے سامی کو گالی دی
اتنے میں ایک ہرنی کہیں سے بھاگتی ہوئی آئ اور آگے نکل گئ ۔ اس کے پیچھے کچھ گھڑ سوار گھوڑے دوڑاتے ہوئے ادھر آ نکلے۔ ۔ ہمیں درخت
کے نیچے بیٹھا دیکھ کر وہ سب رک گئے ۔
وہ تعداد میں گیارہ تھے ۔ان میں سے دس نے وردیاں پہن رکھی تھیں لیکن وہ پولیس کی وردیاں نہیں تھیں ۔ وہ کسی اسٹیٹ کے سپاہی تھے ۔ ان میں سے ایک ادھیڑ عمر کا آدمی سفید گھوڑے پر سوار سب سے آگے گردن اکڑائے کھڑا تھا ۔ وہ مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے مسلسل میرے جسم کو ٹٹول رہا تھا ۔
ان میں سے ایک سپاہی نے ہوائ فائر کرتے ہوئے اونچی آواز میں کہا تم دونوں امنارا کے مہاراج ادھیراج راجپت رائے کے چرنوں میں ہو۔ اپنے سروں کو جھکا لو
ہم نے سر جھکا کر پرنام کے لیے ہاتھ جوڑ دیے ۔
راجپت رائے نے اپنی رائفل سپاہی کی طرف پھینکی اور گھوڑے کو ایڑ لگا کر سیدھا کیدرا کی طرف آیا جیسے اسے روند ڈالے گا ۔ کیدار لڑکھڑا کر پیچھے ہٹا اور دور ہونے لگا ۔ وہ پھر سرپٹ گھوڑا دوڑاتے ہوئے اس کی طرف آیا اور اس کے گرد چکر کاٹنے لگا ۔ اس کے سپاہیوں نے کیدار کو گھیرے میں لے لیا ۔ ان کا مقصد کیدار کو مجھ سے دور کرنا تھا ۔
میں تنہا کھڑی رہ گئ۔ بلی مجھ سے کچھ فاصلے پر پتھر پر بیٹھی خاموشی سے دیکھ رہی تھی ۔
میرے پیچھے جا کر راجپت نے میری ساڑھی کے آنچل کو پکڑ لیا اور اسے ہاتھ میں لے کر میرے گرد طواف کرنے لگا ۔ پہلے نصف چکر میں میرے سینے سے ساڑھی ہٹ گئ۔ میں نے سینے کو چھپانے کے لیے اپنے ہاتھوں کی قینچی بنا لی مگر اس نے غصے سے ہاتھ جھٹک کر مجھے منع کیا ۔ میں نے حکم کی تعمیل کی ۔ پھر وہ ساڑھی کا پلو ہاتھ میں لیے گھوڑے کو میرے گرد گھمانے لگا ۔ ہر چکر پر ساڑھی کا ایک گھیر کھل جاتا ۔
مہابھارت دہرائ جا رہی تھی ۔ کورو کے ہاتھوں دروپدی کی ساڑھی کے پیچ کھل رہے تھے ۔ اور یہ سب کچھ مجھے اچھا لگ رہا تھا ۔ اگر میں اپنے بوڑھے جسم میں ہوتی تو راجپت رائے مجھ پر تھوک کر گزر جاتا مگر اب وہ پروانے کی طرح میرے جوان جسم کا طواف کر رہا تھا ۔ میرے جسم پر ریشم کا لہنگا اور بلاؤز رہ گیا ۔
" راجپت رائے شکار گاہ سے کبھی خالی ہاتھ نہیں جاتا ۔ اس ہرنی کو ہمارے راج محل پہنچا دو "
یہ کہہ کر اس نے گھوڑے کی باگ موڑ لی۔ میں نے جلدی سے کہا
" مہاراج میری ایک پراتھنا ہے "
اس نے پلٹ کر میری طرف دیکھا
"میرے ساتھی کو میرے ساتھ رہنے کی اجازت دی جائے وہ میرا بھائی ہے " میں نے اسے بھائ کہہ دیا تاکہ اس کے دل میں کوئ شک نہ ہو
میرا وہ جھوٹ کام آ گیا ۔ راجپت رائے نے حکم دیا کہ کیدار بھی میرے ساتھ محل میں جائے گا ۔
ہم دونوں سپاہیوں کے درمیان پیدل چلنے لگے سامی بھی پیچھے آ رہی تھی ۔
کیدار نے آہستہ سے کہا
" میرا خیال ہے کہ راجہ تمہارے جسم سے نہیں کھیل سکے گا"
مجھے معلوم تھا کہ وہ سامی کی وجہ سے کہہ رہا ۔
میں نے کیدار پر ظاہر نہیں ہونے دیا کہ میرا دل راجہ کی سیج کے لیے بے چین ہے ۔ میرے لیے چاہے وہ کوئ راجہ ہو یا کیدار جیسا فقیر مجھے اپنے اندر کی آگ بجھانی تھی ۔ جو اس حرافہ کی موجودگی میں ممکن نہیں ہو پا رہا تھا ۔
میں نے کیدار کو غصے سے گھورا ، " تم گدھے کے گدھے رہو گے ۔ ہمارے پاس صرف ایک ہی راستہ ہے کہ راجہ کو خوش کیا جائے ورنہ انکار کی صورت میں وہ ہماری موت کا حکم بھی دے سکتا ہے ۔ میں تو نکل جاؤں گی تمہارا کیا ہوگا "
کیدار اپنے سر پر ہاتھ مار کر بولا " میرا دماغ بھی کیسا پتھر کا ہے ۔ میں اب تک سامی کو ہماری نجات کا ذریعہ سمجھ رہا تھا لیکن یہ تو مصیبت بن گئ ہے "
میں سامی کے حسین لبوں سے چھمیا کی کہانی سن رہا تھا چھمیا میرے خیالات سے بےنیاز بولتی جا رہی تھی
اس دنیا میں میں نے ستر برس گزانے کے بعد کسی محل کو اندر سے دیکھا یہ سامی کے جسم کا احسان تھا کہ میں اس مقام تک پہنچ گئ تھی اور حیرت سے محل کی شان و شوکت کو دیکھ رہی تھی ۔
اسی خوشی میں ، میں نے کالی بلی پر توجہ نہیں دی کہ وہ محل میں آنے کے بعد کہاں چلی گئ ۔ کیدار کو بھی مجھ سے الگ رکھا گیا ۔
اس وقت میں اپنے آپ میں گم تھی اور خود کو کوئ مہارانی سمجھ رہی تھی ۔ چار داسیوں نے مجھے حوض کے صاف و شفاف پانی سے اشنان کرایا اور ایسا باریک ریشمی لباس پہنایا جس میں سے بدن چھپ چھپ کر اشارے کرتا ہے ۔ پھر ایک بڑے سے آیئنے کے سامنے میرے بال بنائے خوب سنگھار کیا ، میرے حسن و شباب کو شراب دو آتشہ بنا دیا ۔ پھر مجھے خوشبوؤں میں بسا کر راجہ صاحب کی خوابگاہ میں چھوڑ دیا گیا ۔
راجہ صاحب ابھی نہیں آئے تھے ۔ دو داسیاں اسی کمرے میں میرے لیے کھانے کا تھال پروس رہی تھیں ۔ اسی وقت ایک داسی نے خبر دی کہ رانی جی پدھار رہی ہیں ۔ میں گھبرا کر دروازے کی طرف دیکھنے لگی ۔ رانی جی غصے سے تنتناتی ہوئ کمرے میں داخل ہوئیں لیکن مجھ پر نظر پڑتے ہی ٹھٹھک گئیں جیسے اتنی سندرتا پر یقین نہ آیا ہو ۔
وہ مجھے بےنقط گالیاں دیتے ہوئے سوال کرتی جا رہی تھیں ۔ میں کون ہوں کدھر سے آئ ہوں۔
وہ اتنی غصے میں تھی کہ راجہ کا حکم نہ ہوتا تو وہ مجھے ق ت ل کر دیتی ۔
میں نے عاجزی سے کہا میں مجبور اور بےبس ہوں ذبردستی لائ گئ ہوں ۔ اگر مجھے زندہ سلامت یہاں سے نکلنے کا موقع ملے تو میں ابھی اسی وقت چلی جاؤں ۔
اتنا تو وہ بھی سمجھتی تھیں کہ یہاں کوئ لڑکی اپنی مرضی سے نہیں آتی بلکہ راجہ کی ذبردستی سے لائ جاتی ہیں ۔
وہ کہنے لگی " اگر زندہ رہنا چاہتی ہو تو راجہ کو خوب پلانا اتنی کہ وہ بےسدھ ہو جائے ۔ میں تمہیں یہاں سے نکال کر لے جاؤں گی "
یہ کہہ کر وہ چلی گئ ۔ میں سوچنے لگی کہ مجھے کیا کرنا چاہیے ۔ اگر راجہ میرا دیوانہ بن جائے تو میں اس مغرور رانی کی جگہ لے سکتی ہوں پھر میری ساری زندگی عیش میں گزرے گی ۔ ورنہ تو پولیس میرے پیچھے لگی رہے گی ۔ میں نے فیصلہ کیا کہ مہارانی کی بات ہر گز نہ مانوں گی
میں کھانے سے فارغ ہوئ تو ایک داسی شراب کی بوتلیں اور گلاس لے آئ اسی وقت راجہ صاحب اندر آ گئے ۔
انہوں نے پلٹ کر دروازا بند کر دیا ۔ وہ مجھے ایسے دیکھ رہے تھے جیسے بن پیے نشے میں آ گئے ہوں ۔ میری طرف بڑھتے ہوئے نشیلے لہجے میں بولے
" میری سیج پر کتنی ہی کلیاں کھل چکی ہیں لیکن ایسی منہ بند کلی پہلی بار دیکھ رہا ہوں جسے دیکھتے ہی شراب کا نشہ بھول گیا ۔ جو رس تم میں ہے وہ اس شراب کی صراحی میں نہیں ہے "
وہ میرے ایکدم قریب آ گئے ۔ اسی وقت میں نے بلی کی غراہٹ سنی اور گھبرا کر پیچھے ہٹ گئ ۔ میں ان سے کہنا چاہتی تھی کہ خطرہ ہے میرے قریب نہ آیئں ۔
چھمیا نے اپنی کہانی سناتے ہوئے میری طرف دیکھا
میں سامی کی عجیب محبت میں گرفتار ہوچکا تھا ۔
اس کی ذہانت اور جرات مندی کا جادو چھمیا کے منتروں سے کہیں زیادہ طاقتور تھا
"پھر آگے بولو "
میں نے چھمیا کو چپ دیکھ کر کہا
وہ کہنے لگی
میں نے راجا کو روکنے کی کوشش کی
مگر انہوں نے اپنے تجربے کے مطابق سوچا کہ لڑکی پہلی بار ایسے ہی پیچھے ہٹتی ہے ، شرماتی ہے ، اپنا بدن چراتی ہے پھر خود کو ان کے حوالے کر دیتی ہے ۔ یہی سوچ کر انہوں نے مجھے پکڑ لیا لیکن ان کا بھی وہی حشر ہوا ۔ بلی روشندان سے چھلانگ لگا کر ان کی طرف آئ اور گردن پر پنجہ مارتی ہوی پلنگ پر جا کر بیٹھ گئ ۔ راجہ صاحب غصے سے پاگل ہو گئے ۔ ایسے نازک موقعے پر کوئ مکھی بھی پر نہیں مار سکتی تھی اور وہ بلی انہیں پنجہ مار کر مزے سے ان کے بستر پر بیٹھی تھی ۔
انہوں نے چیخ کر کہا ، " نکالو اسے ۔۔۔ کہاں سے آ گئ یہ بلی"
ان کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی اس نے دوبارا حملہ کیا اور ان کے چہرے کو نوچتی ہوئ فرش پر بیٹھ گئ ۔
راجہ غصے سے پاگل ہو گیا ۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایک بلی دشمن کی طرح حملہ کرے گی ۔ اس نے گلاس اٹھا کر اسے دے مارا ۔ بلی اچھل کر پیچھے ہٹ گئ ۔ راجہ نے اپنا نشانہ خطا ہوتے دیکھ کر بوتلیں اور گلاس اٹھا اٹھا کر اسے مارنے شروع کر دیے ۔ بلی ادھر ادھر بھاگ رہی تھی اور کمرے کا فرش شیشوں سے بھر گیا ۔
سپاہی دروازے پر مسلسل دستک دے رہے تھے ۔ راجہ نے جھنجھلا کر دروازہ کھولا اور کہا " پکڑو اس کمبخت بلی کو اور مار ڈالو "
سپاہی اسے چاروں طرف سے گھیرنے لگے ۔
میں نے کہا ، " راجہ صاحب یہ بلی نہیں ہے چڑیل ہے یہ ہر وقت میرا پیچھا کرتی ہے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کروا دیں اور محل میں کسی جانور کو نہ آنے دیں "
بلی ان کی گرفت میں آ گئ ۔ وہ اسے لے کر باہر چلے گئے ۔ داسیاں مزید شراب کی بوتلیں لے کر آ گیئں کچھ داسیاں قالین سے شیشے کے ٹکڑے چن رہی تھیں ۔ راجہ نے دھاڑ کر کہا
"جاؤ سب یہاں سے نکل جاؤ"
ساری داسیاں کمرے سے چلی گیئں ۔
" دروازا بند کر دو اور آ کر مجھے اپنے ہاتھوں سے شراب پلاؤ"
میں نے دروازا بند کر کے ان کی طرف بڑھتے ہوئے کہا
رانی جی نے کہا ہے کہ میں آپ کو شراب پلا کر مدہوش کر دوں اگر میں نے ایسا نہ کیا تو وہ مجھے مار ڈالیں گی "
" کیا لکشمی یہاں آئ تھی "
انہوں نے گلاس پٹخ دیا " میں اسے شوٹ کر دوں گا"
راجہ نے شراب کا دوسرا گلاس منہ کو لگاتے ہوئے کہا " اس کی یہ مجال ۔ وہ حد سے بڑھ گئ ہے ۔ مجھ سے بھی لڑتی ہے ۔ میں راجہ ہوں وہ مجھ سے بھی کہہ رہی تھی کہ تجھے یہاں سے نکال دوں ورنہ مجھے ق ت ل کر دے گی ۔ ہاہاہاہا بھلا اس کے باپ نے بھی کسی کو ق ت ل کیا ہے " راجہ نے شراب کا تیسرا گلاس پیا
وہ اب نشے میں جھوم رہا تھا ۔ اتنے میں باہر سے رانی کے تیز تیز بولنے کی آوازیں آنے لگیں
" ہٹو سامنے سے میں یہاں کی رانی ہوں تم
مجھے نہیں روک سکتے " تم سب یہاں سے جاؤ
اور جب تک میں نہ کہوں یہاں مت آنا پھر سپاہیوں کے قدموں کی دور ہوتی ہوئ آواز ختم ہو گئ
ساتھ ہی دروازے پیٹنے کی آواز نے راجہ کو آپے سے باہر کر دیا ۔ وہ غرایا" چلی جاؤ لکشمی ورنہ میں تمہیں وہ سبق سکھاؤں گا کہ تم ساری عمر یاد رکھو گی
یہ کہتے ہوئے وہ لہرا کر آگے بڑھا اور دروازہ کھول دیا ۔
رانی اسے دھکیل کر اندر آ گئ ۔
اس کے ہاتھ میں کوئ خنجر نما چیز تھی جسے اس نے راجہ کے پیٹ میں بھونپ دیا۔
میں چیختے ہوئے سائیڈ پر ہو گئ ۔ رانی نے کھپٹ کر دروازا بند کر دیا ۔ خنجر سے اپنی انگلیوں کے نشانات مٹائے اور میرے قدموں میں پھینک دیا کر بولی، " نکلو اب یہاں سے چلو میرے ساتھ"
میرے پاس رانی کی بات ماننے کے علاؤہ کوئ راستہ نہیں تھا ورنہ مجھ پر ایک اور ق ت ل کا الزام لگ سکتا تھا ۔
ہم باہر نکلے تو رانی نے باہر سے کمرے کا دروازا بند کر دیا ۔ سامنے سے آتے سپاہی جھک کر پرنام کرنے لگے ۔ رانی نے تحمکانہ میں کہا ، " راجہ صاحب سو رہے ہیں انہوں نے بہت زیادہ پی لی تھی ۔ میں نے کمرے کا دروازا باہر سے بند کر دیا ہے ۔ تم دونوں کی ڈیوٹی ہے کہ صبح تک کسی کو کمرے کے اندر نہ جانے دینا " وہ سر ہلاتے کمرے کے باہر کھڑے ہو گئے ۔
رانی جی مجھے اپنے کمرے میں لے آئیں اور میرے جسم پر باریک ریشم کا لباس دیکھ کر بولیں " اونہہ مردوں کو اپنے حسن و شباب سے دیوانہ کرنے والی حرامذادی ادھر سے میری ایک ساڑھی پہن اور اس لباس کو اتار دے"
میں چپ چاپ رانی کی گالیاں سنتی ہوئ رانی کی ایک ساڑھی نکال کر پہننے لگی ۔ میں چاہتی تو جادو کے زور اسے بھسم کر سکتی تھی لیکن میں صبر سے برداشت کر رہی تھی کیونکہ
یہی وہ عورت تھی جو مجھے اس محل سے باہر لے جا سکتی تھی ۔ میں نے منت بھرے انداز میں کہا
"رانی جی میرا ایک ساتھی بھی ہے ۔ بڑی مہربانی ہوگی اسے میرے ساتھ کر دیں "
وہ نخوت سے بولی" پتا ہے مجھے تیرے جیسی چھنال اپنے یار کے بغیر نہیں رہ سکتی وہ باہر انتظار کر رہا ہے تو میرے ساتھ آ "
ہم باہر نکلے تو کیدار گاڑی میں بیٹھا انتظار کر رہا تھا ۔ میرے بیٹھنے کے بعد رانی جی گھوم کر گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیئں ۔
میں نے پوچھا رانی جی آپ ہمارے ساتھ جائیں گی ؟
کہنے لگیں میں نے راجہ کا ق ت ل کیا ہے اب میں بھی تمہارے ساتھ جاؤں گی ۔ واقعی میں نے یہ سوچا ہی نہیں کہ رانی کے لیے محل میں بڑی مصیبت ہو گئ تھی ۔ میں کیدار کو بتانے لگی کہ کس طرح رانی جی نے اپنی جان پر کھیل کر ہماری مدد کی ہے ۔ وہ عاجزی سے ہاتھ جوڑ کر بولا ، " رانی جی ہم آپ کا یہ احسان کبھی نہیں بھولیں گے "
کار تیزی سے آگے بڑھتی جا رہی تھی ۔ مجھے اچانک سامی کا خیال آیا ۔ کیا تم نے کسی کالی بلی کو محل میں دیکھا ؟
میں نے مڑ کر کیدار سے اشاروں میں پوچھا ۔
" نہیں وہ مجھے نظر نہیں آئ ۔ چلو اچھا ہے اس سے پیچھا چھوٹا"
کیا تم لوگ کالی بلی سے ڈرتے ہو ؟ رانی جی نے مسکرا کر پوچھا ۔
"نہیں رانی جی وہ بلی نہیں ہے چڑیل ہے ۔ اس نے ہماری زندگی اجیرن کر رکھی ہے " میں نے ادب سے رانی جی کی طرف دیکھا ۔ آخر وہ میری محسن تھی ۔
رانی جی تیزی سے کار چلا رہی تھیں ۔ کیدار کہنے لگا "اب ہم کہاں جائیں گے؟"ہاں ہمارا تو کوئ ٹھکانہ نہیں ہے" میں نے رانی جی سے کہا
رانی قہقہہ لگا کر ہنس پڑیں " "ہاں ہم تینوں کا اب کوئ ٹھکانہ نہیں ہے ۔ میں راجہ راجپت کی قاتل اور تم دونوں انسپیکٹر کے قاتل"
میں نے حیران ہو کر کہا" آپ کیسے جانتی ہیں کہ ہم ۔۔۔۔"
وہ میری بات کاٹ کر چبھتے ہوئے لہجے میں بولیں " تیرا کچا چٹھا میں نہیں جانوں گی تو اور کون جانے گا ۔ اب تو ہمارا جنم جنم کا ساتھ ہے بوڑھی چھمیا کیا تم نے اپنی پیاری اکلوتی کالی بلی کو نہیں پہچانا "
تت ۔۔۔ تم سامی ہو ؟
میں نے حیران پریشان ہو کر اسے دیکھا ۔ میرے سامنے منارا کی رانی لکشمی بائی گاڑی چلا رہی تھی اور اس کے اندر سامی کی روح بول رہی تھی ۔
مجھے راجہ کے سپاہی زندہ دفن کرنے کے لیے باہر لے گئے تھے جب وہ میرے اوپر مٹی ڈالنے لگے تو میں بلی کا جسم چھوڑ کر محل میں چلی آئ ۔ رانی کے کمرے کے سامنے سے گزرتے ہوئے میں نے سنا کہ رانی تیزاب کی بوتل ہاتھ میں لیے اپنی داسیوں سے کہہ رہی تھی میں اس فاحشہ عورت کے چہرے پر تیزاب گرا دوں گی جس نے میری سلطنت میں پاؤں رکھنے کی جرات کی ہے ۔
یعنی وہ میرے چہرے پر تیزاب پھینک دیتی ۔ یہ میں کیسے برداشت کر سکتی تھی ۔ میں اپنے جسم کو دوبارا حاصل کر ہی لوں گی میں اسے کسی صورت نقصان نہیں پہچنے دے سکتی ۔ میں نے تمہارے سکھائے ہوئے منتر سے رانی کی روح اس کے جسم سے جدا کر دی ۔ وہ ایکدم فرش پر ڈھیر ہو گئی تو میں نے جلدی سے اس کے جسم پر قبضہ کر لیا ۔ داسیاں گھبرا کر مجھے ہلانے لگیں تو میں اٹھ کھڑی ہوئی اور ان سے کہہ دیا کہ ذرا سا چکر آ گیا تھا ۔ اس کے بعد میں نے ان سے کہا مجھے ایک خنجر لا دو اب میں اس پر تیزاب نہیں پھینکوں گی ۔ میں نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ میری گاڑی گیٹ پر لے آؤ اور اس نوجوان قیدی کو کار میں بٹھا دو یہ میرا حکم ہے ۔ پھر جو کچھ ہوا وہ تمہیں معلوم ہے "
میں نے دانت پیستے ہوئے سامی کی طرف دیکھا ۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ میں اس بدروح سے کیسے پیچھا چھڑاوں ۔ کیدار نے پیچھے سے اس کی گردن دبوچ لی " چھمیا میں اسے مار ڈالوں گا اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے چیل کووں کو کھلا دوں گا ۔ تم دیکھنا اس کا نام و نشان بھی نہیں ملے گا "
وہ ہسنے لگی " بےوقوف کار کا سٹیرنگ میرے ہاتھ میں ہے کار کہیں ٹکرا گئ تو سب سے پہلے تو مرے گا میں تو نکل جاؤں گی ۔ "
میں کیدار کو گھرکا " چھوڑ دے اسے یہ ایسے قابو نہیں آئے گی اس کا کوئ اور علاج سوچنا پڑے گا "
میں نے بل کھاتے ہوئے کہا " تو ضدی ہے تو میں بھی ضدی ہوں مجھے دلی پہچنے دے پھر میں تیرا وہ حشر کروں گی کہ تو پناہ مانگے گی "
وہ ہنستی ہوئی بولی ،" دلی دور ہے میں تجھے ناگ پور لے جا رہی ہوں ۔ میرے ڈیڈی کمشنر ہیں وہاں میں پولیس کے سامنے ثابت کروں گی کہ تو ایک دھوکے باز مکار جادوگرنی ہے اور تو نے سامی پوکر کے جسم پر جادو کے زور قبضہ کر رکھا ہے "
میں پریشانی سے اسے دیکھ رہی تھی ۔ گاڑی ناگپور کی طرف بھاگ رہی تھی کہ ایکدم جھٹکے کھا کر رک گئ ۔ کیدار فوراً نیچے اترا اور فیول ٹینک دیکھتے ہی گاڑی کی طرف آیا ۔
سامی کو اندازہ ہو گیا تھا کہ فیول ختم ہو چکا ہے ۔ وہ اس کے پاس آنے سے پہلے گاڑی سے اتر کر بھاگی ۔ میں اور کیدار سرپٹ اس کے پیچھے بھاگے ۔
اب صورتحال یہ تھی کہ رانی لکشمی جو کہ سامی تھی ہمارے آگے آگے جنگل میں بھاگ رہی تھی اس کے پیچھے کیدار اور پھر میں اسے پکڑنے کی کوشش کر رہے تھے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے کیدار اور وہ کافی آگے نکل گئے ۔ میں ان کے پیچھے ان کے قدموں کی آہٹ پر اندازے سے بھاگی چلی آ رہی تھی کہ کیدار کی چیخ سنائ دی ۔ میں نے آواز کی سمت دوڑ لگا دی ۔ کچھ دور کیدار سر پکڑ کر زمین پر گرا ہوا تھا ۔ اس کے پیچھے سامی درخت کی ایک موٹی سی شاخ پکڑے اسے آدھ موا کر رہی تھی ۔ میں نے بھاگ کر سامی کو پیچھے سے پکڑ لیا ۔ اب ہم دونوں گتھم گتھا ہو گئے ۔ وہ مجھے زیر کرنے کی کوشش کر رہی تھی اور میں اسے ضربیں لگا رہی تھی ۔ بڑی عجیب بات تھی کہ وہ میرے چہرے پر وار نہیں کر رہی تھی جبکہ میں اس کا چہرہ نوچ رہی تھی اس کو رگید رہی تھی ۔ اچانک ہم تینوں نے قریب ہی ایک بلی کی آواز سنی ۔ شاید کسی بستی سے ادھر آ نکلی تھی ۔میں نے سامی کی آنکھوں میں دیکھا جو عجیب طرح سے مسکرا رہی تھیں ۔
اسی دوران کیدار بھی میدان میں آ گیا ۔ ہم دونوں نے پکڑ کر اسے بےبس کر دیا۔ جونہی کیدار نے درخت کی ٹہنی اٹھا کر اسے مارنا چاہا تو وہ رانی کے جسم سے نکل گئ ۔ رانی لکشمی کا بےجان وجود ہماری گرفت میں ڈھیلا پڑ گیا ۔
ہمیں کہیں کوئ بلی نظر نہ آئی ۔ رات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی ۔ پورے چاند نے ہر چیز کو دودھیا روشنی سے نہلا دیا تھا ۔ ہمارے سامنے رانی لکشمی مردہ پڑی تھی ۔ کیدار نے پتھر لے کر اس کا چہرہ مسخ کر دیا ۔
" وہ بلی کہاں ہے" میں نے اس کی تلاش میں ادھر ادھر نگاہیں دوڑائیں ۔ دور دور تک پرسرار سناٹا چھایا ہوا تھا ۔
ہم دونوں سڑک کی طرف چلنے لگے ۔ ہماری منزل دلی میں میرا پرانا گرو مہاراج تھا ۔ وہ بہت اعلیٰ پائے کا جادوگر تھا ۔ میں نے سارے جنتر منتر اسی سے سیکھے ہیں ۔ اس نے کئی سال مجھے اپنی رکھیل بنائے رکھا ۔
مجھ پر ترس کھا کر کچھ منتر سکھا دیتا ۔ یہ جسم سے روح نکال کر دوسرے جسم میں منتقل کرنا بھی میں نے اسی سے سیکھا تھا ۔ پھر وہ بڈھا ہو گیا ۔ مجھ میں اس کی دلچسپی ختم ہو گئ تو میں کیدار کے ساتھ وہاں سے نکل آئ ۔
میری آخری امید گرو مہاراج تھا وہی مجھے سامی کی روح سے نجات دلا سکتا تھا ۔
ہم ریلوے اسٹیشن کی طرف چلنے لگے ۔ چلتے چلتے مجھے اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تو اچانک میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا ۔ دو چمکدار آنکھیں مجھے گھور رہی تھیں ۔ سامی بلی کے جسم میں ہمارے پیچھے بھاگی چلی آ رہی تھی ۔
اسٹیشن پہنچ کر ہم اگلی آنے والی ریل میں سوار ہو گئے مگر سامی ہم سے پہلے اچھل کر اسی ڈبے میں چڑھ گئ۔
میں نے اس حقیقت کو تسلیم کر لیا تھا کہ سامی سے پیچھا چھڑانے کے لیے مجھے جادو کی کوی اور سیڑھی چڑھنی پڑے گی ۔
ہم تینوں ساتھ ساتھ دلی میں گرو مہاراج کے ٹھکانے پہنچے ۔
میں سامی کے جسم میں گرو مہاراج کے کمرے میں داخل ہوئ ۔ کیدار نے سامی کا رستہ روکے رکھا تھا ۔ میں نے گرو کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ۔
وہ بڈھا ہو چکا تھا
لیکن اسکی یاداشت کسی نوجوان کی طرح تر وتازہ تھی ۔ مجھے دیکھتے ہی اس کے لب پر ایک مضمحل سی مسکراہٹ آ گئی ۔ گھاگ جادوگر تھا وہ سامی کے حسین جسم کے پیچھے چھمیا کو ایک پل میں پہچان گیا ۔
کہو چھمیا کہاں سے پا لیا ہے یہ حسن و جمال کا پیکر ۔
میں نے اس کے پیر پکڑ لیے " گرو مہاراج میں تمہاری داسی ہوں مجھے بچا لو خدا کے لیے"
میں نے الف سے لے کر ی تک پوری داستان اسے سنا ڈالی ۔
وہ دلچسپی سے سنتا رہا ۔ میں خاموش ہوئ تو ہنکارا بھر کے بولا "تیری اس گھنی سمسیا کا ایک ہی توڑ ہے ۔ تجھے کسی نوجوان دوشیزہ یا کسی جوان مرد کا خون ہی بچا سکتا ہے ۔"
میری آنکھیں چمک اٹھیں " گرو مہاراج تو جو کہے گا میں وہ کرنے کو تیار ہوں تو ایک بار اس منحوس بلی سے میری جان چھڑا دے "
گر مہاراج کچھ دیر میری طرف دیکھتا رہا پھر بولا
ہمم ۔۔۔۔۔
ایک منتر ایسا ہے جس سے تمہیں مکتی مل جائے گی
مہاراج یہ کونسا منتر ہے خدا کے لیے مجھے دان کر دو
تریا چلتر
تریا چلتر سے تم ہمیشہ کے لیے سامی کی روح سےمکتی پا لوگی
میں گرو مہاراج کے سامنے ہاتھ جوڑ کر دو زانو
بیٹھ گئ اور وہ مجھے منتر سمجھانے لگا ۔
چالیس دن تک رکشا کنڈل میں اس منتر کو پڑھنے کے بعداگلے دن آدھی رات کے بعد سامی
خودبخود اس رکشا کنڈل میں آ جائے گی
اور آج چالیس دن پورے ہو چکے ہیں مجھے اس کا انتظار ہے
اور اس وقت تمہاری گردن پر چھری رکھ کر تمہارے خون کو اس پر چھڑک دینا ہے
میں اور سامی آج کی محفل کے مہمان تھے میں
جان گیا تھا کہ سامی اور میں ایک دوسرے کو بچا سکتے تھے ۔ میرے دل میں ہلکی ہلکی امید جگمگانے لگی تھی
پتا نہیں کیوں سامی کی ذہانت اور دلیری پر میرا دل سو جان سے فریفتہ ہو گیا تھا
میں کچھ یوں سوچ رہا تھا کہ یا تو خود کو بچانے کے لئے سامی کا سہارا لوں گا یا عادت کے مطابق سامی اپنے آپ کو بچانے کے لیے میرا سہارا لے گی ۔ ایسے وقت ہم ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم بن جائیں گے ۔ میں آنکھیں بند کیے سوچ رہا تھا کہ ہم کس طرح ایک دوسرے کے کام آ سکتے ہیں ۔ اسی وقت چھمیا نے میرے بازو کو جھنجھوڑ کر پوچھا
"کیا سو گئے ہو ؟"
میں آنکھیں کھول کر مسکرایا
"نہیں میں سامی کے متعلق سوچ رہا ہوں ۔ وہ جس طرح اب تک تمہیں چرکے لگاتی آئ ہے آج بھی وہ ضرور گڑبڑ کرے گی ۔ میں رسیوں سے بندھا ہوا ہوں کیدار میری بےبسی کا فائدہ اٹھا کر مجھے رکشا کنڈل میں گھسیٹ کر لے جائے گی لیکن سامی وہاں نہیں آئے گی "
وہ قہقہے لگانے لگی۔ میرے سامنے سامی کا خوبصورت بدن چھمیا کی زہریلی ہسی کی تال پر تھرک رہا تھا ۔
" میرے منتر اسے رکشا کنڈل میں کھینچ کر لائیں گے ۔ جب وہ رکشا کنڈل کے قریب آئے گی تو میں منتر پڑھنے میں غلطی نہیں کروں گی میں کیدار نہیں ہوں کہ منتروں کا الٹ پھیر بھول جاؤں ۔ آج اس کا آخری دن ہے "
تو کیا تمہارے چلے کے چالیس دن پورے ہو گئے ہیں؟
"ہاں چالیس دن تو دلی میں ہی پورے ہو گئے تھے اور سامی کی روح بلی میں قید ہو گئ تھی لیکن ایک روز سامی نے عجیب گڑبڑ کر دی"
چھمیا نے میرے پاس سے اٹھ کر دیوار سے ٹیک لگا لی۔
" ہوا یوں کہ جاپ پورا کرنے کے لیے ہم دلی میں محلہ گھانسی رام میں ایک مکان کرائے پر لے کر رہنے لگے ۔ سامی اپنی عادت کے مطابق ہر وقت ہمارے ساتھ سائے کی طرح لگی رہتی ۔ شاید وہ یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ ہم یہاں کیوں رہ رہے ہیں ۔
ایک بار میں اسے گود میں اٹھا کر پرچون کی دوکان پر کچھ لینے گئ۔ وہاں اور بھی گاہک کھڑے تھے ۔ ایک گاہک نے دوکاندار کو اٹھنی دی اس نے لے کر کاونٹر پر رکھ دی ۔ سامی نے اچانک چھلانگ کر لگائ اور دوکاندار کی گدی پر چڑھ گئ اور اٹھنی پر پنجہ مارنے لگی۔
دوکاندار نے اٹھنی کو غور سے دیکھا تو وہ کھوٹا سکہ تھا ۔
سارے گاہک حیران رہ گئے ۔ ایک گاہک نے کہا کیسی بلی ہے کھرے اور کھوٹے کی پہچان رکھتی ہے ۔
باقی سب کہنے لگے ہو سکتا ہے یہ اتفاق ہو ۔ اس اٹھنی کو سارے سکوں میں ملا دو ۔
دوکاندار نے وہ اٹھنی اٹھا کر باقی سکوں میں مکس کر دی۔
سامی سارے سکوں کو الٹ پلٹ کرنے لگی ۔ پھر کھوٹے سکے کو منہ میں دبا کر سامنے رکھ دیا ۔ تمام لوگ تالیاں بجانے لگے ۔
وہاں ایک پنڈت جی موجود تھے کہنے لگے یہ کسی ناری کا دوسرا جنم ہے ۔ ہو سکتا ہے یہ پچھلے جنم میں ناری ہو اور اس جنم میں اپنے پاپوں کی وجہ سے بلی بنا دی گئ ہو ؟
سامی یہ سن کر غرانے لگی ۔ پنڈت جی ڈر کر پیچھے ہٹ گئے اور وہاں سے رفوچکر ہو گئے ۔
میں اس بات کو کھیل تماشہ سمجھ کر خاموش رہی ۔ مگر مجھے وہ تماشا بہت مہنگا پڑا ۔ ذرا سی دیر میں سامی کی وہ شہرت ہو گئ کہ مرد ، عورتیں اور بچے اسے دیکھنے کے لیے میرے مکان میں آنے لگے ۔
وہ سب بھی یہی سمجھتے تھے کہ سامی پچھلے جنم میں ناری تھی اور اب اپنے پاپوں کے پراشست کے لیے بلی بن چکی ہے ۔ میں عجیب مصیبت میں پھنس چکی تھی ۔ میں انہیں اپنے مکان میں آنے سے روک بھی نہیں سکتی تھی کیونکہ یہ ایک مذہبی معاملہ بن گیا تھا ۔ لوگوں کی بھیڑ رہنے لگی۔
میرے مکان کے سامنے ایک چھوٹا سا ہوٹل تھا وہ خوب چلنے لگا ۔
اگرچہ میرے منتر سے سامی بلی کے جسم میں قید ہو گئ تھی لیکن وہ عجیب و غریب تماشے کرتی رہتی ۔ ایک دن ہوٹل کی میز پر رکھے اخبار پر جا کر بیٹھ گئ اور ایسے دیکھنے لگی جیسے پڑھ رہی ہو ۔
وہ تماشا اتنا دلچسپ تھا کہ لوگوں کا ہجوم دیکھنے کے لیے کھڑا ہوگیا ۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ یہ بلی ایسے ہی تماشے کرتی ہے اور کچھ کا خیال تھا کہ یہ پچھلے جنم میں ایک پڑھی لکھی ناری تھی۔
ہجوم واضح طور پر دو گروپوں میں بٹ گیا ۔
ہوٹل کے مالک نے کہا ٹھہرو ایک طریقہ ہے اس میز پر دس دن کے پرانے اخبار رکھے ہیں ۔ اس نے ایک پرچی بلی کے سامنے رکھی جس پر لکھا تھا
سترہ تاریخ کا اخبار نکالو
میں اور کیدار بےبسی سے دیکھ رہے تھے ۔ مجھے منتر پڑھتے ہوئے اڑتیس دن ہو گئے تھے ۔ صرف دو دن باقی تھے ۔ اور یہ تماشا شروع ہوگیا تھا ۔ میں اس وقت اسے وہاں سے اٹھا کر نہیں لے جا سکتی تھی ورنہ سب لوگ ہمارے پیچھے لگ جاتے اور میرے کئ راز کھل جاتے ۔ سوائے خاموشی کے میرے پاس کوئ راستہ نہ تھا
سامی نے پرچی کو غور سے دیکھا ۔ پھر اخبار الٹ پلٹ کرنے لگی . چار پانچ منٹ کے بعد اور سترہ تاریخ کا اخبار منہ میں دبا کر ہوٹل کے مالک کے سامنے رکھ دیا ۔
سارا مجمہ ششدر رہ گیا ۔ ایک بلی نے ایسا حیران کن کام کیا تھا ۔ وہاں موجود ایک فوٹوگرافر سامی کی تصویریں بنانے لگا
یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح دور دور تک پھیل گئ ۔ میں نے اور کیدار نے فیصلہ کیا کہ آج رات کم اسے کہیں دور جنگل میں لے جائیں گے اور وہاں رکشہ کنڈل بنا کر اپنا جاپ پورا کریں گے ۔ رات کو جب ہوٹل بند ہو گیا تو سناٹا چھا گیا ہم اپنا سامان باندھنے لگے ۔ اتنے میں باہر دستک کی آواز آئ ۔ ساتھ ہی فوجی بوٹوں کی دھمک سنائ دی ۔ میں نے دروازا کھولا تو وہاں فوجی نظر آ رہے تھے ۔ ایک آفیسر اور تین مسلح جوان گھر میں گھس آئے اور اندر آتے ہی پوچھا " بلی کہاں ہے"
میرا کلیجہ دھک سے رہ گیا ۔ میں کوئ بہانہ بنانا چاہتی تھی کہ سامی نے چارپائی کے نیچے سے میاؤں میاؤں کی آوازیں نکالنا شروع کر دیں ۔ میں نے ہونت بھینچ کر دیکھا وہ چارپائی کے نیچے بیٹھی تھی ۔ فوجی جوان نے اسے چارپائی کے نیچے سے نکال لیا ۔۔
"سارے دروازے کھڑکیاں بند کر دو۔"
آفیسر نے حکم دیا
فوجی نے آگے بڑھ کر سارے دروازے کھڑکیاں بند کر دیں۔
"اب وہ فائلیں لاؤ"
تھوڑی دیر بعد وہ جوان ڈھیر ساری فائلیں لے کر آ گیا
آفیسر نے ایک پرچی پر لکھا
" سیکریٹ سروس کی کانفیڈینشل فائل نکال کر دو"
اور اسے آہستگی سے سامی کے سامنے رکھا
اس کے لیے یہ کونسا مشکل کام تھا ۔ تھوڑی دیر کے بعد اس نے فائلوں کے ڈھیر میں جس فائل پر انگریزی زبان میں ایس ایس سی لکھا ہوا تھا، منہ سے پکڑ کر کھینچ لی۔
آفیسر کی آنکھیں کسی خیال سے چمکنے لگیں اس نے سامی کو گود میں اٹھا کر کہا ، شی از پرفیکٹ ان ہر پرفارمینس ۔ یہ ہمارے ساتھ جائے گی ۔ ان دونوں کو حراست میں لے لو "
یہ کہہ کر وہ سامی کو لے کر چلا گیا ۔
حکمِ حاکم مرگ مفاجات ، وہ جو کہہ رہے تھے ہمیں ماننا پڑا ۔
جادو، ٹونا ، منتر عقل کے آگے بے بس ہیں ۔ سامی ہمیں ذہانت سے شکست دے رہی تھی ۔ میرا جاپ ادھورا رہ گیا ۔وہ ہمیں لے کر ایک ایسی عمارت میں آ گئے جہاں فوجیوں کا پہرا تھا ۔
کچھ دیر کے بعد ہمیں ایک سجے سجائے کمرے میں ایک بڑے افسر کے سامنے پیش کیا گیا ۔ وہ شراب پی رہا تھا ۔ سامی سامنے ہی ایک کرسی پر بیٹھی تھی ۔
"وہ مجھ سے سامی کے متعلق طرح طرح کے سوال کرنے لگا ۔
میں نے ہاتھ باندھ کر کہا سرکار ہم سیدھے سادے دیہاتی گنوار لوگ ہیں ۔ اس بلی کی شعبدے بازی سے کچھ پیسے کما لیتے ہیں ۔ "
یہ بلی تمہیں کہاں سے ملی ؟
"سرکار یہ ہم نے محبت میں نہیں رکھی یہ ہماری جان نہیں چھوڑتی ہے ہم تو اسے چھوڑنا چاہتے ہیں ۔ یہ بلی میرے لیے ہر وقت کوی نہ کوی مصیبت کھڑی کیے رکھتی ہے "
کیسی مصیبت ؟
"سرکار یہ کسی مرد کو میرے پاس نہیں آنے دیتی ۔ حتیٰ کہ میرے شوہر کو بھی نہیں"
افسر میری بات پر حیران رہ گیا ۔ کیدار سے کہا "ابھی دیکھ لیتے ہیں چلو اپنی بیوی کو پیار کرو"
وہ آیئں بائیں شائیں کرنے لگا ۔ اسے معلوم تھا کہ اگر وہ میرے قریب آیا تو سامی مجھ پر حملہ کر دے گی ۔
افسر نے ناگواری سے اسے دیکھا " بھوانی شنکر چلو تم یہ کام کرو اگر اس کا شوہر راضی نہیں"
بھوانی شنکر وہی افسر تھا جو ہمیں یہاں لے کر آیا تھا
جونہی بھوانی شنکر نے میرے پاس آ کر میرے بازو پکڑے سامی نے اچھل کر اس کی گردن پر پنجہ دے مارا
بھوانی شنکر حیرت اور غصے سے لڑکھڑا کر پیچھے ہٹ گیا ۔ پھر بلی کو نظر انداز کر کے میری کمر میں ہاتھ ڈال کر مجھے اپنی طرف گھسیٹا ۔ یہ دیکھ کر سامی نے اس کے کندھوں پر چڑھ کر پاگلوں کی طرح اسے نوچنا شروع کر دیا ۔
بھوانی شنکر نے ایک جھٹکا دیکر اسے دور پھینکا
اس دوران بڑا افسر جو دلچسپی سے دیکھتا رہا تھا بولا " بس بس بھوانی اتنا کافی ہے اس بلی کو لے جاؤ"
میں نے سوچا بلی اگر ہم سے دور ہو گئ تو ہم ہمیشہ کے لیے اس قید خانے میں بند ہو جائیں گے ۔ میں نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا سرکار بلی کو ہم سے دور نہ کریں یہ میرے بغیر نہ رہ سکے گی ۔ کسی نہ کسی طرح مجھے ڈھونڈ نکالے گی ۔
افسر نے غصے سے کہا " تم دونوں کی پوری تفتیش ہوگی ہمارا خیال ہے کہ تم جاسوس ہو "
کیدار کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے ۔ روتے ہوئے گڑگڑانے لگا
"مائ باپ وطن کے خلاف کوئ کام کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے ۔ گنوار اور جاہل ہیں لیکن غدار نہیں ہیں سرکار "
تم دونوں کی تفتیش جاری ہے ابھی تم دونوں یہاں سے جاؤ کرنل نے ایک فوجی کو اشارہ کیا ۔
ہمیں ایک خوابگاہ میں لے جایا گیا جہاں بھوانی شنکر سامی کو گود میں اٹھائے کھڑا تھا ۔ مجھے دیکھتے ہی سامی اچھل کر میرے پاؤں میں آ کر بیٹھ گئ۔ مجھے دل ہی دل میں سامی کے ناٹک پر سخت تاؤ آیا ۔ بھوانی شنکر جانے لگا تو میں نے اس سے کہا کہ کیدار کو کسی دوسرے کمرے میں لے جاؤ کیونکہ یہ بلی ہمیں ساتھ نہیں رہنے دے گی ۔ کیدار بادل ناخواستہ بھوانی شنکر کے ساتھ دوسرے کمرے میں چلا گیا ۔ میں بیڈ پر لیٹ گئ سامی مجھ نظریں جمائے کرسی پر بیٹھی تھی ۔
اتنا تو مجھے پتا چل گیا تھا کہ یہ فوجی سامی سے کوئ کام لینا چاہتے ہیں اور جب تک سامی زندہ ہے میں اس کے ساتھ ہوں وہ اپنے جسم کو کچھ نہیں ہونے دے گی ۔ میں اپنی زندگی کے لیے اس لڑکی پر امید باندھ رہی تھی جس کا جسم میں نے چرایا تھا اور اسے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا تھا ۔ ہے ناں حیران کن بات ۔
چھمیا نے قہقہہ لگاتے ہوئے میری طرف دیکھا ۔
اگلے دن صبح ناشتے پر ہمیں مزیدار لذیذ کھانے پیش کیے گئے اور مجھے حکم ملا کہ سامی کی پسندیدہ چیزیں اسے کھلاؤں ۔
میں نوکرانی بن کر اس کی سیواہ کر رہی تھی اور اندر ہی اندر جل بھن کر کباب ہو رہی تھی ۔ دوپہر کے قریب ہمیں اسی افسر کے کمرے میں دوبارا بلایا گیا ۔ وہاں بھوانی شنکر بھی موجود تھا
بھوانی شنکر نے ہمیں دیکھتے ہی مکارانہ انداز میں کہا ، " میں تمہاری اصلیت جان گیا ہوں تم دونوں پتی پتنی نہیں ہو ۔ تم نے ٹرین میں ایک انسپیکٹر کو ق ت ل کیا ہے ۔ راجہ راجپت کے محل میں گھس کر راجہ کو خنجر سے ہلاک کیا اور پھر رانی کو جنگل میں لے جا کر مار ڈالا ۔ ہم نے تم دونوں کے خلاف سب ثبوت حاصل کر لیے ہیں ۔
سب سن کر میرا اور کیدار کا رنگ فق ہو گیا ۔ ہم بری طرح پھنس گئے تھے ۔ ہمارے چہرے دیکھ کر وہ سمجھ چکے تھے کہ ہم جرائم پیشہ لوگ ہیں اور ان سب کے قاتل بھی ہیں ۔
میں نے اور کیدار نے ان کے پاؤں پکڑ کر معافیاں مانگیں منتیں کیں ۔ وہ خاموشی سے ہماری آہ و بکا سنتے رہے ۔
بھوانی شنکر بلی کو لے کر کمرے سے چلا گیا تو وہ بوڑھا افسر ہمارے پاس آیا ۔
"ایک شرط پر تم دونوں کو معافی مل سکتی ہے" اس نے میرے گرد چکر کاٹ کر ڈرامائی انداز میں کہا
" سرکار آپ جو کہو گے ہم ماننے کو تیار ہیں ۔ " کیدار نے اس کے آگے جھک کر کہا
"اگر تم دونوں ہمارے لیے دشمن ملک میں جاسوسی کرو گے تو ہم تمہیں پھانسی کے پھندے سے بچا لیں گے "
" میں نے نا سمجھی سے سر ہلایا ، صاحب جو مرضی کروا لو آپ ہی ہمارے بھگوان ہو ہماری جان بخشی کر دو صاحب "
" ٹھیک ہے ابھی کچھ دیر تم دونوں کی ٹریننگ ہوگی ۔ پھر ہم آزما کر دیکھیں گے کہ تم کتنے وفادار ہو ۔ اگر تم امتحان میں پورے اترے تو ہم تمہیں ایک کام کے لیے دشمن ملک بھیجیں گے "
اس نے فوجیوں کو اشارہ کیا کہ انہیں لے جاؤ
اگلے بہت سارے دن وہ سامی کو کچھ سکھاتے ۔ وہ پرچی پر کچھ لکھ کر اس کے آگے رکھتے وہ کچھ اشارے کرتی جیسے دائیں پنجے کو اوپر ، گردن کو آسمان کی طرف اور اسی طرح کی کچھ چیزیں ۔ بھوانی شنکر اس کا انچارج تھا ۔
میں ہمیشہ ساتھ ہوتی کیونکہ سامی مجھے ایک لمحے کے لیے بھی چھوڑنے پر تیار نہ ہوتی ۔
چھ مہینے میں سامی اور بھوانی شنکر بہت کچھ سیکھ چکے تھے ۔
ایک دن مجھے اور سامی کو کرنل کے کمرے میں طلب کیا گیا ۔ وہاں پر ایک ادھیڑ عمر کا انگریز آدمی بیٹھا ہوا تھا ۔ اسے دیکھتے ہی سامی اچھل کر اس کی گود میں چلی گئ لیکن وہ اسے نظر انداز کرتا ہوا دونوں بازو پھیلا کر میری طرف بڑھا ۔ میں فوراً پیچھے ہٹ گئ وہ انگریزی زبان میں کچھ کہہ رہا تھا اور وہ زبان میرے پلے نہیں پڑ رہی تھی ۔
کرنل نے انگریز سے کہا مسٹر جان پوکر میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ یہ انگریزی نہیں جانتی پھر آپ کی بیٹی کیسے ہو سکتی ہے ۔ میں سمجھ گی کہ وہ سامی کا باپ ہے اور سامی کے جسم سے دھوکہ کھا رہا ہے ۔
وہ کرنل کی بات پر یقین نہیں کر رہا تھا ۔
اس بار ہندی میں بولا بیٹی مجھے پہچانو میں تمہارا باپ ہوں میں یہ کیسے مان لوں کہ تم صرف اپنی ماں کی زبان جانتی ہو اور اپنے باپ کی زبان نہیں جانتی ۔
"میں آپ کو نہیں پہچانتی آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں میری ماں ہندوستانی عورت تھی اس نے کسی انگریز سے شادی نہیں کی تھی ۔"
"بیٹی تم اپنی ماں کو کیسے بھول سکتی ہو وہ تمہارے غم میں تو رو کر مر گئ ہے "
سامی اسکے پاؤں لوٹ رہی تھی اس کی ٹانگوں کو چھو رہی تھی لیکن اس کا باپ اس کی طرف نہیں دیکھ رہا تھا ۔ وہ سامی کے جسم کو دیکھ رہا تھا جو میرے قبضے میں تھا ۔
وہ بلی کو نہیں دیکھ رہا تھا جسکے اندر اس کی بیٹی چھپی ہوئی تھی ۔ وہ اپنی ماں کے لیے رو رہی تھی اس کے جوتوں پر اپنا سر رکھ رہی تھی ۔
اس دنیا کی ہر محبت جسم کے شو کیس میں سجی ہوئی ہے اور جان پوکر بھی دھوکہ کھا رہا تھا ۔ وہ بلی کو ٹھوکروں سے پیچھے ہٹا رہا تھا اور مجھے اپنی بیٹی کہہ رہا تھا ۔
میں انکار کر رہی تھی کیونکہ مجھے جن لوگوں نے رکھا ہوا تھا وہی تین قتل کے الزام سے بچا سکتے تھے ۔
جان پوکر بہت دیر اصرار کرتا رہا ۔ سامی بےبسی سے دیکھ رہی تھی۔ وہ بار بار میری ساڑی کو کھینچ کر اپنے باپ کی طرف جاتی کہ میں اس کے سینے سے لگ جاؤں ۔ وہ باپ جو اسے پہچان نہیں پا رہا تھا اسے نظر انداز کر رہا تھا ۔ اسے گود میں نہیں اٹھا رہا تھا ۔ پھر بھی وہ اپنے باپ کی یہ آرزو پوری کرنا چاہتی کہ وہ اس کے جسم کو سینے سے لگا لے ۔
جب ایک رشتہ دوسرے رشتے کو گلے سے لگاتا ہے اس وقت اسے وہ خوشی حاصل ہوتی ہے جو روح کی گہرائیوں میں اتر جاتی ہے ۔ سامی کا مقصد تھا کہ جان پوکر اس کے جسم کو گلے لگائے اور اس کی مسرتوں کو سامی اپنی روح میں محسوس کر سکے ۔
میں اتنی نادان نہیں تھی کہ اس کے سینے سے لگ جاتی ۔ میں مسلسل انکار کرتی رہی۔
کرنل نے کچھ بےزاری سے کہا "مسٹر جان پوکر آپ ہمارا وقت ضائع کر رہے ہیں یہ ایک خانہ بدوش لڑکی ہے ۔ یہ اور اس کا ساتھی تین ق ت ل کر چکے ہیں
کیا آپ کی بیٹی یہ جرم کر سکتی ہے ؟
ایک دن ہمیں تیاری کا حکم ملا ۔ اس دن ایک بار پھر
کرنل نے گھبرا کر کہا نہیں میری بیٹی تو کسی جانور کو ذرا سی تکلیف بھی نہیں دے سکتی ہے وہ کسی انسان کو کیسے مار سکتی ہے ؟"
میں دل ہی دل میں مسکرائ
جس لڑکی نے میرے سامنے تین ق ت ل کیے تھے وہ سامی ہی تھی تمہاری بیٹی
کرنل اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا
" تو پھر آپ ہماری بات مان لیجیئے یہ آپ کی بیٹی نہیں ہے۔ صرف اس کی ہمشکل ہے "
جان پوکر بڑی مشکل سے جانے پر آمادہ ہوا ۔ سامی نڈھال سی ہو کر ایک طرف بیٹھ گئ تھی ۔
اس کے جاتے ہی کرنل نے مسکرا کر مجھے دیکھا اور اپنے ساتھ کھڑی ماتحت عورت سے بولا
" ہم جانتے ہیں کہ یہ عورت جھوٹ بول رہی ہے لیکن پھر بھی ہم نے اس کا ساتھ دیا ہے کیونکہ ہم نے اس سے اس ملک کا ایک نہایت اہم کام لینا ہے"
یہ بات سن کر سامی نے دونوں کو غرا کر دیکھا ۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ دونوں کو کچا چبا جائے ۔
کرنل نے بھوانی شنکر کو آواز دی تو وہ دائیں طرف بنے کمرے سے نکل کر سامنے کرسی پر بیٹھ گیا ۔
"گڈ تو ہمارا منصوبہ تمہاری سمجھ میں آ گیا ہوگا" کرنل نے چٹکی بجا کر میری طرف دیکھا
سامی نے غرا کر کرنل پر چھلانگ لگائی جسے بھوانی شنکر نے بروقت مداخلت سے بچا لیا ۔ وہ بلی کو پچکارنے لگا
"ایزی ، ایزی بےبی"
سامی کی غراہٹ دھیمی پڑ گئی سب نے یہی سمجھا کہ اس کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا ہے لیکن یہ میں جانتی تھی کہ وہ کتنی ضدی ہے ایک بار کسی کو دشمن سمجھ لے تو آخری وقت تک اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ میں سمجھ گئی کہ کرنل کا برا وقت آ چکا ہے ۔
یہ کہہ کر چھمیا سانس لینے کو رکی ۔ میں پیال پر بندھا ہوا پڑا تھا جیسے میرے ہاتھ پاؤں ہی نہیں ۔ ایسے لگ رہا تھا میں اپاہج ہو گیا ہوں مجھے بڑی ندامت ہوئ سامی ایک لڑکی ہو کر ہزاروں ہنگاموں کو جنم دے رہی تھی قدم قدم پر دشمن کے دانت کھٹے کر رہی تھی اور میں مرد ہو کر یوں پڑا تھا ۔
کیا میں مرد کی توہین برداشت کر سکتا تھا ؟ یہ سوال میرے دماغ میں ہتھوڑے کی طرح بج رہے تھے ۔ میں نے اپنے آپ کو سمجھایا اس وقت جسمانی طاقت کی نہیں دماغی حکمت عملی کی ضرورت ہے ۔ مجھے صبر سے کام لینا ہوگا ۔ میں نے چھمیا سے کہا وہ اپنے باپ سے دوسری بار بچھڑ گئ تھی ۔ وہ ان لوگوں کو معاف نہیں کر سکتی تھی ۔
چھمیا دانت پر دانت جمائے بیٹھی تھی جیسے سامی کو دانتوں تلے پیس ڈالے گی ۔ پھر وہ نفرت سے بولی، " وہ دشمنوں کو معاف کرنا نہیں جانتی اس رات اس نے لیڈی ایکس اور کرنل سے انتقام لے لیا تھا ۔
کیسے میں نے حیرانی سے پوچھا
وہ گہری سانس لے کر بولی شروع میں پتا نہیں چلتا کہ وہ کیا سوچ رہی ہے ۔ بھوانی شنکر اسے گود میں لے کر چل رہا تھا کہ سامی نے اسے سگنل دیا ۔ بھوانی شنکر نے کہا یہ مجھ سے کچھ کہنا چاہتی ہے اگر آپ اجازت دیں تو میں اسے دوسرے کمرے میں لے جاؤں کرنل نے اسے دوسرے کمرے میں جانے کی اجازت دے دی ۔
کیونکہ وہ مجھے تنہا نہیں چھوڑتی تھی اس لیے ہم تینوں دوسرے کمرے میں آ گئے ۔
وہ اپنے دونوں پنجے اٹھا کر بھوانی شنکر کو شگنلنگ کے ذریعے کچھ کہنے لگی ۔ وہ تمام باتیں نوٹ کر کے مجھے اور سامی کو چھوڑ کر باہر نکل گیا ۔
میں حیرت سے سوچنے لگی کہ اب کونسا طریقہ ڈھونڈے گی کیونکہ میں ہر شام کو پچاس بار منتر پڑھتی تھی تاکہ سامی کی روح بلی میں ہی قید رہے ۔
مجھے اطمینان تھا کہ جب تک یہ اس بلی کے جسم میں قید ہے یہ مجھے کوئ نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
کچھ دیر کے بعد بھوانی شنکر دو فوجیوں کو لے کر کمرے میں آیا اور بولا
اس بلی نے ہمیں کہا ہے کہ وہ ایک شرط پر ہماری بات مانے گی کہ تمہارے منہ پر ٹیپ لگا کر تمہیں ایک دن کے لیے قید کر دیا جائے ۔ اتنی سی بات کے لیے ہم اسے ناراض نہیں کرنا چاہتے "
اس نے سپاہیوں کو اشارہ کیا اور وہ میرے منہ پر ٹیپ لگانے لگے اس کے بعد انہوں نے میرے ہاتھوں کو پیچھے لے جا کر باندھ دیا ۔"
میں ہکا بکا سامی کی چالاکی پر پیچ و تاب کھانے لگی ۔ میرا منہ بند کرنے کا مطلب تھا آج شام میں بچاس بار منتر نہ پڑھ سکوں گی اور اگر میں نے منتر نہ پڑھا تو پچھلے منتر کا اثر ختم ہو جائے گا اور سامی کی روح بڑی آسانی سے بلی کے جسم سے آزاد ہو جاتی .
سپاہی مجھے لے کر کمرے میں چھوڑ گئے میرے پیچھے پیچھے سامی بھی کمرے میں داخل ہوئ ۔ فوجی مجھے چھوڑ کر چلے گئے ۔ میں نے کھا جانے والی نظروں سے سامی کو دیکھا ۔ وہ فی الحال مجھے شکست دینے میں کامیاب ہو گئ تھی لیکن اس کی ضد نے مجھے اور ضدی بنا دیا تھا ۔
میں نے دروازے کے باہر جھانک کر دیکھا تو وہاں لیڈی ایکس کھڑی۔ میں سمجھ گئی وہ میرے پہرے پر تھی ۔
میں آہستہ آہستہ چلتی بیڈ پر آ گئی ۔ مجھے قطعی علم نہیں تھا کہ سامی کی اگلی چال کیا ہے ۔ میں بلکل اندھیرے میں تھی ۔ رات آہستہ آہستہ گزر رہی تھی ۔ پتا نہیں کب میری آنکھ لگ گئ ۔
اچانک گولی چلنے کی آواز سے میری آنکھ کھل گئی میں نے بھاگ کر لائٹ جلائی تو میرا دل دھک سے رہ گیا ۔ میرا شک ٹھیک نکلا تھا کرسی پر بلی کا بےجان جسم پڑا تھا سامی کی روح آزاد ہو چکی تھی ۔ میرے منتر کا اثر ختم ہو چکا تھا میرا منہ بند تھا اور ہاتھ پیچھے کی طرف بندھے ہوئے تھے ۔ باہر فوجیوں کے بھاری بوٹوں کی آوازیں گونج رہی تھیں ۔میں نے چپ چاپ کمرے میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا ۔ یہ نہ ہو
سامی مجھ پر ایک اور قتل کا الزام تھوپ دے
کچھ دیر یونہی ہڑبونگ جاری رہی پھر خاموشی چھا گئی
بلی کا بےجان جسم کرسی پر پڑا تھا اتنی دیر میں دروازے پر دستک دے بھوانی شنکر اور اس کے سپاہی اندر آ گئے ۔
مجھے دیکھ کر وہ سیدھا میرے پاس آیا اسنے بلی کو دیکھا تک نہیں ۔اس نے سوچا ہوگا بلی سو رہی ہے
"کیا ہوا ہے "
میں نے سرسیمگی سے پوچھا
لیڈی ایکس نے کرنل پر گولیاں چلا کر خود کشی کر لی۔اس کی ٹانگیں بری طرح زخمی ہیں
میں نے ہڑبڑا کر چاروں طرف دیکھا سامی یہین کہیں موجود تھی ۔ دوسرے ہی لمحے بلی ایک انگڑائ لگ کر کرسی پر بیٹھ گئ
پوری کہانی میری سمجھ میں آ چکی تھی لیکن یہ بات میں بھوانی شنکر کو نہیں بتا سکتی تھی ۔پہلی بار میں نے تحسین آمیز نظروں سے سامی کو دیکھا وہ لڑکی مجھے پل پل حیران کر رہی تھی
اگلے دن ہم بھوانی شنکر اور اس کے دو آدمیوں کے ساتھ مشن پر روانہ ہو گئے
ہم ٹرین سے کاٹھیاوار پہنچے ۔ ہمارا لیڈر بھوانی
شنکر تھا ۔ میں اور کیدار مسلمان میاں بیوی تھے ۔ہمارے نام قادر بخش اور سلمیٰ قادر تھے ۔ کا ٹھیاوار سے غیر قانونی طور پر سرحد پار کر کے ہم مشرقی پاکستان کے شہر دیناج پور پہنچ گئے ۔ وہاں ہم سب کے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ تیار تھے جن کی رو سے ہم مشرقی پاکستان کے شہری تھے ۔ اور قیام پاکستان کے وقت سے ڈھاکہ رہتے آ رہے تھے ۔ دوسرے دن ہم ڈھاکہ کے لیے روانہ ہو گئے ۔
جیسا کہ تم نے اخباروں میں پڑھا ہوگا ان دنوں ڈھاکہ میں شدید سیلاب آ گیا ۔ ہم وہاں پہنچے تو ہر طرف پانی ہی پانی تھا ۔ بھوانی شنکر نے بتایا کہ ہمارے بہت سے جاسوس ادھر دیش کی سیوا کی خاطر موجود ہیں ۔ ہماری رہائش کا انتظام سکھائ بازار کے علاقے میں کیا گیا ۔ یہ علاقہ بوڑھی گنگا کے قریب تھا اس لیے پانی میں ڈوبا ہوا تھا ۔ گھروں کے اندر گھٹنوں تک پانی بھرا ہوا تھا ۔ بھوانی نے بتایا کہ اس علاقے میں زیادہ تر ہندو ہیں ۔ ہم مکان کی دوسری منزل پر ٹھہرے ۔ اسی گلی کے آخری سرے پر کالی ماتا کا مندر تھا ۔مجھے اور کیدار کو یہ جگہ پسند آئی ہم مندر میں کہیں بھی رکشا کنڈل لگا کر اپنا منتر پڑھ سکتے تھے اور وہاں سے کوئ نوجوان بھی بَلی چڑھانے کے لیے مل جاتا ۔
سامی ہمارے ساتھ ساتھ تھی ۔ بھوانی شنکر اس کی سیوا میں کوئ کمی نہیں رکھ رہا تھا ۔
وہاں بجلی کا نظام درہم برہم تھا ہمارے کمرے میں بھی لالٹین جل رہی تھی ۔
رات کے دس بجے ایک شخص بھوانی سے ملنے آیا ۔ اس نے بتایا کہ 'یہ سیکریٹ سروس کا ایجینٹ ہے اور بہت سالوں سے"ادھر تخریبی کارروائیوں میں مصروف ہے ۔وہ ہم سے بہت اہم معلومات پر بات کرنے آیا ہے اس کا نام سبھاش مکر جی تھا ۔ "
جو بھی بات ہوتی وہ سامی کے سامنے ہوتی تھی اور سامی مجھے چھوڑتی نہ تھی اس لیے میں ان کے خاص معاملات میں بھی شامل تھی۔
سبھاش مکر جی نے میری موجودگی پر اعتراض کیا تو بھوانی شنکر نے اسے بتایا کہ یہ بلی کی سہولت کار ہے اور اس عورت کو چھوڑ کر نہیں جاتی۔ مکر جی حیرت سے سامی کو دیکھنے لگا۔ اسے یقین نہیں تھا کہ بلی اتنے اہم معاملے سہولت کار بن سکتی ہے ۔اس نے شنکر سے کہا
" مسٹر شنکر یہ درست ہے کہ جانور کرتب دکھا تے ہیں ۔ لیکن اس کیس میں آپ کسی جانور کی مدد نہیں لے سکیں گے ۔
کل صبح دس بجے ایک ملک کے وزیر خارجہ گورنر ہاؤس آئیں گے ۔ وہ دونوں ملکوں کے تعلقات مزید مستحکم بنانے کے لیے معاہدے کریں گے اور وہ فائل سکیرٹری کے حوالے کر دی جائے گی ۔ آپ یہ بتائیں کہ آپ اس فائیل کی مائیکرو فلم کیسے تیار کریں گے ؟"
بھوانی شنکر نے مسکرا کر سامی کی پشت پر ہاتھ پھیرا
"میں کچھ نہیں کروں گا ۔ کل صبح یہ بلی گورنر ہاؤس میں جائے گی ۔ وہاں بہت سکیورٹی ہے لیکن ایک بلی کو کون پوچھے گا ۔ یہ مجھے وہاں کی ساری کاروائی نوٹ کر کے بتائے گی "
مکرجی کا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا" یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں کیا ایک بلی یہ سب کر سکتی ہے "
شنکر نے فخر سے سامی کو دیکھا" یہ سب کر سکتی ہے. آپ ایسے کریں اس کے ساتھ اس کمرے میں جائیں اور کوی بات کریں "
سامی بھوانی شنکر کے پاس سے اٹھ کر میرے پاس آ گئ ۔ کیوں کہ وہ مجھے اکیلا نہیں چھوڑتی تھی ۔ میں اسے گود میں لے کر مکر جی کے ساتھ دوسرے کمرے میں آ گئ۔
مکر جی انگریزی میں آہستہ آہستہ سامی کو کوئ بات بتانے لگے ۔ پھر ہم تینوں واپس شنکر کے پاس آ گئے ۔ سامی سگنلنگ کے ذریعے بھوانی شنکر کو کچھ سمجھانے لگی ۔ بھوانی ایک کاغذ پر نوٹ کرتا جاتا ۔ پھر اس نے مکر جی کو نوٹ کی ہوئ باتیں سنائیں مکر جی حیرت سے آنکھیں پھاڑے سن رہا تھا ۔
شنکر بولا " کیا یہ سب باتیں آپ نے سامی کو نہیں بتائیں تھیں؟"
"ہاں " اس نے اعتراف کیا" یہ وہی باتیں ہیں میں نے اسے بتائ تھیں لیکن ایک بلی کیسے یہ سب سمجھ سکتی ہے مجھے تو یہ کالا جادو لگتا ہے "
'" مکر جی اگر یہ کالا جادو بھی ہے تو بھی ہمیں کیا فرق پڑتا ہے ہم نے تو اس سے اپنا کام لینا ہے اور یہ ہمارے کام آتی رہے گی ۔"
" لیکن اگر جادو کا اثر ختم ہو گیا تو یہ ہمیں گرفتار بھی کرا سکتی ہے "
شنکر نے پریشانی سے کہا" یہ بات تو ٹھیک ہے لیکن یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ یہ کالا جادو ہو ہی نہیں "
مکر جی سامی کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا " یہ ہم چیک کرا لیتے ہیں کوئ مسلہ نہیں ادھر کونے میں جو مندر ہے اس کے پجاری کو کالا جادو کا علم ہے ہم بلی کو اس کے پاس لے جاتے ہیں "
مکر جی کی باتیں سن کر میں گھبرا گئ۔ یہ تو بڑی پریشانی کی بات تھی اگر پجاری کو واقعی علم آتا ہوا تو وہ ہمیں پہچان لے گا "
سامی خاموش بیٹھی ہوئی تھی شاید وہ سوچ رہی تھی کہ ساری حقیقت کھل جانے سے اسے کیا فایدہ ہو سکتا ہے.
اور کیا نقصان ہو سکتا ہے ۔
جونہی مکر جی اسے لے جانے کے لیے آگے بڑھے وہ چھلانگ لگا کر کمرے سے باہر بھاگ گئ ۔ سب اسے پکڑنے کے لیے بھاگے لیکن وہ بہت تیز رفتار ہے ان کے قابو آنے والی نہیں تھی ۔
شنکر کے آدمیوں اسے پکڑنے کے آگے بڑھے تو وہ دیوار پر چڑھ کر ساتھ والے مکان میں کود گئ ۔ وہ مکان غیر آباد تھا اور مکمل اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا ۔ سامی اس کے اندر جا کر گم ہو گئ ۔ شنکر نے چلا کر اپنے آدمیوں سے کہا ،" پکڑو اسے بھاگو دوسری طرف جانے نہ پائے"
دونوں آدمی دیوار پھلانگ کر اس کے پیچھے
.بھاگے
مکانوں کے نچلے حصوں میں پانی بھرا ہوا تھا ایک آدمی نیچے اتر کر تیرتے ہوئے دوسرے مکان میں گیا لیکن سامی وہاں سے اس سے پچھلے مکان کی چھت پر چلی گئی تھی ۔ یوں رات کے گیارہ بج گئے ۔ سامی ایک مکان سے دوسرے مکان میں بھاگتی رہی۔ پھر کچھ دیر بعد غائب ہو گئ۔
بھوانی شنکر سمجھا کہ یہ اب نہیں آئے گی لیکن مجھے پتا تھا کہ وہ مجھے چھوڑ کر کہیں نہیں جائے گی ۔ بارہ بجے منتر کا اثر ختم ہو جانا تھا ۔ اور سامی کی روح بلی کے شریر سے آزاد ہو جاتی ۔ میں نے جان بوجھ کر سامی کو ڈھیل دی اور منتر نہیں پڑھا تھا ۔ میں چاہتی تھی کہ بےشک سامی ضرورت پڑنے پر کسی اور کے شریر میں سما جائے لیکن ہمیں یہاں سے نکال کر لے جائے ۔
ساڑھے گیارہ بجے وہ کھڑکی میں آ کر بیٹھ گئ ۔ بھوانی شنکر اسے پچکارنے لگا ۔ وہ بھاگ کر اس کے پاؤں میں آ کر لوٹنے لگی ۔ اس نے سامی کو گود میں اٹھا لیا اور پیار کرنے لگا ۔ " دیکھو مکر جی یہ مجھ سے پیار کرتی ہے اس لیے مجھے چھوڑ کر کہیں نہیں جائے گی۔ جانور ہے شرارت سے ادھر ادھر بھاگے گی تو سہی " پھر پوچھنے لگا کہ وہ کدھر گئ تھی ۔ جواباً سامی نے کچھ اشارے کیے تو وہ ہستے ہوئے کہنے لگا " کھودا پہاڑ اور نکلا چوہا ۔ ساتھ والے گھر میں اسے ایک چوہا نظر آ گیا تھا"
مکر جی ہسنے لگا "دیکھا میں نہ کہتا تھا جانور جانور ہی ہوتا ہے یہ کسی بھی وقت کچھ بھی کر سکتا ہے ۔ کیوں نہ پجاری کی کے پاس ابھی چلا جائے سویرے وہاں بہت لوگ ہوتے ہیں کسی کو بھی ہمارے بارے میں شک ہو سکتا ہے "
بھوانی شنکر سر ہلانے لگا پھر اپنے آدمیوں کو کشتی گھر کے اندر لانے کو کہا ۔
میں نے سوچا مندر میں چل کر دیکھنا چاہیے پجاری کا منتر بھی دیکھتی ہوں کہ کرتا کیا ہے وہیں جا کر نمٹ لوں گی ۔
سامی نےئ بھی اشارے سے جانے کے لیے حامی بھر لی ۔
ہم سب نیچے اترے چاروں طرف اندھیرا تھا ۔ مانجھی لالٹین پکڑے کشتی میں ہمارا انتظار کر رہا تھا ۔ ہم سب بیٹھ گئے ۔ سامی بھوانی شنکر مے کندھوں پر سوار تھی ۔مانجھی نے کشتی چلانے کے لیے چپو سیدھے کیے ۔ ہم دو منٹ میں مندر کی سیڑھیوں پر پہنچ گئے ۔ مانجھی نے کشتی ایک طرف درخت سے باندھ کر لالٹین اونچی کر کے ہمیں جانے کا رستہ دکھایا ۔
ہم سب سیڑھیاں چڑھ کر اوپر پہنچے تو کچھ لوگ پجاری کو کھاٹ پر اٹھائے کھڑے تھے ۔ ہمارے پوچھنے پر بتایا کہ پجاری جی کی طبیعت بہت خراب ہے ۔ وہ بھلے چنگے بھوجن کر رہے تھے کہ کچھ دیر میں انکو کھانسی کا دورہ پڑا ہم نے پانی پلایا ۔ ہلایا جلایا لیکن ان سے بولا نہیں جا رہا ہے ۔ پجاری نقاہت سے ہماری طرف دیکھ رہا تھا ۔
میں نے سامی کی طرف دیکھا وہ شنکر کے کاندھے سے لگی بیٹھی تھی ۔ میں اشارے سے پوچھا تم نے اسے سندور کھلایا ہے تو سر ہلا کر آنکھیں موند لیں۔ میں دل ہی دل میں اس کی چالاکی پر مسکرا اٹھی ۔ وہ مکان سے غائب ہو کر پجاری کا قصہ پاک کرنے گئ تھی ۔
میرے چہرے پر بھی بےاختیار مسکراہٹ آ گئ ۔ سامی میری توقعات پر پورا اتر رہی تھی ۔
چھمیا نے میری طرف دیکھا "کیا سوچ رہے ہو تمہارے مرنے میں ابھی وقت ہے ۔ تمہاری سامی آدھی رات کے بعد آئے گی تب ہی میں تمہارے خون سے اسے نہلاوں گی ۔ وہ منتر کی قید سے نہیں نکل سکتی "
میں نے چھمیا سے کہا" میں سوچ رہا ہوں کہ سامی کی روح اس جسم میں آ کر کیسی لگے گی ۔ ذہین اور خوبصورت لڑکی کی بات ہی الگ ہے ۔ تم پر یہ جسم بلکل نہیں جچ رہا میری مانو تو یہ جادو وغیرہ کا چکر چھوڑو اس کا جسم اسے واپس کر دو ۔ جہاں تک میرا خیال ہے وہ تمہارا پیچھا ہر گز نہیں چھوڑے گی چھمی میری بات پر غصہ کرنے کی بجائے قہقہہ لگاکر ہسنے لگی پھر ایکدم چپ ہو کر بولی
" سچ پوچھو تو ایک بار میرا بھی دل کیا کہ لعنت بھیج دوں ۔ اس چکر میں بڑے پھیر تھے ۔ گرو مہاراج نے ٹھیک کہا تھا کہ شریر بدلنے سے ہم فطرت کے خلاف چلے جاتے ہیں جس سے ہم سے بھی زیادہ طاقتور قوتیں ہمارا پیچھا کرتی ہیں ۔ جیسا کہ سامی میرا پیچھا کر رہی ہے لیکن سامی کی ضدی فطرت نے مجھے بھی ضدی بنا دیا ہے میں بھی اسے زیر کر کے ہی چھوڑوں گی ۔"
میں سامی کی آنکھوں میں چھمیا کی نفرت کا زہر دیکھ رہا تھا ۔
" پھر ؟ وہاں سے فرار کیسے ہوئی تم "
" وہاں سے فرار ہونا تب ممکن ہوا جب اگلے دن سامی نے گورنر ہاؤس سے ساری معلومات لا کر بھوانی شنکر کو نوٹ کرا دیں ۔ ہم سب اگلی صبح سامی کو گورنر ہاؤس کی سائیڈ پر اتار کر دوبارا مکان میں واپس نہیں گئے بلکہ ایک ہوٹل چلے گئے ۔ تاکہ اگر سامی کوی گڑبڑ کرے تو اسے شنکر کا اتا پتا معلوم نہ ہو ۔ اس کے آدمی ہوٹل کے آس پاس موجود تھے ۔ جونہی سامی دیوار پھلانگ کر باہر آ ی وہ اسے لے کر ہوٹل آ گئے ۔ سامی نے مطلوبہ معلومات مکر جی کےسامنے شنکر کو سگنلنگ کے ذریعے نوٹ کروائیں ۔
ڈھاکہ میں ہمارا مشن مکمل ہو گیا تھا ۔
ہمارے دیش کے اعلیٰ افسر ہماری کارکردگی سے بہت خوش تھے ۔ درحقیقت یہ سارا کارنامہ سامی کا تھا
بھوانی شنکر نے فخر سے ہمیں بتایا
ہمارا اگلا مشن پنڈی میں تھا ۔ بھوانی شنکر ہمیں وہاں احمد شیخ نامی ایک شخص کے گھر لے کر گیا ۔ اس نے بتایا کہ احمد شیخ اے گریڈ کا افسر ہے یہ کئ سالوں سے ہمارے لیے کام کر رہا ہے ۔ ہم اسے چوبیس ہزار مہینہ دیتے ہیں ۔ تمہاری سرکار صرف نو سو روپیہ دیتی ہے اور اسکے پاس کئ گھر گاڑیاں اور جائیدادیں ہیں کیا تمہاری سرکار ایسے لوگوں سے پوچھتی نہیں کہ یہ سب کہاں سے آ رہا ہے ۔ "
چھمیا نے مجھ پر اور میرے ملک پر طنز کیا تو میں شرمندگی سے دیکھنے لگا ۔میں اندر ہی اندر دانت پیس رہا تھا کہ ایک بار مجھے یہاں سے جانے کا موقع مل جائے میں احمد شیخ کو نہیں چھوڑوں گا۔ صرف ایک بار میں یہاں سے نکل جاؤں تو ملک دشمنوں کا قبر تک پیچھا کروں گا ۔
لیکن کیسے نکلوں یہ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا ۔ وقت دھیرے دھیرے سرک رہا تھا موت قریب آتی جا رہی تھی ۔
چھمیا نے کیدار کے پاس جا کر کچھ دیر کے لیے اس کا منتر سنا پھر میرے پاس آ کر بیٹھ گئی ۔ میں اپنی سوچ میں گم تھا کہ میں نے چھمیا کویہ کہتے ہوئے سنا کہ اگلے دن سامی ایک خفیہ فائل لے آئ۔
میں نے پوچھا کونسی فائل؟
کہنے لگی احمد شیخ کے اوپر ایک افسر تھا مکرم علی ۔
مکرم علی تمہارے دیش کا بہت ایماندار افسر تھا ۔ شنکر نے بتایا کہ اسے خریدنا تقریباً ناممکن ہے ۔ اس کے پاس ایک خفیہ فائل تھی ۔ مکرم علی اس فائل کی سخت حفاظت کرتا تھا ۔ صدر مملکت ملک سے باہر تھے واپس آنے تک یہ فائل مکرم علی کے پاس رہنی تھی ۔
شنکر نے سامی کو نقشے کی مدد سے پورے دفتر کا نقشہ سمجھایا اور فائنل کا نمبر وغیرہ بتایا اگلے دن
سامی وہاں جا کر فائل کی ساری معلومات لے آئ ۔
ہم احمد شیخ کے گھر میں تھے شنکر صبح سے کہیں گیا ہوا تھا ہمارے لیے یہاں سے نکل جانے کا یہ بہترین موقع تھا ۔ ہم چپ چاپ کسی سے ٹکرائے بنا احمد شیخ کے گھر سے نکل کر تمہارے شہر کے اس جنگل میں آ گئے ۔ یہاں ہم نے رکشا کنڈل بنایا اور اس میں بیٹھ گئے ۔ اس رکشا کنڈل میں کوئ عام آدمی تو کیا تمہاری پولیس بھی ہمیں نہیں دیکھ سکتی ۔
چھمیا قہقہے لگا کر ہسنے لگی ۔ ہستے ہوئے اسکے جسم کی بوٹی بوٹی تھرک رہی تھی ۔
وہ اٹھی اور ایک انگیٹھی میں آگ جلانے لگی ۔ آگ دہکا کر وہ میرے قریب لے آئی ۔ رات کے بارہ بج چکے تھے ۔ اتنے میں کیدار ایک کتے کو رسی سے باندھے گھسیٹتا ہوا لے کر میرے قریب آ گیا ۔ اس کے سیاہ کسرتی جسم پر صرف ایک لنگوٹ تھا ۔ اس نے اپنے پورے جسم پر تیل مل رکھا تھا جس کی وجہ سے اس کا سیاہ بدن چمک رہا تھا ۔
چھمیا نے سامنے لگی الماری میں سے دو کوزے نکالے اور میرے قریب آ گئ ۔ ایک کوزے میں ماش کے دانے تھے اور دوسرے میں لوبان تھا ۔
میں دل ہی دل میں منصوبہ ترتیب دینے لگا ۔ میرا سارا انحصار سامی پر تھا ۔ چھمیا کے مطابق اگر وہ سندور سے بنے اس دائرے میں نہ آئ جس میں میرا سر قلم ہونا تھا تو جاپ مکمل نہیں ہو سکتا تھا ۔
میں اگر کسی نہ کسی طرح سامی کو اس دائرے سے باہر روک لوں تو میں اور وہ دونوں بچ سکتے تھے ۔
چھمیا نے کتے کی گردن میں بندھی رسی پکڑ لی ۔ کیدار نے ایک ماش کا ایک دانہ اٹھایا اور اس میرے پاؤں کی ایڑی سے لے کر چوٹی تک پھیرتے ہوئے منتر پڑھنے لگا ۔اس دانے کا ایک پھیرا کرنے کے بعد اس نے اسے انگیٹھی میں ڈال دیا ۔ اس کے ساتھ ہی چھمیا نے تھوڑا سا لوبان انگاروں پر ڈال دیا ۔ یکدم انگاروں پر لوبان کا دھواں بھر گیا ۔ چھمیا نے کتے کا سر دھوئیں میں ڈال دیا ۔ وہ کتا اس دھویں میں سانس لینے پر مجبور تھا ۔
یہ عمل کچھ دیر جاری رہا ۔ مجھے ایکدم اپنے جسم میں نئ توانائی آتی محسوس ہوئ ۔ میرے جسم پر موجود زخم غائب ہو گئے تھے ۔ میں نے حیرانی سے کتے کو دیکھا جس کے جسم پر جا بجا زخم نظر آ رہے تھے ۔ مجھے چھمیا کی بات یاد آ گئ ۔ اس نے کہا تھا ک 'زخمی انسان کی بلی چڑھانا ممکن نہیں ہوتا ۔ منتر سے پہلے میں تمہارے زخم ایک کتے میں منتقل کر دوں گی ۔"
اس نےوہی کر دکھایا ۔ میں رسیوں سے بندھا ہوا تھا لیکن میں محسوس کر سکتا تھا کہ میرے جسم پر ایک بھی زخم باقی نہیں رہا تھا ۔
چھمیا نے کیدار سے کہا میں اس کتے کو باہر ہانک کر آتی ہوں تم اس نوجوان کو لے کر چلو ۔ وہ تو کتا تھا جسے وہ دم سے پکڑ کر باہر لے گئی میں تو انسان تھا ۔ کیدار مجھے سر کے بالوں سے گھسٹ کر اس کمرے کے وسط میں بنے دا ئرے کے اندر لایا ۔ جیسے ایک قصائ جانور قربان کرنے کے لیے بےرحمی سے اسے کھینچ کر لاتا ہے ۔ تکلیف کی شدت سے میری آنکھوں میں پانی آ گیا ۔
سیندوری دائرے کے اندر لکڑی کا ایک کندہ پڑا ہوا تھا اور پاس ہی وہ داؤ تھا جس سے میری گردن کاٹی جانی تھی ۔سیندوری کنڈل کے اندر دو انگیٹھیاں دہکتے ہوئے انگاروں سے بھری پڑی تھیں ۔ ان سے دھواں اٹھ رہا تھا ۔ کمرے کی محدود فضا دھویں سے بھر گئ تھی ۔
کیدار نے پورا زور لگا کر مجھے الٹا کیا ۔ میں تڑپ رہا تھا زور لگا رہا تھا لیکن رسیاں اتنی مضبوطی سے بندھی تھیں کہ ذرا سا ہلنا بھی ممکن نہیں تھا ۔
وہ مجھے گھسیٹ کر کندے کے پاس لایا پھر میری گردن کندے کے اوپر رکھ دیی ۔ لکڑی کے کنارے پر میری ٹھوڑی آ کر لگی تو میرا سر ذرا سا اوپر کو اٹھ گیا ۔
میری نگاہوں کے سامنے وہ دروازہ آ گیا جہاں سے سامی نے داخل ہونا تھا ۔ کمرے میں جلنے والی موم بتی کی روشنی باہر کچے برآمدے تک پہنچ رہی تھی ۔ اس کے آگے گہری تاریکی تھی ۔ باہر کی اس تاریکی کو دیکھ کر مجھے اپنے اندر روشنی کا احساس ہوا ۔ میرے دماغ نے کہا اگر سامی اس دروازے سے آئے گی تو میں اسے اس کنڈل میں آنے سے روک سکتا ہوں ۔ اسے اور اپنے آپ کو ان منتروں سے بچا سکتا ہوں ۔
چھمیا ذرا دور بیٹھ کر اپنا جاپ شروع کر چکی تھی ۔ وہ اُونچی آواز میں جوش سے منتر پڑھ رہی تھی ۔
سامی کا دور دور تک پتا نہ تھا ۔ میں نے دل میں دعا کی " سامی ادھر نہ آنا کبھی نہ آنا"
میں نے کن اکھیوں سے کیدار کی طرف دیکھا وہ داؤ ہاتھ میں اٹھائے تیار بیٹھا تھا ۔
میرے دماغ میں سنسناہٹ ہو رہی تھی ۔مجھے موت کا خوف نہیں تھا ۔ زندگی کی تمنا نہیں تھی ۔ میری نگاہیں دروازے پر جمی ہوئی تھیں ۔ میں آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑنے کو تیار تھا ۔
اتنے میں سامی کی کہیں سے آواز آئی
میاؤں ۔۔۔۔
کیدار نے داؤ کو بلند کیا ۔ میرے دل کی دھڑکن آنے والے واقعات کا سوچ کر تیز ہو گئ
میاؤں میاؤں ۔۔۔ وہ آ گئ تھی ۔ دروازے میں دو پنجے آگے کو نکالے دو پیچھے وہ کشمکش میں تھی کہ آگے جائے یانہ جائے
اسے دیکھتے ہی چھمیا جوشیلے انداز میں چیخ چیخ کر منتر پڑھنے لگی ۔ میں نیم وا آنکھوں سے برآمدے میں دیکھ رہا تھا جہاں سامی بلی کے روپ میں فرش پر لوٹ رہی تھی ۔ وہ منتر کے اثرات سے بچنے کے لیے کوشش کر رہی تھی تڑپ رہی تھی اس کی کوشش ناکام سہی اس کی جدو جہد سے پتا چل رہا تھا کہ وہ کتنی ضدی ہے
شکست کو سامنے دیکھ کر بھی اس نے ہمت نہیں ہاری تھی
اب لڑنے کی باری میری تھی ۔ اب میری صلاحیتوں کو آزمانے کا وقت ہوا چاہتا تھا ۔
منتر کے زیرِ اثر وہ فرش پر اٹھ کر کھڑی ہو گئ تھی اور کمرے کی طرف کھچی چلی آ رہی تھی ۔ دروازے پر پہنچ کر جونہی اس نے کنڈل کی طرف دیکھا تو مجھ سے نظریں ٹکرا گئیں میری آنکھوں سے شعلہ لپکا ایک بجلی سی لہراتی ہوئی سامی کی آنکھوں سے ٹکرائ ۔ پھر وہ میری نگاہوں کی گرفت میں آ گئ ۔ اس کے اگلے پاؤں کمرے کی دہلیز کے اندر تھے اور وہ مجھے ایک ٹک دیکھتی ہوئ سوچ رہی تھی "یہ کون ہے اس کی آنکھیں کیسی غضب ناک ہیں ۔کاش یہ مجھے ایسے ہی دیکھتا رہے ۔ مجھے کتنا سکون مل رہا ہے ۔"
میں نے اس کی سوچ میں کہا" تم میری نگاہوں کی گرفت میں ہو ۔ ایسے ہی دیکھتی رہو ۔ اپنے خیالات ان دو سلگتی آنکھوں تک محدود کر لو ۔ ان کے زیرِ اثر آ جاؤ ۔ باقی کوئ آواز نہ سنو "
اس کی سوچ کہہ رہی تھی ہاں میں تمہارے زیر اثر آ گئ ہوں ۔ باقی سب آوازیں مدھم ہو رہی ہیں لیکن چھمیا کی ہلکی ہلکی آواز مجھ تک آ رہی ہے "
وہ ٹھیک کہہ رہی تھی چھمیا کے منتر کمزور نہیں تھے ۔ وہ بےاختیار کھچتی ہوی کمرے کے اندر آ گئ تھی ۔
چھمیا دونوں ہاتھ اٹھا کر فاتحانہ انداز میں منتر پڑھ رہی تھی ۔ اس کی جیت ہونے والی تھی ۔ اس کے منتر نے سامی کو ذرا سا اور اپنی طرف کھینچ لیا تھا ۔ سیندور کی ریکھا سے صرف دو انچ کا فاصلہ بچا تھا ۔ میں نے بیک وقت تنویمی عمل اور خیال خوانی سے بیک وقت کام لیا ۔ سامی کو آگے نہ بڑھنے دینے کے علاؤہ میں چھمیا کی سوچ میں بار بار کہہ رہا تھا ، " یہ میں کیا پڑھ رہی ہوں میں منتر بھول گئ ہوں میں کیا کروں ۔ "
اور وہ پڑھتے پڑھتے اچانک رک گئ۔ اس کی سوچ بن کر میں نے کہا یہ میں کیا کر رہی ہوں ۔ میرے پاس آخری موقع ہے یہ بھی ضائع ہو گیا تو میں کہاں جاؤں گی ۔" وہ سوچنے پر مجبور ہو گئ اور اس پل منتر کا تسلسل ٹوٹ گیا ۔ اور یہ پل میں نے اور سامی نے ضائع نہیں کیا ۔ میں نے سامی کے دماغ میں کہا 'بھاگو یہاں سے جتنی دور بھاگ سکتی ہو بھاگ جاؤ "
چشمِ زدن میں وہ پلٹی اور بجلی کی سی تیزی سے چھلانگ مار کر باہر کا دروازا کراس کر گئ۔
چھمیا اور کیدار کے فرشتوں کو بھی نہیں پتا تھا کہ میں ٹیلی پیتھی سے ان کی بازی پلٹ رہا ہوں ۔ وہ چیختی ہوئی کیدار سے بولی" بھاگو بھاگو پکڑو اسے اگر یہ یہاں سے چلی گئی تو منتر ضائع ہو جائے گا "
کیدار داؤ وہیں میرے پاس رکھ کر اسی حلیے میں بلی کے پیچھے بھاگا ۔
چھمیا مجھ سے بے خبر دروازے کی طرف منہ کر کے دوبارا سے منتر پڑھ رہی تھی ۔
وہ بلی کو واپس لانے کی پوری کوشش میں تھی ۔
میں نے احتیاط سے اپنی رسیوں کو داؤ پر رگڑنا شروع کر دیا چند لمحوں میں میرے ہاتھ آزاد ہو گئے ۔ میں آہستگی سے رسیوں کو پیچھے دھکیلا ۔ میں آزاد ہو چکا تھا ۔ دل چاہ رہا تھا کہ قہقہے لگاؤں لیکن میرے پاس بلکل وقت نہیں تھا ۔ میں نے پیچھے سے چھمیا کی گردن دبوچ لی اس کی منتر والی آواز گھٹ کر رہ گئ ۔ وہ پیچھے مڑ کر اپنے دشمن کو دیکھنا چاہتی تھی ۔ میں نے اس کے کان میں کہا " تمہارے دن ختم ہو گئے ہیں چھمیا اب میرا کھیل دیکھو '"
میں نے جھپٹ کر اس کا دوپٹہ اس کے منہ میں ٹھونس دیا تاکہ اس کا جنتر منتر بند ہو جائے ۔ وہ ساکت بیٹھی رہی ۔
شاید اس نے اپنی شکست دیکھ لی تھی ۔ میں نے رسی سے اسے اچھی طرح باندھا اور اپنے کندھے پر لاد لیا ۔ میں اسے پیچھے نہیں چھوڑ سکتا تھا ۔ کیوں کہ رکشا کنڈل سے نکل کر واپس اسے ڈھونڈ لینا ناممکن تھا ۔
میں نے چھمیا کو لیے ہوئے باہر نکل کر سامی کے دماغ سے رابطہ کیا ۔ وہ اس وقت قریب ہی ایک آم کے درخت پر چڑھی ہوئی تھی اور کیدار نیچے کھڑا تھا ۔
میں چھمیا کو اٹھائے ہوئے طرف بڑھنے لگا ۔
میرے ہاتھ میں وہی داؤ تھا جس سے کیدار میری گردن کاٹنا چاہتا تھا ۔ میں مسلسل سامی سے دماغی رابطے میں تھا ۔ وہ اپنی ہی سوچ کو جھٹک رہی تھی اور اپنی فطرت کے مطابق مجھ پر اعتماد نہیں کر رہی تھی ۔ میں نے اس کی سوچ میں کہا وہ سلگتی آنکھیں یاد کرو جنہوں نے تمہیں جکڑ لیا تھا ۔ وہ میری آنکھوں کو یاد کرنے لگی پھر اس کے دماغ میں میری سوچ کی لہریں سکون پہنچانے لگیں اس دوران میں نے وہ درخت ڈھونڈ لیا جہاں سامی چھپی ہوئی تھی ۔ میں نے چھمیا کو قریب ہی ایک درخت کے ساتھ باندھ دیا اور دبے پاؤں اس درخت کی طرف چلنے لگا جہاں سامی موجود تھی ۔ میں نے اس کی سوچ میں کہا "میں فرہاد علی تیمور ہوں میں تمہاری مدد کرنا چاہتا ہوں ۔ جتنی دیر میں ادھر پہنچ نہیں جاتا تم کیدار کیدار کو اپنی اچھل کود سے اس طرف لگائے رکھو۔"
اس کی سوچ نے کہا مجھے یاد آ رہا ہے وہ سلگتی آنکھیں اور وہ ساحرانہ نظر ۔ اتنی دیر میں وہ بےچینی سے سوچنے لگی میں سمجھ گیا کہ کیدار اسے پکڑنے کے لیے مختلف حربے استعمال کر رہا ہے ۔
تھوڑی دور جا کر مجھے کیدار نظر آ گیا ۔ دور سے اس کا تیل میں چپڑا بدن چاندنی میں چمک رہا تھا ۔ وہ اچھل اچھل کر سامی کو پتھر مار رہا تھا ۔ سامی اس سے بچنے کے لیے ادھر ادھر چھلانگیں لگا رہی تھی ۔ میں نے فیصلہ کیا کہ پہلا حملہ اتنا شدید ہونا چاہیے کہ اسے مزاحمت کا موقع نہ ملے ۔
میں اس کے قریب پہنچا تو شاید چھٹی حس نے اسے خبردار کر دیا ۔ وہ ایکدم پلٹا میں نے داؤ کو گھما کر اس کی بائیں ٹانگ پر وار کیا ۔ وہ چیختا ہوا ایک طرف گر گیا اس کا پاؤں کٹ کر دوسری طرف گر چکا تھا ۔ میں نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اس کی دوسری ٹانگ بھی کاٹ دی ۔ وہ چیخ چیخ کر چھمیا کو بلا رہا تھا ۔ کیونکہ وہی اسے ہر مشکل سے بچاتی تھی ۔
میں نے اسے وہیں چھوڑ کر اوپر سامی کی طرف دیکھا وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے میری فنکاری دیکھ رہی تھی ۔وہ کیدار کو گرا ہوا دیکھ کر درخت سے اتر آئ ۔
نیچے آتے ہی وہ بھاگ کر میرے پاؤں میں لوٹنے لگی ۔ میں نے اس کی سوچ میں جھانکا وہ کہہ رہی تھی میرے محسن میرے دیوتا میں آپ کا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گی ۔ آپ نے میری جان بچائ ۔ میں نے اسے گود میں اٹھا لیا اور اپنے سینے میں بھینچ لیا ۔ مجھے لگا مجھے برسوں کا بچھڑا ہوا محبوب مل گیا ہو ۔ وہ آنکھیں بند کیے میرے ساتھ لگی مجھ سے پیار کروا رہی تھی۔ میں نے اس سے کہا اب میں تمہیں چھمیا سے تمہارا جسم واپس دلاؤں گا ۔
وہ سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھنے لگی ۔ میں اس کی نظروں کا مفہوم سمجھ گیا وہ چھمیا کے بارے میں مجھ سے پوچھ رہی تھی ۔
میں نے اشارے سے بتایا کہ وہ وہاں بندھی ہوئی ہے ۔ اب میں تم دونوں کو اپنے گھر لے جاؤں گا ۔ پھر تمہارا جسم واپس لینے کی تدبیر کرتے ہیں ۔
وہ میری سوچ میں بتانے لگی کہ ایک تدبیر ہے اگر ہم دونوں روحوں کی منتقلی کا منتر پڑھیں تو جو جیتے گا اسے وہ جسم مل جائے گا ۔ میں نے حیرت سے پوچھا " یہ تمہیں کیسے پتا چلا"
وہ میرے گلے میں بانہیں ڈالے جھول رہی تھی کہنے لگی " چھمیا کے گرو مہاراج نے چھمیا کو بتایا تھا میں نے یاد کر لیا تھا"
" چلو ٹھیک ہے ابھی تم دونوں میرے ساتھ چلو پھر کل صبح تم دونوں کا مقابلہ ہو گا۔ اور مجھے پکی امید ہے کہ تم جیت جاؤ گی "
میں نے چھمیا کی رسیاں کھولیں اور اسے آگے آگے چلنے کے لیے کہا رات کے اس پہر مجھے دیکھ لیے جانے کا ڈر نہیں تھا ۔ ہم تینوں دس منٹ میں سڑک تک آ گئے ۔ میں نے چھمیا کا منہ کھول دیا ۔ سامی نے پریشانی سے مجھے دیکھا ۔
وہ میری گود میں تھی ۔ ایک پل کے لیے بھی مجھے اسے علیحدہ کرنے کا دل نہیں کر رہا تھا ۔ میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا "فکر نہ کرو میں چھمیا کو منتر نہیں پڑھنے دوں گا "
چلتے چلتے ہم نے ایک ٹیکسی رکوائی اور تینوں اس میں سوار ہو کر کوٹھی کے گیٹ پر اتر گئے ۔ اس دوران چھمیا نے ایک بار بھی منتر پڑھنے کی کوشش نہیں کی ۔
پھوپھی نے دروازا کھولا تو مجھے ایک خوبصورت لڑکی کے ساتھ دیکھ کر ٹھٹھک گئیں ۔ میں چھمیا اور سامی کو لے کر اپنے کمرے میں آ گیا ۔ چھمیا چپ چاپ بیڈ پر بیٹھ گئ ۔ مجھے اس کی شرافت پر قطعاً بھروسہ نہیں تھا ۔ میں نے دوبارا سے اس کا منہ باندھ دیا ۔ سامی نے اشاروں سے مجھے بتایا کہ میری روح اب بلی میں قید نہیں رہی ہے ۔ میں بہت ہلکا پھلکا محسوس کر رہی ہوں ۔ میں نے حیرت سے چھمیا کی طرف دیکھ کر پوچھا " کیوں چھمیا کیا تمہیں سامی کی ضرورت نہیں رہی ؟ "
اتنے میں پھوپھو نے دروازے پر دستک دی ۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ اور زرینہ تفصیل جاننے کے لیے بےچین ہیں ۔
میں نے سامی کو پیار کیا اور دروازہ کھول کر باہر نکل آیا ۔ سامنے پھوپھو پریشانی سے کھڑی تھیں مجھے دیکھتے ہی میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے کمرے میں لے آئیں
فرہاد یہ کیا ہے کہ یہ گھاگھرے میں جوان لڑکی کون ہے
آخر ہمیں بھی تو پتا چلے تم کیا کرتے پھرت ہو اور یہ تم کدھر غائب تھے ؟ میں نے انہیں ایک ایک بات تفصیل سے بتائ اور ان سے کہا کہ وہ زرینہ کو لے کر ایک دن کے لیے شاہ پور چلی جائیں ۔ وہ میری بات سے فوراً متفق ہو گئیں شاید جادو منتر نے انہیں ڈرا دیا تھا
اگلی صبح جب میں ناشتہ لے کر کمرے میں گیا تو چھمیا بستر پر سو رہی تھی اور سامی کسی پہرے دار کی طرح اس کے پاس بیٹھی تھی یہ دیکھ کر میری ہسی چھوٹ گئ۔ سامی منہ پھیر کر بیڈ کے نیچے چھپ گئ ۔ میں نے پیار سے پچکارتے ہوئے اسے کہا" میرا وہ مطلب نہیں ہے تم باہر آؤ شاباش ناشتہ کرو " میری آواز سن کر چھمیا بھی اٹھ کر بیٹھ گئی میں نے اس کا منہ کھولا اور اس کے منہ میں نوالے ڈالنے لگا ۔ وہ آہستہ آہستہ کھانے لگی میں نے اس کی سوچ پڑھی وہ دل ہی دل میں کہہ رہی تھی کہ اسے سامی پوکر کا جسم چھوڑ کر کسی اور خوبصورت لڑکی کے جسم میں منتقل ہو جانا چاہیے ۔ اس لڑکی نے مجھے برباد کر دیا ہے مجھے بہت پہلے گرو کی بات مان لینی چاہیے تھی میری ضد نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا ۔ میرا دلبر میرا کیدار بھی مجھ سے بچھڑ گیا ہے بس مجھے اس لڑکی کے جسم میں نہیں رہنا ۔ میں نے خیال خوانی سے محسوس کیا کہ وہ باہر گیٹ پر ہے ایکدم مجھے کسی گڑبڑ کا احساس ہوا ۔ یہ سامی کا جسم نہیں تھا یہ تو کوی اور تھی ۔ میں نے آنکھیں کھول کر کمرے میں دیکھا سامی اپنے جسم میں بیٹھی مسکرا رہی تھی
وہ حیرت سے اپنا بدن چھو چھو کر دیکھ رہی
تھی ۔ محسوس کر رہی تھی ۔ اپنے آپ کو یقین دلا رہی تھی کہ اس کا جسم اس کی روح کے ساتھ مل گیا ہے اور اب وہ اس سے کبھی جدا نہ ہوگا ۔
پھر ایک سرخوشی کے عالم میں سامنے لگے قد آدم آیئنے کے سامنے جا کر کھڑی ہو گئ ۔ اس نے آس پاس کے ماحول کو بلکل فراموش کر دیا تھا ۔ تھوڑی دیر کے لیے وہ بھول ہی گئ تھی کہ دنیا میں اس کے خوبصورت جسم کے علاؤہ بھی کوی اور ہے ۔ وہ تھی اور اس کا جھلملاتا ہوا عکس ۔ عورت جب اپنے ہی حسن و شباب پر فریفتہ ہونے لگے تو اسے اپنے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا ۔ اس نے اپنی دو بانہیں اوپر اٹھائیں اور ایک بھرپور انگڑائی لی ۔
اسی سمے اس کی نگاہ مجھ پر پڑی ۔ اس نے جھینپ کر بازو نیچے گرا دیے ۔ اس کی جان لیوا انگڑائی ٹوٹ گئ تھی ۔
اسے یاد آ گیا کہ وہ کمرے میں تنہا نہیں ہے ۔
پلٹ کر مسکراتے ہوئے بولی
" میرے دیوتا میں خوشی سے پاگل ہو گئ تھی ۔ یہ بھول گئ تھی کہ میرے دیوتا میرے پاس ہیں مجھے سب سے پہلے اپنے دیوتا کے قدموں میں جھکنا چاہیے"
وہ آگے بڑھی اور میرے قدموں میں جھک گئ۔ میں نے اسے دونوں بازوؤں سے پکڑ کر سیدھا کھڑا کیا اور کہا
" نیکی کرنے والا اور کسی کے کام آنے والا فرشتہ یا دیوتا ضرور ہوتا ہے لیکن میرے مذہب میں کسی فرشتے یا دیوتا کو سجدہ کرنے کی اجازت نہیں.
اگر میں دیوتا ہوں تو تم دیوی ہو تم نے اپنے عزم اور ہمت سے چھمیا کے جادو کو شکست دی ہے اگر تم حوصلہ ہار جاتی تو کبھی اس طرح ہماری ملاقات نہ ہوتی ۔ یہ جسم تمہاری بےمثال جرآت اور ہمت کا انعام ہے "
"اور یہ انعام مجھے آپ نے دیا ہے میرے دیوتا"
"مجھے دیوتا نہ کہو میرا نام فرہاد ہے"
" فرہاد " اس نے بڑی محبت اور عقیدت سے میرا نام لیا پھر میرے ہاتھ کو اپنے نازک ہاتھوں میں لے کر میری ہتھیلی کی پشت بوسہ دیا ۔ وہ نازک آتشیں لب جو دور دور سے آگ لگاتے تھے آج میری ہتھیلی کی پشت پر آگ بھڑکا رہے تھے ۔ یہ آگ مجھے اپنے رگوں میں سیال مادہ بن کر دوڑتی ہوئی محسوس ہوئ ۔ دل چاہا کہ اس بوسے کے جواب میں ، میں بھی ایک بوسہ پیش کروں لیکن پھر یہ سوچ کر ضبط کر لیا کہ یہ بوسہ ایک دیوتا کے لیے ہے ۔ ابھی وہ مجھے عقیدت سے چوم رہی ہے کل وہ محبوب سمجھ کر گلے لگے گی۔"
میرے صبر نے مجھے اچھا صلہ دیا ۔ میں نے اس کی سوچ پڑھی وہ سوچ رہی تھی
ہائے یہ ہاتھ کتنے مضبوط ہیں جو کوئ اس کے شکنجے میں آئے وہ تڑپتا رہ جائے ۔ اس میں ہر وہ خوبی ہے جو کسی بھی عورت کا خواب ہو سکتی ہے ۔ دراز قد، چٹانی سینہ، آہنی بازو ۔ یہ دلیر اور ذہین بھی ہے۔ ایک مکمل مرد ۔ میں تو ایسے ہی کسی خوبرو آئیڈیل کی تلاش میں تھی لیکن میں اپنے منہ سے کیسے کیوں ۔۔ یہ تو میری سوچ بھی پڑھ سکتے ہیں اس نے گھبرا کر اپنا سر اٹھایا
میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور آہستگی سے کہا
" میں خوش نصیب ہوں جو تمہارے خیالوں میں بس رہا ہوں اگر ہماری دوستی میں محبت کی مٹھاس ایسے ہی گھلتی رہی تو ہماری دوستی مزید پائیدار ہو جائے گی "
اس نے فوراً موضوع بدل دیا
دیکھیے میں کتنی نادان ہوں اپنا جسم حاصل کرتے ہی چھمیا کو بھول گئ۔ آپ ٹیلی پیتھی کے ذریعے چھمیا کی خبر لیں ۔
مجھے بھی چھمیا کا خیال آیا
میں نے کہا اچھی بات ہے تم اتنی دیر زرینہ کے کمرے میں جاؤ اور اپنی پسند کا کوئ لباس بدل کر فریش ہو جاؤ میں چھمیا کی خبر لیتا ہوں ۔
اگرچہ میرا دل ایک پل کو بھی سامی کو اکیلا چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھا لیکن چھمیا کیا کرتی پھر رہی ہے کدھر ہے اس کے بارے میں جاننا بھی ضروری تھا ۔
سامی کمرے سے چلی گئ تو میں نے آنکھیں بند کر کے چھمیا کی سوچ پر دستک دی ۔ وہ چچاجان کے سامنے کھڑی تھی ۔ چچا جان اس سے پوچھ رہے تھے " غزالہ تم یہ کیا کہہ رہی ہو ؟
مجھے جھٹکا لگا" تو چھمیا نے غزالہ کا جسم حاصل کر لیا تھا ۔ اوہ۔۔۔۔ غزالہ کو کہیں سے دیکھ کر اسے یہی سوجھا ہوگا کہ سامی نہ سہی غزالہ بھی کم خوبصورت نہیں ہے "
مجھے غزالہ کی موت کا دکھ ہوا۔ کل تک وہ مجھے مارنا چاہتی تھی اور آج وہ خود نہیں رہی تھی ۔ میں ٹھنڈی سانس بھر کر چچاجان اور اس کی باتیں سننے لگا
وہ کہہ رہی تھی " میں نے فرہاد کو نہیں دیکھا اور اس کی پھوپھی بھی گھر نہ تھی"
چچا جان نے حضرت سے کہا " غزالہ بیٹے یہ تمہیں کیا ہو گیا ہے وہ ےمہتج بھی تو پھوپھی ہیں ۔ "
وہ گھبرا کر بولی" اباجان میرے ذہن کو پتا نہیں کیا ہوگیا ہے شاید صبح سے کچھ کھایا نہیں میں جلدی سے ناشتہ کر لوں "
" اباجان ؟ لیکن تم نے تو مجھے کبھی اباجان نہیں کیا "
اب وہ پوری طرح بوکھلا چکی تھی
میں اسے اس کے حال پر چھوڑ کر اس کے دماغ سے نکل آیا ۔
میں سامی کو دیکھنا چاہتا تھا اسے سوچنا چاہتا تھا ۔ میں نے اس کے دماغ میں جھانک کر دیکھا ۔ وہ میری کشش سے گھبرا رہی تھی ۔ میری سوچ سے کترا رہی تھی لیکن پھر بھی مجھے سوچ رہی تھی ۔
میں نے اس کی سوچ میں کہا " محبت سے کترانا کیسا ۔ان سے محبت میری زندگی بن گئ ہے ۔
میرے خوابوں کا شہزادہ مجھے انعام میں مل رہا ہے اس سے نظر چرانا کفرانِ نعمت ہے ۔
وہ سوچنے لگی" میں بھی کیا ہوں میری ماں ایک ہندو ناری تھی میرا باپ انگریز ہے اور میں جسے دل و جان سے چاہنے لگی ہوں وہ مسلمان ہے ۔ میری روح میں سارے دھرم جمع ہو گئے ہیں ۔ مجھے ہندو دھرم سے محبت ہے کیونکہ میں نے ایک ہندو عورت کا دودھ پیا ہے میری رگوں میں ایک عیسائی کا خون ہے اور مجھے اسلام سے عقیدت ہے کیونکہ یہ میرے دیوتا کا مزہب ہے ۔ میں آخری سانس تک اس کی رہوں گی ۔ یہ سوچتے ہوئے وہ غسل خانے کی طرف چلی گئی ۔ میں اس کے دماغ سے نکل آیا ۔
میں نے دوبارا چھمیا کے دماغ میں جھانک کر دیکھا وہ بستر پر ہڑی تھی اس کے ارد گرد گھر کے ملازم ایک ڈاکٹر اور قاسم کھڑے تھے ۔ چچاجان ساتھ ہی کرسی پر سر پکڑ کر بیٹھے تھے ۔ میں نے حیران ہوتے ہوئے اس کی سوچ کو ٹٹولا تو پتا چلا کہ اس نے یاداشت کھو جانے کا ناٹک رچایا ہوا ہے ۔ اور وہ کسی حد تک کامیاب رہا تھا کیونکہ وہ غزالہ کی زندگی کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی ۔ اس کی نظریں قاسم پر تھیں وہ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی کہ یہ غزالہ کا دوست ہے ضرور میرے کام آئے گا ۔ میں اس کے ذریعے یہاں سے نکل جاؤں گی ۔
میں اس کی شاطرانہ سوچ سے نکل آیا ۔ اسی وقت سامی دروازا کھول کر اندر آ گئ ۔ میں چند لمحوں تک اسے دیکھتا رہ گیا غسل کرنے کے بعد اس کا حسنِ جہاں سوز گلاب کی ادھ کھلی کلی کی طرح نکھر گیا تھا ۔ گھنے سیاہ بال کھلے ہوئے تھے ۔ وہ پلکیں اٹھاتی گراتی میرے کمرے کے ہلکے اندھیرے میں روشنی بکھیر رہی تھی ۔
گو کہ وہ میرے خیالات نہیں پڑھ سکتی تھی لیکن اچھی طرح جانتی تھی کہ میری نگاہیں اس کے وجود کے چپے چپے پربہک رہی ہیں ۔ کہیں ٹھہر رہی ہیں کہیں پھسل رہی ہیں ۔ ریشم کے بدن پر ململ کی ساڑھی یوں لپٹی ہوئی تھی جیسے جذبے جذبوں سے لپٹ جاتے ہیں ۔ میں ٹھہر ٹھہر کر اس کی طرف بڑھنے لگا ۔ مجھے یقین تھا کہ وہ میرے بازوؤں میں پگھل جائے گی ۔ میں اس کی سوچ پڑھ چکا وہ دل ہی دل میں مجھے اپنے جسم و جان کا مالک مان چکی تھی پھر بھی میں نے اس وقت اس کے جذبات کو سمجھنا ضروری سمجھا ۔ وہ سوچ رہی تھی
" میں کیا کروں یہ مجھے ایسی نظروں سے دیکھ رہے ہیں جیسے بھوکا درندہ اپنے شکار کو دیکھتا ہے ۔ میں کوئ شکار کی ہوئ چیز نہیں ہوں میں تو یہ سوچ رہی تھی کہ ہم دھیرے دھیرے ایک دوسرے کو سمجھیں گے ۔ آہستہ آہستہ پیار بڑھے گا ۔ یہ درست ہے کہ مرد اور عورت کی دوستی جس انداز سے بھی شروع ہو اس کا اختتام اسی چیز پر ہوتا ہے کہ ایک دوسرے کی بھوک مٹائ جائے لیکن اس تعلق کے کچھ اصول ہوتے ہیں جن پر عمل کرنے سے کبھی پچھتاوا نہیں ہوتا ۔
میں فرہاد کو کیسے سمجھاؤں ؟ یہ تو مجھ سے زیادہ ذہین ہیں۔ پھر یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ جلدبازی اچھی چیز نہیں ہے ۔ ابھی تو ہماری ملاقات کو چند گھنٹے گزرے ہیں ابھی تو ہمیں ایک دوسرے کو سمجھنا ہے ہمیں ایک دوسرے کو وقت دینا چاہیے ۔
سامی کے خیالات پڑھ کر میرے قدم رک گئے ۔ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ میں اس کے خیالات پڑھ رہا ہوں ۔
میں نے ہاتھ بڑھا کر
سامی سے کہا
سامی ہم اچھے دوست ہیں اچھے دوست کبھی ایک دوسرے کو شکایت کا موقع نہیں دیتے۔ میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ میں شرافت کے دائرے میں رہ کر دوستی نبھاتا رہوں گا"
میں اس کا ہاتھ تھام کر صوفے پر لے آیا ۔ آؤ میں تمہیں چھمیا کے بارے میں بتاتا ہوں ۔
وہ میرے ساتھ آ کر بیٹھ گئی اس نے مجھ سے ہاتھ نہیں چھڑایا گویا وہ ملائم ہاتھ محبت کی کتاب کا پیش لفظ ہو۔
میں اسے چھمیا کی داستان سنانے لگا کہ کس طرح وہ یاداشت کھو جانے کا ناٹک کر رہی ہے ۔
سامی نے کہا جتنی جلدی ہو سکے وہ چڑیل یہاں سے دور چلی جائے ورنہ ہم سے انتقام لینے کے بہانے ڈھونڈتی رہے گی
"وہ ایسا نہیں کرے گی" تم فکر نہ کرو وہ مجھ سے ڈرتی ہے ۔ وہ یہاں سے بھاگ جائے گی ۔
میں نے سامی کی طرف دیکھا
" کیا خیال ہے تھوڑی سی نیند لی جائے ۔ ہم کب سے سوئے نہیں ہیں "
اس نے تائید میں سر ہلایا تو میں اٹھ کھڑا ہوا
اس نے آہستگی سے اپنا ہاتھ چھڑالیا ۔ میں نے اس سے کہا تم نے آئینے میں اپنا جسم دیکھ کر میرا ہاتھ چوم لیا تھا کیا میں محبت سےتمہارا ہاتھ نہیں چوم سکتا۔ اس نے شرما کر گردن جھکا لی
میں نے جھک کر اس کی گلاب ہتھیلی کو چوم لیا ۔ اس نے فوراً ہاتھ کھینچ لیا پھر ہستے ہوئے بولی " میں سب سمجھتی ہوں تم شرارت سے باز نہیں آ و گے لیکن اس وقت میں تمہیں اپنے خیالات نہیں پڑھنے دوں گی ۔ یہ کہہ کر وہ تیزی سے چلتی ہوئی کمرے سے نکل گئ ۔
میں بیڈ پر لیٹ گیا ۔ نرم ملائم بیڈ پر لیٹ کر ایسے لگا جیسے میں پوری دنیا کا چکر لگا کر تھک کر گرا ہوں ۔ لیٹتے ہی آنکھیں بند ہو گیئں ۔ اتنی گہری نیندنہ کوئ غم، نہ سکھ نہ پریشانی نہ فکر بس نیند کا سمندر تھا اور میں تھا۔
اپنے بالوں میں کسی کی نازک انگلیوں کے لمس سے میری آنکھ کھل گئی ۔ وہ مجھ پر جھکی ہوئی مجھے جگا رہی تھی ۔ اس کی آنکھوں میں اتنی محبت اور خود سپردگی تھی کہ میں بےاختیار ہو گیا ۔ میری آنکھیں کھلتی دیکھ کر وہ ہستے ہوئے پیچھے ہٹ گئ ۔ میرے کانوں میں مندروں کی گھنٹیاں بجنے لگیں ۔
" اب اٹھ جاؤ فرہاد ۔ میں چائے لا رہی ہوں ۔ جاؤ فریش ہو کر آ جاؤ"
میں اس کی خوشبو کو دل میں اتارتے ہوئے گنگناتا ہوا باتھ روم چلا گیا ۔
میں باہر نکلا تو وہ چائے کپوں میں ڈال رہی تھی ۔ اس نے ایک پیالی میری طرف بڑھائی " یہ لو بیڈ ٹی پلس ایوننگ ٹی ۔ چائے پی لو پھر میں کھانا بناتی ہوں"
"نہیں ۔ ہم کھانا باہر کھائیں گے پھر تم کچھ شاپنگ کرنا ۔ اپنی ضرورت کی چیزیں اور کپڑے خریدنا پھر ہم بھوانی شنکر اور احمد شیخ کے بندوبست کا منصوبہ بناتے ہیں "
" اوکے ڈن " وہ چائے پیتے ہوئے
میرے خیالات سے بچنے کی کوشش کرنے لگی جو کہ ناممکن تھا ۔
ایک گھنٹے بعد ہم دونوں تیار ہو کر کوٹھی سے نکلے ۔ میں نے بلیک ڈنر سوٹ پہن رکھا تھا سامی نے مہندی کلر کی ساڑھی پہنی ہوئی تھی سیاہ زلفوں میں سفید گلاب کا پھول مسکرارہا تھا ۔وہ اس وقت اس دنیا کی حسین ترین لڑکی تھی اور میرے پہلو میں بیٹھی تھی ۔ میں گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے دونوں عالم سے بےخبر اس کے حسن میں کھویا ہوا تھا ۔
میں نے کھانے کے لیے شبانہ کلب کا انتخاب کیا ۔
میرے دل میں تھا کہ شاید قاسم فلیش کھیلنے وہاں آئے ۔ اور ساتھ چھمیا بھی ہو ۔ وہ ہم دونوں سے ڈر کر ہمیشہ کے لیے یہاں سے بھاگ جائے ۔
ہم کلب میں داخل ہوئے تو ہر خاص و عام کی نگاہیں سامی کے حسین سراپے پر جم گئیں ۔ میں نے بےاختیار اس کا ہاتھ تھام لیا ۔ہم دونوں ایک کارنر والی میز منتخب کر کے آمنے سامنے بیٹھ گئے ۔ خوبصورت عورت کا ساتھ مرد کے حواس پر اس قدر چھایا ہوا ہوتا ہے کہ اسے اپنے ارد گرد سے مکمل بےگانہ کر دیتا ہے ۔ میرے ساتھ بھی یہی ہو رہا تھا ۔ میں اپنی ہونے والی جیون ساتھی کے سحر میں اس طرح ڈوبا ہوا تھا کہ کاونٹر کے ساتھ کھڑے سادہ کپڑوں میں سپیشل فورسز کے آدمیوں کے بارے میں بلکل اندازہ نہ کر سکا ۔
ہم نے کھانے کا آرڈر دیا ۔ میں نے ایک پل کے لیے چھمیا کے دماغ میں جھانکا جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ قاسم کے ساتھ کسی ریل گاڑی میں سفر کر رہی ہے ۔ یعنی وہ شہر سے جا چکی تھی ۔ میں نے سامی کو بتایا ۔ وہ برا سا منہ بنا کر بولی چھوڑو اس چھمیا چڑیل کو مجھے اپنے بارے میں کچھ بتاؤ ۔کیا مجھ سے پہلے بھی کوی لڑکی تمہاری زندگی میں آ چکی ہے؟
میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکا " اگر میں کہوں ہاں تو کیا مار ڈالو گی انہیں ۔؟"
"نہیں انہیں تو نہیں کیونکہ وہ ماضی میں تھیں لیکن اب اگر کوئی تمہارے قریب آئ تو روح کھینچ لوں گی "
اس نے پوری آنکھیں کھول کر مجھے ڈرایا میں ڈرنے کی ایکٹنگ کرنے لگا تو وہ کھلکھلا کر ہسنے لگی ۔ اس کی نقرئ ہسی سن کر بہت سارے لوگ مڑ کر رشک و حسد سے مجھے دیکھنے لگے ۔ اسی دوران کھانا آ گیا ۔ ہم باتوں کے دوران کھانا کھانے لگے ۔ میں سامی کو ٹیلی پیتھی کے علم کے بارے میں بتانے لگا ۔ وہ حیرانی سے سن رہی تھی ۔ کہنے لگی تم بھوانی شنکر اور احمد شیخ کے دماغ میں کیوں نہیں جاتے تاکہ ان کا پتا معلوم کیا جا سکے ۔ میں اسے بتانے لگا کہ میرا علم ابھی محدود ہے میں نے جب تک کسی آواز نہ سنی ہو میں اس کے دماغ میں نہیں جا سکتا ۔ شاید مجھ سے بڑے عالم موجود ہوں جو اس کے بغیر بھی دوسرے کی سوچ پڑھ سکتے ہوں۔ باتیں کرتے ہوئے میں ہاتھ دھونے کے لیے واش روم جانے لگا تو کاؤنٹر کے پاس کھڑے ایک شخص نے میرا راستہ روک کر کہا
"ایکسکیوز می مسٹر ہم آپ سے اس لڑکی کے بارے میں کچھ سوالات کرنا چاہتے ہیں ۔ آپ سمجھ تو گئے ہوں "
میں نے خطرہ بھانپ لیا مگر لہجے کو نارمل رکھا " جی ضرور کیجیے مگر پہلے اپنا تعارف کروا دیں تو مہربانی ہوگی "
"میں انٹیلیجنس انسپیکٹر ہوں آپ کو میرے ساتھ اس کمرے میں چلنا ہوگا" اس نے سامنے مینیجر کے کمرے کی طرف اشارہ کیا ۔
اب اس کے ساتھ جانے کے علاؤہ میرے پاس کوئ دوسرا راستہ نہیں تھا ۔ میں نے سامی کی سوچ سے رابطہ کیا ۔ وہ حیرت سے کاؤنٹر کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ میں نے اسے انسپیکٹر کے بارے میں بتایا اور محتاط رہنے کا کہہ کر مینیجر کے کمرے میں آ گیا ۔
وہاں ایک اور شخص بیٹھا تھا اس نے ہاتھ بڑھا کر مجھ سے مصافحہ کیا " میں انٹیلیجنس آفیسر رجب علی "
آپ ؟
"میں فرہاد علی تیمور ہوں اپنی منگیتر سمعیہ ناز کے ساتھ کھانا کھانے کے لیے آیا ہوں ۔ "
آپ کی رہائش ؟
میں نے کوٹھی کا پتا بتا یا۔
یہ لڑکی کے ویئر اباوٹس ؟
سمعیہ ناز ڈھاکہ میں اپنے والد کے ساتھ رہتی تھیں ۔ والد کی اچانک وفات کی وجہ یہاں میرے پاس آنا پڑا۔ ہمارا محبت کا رشتہ ہے ۔
ہماری منگنی ہو چکی ہے اور کچھ دیر میں شادی ہونے والی ہے ۔ میں اپنے گھر میں اپنی پھوپھی اور ان کی بیٹی کے ساتھ رہتا ہوں ۔ میں نے اپنے بارے میں ہر چیز انہیں بتا دی سوائے ٹیلی پیتھی کے۔
انسپیکٹر نے عجیب طنزیہ نظروں سے میری طرف دیکھا
یہ لڑکی سلمیٰ قادر ہے ۔ اس نے ہمارے انتہائی اہم راز چرا کر دشمن کے حوالے کیے ہیں ۔ مسٹر فرہاد آپ اپنے آپ کو انڈر اریسٹ سمجھیں "
اتنے میں باہر سے فائرنگ کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں ۔ میں نے سامی کے دماغ سے رابطہ کیا تو وہ بولی" فرہاد کدھر ہو تم یہاں میرے چاروں طرف آدمی آ کر کھڑے ہو گئے ہیں ان میں سے ایک کو میں نے پہچان لیا ہے وہ بھوانی شنکر کا بندہ ہے "
میں نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا " میں تمہارے ساتھ رہوں گا تم ایک بہادر لڑکی ہو میں انسپکٹر کے سوالات کا جواب دے کر دو منٹ میں پہنچ رہا ہوں "
میں سامی سے رابطہ توڑ کر انسپکٹر سے کہا" آپ لوگ میرے لیے مصیبت کھڑی کر رہے ہیں باہر میری سامی اکیلی ہے اگر اسے کچھ ہو گیا تو میں اپنے آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گا ۔ براہ مہربانی مجھے اس کے پاس جانے دیجیے "
انٹیلیجنس آفیسر نے میری بات کا جواب دینے کی بجائے وائرلیس کھول کر اپنے ماتحتوں سے بات چیت شروع کر دی " دیکھو کلب کو چاروں طرف سے گھیرے میں لے لو لڑکی کلب سے باہر نہیں جانی چاہیے ۔ اوہ ۔۔۔۔"
یہ کہہ کر اس نے میری طرف دیکھا" تو تم نے اپنے ساتھیوں کو بلا لیا ہے مجھے پہلے ہی تم پر شک تھا "
"میں اپنے ملک کا وفادار ہوں میں مر کر بھی ملک دشمنوں کے ساتھ نہیں مل سکتا ۔ اگر آپ کو یقین نہیں تو مجھے آزما کر دیکھیں" یہ کہہ کر میں نے سامی کے دماغ سے رابطہ کیا وہ کہہ رہی تھی فرہاد یہ لوگ مجھے اغوا کر کے لے جا رہے ہیں ۔ ادھر شدید فائرنگ ہو رہی ہے مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا ۔ یہ بھوانی شنکر کے آدمی ہیں مجھے پورا یقین ہے یہ انڈین ایجنیںٹ ہیں ۔ فرہاد کچھ کرو "
" میں نے اسے پیار سے سمجھایا کہ وہ پر سکون رہے میں ان لوگوں تک پہنچ جاؤں گا ۔ بس وہ راستہ یاد کرتی جائے جہاں یہ لے جا رہے ہیں"
میں نے انسپیکٹر سے کہا " آپ کی فورسز کچھ نہیں کر سکیں دشمن مُلک کے ایجنیٹس میری منگیتر کو لے کر جا رہے ہیں ۔ اور آپ نے مجھے بھی ادھر قید کر کے رکھا ہوا ہے مجھے جانے دیجیے میں اپنی سامی اپنی زندگی کو بچانا چاہتا ہوں "
انسپکٹر وائرلیس پر چیخ رہا تھا ۔ دوسرے آفیسر نے اپنا ریولوار نکال کر مجھ پر تان لیا ۔" تمہیں کیسے پتا چلا کہ تمہاری منگیتر کو وہ لوگ اغواء کر کے لے جا رہے ہیں ؟ "
میرے پاس سونگھنے کی ایک خاص حس ہے میں اپنی منگیتر کی خوشبو سے بتا سکتا ہوں کہ وہ کہاں ہے ؟ میں دانستہ ٹیلی پیتھی کے علم کو چھپا لیا اس طرح ایجنسی کو یہ لگتا کہ میں ان کے راز چرانے میں دشمن کا مددگار ہوں ۔
وہ دونوں میری بات سن کر طنزیہ مسکرانے لگے
" اگر آپ کو میری بات کا یقین نہیں تو آزما کر دیکھ لیں ۔ آپ انسپیکٹر کو باہر بھیجیں ۔ وہ جہاں جہاں جائے گا میں اس کی تفصیل آپ کو بتا سکتا ہوں"
میں نے انہیں چیلنج کیا ۔
دونوں کچھ دیر سوچتے رہے پھر انسپیکٹر نے کہا آزما لینے میں کوئ حرج نہیں ۔ میں باہر جاتا ہوں۔ میں انسپیکٹر کی سوچ میں پہنچ گیا ۔
یہ کر وہ کمرے سے نکل کر بائیں طرف مڑ گیا وہاں سے ایک چھوٹے کمرے سے ہو کر باہر لان میں چلا گیا پھر لان کے پچھلے حصے میں جانے لگا ۔
میں یہ ساری باتیں آفیسر کو بتاتا رہا۔
کچھ دیر بعد واپس آ کر اس نے آفیسر کو میری ساری معلومات کے مطابق جواب دیا ۔
اب دونوں دلچسپی سے مجھے دیکھ رہے تھے ۔ پھر آفیسر نے فیصلہ کن انداز میں کہا چلو اسے گاڑی میں بٹھاؤ اس دوران اس نے مجھ پر پستول تانے رکھا ۔
میں نے سامی کی خبر لینے کے لیے اس کے دماغ میں جھانکا ۔ وہ میرا ہی انتظار کر رہی تھی ۔
میں نے اس سے پوچھا تم کدھر ہو ۔ وہ پریشانی سے بولی " میں ایک جیپ کی پچھلی سیٹ پر دو آدمیوں کے درمیان بیٹھی ہوں اور میری آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے ۔ فرہاد مجھے راستے کا کچھ پتا نہیں چل سکا ہے ۔"
میں نے اسے کہا کہ وہ ڈرائیور سے بات چیت کرے تاکہ میں اس کے دماغ میں پہنچ جاؤں پھر کوئ مسلہ نہیں رہے گا ۔
میری ہدایت کے مطابق وہ ڈرائیور سے ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگی ۔ ڈرائیور کی آواز اور لب و لہجے سے میں اگلے ہی پل اس کے دماغ میں پہنچ گیا ۔ وہ قصور روڈ کے ساتھ ایک ویران سڑک پر تھا ۔ میں نے انٹیلیجنس آفیسر کو بتایا کہ وہ لوگ ادھر موجود ہیں ۔ اس نے اپنا وائرلیس کھول کر ایک مسلح ٹیم کو اپنے پیچھے آنے کی ہدایت کی ۔ رات کے دس بج رہے تھے اس سڑک پر چاروں طرف اندھیرا تھا ۔
میں مسلسل سامی کے دماغ میں موجود تھا ۔ اس دوران ڈرائیور کا دماغ بھی پڑھتا رہا ۔ تقریباً ایک گھنٹے کے بعد وہ لوگ ایک پرانے سے مکان کے سامنے رک گئے ۔ اور سامی کو کھینچ کر اندر لے گئے ۔ وہ مکان مکمل درختوں میں گھرا ہوا تھا ۔ باہر سے دیکھ کر کوئ اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ ادھر کسی کی رہائش بھی ہو سکتی ہے ۔
میں نے انسپیکٹر کو مطلوبہ لوکیشن سمجھائ ۔ منصوبہ یہ تھا کہ ہمارے پیچھے آتی کار میں موجود فورس مکان کو گھیرے میں لے لے گی جبکہ انسپکٹر اور اس کا آفیسر اندر داخل ہوں گے جبکہ میں ایک سپاہی کی نگرانی میں گاڑی میں بیٹھوں گا ۔ لیکن معاملہ گڑ بڑ ہو گیا ۔ جونہی پچھلی گاڑی سے مسلح افراد نکل کر مکان کی طرف بھاگے پیچھے سے دشمن کے آدمیوں نے فائرنگ شروع کر دی ۔ وہ مختلف درختوں پر چڑھے ہمیں آتا ہوا دیکھ رہے تھے ۔ ہمارے آدمی بھاگتے ہوئے ادھر ادھر درختوں کی پیچھے چھپ کر جوابی فائرنگ کرنے لگے ۔ انسپیکٹر اور دوسرا آفیسر کار سے اتر کر زمین پر لیٹ گئے ۔ میں بھی ان کی تائید میں زمین پر لیٹ کر رینگ رینگ کر مکان کی طرف بڑھنے لگا ۔ اتنے میں انسپیکٹر کے ہاتھ پر فائر لگا ۔ اس کا ریوالور دور جا گرا ۔
میں۔ نے موقع سے فایدہ اٹھاتے ہوئے ریوالور اپنے ہاتھ میں لے لیا ۔ اور آہستگی سے مکان کی طرف بڑھنے لگا ۔ اس دوران میں نے سامی کی سوچ میں کہا " میں آ گیا ہوں میری جان تم تیار رہو میں اگلے تین چار منٹ تمہارے پاس ہوگا "
وہ زور زور سے سانس لے رہی تھی جیسے مزاحمت کر رہی ہو ۔ کہنے لگی" فرہاد یہاں کوئ نہیں ہے سب جا چکے ہیں یہ ایک گونگا آدمی ہے یہ وحشیوں کی طرح مجھے اپنی کمر پر لاد کر پچھلے دروازے سے بھاگ رہا ہے"
میں نے تیزی سے چکر کاٹا اور مکان کے پچھلی طرف آ گیا ۔ وہاں کوئ بھی نہیں تھا ۔ میں نے سامی کی سوچ سے رابطہ کیا ۔ وہ دور ایک کچے راستے پر تھے ۔ میں نے اندھا دھند ادھر بھاگنا شروع کر دیا ۔ جلد ہی وہ گونگا شخص مجھے نظر آنے لگا۔ میرے لیے وہ گونگا شخص چیلنج بن گیا تھا ۔ وہ بول نہیں رہا تھا جس کی وجہ سے میں اسے ٹیلی پیتھی کے ذریعے کنٹرول نہیں کر سکتا تھا ۔
وہ تیزی سے ایک طرف بھاگتا جا رہا تھا ۔ اتنے میں کہیں دور سے ہیلی کاپٹر کی آواز آنے لگی۔
میں نے بےبسی سے سامی کی سوچ میں کہا " سامی اپنا جسم چھوڑ دو ۔ ان لوگوں کو موقع نہ دینا کہ وہ تمہیں مجھ سے جدا کر دیں "
جواب میں وہ سوچنے لگی " جس جسم کو میں نے جان جوکھوں میں ڈال کر حاصل کیا ہے اسے میں کیسے چھوڑ دوں فرہاد ۔ تم میری جگہ پر آ کر سوچو ۔ "
دنیا و مافیہا سے بےخبر میں گونگے کے پیچھے دوڑ رہا تھا ۔ میں کسی بھی صورت سامی کو بچا لینا چاہتا تھا ۔ میرے ہاتھ میں انسپیکٹر کا ریوالور تھا ۔ میں نے نشانہ لے کر فائر کرنا چاہا ۔ اسی وقت ایک ہیلی کاپٹر کہیں سے نمودار ہوا ۔ گونگا اس کی طرف بھاگنے لگا ۔ میں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی ۔ لیکن میری فائرنگ کا کوئ اثر نہ ہوا ۔ اس نے سامی کو ہیلی کاپٹر میں دھکیلا اور وہ اوپر اٹھنے لگا ۔ میرے فائرنگ کرتے ہاتھ تھم گئے ۔
سامی۔۔۔ سامی ۔۔۔ میں دوڑتے چیخنے لگا لیکن میں جتنی تیزی سے دوڑ رہا تھا وہ اتنی تیزی سے فضا میں بلند ہو رہا تھا ۔ ۔ میں لڑکھڑا کر گر پڑا ۔ میں گھاس پر چت لیٹا حسرت سے سامی کو دور جاتے دیکھ رہا تھا ۔ میری زندگی مجھ سے دور جا رہی تھی مجھے لگ رہا تھا میری روح میرے جسم سے الگ ہو رہی ہے ۔ میں ہیلی کاپٹر کو آہستہ آہستہ اوپر اٹھتا ہوا دیکھ رہا تھا ۔ وہ میری فائرنگ رینج میں تھا ۔ میں نے سامی کی سوچ میں کہا " میں ہیلی کاپٹر پر فائر کرنے لگا ہوں میں تمہاری جدائی برداشت نہیں کر سکتا"
میں نے ریوالور اوپر اٹھایا
" نہیں فرہاد تم ایسا نہ کرنا " اس نے سہمی ہوئی سوچ میں کہا" تم ہیلی کاپٹر کو گرا دو گے تو اس کے ساتھ میرا جسم بھی تباہ ہو جائے گا "
" تم اپنے جسم کو چھوڑ دو ۔ تم کسی اور کے جسم میں آ جانا مجھے تمہارے جسم سے نہیں تمہاری روح سے محبت ہے ۔ میں تم سے جدا ہو کر کبھی سکون سے نہیں رہ سکوں گا "
" نہیں فرہاد نہیں تمہیں میری قسم ہے گولی نہ چلانا ۔ تمہیں اچھی طرح معلوم ہے میں نے اپنے جسم کو حاصل کرنے کے لیے کتنی مصیبتیں
سہی ہیں ۔ میں اس جسم کے لیے اب بھی بڑے بڑے صدمے سہہ سکتی ہوں ۔ میں تمہاری جدائی برداشت کر سکتی ہوں لیکن میں اس جسم سے علیحدہ نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔۔"
اس کی باتیں سن کر میرے دل گھونسا لگا ۔ میں اسے اتنی شدت سے چاہتا تھا کہ اس کی جدائی برداشت نہیں کر سکتا تھا اور وہ ایسے برداشت کر رہی تھی جیسے اس کے سامنے میری کوئ اہمیت نہ ہو ۔ وہ میری خاطر اپنے جسم کی قربانی نہیں دے سکتی تھی ۔
میں نے ریوالور والا ہاتھ نیچے گرا دیا ۔ وہ مجھے اچھا سبق دے کر جا رہی تھی کہ انسان سب سے زیادہ محبت اپنی ذات سے کرتا ہے اس کے بعد کسی دوسرے کی چاہت دل میں رکھتا ہے میں خوامخواہ اپنی زات سے زیادہ سامی کو اہمیت دے رہا تھا ۔
میں نے اسی وقت فیصلہ کر لیا کہ جس طرح سامی کو اپنا جسم عزیز ہے اسی طرح مجھے اپنے مقاصد عزیز ہوں گے ۔
میں نے دور جاتے ہوئے ہیلی کاپٹر کو دیکھا اور سامی کی سوچ کو پڑھنے لگا
وہ سوچ رہی تھی میں اتنی دیر سے فریاد کو پکار رہی ہوں لیکن وہ کوئ جواب نہیں دے رہے ۔ لگتا ہے کہ وہ مجھ سے ناراض ہو گئے ہیں ۔ میں کس طرح انہیں مناؤں ۔ میں انہیں سمجھا لوں گی کہ میں کتنی مجبور ہوں
"سامی" میں نے اسے
خاطب کیا " تم مجھے اپنی مجبوریاں کیا سمجھاؤ گی سامی میں سمجھ گیا ہوں کہ تم کس طرح اپنے خوبصورت جسم کی پوجا کرتی ہو ۔ اس جسم کی خاطر تم اپنے ڈیڈی کے ساتھ نہیں گئیں ۔ اس جسم کی خاطر تم نے اپنے پیار کو چھوڑ دیا ہے"
" نہیں فرہاد تم کیوں نہیں سمجھتے کہ اس جسم کی حفاظت میں تمہاری خاطر کر رہی ہوں ۔ یہ جسم تمہاری امانت ہے میں آخری سانس تک تمہارے لیے اسے سنبھال کر رکھوں گی "
اس کے اعتراف سے میں کچھ پگھل سا گیا لیکن دوسرے لمحے میں نے سوچا کیا میں صرف سامی کے جسم سے محبت کرتا ہوں ۔ یہ جسم نہ رہا تو میری محبت ختم ہو جائے گی ؟
یہی سوال میں نے سامی سے دوسرے طریقے سے کیا
" سامی اگر میں اس جسم میں نہ رہوں کسی دوسرے جسم میں تمہارے پاس آؤں تو کیا تمہاری محبت ختم ہو جائے گی ؟
" نہیں بلکل نہیں میرے دیوتا تم کسی بھی جسم میں آؤ میں اسی طرح تم سے محبت کرتی رہوں گی"
" یہی تو میں تم سے کہہ رہا ہوں کہ مجھے تمہارے جسم کا لالچ نہیں ہے تم کسی بھی روپ میں آؤ گی تو میں تمہیں دل و جان سے تمہیں قبول کروں گا"
" تم کیسی باتیں کر رہے ہو فرہاد میں بچپن سے اسی جسم میں پروان چڑھی ہوں ۔ میں نے ہر طریقے سے اپنے جسم کی پرورش کی ہے ۔ میری روح اور میرے جسم کی رفاقت بیس برس کی ہے "
میں نے جواب دیا " جوان لڑکیاں اپنے مرد کی خاطر اپنا گھر بار ماں باپ بہن بھائی سب چھوڑ کر اس کے پاس چلی آتی ہیں ۔ تم اپنا جسم چھوڑ کر نہیں آ رہی ہو ۔ سنو سامی جس طرح تمہیں اپنے جسم سے محبت ہے اسی طرح مجھے اپنے وطن سے محبت ہے ۔ جس طرح تمہاری اپنے جسم کے ساتھ پرانی رفاقت ہے اسی طرح میری اپنے وطن کے ساتھ جنم جنم کی رفاقت ہے ۔ اگر مجھے اپنے وطن کی خاطر تمہارے دیش میں آنا پڑا تو پھر تم سے ملاقات ہوگی ورنہ میں اپنی پاک زمین چھوڑ کر ایسی محبت کے لیے بھٹکنا گوارا نہیں کروں گا جو صرف جسم کے لیے ہوتی ہے اور روح سے اس کا کوئ تعلق نہیں ہوتا "
میں اپنا ٹوٹا ہوا زخمی دل سہلاتے ہوئے شبنم
آلود گھاس پر چاروں شانے چت پڑا تھا ۔
میرے ارد گرد بھاگتے قدموں کی آوازیں قریب آتی جا رہی تھیں ۔ میں جانتا تھا کہ یہ ہماری انٹیلیجنس کے لوگ ہیں ۔کچھ ہی دیر میں انہوں نے مجھے گھیرے میں لے لیا ۔ وہ مجھ پر رائفلیں تانے کھڑے تھے
" اپنا ریوالور پھینک دو" ان میں سے ایک نے چیخ کر کہا اس کے چہرے پر کالے رنگ کا نقاب تھا ۔
میں نے ریوالور اس کے سامنے پھینک کر ہاتھ اوپر اٹھا لیے
" میں فرہاد ہوں ۔ میں ہی آپ سب کو یہاں تک لے کر آیا تھا"
اسسٹنٹ انسپکٹر نے ریوالور اٹھا لیا پھر طنزیہ لہجے میں بولا " کہاں ہے تمہاری سامی"
" مجھے افسوس ہے کہ وہ لوگ اسے لے گئے اگر انسپیکٹر صاحب میرا راستہ نہ روکتے تو شاید میں اسے بچا سکتا تھا"
میں نے جواب دیا
اس نے کہا " بہرحال جو بھی ہوا اس پر بعد میں بحث ہوگی ابھی تم زیر حراست ہو ۔ ہمارے آگے چلو "
میں ان کے آگے آگے سر جھکا کر چلنے لگا ۔ میرا دل بجھا ہوا تھا ۔ راستے میں وہ مکان نظر آیا جہاں سامی کو قید کیا گیا تھا ۔ اسے دیکھ کر پھر سے سامی کی یاد دل کو دکھانے لگی ۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ اپنے خیالوں میں مجھے پکار رہی ہوگی لیکن میں لگاوٹ کی باتیں سننا نہیں چاہتا تھا ۔ زبان سے دعوے تو سبھی لڑکیاں کرتی ہیں ۔ اگر سامی کو واقعی مجھ سے محبت ہوگی تو وہ اپنے جسم کو داؤ پر لگا کر میرے پاس آئے گی ۔ بس اب میں اس طرح ہی اس کی محبت پر یقین کر سکتا ہوں ۔
ہم بمشکل پگڈنڈیوں سے گزرتے ہوئے پکی سڑک تک آئے ۔ وہاں انٹیلیجنس کی تین گاڑیاں واپسی کے لیے کھڑی تھیں ۔ ایک گاڑی کی پچھلی سیٹ پر میں دو لوگوں کے درمیان بیٹھ گیا ۔ میں چاہتا تو انسپیکٹر کی سوچ پڑھ سکتا تھا لیکن اس وقت میرا دل خیال خوانی کی طرف مائل نہیں تھا ۔
ہم تقریباً ایک گھنٹے بعد آ ئ بی کی عمارت میں پہنچے ۔ میں سوچ رہا تھا کہ وہ مجھ سے طرح طرح کے سوالات کریں گے
لیکن انہوں نے مجھ سے کچھ نہیں پوچھا ۔ البتہ مجھے ایک کمرے میں بند کر دیا ۔
میں ایزی چئیر پر نیم دراز ہو گیا اور کچھ ہی دیر میں گہری نیند میں چلا گیا ۔ اگلی صبح آٹھ بجے دروازہ کھلا ۔ وہ مجھے ایک بڑے ہال کمرے میں لے گئے ۔ وہاں کچھ آفیسرز موجود تھے ۔ وہ انسپکٹر بھی تھا جس کا کل ہاتھ زخمی ہوا تھا ۔
مجھے کہنے لگا " فرہاد کل تم نے ہماری صحیح راہنمائی کی لیکن ہم یہ کیوں نہ سوچیں کہ تم نے ڈبل گیم کھیلا ۔ اپنی محبوبہ کو بھی فرار کروا دیا"
میں نے جواب دیا " آپ کچھ بھی سمجھیں میں اپنے وطن سے غداری نہیں کر سکتا ۔ اگر میں ان کا ساتھی ہوتا تو مجھے ہیلی کاپٹر میں ان کے ساتھ جانے سے کوئ نہیں روک سکتا تھا"
انسپیکٹر بولا " میرے آدمیوں کی رپورٹ کے مطابق تم ہم سے پہلے وہاں پہنچ گئے تھے پھر تم نے سامی کو کیوں جانے دیا "
میں وہاں دیر سے پہنچا میرے وہاں پہچنے سے پہلے ہیلی کاپٹر فضا میں بلند ہو گیا تھا"
ایک افیسر نے طنزیہ کہا " تمہارے پاس ریوالور تھا تم نے ہیلی کاپٹر پر فائر کیوں نہیں کیا"
میں اگر ہیلی کاپٹر پر فائر کرتا تو وہ نیچے گر کر تباہ ہو جاتا ۔ سامی کی زندگی بچانے کے لیے میں نے ایسا نہیں کیا "
'تو پھر تم نے وطن کے مفاد پر اپنی محبوبہ کو ترجیح دی "
آفیسر نے سنجیدگی سے میری طرف دیکھا
میرا سر ندامت سے جھک گیا ۔ واقعی میں نے یہ نہیں سوچا کہ وہ لوگ میرے وطن کے کتنے اہم راز لے کر جا رہے ہوں گے ۔
انسپیکٹر نے گھما پھرا کر مجھ سے اعتراف جرم کروا ہی لیا ۔
میں نے شرمندگی سے کہا" میں نے نادانستگی میں یہ سب کیا ۔ اور یہ بلکل ٹھیک نہیں کیا ۔
لیکن میں اپنی اس غلطی کا ازالہ کرنے کے لیے تیار ہوں . آپ مجھے ایک موقع دیں میں وطن کے ان دشمنوں کو کیفرِ کردار تک پہنچا کر چھوڑوں گا "
آفیسر نے پرسوچ نظروں سے میری طرف دیکھا پھر بولا تم نے جس طرح بو سونگھ کر ہمیں دشمن کے ٹھکانے تک پہنچایا ہے اس سے ہم سب بہت متاثر ہوئے ہیں ۔ ہم تمہیں ایک موقع ضرور دیں گے ۔"
انسپیکٹر نے آفیسر کی طرف دیکھا جیسے کہہ رہا ہو آزما لینے میں کوئی حرج نہیں ہماری نگرانی سے بچ کر کدھر جائے گا ۔
" دیکھو فرہاد ہم تمہیں ایک مشن میں استعمال کرنا چاہتے ہیں ۔ ہمارے پاس ایک ملک دشمن ایجنٹ فرید احمد خان قید ہے ۔ ہم آج رات اسے رہا کریں گے تاکہ ان کے ٹھکانوں تک پہنچ سکیں ۔ تم اس کی بو سونگھ کر ہمارے ساتھ اس کا پیچھا کرو گے اور ہمیں اس کے ٹھکانے تک لے کر جاؤ گے ۔ بولو منظور ہے ؟ "
" ہاں مجھے منظور ہے لیکن اس سے پہلے مجھے فرید خان سے ملوایا جائے اور باے چیت کا موقع دیا جائے "
" ہاں ہم تمہیں اس سے ملواتے ہیں ۔ لیکن وہ بولے گا نہیں ۔ وہ جب سے ہماری حراست میں ہے اس نے ایک لفظ بھی نہیں کہا ہے"
یہ بتاتے ہوئے انسپیکٹر مجھے لے کر عمارت کے اندرونی حصے کی طرف بڑھنے لگا ۔ ہم کئ راہداریوں سے گزر کر ایک چھوٹے سے کمرے کے سامنے پہنچے جس پر لوہے کی سلاخیں لگی ہوئی تھیں۔ اندر ایک لحیم شحیم آدمی سر جھکائے بیٹھا تھا ۔ ہمیں دیکھ کر اس نے نظریں اٹھائیں اور میں نے اس کی سوچ کو گرفت میں لے لیا ۔ مجھے اس کی سوچ پڑھ کر حیرت کا جھٹکا لگا کہ وہ تو بھوانی شنکر تھا جو فرید احمد خان کی بھیس میں راولپنڈی میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث تھا ۔ ٔ
میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میں جس سے انتقام لینا چاہتا تھا وہ اس طرح میرے سامنے ایک قیدی کے روپ میں آ جائے گا ۔ یہ خیال خوانی کا کمال تھا کہ میں نے اسے پہچان لیا ۔
اس وقت میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے صبر اور ضبط سے کام لینا ہے ۔ اپنے وطن کے اہم رازوں کی حفاظت کے لیے باقاعدہ حکمت عملی کی ضرورت ہے ۔
میں آہستہ آہستہ چلتا ہوا بھوانی شنکر کے قریب چلا گیا ۔ میں نے ایسے ظاہر کیا جیسے میں اس کی بو سونگھ رہا ہوں لیکن درحقیقت میں اس کے دماغ کے نہاں خانے کھنگال رہا تھا ۔
وہ اپنے ساتھیوں کے متعلق سوچ رہا تھا کہ پتہ نہیں وہ کہاں ہیں۔
میں نے اس کی سوچ میں کہا کہ مجھے صرف ان رازوں کے متعلق سوچنا چاہیے جو میں اپنے دیش کی خاطر اپنی جان پر کھیل کر چرا کر لایا ہوں ۔ اور وہ بلی پتا نہیں کہاں گئ اس نے میری کتنی مدد کی تھی ۔
میں نے اس کی سوچ میں کہا بلی کو چھوڑو پہلے رازوں کو کسی محفوظ مقام پر رکھنے کا بندوبست کروں جن کی خاطر دشمن میرے پیچھے لگے ہوئے ہیں ۔
رازوں کی ایسی کی تیسی ، نجانے میرے دماغ میں رازوں کی بات کیوں کلبلا رہی ہے ۔ راز تو ایک مائیکرو فلم کے اندر محفوظ ہیں ۔ یہ مایئکروفلم ایک انچ کے کیپسول میں بند ہے اور میرے جبڑے کے اندر ایک مصنوعی جھلی میں چھپا رکھی ہے ۔ان تک کوئ نہیں پہنچ سکتا ہاہاہاہا
وہ دل ہی دل میں ہسنے لگا ۔ اس نے میری طرف حقارت سے دیکھا اور منہ چھپا کے بیٹھ گیا ۔
مجھے اپنی زندگی کی پہلی کامیابی مل چکی تھی ۔ میں نے خوشی سے اپنے آپ کو تھپکی دی ۔ اور وہاں سے باہر نکل آیا ۔
میں ہال کمرے میں واپس آیا تو آفیسر نے میری طرف دیکھ کر ہاں " ہاں بھئی تم نے اچھی طرح اس کی بو سونگھ لی ہے ؟ "
'کیا تم اس کا پیچھا کر سکتے ہو ؟"
میں نے کہا " یس سر میں نے تسلی سے اس کی بو اپنے دماغ میں محفوظ کر لی ہے لیکن میں ایک اور بات بتانا چاہتا ہوں "
انسپیکٹر اور دوسرے آفیسرز کے چہروں پر دلچسپی کے آثار بڑھ گئے ۔
دراصل جب میں اس کے قریب گیا تو میں نے محسوس کیا کہ اس شخص کی بو میں ایک اور چیز کی بو گڈ مڈ ہو رہی تھی "
"کس چیز کی بو" انسپیکٹر نے حیرانی سے پوچھا
" میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ فلم نیگیٹو یا پازیٹیو کی بو ہے۔ اگر کوئ فلم نگل لے توبو محسوس نہیں ہوتی ۔ یہ بو اس کے جبڑے کے قریب سے آ رہی ہے "
وہ سب کچھ دیر کے لیے خاموش بیٹھے رہے ۔ پھر آفیسر نے انسپیکٹر سے کہا" تم فرہاد کو کمرے میں لے جاؤ ہم اس بات پر تحقیق کریں گے "
مجھے دو گھنٹے بعد پھر اسی ہال کمرے میں طلب کیا گیا ۔ اس بار افسروں کا رویہ بدل گیا تھا ۔ انہوں نے مجھے اپنے برابر صوفے پر بٹھایا ۔ میز پر ناشتہ لگا ہوا تھا ۔ ان کا رویہ دوستانہ تھا ۔۔ ناشتے کے دوران انہوں نے مجھے بتایا کہ بھوانی شنکر کا ایکسرے لیا گیا جس سے میری بات کی تصدیق ہو گئ ۔ اس کا آپریشن کر کے وہ مائیکرو فلم نکال لی گئ ہے۔
" تم حیرت انگیز صلاحیت کے مالک ہو تم نے وطن کے انتہائی اہم راز دشمن سے بچا لیے ہیں "
اس دوران وہ مجھ سے میری پچھلی زندگی کے بارے میں سوالات کرتے رہے ۔ باتیں کرتے کرتے ہماری اچھی خاصی بےتکلفی ہو گئ ۔ خاص طور پر انسپیکٹر شہباز سے شناسائی دوستی میں بدل گئ ۔ وہ مجھے واپس شبانہ کلب میری گاڑی تک چھوڑنے کے لیے آیا ۔
میری گاڑی وہیں پارکنگ میں کھڑی تھی ۔ اس پر ایک دن پہلے میں سامی کے ساتھ ڈنر پر آیا تھا ۔گاڑی دیکھتے سامی ایک بار پھر شدت سے یاد آنے لگی ۔
میں شہباز کی جیپ سے اتر کر اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا۔ اس دوران مجھے شبہ ہوا کہ دو آنکھیں مجھے گھور رہی ہیں ۔
میں دل ہی دل میں ہستے ہوئے گاڑی سٹارٹ کرنے لگا میرا خیال تھا کہ اتنے شدید ایڈوینچرز کے بعد میری حسیات مجھے ڈاج کر رہی ہیں ۔ لیکن اگلے ہی پل میرے خیال کی تصدیق ہو گئ ۔ چست کپڑوں میں ایک حسینہ میری گاڑی کا دروازا ناک کر رہی تھی ۔ میں نے سر سے پاؤں تک اسے دیکھ کر ذرا سا شیشہ نیچے کیا " جی فرمایئے میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں ؟"
"وہ دراصل بات یہ ہے کہ میری گاڑی خراب ہو گئی ہے کیا آپ مجھے مال روڈ تک چھوڑ سکتے ہیں وہیں قریب ہی میرا گھر ہے
ایک ادا سے ہاتھ اٹھا کر بال ٹھیک کرتے ہوئے اس نے اپنے ریشمی بدن کی جھلک پیش کی ۔
مجھے اس لڑکی کے ارادے نیک نہیں لگ رہے تھے ۔ لیکن اس کا منت بھرا انداز ایسا تھا کہ میں صاف منع نہیں کر سکا ۔
"آیئے میں چھوڑ دیتا ہوں"
وہ فرنٹ سیٹ کا دروازا کھول کر بیٹھ گئ ۔ شہنیل کی تازہ خوشبو سے گاڑی معطر ہو گئی ۔ میں نے گاڑی آگے بڑھائ اور عادت کے مطابق اس کے دماغ میں جھانکا ۔
وہ سوچ رہی تھی " میرا کام کس قدر آسان ہو گیا ہے یہ خود مجھے وہاں لے جائے گا ۔ اکیلی لڑکی دیکھ کر مردوں کی عشق کرنے کی عادت ہی انہیں پھساتی ہے ۔ مجھے انتظار کرنا چاہیے کہ کب یہ میری طرف مائل ہو "
مجھے اس کی سوچ پر کچھ کھٹکا سا ہوا ۔ آخر اتنی حسین لڑکی مجھ سے کیا چاہتی ہے جسے دیکھنے سے ہی نیت خراب ہونے لگے ۔ مکھن جیسا ملائم بدن ، گلاب کی پنکھڑیوں جیسے شیریں لب ، ستواں ناک ، ٹھوڑی پر ننھا سا گڑھا اس کی تند مزاجی کا پتہ دے رہا تھا ۔
مجھے دال میں کچھ کالا نظر آیا ۔ میں اس کے خیال کو ہڑھنے لگا ۔ اس نے میرے تسلسل کو اپنی بات سے توڑ دیا
کیا یہ آپ کی کار ہے ؟
"ہاں یہ میری کار ہے"
" برا مت مانیے گا آپ کے حلیے سے بلکل نہیں لگتا کہ یہ آپ کی کار ہے"
میں بےاختیار ہس پڑا " جی آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں دراصل کل میں ایک پریشانی میں پھنس گیا تھا تو نہ کپڑے بدلنے کا موقع مل سکا اور نہ ہی شیو وغیرہ کی "
وہ سوچ رہی تھی " لگتا ہے انٹیلیجنس والوں نے اس کی خوب ٹھکائ کی ہے "
میں اس بات پر چونک گیا
اسے کیسے معلوم ؟ لگتا ہے کہ بھوانی شنکر نے اسے بھیجا ہے
اور میرا اندازہ درست ثابت ہوا
وہ مجھے اپنے گھر لے جانے کا ارادہ رکھتی تھی ۔
میں نے اس کے ارادوں کی تکمیل کرنے کا سوچ لیا تھا ۔میں اس کی طرف ایسی نظروں سے دیکھنے لگا جیسے اسے دیکھتے ہی اس پر لٹو ہو گیا ہوں ۔ وہ دل ہی دل میں اپنی کامیابی پر
مسرور سی مجھے اپنی اداؤں سے لبھا رہی تھی
میں اس کی ہر بات کے جواب میں ٹھیٹھ عاشقوں کی طرح جھک کر شوخ نظروں سے دیکھ رہا تھا
اس کے ساتھ جانے سے
مجھے اندازہ ہو جاتا کہ وہ کون تھی اور کس کے لیے کام کر رہی تھی ۔ اس کی سوچ سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ اس گھر میں اکیلی رہتی ہے ۔
خیال خوانی سے مجھے پتا چلا کہ اس کا نام روزینہ ہے ۔ بھوانی شنکر کے آدمیوں نے اسے میری جاسوسی پر لگایا ہے
اس کے بھائی احمد شیخ کو بھوانی شنکر کے آدمیوں نے قید کر رکھا ہے۔ اور وہ مجھے قربانی کا بکرا بنا کر اسے چھڑانا چاہتی ہے ۔
اس کے گھر کے سامنے گاڑی رکتے ہی اس نے مجھے اندر آنے کی دعوت دی " تم بہت تھکے ہوئے ہو اندر آؤ میں تمہیں کافی پلواتی ہوں۔ "
یہ کہہ کر وہ اتر کر اندر چلی گئی ۔ مجھے احمد شیخ کو گردن سے پکڑنا ہی تھا ۔ میں اس کے پیچھے سفید گیٹ کے اندر گاڑی لے گیا ۔ کوٹھی اندر سے بہت خوبصورت تھی ۔
اس نے میرے لیے ڈرائنگ روم کا دروازا کھولا اور مجھے بیٹھتے دیکھ کر بولی " تم جاؤ فریش ہو کر آ جاؤ میں تمہارے لیے کافی لاتی ہوں " وہ سوچ رہی تھی کہ میرے جاتے ہی ٹونی کوکال کر کے بلا لے گی اور مجھے اس کے حوالے کر کے اپنے بھائی کی جان چھڑا لے گی۔ میں نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔ "فریش ہونے کا سامان سامنے ہو تو کون کافر انکار کرے گا " وہ ایک جھٹکے سے پیچھے ہٹی " آ ۔۔ آپ غلط سمجھے ہیں میں اتنی سستی نہیں "
سستی ہو یا مہنگی میں مجبور لڑکیوں سے فایدہ نہیں اٹھاتا ۔ تم بہت مجبور ہو کر مجھے یہاں لائ ہو تاکہ مجھے قربان کر کے بھوانی شنکر سے اپنے بھائی کو بچا سکو ۔ بولو میں غلط کہہ رہا ہوں"
وہ حیرت سے میرا منہ تکنے لگی ۔ "تمہیں کیسے پتا چلا کہ میرا بھائی ان کی قید میں ہے" اس سب کو چھوڑو
"میں تمہارے بھائی کو چھڑوا سکتا ہوں اگر تم مجھ پر بھروسہ کرو "
تم بھوانی شنکر کو جانتے ہو؟
وہ ہکلانے لگی ۔ میں نے اسے بازو سے پکڑ کر صوفے پر بٹھایا
ہاں میں اسے جانتا ہوں اور تمہارے بھائی کو چھڑوا سکتا ہوں تم میری آنکھوں میں دیکھو ۔
وہ میری سلگتی ہوئ آنکھوں میں دیکھنے لگی پھر دھیرے دھیرے میرے اثر میں آ گئ ۔
میں تنویمی عمل سے اسے ہپناٹائز کرنے لگا ۔ کچھ دیر میں وہ مکمل میرے زیر اثر تھی ۔
میں نے اس سے تمام مطلوبہ نمبروں پر کالز کروا کر احمد شیخ اور بھوانی شنکر کے آدمیوں کے ایڈریس نوٹ کیے ۔اس دوران وہ خاموش بیٹھی رہی جیسے نیند سے جاگ کر بھی نیند میں ہو ۔
میں نے انسپکٹر شہباز کو ساری معلومات پہنچائیں اور احمد شیخ کی لوکیشن بھی سمجھائ جو مجھے بھوانی شنکر کے آدمی ٹونی کے ذریعے معلوم ہوئ تھی۔ یہ سارا کام ختم کرنے کے بعد میں نے روزینہ کو وہیں سونے کا حکم دیا ۔ وہ میری ہدایت کے مطابق بیڈ پر لیٹ گی اور چند لمحوں میں ہی سو گئ۔ ابھی کچھ دیر میں یہاں انٹیلیجنس کی ریڈ ہونے والی تھی ۔
میں خاموشی سے دروازا باہر سے بند کر کے نکل آیا ۔
میں کافی دن سے گھر نہیں گیا تھا میں نے گاڑی کا رخ ادھر موڑ لیا ۔ میں جانتا تھا کہ آدھے گھنٹے میں احمد شیخ اور بھوانی شنکر کے آدمی ایجینسیوں کی حراست میں ہوں گے ۔
میں ابھی آدھے راستے میں پہنچا تھا کہ ایک سیاہ مرسڈیز میرے بائیں طرف سے نکل کر میری گاڑی کے سامنے آ گئی ۔ میں جھنجھلاہٹ میں بریک پر پاوں رکھا تو وہ کار میری گاڑی کا راستہ روک کر کھڑی ہوگئی ۔
اگلے ہی پل دو رائفل بردار سیاہ کار سے نکل کر میری طرف آ گئے ۔
"اسلام علیکم مسٹر فرہاد آپ سے ہمارے باس ملنا چاہتے ہیں"
میں نے ہچکچا کر ان کی طرف دیکھا ۔
" آپ گھبرائیں نہیں ہم آپ کے ہی آدمی ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل آپ سے ملنا چاہتے ہیں"
میں نے کچھ سمجھتے ہوئے اور کچھ نہ سمجھتے ہوئے اپنی گاڑی کو ان کے پیچھے لگا لیا ۔
بیس منٹ بعد وہ آئ بی کی عمارت کے سامنے رک گئے ۔
ہم اتر کر اندر آ گئے ۔ وہاں سے ایک گارڈ کی راہنمائی میں مجھے فرسٹ فلور پر ایک سجے ہوئے کمرے میں لے جایا گیا ۔
وہاں بہت سے آفیسرز موجود تھے ۔ ان میں سے کچھ کو میں جانتا تھا اور کچھ نئے چہرے تھے ۔
ایک بڑی میز کے پیچھے براؤن لیدر چئیر پر ایک ادھیڑ عمر شخص بیٹھا تھا ۔ مجھے دیکھتے ہی اٹھ کر مجھ سے مصافحہ کیا " ڈائریکٹر جنرل انٹیلیجنس"
میں نے گرمجوشی سے ان مصافحہ کیا ۔
" مسٹر فرہاد آپ بہت حیرت انگیز صلاحیتوں کے مالک ہیں ۔ آپ کی دی ہوئی معلومات سے ہم نے دشمن کا ایک بڑا نیٹ ورک پکڑ لیا ہے ۔ آپ کو مبارک ہو ۔"
"آپ تشریف رکھیے " ہم آپ سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ کو احمد شیخ اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں کیسے علم ہوا؟
اب وقت آ گیا تھا کہ میں اپنے علم کے بارے میں حکومت کے اعلیٰ حکام کو آگاہ کرتا ۔
میں نے جھک کر آہستگی سے کہا " جناب اس کے بارے میں میں آپ کو تفصیل سے بتانا چاہوں گا ۔ کیوں کہ یہ ایک سیکرٹ مشن ہے اس لیے ۔۔۔"
میری بات کاٹ کر ڈاریکٹر جنرل نے سوائے تین چار کے باقی سب آفیسرز کو تنہائی فراہم کرنے کا حکم دیا ۔
میں ڈائریکٹر جنرل کے سامنے ایزی چئیر پر بیٹھا تھا ۔ کمرے کا دروازا بند ہوتے ہی میں نے خیال خوانی کے ذریعے اطمینان کر لیا کہ کوئ شخص دشمن کے کسی گروہ سے متعلق تو نہیں ۔ پچھلے پیش آنے والے واقعات نے مجھے از حد محتاط بنا دیا تھا ۔
ڈائیرکٹر جنرل ہمہ تن گوش تھے ۔ میں نے الف سے لے کر ی تک اپنے ہر علم کے بارے میں تفصیل سے بتانا شروع کر دیا ۔
جوں جوں میں انہیں بتا رہا تھا ان سب کی آنکھیں حیرت سے پھیلتی جا رہی تھیں ۔
ڈائریکٹر جنرل شبیر حسن نےسوال کیا " تم نے اس علم کے بارے میں ہمیں پہلے کیوں نہیں بتایا ۔ تمہیں بو سونگھنے والا جھوٹ گھڑنے کی ضرورت کیوں پیش آئی"
"آپ کی بات ٹھیک ہے لیکن ان حالات میں وقت اتنا کم تھا کوئ بھی میرا یقین نہ کرتا اور دشمن ہاتھ سے نکل جاتے۔ "
شبیر حسن کہنےگے " کیا تم اپنی ٹیلی پیتھی کا کوئ نمونہ ابھی ہمارے سامنے پیش کر سکتے ہو ؟"
" جی ہاں ۔ آپ کے سامنے جو فائل ہے آپ اسے ذہن میں پڑھنا شروع کریں میں آپ کو بتاتا ہوں کہ آپ کیا پڑھ رہے ہیں "
انہوں نے میز کی دراز سے ایک عام سی فائل نکالی اور پڑھنے لگے ۔ میں ان کے پیچھے پیچھے بولنے لگا ۔ سب مجھے ایسے دیکھ رہے تھے جیسے میں کوی مافوق الفطرت چیز ہوں ۔
ڈائریکٹر جنرل شبیر حسن نے کہا فرہاد تم حیرت انگیز صلاحیتوں کے مالک ہو ۔یہ صلاحیتیں تمہیں غلط راستوں پر بھی لے جا سکتی ہیں اور صحیح بھی ۔ تم نے اب تک یہ ثابت کیا ہے کہ تم محب وطن ہو اور سیدھے راستے پر چل رہے ہو کیا تم میرے محکمے میں کام کرنا پسند کرو گے ؟"
میں نے جواب دیا" جناب میں وطن کی خدمت کے لیے ہمہ وقت تیار ہوں لیکن میں مستقل نوکری نہیں کروں گا ۔ یہی بات میں نے شہباز کو بھی کہی تھی ۔ جب بھی وطن کو میری ضرورت پڑے گی میں حاضر ہو جاؤں گا "
وہ بولے" تمہیں باقاعدہ ملازمت کرنے میں اعتراض کیوں ہے ۔ سمجھنے کی کوشش کرو جن محکموں میں بہت زیادہ رازداری برتی جاتی ہے وہاں پر سارے ملازمین پر بھی اعتبار نہیں کیا جاتا کجا کہ تم کوئ تعلق ہی نہیں رکھنا چاہتے ۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ تم پر پابندیاں عائد نہیں ہوں گی ۔ تم اپنی مرضی سے آیا کرو گے "
شہباز نے کہا" فرہاد تم ہاں کہہ دو ۔تم دفتر نہیں آؤ گے تب بھی کوئ فرق نہیں پڑے گا ہم تم سے خود رابطہ کیا کریں گے "
میں نے ڈائریکٹر جنرل سے کہا ٹھیک ہے مجھے قبول ہے ، لیکن مجھے کچھ عرصے کے لیے ملک سے باہر جانے کی اجازت دی جائے ۔"
"کدھر ؟"
"وہیں جہاں میری سامی کو لے جایا گیا ہے"
"کسی عورت کے عشق میں اپنا ملک چھوڑنا دانشمندی نہیں ہے "
اگر عشق سے نقصان نہ پہنچے فایدہ پہنچے تو
مثلاً اگر کوئ عاشق کدال لے کر اپنی محبوبہ کے لیے دودھ کی نہر کھودنے لگے تو محبوبہ ملے یا نہ ملے لوگ دودھ سے فایدہ اٹھاتے رہیں گے ۔ تو ایسا عشق فائدہ مند ہوتا ہے ناں ۔
میں سامی کے پیچھے وہاں جاؤں گا اور وہی رول پلے کروں گا جو وہ ہمارے ہاں آ کر ، کر رہے تھے تو ہمارے ملک کو فایدہ پہنچے گا ۔ میں ان کے ملک دشمن منصوبے ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہوں "
شبیر حسن قائل ہونے کے انداز میں ہاتھ اٹھا کر بولے ٹھیک ہے دیکھتے ہیں کہ اس سلسلے میں کیا کرنا ہے ۔
اس کے بعد میں ان سب کو خیال خوانی کے ذریعے بھوانی شنکر کے دوسرے نیٹ ورک کے بارے میں بتاتا رہا ۔ احمد شیخ کی سوچ میں جا کر وہ سارے راز معلوم کرتا رہا جو اس نے ہمارے وطن سے چرا کر دشمنوں کو دیے تھے
۔۔لیکن ایک بات مجھے بار بار کھٹکھتی رہی
ٹونی کے دماغ کو کھنگال ڈالا میں نے ۔ وہ کسی ایسے شخص کے منظر تھے جو انہیں یہاں سے بچا کر لے جاتا۔ لیکن میں اس شخص کا حلیہ جاننے میں ناکام رہا ۔
وہاں سے نکل کر میں سیدھا گھر آ گیا ۔ پھوپھی مجھے دیکھ کر روتی ہوئی میرے گلے لگ گئ۔ " میرے بچے تم کدھر تھے ۔ میں کب سے تمہاری راہ دیکھ رہی تھی ۔ فرہاد مجھ بڑھیا کو اتنا نہ ستایا کرو کم از کم فون ہی کر دیا کرو "
مجھے بھی ندامت نے ا گھیرا واقعی مجھے پھوپھی کو کال کرنی چاہیے تھی ۔
پھوپھی جان میں کان پکڑتا ہوں آئیندہ آپ کو بتا کر جاؤں گا" میں نے کان پکڑ کر معافی مانگی وہ نہال ہو گئیں ۔
"اچھا چلو تم میں کھانا لگاتی ہوں جاؤ نہا دھو کر بیٹھو"
میں کمرے میں آتے ہی بیڈ پر گر گیا ۔ میں اتنا تھکا ہوا تھا کہ کوئ اور کام کرنے کی ہمت نہ ہوئی ۔
لیکن ایک شخص کے بارے میں پتا نہ چلا سکا ۔ ٹونی اپنے دماغ میں ایک نام کسی طاقتور شخصیت کے طور پر چھپا کر بیٹھا ہوا تھا اور وہ تھا شیتل
اس کی سوچ کے مطابق شیتل ہی وہ شخص تھا جو مجھے زیر کر سکتا تھا اور ان سب کو قید سے چھڑا کر ہندوستان لے جا سکتا تھا

0 تبصرے